Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑاے نکہت بادبہاری راہ لگ اپنی تجھےاٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بےزاربیٹھے ہیں:انشااللہ خان انشاء کی زندگی کےروش پہلو

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    انشا اللہ خان انشاء
    یکم دسمبر 1257 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میر تقی میر کے ہم عصر ، مصحفی کے ساتھ چشمک کے لئے مشہور انشا نے نثر میں ’رانی کیتکی کی کہانی‘ بھی لکھی.جس میں عربی فارسی کا ایک بھی لفظ استعمال نہیں ہوا
    وہ کہتے تھے’’ہرلفظ جو اردو میں مشہور ہو گیا، عربی ہو یا فارسی، ترکی ہو یا سریانی، پنجابی ہو یا پوربی ازروئے اصل غلط ہو یا صحیح وہ لفظ اردوکا لفظ ہے۔ اگراصل کے مطابق مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے اور خلاف اصل مستعمل ہے تو بھی صحیح ہے ۔‘‘

    محمد حسین آزاد نے انشا کو اردو کا امیر خسرو کہا ۔ انکا سب سے بڑا کارنامہ کسی ہندوستانی کی لکھی ہوئی اردو گرامر کی اولین کتاب "دریائے لطافت” ہے جو قواعد کی عام کتابوں کی طرح خشک اور بے مزا نہیں کسی ناول کی طرح پر لطف ہے جس میں مختلف کردار اپنی اپنی بولیاں بولتے سنائی دیتے ہیں۔

    انھوں نے اردو میں "سلک گوہر” لکھی جس میں ایک بھی نقطہ نہیں ہے۔ انھوں نے ایسا قصیدہ لکھا جس میں پورے کے پورے مصرعے عربی، فارسی، ترکی، پشتو، پنجابی، انگریزی، فرانسیسی، پوربی اور اس زمانہ کی تمام قابل ذکر زبانوں میں ہیں۔ ایسی سنگلاخ زمینوں میں غزلیں لکھیں کہ حریف منہ چھپاتے پھرے۔ ایسے شعر کہے جن کو معنی کے اختلاف کے بغیر، اردو کے علاوہ، محض نقطوں کی تبدیلی کے بعد عربی فارسی اور ہندی میں پڑھا جا سکتا ہے یا ایسے شعر جن کا ایک مصرع غیر منقوط اور دوسرے مصرعے کے تمام الفاظ منقوط ہیں۔ اپنے اشعار میں صنعتوں کے انبار لگا دینا انشاء کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔

    انشاء یکم دسمبر 1752ء کو مرشدآباد میں پیدا ہوئے۔ خاندان نجف اشرف سے اور بعض دوسری روایات کے مطابق سمرقند سے ہجرت کرکے دہلی میں آباد ہوا تھا اور طبابت میں اپنی غیرمعمولی صلاحیت کی بنا پر دربار شاہی سے منسلک تھا۔ انشاء کے والد سید ماشاءللہ دہلی کی زبوں حالی کو دیکھتے ہوے مرشدآباد چلے گئے تھے. بنگال کے حالات بھی خراب ہوئے تو انشا فیض آباد جاکر کم عمری کے باوجود شجاع الدولہ کے مصاحب ہوگئے۔ شجاع الدولہ کی وفات کےبعد وہ نجف خان کے لشکر میں شامل ہوکر بندیل کھنڈ میں جاٹوں کے خلاف لڑے بھی۔ اس کے بعد وہ نجف خان کے ساتھ دہلی آ گئے۔

    انشاء کو دربار تک رسائی ملی اور وہ اپنی طراری، اور بھانڈ پن کی حد تک پہنچی ہوئی مسخرگی کی بدولت شاہ عالم کی آنکھ کا تارہ بن گئے ۔ ان کو اپنی بقاء کے لئے ایک مسخرے مصاحب کا کردار ادا کرنا پڑا جس نے بعد میں، ضرورت کی جگہ، عادت کی شکل اختیار کرلی۔ جب انشاء دہلی پہنچے، بڑے بڑے شاعر، سودا، میر، جرات، سوز وغیرہ دہلی کو چھوڑ کر عیش و نشاط کے نو دریافت جزیرے لکھنؤ کا رخ کر چکے تھے اور چھٹ بھیّے بزعم خود خاتم الشعراء بنے ہوئے تھے۔ یہ لوگ انشاء کو خاطر میں نہیں لاتے تھے ایسے میں لازم تھا کہ انشاء ان کو ان کی اوقات بتائیں۔ اور یہیں سے انشاء کی ادبی معرکہ آرائیوں کا وہ سلسلہ شروع ہوا کہ انشاء کو اپنے سامنے سر اٹھانے والے کسی بھی شخص کو دو چار زور دار پٹخنیاں دئیے بغیر چین نہیں آیا۔

    دہلی میں انشاء کا پہلا معرکہ مرزا عظیم بیگ سے ہوا۔ ان کی علمی لیاقت بہت معمولی تھی سودا کے شاگرد ہونے کے مدعی اور خود کو صائب کا ہم مرتبہ سمجھتے تھے۔ انشاء کی روش عام سے ہٹی ہوئی شاعری کے نکتہ چینوں میں یہ پیش پیش تھے اور اپنے مقطعوں میں سودا پر چوٹیں کرتے تھے۔ ایک دن وہ انشاء سے ملنے آئے اور اپنی ایک غزل سنائی جو بحر رجز میں تھی لیکن کم علمی کے سبب اس کے کچھ شعر بحر رمل میں چلے گئے تھے۔ انشاء بھی موجود تھے۔ انھوں نے طے کیا کہ حضرت کو مزا چکھانا چاہئے۔ غزل کی بہت تعریف کی مکرر پڑھوایا اور اصرار کیا کہ اس غزل کو وہ مشاعرہ میں ضرور پڑھیں۔ عظیم بیگ ان کے پھندے میں آ گئے۔ اور جب انھوں نے مشاعرہ میں غزل پڑھی تو انشاء نے بھرے مشاعرہ میں ان سے غزل کی تقطیع کی فرمائش کر دی۔ مشاعرہ میں سب کو سانپ سونگھ گیا۔ انشاء یہیں نہیں رکے بلکہ دوسروں کی عبرت کے لئے اک مخمس بھی سنا دیا۔

    گر تو مشاعرہ میں صبا آج کل چلے
    کہیو عظیم سے کہ ذرا وہ سنبھل چلے
    اتنا بھی اپنی حد سے نہ باہر نکل چلے
    پڑھنے کو شب جو یار غزل در غزل چلے
    بحر رجز میں ڈال کے بحر رمل چلے

    عظیم بیگ اپنے زخم چاٹتے ہوئے مشاعرہ سے رخصت ہوئے اور اپنی جھینپ مٹانے کے لئے جوابی مخمس لکھا جس میں انشاء کو جی بھر کے برا بھلا کہا اور دعویٰ کیا کہ بحر کی تبدیلی نادانستہ نہیں تھی بلکہ شعوری تھی جس کا رمز ان کے مطابق کل کے چھوکرے نہیں سمجھ سکتے۔
    موزونی و معانی میں پایا نہ تم نے فرق
    تبدیل بحر سے ہوئے بحر خوشی میں غرق
    روشن ہے مثل مہر یہ از غرب تا بہ شرق
    شہ زور اپنے زور میں گرتا ہے مثل برق
    وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے
    ( آخری مصرع ماقبل کے مصرع میں تحریف کے ساتھ شعر "گرتے ہیں شہسوار ہی میدان جنگ میں۔ وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے” کی شکل میں مشہور ہو گیا)

    اگلی بار جو مشاعرہ ہوا وہ ایک خطرناک معرکہ تھا ۔ انشاء اپنی فخریہ غزل
    اک طفل دبستاں ہے فلاطوں مرے آگے
    کیا منہ ہے ارسطوجو کرے چوں مرے آگے
    لے کر گئے۔ اس معرکہ میں جیت انشاء کی ضرور ہوئی لیکن ان کی مخالفت بہت بڑھ گئی۔ دہلی کے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے تھے ۔ دربار سے بھی ان کا دل اچاٹ ہو گیا۔ قسمت آزمائی کےلئے لکھنؤ کی راہ لی۔ آتے ہی وہاں کے مشاعروں میں دھوم مچائی. کچھ دن میں شاہ عالم کے بیٹے سلیمان شکوہ کے ملازم ہو گئے۔ سلیمان شکوہ، انشاء سے اصلاح لینے لگے۔ ان دنوں لکھنؤ میں شاعری کی اک نئی بساط بچھ رہی تھی جسے بعد میں دبستان لکھنؤ کا نام دیا گیا۔ انشاءکے علاوہ، جرات، رنگین، راغب وغیرہ ایک سےبڑھ کر ایک تماشے دکھا رہے تھے۔ سنگلاخ زمینوں میں استادی دکھانے اور چوما چاٹی کے مضامین کو ابتذال کے دہانے تک لے جانے کی اک ہوڑ لگی تھی۔

    آصف الدولہ کے بعد جب سعادت علی خان نے حکومت سنبھالی تو انشاء للہ بہت دنوں بعد کسی طرح ان کے دربار میں پہنچ تو گئے لیکن ان کا رول بس دل بہلانے والے اک مسخرے کا سا تھا۔ نواب کو جب کسی کی پگڑی اچھالنی ہوتی انشاء کو اس کے پیچھے لگا دیتے۔ انشاء کی آخری عمر بڑی بیکسی میں گزری ہنسی ہنسی میں کہی گئی انشاء کی کچھ باتوں سے نواب کے دل میں گرہ پڑ گئی اور وہ معتوب ہو گئے۔ اور زندگی کے باقی دن مفلسی کسمپرسی اور بیچارگی میں گزارے۔
    انشاء کی تمام شاعری میں جو صفت مشترک ہے وہ یہ کہ ان کا کلام متوجہ اور محظوظ کرتا ہے۔

    منتخب اشعار :

    کمر باندھے ہوئے چلنے کو یاں سب یار بیٹھے ہیں
    بہت آگے گئے باقی جو ہیں تیار بیٹھے ہیں

    نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی
    تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں ہم بے زار بیٹھے ہیں

    کہاں گردش فلک کی چین دیتی ہے سنا انشاؔ
    غنیمت ہے کہ ہم صورت یہاں دو چار بیٹھے ہیں
    کہانی ایک سنائی جو ہیر رانجھا کی
    تو اہل درد کو پنجابیوں نے لوٹ لیا
    یہ جو مہنت بیٹھے ہیں رادھا کے کنڈ پر
    اوتار بن کے گرتے ہیں پریوں کے جھنڈ پر
    کیا ہنسی آتی ہے مجھ کو حضرت انسان پر
    فعل بد تو ان سے ہولعنت کریں شیطان پر
    لے کے میں اوڑوں، بچھاؤں یا لپیٹوں کیا کروں
    روکھی پھیکی ایسی سوکھی مہربانی آپ کی

    تب سے عاشق ہیں ہم اے طفل پری وش تیرے
    جب سے مکتب میں تو کہتا تھا الف بے تے ثے
    یاد آتا ہے وہ حرفوں کا اٹھانا اب تک
    جیم کے پیٹ میں ایک نکتہ ہے اور خالی حے
    گالیاں تیری ہی سنتا ہے اب انشاؔ ورنہ
    کس کی طاقت ہے الف سے جو کہے اس کو بے
    میاں چشمِ جادو پہ اتنا گھمنڈ
    خدوخال و گیسو پہ اتنا گھمنڈ
    دیوار پھاندنے میں دیکھوگے کام میرا
    جب دھم سے آکہوں گاصاحب سلام میرا
    ( ریختہ سے استفادہ)

  • یوم وفات۔ منگھا رام ملکانی

    یوم وفات۔ منگھا رام ملکانی

    تاریخ ولادت:24 دسمبر 1896
    حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی
    تاریخ وفات:01 دسمبر 1980
    ممبئی، بھارت
    شہریت:بھارت (26 جنوری 1950–)
    ڈومنین بھارت
    مادر علمی:ڈی جے سندھ گورنمنٹ سائنس کالج
    تعلیمی اسناد:بی اے (آنرز)
    پیشہ:ادبی مؤرخ، ڈراما نگار، پروفیسر، ادبی نقاد
    پیشہ ورانہ زبان:سندھی
    کارہائے نمایاں:سندھی نثر جی تاریخ
    اعزازات:ساہتیہ اکادمی ایوارڈ
    ۔ (برائے:سندھی نثر جی تاریخ)
    ۔ (1969)

    پروفیسر منگھارام ادھارام ملکانی، ایم یو ملکانی (انگریزی: Mangharam Udharam Malkani) بھارت سے تعلق رکھنے والے سندھی زبان کے نامور ادبی مورخ، نقاد، معلم اور ڈراما نویس تھے۔ ڈی جے کالج کراچی میں انگریزی کے لیکچرار اور پھرجے ہند کالج بمبئی میں پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔وہ جدید سندھی نثری ادب کے معماروں میں شامل تھے۔ ان کی شاہکار تصنیف سندھی نثر جی تاریخ (سندھی نثر کی تاریخ) پر ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے 1969ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز برائے سندھی ادب دیا گیا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منگھا رام ملکانی 24 دسمبر 1896ء کو حیدرآباد، سندھ، بمبئی پریزیڈنسی میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق حیدرآباد کے مشہور عامل خاندان سے تھا۔ ان خاندان سے تعلق رکھنے والے منشی آوترائے ٹالپر حکمران خاندان کے فرد میر صوبدار خان ٹالپر کے وزیر تھے۔ منگھا رام نے ڈی جے کالج کراچی سے بی اے (آنرز) کی سند حاصل کی۔ ملازمت کا آغاز ڈی جے کالج سے انگریزی کے لیکچرار کے طور پر کیا، پھر اسی کالج میں فیلو مقرر ہوئے۔ تقسیم ہند کے بعد بھارت کے شہر بمبئی منتقل ہو گئے اور وہاں جے ہند کالج بمبئی میں پروفیسر مقرر ہو گئے۔ انہوں نے ادبی زندگی کا آغاز ڈراما نگاری سے کیا۔انگریزی، اردو اور دوسری زبانوں سے متعدد ڈرامے سندھی میں منتقل کیے۔ اس کے علاوہ کئی طبع زاد ڈرامے بھی لکھے۔ وہ سندھی میں ایک ایکٹ (یک بابی) ڈراموں کے موجد بھی ہیں۔ ڈرامے لکھنا اور ڈرامے پیش کرنا ان کی عملی دلچسپی تھی، ان کا معروف ڈراما قسمت انگریزی ڈرامے کا ترجمہ تھا۔ جب کہ ان ناول ایکتا جو الاپ مشہور یونانی ناول نگار اسرائیل زنگول کے شہرہ آفاق ناول Melting Pot کا سندھی ترجمہ ہے۔ منگھا رام ملکانی کے ڈرانوں میں حقیقت نگاری کے ساتھ وطن پرستی کے جوہر بھی کارفرما دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے تحریر کردہ معروف ڈراموں میں بی زال (دوسری بیوی)، اکیلی دل (اکیلا دل)، بہ باھیوں (دو آگیں)، ٹی پارٹی، پریت جی پریت، لیڈیز کلب، کمزور انسان، سمندر جی گجگار (سمندر کی گرج)، کوڑو کلنک (جھوٹا کلنک)، دل ائین دماغ (دل اور دماغ)، کنھ جی خطا؟ (کس کی خطا؟)، نا خلف، ‘قسمت، انارکلی وغیرہ شامل ہیں۔ منگھارا نے طویل اورباقاعدہ ڈرامے بھی لکھے اور ناول بھی تحریر کیے ہیں۔ لیکن رفتہ رفتہ تحقیق و تنقید کی جانب راغب ہوتے چلے گئے۔ 1941ء میں ان کا تحقیقی مضمون سندھی بولی جو تعمیر و ترقی پہلے سندھو نامی جریدے میں شائع ہوا اور بعد میں بمبئی سے چھپنے والی کتاب ادبی اصول میں شامل کیا گیا۔منگھارام کوخیال پیدا ہوا کہ سندھی نثر نگاروں کے بابت کوئی ایسی مستند کتاب موجود نہ تھی جو سندھی ادب کے طالب علموں کی رہنمائی کرتی۔ اس اس کمی کو پورا کرنے کے لیے پروفیسر منگھارام نے سندھی نثر کی تاریخ پر کام کرنا شروع کیا۔ بالآخر سندھی نثر کی ایک ایسی جامع، مبسوط اور مستند تاریخی جائزہ سندھی نثر جی تاریخ کے نام سے کتابی صورت میں سامنے آیا جس نے سندھی نثر کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ کو روشن کر کے رکھ دیا۔ سندھی نثر جی تاریخ ایک ایسی معرکۃ الآرا کتاب ہے جو منگھارام ملکانی کو سندھی ادب کی تاریخ میں زندہ جاوید کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر منگھارام نے سندھی افسانے، ناول، ڈرامے اور مضمون نویسی کے علاحدہ شعبوں میں شروع سے لے کر تقسیم ہند تک ہونے والی ترقی کو قلم بند کیا ہے اور ہر صنف کی ترقی کے ساتھ ان کی جداگانہ خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منگھا رام ملکانی یکم دسمبر 1980ء کو بمبئی، بھارت میں وفات پا گئے۔

  • یوم پیدائش، ریاض الرحمان ساغر

    یوم پیدائش، ریاض الرحمان ساغر

    پیدائش:01 دسمبر 1941ء
    بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ، صوبہ پنجاب
    وفات:1 جون 2013ء
    لاہور، پاکستان
    قلمی نام:ساغر
    زبان:پنجابی
    نسل:پنجابی
    تعلیم:بی اے
    نمایاں کام:مینوں یاداں تیریاں آئوندیاں نیں (نغمہ)
    دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا (نغمہ)
    ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو (نغمہ)
    ہوسکے تو میرا ایک کام کرو (نغمہ)
    کبھی تو نظر ملاؤ (نغمہ)

    ریاض الرحمان ساغر (انگریزی: Riaz ur Rehman Saghar)، (پیدائش: یکم دسمبر، 1941ء – وفات: یکم جون، 2013ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور پنجابی زبان کے شاعر، فلمی نغمہ نگار اور کہانی نویس تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان ساغر یکم دسمبر، 1941ء کو مولوی محمد عظیم اور صدیقاں بی بی کے ہاں بھٹنڈہ، ریاست پٹیالہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت ان کے خاندان نے پاکستان کی طرف ہجرت کی، راستے میں قافلے پر شرپسندوں کے حملے کے دوران ان کے والد جاں بحق ہو گئے۔ مزید برآں ان کا دو سال کا چھوٹا بھائی بھی دورانِ سفر بھوک اور پیاس کی وجہ سے انتقال کر گیا۔ ریاض الرحمان اور ان کی والدہ لٹے پٹے قافلے کے ہمراہ والٹن کیمپ میں پہنچے، یہاں سے ملتان چلے گئے۔ ریاض الرحمان کی والدہ نے محنت مشقت کر کے اپنے بیٹے کو تعلیم دلوائی۔ انہوں نے ملت ہائی اسکول ملتان سے میٹرک اور ایمرسن کالج سے بی اے (فاضل پنجابی) کیا۔ ریاض الرحمان نے نویں کلاس میں ایک انگلش نظم کا بہترین اردو ترجمہ کیا تو ان کے ٹیچر ساغر علی نے ان کی شاعرانہ صلاحیتوں کی بہت تعریف کی اور پوری کلاس کے سامنے بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ ریاض الرحمان کو داد پانے کا یہ آسان طریقہ بہت اچھا لگا۔ چنانچہ انہوں نے استاد کے نام ہی کو اپنا تخلص رکھ کر شاعری شروع کر دی۔ ساتھ ہی ساتھ استاد شعرأ کے کلام کا مطالعہ بھی شروع کر دیا۔ یوں کالج پہنچنے تک ساغر کو قدیم و جدید شعرأ کے سینکڑوں اشعار زبانی یاد ہو چکے تھے۔ ایمرسن کالج ملتان میں سیکنڈ ائیر میں طالب علموں کو جوش ملیح آبادی اور فیض احمد فیض کی انقلابی شاعری سنانے پر کالج سے نکال دیا گیا جن میں ریاض الرحمان بھی شامل تھے۔ 1956ء میں لاہور آ گئے اور یہاں فیض صاحب سے ملاقات ہوئی، انہیں اپنا احوال زندگی گوش گزار کیا، انہوں نے شفقت فرماتے ہوئے نوکری پر رکھ لیا، لیکن کچھ عرصہ بعد روزنامہ نوائے وقت میں روزگار کا سلسلہ شروع ہو گیا جو آخری دم تک جاری رہا۔
    فلمی دنیا سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان کے ایک دوست سلطان عارف نے انہیں فلمی دنیا میں متعارف کرایا۔ ریاض الرحمان ساغر نے سب سے پہلے ماسٹر عنایت حسین کی فلم عالیہ کے لیے نغمات لکھے۔ یہ فلم تو کامیاب نہ ہو سکی لیکن ریاض الرحمان بھرپور طریقے سے فلم انڈسٹری میں داخل ہو گئے۔ معروف شاعر اور نغمہ نگار قتیل شفائی کے ساتھ ان کی دوستی ہو گئی جنہوں نے ریاض الرحمان کا بھرپور ساتھ دیا۔ فلم ”شریک حیات“ کے لیے لکھا ہوا نغمہ ”میرے دل کے صنم خانے میں اک تصویر ایسی ہے“ ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کا زینہ ثابت ہوا۔ اس کے بعد فلم ”سماج“ کے نغمے ”چلو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں دنیا کے رسم و رواج توڑ دیں“ نے ریاض الرحمان کے لیے کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے۔ ریاض الرحمٰن ساغر نے فلم، ریڈیو پاکستان، ٹی وی کے لیے تین ہزار کے قریب نغمے تخلیق کیے جنہیں مہدی حسن، نورجہاں، عدنان سمیع، احمد رشدی، مالا، مسعود رانا، استاد نصرت فتح علی خان، حامد علی خاں، اے نیئر، وارث بیگ، انور رفیع، رونالیلیٰ، حمیرا ارشد، حمیرا چنا، ناہید اختر، تصور خانم، ثریا خانم، نصیبو لال سمیت دیگر نمایاں گلوکاروں نے گایا۔ ان کے تخلیق کردہ مقبول نغموں میں ”ذرا ڈھولکی بجاؤ گوریو“ ”بھیگا ہوا موسم پیارا“ ”تیری اونچی شان ہے مولا“ ”کبھی تو نظر ملاؤ“ ”ھیگی بھیگی راتوں میں“ ”تیرے سنگ رہنے کی کھائی ہے قسم“ ”لو کہیں دور یہ سماج چھوڑ دیں“ ”کچھ دیر تو رک جاؤ برسات کے بہانے“ ”دلی لگی میں ایسی دل کو لگی کہ دل کھو گیا“ ”دیکھا جو چہرہ تیرا موسم بھی پیارا لگا“ ”کل شب دیکھا میں نے چاند جھروکے میں“ ”ہو سکے تو میرا ایک کام کرو“ ”جانے کب ہوں گے کم اس دنیا کے غم“ ”ساون کی بھیگی راتوں میں“ ”مینوں یاداں تیریاں آؤندیاں نیں“ ”کسی روز ملو ہمیں شام ڈھلے“ شامل ہیں۔
    کہانی و مکالمہ نویسی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بطور کہانی کار و مکالمہ نویس ریاض الرحمان ساغر نے 100کے قریب فلمیں لکھیں جن میں شمع، نوکر، سسرال، عورت ایک پہیلی، سرگم، نذرانہ، بھروسا، نکاح، محبتاں سچیاں جیسی کامیاب فلمیں شامل ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ کیا دن تھے (سوانح عمری)
    کیمرا، فلم اور دنیا ( سات ملکوں کا سفر نامہ)
    لاہور تا بمبئی براستہ دہلی ( بھارت کا سفر نامہ)
    سرکاری مہمان خانہ ( جیل یاترا کااحوال)
    میں نے جو گیت لکھے (گیت)
    چلو چین چلیں (منظوم سفر نامہ)
    چاند جھروکے میں (شاعری)
    پیارے سارے گیت ہمارے (شاعری)
    سر ستارے (شاعری)
    آنگن آنگن تارے (بچوں کے گیت)
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان ساغر کو نیشنل فلم ایوارڈ، پی ٹی وی ایوارڈ، کلچرل گریجویٹ ایوارڈ، نگار ایوارڈ، بولان ایوارڈ سمیت مختلف سماجی اور ثقافتی اداروں کی طرف سے ڈیڑھ سو سے زائد انعامات ملے۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ریاض الرحمان ساغر یکم جون، 2013ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ کریم بلاک علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • یوم وفات عبدالحلیم شرر

    یوم وفات عبدالحلیم شرر

    لکھنؤ
    وفات:1 دسمبر 1926ء
    لکھنؤ

    عبدالحلیم شرر (04ستمبر 1860ء تا 01 دسمبر 1926ء) برصغیر کے ایک انتہائی معروف اردو ادیب اور صحافی تھے۔ ناول نگاری میں انھوں نے خصوصی شہرت حاصل کی۔ بہت سے اخبارات اور رسائل سے وابستہ رہے جن میں سے بیشتر انھوں نے خود جاری کیے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جمعہ، 2 جمادی الثانی 1276ھ (بمطابق 04 ستمبر 1860ء) میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم تفضل حیسن، واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق رکھتے تھے۔ اپنے باقی خاندان کی طرح شرر بھی 9 سال کی عمر میں اپنی والدہ کے ساتھ کلکتہ چلے گئے اور والدین کے ساتھ مٹیا برج رہنے لگے۔
    کلکتہ میں رہائش کے دوران اپنے والد کے علاوہ سید حیدر علی، مولوی محمد حیدر، مرزا محمد علی صاحب مجتہد اور حکیم محمد مسیح سے عربی، فارسی، منطق اور طب کی تعلیم حاصل کی۔ اسی زمانے میں انگریزی بھی پڑھی لیکن اس کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی۔
    1875ء میں اپنے نانا مولوی قمر الدین کی سبکدوشی کے بعد ان کی جگہ نواب واجد علی شاہ کے ہاں ملازم ہوئے۔ دو سال کے بعد یہ ملازمت چھوڑ کر 1877ء میں کلکتہ سے لکھنؤ چلے آئے اور یہاں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ یہیں رہائش کے دوران مولوی عبد الحئی کے پاس عربی کی تعلیم مکمل کی۔ 1879ء میں ماموں کی بیٹی سے شادی کے ایک سال بعد دہلی چلے گئے جہاں شمس العلماء میاں نذیر حسین محدث دہلوی سے حدیث کی تعلیم میں سند لی۔ یہیں قیام کے دوران نجی طور پر انگریزی میں بھی خاصی مہارت حاصل کر لی۔

    صحافتی زندگی کا آغاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کلکتہ میں قیام کے دوران شرر نے لکھنؤ کے ایک اخبار اودھ اخبار کے نامہ نگار کی حیثیت سے کام کیا۔ دہلی سے لکھنؤ واپس آئے تو منشی احمد علی کسمنڈوی نے اخبارات میں مضامین لکھنے کی طرف توجہ دلائی۔ ان مضامین کی مقبولیت کے نتیجے میں 1880ء میں لکھنؤ واپس آنے پر منشی نولکشور نے شرر کو اودھ پنج کے ادارتی عملے میں شامل کر لیا۔ ان کے مضامین کو خوب شہرت ملی۔ اس اخبار میں 1884ء تک کام کیا۔
    اودھ اخبار کی ملازمت کے دوران شرر نے اپنے ایک دوست مولوی عبد الباسط کے نام سے محشر نامی ہفت روزہ رسالہ جاری کیا۔ یہ رسالہ شرر کے مضامین کی وجہ سے بے انتہا مقبول ہوا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس رسالے کی شہرت کی وجہ سے ان کو حیدرآباد میں اودھ اخبار کا نمائندۂ خصوصی بنا کر بھیج دیا گیا۔ حیدرآباد میں چھ ماہ قیام کیا۔ جب انہیں اخبار کی طرف سے لکھنؤ واپس آنے اجازت نہ ملی تو اودھ پنج سے استعفی دے دیا اور واپس لکھنؤ آ گئے۔
    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شرر نے اپنے اولین ناول دلچسپ کا پہلا حصہ 1885ء میں اور دوسرا حصہ 1886ء میں شائع کیا۔ اور یوں ان کی باقاعدہ ادبی زندگی کا آغاز ہو گیا۔ انہوں نے 1886ء ہی میں بنکم چندر چٹر جی کے ناول درگرش نندنی کا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کیا۔
    1887ء میں اپنا مشہور رسالہ دلگداز جاری کیا جو 1926ء تک چھپتا رہا۔ دلگداز میں مولانا نے بیش بہا مضامین لکھے جو بعد میں کئی جلدوں میں (مضامین شرر) کے نام سے شائع کیا۔ ان رسائل میں انہوں نے آزاد نظم اور معراء نظم کے تجربات کیے اور یوں اردو شاعری میں نظم کے حوالے سے اہم سنگ میل کی صورت اختیار کی۔
    ملک عبد العزیز ورجنا ان کا پہلا تاریخی ناول تھا جو 1888ء میں قسط وارشائع ہوا۔ اس کے بعد 1889ء میں حسن انجلینا اور 1890ء میں منصور موہنا نامی ناول شائع ہوئے۔ 1890ء ہی میں شرر نے اسلامی شخصیات کے بارے میں مہذب نامی رسالہ جاری کیا جو مالی مشکلات کی وجہ سے ایک سال کے اندر ہی بند ہو گیا۔ بعد ازاں، 1891ء میں، قیس و لبنٰی نامی ناول چھپا۔
    دورۂ انگلستان
    1891ء میں ہی شرر کو نواب وقار الملک کے پاس حیدرآباد میں ملازمت مل گئی۔ 1892ء میں نواب نے انہیں اپنے بیٹے کا اتالیق بنا کر انگلستان بھیج دیا جہاں وہ 1896ء تک مقیم رہے۔ روانگی سے قبل شرر نے تین ناول، دلکش، زید و حلاوہ اور یوسف و نجمہ لکھنے شروع کیے جنہیں ان کی غیر موجودگی میں کسی اور نے مکمل کیا۔ مذکور ناولوں میں سے آخری دو کو بعد میں شرر نے خود بھی مکمل کیا لیکن زید و حلاوہ کا نام تبدیل کر کے فلورا فلورنڈا رکھ دیا۔

    فردوس بریں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    1896ء میں انگلستان سے واپس آ کر دوبارہ حیدرآباد میں مقیم ہو گئے اور اس مرتبہ یہیں سے دل گداز کو جاری کیا۔ 1899ء تک حیدرآباد میں قیام رہا اور اسی دوران اپنے ناول ایام عرب کا پہلا حصہ شائع کیا۔ انہی برسوں میں شرر نے کچھ تاریخی تحقیق کا کام کیا اور اس کو سکینہ بنت حسین میں شائع کیا۔ اس کی اشاعت کے بعد حیدرآباد کے ایک حلقے میں شرر کی شدید مخالفت شروع ہو گئی جس کے نتیجے میں 1899ء میں انہیں حیدرآباد چھوڑنا پڑا۔
    لکھنؤ واپس آ کر دل گداز کو یہاں سے دوبارہ جاری کیا۔ 1900ء میں پردہ عصمت کے نام سے ایک پندرہ روزہ رسالہ نکالا۔ لکھنؤ میں یہ قیام 1901ء تک رہا اور یہی وہ دور تھا جس میں شرر نے اپنا شہرۂ آفاق ناول فردوس بریں تحریر کیا۔ یہ ناول 1899ء میں شائع ہوا۔
    اس دور کی دیگر تصانیف یہ ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حسن بن صباح (تاریخی رسالہ)
    ایام عرب، (حصہ دوم) (1900ء)
    مقدس نازنین (1900ء)
    ڈاکو کی دلہن (ایک انگریزی ناول کا ترجمہ) (1900ء)
    بدر النساء کی مصیبت (1901ء)
    گو 1899ء میں شرر واپس لکھنؤ آ گئے تھے لیکن ان کی حیدرآباد والی ملازمت بدستور جاری رہی اور نواب وقار الملک اور مولوی عزیز مرزا کی وجہ سے انہیں تنخواہ مسلسل لکھنؤ پہنچتی رہی۔
    1901ء میں انہیں واپس حیدرآباد بلا لیا گیا جس کی وجہ سے انہیں دل گداز اور پردہ عصمت بند کرنے پڑے۔ لیکن ان کے حیدر آبد پہنچتے ہی نواب وقار الملک ملازمت سے علاحدہ ہو گئے اور پھر ان کا انتقال ہو گئے جبکہ مولوی عزیز مرزا کا تبادلہ اضلاع میں ہو گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ 1903ء میں ملازمت سے برطرف ہو گئے اور واپس لکھنؤ آ گئے۔
    1904ء میں دل گداز کو ایک مرتبہ پھر جاری کیا۔ 1907ء تک اپنے قیام میں شرر نے جو کتابیں تحریر کیں ان کی فہرست ذیل میں ہے:
    شوقین ملکہ
    یوسف و نجمہ
    سوانح حیات حضرت جنید بغدادی
    تاریخ سندھ
    سوانح حیات حضرت ابوبکر شبلی
    1907ء میں شرر کو حیدرآباد میں محکمۂ تعلیم کا اسسٹنٹ ڈائریکٹر متعین کر دیا گیا۔ 1908ء میں وہیں سے دل گداز کو پھر جاری کیا۔ لیکن نظام حیدر آباد کی کسی بات پر ناراضی کی وجہ سے حیدرآباد کو پھر چھوڑنا پڑا۔ یہاں قیام کے دوران جو کتب تحریر کیں وہ یہ ہیں:
    آغا صادق کی شادی (معاشرتی ناول)
    ماہ ملک (تاریخی ناول)
    آخری دور[ترمیم]
    لکھنؤ واپس آ کر 1910ء میں دل گداز کو پھر یہاں سے جاری کیا اور اس کی اشاعت تمام عمر جاری رکھی۔ 1910ء سے 1926ء ان کی ادبی زندگی کا اہم ترین دور سمجھا جاتا ہے۔ اس دوران انہوں نے تصنیف و تالیف کا کام مسلسل جاری رکھا اور بہت سی کتب شائع کیں جن کی فہرست بلحاظ سال یہ ہے:
    1910ء: فلپانا (تاریخی ناول)
    1911ء: غیب دان دلہن (ناول)
    1912ء: زوال بغداد (تاریخی ناول)۔ تاریخ عصر قدیم (مکمل)
    1913ء: رومۃ الکبری (تاریخی ناول)۔ حسن کا ڈاکو (پہلا حصہ)
    1914ء: حسن کا ڈاکو (دوسرا حصہ)۔ اسرار دربار رام پور (دو حصے)
    1915ء: خوفناک محبت (ناول)۔ الفانسو (ناول)
    1916ء: فاتح و مفتوح (ناول)
    1917ء: بابک خرمی (ناول – حصہ اول)۔ جویائے حق (ناول – پہلا حصہ)۔ سوانح قرۃ العین۔ تاریخ عزیز مصر۔ تاریخ مسیح و مسیحیت
    1918ء: بابک خرمی (ناول – حصہ دوم)۔ تاریخ عرب قبل اسلام
    1919ء: جویائے حق (ناول – دوسرا حصہ)۔ لعبت چین (ناول)۔ تاریخ ارض مقدس، سوانح خاتم المرسلین، صقلیہ میں اسلامی تاریخ
    1920ء: عزیزۂ مصر (ناول)۔ اسیر بابل (ناول)
    1921ء: جویائے حق (ناول – تیسرا حصہ)
    1923ء: طاہرہ (ناول)
    1925ء: مینا بازار
    1926ء: شہید وفا، میوۂ تلخ اور نیکی کا پھل (ڈرامے)
    ادبی اعداد و شمار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    شرر کی چند تصانیف ایسی بھی ہیں جن کی تاریخ اشاعت کے بارے میں یقین سے نہییں کہا جا سکتا۔ اور اسی طرح ان کی تصانیف کی کل تعداد کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ شرر کی تصانیف کی اصل تعداد کے بارے میں مختلف محققین میں اختلاف پایا جا تا ہے۔ مرزا محمد عسکری نے ان کی تصانیف کے جو اعداد و شمار تحریر کیے ہیں وہ یہ ہیں:
    اخبارات و رسائل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    محشر (ہفتہ وار)، دل گداز (ماہ وار)، مہذب (ہفتہ وار)، پردۂ عصمت (پندرہ روزہ)، اتحاد (پندرہ روزہ)، العرفان (ماہ وار)، دل افروز (ماہ وار)، ظریف (ہفتہ وار)، مؤرخ (ماہ وار)۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    موضوع:تعداد
    سوانح عمریاں:21
    تاریخی ناول:28
    دوسرے ناول:14
    تاریخ:15
    نظم و ڈراما:6
    متفرق:18
    کل تعداد:102
    مجموعات مضامین
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    شرر کے مضامین کے مجموعات آٹھ جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں جن کی تفصیل ذیل کے جدول میں ہے:
    عدد جلد تفصیل
    جلد اول حصہ اول: شاعرانہ اور عاشقانہ مضامین
    حصہ دوم: شاعرانہ اور عاشقانہ مضامین
    حصہ سوم: آغاز و اختتام سال کے مضامین
    (یہ دل گداز کے اداریے ہیں)
    جلد دوم حصہ اول: تاریخی و جغرافیائی مضامین
    حصہ دوم: مختلف ملکوں، شہروں اور قوموں کے حالات اور تذکرے
    حصہ سوم: ہندوستان میں مشرقی تمدن کا آخری نمونہ
    جلد سوم حصہ اول: دنیا کے مختلف مملک کی مشہور عورتوں کا تذکرہ
    حصہ دوم: دنیا کے مختلف مملک کی مشہور عورتوں کا تذکرہ
    حصہ سوم: دنیا کے مشہور مردوں کے حالات
    جلد چہارم ادبی اور تحقیقی مضامین
    جلد پنجم اصلاحی مضامین
    جلد ششم تاریخی واقعات پر خیال آرائی
    جلد ہفتم نظم و ڈراما
    جلد ہشتم مقالات شرر
    شرر کی تصانیف بے شمار ہیں۔ ان کے ناولوں اور مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے تاریخ اور خصوصاً اسلامی تاریخ کا اچھا مطالعہ کیا تھا۔ اور پھر تاریخی ناول لکھے۔ مشہور ناول ملک العزیز ورجینا، منصورموہنا، ایام عرب، فلورافلورنڈا، فتح اندلس اور فردوس بریں ہیں۔
    شرر نے 01 دسمبر 1926ء میں لکھنؤ میں وفات پائی ۔

  • اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

    اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

    دوار حشر مرا نامہ اعمال نہ دیکھ
    اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

    یوم پیدائش : 28 فروری 1902ء
    اجنالا،برطانوی ہند
    وفات:01 دسمبر 1950ء
    لاہور
    وجۂ وفات:دورۂ قلب
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت: پاکستانی

    جماعت: مسلم لیگ
    اولاد:سلمان تاثیر(سابق گورنر پنجاب)
    مادر علمی:پیمبروک
    زبان:اردو، انگریزی
    ملازمت:جامعہ پنجاب، اسلامیہ کالج لاہور

    اردو شاعر ،نقاد اور ماہر تعلیم۔ قصبہ اجنالہ ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے۔ 1904ء میں پہلے والد پھر والدہ نے وبائے طاعون میں انتقال کیا۔ میاں نظام الدین رئیس لاہور نے جو ان کے خالو تھے، پرورش کی۔ فورمین کرسچن کالج لاہور سے 1926ء میں ایم اے کی ڈگری لی۔ اسی سال اسلامیہ کالج لاہور میں انگریزی کے لیکچرار مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے بعد مستعفی ہو کر محکمہ اطلاعات سے وابستہ ہوگئے۔ 1928ء میں دوبارہ اسلامیہ کالج میں آگئے۔ 1934ء میں انگلستان چلے گئے اور کیمبرج سے پی۔ ایچ۔ ڈی کیا۔
    1936ء میں ایم۔ اے او کالج امرتسر میں پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم تک مختلف عہدوں پر کام کیا۔ 1947ء میں سری نگر گئے اور پھر پاکستان آکر آزاد کشمیر کے محکمہ نشر و اشاعت کے انچارچ ہوگئے۔ 1948ء میں اسلامیہ کالج لاہور کے پرنسپل مقرر ہوئے اور زندگی کے آخری ایام تک اسی کالج سے وابستہ رہے۔
    ڈاکٹر تاثیر کی ادبی زندگی کا آغاز لڑکپن ہی میں ہوگیا تھا۔ کالج میں ان کی صلاحیتوں نے جلا پائی اور 1924ء تک ادبی دنیا میں خاصے معروف ہوگئے۔ انھی دنوں ’’ نیرنگ خیال‘‘ لاہور کی ادارت ان کے سپرد ہوئی۔ دیگر ممتاز رسائل میں ان کے مضامین شائع ہوتے تھے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے بانیوں میں سے تھے۔ انھوں نے روایت سے بغاوت کی اور مروجہ اسلوب سے ہٹ کر آزاد نظم کو ذریعۂ اظہار بنایا ۔
    وہ پاکستانی صوبہ پنجاب کے سابقہ مقتول گورنر سلمان تاثیر کے والد تھے۔ غازی علم دین شہید کے جسد مبارک کے لیے صندوق و بانس کا اہتمام ڈاکٹر محمد دین تاثیر نے کیا تھا۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کنول (ناول)
    آتش کدہ (شعری مجموعہ)

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی دیکھ کہ ہم آرزو کے صحرا میں
    کھلے ہوئے ہیں کسی زخم آرزو کی طرح

    داور حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
    اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

    میری وفائیں یاد کرو گے
    روؤگے فریاد کرو گے

    یہ ڈر ہے قافلے والو کہیں نہ گم کر دے
    مرا ہی اپنا اٹھایا ہوا غبار مجھے

    جس طرح ہم نے راتیں کاٹی ہیں
    اس طرح ہم نے دن گزارے ہیں

    ربط ہے حسن و عشق میں باہم
    ایک دریا کے دو کنارے ہیں

    حضور یار بھی آنسو نکل ہی آتے ہیں
    کچھ اختلاف کے پہلو نکل ہی آتے ہیں

    یہ دلیل خوش دلی ہے مرے واسطے نہیں ہے
    وہ دہن کہ ہے شگفتہ وہ جبیں کہ ہے کشادہ

  • نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں

    نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں

    نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں
    ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی

    :01مارچ 1884ء
    گورکھپور، ہندستان
    وفات:30نومبر 1936ء
    الہٰ آباد، ہندستان

    اصغر گونڈوی اردو کے ان گنے چنے شاعروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے حسن و عشق کی شاعری کو محض ہجر کی نالہ ٔ و زاری،جسم کی لطافتوں اور لذتوں کے بیان یا اس سوز و گداز سے جو عشقیہ شاعری کا لازمہ سمجھا جاتا ہے ،دور رکھ کر اک نشاطیہ اور طربیہ لب و لہجہ دیا جو بالکل نیا تھا اور جو پڑھنے والے کو اداس یا غمگین کرنے کی بجائے ایک مسرت افزا کیفیت سے دوچار کرتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اس میں لکھنوی شاعری کےاوچھے پن یا تہذیب سے گری ہوئی کسی بات کا شائبہ تک نہیں۔اصغر کی شاعری اصلاً تصوف کی شاعری ہونے کے باوجود دوسرے صوفی شاعروں مثلاً درد ،سراج اورنگ آبادی یا امیر مینائی کی شاعری سے بہت مختلف ہے اور وہ اس طرح کہ ان کی شاعری اس شخص کو بھی جسے تصوف یا صوفیانہ مضامین سے کوئی دلچسپی نہ ہو، سرشار اور محظوظ کرتی ہے۔ان کا پیرایہ بیان دلکش،رنگین اور مسرت افزا ہے اور ان کی یہی خصوصیت ان کو دوسرے صوفی شعراء سے ممتا زکرتی ہے۔ اصغر نے بہت سے دوسرے شعراء کی طرح نال کٹتے ہی "مطلع عرض ہے” نہیں کہا بلکہ خاصی پختہ عمر میں شاعری شروع کی اور اس کو دوسروں تک پہنچانے یا مقبول بنانے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ان کا چلتا پھرتا اشتہار بس جگر مراد آبادی تھے جو ان سے اس قدر متاثر تھے کہ ان کی غزلیں جیب میں لئے پھرتے تھے اور ایک ایک کو سناتے تھے۔اصغر کبھی پیشہ ور یا پُرگو شاعر نہیں رہے اور تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان سے کہلوا لے۔یہی وجہ ہے کہ ان کا جو بھی کلام ہے وہ سارے کا سارا درجۂ اوّل کا،رطب و یابس سے پاک اور نفاست سے لبریز ہے۔
    اصغر کا اصل نام اصغر حسین تھا وہ یکم مارچ 1884ء میں گورکھپور میں پیدا ہوئے ان کے والد تفضل حسنس بسلسلہ ملازمت گونڈہ میں رہتے تھے جہاں وہ صدر قانون گو تھے اور عربی ،فارسی کی اچھی استعداد رکھتے تھے۔چونکہ گونڈہ میں اصغر نے مستقل رہائش اختیار کر لی تھی اسی لئے اصغر گونڈوی کہلاتے ہیں۔اصغر کی ابتدائی تعلیم دستور کے مطابق مکتب سے شروع ہوئی۔ اور ارد و عربی میں انہوں نے خاصی مہارت حاصل کر لی۔اس کے بعد انگریزی تعلیم کے لئے گورنمنٹ اسکول گونڈہ میں داخلہ لیا اور وہیں سے 1904 میں مڈل(آٹھویں جماعت) کا اماحےن پاس کیا۔ اس دوران انہوں نے عربی اور فارسی کی کی کتابیں اپنے والد سے گھر پر پڑھیں۔ 1906 میں والد کی ایماء سے انگریزی تعلیم کا سلسلہ ختم کر دیا تاکہ ملازمت حاصل کر سکیں۔اس زمانہ میں اتنی انگریزی تعلیم ملازمت کے لئے کافی سمجھی جاتی تھی۔اسی عرصہ میں اصغر کی ملاقات ریلوے ہیڈ کوارٹر کے دفتر میں ایک ہیڈ کلرک بابو راج بہادر سے کائستھ سے ہوئی۔یہ صاحب خاصے تیز طرار،رنگین مزاج اور انگریز دانی کی بدولت انگریز حکام تک رسوخ رکھتے تھے۔وہ اصغر کی ذہانت،برجستہ گفتگو اور بذلہ سنجی سے متاثر ہوئے اور حکام سے کہہ کر انہیں بیس روپے ماہوار پر ریلوے میں ٹائم کیپر رکھوا دیا۔اصغر نے اپنی ذاتی کوششوں سے اردو فارسی میں کافی مہارت حاصل کر لی تھی اور اک اینگلوا نڈین کی مدد سے انگریزی ادبیات سے بھی آشنا ہو گئے تھے۔یہ تعلیم و صحبت آگے چل کر ”ہندوستانی اکیڈمی“ کے سہ ماہی رسالہ ”ہندستانی“ کے شعبہ اردو کے مدیر کی حیثیت سے ان کے تقرر میں کام آئی۔ اصغر ٹائم کیپری کی ملازمت کے لئے بابو راج بہادر کے بہت ممنون تھے اور انہیں اپنا محسن اور شفیق سمجھ کر ان سے گھل مل گئے تھے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں شراب،افیم اور بالا خانوں کی سیر کا چسکا لگ گیا۔یہ سلسلہ پانچ سال تک چلا پھر اچانک ان کی کایا پلٹی اور تمام بری عادتوں ، راج بہادر کی رفاقت اور ٹائم کیپر کی نوکری کو لات مار کر گھر میں بیٹھ رہے۔ کوٹھوں کی مذکورہ حاضریوں کے دوران چھٹّن نامی اک طوائف اصغر پر لٹو ہوگئی۔ یہ ایک معمولی شکل و صورت کی نیک دل سادہ مزاج اور خاموش طبیعت عورت تھی جس کی طرف اصغر بھی مائل ہوئے بغیر نہیں رہ سکے تھے ۔وہ اپنے شراب نوشی کے زمانہ میں اگر نشہ میں چُور چھٹن کے گھر پہنچتے اور امام غزالی کے فلسفہ پر اس کے ساتھ بحث کرتے تھے۔ تائب ہونے کے بعد انھوں نے اس سے ملنا جلنا چھوڑ دیا تھا اور اس کے ساتھ ان کی دلچسپی بھی لمحاتی تھی لیکن وہ اصغر کے لئے سنجیدہ تھی اور آسانی سے اصغر کا پیچھا چھوڑنے والی نہیں تھی۔جب اصغر تائب ہو گئے اور اس کے گھر آنا جانا بند کر دیا تو وہ اس مسجد کے باہر جہاں اصغر نماز پڑھتے تھے ،آ کر بیٹھ جاتی تھی تا کہ ان کو دیکھ سکے۔اصغر نے اپنا پیچھا چڑ انے کے لئےیہ شرط رکھی کہ اگر وہ اپنی موجودہ زندگی سے معہ خاندان تائب ہو جائے تو وہ اس سے شادی کر سکتے ہیں ۔وہ اس پر بھی راضی ہو گئی۔اس نیک عورت نے زندگی بھر اصغر کی خدمت کی۔اس سے پہلے اصغر کی شادی گونڈہ کے ہی قاضی صاحبان کے خاندان میں ہو چکی تھی اس سے ان کی دو لڑکیاں بھی تھیں لیکن اصغر کی اپنی پہلی بیوی سے نہیں بنتی تھی اور وہ اصغر کے والد کے ساتھ رہتی تھی۔جوانی کی بے راہ روی کے بعد اصغر نے محسوس کیا کہ جسم کی آسودگی روح کی نا آسودگی کو نا قابلِ برداشت حد تک بڑھا رہی ہے تو وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مرشد کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔جا تو رہے تھے شیخ محمد عمر سے ملنے لیکن راستہ میں کچھ ایسے واقعات ہوئے کہ قاضی عبد الغنی منگلوری کے مرید ہو گئے جس کے بعد ان کی زندگی ہی بدل گئی ”اب نہ زماں نہ وہ مکاں،اب وہ زمیں نہ آسمان*تم نے جہاں بدل دیا آ کے مری نگاہ میں”۔اب ان کی شخصیت نے نیا جامہ پہنا اور آخری عمر تک وہ ہر حیثیت سے اور ہر معاملہ میں صاحب ذوق اور صاحبِ حال رہے۔وہ بہر حال روایتی صوفی یا زاہد خشک نہیں بلکہ ہنس مکھ اور بذلہ سنج تھے۔
    اصغر کے حالات زندگی جگر مراد آبادی کے تذکرہ کے بغیر ادھورے رہیں گے۔جگر سے اصغر کی ملاقات گونڈہ کے مشاعروں میں ہوئی اور رفتہ رفتہ تعلقات اتنے بڑھے کہ جگر ان کے گھر کے ایک فرد بن گئے۔جن دنوں جگر شدید ذہنی اور جذباتی پریشانیوں میں مبتلا تھے، اصغر نے ان کی شادی اپنی سالی (چھٹن کی چھوٹی بہن) سے کرا دی۔وہ جگر کی رندی اور سرمستی کے باوجود جگر کی قدر کرتی تھی۔جگر ان دنوں ایک چشمہ ساز کمپنی کے گشتی نمائندہ تھے۔ انہوں نے اصغر کے ساتھ مل کر گونڈہ میں چشموں کا اپنا کار و بار شروع کیا۔ لیکن جگر لا اوبالی آدمی تھے۔بیوی کو چھوڑ کر مہینوں کے لئے غائب ہو جاتے تھے۔ چھٹن کا اصرار تھا کہ اصغر نسیم سے شادی کر لیں۔اس کے لئے ضروری تھا کہ جگر نسیم کو اور اصغر چھٹن کو طلاق دیں چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اصغر نے نسیم سے شادی کر لی۔ چھٹن بدستور ان کے گھر میں رہی اور ان کی خدمت کرتی رہی۔وہ اصغر سے عمر میں بڑی بھی تھی۔ (اصغرکی موت کے بعد جگر نے دوبارہ نسیم سے شادی کی)۔ اصغر کے مزاج میں نفاست بہت تھی وہ عمدہ چیزوں کے شوقین تھے،نازک مزاجی یا تکبر ان کو چھو بھی نہیں گئے تھے ۔ہر شخص کے ساتھ خندہ پیشانی سے ملتے تھے۔مذہبی ہونے کے باوجود کٹّر پن بالکل نہیں تھا، ان کے ملنے والوں میں اہل علم،اوباش،قلندر،طالب علم کاروباری،مہذب اور غیر مہذب،رند ،غرض ہر قسم کے لوگ شامل تھے لیکن سبھی ان کی محفل میں آ کر مہذب ہو جاتے تھے۔ان سے ملنے والے ان کی شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے تھے۔مزاج میں ایک طرح کا ٹھیراو تھا جو ان کے کلام میں بھی ہے۔
    اصغر کی صحافتی زندگی 1912ء میں شروع ہوئی جب انہوں نے فیض آباد سے شائع ہونے والے ہفت روزہ اخبار "قیصر ہند” میں کام شروع کیا بعد میں یہ اخبار پیام ہند کے نام سے شائع ہونے لگا۔اصغر کا ابتدائی کلام ان ہی اخبارات میں شائع ہوا۔1926ء میں لاہور میں ”اردو مرکز“ قائم ہوا جس کے لئے اصغر کو علامہ تاجور کی ایماء پر گونڈہ سے بلایا گیا۔اصغر نے ڈیڑھ دو سال وہاں کام کیا پھر ادارہ کا مستقبل تاریک دیکھ کر گونڈہ واپس آ گئے۔ ہندوستانی اکیڈمی الہ آباد سے اصغر کا تعلق سر تیج بہادر سپرو کے توسط سے ہوا جو اصغر کے مدّاح تھے۔ اصغر 1930 سے 1936 یعنی اپنی موت تک اکیڈمی سے وابستہ رہے۔اصغر نے شاعری کو کبھی پیشہ نہیں بنایا بلکہ وہ دوسروں کو شاعری سے طرح طرح سے روکتے تھے۔ان کا خیال تھا مشاعروں میں وہی شعر اٹھتا ہے جو سب کی سمجھ میں آ جائے اور ایسا شعر عموماًسطحی ہوتا ہے۔وہ اپنی غزلیں بھی خود پڑھنے کے بجائے دوسروں سے پڑھواتے تھے۔اصغر بلڈ پریشر کے مریض تھے ان پر 1934 میں فالج کا حملہ ہوا جس سے وہ جلد صحتیاب ہو گئے لین 1936 میں اسی مرض کے مزید حملے جان لیوا ثابت ہوئے۔
    اصغر کی غزل میں حسرت کی سادگی پسندانہ شیرینی،فانی کی بالغ نظری،لطافت اور موسیقیت اور تصوف کی چاشنی گھلی ملی نظر آتی ہے۔ان کا کلام پڑھنے والا فیصلہ نہیں کر پاتا کہ اس میں خیال یا مضمون کی خوبی زیادہ ہے یا لطافت اور حسن بیان کی۔ان کے یہاں شاعری کا حاصل یہی ہے کہ پڑھنے والوں کے دل و دماغ کو عرفانی نغموں سے بھر دیا جائے۔اور اس کی روح کو سرشار کیا جائے۔ان کی شاعری میں ہوس کا کوئی شائبہ نہیں،ہر جگہ حسن تخیل،حسن نظر اورحسنِ ادا کی جلوہ نمائی ہے۔جوش اور سرمستی اصغر کے تغزل کی جان ہے۔عشقیہ اشعار میں وہ تہذیب کا دامن نہیں چھوڑتے اور معمولی خیال کو بھی دلکش بنانے کا ہنر جانتے ہیں۔ان کی شاعری کا لب و لہجہ نشاطیہ اور طربیہ اور رقص معنی کی جیتی جاگتی تصویر ہے۔ان کے کلام میں شدّت جذبات کے باوجود اک طرح کا ٹھہراؤ اور ضبط ہے۔ان کا تصوف مولویت کی بے روح فقہ پرستی کے خلاف ایک شدید ردّعمل ہے ان کی نگاہ میں قوّت، ضبط کا نام ہے نہ کہ انتشار کا۔اردو غزل میں اصغر نشاطیہ شاعری کی بہترین مثال ہیں۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موج حوادث سے
    اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

    عکس کس چیز کا آئینۂ حیرت میں نہیں
    تیری صورت میں ہے کیا جو میری صورت میں نہیں

    یوں مسکرائے جان سی کلیوں میں پڑ گئی
    یوں لب کشا ہوئے کہ گلستاں بنا دیا

    زاہد نے مرا حاصل ایماں نہیں دیکھا
    رخ پر تری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا

    ایک ایسی بھی تجلی آج مے خانے میں ہے
    لطف پینے میں نہیں ہے بلکہ کھو جانے میں ہے

    پہلی نظر بھی آپ کی اف کس بلا کی تھی
    ہم آج تک وہ چوٹ ہیں دل پر لیے ہوئے

    اک ادا اک حجاب اک شوخی
    نیچی نظروں میں کیا نہیں ہوتا

    ہوتا ہے راز عشق و محبت انہیں سے فاش
    آنکھیں زباں نہیں ہیں مگر بے زباں نہیں

    بنا لیتا ہے موج خون دل سے اک چمن اپنا
    وہ پابند قفس جو فطرتا آزاد ہوتا ہے

    عالم سے بے خبر بھی ہوں عالم میں بھی ہوں میں
    ساقی نے اس مقام کو آساں بنا دیا

    سنتا ہوں بڑے غور سے افسانۂ ہستی
    کچھ خواب ہے کچھ اصل ہے کچھ طرز ادا ہے

    مجھ سے جو چاہئے وہ درس بصیرت لیجے
    میں خود آواز ہوں میری کوئی آواز نہیں

    اللہ رے چشم یار کی معجز بیانیاں
    ہر اک کو ہے گماں کہ مخاطب ہمیں رہے

    زلف تھی جو بکھر گئی رخ تھا کہ جو نکھر گیا
    ہائے وہ شام اب کہاں ہائے وہ اب سحر کہاں

    نہیں دیر و حرم سے کام ہم الفت کے بندے ہیں
    وہی کعبہ ہے اپنا آرزو دل کی جہاں نکلے

    اصغرؔ غزل میں چاہئے وہ موج زندگی
    جو حسن ہے بتوں میں جو مستی شراب میں

    رند جو ظرف اٹھا لیں وہی ساغر بن جائے
    جس جگہ بیٹھ کے پی لیں وہی مے خانہ بنے

    سو بار ترا دامن ہاتھوں میں مرے آیا
    جب آنکھ کھلی دیکھا اپنا ہی گریباں تھا

    نیاز عشق کو سمجھا ہے کیا اے واعظ ناداں
    ہزاروں بن گئے کعبے جبیں میں نے جہاں رکھ دی

    حل کر لیا مجاز حقیقت کے راز کو
    پائی ہے میں نے خواب کی تعبیر خواب میں

    داستاں ان کی اداؤں کی ہے رنگیں لیکن
    اس میں کچھ خون تمنا بھی ہے شامل اپنا

    میں کیا کہوں کہاں ہے محبت کہاں نہیں
    رگ رگ میں دوڑی پھرتی ہے نشتر لیے ہوئے

    یہ بھی فریب سے ہیں کچھ درد عاشقی کے
    ہم مر کے کیا کریں گے کیا کر لیا ہے جی کے

    لوگ مرتے بھی ہیں جیتے بھی ہیں بیتاب بھی ہیں
    کون سا سحر تری چشم عنایت میں نہیں

    جینا بھی آ گیا مجھے مرنا بھی آ گیا
    پہچاننے لگا ہوں تمہاری نظر کو میں

    یہ آستان یار ہے صحن حرم نہیں
    جب رکھ دیا ہے سر تو اٹھانا نہ چاہیئے

    چھٹ جائے اگر دامن کونین تو کیا غم
    لیکن نہ چھٹے ہاتھ سے دامان محمد

    ہم اس نگاہ ناز کو سمجھے تھے نیشتر
    تم نے تو مسکرا کے رگ جاں بنا دیا

    آلام روزگار کو آساں بنا دیا
    جو غم ہوا اسے غم جاناں بنا دیا

    بستر خاک پہ بیٹھا ہوں نہ مستی ہے نہ ہوش
    ذرے سب ساکت و صامت ہیں ستارہ خاموش

    اصغرؔ حریم عشق میں ہستی ہی جرم ہے
    رکھنا کبھی نہ پاؤں یہاں سر لئے ہوئے

    عارض نازک پہ ان کے رنگ سا کچھ آ گیا
    ان گلوں کو چھیڑ کر ہم نے گلستاں کر دیا

    اصغرؔ سے ملے لیکن اصغرؔ کو نہیں دیکھا
    اشعار میں سنتے ہیں کچھ کچھ وہ نمایاں ہے

    میں کامیاب دید بھی محروم دید بھی
    جلووں کے اژدحام نے حیراں بنا دیا

    وہ نغمہ بلبل رنگیں نوا اک بار ہو جائے
    کلی کی آنکھ کھل جائے چمن بیدار ہو جائے

    روداد چمن سنتا ہوں اس طرح قفس میں
    جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا

    مجھ کو خبر رہی نہ رخ بے نقاب کی
    ہے خود نمود حسن میں شان حجاب کی

    لذت سجدۂ ہائے شوق نہ پوچھ
    ہائے وہ اتصال ناز و نیاز

    اے شیخ وہ بسیط حقیقت ہے کفر کی
    کچھ قید رسم نے جسے ایماں بنا دیا

    بے محابا ہو اگر حسن تو وہ بات کہاں
    چھپ کے جس شان سے ہوتا ہے نمایاں کوئی

    اس جلوہ گاہ حسن میں چھایا ہے ہر طرف
    ایسا حجاب چشم تماشا کہیں جسے

    کیا مستیاں چمن میں ہیں جوش بہار سے
    ہر شاخ گل ہے ہاتھ میں ساغر لیے ہوئے

    وہ شورشیں نظام جہاں جن کے دم سے ہے
    جب مختصر کیا انہیں انساں بنا دیا

    وہیں سے عشق نے بھی شورشیں اڑائی ہیں
    جہاں سے تو نے لیے خندہ ہائے زیر لبی

    کیا کیا ہیں درد عشق کی فتنہ طرازیاں
    ہم التفات خاص سے بھی بد گماں رہے

    مائل شعر و غزل پھر ہے طبیعت اصغرؔ
    ابھی کچھ اور مقدر میں ہے رسوا ہونا

    عشق کی بیتابیوں پر حسن کو رحم آ گیا
    جب نگاہ شوق تڑپی پردۂ محمل نہ تھا

    قہر ہے تھوڑی سی بھی غفلت طریق عشق میں
    آنکھ جھپکی قیس کی اور سامنے محمل نہ تھا

    عشوؤں کی ہے نہ اس نگہ فتنہ زا کی ہے
    ساری خطا مرے دل شورش ادا کی ہے

    مری وحشت پہ بحث آرائیاں اچھی نہیں زاہد
    بہت سے باندھ رکھے ہیں گریباں میں نے دامن میں

    کچھ ملتے ہیں اب پختگی عشق کے آثار
    نالوں میں رسائی ہے نہ آہوں میں اثر ہے

    ہر اک جگہ تری برق نگاہ دوڑ گئی
    غرض یہ ہے کہ کسی چیز کو قرار نہ ہو

    یہاں کوتاہی ذوق عمل ہے خود گرفتاری
    جہاں بازو سمٹتے ہیں وہیں صیاد ہوتا ہے

  • یوم ولادت،ممتاز مرزا

    یوم ولادت،ممتاز مرزا

    اصل نام:مرزا توسل حسین
    قلمی نام:ممتاز مرزا
    پیدائش:29 نومبر 1939ء
    حیدرآباد، سندھ،

    وفات:06 جنوری 1997ء
    کراچی، پاکستان
    آخری آرام گاہ:ٹنڈو آغا، حیدرآباد
    پاکستان
    پیشہ:ماہر سندھی ثقافت، ادیب
    محقق، ماہر لطیفیات
    زبان:سندھی، اردو
    نسل:سندھی
    شہریت:پاکستانی
    تعلیم:ایم اے (سندھی)
    مادر علمی:سندھ یونیورسٹی
    اصناف:سندھی ثقافت، موسیقی
    ادب، تحقیق، لطیفیات
    نمایاں کام:گنج (کلام شاہ عبداللطیف بھٹائی)
    وساریان نہ وسرن
    سپریاں سندے گالھڑی
    سدا سوئیتا کاپڑی
    اہم اعزازات:صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی

    ممتاز مرزا سندھی زبان کے ممتاز ادیب، ماہر سندھی ثقافت، ماہر سندھی لوک موسیقی، ادیب، محقق اور ماہر لطیفیات تھے۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے مرتب کر کے شائع کرنا تھا۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ممتاز مرزا 29 نومبر 1939ء کو حیدرآباد، سندھ، برطانوی ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام مرزا توسل حسین تھا۔ ان کا تعلق مرزا قلیچ بیگ، مرزا اجمل بیگ اور مرزا بڈھل بیگ کے ذی علم گھرانے سے تھا۔ ان کے والد مرزا گل حسن احسن کربلائی بھی سندھ کے معروف شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ممتاز مرزا نے اپنی علمی زندگی کا آغاز سندھی ادبی بورڈ سے کیا جہاں انہیں سندھی۔ اردو ڈکشنری اور اردو۔ سندھی ڈکشنری اور سندھی لوک ادب کی تدوین کا سونپا گیا۔ بعد ازاں وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وژن سے وابستہ رہے۔ عمر کے آخری حصے میں وہ سندھ کے محکمہ ثقافت کے ڈائریکٹر جنرل مقرر ہوئے جہاں انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کے مجموعہ کلام رسالہ کا قدیم ترین نسخہ گنج کے نام سے مرتب کیا اور اپنی نگرانی میں شائع کرایا جو اعلیٰ طباعت کا حسین شاہکار ہے۔ ممتاز مرزا سندھی زبان کے اعلیٰ پائے کے نثر نگار تھے۔ ان کی تصانیف میں سپریان سندے گالھڑی، سدا سوئیتا کاپڑی اور وساریان نہ وسرن شامل ہیں۔
    ممتاز مرزا نے سندھ کے ممتاز لوک گلوکار الن فقیر اور تھر کی کوئل مائی بھاگی سمیت متعدد فنکاروں کو ریڈیو اور ٹیلی وژن میں روشناس کرایا۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گنج (کلام حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائی)
    ۔ (2)سپریاں سندے گالھڑی (یاداشتیں)
    ۔ (3)سدا سوئیتا کاپڑی (خاکے)
    ۔ (4)وساریان نہ وسرن (خاکے / یاداشتیں)
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حکومت پاکستان نے ممتاز مرزا کی سندھ کی ثقافت، موسیقی و ادب کے فروغ کے اعتراف کے طور پر 14 اگست 1997ء کوان کی وفات کے بعد انہیں صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ممتاز مرزا 6 جنوری، 1997ء کو کراچی میں پاکستان میں وفات پا گئے۔ وہ حیدرآباد، سندھ میں ٹنڈو آغا کے قبرستان میں سپردِ خاک ہوئے۔

  • پراجکت شکرے

    پراجکت شکرے

    پیدائش: 29 نومبر 1987
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ایک ہندوستانی گلوکارہ اور بغمی نگار ہے جو بالی ووڈ فلموں میں کام کرتی ہے اور ریئلٹی شوز میں نظر آتی ہے۔
    اس نے انڈین آئیڈل کے سیزن 1 میں حصہ لیا جہاں وہ چوتھے نمبر پر رہی۔
    پراجکتا شکرے نے انہیں موسیقی کو کیریئر کے طور پر لینے کی شروعات کی اور وہ بالی ووڈ کی معروف پلے بیک سنگر بن کر اس پر مجبور ہوگئیں۔
    چار سال کی چھوٹی عمر سے ہی اس نے گانے کے مختلف مقابلوں میں حصہ لینا شروع کر دیا۔
    جب وہ 12ویں جماعت میں تھی، اس نے گانے پر مبنی رئیلٹی شو انڈین آئیڈل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔
    اگرچہ وہ اسے جیت نہیں سکی، لیکن وہ ٹاپ فائیو تک آگے بڑھنے کے بعد نمایاں ہو گئی۔
    وہ اپنے سیزن میں ٹاپ فائیو تک پہنچنے والی واحد خاتون مدمقابل تھیں۔

    وہ اپنے سیزن میں چوتھے نمبر پر رہی۔ شو ختم ہونے کے بعد اسے گانے کی مختلف پیشکشیں آنے لگیں۔
    اسے سونی بی ایم جی لیبل نے سائن کیا تھا اور موسیقار لیسلی لیوس کے ساتھ، اس نے اپنا پہلا سولو البم جاری کیا۔
    وہ انڈین آئیڈل سیزن 1 کی فاتح، ابھیجیت ساونت کے ساتھ مختلف اسٹیج شوز میں پرفارم کر چکی ہیں۔
    اس نے حال ہی میں ڈیجیٹل راستے پر جانے کا فیصلہ کیا ہے اور جلد ہی اپنا یوٹیوب چینل شروع کرنے والی ہے اور اپنے گانے اپنے یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کرے گی۔

  • یوم وفات، معراج فیض آبادی

    یوم وفات، معراج فیض آبادی

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    اصل نام:سید معراج الحق
    وقلمی نام:معراج فیض آبادی
    والد کا نام:سید سراج الحق
    پیدائش: 02 جنوری 1941ء
    جائے ولادت:موضع کولا شریف
    ضلع فیض آباد (یوپی)
    وفات:30 نومبر 2013ء
    تلمیذ: اس نعمت سے محروم ہوں
    تعلیم:بی ایس سی، لکھنؤ یونیورسٹی
    ملازمت:جنوری 2003ء میں
    سنی وقف بورذ ، لکھنؤ
    کی ملازمت سے سبکدوشی
    پتا: بیراگی ٹولہ، پرانا ٹکیت،
    لکھنؤ-4 (یوپی)

    نام سیّد معراج الحق المعروف معراجؔ فیض آبادی،2 جنوری 1941ء کو فیض آباد کے معروف قصبے کولا شریف میں پیدا ہوئے۔ جامعہ لکھنؤ سے انہوں نے بی ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔ سنّی وقف بورڈ میں انہوں نے ملازمت کی اور 2013ء میں ملازمت سے سبکدوش ہوئے۔میر انیسؔ ، معراج فیض آبادی کے پسندیدہ شاعر تھے ۔ ان کا مجموعہ ” ناموس“، 2004ء میں شائع ہوا ۔ وہ دنیا بھر کے مشاعروں میں بڑی عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے ۔30 نومبر 2013ء کو معراجؔ فیض آبادی، لکھنؤ میں انتقال کر گئے ۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    ہم غزل میں ترا چرچا نہیں ہونے دیتے
    تیری یادوں کو بھی رسوا نہیں ہونے دیتے

    اپنے کعبے کی حفاظت تمہیں خود کرنی ہے
    اب ابابیلوں کا لشکر نہیں آنے والا

    زندگی دی ہے تو جینے کا ہنر بھی دینا
    پاؤں بخشے ہیں تو توفیق سفر بھی دینا

    زندہ رہنا ہے تو حالات سے ڈرنا کیسا
    جنگ لازم ہو تو لشکر نہیں دیکھے جاتے

    ایک ٹوٹی ہوئی زنجیر کی فریاد ہیں ہم
    اور دنیا یہ سمجھتی ہے کہ آزاد ہیں ہم

    اے یقینوں کے خدا شہر گماں کس کا ہے
    نور تیرا ہے چراغوں میں دھواں کس کا ہے

    اے دشتِ آرزو مجھے منزل کی آس دے
    میری تھکن کو گردِ سفر کا لباس دے

    ہمیں پڑھاؤ نہ رشتوں کی کوئی اور کتاب
    پڑھی ہے باپ کے چہرے کی جھریاں ہم نے

    مجھ کو تھکنے نہیں دیتا یہ ضرورت کا پہاڑ
    میرے بچے مجھے بوڑھا نہیں ہونے دیتے

    پیاس کہتی ہے چلو ریت نچوڑی جائے
    اپنے حصے میں سمندر نہیں آنے والا

    آج بھی گاؤں میں کچھ کچے مکانوں والے
    گھر میں ہمسائے کے فاقہ نہیں ہونے دیتے

    گفتگو تو نے سکھائی ہے کہ میں گونگا تھا
    اب میں بولوں گا تو باتوں میں اثر بھی دینا

  • یوم وفات، آسکر وائلڈ،معروف عائرش شائر

    یوم وفات، آسکر وائلڈ،معروف عائرش شائر

    پیدائش:16 اکتوبر 1854ء
    ڈبلن
    وفات:30 نومبر 1900ء
    پیرس
    مدفن:قبرستان بیر لاشیز
    طرز وفات:طبعی موت
    مقام نظر بندی:پینٹویلی جیل
    شہریت: متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    جمہوریہ آئرلینڈ
    مادر علمی:میگڈالن کالج
    ٹرنیٹی کالج، ڈبلن
    پیشہ:شاعر، ڈراما نگار، افسانہ نگار، صحافی
    بچوں کے مصنف، ناول نگار
    مصنف، مصنف، نثر نگار
    عوامی صحافی، مضمون نگار
    مادری زبان:انگریزی
    زبان:انگریزی، فرانسیسی
    لاطینی زبان، قدیم یونانی

    آسکر وائلڈ (Oscar Wilde) ایک آئرش شاعر اور ڈراما نگار تھا۔ 1880 کی دہائی میں مختلف اقسام میں لکھنے کے بعد وہ ابتدائی 1890ء کے دہائی میں لندن کا سب سے مشہور ڈراما نگار تھا۔ آسکر وائلڈ کے والدین کا شمار ڈبلن کے اینگلو-آئرش دانشوروں میں کیا جاتا تھا۔ ان کا بیٹا اپنی ابتدائی زندگی میں ہی فرانسیسی اور جرمن کا ماہر بن گیا۔ آسکر وائلڈ نے پہلے ٹرنیٹی کالج، ڈبلن اور پھر میگڈالن کالج، اوکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی۔

    چند اقتباسات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ٭ بے وقوفی کے علاوہ اور کوئی گناہ نہیں۔
    ٭ اگرچہ ہم سب گٹر میں ہیں لیکن ہم میں سے بعض افراد ستارے دیکھ رہے ہیں۔
    ٭ ہر کوئی اپنی غلطی کو تجربے کا نام دیتا ہے۔
    ٭ اس دنیا میں دو ہی ٹریجیڈیاں ہیں، ایک اس چیز کا نام یاد کرنا جس کی آپ کو ضرورت ہو اور دوسرا اسے تلاش کر لینا۔
    ٭ میں ہر وقت خود کو حیران کرتا رہتا ہوں اور یہی وجہ زندگی کو زندہ رہنے کے قابل بناتی ہے۔
    ٭ خالص اور سادہ سچ شاید ہی کبھی خالص ہو لیکن سادہ پھر بھی نہیں ہوتا۔
    ٭ سر رابرٹ آپ اتنے امیر بھی نہیں کہ اپنا ماضی خرید کر لا سکیں۔ کوئی بھی اتنا امیر نہیں۔
    ٭ جلد یا بدیر ہمیں اپنے اعمال کی جوابدہی کرنی ہو گی۔
    ٭ جو اپنے لئے نہیں سوچتا وہ کبھی سوچتا ہی نہیں۔
    ٭ خودغرضی اپنی مرضی سے جینے کا نام نہیں بلکہ دوسروں کو اپنی مرضی کے مطابق جینے دینا ہے۔
    ٭ صرف اچھے سوالات کے ہی اچھے جوابات ہوتے ہیں۔