Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • جعلی مزدور  جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    جعلی مزدور جعلی صحافی،تحریر: آغاز نیاز مگسی

    یر سال یکم مٸی کو مزدوروں کا عالمی دن اور ہر 3 مٸی کو صحافت کا عالمی دن منایا جاتا ہے ٠ اس کے علاوہ بھی مختلف موضوعات پر ہر سال عالمی دن مناٸے جاتے ہیں جن میں خواتین کا دن ، ماں کا دن ، باپ کا دن ، زمین پانی و دیگر کٸی موضوعات شامل ہیں ٠ یہ ایک بہت اچھا اور مثبت عمل اور اچھی روایت ہے ٠ ایسے دن یا ایّام کے منانے سے ان موضوعات کے حوالے سے حقاٸق جاننے اور اصلاح کرنے کے رجحان میں اضافہ ہوتا ہے ٠ جن کے ماحول اور معاشرے پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ٠ مٸی کے مہینے میں مزدوروں ، صحافت اور ماٶں کے عالمی دن مناۓ جاتے ہیں ٠ بقول نواب اسلم رٸیسانی ڈگری ڈگری ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا نقلی لیکن بہت اچھا ہوا کہ نواب صاحب نے بعد میں اپنے کہے پر معذرت کر لی تھی ٠ ہمارے ذہن میں بھی شاید اور اکثر یہ خیال آتا ہوگا کہ مزدور مزدور ہوتا ہے صحافی صحافی ہوتا ہے ماں ماں ہوتی ہے وہ اصلی ہو یا جعلی ٠ لیکن اصل اور نقل میں فرق کرنا لازمی بھی ہے اور انصاف کا تقاضا بھی ورنہ اصل اور نقل کو ایک سمجھنے سے انسان اور معاشرے کا بڑا نقصان ہوتا ہے اور اس میں جھوٹ اور دھوکہ دہی کو فروغ ملتا ہے ٠ جھوٹے پر اللّٰہ تعالیٰ اور اس کے تمام فرشتے لعنت بھیجتے ہیں اور جھوٹ ہی تمام براٸیوں کی جڑ ہے ٠

    دھوکہ دہی کے بارے میں حدیث مبارکہ ہے کہ جس نے کسی کے ساتھ دھوکہ کیا وہ ہم میں سے نہیں ہے اور جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان ہو تو اس انسان کی بربادی واضح ہو جاتی ہے ٠ لیکن افسوس اس وقت بھی ہوتا ہے جب تعلیم کے شعبے سے وابستہ استاد لیکچرر ہوتا ہے مگر جھوٹ بولتے ہوۓ خود کو پروفیسر کہلاتا ہے یہاں تک کہ وہ رٹاٸر بھی لیکچرر کی حیثیت سے ہوتا ہے مگر پھر بھی خود کو پروفیسر ہی لکھتا اور کہلاتا ہے ٠ جب ایک استاد ہی تمام عمر جھوٹ بولتا اور لکھتا رہے تو اس کے اس کذب اور جھوٹ کے خود اس کی ذات پر اس کے شاگردوں پر اس کے خاندان پر اور معاشرے پر کس طرح منفی اثرات مرتب ہوتے ہوں گے ؟ طب یا صحت کے شعبے سے وابستہ افراد جن میں ڈسپنسر ، میڈیکل ٹیکنیشن ، نرسنگ اردلی اور وارڈ بواۓ وغیرہ بھی خود کو ڈاکٹر کہلاۓ تو اس معاشرے اور سماج کی کیا صورتحال ہوگی ؟ ایسی دیگر کٸی مثالیں ہیں جس کی وجہ سے ہم یہ سوچنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ اصل جج اصل وکیل اصل سیاستدان اصل ساٸنسدان اصل سپاہی اصل سپہ سالار اصل عالم و فاضل اور اصل مولوی اور مولانا و مفتی وغیرہ کی پہچان کیسے اور کس طرح ہو یہ وہ سوال اور وہ مسٸلہ ہے جس پر ہمیں سنجیدگی سے سوچنے اور غور کرنے کی ضرورت ہے ٠

    ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ اصل مزدور وہ ہے جو سردی ہو یا گرمی مشکل ہو یا آساں وہ اپنے فراٸض نیک نیتی اور پوری دیانتداری کے ساتھ سر انجام دیتا ہے اور اس کی یہ محنت عبادت بھی بنتی ہے اور حلال رزق کا باعث بھی ٠ ایسے ہی مزدور کیلیٸے مشہور حدیث مبارکہ ہے کہ ”الکاسب حبیب اللّٰہ “ یعنی محنت کرنے والا اللّٰہ کا دوست ہے ٠ یہ اس انسان اور اس مزدور کے لیے کتنا بڑا اعزاز ہے اور کتنی بڑی کامیابی ہے جس کو اللّٰہ تبارک و تعالیٰ اپنا دوست بناتا ہے ٠ گزشتہ یکم مٸی کو بلوچستان کے شہر ڈیرہ مراد جمالی میں مزدوروں کے حوالے سے مستری مزدور یونین کا ایک جلسہ منعقد ہوا ٠ اس یونین کے صدر ہارون الرشید عرف لیاقت چکھڑا نے جلسے سے اپنے خطاب میں جو باتیں کیں وہ رلادینے والی تھیں ٠ اس نے بتایا کہ بارش خدا کی رحمت ہوتی ہے لیکن ہم مزدوروں کے لیے رحمت کے بجاۓ اس لیٸے زحمت ثابت ہوتی ہے کہ اس دن ہمیں کام نہیں ملتا اور ہم خالی ہاتھ اپنے گھر واپس جاتے ہیں ٠ اور اس دن ہمیں بھوکا رہنا پڑتا ہے ٠ انہوں نے کہا کہ ہم مزدوروں کا جینا تو ویسے بھی امتحان اور سخت آزماٸش تو ہے ہی مگر مرنا اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے کہ فوت ہونے والے کی تدفین کیلیۓ کفن کی رقم بھی نہیں ہوتی اور مزدورں کو قرض یا ادھار دینے والا بھی کوٸی نہیں ہوتا ٠ لیاقت علی نے یہ بھی بتایا کہ مزدوروں کی اکثریت کو سر چھپانے کیلیۓ اپنا ذاتی مکان بھی نہیں ہوتا ٠ کرایہ کے مکان میں زندگی مزید مشکل گزرتی ہے ٠ یعنی دوسروں کے لیے گھر اور محل بنانے والے اپنے گھر سے محروم رہتے ہیں ٠ ایسی اور بھی انہوں نے درد بھری باتیں بتاٸیں جن پر الگ سے کالم لکھنے کی ضرورت ہے ٠ اسی یکم مٸی کو ایسے لوگ بھی خود کو مزدور اور مزدور رہنما کہلاتے ہیں جو انتہاٸی بد دیانت کام چور کرپٹ اور بلیک میلر ہوتے ہیں جو مزدوروں کے حقوق کا سودا کرتے ہیں ٠ ایسے سرکاری ملازم جو یونین کی آڑ میں نہ صرف خود ڈیوٹی نہیں کرتے بلکہ اپنے خاندان کے افراد کو بھی بھرتی کرا لیتے ہیں اور وہ بھی گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کرتے ہیں ٠ خود یونین لیڈر بن کر اپنے محکمہ سے ماہانہ لاکھوں روپے کا بھتہ وصول کرتے ہیں اور اپنے ہی مزدور ملازمین کا استحصال کرتے ہیں ٠ اور دنیا کے مزدورو ایک ہو جاٶ کا نعرے لگواتے ہیں ٠ مزدور اتحاد اور مزدور مزدور بھاٸی بھاٸی کا منافقانہ نعرہ لگوا کر اپنے ذاتی مفادات حاصل کرتے ہیں ٠ یہی وہ جعلی مزدور ہیں جو اپنے محکمہ میں کرپشن بھتہ خوری اور بلیک میلنگ کا بازار گرم رکھے ہوٸے ہوتے ہیں ٠ لاکھوں اور کروڑوں کی پراپرٹی کا مالک بنتے ہیں ٠ اور یہی مزدوروں کے لیڈر اور رہبر بنے ہوٸے ہیں ٠ حالانکہ اصل مزدور تو وہ مرد و خواتین بچے اور بوڑھے ہیں جو کھیتوں سڑکوں کارخانوں ہوٹلوں ریستورانوں گیراجوں ورکشاپس اور گھروں وغیرہ میں کام کرتے ہیں ٠ تشدد کا نشانہ بنتے ہیں اور گھروں میں کام کرنے والی بچیاں اور خواتین تشدد کے ساتھ ساتھ بعض اوقات جنسی زیادتی کا نشانہ بن جاتی ہیں ٠ مگر افسوس کہ ہماری اسلامی ریاست اپنے محنت کش اور مزدور مرد و خواتین بچوں اور بوڑھوں کو عزت روزگار اور تحفظ دینے میں ناکام رہتی ہے ٠

    صحافت کے شعبے میں بھی جعلسازی اور دھوکہ دہی کا راج ہے ٠ یہ فرق کرنا بہت مشکل لگتا ہے کہ اصل صحافی کون ہے ٠ صحافت ایک بہت ہی معزز پیشہ ہے ٠ صحافی کا بڑا مقام اور مرتبہ ہے ٠ آزادی صحافت کی بات کی جاتی ہے ٠ یہ بھی طے کرنا ابھی باقی ہے کہ آزادی ہے کیا چیز آزادی کی حد کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتی ہے ٠ ہمارے یہاں تو سیاستدان حضرات آزادی اور حق و سچ کی صحافت اس کو سمجھتے ہیں جس کے تحت ان کے مخالفین کے خلاف لکھا جاۓ اور خود ان کی تعریف کی جاٸے ٠ خواہ وہ خود کتنا ہی کرپٹ بدعنوان ظالم اور بد کردار ہی کیوں نہ ہو ٠ اگر صحافی اس کے بارے میں سچ لکھتا ہے تو وہ صحافی اس کی نظر میں بلیک میلر بن کر سزا کا مستحق بن جاتا ہے ٠ جبکہ سرکاری اداروں میں ہونے والی بدعنوانیوں کے بارے میں لکھنا صحافی کیلیۓ مزید مشکل بن جاتا ہے اور سیکوریٹی اداروں کے بارے میں لکھنا گویا موت کو دعوت دینا یا خودکشی کے مترادف ہوتا ہے ٠ اس لیٸے حق اور سچ لکھنے والے صحافی کیلیۓ صحافت قدم قدم پر آزماٸش اور شدید خطرات کا باعث بنتی ہے ٠ یہی وجہ ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں صحافی مشکلات اور خطرات میں گھرے رہتے ہیں ٠ اب تک دنیا بھر میں ہزاروں مرد و خواتین صحافی حق اور سچ لکھنے پر قتل کیٸے جا چکے ہیں ٠ قید و بند اور تشدد کے واقعات تو حقیقی صحافیوں کیلیۓ آٸے روز کے معمولات میں شامل ہیں ٠ مگر یہاں بھی مزدور پروفیسر اور ڈاکٹر وغیرہ کی طرح اصل اور جعلی صحافی میں فرق پیدا کرنا بڑا اہم مسٸلہ ہے ٠ صحافت کے شعبے میں ایسے افراد گھس آۓ ہیں کہ اصل صحافی کی پہچان ہی مشکل بن گٸی ہے ٠ سوشل میڈیا میں تو یہ مسٸلہ اور بھی پیچیدہ بن گیا ہے ٠ اب تو ہر دوسرا اور تیسرا شخص صحافی بنا ہوا ہے ٠ ایسے صحافیوں کو نہ تجربہ ہے نہ مہارت اور نہ ہی تربیت ٠ ان کا مقصد معاشرے کی اصلاح و بھلاٸی اور مساٸل کی نشاندہی نہیں بلکہ ناجاٸز عزت دولت اور شہرت حاصل کرنا ان کا اصل مقصد ہوتا ہے ٠ جس کیلیۓ وہ ہر غلط کام خوشامد چاپلوسی اور جھوٹ لکھ اور بول کر نہ صرف خوش اور مطمٸن ہوتے ہیں بلکہ اپنے شرمناک کرتوتوں پر فخر بھی کرتے ہیں ٠ لوگوں پر رعب جمانے اور بلیک میل کرنے کی غرض سے اور خود کو معزز اور مشہور ثابت کرنے کیلیۓ بڑے نامور لوگوں کے ساتھ تصاویر اور سیلفیاں بنوا کر سوشل میڈیا میں پوسٹ کر کے فخر محسوس کرتے ہیں ٠ حالانکہ کسی بڑے عہدیدار کے ساتھ تصویر بنوانا احساس کمتری کا واضح ثبوت ہوتا ہے ٠ اس کے علاوہ جو اوپری سطح کے اینکر یا صحافی ہیں ان میں کچھ ایسے صاحبان اور صاحباٸیں بھی ہیں جو نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں یا تو لوگوں کو مرغوں کی طرح لڑاتے ہیں یا پھر سوال بھی خود کرتے ہیں جواب بھی خود دیتے ہیں ٠ مہمانوں کو بولنے ہی نہیں دیتے اس لیٸے وہ بیچارے اپنا مدعا بیان ہی نہیں کر پاتے اور یہ بھی آزادی صحافت کا ایک حصہ ہے ٠ اس طرح کے لوگ ہی خود کو صحافی سمجھتے ہیں ٠ اس لیٸے آزادی صحافت سے پہلے یہ بھی سوچنا ہے کہ اصل اور جعلی صحافی کی پہچان کیسے ہو اس کے بعد ہی آزادی صحافت کے بارے میں کچھ کرنا ہوگا ٠

  • ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کا ضلع لسبیلہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

    ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کا ضلع لسبیلہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کا حکم

    کوئٹہ (آغا نیاز مگسی) ڈپٹی کمشنر لسبیلہ حمیرا بلوچ نے ضلع لسبیلہ میں ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جس کی تعمیل کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سید یاسین اختر نے ڈپٹی کنزرویٹر محکمہ جنگلات لسبیلہ خلیل الرحمان کھوسہ کے ہمراہ تحصیل لاکھڑا اور تحصیل لیاری میں ٹمبر مافیا کے بڑے بٍڑے ٹالز پر چھاپہ مار کارروائی کرکے متعدد ٹالز کو سیل کردیا.

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ نے ڈپٹی کنزرویٹر کو ہدایت دی کہ ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کاروائی کرکے بھاری جرمانے عائد کیے جائیں اور ٹال مالکان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر لسبیلہ سید یاسین اختر نے کہا کہ حکام بالا کی طرف سے سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ ضلع لسبیلہ میں غیر قانونی طور پر قیمتی درختوں کی کٹائی کو روکا جائے جس پر ڈپٹی کمشنر لسبیلہ کے حکم پر تحصیل لاکھڑا اور تحصیل لیاری میں غیر قانونی طور پر جنگلات اور قیمتی درختوں کی کٹائی کے خلاف کاروائی کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی طور پر درختوں اور جنگلات کی کٹائی میں ملوث ٹمبر مافیا کے خلاف سخت کاروائی کرکے پابند سلاسل کیا جائے گا اگر کوئی زمیندار کاشتکاری کے لئے اپنی زمین صاف کرنا چاہتا ہے تو ضلعی انتظامیہ سے اجازت نامہ لینا ضروری ہوگا اگر کوئی زمیندار اپنی زمین ضلعی انتظامیہ سے اجازت لیے بغیر درخت کاٹے گا اس زمیندار کے خلاف بھی سخت کاروائی کی جائے گی۔ اس موقع پر ایس ایچ او لیاری قادر بخش اور اہس ایچ او لاکھڑا غلام اکبر شیخ، نائب رسالدار عبدالستار صائم لیویز اور پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔

  • چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او  شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    چھتر بلوچستان کا ”کچا“علاقہ،ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں

    نصیر آباد کا کمشنر ، ڈی آئی جی، ڈی سی اور ایس ایس پی ”بندوق کے سائے میں“
    چھتر کے دو اسسٹنٹ کمشنرز اور ایک صحافی
    چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کے بجائے اپنی جان بچانے کی فکر میں ہوتا ہے

    آغا نیاز مگسی

    ضلع نصیر آباد کا چھتر شہر عام شہریوں خواہ سرکاری افسران کے لیے نو گو ایریا بلکہ سندھ اور پنجاب کے ڈاکوؤں کے ”کچے“ کے علاقہ کی مانند ہے یہاں پر کوئی بھی محفوظ نہیں ہے ۔ گزشتہ 40 سال سے بلوچستان حکومت چھتر کے علاقہ کو محفوظ علاقہ نہیں بنا سکی اور نہ ہی یہاں پر اسسٹنٹ کمشنر کو اس کے دفتر میں بٹھا سکی ہے ما سوائے دو اسسٹنٹ کمشنرز کے ۔ 1995 میں سردارزادہ سرفراز احمد ڈومکی کو اسسٹنٹ کمشنر تعینات کیا گیا۔ وہ پہلے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو اپنے دفتر میں بیٹھنے لگے اور اسی دور میں چھتر کی تاریخ کا واحد صحافی میں (آغا نیاز مگسی) تھا جو وہاں ڈیرہ مراد جمالی سے روزنامہ انتخاب حب \کراچی کے نامہ نگار کی حیثیت سے رپورٹنگ کرنے کے لیے گیا جہاں مجھے دیکھ کر چھتر کے مکین حیران ہو گئے میں نے سرفراز خان ڈومکی سے ملاقات کر کے وہاں کی انتظامی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس کے بعد مجید شاہ کہیری کے ساتھ چھتر شاہ کا جائزہ لیا اور یہاں کے شہریوں کے مسائل معلوم کیے۔ چھتر کے شہریوں نے مجھے ایک مرشد کی طرح کا احترام اور پروٹوکول دیا تھا اور وہ رات میں نے وہاں قیام کیا تھا ۔ سرفراز خان ڈومکی نے اپنے والد سردار چاکر خان ڈومکی کی وفات پر اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے سے استعفی دے دیا اور اپنے والد کی جگہ ڈومکی قبیلے کا سردار بنا ۔ سردار سرفراز خان اس وقت بلوچستان کے صوبائی وزیر بلدیات ہیں ۔ سردار سرفراز کے کافی عرصہ بعد محمد عظیم عمرانی دوسرے اسسٹنٹ کمشنر تھے جو وہاں اپنے دفترمیں بیٹھنے لگے اس کے بعد آج تک دوسرا کوئی اسسٹنٹ کمشنر چھتر میں نہیں بیٹھ سکا ہے .

    وہاں کے امن و امان کی صورتحال اور خوف کا یہ عالم ہے کہ نصیر آباد کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر، ڈی آئی جی اور ایس ایس پی سخت سیکورٹی اور پیرا ملٹری فورس کے تعاون کے بغیر چھتر کا ”وزٹ“ تک نہیں کر سکتے ۔ چھتر کا ایس ایچ او مقرر ہونا اپنی موت کے وارنٹ پر دستخط کرنے کے مترادف ہے چناںچہ چھتر کا ایس ایچ او شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کی بجائے ہر وقت اپنی جان بچانے کی فکر میں رہتا ہے ۔ چھتر اور اس کے گرد و نواح کے شہری ایف سی \پیراملٹری فورس کی وجہ سے وہاں مقیم ہیں ورنہ چھتر کا علاقہ عام شہریوں کی آبادی سے خالی اور کچے کی طرح ڈاکوؤں کی آماجگاہ بن چکا ہوتا ۔ جس علاقے کا اسسٹنٹ کمشنر اپنے دفتر نہیں بیٹھ سکتا اور جہاں کا کمشنر، ڈی آئی جی، ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی بندوق کے سائے میں کئی سال بعد ایک دو گھنٹے کا وزٹ کر کے آئے تو اس علاقہ کے مکینوں کی زندگی کس طرح گزرتی ہے اس صورتحال کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے ۔

    بلوچستان سے بگٹی قبیلے کے کچھ افراد کچے کے ڈاکوؤں سے لڑنے کے لیے گئے ہیں ان سے پوچھا جائے کہ وہ چھتر کو ڈاکوؤں سے کب خالی کرائیں گے .؟

  • سپاہی،   صحافی اور جاسوس، تحریر:  آغا نیاز مگسی

    سپاہی، صحافی اور جاسوس، تحریر: آغا نیاز مگسی

    دنیا میں جتنی بھی مخلوقات کرہء ارض پر موجود ہیں ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کا ایک مخصوص وقت مقرر ہوتا ہے لیکن ان میں سے سپاہی، صحافی اور جاسوس وہ مخلوق ہیں جو ہمہ وقت یعنی 24 گھنٹے آن ڈیوٹی یا آن کال رہتے ہیں رات کو جب ہر کوئی آرام میں ہوتا ہے لیکن یہ تینوں آپ کو کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئیں گے یہ زیادہ تر اپنے گھر سے باہر رہتے ہیں یعنی گھر کے ہوتے ہوئے بھی بے گھر لگتے ہیں البتہ ان تینوں کی وفاداری ہمیشہ مشکوک رہتی ہے یہ خود بھی مشکوک رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ان میں سے زیادہ تر سپاہی اور صحافی ”سخاوت“ میں ایسے کہ کسی کو دعا تک بھی نہیں دیتے لیکن خود بہت کچھ کے علاوہ دعا کے بھی ہمیشہ طلبگار رہتے ہیں۔

    کتے کو جہاں وفا کی علامت سمجھا جاتا ہے وہاں نفرت کی بھی علامت سمجھا جاتا ہے کسی انسان کو کتا کہنا بہت بڑی گالی مانا جاتا ہے 1976 میں بھارت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے پریس پر سخت پابندی عائد کی تو سارے صحافی خوفزدہ ہوکر خاموش ہوگئے تو اندرا گاندھی نے کہا کہ کوئی ایک کتا تک نہیں بھونکا لیکن اس برعکس پاکستان کے صحافی بہت بہادری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں انہوں نے مارشل لاؤں میں جیلیں کاٹیں کوڑے کھائے بیروزگار بھی ہوئے اور اب بھی خطرات کا سامنا کرتے ہوئے ہر محاذ پر لڑ رہے ہوتے ہیں سپاہی بھی ایسی ہی مشکلات اور خطرات کا شکار رہتے ہیں اس لیئے یہ ہمیشہ اپنے گھر والوں کی دعاؤں میں رہتے ہیں جبکہ سپاہی اور صحافی دونوں کی صفوں میں کالی بھیڑیں بھی موجود ہوتی ہیں اصل سپاہی اور صحافی کی پہچان بہت مشکل ہوتی ہے اس لیئے لوگ سپاہی اور صحافی سے کم کم ہی پیار کرتے ہیں بلکہ ان کے حصے میں نفرت اور بد دعائیں زیادہ آتی ہیں تاہم پولیس فورس میں ذوالفقار چیمہ عابد نوتکانی اے ڈی خواجہ خادم رند اور خیر محمد جمالی جیسے کئی بہادر اور مخلص سپاہی اور افسران بھی موجود رہے ہیں جبکہ صحافت میں بھی میر خلیل الرحمان حمید نظامی عنایت اللہ ضمیر نیازی الطاف قریشی منو بھائی ، وارث میر اور ہارون الرشید جیسے صحافی بھی موجود ہوتے ہیں اس کے باوجود بھی اگر لوگ سپاہی اور صحافی سے پیار نہیں کرتے اعتبار نہیں کرتے اور ان کو دعا نہیں دیتے تو اس لیے ایسے عناصر سے ہوشیار اور خبردار رہنے کی ضرورت ہے۔

    ہر دور میں تین قسم کی جنگیں لڑی جاتی ہیں پہلی جنگ سپاہی اسلحہ کے بل بوتے پر لڑتے ہیں دوسری جنگ ملکوں اور اقوام کے درمیان جاسوسی کے ذریعے لڑی جاتی ہے جسے جاسوسی جنگ کے علاوہ ملکوں کے درمیان سرد جنگ Cold War بھی کہا جاتا ہے اور یہ ایک خطرناک جنگ ہے جاسوسی کی جنگ میں خوبرو خواتین اور خوبصورت دوشیزاؤں کا کردار نہایت اہم ہوتا ہے وہ فرائض کے دوران اپنی عصمت کی قربانی دینے کے لیے بھی تیار رہتی ہیں ۔ دنیا میں بہت سی جاسوس خواتین موت کے گھاٹ اتاری گئی ہیں لیکن خواتین نے اپنے فرائض میں بہادری کی مثالیں قائم کی ہیں ۔

    دنیا بھر میں تیسری جنگ صحافی قلم کے ذریعے لڑتے رہے ہیں جن میں خواتین بھی شامل ہیں ۔ غزہ فلسطین کی حالیہ جنگ کے دوران اسرائیل کی بمباری سے اب تک 60 سے زائد صحافی شہید ہو چکے ہیں جن میں کچھ خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ عالمی ادارہ یونیسکو کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق 2006 سے 2023 تک دنیا بھر میں 1500 کے لگ بھگ صحافی قتل کیے جا چکے ہیں ۔ پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں صحافیوں کی زندگیاں محفوظ نہیں ہیں یہاں حق اور سچ کی صحافت کرنے والے مرد و خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی رہتی ہیں اور یہ لوگ دباؤ میں رہتے ہوئے اپنے فرائض ادا کر رہے ہیں ۔ پاکستان کے حقیقی صحافیوں کی تعداد بہت کم ہے اور یہ لوگ جیسے صحافت کے پل صراط پر چل رہے ہوتے ہیں وہ خود بھی غیر محفوظ رہتے ہیں اور ان کے خاندان کے افراد بھی غیر محفوظ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں چنانچہ پاکستان سمیت دنیا بھر کے صحافیوں کو احتیاط اور دعاؤں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے ۔

    ہوشیار، آپکی جمع پونجی پر بڑا ڈاکہ تیار،الرحمان ڈیویلپرز ،اربن سٹی کی دو نمبریاں پکڑی گئیں

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    تجوری ہائٹس کا پلاٹ گورنر سندھ کی اہلیہ کے نام پر تھا،سپریم کورٹ میں انکشاف

    چیف جسٹس کا نسلہ ٹاور کی زمین بیچ کر الاٹیز کو معاوضے کی ادائیگی کا حکم

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    مریم نواز نے پولیس وردی پہنی،عثمان انور نے ساڑھی کیوں نہیں پہنی؟ مبشر لقمان کا تجزیہ

  • عائشہ زہری ڈپٹی کمشنر آوارن تعینات

    عائشہ زہری ڈپٹی کمشنر آوارن تعینات

    کوئٹہ(آغا نیاز مگسی) عائشہ زہری کو بلوچستان کے حساس ترین ضع آواران کی ڈپٹی کمشنر تعینات کر دیا گیا بلوچستان میں اس وقت 3 خواتین ڈپٹی کمشنرز تعینات ہیں جن میں ڈپٹی کمشنر نصیر آباد بتول اسدی ہزارہ کمیونٹی سے ہیں ڈپٹی کمشنر حب روحانہ گل کاکڑ پشتون کمیونٹی سے اور ڈپٹی کمشنر عائشہ زہری بلوچ کمیونٹی سے ہیں، ان کی مادری زبان براہوی ہے عائشہ زہری الیکٹریکل انجنیئر اور حافظہ قرآن بھی ہیں انہیں بلوچستان میں پہلی بلوچ خاتون کا اعزاز حاصل ہے بحیثیت ڈپٹی کمشنر ان کی پہلی تعیناتی ستمبر 2022 میں نصیر آباد میں ہوئی اور ستمبر 2023 میں ان کا تبادلہ ہوا ایک سال کے دوران انہوں نے بہترین منتظمہ کا کردار ادا کیا 2022 کے تباہ کن سیلاب میں انہوں نے بہترین اور مثالی کارکردگی کا عملی مظاہرہ کیا جس کی بنا پر وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارش پر انہیں صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا

  • محکمہ ایریگیشن نصیر آباد کے دفتر کی طویل ویرانی

    محکمہ ایریگیشن نصیر آباد کے دفتر کی طویل ویرانی

    سپرنٹنڈنگ انجنیئر کے دفتر میں مکڑیوں نے بسیرا کر لیا
    آبپاشی کے دفتر کے درخت سوکھنے لگے
    میر صادق عمرانی کے وزیر بنتے ہی دفتر میں افسران کی آمد شروع رونقیں بحال ہونے لگیں

    ڈیرہ مراد جمالی (آغا نیاز مگسی) محکمہ ایریگیشن نصیر آباد میں گزشتہ دو تین برس سے مبینہ طور پر افسران کی دفتر میں عدم موجودگی کے باعث دفتر ویرانے کا منظر پیش کرنے لگا میر محمد صادق عمرانی کو محکمہ ایریگیشن کی وزارت ملتے ہی افسران میں کھلبلی مچ گئی جنہوں نے دفتر میں بیٹھنا شروع کر دیا ہے بدھ کے روز مقامی صحافیوں کا ایک گروپ مشاہدے کی غرض سے دفتر پہنچ گیا جنہیں یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ سپرنٹنڈنگ انجنیئر کے دفتر کی چھت پر مکڑیوں نے جالے بن لیے اور چھت میں دراڑیں پڑ گئیں جبکہ دفتر کے احاطے کے درخت بھی سوکھنے لگے جن کو تر و تازہ دکھانے دفتر کو خوب صورت بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں تزئین و آرائش اور چونا لگانے کا کام شروع کر دیا گیا اور درختوں کو پانی کی فراہمی بھی شروع کر دی گئی

    ضمنی انتخابات میں مریم نواز کا جادو کیسے چلا؟ اہم انکشافات

    پسند کی شادی کیلئے شوہر،وطن ،مذہب چھوڑنے والی سیماحیدر بھارت میں بنی تشدد کا نشانہ

    بلیک میلنگ کی ملکہ حریم شاہ کا لندن میں نیا”دھندہ”فحاشی کا اڈہ،نازیبا ویڈیو

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

  • جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔      آغا نیاز مگسی

    جوتے وہی اچھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آغا نیاز مگسی

    دنیا میں ایسا کوئی شخص وہ مرد ہو خواہ عورت بوڑھا ہو یا بچہ غریب ہو یا امیر جوتوں کی خواہش سب کو ہوتی ہے اور یہ سب کی ضرورت ہے موت اور زندگی کی طرح جوتے بھی ہر اس انسان کے لیے ضروری ہوتے ہیں جس کے پاں سلامت ہوں اگر ایک پیر والا ہے وہ بھی اپنے لیئے ایک جوتا رکھتا ہے اگر خدانخواستہ کوئی دونوں پاؤں سے معذور یے تو پھر اسے جوتوں کی ضرورت اور خواہش نہیں ہوتی۔

    جوتے سستے بھی اور انتہائی مہنگے بھی ہوتے ہیں کس کے نصیب میں کیسے جوتے ہوتے ہیں یہ ہر ایک کے مقدر کی بات ہوتی ہے ،جس کو جوتوں کا شوق ہو تو پھر پتہ نہیں وہ کیسے جوتے حاصل کر لیتے ہیں ہمارے یہاں عام طور پر ملٹی نیشنل کمپنی باٹا اور سروس کے اور مقامی لیول پہ پشاور کے پشاوری چپل کوئٹہ کے نوروزی اور سعادت اور ملتان کے ملتانی کھسے بہت مشہور ہیں یہاں تک تو بات ٹھیک ہے لیکن اگر کسی غریب کو جوتے لینے یا خریدنے کی سکت نہ ہو تو وہ جوتے چرانے پر مجبور ہو جاتا ہے اور مسلمانوں کے معاشرے میں جوتے چرانے کی آسان ترین جگہ مساجد اور اولیائے کرام کے مزارات و درگاہیں اور شادی بیاہ اور دعوت ولیمہ جیسی تقریبات ہوتی ہیں نمازی حضرات کے جوتے جتنے مہنگے اور قیمتی ہوتے ہیں مسجد میں نماز پڑھتے وقت اس کی توجہ جوتوں کی طرف بھی ہوتی ہے کہیں چوری نہ ہو جائیں ۔

    متحدہ ہندوستان میں ریاست بہار کی رانی اندرا دیوی بہت قابل اور ذہین اور با صلاحیت حکمران عورت تھی اس کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ برصغیر کی پہلی عورت تھی جس نے یوگا کی تربیت حاصل کی تھی اور بعدمیں استاد کی حیثیت سے اپنے شاہی خاندان کے افراد کو بھی سکھاتی تھی لیکن اس کو جوتوں کا جنون کی حد تک شوق تھا اس دور میں اٹلی میں جوتے بنانے کا ایک ماہر سیلیٹور فریگامو کے جوتے دنیا بھر میں مشہور تھے اس کی خواہش نے بھی انگڑائی لی اور شاہی فرمان جاری کر دیا کہ اس کو میرے دربار میں لایا جائے چناچہ اس کو اٹلی سے لایا گیا اندرا دیوی نے اس سے کہا کہ مجھے ایسے جوتے چاہیئے جو آج تک دنیا بھر میں کسی عورت نے نہ پہنے ہوں فریگامو سوچ میں پڑ گیا اور اس نتیجے پرپہنچا کہ آج تک کسی عورت نے ہیرے اور جواہرات سے جڑے جوتے نہیں پہنے ہیں جس پر رانی نے خوش ہو کر اس کو اپنے لیئے ایسے 600 جوتے تیار کرنے کا حکم دیا اور وہ سارے جوتے ہیروں جواہرات سونے اور نایاب پتھروں سے بنائے گئے ایسے مہنگے اور قیمتی جوتوں کا سن کر ملکہ برطانیہ حسرت سے آہ بھر کر رہ گئی کیونکہ وہ ایسے جوتے نہیں خرید سکتی تھی ان کے ملک میں احتساب کا خوف ہے

    جب جوتوں کی بات چل ہی نکلی ہے تو جدید دور کی موجودہ اکیسویں صدی میں مشہور شخصیات اور حکمرانوں پر نفرت کے اظہار کے طور پر جوتے پھینکنے کا خطرناک رواج چل نکلا ہے جس کی ابتداء عراق کے ایک صحافی المنتظری نے دنیا کے طاقتور ترین حکمران سپر پاور امریکہ کے صدر جونیئر بش پر یکے بعد دیگرے دو جوتے پھینک کر کی اور پھر یہ سلسلہ دنیا بھر میں چل نکلا ہے اور یہ جوتے پاکستان کے حکمرانوں تک بھی پہنچ گئے،جوتوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا رواج خواتین نے شروع کیا ، ہمارے ملک کے نیوز چینلز پر آئے دن ایسے مناظر دکھائے جاتے ہیں جن میں خرانٹ قسم کی بہادر اور باہمت خواتین اور لڑکیاں آوارہ اوباش اور لفنگے اور چھیڑ چھاڑ کرنے والے مرد اور لڑکوں کو جوتوں سے ٹھکائی کرتے ہوئے دکھائے جاتے ہیں ، نفرت کے طور پر کسی معتوب شخص کو جوتوں کے گلے میں ہار بھی پہنائے جاتے ہیں تو کسی کے سر پر برسائے جاتے ہیں چنانچہ جوتوں کے شوق اور استعمال میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے خاص طور پر حکمران اور اونچے طبقہ کے لوگ آجکل جوتوں کے خوف میں مبتلاء نظر آتے ہیں کہ کہیں سے کوئی لہراتا ہوا جوتا نہ آجائے اس لیئے جوتے وہی اچھے جو پاؤں میں پہنے یا پہنائے جائیں لیکن گلے میں اور سر پر جوتے پڑنے سے اللہ پاک سب کو محفوظ رکھے تاہم اس سے بچنے کے لیے بہتر کردار کی ضرورت ہے ۔

  • نصیرآباد پولیس کی کاروائی، 2 ماہ کے دوران 118 مجرمان ، مفرور و اشتہاری ملزمان گرفتار

    نصیرآباد پولیس کی کاروائی، 2 ماہ کے دوران 118 مجرمان ، مفرور و اشتہاری ملزمان گرفتار

    کچے کے ڈاکوؤں کو بلوچستان میں جائے پناہ نہیں ملے گی،ڈی آئی جی ملک سلیم لہڑی اور ایس ایس پی ڈاکٹر سمیع اللہ ملک پریس کانفرنس
    ڈیرہ مراد جمالی (آغا نیاز مگسی) آئی جی بلوچستان پولیس عبدالخالق شیخ کی ہدایت پر ضلع نصیر آباد پولیس کی جرائم پشہ عناصر کے خلاف منظم کارروائی گزشتہ 2 ماہ کے دوران 118 مجرمان ، مفرور و اشتہاری ملزمان گرفتار کر لیے گئے ہیں جن میں سے یکم اپریل کو مگسی کلینک ڈیرہ مراد جمالی کے قریب ایک تاجر عبدالکریم عرف اکرم سے چھینی گئی رقم 24 لاکھ روپے سے 20 لاکھ روپے برآمد کیے گئے دو سہولتکاروں علی شیر اور زاہد حسین کو گرفتار کیا گیا جبکہ ڈکیتی میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کیا جائے گا یہ بات ڈی آئی جی پولیس نصیر آباد رینج ملک سلیم لہڑی اور ایس ایس پی نصیر آباد ڈاکٹر سمیع اللہ ملک نے پرہجوم پریس کانفرنس میں کی اس موقع پر ڈی ایس پی غلام یاسین جمالی مختلف تھانوں کے ایس ایچ اوز غلام علی کنڈرانی ، روشن علی کانسی، محمد موسی مری و دیگر موجود تھے گزشتہ 2 ماہ کے دوران کروڑوں روپے کی مالیت کی منشیات و اسلحہ اور مسروقہ موٹر سائیکلز اور موٹر کار بھی شامل ہیں جبکہ ضلع خیرپور سندھ مغوی مسمات عائشہ اور شیخوپورہ پنجاب سے اغوا کی گئی خاتون مسمات کبری کو بازیابکر کے ان کے ورثاء کے حوالے کر دیا گیا متعدد قمار بازوں اور جواریوں کو بھی گرفتار کیا گیا انہوں نے کہا کہ نیشنل ہائی وے پولیس کی معاونت بھی رہی ہے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ایس ایچ او و دیگر اہلکاروں کی ہر لحاظ سے حوصلہ افزائی کی جائے گی اور امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے گئے ہیں ایک سوال کے جواب میں ڈی آئی جی نصیر آباد نے کہا کہ سندھ کے کچے کے علاقے میں جاری آپریشن کے دوران فرار ہونے والے ڈاکوؤں کو بلوچستان میں جائے نہیں ملے گی اس سلسلے میں نصیر آباد ریجن کی پولیس کو سرحدی علاقوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پولیس میں ہاف فرائی اور فل فرائی کا کوئی تصور نہیں ہے ہم قانون کی عملداری پر مکمل یقین رکھتے ہیں ۔

  • اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    ڈاکٹر فریاد آذر

    وفات : 12؍اپریل 2024

    معروف شاعر ڈاکٹر فریاد آذر کا اصل نام سید فریاد علی ہت10؍جولائی 1956ء کو اترپردیش کے بنارس شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر عنوان چشتی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی تھی اور ان کے شعری آہنگ سے بہت متاثر تھے۔
    انھوں نے دہلی کے کئی اسکولوں میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کے دو شعری مجموعے "خزاں میرا موسم” (اشاعت 1994ء) اور قسطوں میں گزرتی زندگی” (اشاعت 2005ء) شائع ہوئے۔آج بروز جمعہ 12؍اپریل 2024ء کو لمبی بیماری کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا۔ وہ کئی دنوں سے دہلی کے ایک اسپتال میں زیر علاج تھے۔

    ڈاکٹر فریاد آذرؔ کے منتخب کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ادا ہوا نہ قرض اور وجود ختم ہو گیا
    میں زندگی کا دیتے دیتے سود ختم ہو گیا

    نہ جانے کون سی ادا بری لگی تھی روح کو
    بدن کا پھر تمام کھیل کود ختم ہو گیا

    معاہدے ضمیر سے تو کر لیے گئے مگر
    مسرتوں کا دورۂ وفود ختم ہو گیا

    بدن کی آستین میں یہ روح سانپ بن گئی
    وجود کا یقیں ہوا وجود ختم ہو گیا

    بس اک نگاہ ڈال کر میں چھپ گیا خلاؤں میں
    پھر اس کے بعد برف کا جمود ختم ہو گیا

    مجاز کا سنہرا حسن چھا گیا نگاہ پر
    کھلی جو آنکھ جلوۂ شہود ختم ہو گیا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اس تماشے کا سبب ورنہ کہاں باقی ہے
    اب بھی کچھ لوگ ہیں زندہ کہ جہاں باقی ہے

    اہل صحرا بھی بڑھے آتے ہیں شہروں کی طرف
    سانس لینے کو جہاں صرف دھواں باقی ہے

    زندگی عمر کے اس موڑ پہ پہنچی ہے جہاں
    سود ناپید ہے احساس زیاں باقی ہے

    ڈھونڈھتی رہتی ہے ہر لمحہ نگاہ دہشت
    اور کس شہر محبت میں اماں باقی ہے

    میں کبھی سود کا قائل بھی نہیں تھا لیکن
    زندگی اور بتا کتنا زیاں باقی ہے

    مار کر بھی مرے قاتل کو تسلی نہ ہوئی
    میں ہوا ختم تو کیوں نام و نشاں باقی ہے

    ایسی خوشیاں تو کتابوں میں ملیں گی شاید
    ختم اب گھر کا تصور ہے مکاں باقی ہے

    لاکھ آذرؔ رہیں تجدید غزل سے لپٹے
    آج بھی میرؔ کا انداز بیاں باقی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سراغ بھی نہ ملے اجنبی صدا کے مجھے
    یہ کون چھپ گیا صحراؤں میں بلا کے مجھے

    میں اس کی باتوں میں غم اپنا بھول جاتا مگر
    وہ شخص رونے لگا خود ہنسا ہنسا کے مجھے

    اسے یقین کہ میں جان دے نہ پاؤں گا
    مجھے یہ خوف کہ روئے گا آزما کے مجھے

    جو دور رہ کے اڑاتا رہا مذاق مرا
    قریب آیا تو رویا گلے لگا کے مجھے

    میں اپنی قبر میں محو عذاب تھا لیکن
    زمانہ خوش ہوا دیواروں پر سجا کے مجھے

    یہاں کسی کو کوئی پوچھتا نہیں آزرؔ
    کہاں پہ لائی ہے اندھی ہوا اڑا کے مجھے

  • بلوچستان میں 88 فیصد لڑکیوں کی رائے جانے بغیر شادی کا انکشاف

    بلوچستان میں 88 فیصد لڑکیوں کی رائے جانے بغیر شادی کا انکشاف

    ایس پی او اور سیو دی چلڈرن کے زیر اہتمام ”کم عمری و جبری شادی“ کے موضوع پر ڈیرہ مراد جمالی کے ایک مقامی ہوٹل میں ایک روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں سول سوسائٹی کے نمائندوں و دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے مرد و خواتین نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

    یہ ورکشاپ مختلف سیشنز پر مشتمل تھی ۔ ایس پی او اور سو دی چلڈرن کے افسران نے موضوع کی مناسبت سے شرکاء کو آگاہی دی جبکہ ورکشاپ کے شرکاء کی جانب سے بلوچستان سمیت ملک بھر میں لڑکیوں کی کم عمری و جبری شادی کے رجحان پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حساس مسئلے کے تدارک کیلئے شعور و آگاہی مہم چلانے پر اتفاق کیا گیا ۔ ایک سروے رپورٹ کی روشنی میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں صرف 12 فیصد والدین اپنی بیٹیوں سے ان کی رائے معلوم کر کے شادیاں کراتے ہیں جبکہ 88 فیصد لڑکیوں سے ان کی رائے معلوم کیے بغیر ان کی مرضی کے خلاف کم عمری میں شادیاں کرائی جاتی ہیں جس کے باعث ایسی بچیوں کی ازدواجی و معاشی زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوت ہیں ۔

    شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ کم عمری اور جبری شادی کے منفی رجحان کے تدارک کے لیے تعلیم عام کی جائے اور شعور و آگاہی کی خصوصی مہم چلائی جائے اس مہم میں سیاسی و قبائلی رہنمائوں اور علمائے کرام کو شامل کیا جائے جبکہ اس منفی رجحان کے خاتمے اور روک تھام کے لیے ملکی قوانین پر سختی کے ساتھ عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، دوران ورکشاپ موضوع کی مناسبت سے مرد و خواتین پر مشتمل 5 گروپ ڈسکشن تشکیل دیے گئے جنہوں نے مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لیے تجاویز و سفارشات پیش کیں ۔ ورکشاپ کے آخر میں این جی اوز کے افسران نے بتایا کہ اس حوالے سے نصیر آباد اور جعفر آباد سمیت بلوچستان کے چار اضلاع میں مقامی رجسٹرڈ تنظیموں کی توسط سے شعور و آگاہی کی مہم چلائی جائے گی اور تنظیموں میں خواتین کی موثر نمائندگی کو لازمی قرار دیا گیا۔ ورکشاپ سے خطاب کرنے والوں میں ایس پی او کے ریجنل مینجر امداد علی، جمیل اصغر بھٹی مینیجر پراجیکٹ اینڈ گرانٹس ، رابعہ خان چائلڈ پروٹیکشن اسپیشلسٹ، صائمہ جاوید ایڈوائزر ایکوائٹی ، مہر النساء رپورٹنگ اینڈ مانیٹرنگ آفیسر ، علی مراد ٹالپر رپورٹنگ آفیسر، محمد نعیم P Q E l سیو دی چلڈرن ، منزہ علی پراجیکٹ مینیجر شامل ہیں ۔

    ورکشاپ میں ایس پی او کے ایڈمن اینڈ فناس آفیسر ثناء اللہ کاکڑ ، کاشف جاوید آئی ٹی اسپیشلسٹ اور عبدالرزاق لغاری ڈسٹرکٹ سپروائیزر جعفر آباد موجود تھے جبکہ ڈی ای او نصیر آباد عبدالحمید ابڑو سمیت سول سوسائٹی کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی جن میں عبدالسلام بلوچ ، نذیر احمد بھنگر ، آغا نیاز مگسی، ولی محمد زہری ، عبدالکریم مینگل، باز محمد پیچوہا، محمد مٹھل بھنگر ، سوالی خان کورار ، اختیار عمرانی، حبیب اللہ سیال، خالد بیدار، اصغر علی ڈومکی، نظام الدین محمد حسنی ، وڈیرہ عاشق حسین عمرانی ، شوکت عمرانی ، نور احمد عمرانی ، امان اللہ بلیدی، محمد رفیق مینگل، دریا خان بنگلزئی و دیگر شامل تھے ۔
    kam umri