Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • یوم وفات،داؤد کمال

    یوم وفات،داؤد کمال

    پیدائش:04 جنوری 1935ء
    پشاور
    وفات:05 دسمبر 1987 ء
    مدفن:جامعۂ پشاور
    مادر علمی:جامعہ کیمبرج
    اسلامیہ کالج یونیورسٹی
    جامعۂ پشاور
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی
    ملازمت:جامعۂ پشاور
    اعزازات:تمغائے حسن کارکردگی

    پروفیسر داؤد کمال پاکستان سے تعلق رکھنے والے انگریزی زبان کے مشہور شاعر اور ماہر تعلیم تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    داؤد کمال 04 جنوری، 1935ء میں ایبٹ آباد، شمال مغربی سرحدی صوبہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے برن ہال کیمبرج اسکول سری نگر، اسلامیہ کالج پشاور، پشاور یونیورسٹی اور جامعہ کیمبرج سے تعلیمی مراحل مکمل کیے۔ انہوں نے 1976ء، 1977ء اور 1980ء میں انگریزی شاعری کے عالمی مقابلے میں حصہ لیا اور ہر مرتبہ سونے کا تمغا جیتا۔ ان تصانیف میں Ghalib: Reverberations, Compass of Love and Other Poems, Faiz in English, Remote Beginning اور Unicorn and the Dancing Girl The کے نام شامل ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Compass of Love
    ۔ and Other Poems
    ۔ (2)Ghalib:Reverberations
    ۔ (3)The Unicorn and
    ۔ the Dancing Girl
    ۔ (4)Faiz in English
    ۔ (5)Remote Beginning
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    داؤد کمال 05 دسمبر، 1987ء کو نیویارک، ریاستہائے متحدہ امریکا میں وفات پاگئے۔ وہ پشاور یونیورسٹی کے نوگزا قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • یوم پیدائش،بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    یوم پیدائش،بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
    زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی شاعرہ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

    5 دسمبر 1973 یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحریر و تعارف آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کا شمار پاکستان کی مقبول ترین خواتین شاعرات میں ہوتا ہے ان کی شہرت ملک سے باہر ہندوستان، مصر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات سمیت کئی دیگر ممالک تک پھیل چکی ہے ۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ممتاز شاعر عطا شاد نے کہا تھا کہ

    ہم غریبوں کو یوں حسرت سے نہ تکیو
    ہم بڑے کرب سے گزرے ہیں کرامات سے پہلے

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کے بارے میں بھی نہ صرف یہی شعر کہا جا سکتا ہے بلکہ اس شعر میں یہ ترمیم بھی کی جا سکتی ہے کہ
    ” بڑے کرب سے گزر رہے ہیں ”

    اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو شعر و ادب کی دنیا میں جو بلند مقام ملا ہے وہ ایسے ہی نہیں شعر و ادب کی دنیا میں قدم رکھنے پر انہیں جن مشکلات و مسائل اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا وہ سلسلہ رکا نہیں بلکہ تاحال جاری ہے لیکن آفرین ہے ڈاکٹر صاحبہ کے والد صاحب اور خاوند محترم کا جو کہ ان کا بھرپور ساتھ دے رہے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ اپنے خاندان اور برادری میں نہ صرف پہلی خاتون شاعرہ ہیں بلکہ پہلی ڈاکٹر بھی ہیں یہاں تک کہ ان کے خاندان اور برادری میں ابھی تک کوئی مرد شاعر بھی پیدا نہیں ہوا ہے ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کی خوب صورت شاعری کے مداحوں کی تعداد لاکھوں میں ہے ۔ ان کو یہ قابل فخر اعزاز حاصل ہے کہ مصر کی بین الاقوامی اہمیت کی حامل الازہر یونیورسٹی قاہرہ میں ان کے ایک شعری مجموعے کا عربی زبان میں ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے اور ان کی شاعری اور شخصیت پر تھیسز بھی ہو رہے ہیں ۔ پاکستان اور ہندوستان کے کئی معروف گلوکاروں اور گلوکاراؤں نے ان کی شاعری کو بڑے شوق اور خوبصورتی سے گایا ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ کو اس بات کا شدید دکھ اور شکوہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین شاعرات کو زیادہ تر شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ شاید ان کی شاعری اپنی نہیں ہے وہ کسی مرد کی شاعری کو اپنے نام کر رہی ہیں اور پھر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کے منفی تاثر پیدا کرنے میں خود ان کی صنف کی خواتین بھی شامل ہوتی ہیں ۔

    ڈاکٹر صاحبہ اپنی شاعری کی کتاب چھپوانا نہیں چاہتی تھیں ان کے علاقہ ایک بزرگ سرائیکی شاعر چاچا رمضان طالب نے ان کی اجازت سے ان کی پہلی کتاب ” پھول سے بچھڑی خوشبو ” شائع کروائی تھی ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین صاحبہ ” ڈائری سے شاعری ” تک پہنچی ہیں ۔ وہ طالب علمی کے دوران اپنی ڈائری لکھا کرتی تھیں ڈائری میں خوب صورت الفاظ کے استعمال سے ان کو شاعری کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے 12 دسمبر 1996 کو اپنی زندگی کی پہلی نظم ” ملاقات آخری ” لکھی جس کے بعد شاعری ان کی زندگی کا لازمی جز بن گئی ۔ ان کی زندگی میں ڈاکٹری اور شاعری کو انتہائی اہمیت حاصل ہے وہ ڈاکٹری کو اپنا عشق اور شاعری کو تحلیل نفسی اور زندگی کی علامت قرار دیتی ہیں ان کے خیال ڈاکٹری اور شاعری کے بغیر ان کے ہاں زندگی کا تصور ہی نہیں ہے ۔ شاعری کے لیے وہ محبت کو لازمی قرار دیتی ہیں وہ کہتی ہیں کہ محبت کے بغیر شاعری ، شاعری نہیں بلکہ لفظوں کی ہیرا پھیری ہوتی ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ شاعری کو اپنی ذات کا اظہار اور شکست و ریخت کا شکار معاشرے کا نوحہ قرار دیتی ہیں ۔ وہ شاعری کو سانس کی طرح لازمی قرار دیتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ جس طرح زندہ رہنے کے لیے سانس لینا ضروری ہے ٹھیک اسی طرح میری زندگی کے لیے شاعری ضروری ہے ۔ ڈاکٹر صاحبہ 5 دسمبر 1973 کو ڈیرہ غازی خان کے ایک نواحی گاؤں ” جندلانی والا ” میں پیدا ہوئیں ۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں 2 بھائی اور 2 بہن شامل ہیں ان کے والد صاحب کا نام جان محمد ہے جو کہ بلوچ قوم کے کھوسہ قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ جان محمد صاحب پیشے کے لحاظ سے زمیندار اور کاروباری شخصیت ہیں ۔ جنہوں نے اپنی اولاد کی بہترین تربیت کی اور اعلی تعلیم دلوائی جس کے باعث ان کے بیٹے اور بیٹیاں اہم عہدوں پر فائز ہیں ۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین صاحبہ کی شادی ان کے والدین کی مرضی پر ان کے کزن سے ہوئی ہے جس سے ان کو بیٹے محمد عمر اور محمد حمزہ پیدا ہوئے ۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اپنے والد صاحب کے نام سے منسوب ” جان سرجیکل ہسپتال ” قائم کیا ہے جس کا شمار ڈیرہ غازی خان کے معتبر طبی اداروں میں ہوتا ہے ۔ جبکہ ڈاکٹر صاحبہ محکمہ صحت پنجاب میں ڈیرہ غازی خان کے ضلعی ہیڈکواٹر ہسپتال میں گائناکالوجسٹ کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے چکی ہیں ۔اس کے علاوہ وہ بہت سی ادبی تنظیموں اور علمی و طبی اداروں سے بھی وابستہ ہیں اور سماجی خدمات میں بھی پیش پیش ہیں ۔ان کی شاعری کے اب تک 5 مجموعے شائع ہو چکے ہیں انہیں کئی اعزازات اور ایوارڈز بھی مل چکے ہیں ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا مختصر علمی اور ادبی تعارف درج ذیل ہے ۔

    تاریخ پیدائش۔۔5 دسمبر 1973
    ایف ایس سی۔گورنمنٹ کالج ڈیرہ غازی خان
    ایم بی۔بی۔ایس۔۔نشتر میڈیکل کالج ملتان
    1۔ایڈ منسٹر یٹر اینڈ گائناکالوجسٹ آف۔۔جان سرجیکل ہسپتال ۔ بلاک 48 کنگن روڈ ڈیرہ غازی خان پنجاب۔۔
    2،،۔۔نائب صدر۔۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ڈیرہ غازی خان….
    3۔۔صدر ادبی تنظیم ۔۔آنچل
    4۔چئیر پرسن جنوبی پنجاب خواتین ونگ۔۔بین الاقوامی و بین المذاہب ذہنی ہم آہنگی تنظیم
    5۔۔ممبر سکروٹنی کمیٹی اکیڈیمی ادبیات اسلام آباد
    6۔۔ممبر آرگنائیزر کمیٹی اکیڈیمی آف لیٹر ملتان
    7۔۔ممبر نارکوٹکس کمیٹی ڈیرہ غازی خان
    8.ممبر بورڈ آف منیجمنٹ ووکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ ڈیرہ غازی خان
    9.ایگزیکٹو ممبر آف المنظور آئی ٹرسٹ ڈیرہ غازی خان
    10.ممبر آف کامرس ٹریننگ انسٹیٹیوٹ ڈیرہ غازی خان
    11.شخصیت اور شاعری پر ایم فل کا تھیسسز فیڈرل یونیورسٹی اسلام آباد سے ہو چکا ہے

    12.اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے
    کا تھیسسز ہو چکا ہے
    13.زکریا یونیورسٹی ملتان
    نواز شریف یونیورسٹی ملتان سے ایم اے کا تھیسسز ہو چکا ہے
    غازی خان یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان
    فیصل آباد یونیورسٹی
    سے ایم فل اور ایم اے کے تھیسز ہو رہے ہیں..
    14 .مصر میں الازہریونیورسٹی میں تیسرے شعری مجموعہ” اور شام ٹھہر گئی” کا مکمل ترجمہ کیا گیا ہے
    15.مصر میں چوتھے شعری مجموعہ "پھول خوشبو اور تارہ” پر ایم فل کا تھیسسز جاری ہے

    16 ..ان کے کلام پر دو میوزک البم بھی بن چکے ہیں.. جن میں سے ایک علی میوزک پروڈکشن والوں نے پاکستان
    اور
    ہائی ٹیک کمپنی یو کے نے لندن میں ریلیز کی ہے.
    جس میں نامور گلوکاروں انور رفیع، حنا نصراللہ ،صائمہ جہاں اور شانی انور نے پرفارم کیا..
    اس کے علاوہ نامور گلوکاروں نے پاکستان اور انڈیا میں ان کے کلام کو گایا جن میں ساجد حسن، شمیم خالق، نے پرفارم کیا

    5 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔
    1۔۔۔ 2007ء میں پہلا شعری مجموعہ’’پھول سے بچھڑی خوشبو‘‘کے نام سے شائع ہوا۔۔
    2۔ دوسرا شعری مجموعہ ’’میں آنکھیں بند رکھتی ہوں ‘‘2010ء میں شائع ہوا ۔ ۔
    3۔تیسرا شعر ی مجموعہ۔۔اور شام ٹھہر گٰئی‘‘ 2013
    4۔۔چوتھا شعری مجموعہ۔ ’’پھول،خوشبو اور تارہ‘‘ 2016 میں شائع ہوا
    ۔۔5.۔ میرا صاحب،سائیں عشق یےتو۔۔شاعری

    غیر مطبوعہ تصنیفات
    ۔۔1۔۔گرد سفر۔۔۔۔ ناول
    2۔ میں اور یہ جہاں ۔۔مضامین
    3..یہ جہاں اور میں… مضامین
    4..یہ جہان، رنگ وبو…. مختلف انٹرویوز
    ایوارڈز۔۔
    1۔خوشبو رائٹرزایوارڈ
    2۔بے نظیر بھٹو ایوارڈ
    3۔ایکسیلنٹ ایوارڈ آف دی سٹی. 4..جنوبی پنجاب لٹریری ایوارد

    ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    چھوڑ یہ بات ملے زخم کہاں سے تجھ کو
    زندگی اتنا بتا کتنا سفر باقی ہے

    افسوس مجھ کو اُس نے اتارا ہے گور میں
    جس کے لئے فلک سے اُتاری گئی ہوں مَیں

    ہجر میں بھی یہ میری سانس اگر باقی ہے
    اس کا مطلب ہے محبت میں اثر باقی ہے

    وہ آواز وہ لہجہ اس کے خال و خد
    کس کی یاد میں من مہکائے ہوئی ہوں

    بات جو نہیں سنتا اس سے بات کرتی ہوں
    اس پہ ہے یقیں مجھ کو جو گمان جیسا ہے

    دن تو اپنے غم دوراں گزر جاتے ہیں
    شام ہوتے ہی ترے غم میں بکھر جاتے ہیں

    ہر اک خواب میں حرف و بیاں میں رہتا ہے
    وہ ایک شخص جو دل کے مکاں میں رہتا ہے

    رکھا ہوا ہے حفاظت کے ساتھ اسے دل میں
    میں بے امان ہوں وہ تو اماں میں رہتا ہے

    گئی رتوں کی رفاقتوں میں تمہیں ملوں گی
    میں چاہتوں کی ریاضتوں میں تمہیں ملوں گی

    اک خواب کے تاوان میں آنکھوں کو گنوایا
    بے روح ہوئی ہوں یہاں بے جان کھڑی ہوں

  • یوم ولادت، اسریٰ رضوی

    یوم ولادت، اسریٰ رضوی

    چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ
    بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام :شمیم فاطمہ اسریٰ
    قلمی نام:اسریٰ رضوی
    تاریخ ولادت:05 دسمبر 1993ء
    آبائی وطن:علی نگر، بھیک پور، سیوان، بہار
    تعلیم:ایم اے (اردو)، لکھنؤ یونیورسٹی
    تصنیفات:اجتبیٰ حسین رضوی:شخصیت اور جہات
    رہائش:بڑا باغ، مفتی گنج، لکھنؤ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ شمیم فاطمہ اسریٰ کی 5 دسمبر 1993 میں سیوان ضلع کے گاؤں علی نگر بھیک پور میں ولادت ہوئی۔ ابتدائی تعلیم گھر میں اور پاس کے سرکاری مڈل اسکول میں ہوئی اور پھر قریبی ایس ٹی ڈی کالج سے انٹر کے بعد 2010 میں لکھنوں میں سکونت اختیار کی اور لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے اور ایم کیا۔ شاعری کا شوق بچپن سے تھا مگر ایم کے دوسرے سمسٹر میں شدت اختیار کر گیا اور نانی کے انتقال پر پہلی غزل 2013 کے اواخر میں لکھی۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اداس آنکھیں غزال آنکھیں
    جواب آنکھیں سوال آنکھیں
    ہزار راتوں کا بوجھ اٹھئے
    وہ بھیگی پلکیں وہ لال آنکھیں
    وہ صبح کا وقت نیند کچی
    خمار سے بے مثال آنکھیں
    بس اک جھلک کو تڑپ رہی ہیں
    رہین شوق وصال آنکھیں
    جھکی جھکی سی مندی مندی سی
    امین ناز جمال آنکھیں
    وہ ہجر کے موسموں سے الجھی
    تھکی تھکی سی نڈھال آنکھیں
    نہ جانے کیوں کھوئی کھوئی سی ہیں
    بجھی بجھی پر خیال آنکھیں
    ہیں شوخیوں سے چھلکنے والی
    محبتوں سے نہال آنکھیں
    اگر نگاہوں سے مل گئیں تو
    کریں گی جینا محال آنکھیں
    چھپے ہوئے ہیں ہزار جذبہ
    بلا کی ہیں یہ کمال آنکھیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ آگ محبت کی بجھائے نہ بجھے ہے
    بجھ جائے جو اک بار جلائے نہ جلے ہے
    ٹوٹا جو بھرم رشتوں میں احساس و وفا کا
    سو طرح نبھاؤ تو نبھائے نہ نبھے ہے
    خوابوں کا محل یوں ہی بنایا نہ کرو تم
    تعمیر جو ہو جائے گرائے نہ گرے ہے
    دہلیز پہ دل کی جو قدم رکھے ہے کوئی
    ٹک جائے ہے ایسے کے ہلائے نہ ہلے ہے
    ہے باغ محبت میں وفا کا جو حسیں گل
    مرجھا جو گیا پھر تو کھلائے نہ کھلے ہے
    دل چیز ہے ایسی کہ اجڑ جائے جو ایک بار
    پھر لاکھ بساؤ تو بسائے نہ بسے ہے
    کیوں نقش لیے چشم تصور میں پھرو ہو
    ہو جائے یہ گہرا تو مٹائے نہ مٹے ہے
    کوشش تو بہت کی ہے کہ دھل جائے ہر اک عکس
    اک شکل ہے ایسی کہ بہائے نہ بہے ہے
    دیکھ آئی ہیں شاید کہیں محبوب کو اپنے
    آنکھوں کی چمک آج چھپائے نہ چھپے ہے
    باتوں من جو کر جائے ہے اقرار محبت
    پھر بات کوئی اس سے بنائے نہ بنے ہے
    ہر گام قدم اپنا سنبھالے رکھو اسریٰؔ
    دامن پہ لگا داغ چھڑائے نہ چھٹے ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خود کو دنیا میں نہ الجھاؤ خدا را محسن
    اس کے پیغام کا سمجھو تو اشارا محسن
    بیٹھ جانا کہیں تھک ہار کے زیبا ہے کیا
    تو زمانے کا زمانہ ہے تمہارا محسن
    پچھلی شب اس کی محبت نے کہا دھیرے سے
    تجھ سے دوری نہیں اک پل بھی گوارا محسن
    با خدا الفت سرور کی کرامت ہے یہ
    جون کہہ کر جو زمانے نے پکارا محسن
    اس کی الفت میں تم ہستی کو مٹا کر دیکھو
    ایک دن ہوگا خدا خود ہی تمہارا محسن
    کشتیاں پار لگانا ہے بھنور سے تم کو
    ڈوبتے لوگوں کو دینا ہے سہارا محسن
    اونچی اٹھتی ہوئی لہروں میں صدا دو اس کو
    ابھی مل جائے گا کشتی کو کنارا محسن
    صبح اس شوخ کے چہرے سے اٹھاتی ہے نقاب
    گیسوئے حسن کو راتوں نے سنوارا محسن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : . آغا نیاز مگسی

  • پرشوتم ناگیش اوک (ہندی زبان کا مصنف جس نے تاریخ میں ترمیم کی)

    پرشوتم ناگیش اوک (ہندی زبان کا مصنف جس نے تاریخ میں ترمیم کی)

    پیدائش:02 مارچ 1917ء
    اندور
    وفات:04 دسمبر 2007ء
    پونے
    قومیت:بھارتی
    زبان:مراٹھی، ہندی
    وجہ شہرت:تاریخ میں ترمیم

    پرشوتم ناگیش اوک جو پی۔ این۔ اوک کے نام سے معروف ہے، ایک ہندستانی مصنف ہے جو اپنے ہندو مرکزائی نشانات کی تاریخی ترمیم پسندی کے لیے مشہور ہے۔ اوک نے 1980ء کی دہائی میں ”ادارہ برائے نظرثانی تاریخ بھارت“ سے سہ ماہی جریدہ ”اتہاس پترکا“ جاری کیا۔ اوک نے کئی دعوے کیے، مثلاً اسلام اور مسیحیت دونوں ہندو مت سے ماخوذ ہیں نیز ویٹیکن سٹی، خانہ کعبہ، ویسٹ منسٹر ایبے اور تاج محل سب شیو کے مندر تھے۔

    ترمیم شدہ نظریات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اوک نے اپنے دعوؤں سے متعلق لکھا کہ میں سمجھ سکتا ہوں اگر آپ اس کتاب کو پڑھنے کے موڈ میں نہیں ہیں لیکن یہ اور اسی قسم کی کہانیاں ہیں جو ہندوستان میں مذہبی احیا کا سبب بن رہی ہیں جو مودی کا سا نقطہ نظررکھنے والے ان پڑھ اور بھولے بھالے عوام کو اپنی طرف کھینچ رہی ہیں۔
    کعبہ کی تعمیر – ویدی اصل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی کتاب (Some Blunders of Indian Historical Research) میں اوک نے دعویٰ کیا کہ: کسی زمانے میں ہندو مہاراجا بکرما جیت کی سلطنت جزیرہ نمائے عرب تک پھیلی ہوئی تھی۔ مہاراجا نے 58 ق۔م میں شہر مکہ میں رام کا مندر تعمیر کیا جسے بعد میں مسلمانوں کے پیغمبر نے خانہ کعبہ میں تبدیل کر دیا۔ ہندوئوں کو نہیں بھولنا چاہیے کہ مکہ ان کا شہر ہے جس میں ان کے دیوتا کا مندر تھا۔ لہذا ضروری ہے کہ ہندو اس مندر کو دوبارہ واپس حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
    لکھنؤ کا امام بارگاہ – ہندو محل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوک نے اپنی کتاب لکھنؤ کی امام بارگاہیں ہندووں کے محلات تھے میں لکھنؤ کی امام بارگاہ کے بارے میں دعویٰ کیا کہ یہ ایک قدیم ہندو محل تھا۔
    کرسچینیٹی – کرشن-نیتی نظریہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اوک نے مسیحیت یعنی کرسچینیٹی سے متعلق دعویٰ کیا کہ کرسچینیٹی دراصل ہندو، سنسکرت کی اصطلاح کرسن نیتی سے ماخوذ ہے یعنی وہ طرز زندگی جس کا پرچار ہندو اوتار لارڈ کرسن نے کیا اور اس کا نمونہ بن کر دکھایا تھا۔ انہیں کرشن، کرسن، کریسن، کرسنا اور کرشنا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔

  • اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا:عمرخیام کی زندگی کےروشن پہلو

    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا:عمرخیام کی زندگی کےروشن پہلو

    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
    یہ مشت غبار کچھ دنوں میں دل تھا

    عمر خیام

    4 دسمبر 1131 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عظیم مسلمان سائنسدان’ فلسفی اور شاعر عمر خیام
    10؍مئی 1048ء مطابق ٤٣٩ ہجری میں صوبے خراسان رضوی کے شہر نیشاپور، حکومت آل بویہ، فارس، خلافت عباسیہ، موجودہ خراسان، ایران میں پیدا ہوئے۔عمرخیام، طب، ریاضی، فلکیات اور فلسفہ میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ ان علوم کے علاوہ شعرو سخن میں بھی ان کا پایا بہت بلند ہے ان کےعلم وفضل کا اعتراف اہل ایران سےبڑھ کراہل یورپ نے کیا۔ سب سے پہلے روسی پروفیسر ولنتین ژوکو فسکی نے رباعیات عمر خیام کا ترجمہ کیا۔ پھر فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی بعض رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اور بعض اہم مضمون رباعیات کا مفہوم پیش کر کے کچھ ایسے انداز میں اہل یورپ کو عمر خیام سے روشناس کرایا کہ انہیں زندہ جاوید بنادیا۔

    عمر خیام جب نجوم، ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ مسائل سے فارغ ہوتے تو شعر کی طرف مائل ہوتے۔ مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ ان کی فارسی رباعیات ہیں۔ رباعیوں کی زبان بڑی سادہ، سہل اور رواں ہے۔ لیکن ان میں فلسفیانہ رموز ہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں۔ انہوں نے 8 سال کی عمر میں ریاضی اور فلسفہ کا مطالعہ کرنا شروع کیا. 12 سال کی عمر میں وہ نیشابور کی درسگاہ کے ایک طالب علم بن گئے۔ بعد میں انہوں نے بلخ، سمرقند اور بخارا کے درسگاہوں میں اپنی تعلیم مکمل کی.
    ان کی قابل قدر تصانیف میں سے ‘میزان الحکمہ، لوازم الامکنہ، رسالہ فی براہین علی مسائل الجبر و المقابلہ، القول علی اجناس التی بالاربعا، رسالہ کون و تکلیف، رسالہ ای در بیان زیج ماکشاہی، رسالہ فی شرح ما اشکل من مصادرات کتاب اقلیدس’ اور رباعیات’ کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں جن کی رباعیات 200 اشعار پر مشتمل ہے۔ 04؍دسمبر 1131ء مطابق ٥٢٦ ہجری کو نیشاپور، خراسان، ایران میں انتقال کر گئے۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    (عمر خیام کی فارسی رباعی کا اردو میں ترجمہ)

    پہلے غمِ ہجر گرمیِ محفل تھا
    چندے برکابِ شوقِ ہم منزل تھا
    اے یار اب آ کے دیکھ تربت کو مری
    یہ مشتِ غبار کچھ دنوں میں دل تھا

    افسوس کہ غم میں یہ جوانی گزری
    یک دم نہ کبھی یہ شادمانی گزری
    اب پیری میں ہو گی کیا عبادت ہم سے
    بے یادِ خدا کے زندگانی گزری

    ہے جام سے وابستہ جوانی میری
    یہ مے ہے کلیدِ کامرانی میری
    تم تلخ بتاتے ہو تو کچھ عیب نہیں
    تلخ تو ہے عین زندگانی میری

    پلا تو دے میرے ساقی نئی بہار کے ساتھ
    عبث الجھتا ہے اس زہد کے سہار کے ساتھ
    اجل ہے گھات میں دن زیست کے گزرتے ہیں
    شرابِ ناب ہے موجوں میں بزمِ یار کے ساتھ

    ہے مدتِ عمر بس دو روزہ گویا
    ندی کا سا پانی ہے کہ صحرا کی ہوا
    دو دن کا کبھی غم نہیں ہوتا ہے مجھے
    اک دن جو نہیں آیا ہے، اک دن جو گیا

    وہ جام جو تازہ جوانی دے دے
    اس جام کو بھر کے یارِ جانی دے دے
    لا جلد کہ ہے شعبدہ دنیا ساری
    ہو جائے گی ختم یہ کہانی، دے دے

    خورشید نے کمند سی پھینکی ہے سوئےبام
    فرماں روائے روز نے مے سے بھرا ہے جام
    مے پی کہ اٹھنے والوں نے ہنگامِ صبح کے
    بھیدوں کو تیرے کھول دیا سب پہ لا کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید کا یوم پیدائش

    نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید 04 دسمبر 1928ء کو ضلع سرگودھاکے دور افتادہ قصبہ مہانی میں پید اہوئےابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے عام اسکولوں میں حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا مزید تعلیم کےلیےاسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے ان کا اصلی نام محمد انوارالدین تھا-

    ان کا رجحان ادب کی طرف تھا لیکن والدین سائنس کی تعلیم دلا کر انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ اس دور میں اسلامیہ کالج لاہور میں تحریک پاکستان کی سرگرمیاں زور پکڑ چکی تھیں، انور سدید بھی ان میں شرکت کرنے لگے اور ایف ایس سی کا امتحان نہ دیا۔ اس وقت ان کے افسانے رسالہ بیسوی صدی، نیرنگ خیال اور ہمایوں میں چھپنے لگے تھے۔ عملی زندگی کی ابتدا محکمہ آبپاشی میں لوئر گریڈ کلرک سے کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ سکول رسول(منڈی بہائو الدین) میں داخل ہو گئے۔

    اگست1948ء میں اول آنے اور طلائی تمغہ پانے کے بعد اری گیشن ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر کی ملازمت پر فائز ہو گئے۔ یہاں انھوں نے ناآسودگی محسوس کی تو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے دئیے۔ ایم سے فرسٹ کلاس حاصل کی اور خارجہ طلبہ میں ریکارڈ قائم کیا۔

    انور سدیدنے’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے نگراں راہ نما وزیر آغا تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹر سید عبداللہ اور ڈاکٹر شمس الحسن صدیقی کو ان کا ممتحن مقرر کیا۔ دونوں نے ان کے مقالے کو نظیر قرار دیا جو آئندہ طلبہ کو راہنمائی فراہم کر سکتا تھا۔ ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کےاب تک نو اڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دوران انور سدید نے انجینئرنگ کا امتحان اے ایم آئی، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئر ڈھاکا سے پاس کیا۔

    محکمہ آبپاشی پنجاب سے ایگز یکٹو انجینئر کے عہدے سے 60 برس کی عمر پوری ہونے پر دسمبر 1988ء میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ ‘‘ہفت روزہ’’زندگی‘‘ روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور میں چند سال کام کرنے کے بعد وہ ملک کے نظریاتی اخبار’’نوائے وقت‘‘ کے ادارے میں شامل ہوگئے۔

    اس ادارے سے انھوں نے’’دوسری ریٹائرمنٹ‘‘جولائی2003ء میں حاصل کی لیکن مجید نظامی چیف ایڈیٹر’’نوائے وقت ‘‘ نے انھیں ریٹائر کرنے کی بجائے گھر پر کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ سلسلہ آخر دم تک قائم رہا۔ تنقید، انشائیہ نگاری، شاعری اور کالم نگاری ان کے اظہار کی چند اہم اصناف ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید نے اپنے بچپن میں ہی ادب کو زندگی کی ایک بامعنی سرگرمی کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ ابتدا بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھنے سے کی، افسانے کی طرف آئے تو اس دور کے ممتاز ادبی رسالہ’’ہمایوں‘‘ میں چھپنے لگے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے’’اوراق‘‘ جاری کیا تو انھیں تنقید لکھنے کی ترغیب دی اور اپنے مطالعے کو کام میں لانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے رسالہ’’اردو زبان‘‘ سرگودھا کے پس پردہ مدیر کی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ’’اوراق‘‘ کے معاون مدیر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔

    روزنامہ ’’جسارت‘‘، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’حریت‘‘، ’’امروز‘‘، ’’ زندگی‘‘، ’’قومی زبان‘‘اور ’’خبریں ‘‘ میں ان کے کالم متعدد ناموں اور عنوانات سے چھپتے رہے۔ ’’دی اسٹیٹسمن‘‘اور ’’دی پاکستان ٹائمز‘‘میں انگریزی میں ادبی کالم لکھے۔ انھیں تعلیمی زندگی میں تین طلائی تمغے عطا کیے گئے۔ ادبی کتابوں میں سے ’’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘‘، ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘اور ’’اردو میں حج ناموں کی روایت‘‘پر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے انھیں بہترین کالم نگار کا اے پی این ایس ایوارڈ عطا کیا۔ 2009 میں ادبی خدمات پر صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا-

    جناب انور سدید نے 88 کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں، چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
    ۔ (1)فکرو خیال
    ۔ (2)اختلافات
    ۔ (3)کھردرے مضامین
    ۔ (4)اردو افسانے کی کروٹیں
    ۔ (5)موضوعات
    ۔ (6)بر سبیل تنقید
    ۔ (7)شمع اردو کا سفر
    ۔ (8)نئے ادبی جائزے
    ۔ (9)میر انیس کی اقلم سخن
    ۔ (10)محترم چہرے
    ۔ (11)اردو ادب کی تحریکیں
    ۔ (12)اردو ادب کی مختصر تاریخ
    ۔ (13)پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ
    ۔ (14)اردو ادب میں سفر نامہ
    ۔ (15)اردو ادب میں انشائیہ
    ۔ (16)اقبال کے کلاسیکی نقوش
    ۔ (17)اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش
    ۔ (18)؟
    ۔ (19)غالب کے نئے خطوط
    ۔ (20)دلاور فگاریاں
    ۔ (21)قلم کے لوگ
    ۔ (22)ادیبان رفتہ
    ۔ (23)آسمان میں پتنگیں
    ۔ (24)دلی دور نہیں
    ۔ (25)ادب کہانی 1996ء
    ۔ (26)ادب کہانی 1997ء
    ۔ (27)اردو افسانہ: عہد بہ عہد
    ۔ (28)میر انیس کی قلمرو
    ۔ (29)وزیر آغا ایک مطالعہ
    ۔ (30)مولانا صلاح الدین احمد، فن اور شخصیت
    ۔ (31)حکیم عنایت اللہ سہروردی، حالات و آثار
    ۔ (32)جدید اردو نظم کے ارباب اربعہ
    ۔ (33)کچھ وقت کتابوں کے ساتھ
    ۔ (34)مزید ادبی جائزے
    ڈاکٹر انور سدید کی چند کتابوں مثلاً ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘، ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش‘‘،’’ اردو ادب میں سفر نامہ‘‘،’’ پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘، ’’اردو ادب میں انشائیہ‘‘ کو موضوع کے اعتبار سے اولین تصنیف ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    انور سدید ان دنوں ’’نوائے وقت‘‘ سنڈے میگزین میں کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے رہے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے ایک سال میں 225کتابوں پر تبصرے لکھ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    انور سدید کے فن اور شخصیت پر پروفیسر سید سجاد نقوی نے ایک کتاب’’گرم دم جستجو‘‘ شائع کی ہے۔ رسالہ ’’اوراق‘‘، ’’تخلیق‘‘، ’’ارتکاز‘‘، ’’جدید ادب‘‘، ’’کوہسارجرنل‘‘، ’’ چہارسو‘‘ اور ’’روشنائی‘‘ میں ان پر گوشے چھپ چکے ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید کی بیشتر کتابیں کالج اور یونیورسٹی طلبا کے علاوہ اعلیٰ ملازمین کے مقابلے کے امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی معاونت کرتی ہیں اور کئی یونیورسٹیوں کے اردو نصاب میں شامل ہیں۔

    وہ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کو اپنا محسن تصور کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دونوں نے انہیں ہمیشہ متحرک رکھا ہے۔

    چند منتخب اشعار

    شکوہ کیا زمانے کا تو اس نے یہ کہا
    جس حال میں ہو زندہ رہو اور خوش رہو

    بس ایک ہی ریلے میں ڈوبے تھے مکاں سارے
    انور کا وہیں گھر تھا بہتا تھا جہاں پانی

    کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
    ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

    دم وصال تری آنچ اس طرح آئی
    کہ جیسے آگ سلگنے گلابوں میں

  • معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    8حکمرانوں کے بخیے ادھیڑنے والا درزی شاعر

    استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا۔ یکم جنوری 1910 کوچوک متی لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد میراں بخش درزی تھے۔ گھریلو حالات کے پیش نظر دامن نے بھی بچپن ہی میں تعلیم کےساتھ ٹیلرنگ کا کام بھی شروع کر دیا( بعد میں انہوں نےجرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے ٹیلرنگ کا باقاعدہ ڈپلوما بھی حاصل کیا ) انہوں نے ساندہ کے دیو سماج سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

    عمر تیرہ سال ہوئی تو خاندان چوک متی سے باغبانپورہ منتقل ہو گیا شعر گوئی کی ابتدا بڑے بھائی کی وفات پر مرثیے سے کی لیکن باقاعدہ شاعری کا آغاز میٹرک کے بعد کیا۔ پہلے ہمدم تخلص کر تے تھے لیکن جلد ہی اسے ترک کرکے دامن اختیار کیا ۔ پنجابی شاعری میں استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہو ئے اور ان کی شاگردی کو باعث فخر سمجھتے تھے۔

    1940 میں میاں افتخار الدین کی صدارت میں ہونے والے میونسپل کمیٹی لاہور کے اجلاس میں کمیٹی کارکردگی پر تنقیدی نظم پیش کی اور خوب داد حاصل کی ۔ ان کے بعد ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو تا گیا اور انہوں نے سیاسی جلسوں میں بھی نظمیں پڑھنے کا آغاز کیا ۔ وہ سید عطا اللہ شاہ بخاری، میاں افتخار الدین اور مزدوروں کےجلسوں کی رونق ہوتے تھےحصولِ آزادی کی جدوجہد میں وہ نیشنل کانگریس کے فعال کارکن تھے۔ لاہور کے ایک جلسے میں جس کی صدارت جواہر لال نہرو کر رہے تھے، دامن نے نظم پڑھی جو نہرو نے بہت پسند کی اور 100 روپے انعام دیا ( آج کے ایک لاکھ روپے سمجھ لیں ) اس کا بہت چرچا ہوا-

    1947 کے فسادات میں ان کی دکان لوٹ لی گئی جس کے سبب زبردست مالی بحر ان کا شکار ہو کر باغبانپورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب
    ٹکسالی گیٹ میں واقع مسجد کےاس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین بھی مقیم رہے تھے ۔ پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن ٹھہرا۔ کل اثاثہ ان کی چند کتابیں تھیں ۔ 1949 میں استاد دامن کی شادی ہوئی لیکن کچھ ہی عر صہ بعد ان کا کم سن بیٹا اور بیوی انتقال کر گئے اور پھر تمام عمر شادی نہ کی ۔

    دامن نے پنجابی شاعری کی فنی خوبیوں پر ملکہ رکھنے کی بدولت اہل علم وفن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔استاد دامن مزدوروں ، کسانوں،غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے ۔انہوں نے ان طبقوں کی حمایت اور حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور ہمیشہ استحصالی طبقوں کی مذمت کرتے رہے ۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں. پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی اور اس کے سکیرٹری بھی رہے ۔

    استاد دامن کے چاہنے والوں میں بھارتی اداکار اوم پرکاش، پران اور شیام بھی شامل تھے۔ اوم پرکاش کی فرمائش پر ہی استاد نے نورجہاں کی زیر ہدایات بننے والی فلم "چن وے” کے اس گیت کا مکھڑا لکھا۔

    چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا
    آپے بناؤنا تے آپے مٹاؤنا

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی۔ وہ موقع کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے ۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے دلی میں منعقدہ مشاعرے میں یہ فی البدیہہ نظم پڑھی :

    جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
    سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے
    روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں

    حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے ۔ مشاعرے میں پنڈت جواہر لعل نہرو (وزیراعظم بھارت) بھی موجود تھے ، انہوں نے استاد دامن سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام فرمائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے، میں لاہور ہی میں رہوں گا بے شک جیل ہی میں کیوں نہ رہوں ۔

    اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی افلاس میں گزاری مگر مرتے دم تک وطن سے محبت کے گیت گائے ۔ اس دھرتی کو نفرتوں ، بے ایمانیوں اور عیاریوں سے پاک کرنے کیلئے محبتوں کے پھول بکھیرتا رہا اور ان برائیوں کی علانیہ نشاندہی اور مذمت کر تا رہا ۔ استاد دامن نے آزادی کے بعد سیاست دانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پر بھرپور تنقید کی اور عوامی شعور کو بیدار کیا ۔ ملک کے دن بدن زوال کی تصویر کشی کرتے ہوئے استاد دامن کہتے ہیں :

    بھج بھج کے وکھیاں چور ہوئیاں
    مڑ کے و یکھیا تے کھوتی بوہڑ ہیٹھاں

    استاد دامن عام بول چال کی زبان میں اپنا خیال پیش کرکے سامعین و قارئین کے دلوں کی گہرائیوں کوچھو لیتےاستاد دامن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف فیض احمد فیض نے ایک نجی محفل میں یہ کہہ کر کیا کہ میں پنجابی میں صرف اس لئے شاعری نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ، وارث شاہ اور بلھے شاہ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں ۔

    استاد دامن کی یادداشت بہت اچھی تھی ۔ قیام پاکستان کے بعد کچھ شر پسندوں نے ان کی ذاتی لائبریری اور دکان کو آگ لگا دی تو ان کی ذاتی تحریریں ، ہیر کا مسودہ جسے وہ مکمل کر رہے تھے اور دوسری کتابیں جل کر راکھ ہو گئیں تو انہوں نے دل برداشتہ ہو کر اپنا کلام کاغذ پر محفوظ کر نا چھوڑ دیا اور صرف اپنے حافظے پر بھر وسہ کرنے لگے ۔ ان کا کافی کلام ضائع ہو گیا لیکن ان کی یاد میں قائم ہونے والی استاد دامن اکیڈمی کے عہدیداروں نے بڑی محبت وکاوش سے ان کے مختلف ذہنوں میں محفوظ اور ادھر ادھر بکھر ے ہو ئے کلام کو یکجا کر کے’’دامن دے موتی‘‘ کے نام سے ایک کتاب پیش کی۔

    استاد دامن نے فلموں کیلئے بھی گیت لکھے ۔ ان کا فلم’’ غیرت دا نشان ‘‘ میں شامل یہ گیت بہت مشہور ہوا۔

    منیوں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
    نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پتل بھری پرات

    استاد دامن ، پنجابی کے علاوہ اردو سنسکرت ، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس رکھتے تھے لیکن انہوں نے وسیلہ اظہار اپنی ماں بولی پنجابی ہی کو بنایا ۔ استاد دامن بلھے شاہ اکیڈمی کےسرپرست، مجلس شاہ حسین کے سرپرست اور ریڈیو پاکستان شعبہ پنجابی کے مشیر بھی تھے ۔ ان مختلف حیثیتوں میں انہوں نے پنجابی زبان وادب کی ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں ۔

    استاد دامن کہا کرتے تھے کہ اگر کسی نے میرا اردو ایڈیشن دیکھنا ہو تو وہ حبیب جالب کو دیکھ لےاستاد دامن کو فیض اور جالب سے محبت تھی۔ 80 کی دہائی میں جب انکے منہ بولے بیٹے فلم سٹار علاؤالدین کا انتقال ہوا تو گویا استاد دامن کی کمر ٹوٹ گئی۔ بستر پر ہی پڑے رہتے ،کبھی ہسپتال اور کبھی گھر، پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جاملے۔

    استاد سے محبت کرنے والوں نےلاکھ روکا، وہ نہ مانے اور اپنےیاردیرینہ کے جنازے پر پہنچ گئےلوگوں نے استاد دامن کو پہلی بار دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ گویا تقسیم سے لے کر آج تک ٹوٹنےوالی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے جانے کے بعد ہی ان تک آئی ہےفیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو ہوا اور اسی شام دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ایسے ٹوٹے کے صرف تیرہ دن بعد 3 دسمبر 1984 کو فیض صاحب کے پیچھے روانہ ہو گئے۔ آج ان کی برسی ہے.

    انہیں ان کی وصیت کے مطابق شاہ حسین کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا ۔

    منقول

  • یوم ولادت، یحییٰ کمال بیاتلی

    یوم ولادت، یحییٰ کمال بیاتلی

    پیدائش: 02 دسمبر 1884ء
    وفات:01 نومبر 1958ء

    یحییٰ کمال بیاتلی ترکی زبان کے معروف شاعر، مصنف اور سیاست داں تھے۔ آپ 2 دسمبر 1884ء کو اسکوپے، سلطنت عثمانیہ (موجودہ مقدونیہ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کا پیدائشی نام احمد آغا تھا لیکن آپ اس کے علاوہ آغا کمال، اسرار، محمد آغا اور سلیمان سعدی کے قلمی ناموں سے بھی لکھتے رہے ہیں۔
    آپ کا تعلق عثمانی دربار سے تعلق رکھنے والے ایک اعلیٰ خاندان سے تھا۔ دوران تعلیم آپ نے کچھ عرصہ فرانس کے دار الحکومت پیرس میں بھی گزارا جہاں کئی معروف ترک دانشوروں، سیاست دانوں اور مصنفین سے آپ کی ملاقاتیں ہوئیں۔ آپ نے یورپ بھر میں سیاحت کی اور متعدد ثقافتوں کا جائزہ لیا۔ آپ فرانس کی رومانوی تحریک سے متاثر تھے۔ بعد ازاں آپ نے شاعری کرنے کا فیصلہ کیا۔
    1912ء میں استنبول واپسی تک آپ ایک شاعر کی حیثیت سے مشہور ہو چکے تھے اور حکومت کی تبدیلی نے اعلیٰ سرکاری عہدوں تک آپ کی رسائی کو ممکن بنا دیا۔ آپ تکیر داغ اور استنبول کے صوبوں سے مجلس (پارلیمان) کے رکن بنے اور 1947ء میں تقسیم ہند کے بعد آپ کو نئی ریاست پاکستان کے لیے جمہوریہ ترکی کا پہلا سفیر مقرر کیا گیا لیکن اس عہدے پر مقرر ہونے کے بعد آپ کی طبیعت روز بروز ناساز ہوتی چلی گئی اور 1949ء میں آپ کے لیے سفارتی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن نہ رہا اور آپ کو ترکی واپس آنا پڑا۔ آپ کے مرض کی درست شناخت نہ ہو سکی اور یوں آپ کی صحت دوبارہ کبھی درست طور پر بحال نہ ہو سکی اور بالآخر یکم نومبر 1958ء کو آپ استنبول میں انتقال کر گئے۔
    یحییٰ کمال بیاتلی کے کلام میں جدید و قدیم کا امتزاج پایا جاتا ہے۔ آپ کو 20 ویں صدی میں ترکی کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جاتا ہے بلکہ بعض نقاد کو آپ کو فضولی کے بعد ترکی زبان کا سب سے بڑا شاعر قرار دیتے ہیں۔
    ادبی کام
    ۔۔۔۔۔۔
    شاعری:
    ۔۔۔۔۔۔
    کندی گوک قبہ مز (Kendi Gök Kubbemiz) (ہمارا اپنا آسمان – 1961ء)
    اس کی شعرِن رُزگاریلہ (Eski Şiirin Rüzgârıyle) (قدیم شاعری کی ہواؤں کے ساتھ، 1962ء)
    رباعی لر و خیام رباعی لرنی ترکچہ سوئلیش (Rubailer ve Hayyam Rubailerini Türkçe Söyleyiş) (رباعیاں اور ترک زبان میں عمر خیال کی رباعیاں، 1963ء)
    بتمیشش شعرلر (Bitmemiş Şiirler) (نامکمل نظمیں، 1976ء)
    مضامین-مقالے-یادداشتیں:
    عزیز استنبول (Aziz İstanbul) (پیارا استنبول، 1964ء)
    ایغل داغلر (Eğil Dağlar) (سجدہ کرو اے پہاڑو، قومی جنگ آزادی پر مضامین، 1966ء)
    سیاسی حکایلر (Siyasî Hikâyeler) (سیاسی کہانیاں، 1968ء)
    سیاسی و ادبی پورٹلر (Siyasî ve Edebî Portreler) (سیاسی و ادبی نمونے، 1968ء)
    ادبیاتہ دایر (Edebiyata Dair) (ادب پر، مضامین، 1971ء)
    چوجک لوغم گنج لغم، سیاسی و ادبی خاطر لرم (Çocukluğum, Gençliğim, Siyasî ve Edebî Hatıralarım) (میری بچپن، جوانی اور سیاسی و ادبی یادداشتیں، 1973ء)
    تاریخ محاسبہ لری (Tarih Muhasebeleri) (تاریخ کا محاسبہ، 1975ء)
    مکتوب لر- مقالہ لر (Mektuplar-Makaleler) (مکتوبات و مقالہ جات، 1977ء)

  • یوم وفات، نامق کمال

    یوم وفات، نامق کمال

    پیدائش:21 دسمبر 1840ء
    تکیرداغ
    وفات:02 دسمبر 1888ء
    خیوس

    نامق کمال (پیدائشی نام: محمد کمال) (21 دسمبر 1840ء – 2 دسمبر 1888ء) ترکی کے ایک قوم پرست شاعر، ناول نگار، ڈراما نویس، صحافی، مترجم اور سماجی مصلح تھے۔ نامق کمال کے افکار نے نوجوانان ترک اور ترک قوم پرست تحاریک پر زبردست اثرات ڈالے اور ترک زبان کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں بھی اپنا حصہ ڈالا۔ وہ ترکی زبان کے غیر ملکی طلبہ کے لیے لسانی مواد تیار کرنے والے بہترین مصنفین میں سے ایک تھے۔
    ترکی کی مشہور ادبی شخصیت خالدہ ادیب خانم کے مطابق
    آپ کی ذات جدید ترکی کی محبوب ترین شخصیت تھی اور ترکی کے افکار و سیاست کی تاریخ میں ان سے زیادہ کسی دوسری شخصیت کی پرستش نہیں کی گئی۔

    سوانح حیات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ سلطنت عثمانیہ کے دار الحکومت استنبول کے مغرب میں واقع علاقے تکیر داغ میں 21 دسمبر 1840ء کو پیدا ہوئے۔ آپ نے فارسی، عربی اور فرانسیسی تعلیم نجی حیثیت میں حاصل کی۔
    آپ نے صوفیہ (موجودہ بلغاریہ، جو اس وقت عثمانی سلطنت کا حصہ تھا) کے قیام کے دوران شاعری کا باقاعدہ آغاز کیا اور نامق تخلص اختیار کیا۔ عربی اور فارسی کی تکمیل بھی اسی شہر میں کی اور باقاعدہ فرانسیسی زبان سیکھنے کا آغاز بھی یہیں کیا۔ آپ کی شادی بھی اسی شہر میں ہوئی۔
    1857ء میں آپ استنبول آ گئے اور باب عالی کے دفتر ترجمہ میں ملازمت اختیار کر لی۔ 5 سالہ دور ملازمت میں آپ کا استنبول کے ممتاز شعرائے کرام سے تعارف ہوا۔
    ابتدا میں وہ غالب لسکوفچالی سے انتہائی متاثر تھے جو علما کے طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور اسلامی اقدار و نظریات کے علمبردار تھے۔ بعد ازاں وہ مصنف اور اخبار ‘تصویرِ افکار’ کے مدیر ابراہیم شناسی سے متاثر ہوئے جنہوں نے اپنا بیشتر وقت یورپ میں گزارا تھا اور مغربی طرز فکر کے حامل تھے۔ شناسی نے نامق کو مغربی انداز اختیار کرنے کامشورہ دیا۔ 1865ء میں نامق اُس وقت تصویر افکار کے مدیر بنے جب شناسی فرانس چلے گئے تھے۔ تاہم 1867ء تک اس اخبار کی پیدا کردہ سیاسی ہلچل نے سلطنت عثمانیہ کے لیے مسائل کھڑے کر دیے۔ کریٹ (اقریطش) کے مسئلے پر ایک اداریہ لکھنے پر اخبار پر ایک ماہ کی پابندی لگا دی گئی۔ سیاسی مضامین کے باعث تصویر افکار سلطنت عثمانیہ کاسب سے با اثر اخبار بن گیا۔ “نوجوانان ترک” کی اصطلاح سب سے پہلے اسی اخبار میں شائع ہوئی۔
    1865ء میں ہی اصلاحات کے حامی چھ نوجوانوں نے اتفاق جمعیت (جسے اردو میں نوجوانان عثمان کہا جاتا ہے) کے نام سے خفیہ تنظیم قائم کی جس میں معروف ادیب و شاعر ضیاء گوک الپ اور نامق کمال کے نام نمایاں تھے۔ اس تنظیم کو ژون ترک لر، ارباب شباب ترکستان، گنج عثمانلی لر اور ینی عثمانلی کے مختلف ناموں سے پکارا جاتا تھا۔
    حکومت کی جانب سے زیر عتاب آنے کے بعد مارچ 1867ء میں نامق کمال، ضیاء پاشا اور ان کے تیسرے ساتھی علی سعاوی پیرس روانہ ہو گئے۔
    نامق کمال نے پیرس میں اپنا وقت مطالعے اور وکٹر ہوگو، روسو اور مونٹیسکیو جیسے فرانسیسی مصنفین کے ادبی کاموں کے ترکی میں تراجم کرنے میں گزارا۔ آپ نے یہاں ایک اخبار ‘حریت’ بھی نکالا جو مالی امداد بند ہونے کے باعث 1869ء تک ہی چل سکا حالانکہ یہ اخبار بعد ازاں مالی امداد ملنے کے باعث دوبارہ شروع ہوا لیکن نامق نے پھر اس سے کوئی تعلق نہ رکھا۔
    لندن، ویانا اور برسلز میں کچھ عرصہ قیام کے بعد 1871ء میں نوجوانان عثمان استنبول واپس آئے تو نامق کمال نے اخبار ‘عبرت’ کے مدیر کی حیثیت سے اپنی انقلابی تحاریر جاری رکھیں۔
    اسی زمانے میں آپ نے ایک متنازع ڈراما ‘وطن’ تحریر کیا جو یکم اپریل 1873ء کو استنبول میں پیش کیا گیا جسے عثمانی حکومت نے قوم پرستانہ اور آزاد خیال افکار کے باعث خطرناک قرار دیا اور 9 اپریل کو نامق کمال کو قبرص میں نظر بند کر دیا گیا۔ آپ کی یہ نظر بندی 3 سال دو ماہ جاری رہی۔ اس عرصے میں آپ نے کئی ڈرامے، ناول اور تنقیدیں لکھیں۔
    سلطان عبد العزیز اول کی جگہ مراد پنجم کو خلیفہ بنایا گیا تو انہوں نے 3 جون 1876ء کو آپ کی معافی کا اعلان کیا اور یوں 29 جون 1876ء کو آپ استنبول واپس آئے۔

    نومبر میں آپ شورائے دولت (کونس آف اسٹیٹ) اور آئین سازی کے لیے ذیلی مجلس کے رکن مقرر ہوئے۔ آپ اور ضیاء پاشا کی کوششوں ہی سے سلطنت عثمانیہ کا پہلا دستور (قانون اساسی)تیار ہوا۔ صرف 93 دن کی خلافت کے بعد سلطان عبد العزیز کو معزول کر دیا گیا اور ان کی جگہ عبد الحمید نے عنان اقتدار سنبھالی۔ ابتدا میں انہوں نے دستور کی پابندی کا وعدہ کیا لیکن جلد ہی آئین منسوخ کر دیا گیا۔
    فروری 1877ء میں نامق کمال کو سلطان کو معزول کرنے کی سازش کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ الزام سے بری ہونے کے باوجود آپ کو رہا نہ کیا گیا اور ساڑھے پانچ ماہ استنبول میں قید رہنے کے بعد آپ کو مدللی (Midilli) جلا وطن کر دیا گیا۔
    اپریل 1879ء میں آپ کو اسی جزیرے کا حاکم بنا دیا گیا۔ پانچ سال تک اس جزیرے کے حاکم رہے۔ اکتوبر 1884ء میں آپ کو جزیرہ رہوڈس کا حاکم بنا دیا گیا جہاں آپ تین سال حاکم رہے۔ انہوں نے رہوڈس کے کتب خانے کی توسیع میں ذاتی دلچسپی لی اور ہندوستان، ایران، مصر اور یورپ بھر میں گماشتے بھیج کر ذاتی خرچ پر کتب منگوائیں۔
    بعد ازاں آپ کو ساکز (Chios) کا گورنر بنائے گئے، جہاں 2 دسمبر 1888ء میں آپ کا انتقال ہو گیا۔ وفات کے وقت آپ کی عمر محض 48 سال تھی۔
    عارضی طور پر ساکز میں دفنائے گئے بعد ازاں صاحبزادے علی اکرم نے جزیرہ نما گیلی پولی کے قصبے بولیر میں ایک بزرگ سلیمان پاشا کے پہلو میں دفن کرایا۔ سلطان عبد الحمید نے قبر پر مقبرہ تعمیر کرایا۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کے معروف ادبی کاموں میں
    رویہ
    زوالی چوجک
    کربلا
    عاکف بے
    گل نہال
    انتباہ
    امیر نوروز
    شامل ہیں۔ آپ کی چند تحاریر قلمی ناموں سے جبکہ متعدد بغیر نام کے شائع ہوئیں۔
    افکار و خیالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ایک سماجی مصلح کی حیثیت سے نامق کمال کو دو بنیادی خیالات کے باعث شہرت حاصل ہے: ایک وطن دوسرا حریت (آزادی)۔ ایک آزاد خیال مفکر ہونے کے باوجود نامق کمال نے اسلام کو کبھی مسترد نہیں کیا۔ آپ سمجھتے تھے کہ مذہب ایک آئینی حکومت کی حامل جدید ترکی ریاست سے مکمل مطابقت رکھتا ہے۔ آپ کے سب سے زیادہ مشہور ناول ” علی بین سرگزشتی“ (علی بے کی سرگزشت، 1874ء) اور 16 ویں صدی کے کریمیائی تاتاری خان عادل گیرائے کے حالات زندگی پر مبنی ناول ”جزمی“ (1887-88ء) ہیں۔
    آپ نے تصویر افکار، حریت اور عبرت کے علاوہ دیگر اخبارات میں بھی مضامین لکھے جن میں مراۃ، مخبر، بصیرت، حدیقہ، اتحاد، صداقت، وقت اور محرر شامل تھے۔
    نامق کمال کی حب الوطنی پر لکھی گئی تحاریر نے ترک قوم پرست تحریک اور جدید جمہوریہ ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک کو بے حد متاثر کیا تھا۔
    متعلقہ مضامین
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ضیاء گوک الپ
    خالدہ ادیب خانم
    یحیی کمال بیاتلی

  • یوم ولادت،  منور بدایونی

    یوم ولادت، منور بدایونی

    جسے چاہا در پے بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    منور بدایونی

    یدائش:02 دسمبر 1908ء
    بدایوں، اتر پردیش، برطانوی ہند
    وفات:06 اپریل 1984ء
    کراچی، سندھ، پاکستان

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منور غزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جسے چاہا در پہ بلا لیا جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔