Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • یوم وفات ،علی رضا عابدی

    یوم وفات ،علی رضا عابدی

    پیدائش:30 نومبر 1936ء

    روڑکی،، ضلع ہردوار، برطانوی ہندوستان

    پیشہ:براڈکاسٹر، صحافی، ادیب
    زبان:اردو، سندھی، عربی، فارسی، انگریزی
    قومیت: پاکستانی
    اصناف:سفر نامہ، افسانہ اور مشہور عام تاریخ
    ساتھی:ماہی طلعت عابدی
    اولاد:رباب، مونا اور بابر

    رضا علی عابدی ایک پاکستانی سفر نامہ نگار، صحافی، مصنف اور محقق ہیں۔ عمر کا ایک عرصہ بی بی سی اردو ریڈیو میں گزارا۔ کئی کتب کے مصنف و مؤلف ہیں۔ جن میں کتابیں اپنے آباء کی، ہمارے کتب، خانے جرنیلی سٹرک وغیرہ مشہور ہیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رضا علی عابدی 30 نومبر 1936ء روڑکی، ہری دوار ضلع، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے ہندستان کے علاقے یوپی سے حاصل کی، ان کے والد کا تعلق لکھنؤ سے تھا۔ 1950ء میں پاکستان آ گئے۔ 13 برس کی عمر میں انہوں نے اخبارات و جرائد کا باقاعدگی سے مطالعہ شروع کیا جو 65سال بعد بھی جاری و ساری ہے۔ اخبارات کے مطالعہ سے وہ فن خبر نگاری سے مکمل واقف ہو چکے تھے جس کی وجہ سے انہوں نے 20 برس کی عمر میں 1956ء میں پہلی مرتبہ بائیں ہاتھ سے انگریزی خبر کا ترجمہ کیا۔ انہوں نے 1965ء کی جنگ کو نہ صرف دیکھا بلکہ اس کو مکمل اخبار میں رپورٹ بھی کیا۔ اس وقت وہ عملی طور پر روزنامہ حریت کے ساتھ منسلک تھے۔ اس کے بعد انگلستان مزید تعلیم کے حصول کے لیے اسکالرشپ پر چلے گئے۔ پھر 1972ء میں ا نہوں نے بی بی سی سے منسلک ہو کر عملی طور پر اپنے کیئرئرکا آغازکیا اور پھر بی بی سی کے پروگرام، ڈاکومنٹریاں تھیں اور رضاعلی عابدی تھے، بی بی سی نے انہیں پاکستان بلکہ پوری دنیا کے اردو بولنے والوں میں دلوں میں جا بٹھایا۔ اور یوں وہ 1996ء میں60 سال کی عمر میں ریٹارڈ ہوئے۔ رضا علی عابدی نے اب تک 30 سے زائد کتابیں لکھیں ہیں جس میں 16بڑوں اور14کتابوں کا تعلق بچوں اور کے مسائل و عمر سے ہے۔ اُن کو 6 نومبر 2013ء کو بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی کی طرف سے پی ایچ ڈی کی اعزازی ڈگری بھی دینے کااعلان کیا گیا۔
    شائع شدہ کتب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    سفر نامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)جرنیلی سٹرک- 1986
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور
    ۔ (2)شیر دریا- 1992
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    ۔ (3)جہازی بھائی-1995
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    ۔ (4)ریل کہانی-1997
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن
    کتب خانہ
    ۔۔۔۔۔۔
    پہلا سفر
    تیس سال بعد، 2012ء
    بچوں کی کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پہلا تارا،
    ۔ (2)پہلی کرن،
    ۔ (3)چمپکا،
    ۔ (4)میری امی،
    ۔ (5)پیاری ماں،
    ۔ (6)الٹا گھوڑا،
    ۔ (7)قاضی جی کا اچار،
    ۔ (8)پہلی گنتی،
    ۔ (9)بندر کی الف ب،
    ۔ (10)چوری چوری چپکے چپکے،
    ۔ (11)کمال کا آدمی
    ۔ (12)نٹ کھٹ لڑکا (شاعری).
    تمام کتب سنگ میل پبلی کیشنز نے شائع کی ہیں۔
    ادبی کتب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)کتب خانہ
    ۔ (2)اردو کا حال 2012ء
    ۔ (3)اپنی آواز(افسانے)
    ۔ (4)جان صاحب(افسانے)
    ۔ (5)حضرت علی کی تقریریں
    ۔ (5)جانے پہچانے
    ۔ (6)ملکہ وکٹوریا اور منشی عبد الکریم
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن لاہور۔2012ء
    ۔ (7)نغمہ گر (برصغیر کے نغموں کی تاریخ)
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔
    ۔ (8)پہلا سفر (1982 کے پہلے
    ۔ پاک بھارت سفر کی روداد
    ۔ جون 2011ء میں
    ۔ آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس)
    ۔ (9)ریڈیو کے دن
    ۔ (ذاتی یادشتیں – 2012ء
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن لاہور)
    ۔ (10)اخبار کی راتیں
    ۔ (2014ء سنگ میل پبلی کیشن لاہور)
    ۔ (11)کتابیں اپنے آباء کی
    ۔ (انیسویں صدی کی اردو کتب)
    ۔ سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔
    ۔ (12)تیس سال بعد
    ۔ (پہلا پاک بھارت سفر+
    ۔ ہمارے کتب خانے، ایک ساتھ)
    ۔ (13)پرانے ٹھگ
    ۔ (انیسویں صدی کے ٹھگوں کی مختصر تاریخ)
    ۔ 2013ء، سنگ میل پبلی کیشن، لاہور۔

  • یوم ولادت، علی سردار جعفری،معروف ترقی پسند شاعر

    یوم ولادت، علی سردار جعفری،معروف ترقی پسند شاعر

    یوم ولادت، علی سردار جعفری

    شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
    سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

    پیدائش: 29 نومبر 1913ء
    وفات:01 اگست2000ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علی سردار جعفری کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مختصر سفرنامہ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود ان کی زبانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    علی سردار جعفری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر پر بہار کے ایک مولوی صاحب نے اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم دی۔ وہ رات کو قصص الانبیاء سناتے تھے۔ ایک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے مسلم یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا۔
    پیدائش:بلرام پور (ضلع گونڈہ، اودھ) 29نومبر 1913ء
    نام:
    ۔۔۔۔۔
    علی سردار، نام کا سجع والد کے ایک دوست نے کہا؛بجائے احمد مرسل ہوئے علی سردار
    میرا نام اس اعتبار سے غیر معمولی ہے کہ آج تک اس نام کا دوسرا آدمی نہیں ملا۔ ہاں سردار علی نام کسی قدر عام ہے۔ حافظ شیرازی کے ایک قصیدے میں علی سردار اس طرح استعمال ہوا ہے کہ میرے نام کا سجع بن جاتا ہے۔ میرے والد کےکتب خانے میں جو نسخہ تھا اس میں یہ قصیدہ شامل تھا۔ اس زمانے میں مولانا قاضی سجادحسین صاحب نے نئی دہلی سے جو نسخہ ترجمہ کے ساتھ شائع کیا ہے اس میں یہ قصیدہ شامل ہے۔ میرے نام کا شعر یوں ہے
    علی امام و علی ایمن و علی ایمان
    علی امین و علی سرور و علی سردار
    معلوم نہیں یہ شعر میرے والد کی نظر میں تھا یا نہیں لیکن ہم قافیہ نام میرے ایک چچا زاد بھائی کا تھا جو عمر میں مجھ سے چند سال بڑے تھے، علی جرار، میرے والد اور چچا کے نام بھی اسی طرح غیر معمولی تھے۔ سید جعفر طیار جعفری، سید حیدرکرار جعفری، سید احمد مختار جعفری، معلوم نہیں میرے بڑے بھائی ظفر عباس کا نام ان قافیوں سے الگ کیوں تھا۔ میں نے اپنے بچپن کی ایک رباعی میں ان ناموں کو یکجا کر لیا ہے
    نور نظر احمد مختار ہوں میں
    لخت جگر حیدر کرار ہوں میں
    ہیں فتح و ظفر قوت بازو سردار
    یعنی میر جعفر طیار ہوں میں
    میرے والد اور چچا کے ناموں کے متعلق ایک لطیفہ مشہور ہے۔ کسی نے میرے دادا سے پوچھا؛
    ’مہدی حسن!تم نے اپنے بیٹوں کے نام جعفر طیار، حیدر کرار اور احمد مختار رکھے ہیں۔ اب چوتھا بیٹا ہوگا تو کیا نام رکھو گے؟‘
    میرے دادا نے برجستہ کہا؛پاک پروردگار!‘
    والد کے ایک دوست فرخ بھیا نے میری پیدائش پر ایک شعر کہا تھا ؛
    دیا حق نے جعفر کو ثانی پسر
    مبارک، خوش اقبال، پیدا ہوا
    تعلیم:
    ۔۔۔۔۔
    سب سے پہلے گھر پر بہار کے ایک مولوی صاحب نے اردو، فارسی اور قرآن کی تعلیم دی۔ وہ رات کو قصص الانبیاء سناتے تھے۔ اس کے بعد دینی تعلیم کے لیے سلطان المدارس لکھنؤ بھیج دیا گیا، وہاں جی نہیں لگا۔ ایک مولوی صاحب کے گھر قیام تھا۔ وہاں بھی جی نہیں لگا اور میں فرار ہو کر بلرام پور واپس چلا گیا۔ بلرام پور کے انگریزی اسکول لائل کالجیٹ ہائی اسکول میں داخلہ لیا۔ کھلی فضا تھی، اچھے استاد تھے، ہم عمر لڑکوں سے دوستیاں تھیں۔ صبح ناشتہ کر کے گھر سے اسکول جانا اور شام کو چار بجے پھر واپس آکر ناشتہ کرنا، اور میل ڈیڑھ میل دور ایک پریڈ گراؤنڈ میں پیدل جا کر دو گھنٹے کرکٹ، ہاکی کھیلنا روز کا معمول تھا۔
    اسی زمانے میں انیسؔ کے زیر اثر شاعر شروع کی۔ 1933ء میں بیس سال کی عمر میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کر کے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں داخلہ لیا۔ (ابتدائی تعلیم کے چند سال ضائع ہوگئے تھے)
    یہ ایک طوفانی زمانہ تھا جب تحریک آزادی اپنے شباپ پر تھی۔ اس عہد کے علی گڑھ نے اردو زبان کو اختر حسین رائے پوری، سبط حسن، منٹو، مجاز، جاں نثار اختر، جذبی، خواجہ احمد عباس، جلیل قدوائی، اختر انصاری، شکیل بدایونی، عصمت چغتائی اور 1940ء کے آس پاس اخترالایمان کا تحفہ دیا۔ وہاں خواجہ منظور حسین، ڈاکٹر عبدالعلیم، ڈاکٹر رشید جہاں، ڈاکٹر محمد اشرف وغیرہ سے تعارف ہوا اور جن کی صحبت اور فیض نے ذوق ادب اور آزادی کے جذبے کو جلا عطا کی۔ جدیدعہد کے اردو ادب میں تقریباً 75 فیصد علی گڑھ اور ترقی پسند تحریک کی عطا ہے۔
    دوستی کا ہاتھ
    ۔۔۔۔۔
    ایک ہڑتال میں حصہ لینے کی وجہ سے مسلم یونیورسٹی کو خیر باد کہنا پڑا اور دہلی جا کر اینگلو عربک کالج میں داخلہ لیا۔ یہ وہ تاریخی کالج تھا جو دہلی کالج کے نام سے ایک بڑا تعلیمی کردار ادا کرچکا تھا۔و ہاں داخلہ دلوانے میں جلیل قدوائی اور اختر انصاری نے مدد کی۔ اس واقعہ کے پچاس سال بعد 1986ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے ڈی لٹ (D.Litt.) کی اعزازی ڈگری سے عزت افزائی کی۔ یہ میرے لیے اس اعتبار سے بہت بڑا اعزاز تھا کہ مجھ سے پہلے اعزازی ڈگری شعراء کی فہرست میں علامہ اقبال، مسز سروجنی نائیڈو اور حضرت جگر مرادآبادی کو عطا کی گئی تھی۔
    جواہر لال نہرو سے اسی زمانے میں ملاقات ہوئی اور ملاقات کا یہ شرف آخر دن تک قائم رہا۔ ان کے انتقال سے دو ماہ قبل تین مورتی ہاؤس میں اندرا گاندھی نے ایک چھوٹا سا مشاعرہ پنڈت جی کی تفریح طبع کے لیے کیا تھا، جس میں فراقؔ، سکندر علی وجدؔ اور مخدوم محی الدین بھی شامل تھے۔ میں نے اپنی نظم “میرا سفر” فرمائش پر سنائی تھی۔
    دہلی سے بی۔ اے کرنے کے بعد میں لکھنؤ آ گیا۔ پہلے مجازؔ کے ساتھ قانون کی تعلیم کے لیے ایل۔ ایل۔ بی میں داخلہ لیا۔ ایک سال بعد اس کو چھوڑ کر انگریزی ادب کی تعلیم کے لیے ایم۔ اے میں داخلہ لیا۔ لیکن آخری سال کے امتحان سے پہلے جنگ کی مخالفت اور انقلابی شاعری کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا اور لکھنؤ ڈسٹرکٹ جیل اور بنارس سنٹرل جیل میں تقریباً آٹھ ماہ قید رہا اور پھر بلرام پور اپنے وطن میں نظر بند کر دیا گیا۔ یہ نظر بندی دسمبر 1941ء میں ختم ہوئی۔
    لکھنؤ میں سجاد ظہیر، ڈاکٹر احمد وغیرہ کی صحبت رہی۔ وہیں پہلی بار ڈاکٹر ملک راج آنند سے ملاقات ہوئی۔ 1938ء میں کلکتہ میں ترقی پسند مصنفین کی دوسری کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر شانتی نکیتن جا کر ٹیگور سے ملاقات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہیں بلراج ساہنی سے ملاقات ہوئی جو ہندی پڑھاتے تھے۔
    1941ء میں لکھنؤ ریڈیو نے ایک مشاعرہ منعقد کیا جو سارے ہندوستان میں بڑے ذوق و شوق سے سنا گیا۔ اس کا نام تھا “نووارد شعراء کا مشاعرہ”جوشؔ نے صدارت کی لیکن کلام نہیں سنایا۔ فیضؔ، مجازؔ، جذبیؔ اور جاں نثار اختر نے میرے ساتھ اس مشاعرے میں شرکت کی۔ ن۔ م۔ راشد کسی وجہ سے نہیں آ سکے۔ یہ نئی ترقی پسند اردو شاعری کے سات سیارے تھے جن کی تاب ناک گردش کا نغمہ آج بھی گونج رہا ہے۔ اخترالایمان نے اس کے بعد شاعری شروع کی۔ لیکن ساحرؔ اور مجروحؔ بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے۔ سکندر علی وجدؔ ہمارے احباب میں تھے لیکن حیدرآباد کی سول سروس کی وجہ سے اس طرح کے مشاعروں میں میں شریک نہیں ہوتے تھے۔ ان کی دو نظمیں اجنتا اور ایلورا اردو شاعری کے شاہ کاروں میں شمار کی جاتی ہیں۔ جوشؔ، جگرؔ، فانیؔ، اصغرؔ، یگانہؔ، حسرتؔ موہانی کی شاعری کے ڈنکے بج رہے تھے۔فراقؔ کا شمار ابھی بڑے شاعروں میں نہیں ہوا تھا۔ وہ عمر میں جوشؔ اور جگرؔ کے ہم عصر تھے لیکن شاعری میں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر عروج حاصل کیا۔ ان کی زیادہ شہرت 1947ء کے بعد ہوئی۔ ویسے ان کا شمار بہت اچھے شعراء میں پہلے سے تھا۔
    1943ء میں بمبئی آنا ہوا۔ سجاد ظہیر کے ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے ہفتہ وار اخبار’قومی جنگ‘میں صحافتی فرائض انجام دیتا رہا۔ اس محفل میں بعد کو سبط حسن، مجازؔ، کیفیؔ، محمد مہدیؔ وغیرہ شامل ہوئے۔ آہستہ آہستہ بمبئی اردو ادب کا مرکز بن گیا۔ 1949ء کے بعد بمبئی میں جوشؔ، ساغر نظامی، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، میراجی، اخترالایمان، سجاد ظہیر، ساحرؔ، کیفیؔ، مجروحؔ، حمید اختر اور بہت سارے سربرآوردہ ادیب جمع ہوگئے۔ اس زمانے کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے ادبی اجلاس نے پوری اردو دنیا میں ایک دھوم مچا رکھی تھی۔ باہر سے آنے والے ادیب ان اجلاسوں میں بڑی مسرت سے شریک ہوتے تھے۔ پطرس بخاری سے میری ملاقات پہلی بار بمبئی میں ہوئی۔ ان کے بھائی ذوالفقار بخاری ریڈیو کے ڈائریکٹر تھے اور ان سے بہت اچھے مراسم تھے۔ میری طویل تمثیلی نظم ’نئی دنیا کو سلام‘ اسی دور کی تخلیق ہے۔ ذوالفقار بخاری اس نظم کو ریڈیو پر ڈرامے کے انداز سے پیش کرنا چاہتے تھے لیکن ملک کی تقسیم کے ساتھ وہ یہاں سے چلے گئے۔
    اس عہد کی عظیم فلمی شخصیتیں ہمارے حلقۂ احباب میں شامل تھیں مثلاً کے ایل سہگل، پرتھوی راج کپور، کے این سگھ وغیرہ۔ بعد کو راج کپور، نرگس اور دوسرے فلمی ستارے اس دائرے میں آ گئے۔ کیا ان کی خوبصورت داستانیں لکھنے کا موقع آئے گا۔ یہ سب کے سب ترقی پسند ادب کے دلدادہ تھے۔
    اودے شنکر کا گروپ جب الموڑہ میں ختم ہو گیا تو اس کے فنکار بمبئی آ گئے اور انڈین پیوپلس تھیٹر میں شریک ہوگئے۔ اودے شنکر نے بمبئی آ کر رقص کے ذریعے سے رامائن کا ایک پروگرام مزدوروں کے لیے پردے پر پرچھائیاں کی شکل میں پیش کیا۔ ان کے بھائی روی شنکر نے ’سارے جہاں سے اچھا‘کی دھن بنائی، جو اب اس ترانے کی دھن ہے۔
    اس خوبصورت دور پر پھر کبھی تفصیل سے لکھا جائے گا۔
    1949ء میں جو ہندوستانی سیاست کا ہیجانی دور تھا اور کمیونسٹ پارٹی کی انتہا پسندی اپنے شباب پر تھی، حکومت ہند کی طرف سے پارٹی پر پابندی عاید کر دی گئی۔ پورے ملک میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ میں بمبئی میں دوبار گرفتار کیا گیا۔ پہلی بار پندرہ دن کے لیے۔ دوسری بار ڈیڑھ سال کے لیے۔ یہ زمانہ بمبئی کے آرتھر روڈ جیل اور ناسک کی سنٹرل جیل میں گزرا۔ 1950ء میں یکایک رہا کر دیا گیا۔ وہ عید کی شام تھی۔ دوسرے دن صبح ہی صبح بمبئی آ کر گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ عیدکا دن تھا۔
    ادبی تخلیقات:
    ۔۔۔۔۔
    نظم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)پرواز (مجموعہ)
    ۔ ـ1943ء
    ۔ ـ(2)نئی دنیا کو سلام
    ۔ ـ(طویل تمثیلی نظم) 1948ء
    ۔ ـ(3)خون کی لکیر
    ۔ ـ(مجموعہ “پرواز” کے انتخاب کے ساتھ)
    ۔ ـ1949ء
    ۔ ـ(4)امن کا ستارہ
    ۔ ـ(دو طویل نظمیں)
    ۔ ـ1950ء
    ۔ ـ(5)ایشیاء جاگ اٹھا
    ۔ ـ(طویل نظم)
    ۔ ـ1951ء
    ۔ ـ(6)پتھر کی دیوار (مجموعہ)
    ۔ ـ1953ء
    ۔ ـ(7)ایک خواب اور (مجموعہ)
    ۔ ـ1964ء
    ۔ ـ(8)پیراہن شرر (مجموعہ)
    ۔ ـ1965ء
    ۔ ـ(9)لہو پکارتا ہے-(مجموعہ)
    ۔ ـ1968ء
    نثر
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)منزل (افسانے)
    ۔ ـ1938ء
    ۔ ـ(2)یہ خون کس کا ہے
    ۔ ـ(ڈرامہ) 1943ء
    ۔ ـ(3)پیکار (ڈرامہ)
    ۔ ـ1944ء
    ۔ ـ(4)ترقی پسند ادب
    ۔ ـ1953ء
    ۔ ـ(5)لکھنؤ کی پانچ راتیں
    ۔ ـ1965ء
    ۔ ـ(6)اقبال شناسی
    ۔ ـ1969ء
    ۔ ـ(7)پیغمبران سخن
    ۔ ـ(کبیرؔ، میرؔ، غالبؔ)
    ۔ ـ(8)ترقی پسند ادب کی نصف صدی
    ۔ ـ(نظام اردو خطبات
    ۔ ـدہلی یونی ورسٹی 1984ء)
    فنی تخلیقات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)بولو اے سنت کبیر
    ۔ ـڈاکومنٹری فلم کا مسودہ)
    ۔ ـڈائریکٹر خواجہ احمد عباس
    ۔ ـ(2)ہندوستان ہمارا
    ۔ ـ(ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ
    ۔ ـتہذیب پر ڈاکومنٹری فلم کا مسودہ)
    ۔ ـڈائریکٹر خواجہ احمد عباس
    ۔ ـ(3)لٹریری اسٹارم
    ۔ ـ(The Literary Storm)
    ۔ ـانگریزی میں ڈاکومنٹر ی فلم
    ۔ ـموضوع تحریک آزادی میں
    ۔ ـادب کا حصہ مسودہ اور ڈائریکشن
    ۔ ـ1857ء سے 1947ء
    ۔ ـآسامی۔ بنگالی، اڑیہ، ہندی، اردو
    ۔ ـاور انگریزی ادب کا کارنامہ
    ۔ ـ(تین حصوں میں:
    ۔ ـ1857ء سے 1905ء تک
    ۔ ـ1905ء سے 1920ء تک
    ۔ ـ1920ء سے 1947ء تک)
    ۔ ـ(4)ٹیلی ویژن سیریل کہکشاں:
    ۔ ـجدید اردو شعراء کی زندگی اور شاعری:
    ۔ ـحسرتؔ، موہانیؔ، جگرؔ مرادآبادی
    ۔ ـجوشؔ ملیح آبادی، فراقؔ گورکھپوری
    ۔ ـاسرارالحق مجازؔ اور مخدوم محی الدین
    ۔ ـ(ڈائریکٹر جلال آغا)
    ۔ ـتحریر و تہذیب سردار جعفری)
    ۔ ـ(5)روشنی اور آواز:
    ۔ ـلال قلعہ، شاہجہاں سے
    ۔ ـہندوستان کی آزادی تک۔
    ۔ ـ(6)روشنی اور آواز:
    ۔ ـشالیمار باغ سری نگر، جہانگیر
    ۔ ـاور نورجہاں سے آج کے عہد تک
    ۔ ـاس باغ میں لیلیٰ مجنوں کی
    ۔ ـکہانی پھولوں اور پودوں کی
    ۔ ـزبانی کہی گئی ہے۔
    ۔ ـباغ میں بہتی ہوئی نہر
    ۔ ـوقت کا استعارہ ہے۔
    ۔ ـپانی پر تیرتے ہوئے پھول
    ۔ ـلیلیٰ کا استعارہ ہیں
    ۔ ـاور نہر پر دونوں طرف سے
    ۔ ـجھکی ہوئی بید مجنوں
    ۔ ـکی شاخیں پھولوں کو
    ۔ ـچھو نہیں سکتیں
    ۔ ـمجنوں کا استعارہ ہیں۔
    ۔ ـنہر کے دونوں طرف
    ۔ ـکیاریوں میں لیموں اور
    ۔ ـسنترے کے دودو پودے
    ۔ ـجنت میں لیلیٰ مجنوں کی
    ۔ ـیکجائی کی علامت ہیں۔
    ۔ ـناقہ لیلیٰ کی علامت اب
    ۔ ـباقی نہیں رہ گئی ہے۔
    ۔ ـیہ علامت سبز گھاس کے
    ۔ ـقطعات پر ٹیبلوں کی شکل
    ۔ ـمیں تھی جن پر
    ۔ ـگلاب کی بیلیں
    ۔ ـچڑھی ہوئی تھیں۔
    ۔ ـکشمیری کہانی بھونرا
    ۔ ـاور نرگس تحریک آزادی کی
    ۔ ـکہانی سناتی ہے جس میں
    ۔ ـبھونرا مجاہد کی علامت ہے
    ۔ ـاور نرگس (محبوبہ)
    ۔ ـآزادی کی علامت۔
    ۔ ـجاڑوں کی برف پگھل
    ۔ ـجانے کے بعد جب زنبور
    ۔ ـبہار گنگناتا ہوا
    ۔ ـنرگس سے ہم آغوش
    ۔ ـہوجاتا ہے تو آزادی
    ۔ ـکی بہار آجاتی ہے۔
    ۔ ـتین رنگ کے کشمیری
    ۔ ـکنول کے پھول برہما
    ۔ ـوشنو اور شیو کی علامت
    ۔ ـکے طور پر استعمال کیے گئے ہیں
    ۔ ـسرخ کنول صبح ازل کا طلوع
    ۔ ـآفتاب ہے۔
    ۔ ـنیلا کنول کائنات کی
    ۔ ـدوپہر ہے اور سفید کنول
    ۔ ـموت کی علامت ہے
    ۔ ـجو تجدید حیات کی
    ۔ ـآئینہ دار ہے۔
    روشنی اور آواز:
    ۔ ـتین مورتی نواس
    ۔ ـجواہر لال نہرو کی
    ۔ ـآزادی کے بعد کی کہانی ہے۔
    سابرمتی آشرم:مہاتما گاندھی کی کہانی ہے جو ڈانڈی مارچ اور نمک ستیہ گرہ پر پہنچ کر ختم ہوجاتی ہے کیوں کہ اس کے بعد گاندھی جی احمد آباد سے منتقل ہوگئے۔
    اکابرین عالم جن سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ملاقات کا شرف حاصل ہوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1-ٹیگور، 2- مہاتما گاندھی، 3- جواہر لال نہرو، 4- مولانا ابوالکلام آزاد، 5- ستیہ جیت رے، 6- پابلو نرودا، 7- ناظم حکمت، 8- اہالیہ اہرن،؟؟ 9- شالوخوف، 10- پاستر ناک، 11- فرانسیسی شاعر لوئی آراگون، 12- جیولیوکیوری (سائنس)، 13- خروشچیوف، 14- پال روبسن۔
    میرا سفر
    ۔۔۔۔۔۔
    سیروسیاحت
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان، تاجسکتان، ازبکستان، آذربائجان، روس، سائی بیریا، عراق، یمن، مصر، یونان، بلغاریہ، برلن، (مشرقی)برلن (مغربی) فرانس، چیکوسلواکیہ، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، فن لینڈ، انگلستان، امریکہ اور کنیڈا۔
    اعزاز و اکرام
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)سوویت لینڈ نہرو ایوارڈ
    ۔ ـ (شعری مجموعہ ایک خواب اور)
    ۔ ـ(2)پدم شری
    ۔ ـ (صدر مملکت، ڈاکٹر رادھا کرشنن)
    ۔ ـ شاعری کے لیے 1967ء
    ۔ ـ(3)جواہر لال نہرو فیلوشپ
    ۔ ـ 1968-1969ء
    ۔ ـ(4)سجاد ظہیر ایوارڈ
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ نہرو کلچرل ایسوسی ایشن
    ۔ ـ لکھنؤ 1974ء
    ۔ ـ(5)اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ ـ (اقبال شناسی کے لیے)
    ۔ ـ 1977ء
    ۔ ـ(6)اقبال امیڈل
    ۔ ـ (تمغہ امتیاز)حکومت پاکستان
    ۔ ـ 1978ء
    ۔ ـ(7)اترپردیش اردو اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ ـ (شعری مجموعہ لہو پکارتا ہے)
    ۔ ـ 1979ء
    ۔ ـ(8)مخدوم ایوارڈ
    ۔ ـ آندھرا پردیش اردو اکیڈمی
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1980ء
    ۔ ـ(9)میر تقی میرؔ ایوارڈ
    ۔ ـ مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی، بھوپال
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1982ء
    ۔ ـ(10)کمارن آشن ایوارڈ
    ۔ ـ (ملیائی زبان کی طرف سے)
    ۔ ـ تریونڈرم (طویل نغمہ
    ۔ ـ ایشیا جاگ اٹھا کے لیے)
    ۔ ـ 1982ء
    ۔ ـ(11)خصوصی تمغہ ماسکو
    ۔ ـ (ستر سالہ جشن پیدائش پر)
    ۔ ـ 1984ء
    ۔ ـ(12)اقبال سمان
    ۔ ـ مدھیہ پردیش حکومت
    ۔ ـ بھوپال کی طرف سے
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1986ء
    ۔ ـ(13)ڈی لٹ
    ۔ ـ (اعزازی دکتور ادب)
    ۔ ـ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
    ۔ ـ 1986ء
    ۔ ـ(14)بین الاقوامی اردو انعام
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ اکیڈمی آف اردو لٹریچر
    ۔ ـ ٹورنٹو، کنیڈا 1988ء
    ۔ ـ(15)گنگا دھر مہر ایوارڈ
    ۔ ـ سمبل پور یونی ورسٹی
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1992ء
    ۔ ـ(16)میر ایوارڈ
    ۔ ـ میرؔ اکیڈمی لکھنؤ
    ۔ ـ (شاعری کے لیے)
    ۔ ـ 1993ء
    ۔ ـ(17)مولانا آزاد ایوارڈ
    ۔ ـ اترپردیش اردو اکیڈمی
    ۔ ـ لکھنؤ 1994ء
    ۔ ـ(18)خصوصی Emiritus
    ۔ ـ فیلوشپ ڈپارٹمنٹ آف کلچر
    ۔ ـ حکومت ہند، نئی دہلی
    ۔ ـ(19)ظ۔ انصاری ایوارڈ
    ۔ ـ مہاراشٹر ریاست اردو اکیڈمی
    ۔ ـ 1995ء
    ۔ ـ(20)گیان پیٹھ ایوارڈ
    ۔ ـ 1997ء
    اعزاز و اکرام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ ـ(1)ممبر سینیٹ
    ۔ ـ ( Member of
    ۔ ـ the Senate)
    ۔ ـ بمبئی یونی ورسٹی ( 2 بار)
    ۔ ـ(2)پروڈیوسر ایمرٹیس
    ۔ ـ ریڈیو اور ٹیلی ویژن
    ۔ ـ 1980ء سے 1985ء تک
    ۔ ـ(3)صدر کل ہند انجمن ترقی پسند
    ۔ ـ مصنفین (اردو)
    ۔ ـ 1977ء سے
    ۔ ـ ستمبر 1990ء تک
    ۔ ـ(4)جنرل سکریٹری
    ۔ ـ کل ہند صد سالہ
    ۔ ـ جشن اقبال کمیٹی 1970ء
    ۔ ـ(5)وزیٹنگ پروفیسر
    ۔ ـ جموں یونی ورسٹی
    ۔ ـ اکتوبر سے
    ۔ ـ دسمبر 1983ء تک
    ۔ ـ(6)صدر کمیٹی
    ۔ ـ برائے جائزہ سفارشات
    ۔ ـ گجرال کمیشن (اردو)
    ۔ ـ مارچ سے
    ۔ ـ ستمبر 1990ء تک
    ۔ ـ(7)نائب صدر
    ۔ ـ مہاراشٹر اردو اکیڈمی،بمبئی
    ۔ ـ جنوری 1994ء تک
    ۔ ـ(8)صدر،فلم رائٹرس
    ۔ ـ ایسوسی ایشن، بمبئی
    ۔ ـ 1992ء سے 1993ء
    ۔ ـ(9)کورٹ ممبر
    ۔ ـ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی
    ۔ ـ(10)ٹرسٹی، نیشنل بک ٹرسٹ
    ۔ ـ (ہند)، نئی دہلی
    سجع
    ۔۔۔۔۔
    (تضمین بر شعر حافظ شیرازی)
    مجھے ہے بلبل شیراز سے جو نسبت خاص
    عطا ہوا ہے نہ ہوگا کسی کو بھی یہ وقار
    ہر ایک لفظ ہے پروردگار موسم گل
    ہر ایک حرف ہے گہوارہ نسیم بہار
    صریر خانہ معجز رقم نوائے سروش
    سرود خامشی گلبانگ گلشن اسرار
    ہے شعر حافظؔ شیریں بھی سخن ترانہ جاں
    ہے جس میں اسم علی مثل گوہر شہوار
    “علی امام و علی ایمن و علی ایماں
    علی امین و علی سرور و علی سردار”
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (بہ شکریہ ؛سردار کی نادر تحریریں،مرتبہ ،ڈاکٹر محمد فیروز،ساقی بک ڈپو ،دہلی،2008)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اک صبح ہے جو ہوئی نہیں ہے
    اک رات ہے جو کٹی نہیں ہے
    مقتولوں کا قحط پڑ نہ جائے
    قاتل کی کہیں کمی نہیں ہے
    ویرانوں سے آ رہی ہے آواز
    تخلیق جنوں رکی نہیں ہے
    ہے اور ہی کاروبار مستی
    جی لینا تو زندگی نہیں ہے
    ساقی سے جو جام لے نہ بڑھ کر
    وہ تشنگی تشنگی نہیں ہے
    عاشق کشی و فریب کاری
    یہ شیوۂ دلبری نہیں ہے
    بھوکوں کی نگاہ میں ہے بجلی
    یہ برق ابھی گری نہیں ہے
    دل میں جو جلائی تھی کسی نے
    وہ شمع طرب بجھی نہیں ہے
    اک دھوپ سی ہے جو زیر مژگاں
    وہ آنکھ ابھی اٹھی نہیں ہے
    ہیں کام بہت ابھی کہ دنیا
    شائستۂ آدمی نہیں ہے
    ہر رنگ کے آ چکے ہیں فرعون
    لیکن یہ جبیں جھکی نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
    راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا
    باعث رشک ہے تنہا رویٔ رہ رو شوق
    ہم سفر کوئی نہیں دورئ منزل کے سوا
    ہم نے دنیا کی ہر اک شے سے اٹھایا دل کو
    لیکن ایک شوخ کے ہنگامۂ محفل کے سوا
    تیغ منصف ہو جہاں دار و رسن ہوں شاہد
    بے گنہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا
    جانے کس رنگ سے آئی ہے گلستاں میں بہار
    کوئی نغمہ ہی نہیں شور سلاسل کے سوا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔
    کام اب کوئی نہ آئے گا بس اک دل کے سوا
    راستے بند ہیں سب کوچۂ قاتل کے سوا

    انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو
    بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں

    سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
    ہم کو آوارگی ہی راس آئی

    دامن جھٹک کے وادئ غم سے گزر گیا
    اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے

    پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
    نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے

    یہ کس نے فون پے دی سال نو کی تہنیت مجھ کو
    تمنا رقص کرتی ہے تخیل گنگناتا ہے

    شکایتیں بھی بہت ہیں حکایتیں بھی بہت
    مزا تو جب ہے کہ یاروں کے رو بہ رو کہیے

    اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میری
    کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نے

    بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے
    وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا

    مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
    دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے

    یہ مے کدہ ہے یہاں ہیں گناہ جام بدست
    وہ مدرسہ ہے وہ مسجد وہاں ملے گا ثواب

    تو وہ بہار جو اپنے چمن میں آوارہ
    میں وہ چمن جو بہاراں کے انتظار میں ہے

    اسی دنیا میں دکھا دیں تمہیں جنت کی بہار
    شیخ جی تم بھی ذرا کوئے بتاں تک آؤ

    پھوٹنے والی ہے مزدور کے ماتھے سے کرن
    سرخ پرچم افق صبح پہ لہراتے ہیں

    شب کے سناٹے میں یہ کس کا لہو گاتا ہے
    سرحد درد سے یہ کس کی صدا آتی ہے

    کمی کمی سی تھی کچھ رنگ و بوئے گلشن میں
    لب بہار سے نکلی ہوئی دعا تم ہو

    پیاس جہاں کی ایک بیاباں تیری سخاوت شبنم ہے
    پی کے اٹھا جو بزم سے تیری اور بھی تشنہ کام اٹھا

    یہ تیرا گلستاں تیرا چمن کب میری نوا کے قابل ہے
    نغمہ مرا اپنے دامن میں آپ اپنا گلستاں لاتا ہے

    دل و نظر کو ابھی تک وہ دے رہے ہیں فریب
    تصورات کہن کے قدیم بت خانے

    پرتو سے جس کے عالم امکاں بہار ہے
    وہ نو بہار ناز ابھی رہ گزر میں ہے

  • یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    یوم وفات،مامونی رائسم گوسوامی

    پیدائش:14 نومبر 1942ء
    گوہاٹی، آسام
    برطانوی ہند کے صوبے اور علاقے
    وفات:29 نومبر 2011ء
    گوہاٹی، آسام، بھارت
    قلمی نام:مامونی رائسم گوسوامی
    پیشہ:سماجی کارکن، مصنفہ، ادیبہ، شاعرہ
    قومیت:بھارتی
    دور:1956ء-2011ء
    اصناف:آسامی ادب
    موضوع:Plight of the
    ۔ dispossessed in
    ۔ بھارت
    ۔ and abroad
    نمایاں کام:The Moth Eaten
    ۔ Howdah of a Tusker
    ۔ The Man from Chinnamasta
    ۔ Pages Stained With Blood
    شریک حیات:مادھون رائسم ائینگار (متوفی)

    مامونی رایسم گوسوامی ایک آسامی مصنفہ، شاعرہ، پروفیسر اور لکھاری تھیں۔ انھیں 1983ء میں ساہتیہ اکیڈمی اعزاز، 2001ء میں گیان پیٹھ انعام اور پرنسپل پرنس کلاوس لاوریٹ انعام، 2008ء سے نوازا جا چکا ہے۔ وہ عصر حاضر کی مشہور ادیبہ ہیں جن کی کئی کتابیں آسامی سے انگریزی میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔
    اپنی ادبی دنیا کے علاوہ وہ سماجی تبدیلی کے لیے بھی مشہور ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریروں میں سماجی آزادی اور سماجی تبدیلی کی بات کی ہے اور آزاد آسام اور حکومت ہند کے مابین ثالثی بن کر صلح و امن کی خوب کوششیں کیں۔ ان کی کوششوں کی وجہ سے ایک گروپ بنام پپلز کنسلٹیٹو گروپ بنا۔ وہ خود کو امن کی متلاشی مانتی تھیں۔ ان کی تحریروں کو کئی اسٹیج اور ناٹک میں دکھایا گیا ہے۔ ایک فلم اداجیہ ان کی ناول پر بنی ہے۔ اور اسے بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا ہے۔ ان کی زندگی پر ایک فلم بنی جس کا نام ورڈس فروم دی مسٹ ہے اور جسے جہنو بروا کے ڈیریکٹ کیا ہے۔
    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اندرا گوسوامی کی ولادت گوہاٹی میں ہوئی۔ ان کے والد اومرکنٹ گوسوامی اور والدہ امبیکا دیوی ہیں۔ انتدائی تعلیم گوہاٹی میں حاصل کرنے کے بعد کوٹن کالج کوہاٹی سے آسامی ادب میں گریجویشن کیا اور وہیں سے اسی موضوع میں ماسٹر بھی کیا۔
    کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔
    1962ء میں ان کی پہلی کتاب ”چناکی موروم“ منظر عام پر آئی جو کہانیوں کا مجموعہ تھی اور اس وقت وہ طالبہ ہی تھی۔ آسام میں انہیں مامونی بائدیو کے نام سے جانتے ہیں۔ ان کی پہلی کتاب کے ناشر کیرتی ناتھ نے انہیں اپنے رسالہ میں لکھنے کے لیے دعوت دی اور اس وقت وہ محض 8 برس کی تھیں۔
    ذہنی دباؤ
    ۔۔۔۔۔۔
    بچپن ہی سے انہیں ذہنی دباو کا سامنا کرنا پڑا۔ اپنی خود نوشت سوانح عمری، دی ان فنشڈ آٹوبایوگرافی، میں انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے شیلونگ میں کئی بار اپنے گھر سے کودنے کی کوشش کی۔ متعدد خود کشی کے اقدام نے ان کی جوانی کی زندگی کو اجیرن بنا دیا۔ شادی کے محض 18 ماہ بعد ان کے کرناٹک نزاد شوہر کا کشمیر میں ایک سڑک حادثہ میں انتقال ہو گیا جس کے بعد انھوں نے نیند کی گولیاں لینی شروع کر دیں۔ اس کے بعد انہیں آسام لایا گیا اور انہوں نے درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا اور سینک اسکول، گوالپارا میں معلمہ ہو گئیں۔ یہاں نے انہوں پھر لکھنا شروع کیا لیکن اس بار ان کی تحریروں میں زندگی کے حادثات کی جھلک صاف دکھائی دیتی تھی بالخصوص شوہر کی وفات اور مدھیہ پردیش اور کشمیر میں زندگی گزارنے کا تجربہ ان پر کافی اثر کر چکا تھا۔
    ورانداون کی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گوالپارا میں تدریس کے بعد ان کے استاد نے انہیں ورنداون جانے کا مشورہ دیا تاکہ کچھ ذہنی سکون مل سکے۔ انہوں نے اپنی بیوگی کا تذکرہ اپنی ناول دی بلیو نیکیڈ بارجا، 1976ء میں کیا اور ورنداون کی دکھ بھری زندگی کا بھی نقشہ کھینچا ہے۔ ایک درندناک پہلو ورنداون کا یہ بھی ہے کہ جوان بیوہ عورتوں کو آشرم والے خوب ترجیح دیتے ہیں جبکہ بوڑھی عورتیں محروم رہ جاتی ہیں۔ ورانداون میں انہوں نے راماین کا مطالعہ شروع کیا تلسی داس کے راماین کا کثیر حصہ پڑھ ڈالا۔ تلسی داس کی راماین انہوں نے محض 11 روپیہ میں خریدی تھی۔
    دہلی یونیورسٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    قدہلی یونیورسٹی کے شعبہ بھارتی زبان وادب میں آسامی زبان کی پروفیسر ہو گئیں اور اس طرح اب ان کا مسکن دہلی ہو گیا۔ یہیں رہ کر اہوں نے اپنی شاہکار کتابیں لکھیں جن میں کئی افسانے جیسے ہری دوئے، ننگوتھ شوہور، بوروفور رانی شامل ہیں۔
    انہوں نے اپنی کتاب پیجیز سٹینڈ وتھ بلڈ میں سکھوں پر ہونے مظالم کو موضوع بنایا جب سابق وزیر اعظم بھارت اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سکھ مخالف فسادات کا ایک سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ گوسوامی اس وقت دہلی شکتی نگر، اترپردیش علاقہ میں قیام پزیر تھیں اور انہوں نے اپنی آنکھوں سے فسادات کا مشاہدہ کیا تھا۔
    کامیابی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1982ء میں انہیں ساہتیہ اکادمی اعزاز کے نوازا گیا۔ 2000ء میں گیان پیٹھ انعام سے سرفراز ہوئیں۔ گوسوامی کے ناول کے دو خاص موضوعات عورت اور آسامی سماج ہے مگر انہوں آسامی سماج میں ایک مرد کردار اختراع کیا جو اندرناتھ کا ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب دتال ہنتیر اونی ہودہ میں لکھا ہے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1972ء ۔ چیناور سروت
    ۔ (2)1976ء نیل کنٹھی براہ
    ۔ (3)1980ء اہیرون
    ۔ (4)1980ء میمور دھورا
    ۔ (5)1980ء بدھو ساگور دھوکھور گیشا
    ۔ (6)1988ء دتال ہتیر اونی کھوا ہودا
    ۔ (7)1989ء اودے بھانور چرترو
    ۔ (8)ننگوتھ سوہور
    خود نوشت سوانح
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)این ان فنشڈ آٹوبایوگرافی
    ۔ (آسامی زبان:আধা লেখা দস্তাবেজ)
    ۔ (2)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:দস্তাবেজ নতুন পৃষ্ঠা)
    ۔ (3)بایوگراگیز نیو پیجیز
    ۔ (آسامی زبان:অপ্সৰা গৃহ)
    افسانے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بیسٹ
    ۔ (2)دوارکا اینڈ ہز سن
    ۔ (3)دی جرنی
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پین اینڈ فلیش
    ۔ (2)پاکستان
    ۔ (3)اوڈے تو ا ہور
    غیر افسانوی ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راماین فروم گنگا ٹو برہم پتر، دہلی 1996ء
    ۔ (2)آن لائن
    ۔ (3)دی جنرل
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)1982ء- ساہتیہ اکیڈمی
    ۔ (2)1989ء- بھارت نرمان اعزاز
    ۔ (3)2000ء- گیان پیٹھ انعام
    ۔ (4)2002ء- پدم شری اعزاز
    ۔ (انہوں نے قبول کرنے سے منع کر دیا)
    ۔ (5)2007ء- اروناچل پردیش کی
    ۔ راجیو گاندھی یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (6)2008ء- اندرا گاندھی
    ۔ نیشنل اوپن یونیورسٹی کی جانب سے
    ۔ ڈی لیٹ کی اعزازی ڈگری
    ۔ (7)2008ء- ایشور چندر ودیاساگر
    ۔ گولڈ پلیٹ من جانب ایشیاٹک سوسائٹی
    ۔ (8)2009ء- آسام رتن
    ۔ ریاست آسام کا اعلیٰ ترین اعزاز۔

  • یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    یوم وفات، فیاض ہاشمی،معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار

    تو جو نہیں ہے تو کچھ بھی نہیں ہے
    یہ مانا کہ محفل جواں ہے حسیں ہے

    پیدائش:18 اگست 1920ء
    کولکاتا،برطانوی ہند
    وفات:29 نومبر 2011ء
    کراچی،پاکستان
    شہریت: پاکستان
    پیشہ:غنائی شاعر،نغمہ نگار

    فیاض ہاشمی ہند و پاک کے معروف اردو شاعر، فلمی نغمہ نگار اور مقالمہ نویس تھے۔
    حالات زندگی و فن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 18 اگست 1920ء کو کلکتہ، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم کلکتہ گرامر اسکول سے حاصل کی اور باقاعدہ ہومیو پیتھ ڈاکٹر بنے لیکن پریکٹس نہیں کی کیونکہ رجحان شاعری کی طرف تھا۔ وہ آٹھ زبانوں پر مکمل عبور رکھتے تھے۔ 1935ء میں فلمی دنیا سے وابستہ ہوگئے تھے۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی بہت شعر کہنے شروع کردیے تھے جس کی بنیاد پر کلکتہ میں ہونے والے مشاعروں میں انھیں کمسن شاعر کی حیثیت سے بطورِ خاص بلوایا جاتا تھا۔ انھوں نے فلمی گیتوں میں اُردو اور ہندی کی آمیزش سے ایک نیا انداز اپنایا جس کی وجہ سے ان کے گیتوں کو لازوال شہرت عطا ہوئی۔ فیاض ہاشمی کی شاعری کے علاوہ موسیقی میں بھی شُد بُد رکھتے تھے۔ ان کی اس منفرد اور قابلِ قدر خصوصیت کی بنا پر H.M.V نامی گراموفون کمپنی کے ڈائریکٹر بنا دیے گئے۔ اس کمپنی میں فیاض ہاشمی کی ملاقات ایک بہت بڑے موسیقار کمل داس گپتا سے ہوئی۔ ان دونوں کی جوڑی خوب نبھی اور بڑے لازوال گیت تخلیق ہوئے۔ فیاض ہاشمی کا نام ہندستان بھر میں ایک کم عمر گیت نگار کے طور پر پہچانا جانے لگا۔ کمل داس گپتا اور فیاض ہاشمی کی جوڑی نے جگ موہن، طلعت محمود، جونتھیکا رائے، پنکج ملک اور ہیمنت کمار جیسے بڑے گلوکاروں کو موسیقی کی دنیا میں متعارف کرایا اور بے پناہ شہرت کا حامل بنایا۔ ان گلوکاروں کے مشہورگیتوں میں تصویر تیری دل میرا بہلا نہ سکے گی، چودہویں منزل پہ ظالم آ گیا، اِک نیا انمول جیون مل گیا، یاد دلواتے ہیں وہ یوں میرا افسانہ مجھے، ہونٹوں سے گل فشاں ہیں وہ کے علاوہ طلعت محمود کی آواز میں بے شمار گیت اور غزلیں ہیں۔

    اسی طرح پنکج ملک یہ راتیں یہ موسم یہ ہنسنا ہنسانا، ہیمنت کمار کا بھلا تھا کتنا اپنا بچپن، جگ موہن کا یہ چاند نہیں تیری آرتی ہے، جوتھیکا رائے ان ہی کی وجہ سے بھجن کی شہزادی قرار پائیں۔ جوتھیکا رائے کا چپکے چپکے یوں ہنسنا کافی مشہور ہوا۔ 1948ء میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے۔ ان کی مطالبے پر گراموفون کمپنی نے ان کا ٹرانسفر لاہور کر دیا اور انہیں H.M.V لاہور کا ڈائریکٹر بنادیا۔ یہاں انہوں بے شمار فنکاروں کو اکٹھا کیا جن میں منور سلطانہ، فریدہ خانم، زینت بیگم، سائیں اختر حسین اور سائیں مرنا کے علاوہ اور بھی بہت سے فنکار تھے۔ 1956ء میں رائلٹی کی ادائیگی پر اختلاف کی بنا پر وہ کمپنی سے علاحدہ ہو گئے اور کراچی آ گئے لیکن 1960ء میں ایس ایم یوسف انہیں دوبارہ لاہور لے آئے اور وہ ان کے ادارے سے وابستہ ہو گئے۔ وہ پاکستان آئے تو انھوں نے گلوکاروں کے ساتھ ساتھ استاد حسیب خاں ببن کار، استاد فتح علی خان، استاد بڑے غلام علی خان، استاد مبارک علی خان، ماسٹر غیاث حسین اور استاد محمد شریف خان پونچھ والے کو بھی گراموفون کمپنی میں ملازمت دلوائی۔ شاعر حزیں قادری اور مشیر کاظمی بھی انہی کے توسط سے کمپنی سے وابستہ ہوئے۔ ریاض شاہد کو بڑا مکالمہ نگار بنانے میں فیاض ہاشمی کی معاونت شامل ہے۔
    ازدواجی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی نے تین شادیاں کیں، پہلی بیگم سے سات بچے ہیں، دوسری شادی اداکارہ کلاوتی سے کی جو مسلمان تھیں، ان سے ایک بیٹا تھا، تیسری بیگم سے چار بچے ہیں جو اپنی والدہ کے ساتھ امریکا میں مقیم ہیں۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    1944ء – راگ رنگ (شاعری)
    بطور نغمہ نگار مشہور فلمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سہیلی
    آشیانہ
    اولاد
    دل کے ٹکڑے
    سہاگن
    لاکھوں میں ایک
    زمانہ کیا کہے گا
    عید مبارک
    سویرا
    ہزار داستان
    ایسا بھی ہوتا ہے
    مشہور فلمی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو نہیں ہے توکچھ بھی نہیں ہے (گلوکار: ایس بی جون، فلم: سویرا)
    آج جانے کی ضد نہ کرو (گلوکار: حبیب ولی محمد، فلم: بادل اور بجلی)
    تصویر تیری دل مِرا بہلا نہ سکے گی (گلوکار: طلعت محمود)
    چلو اچھا ہوا تم بھول گئے (گلوکار: نورجہاں، فلم: لاکھوں میں ایک)
    گاڑی کو چلانا بابو (گلوکار: زبیدہ خانم، فلم: انوکھی)
    قصہ غم میں تیرا نام نہ آنے دیں گے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: داستان)
    یہ کاغذی پھول جیسے چہرے (گلوکار: مہدی حسن، فلم: دیور بھابی)
    نشان کوئی بھی نہ چھوڑا (گلوکار: مہدی حسن، فلم: نائلہ)
    لٹ الجھی سلجھا رے بالم (گلوکار: نورجہاں، فلم: سوال)
    ساتھی مجھے مل گیا (گلوکار: ناہید اختر، فلم: جاسوس)
    ہمیں کوئی غم نہیں تھا غمِ عاشقی سے پہلے (گلوکار: مہدی حسن / مالا، فلم: شب بخیر)
    رات سلونی آئی (گلوکار: ناہید نیازی، فلم: زمانہ کیا کہے گا)
    مشہور ملی نغمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں دی ہمیں آزادی کے دنیا ہوئی حیران، اے قائدِ اعظم تیرا احسان ہے احسان
    ہم لائے ہیں طوفان سے کشتی نکال کے
    سورج کرے سلام، چندا کرے سلام
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فیاض ہاشمی 29 نومبر، 2011ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پا گئے۔

    غزلیں
    ۔۔۔۔۔۔
    (1)
    مستوں کے جو اصول ہیں ان کو نبھا کے پی
    اک بوند بھی نہ کل کے لیے تو بچا کے پی
    کیوں کر رہا ہے کالی گھٹاؤں کے انتظار
    ان کی سیاہ زلف پہ نظریں جما کے پی
    چوری خدا سے جب نہیں بندوں سے کس لیے
    چھپنے میں کچھ مزا نہیں سب کو دکھا کے پی
    فیاضؔ تو نیا ہے نہ پی بات مان لے
    کڑوی بہت شراب ہے پانی ملا کے پی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نہ تم میرے نہ دل میرا نہ جان ناتواں میری
    تصور میں بھی آ سکتیں نہیں مجبوریاں میری
    نہ تم آئے نہ چین آیا نہ موت آئی شب وعدہ
    دل مضطر تھا میں تھا اور تھیں بے تابیاں میری
    عبث نادانیوں پر آپ اپنی ناز کرتے ہیں
    ابھی دیکھی کہاں ہیں آپ نے نادانیاں میری
    یہ منزل یہ حسیں منزل جوانی نام ہے جس کا
    یہاں سے اور آگے بڑھنا یہ عمر رواں میری

  • ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    نیازمگسی:
    ولیم بلیک:ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر ،جسے مغربی دنیا میں عزت کی نظرسے دیکھا جاتا ہے

    پیدائش:28 نومبر 1757ء
    لندن
    وفات:12 اگست 1827ء
    چیرنگ کراس، لندن
    رہائش:فیلپہام (ستمبر 1800 – ستمبر 1803)
    بیٹرسی (جولا‎ئی 1782 – اگست 1782)
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت برطانیہ عظمی (01 جنوری 1801)
    نسل:انگریز
    تلمیذ خاص:ڈبلیو بی یٹس
    جبران خلیل جبران
    آلین جنسبرگ
    پیشہ:مصور، شاعر، الٰہیات داں
    جمع کار، الیس ٹریٹر، فلسفی، طابع
    زبان:انگریزی
    شعبۂ عمل:شاعری
    مؤثر:میری وولسٹن کرافٹ
    دانتے، بین جونسن
    بہمن، جان ملٹن
    تحریک:رومانیت

    ولیم بلیک (28 نومبر 1857 – 12 اگست 1827) ایک انگریز شاعر، مصوراور پرنٹر تھے۔

  • فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    فریڈ رک اینگلس:جرمنی کا انقلابی مفکر:جس کے نظریے کوعروج ملا

    پیدائش:28 نومبر 1820ء وفات:05 اگست 1895ء
    لندن
    وجۂ وفات:سرطان
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:جرمنی
    مادر علمی:جامعہ ہومبولت
    پیشہ:ماہر معاشیات، فلسفی، مصنف
    انقلابی، ماہرِ عمرانیات
    حامیِ حقوق نسواں، صحافی
    مادری زبان:جرمن
    شعبۂ عمل:فلسفہ
    مؤثر:ہیراکلیطس، کارل مارکس

    جرمنی کا انقلابی مفکر جس نے کارل مارکس کے ساتھ مل کر سائنسی سوشلزم کی بنیاد رکھی۔ دولت مند کارخانہ دار کا بیٹا تھا۔ 1842ء میں مانچسٹر میں باپ کے کارخانے میں کام سیکھنے گیا اور مزدوروں کی تحریک سے روشناس ہوا۔ 1844ء میں پیرس کے عارضی قیام کے دوران میں کارل مارکس سے پہلی ملاقات ہوئی۔ 1845ء میں 1850ء تک جرمنی، فرانس اور بیلجیم میں انقلابی تحریکیں چلائیں اور مارکس کے ساتھ مل کر کئی کتابیں لکھیں جن میں کمیونسٹ مینی فسٹو (1848ء) خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ 1848ء میں واپس انگلستان چلا گیا اور ساری عمر وہیں رہا۔ اینگلس نے مارکس کی وفات کے بعد اس کی مشہور تصنیف (سرمایہ) کی دوسری اور تیسری جلدیں اس کی یاداشتوں کی مدد سے مرتب کیں۔ متعدد تاریخی اور فلسفیانہ کتابوں کا مصنف ہے۔

  • یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    یوم ولادت، بانو قدسیہ،معروف ناول و افسانہ نگار

    پیدائش:28 نومبر 1928ء
    فیروزپور، صوبہ پنجاب
    برطانوی ہندوستان
    وفات:4 فروری 2017ء
    لاہور، پنجاب، پاکستان
    آخری آرام گا:قبرستان E بلاک
    ماڈل ٹاؤن، لاہور
    قلمی نام:بانو قدسیہ
    تعلیم:ایم اے (اردو)
    اصناف:افسانہ نگاری، فلسفہ، تصوف
    موضوع:ادب، فلسفہ
    نفسیات، اشتراکیت
    ادبی تحریک:صوفی ادب
    شریک حیات:اشفاق احمد
    اولاد:انیق احمد، انیس احمد، اثیر احمد

    بانو قدسیہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو اور پنجابی زبان کی مشہور و معروف ناول نگار، افسانہ نگار اور ڈراما نویس جو اپنے ناول راجہ گدھ کی وجہ سے خاصی مشہور ہوئیں۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 28 نومبر، 1928ء کو فیروزپور، برطانوی ہندوستان میں زمیندار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد چوہدری بدرالزماں چٹھہ زراعت میں بیچلر کی ڈگری رکھتے تھے۔ اُن کا انتقال بانو قدسیہ کی چھوٹی عمر میں ہی ہو گیا تھا جبکہ ابھی بانو قدسیہ محض ساڑھے تین برس کی تھیں۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ساتھ لاہور آ گئیں۔ لاہور آنے سے پہلے وہ وہ مشرقی بھارت کے صوبہ ہماچل پردیش دھرم شالا میں زیر تعلیم رہیں۔ اُن کی والدہ مسز چٹھہ (Chattha) بھی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔ بانو قدسیہ نے مشہور ناول و افسانہ نگار اور ڈراما نویس اشفاق احمد سے شادی کی۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    وہ اپنے کالج کے میگزین اور دوسرے رسائل کے لیے بھی لکھتی رہی ہیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج برائے خواتین لاہور سے ریاضیات اور اقتصادیات میں گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے 1951ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے اردو کی ڈگری حاصل کی۔
    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ نے اردو اور پنجابی زبانوں میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے لیے بہت سے ڈرامے بھی لکھے۔ اُن کا سب سے مشہور ناول راجہ گدھ ہے۔ اُن کے ایک ڈرامے آدھی بات کو کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1983ء میں حکومت پاکستان کی جانب سے بانو قدسیہ کو ستارۂ امتیاز سے نوازا گیا۔ 2010ء میں دوبارہ حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال امتیاز سے نوازا گیا جبکہ 2012ء میں کمالِ فن ایوارڈ سے نوازا گیا۔ 2016ء میں اُنہیں اعزازِ حیات (Lifetime Achievement Award) سے نوازا گیا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ 26 جنوری 2017ء کو بعارضہ ضیق النفس لاہور کے اتفاق ہسپتال میں داخل کروایا گیا جہاں وہ دس روز زیر علاج رہیں۔ بروز ہفتہ 4 فروری 2017ء کو شام 5 بجکر 15 منٹ پر بانو قدسیہ 88 سال کی عمر میں انتقال کرگئیں۔ اُن کی عمر 88 سال 2 ماہ 7 دن شمسی تھی۔ اُن کی نماز جنازہ 5 فروری 2017ء کو بلاک، ماڈل ٹاؤن، لاہور میں دوپہر 03:30 بجے اداء کی گئی جبکہ تدفین G بلاک قبرستان ماڈل ٹاؤن، لاہور میں کی گئی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آتش زیر پا
    ۔ (2)آدھی بات
    ۔ (3)ایک دن
    ۔ (4)امر بیل
    ۔ (5)آسے پاسے
    ۔ (6)بازگشت
    ۔ (7)چہار چمن
    ۔ (8)چھوٹا شہر، بڑے لوگ
    ۔ (9)دست بستہ
    ۔ (10)دوسرا دروازہ
    ۔ (11)دوسرا قدم
    ۔ (12)فٹ پاتھ کی گھاس
    ۔ (13)حاصل گھاٹ
    ۔ (14)ہوا کے نام
    ۔ (15)ہجرتوں کے درمیان
    ۔ (16)کچھ اور نہیں
    ۔ (17)لگن اپنی اپنی

    افسانہ و ناول نگار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانو قدسیہ کی زندگی پر ایک نظر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف ادیبہ بانو قدسیہ 28 نومبر 1928 کو مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور میں پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد لاہور آ گئیں تھیں۔ ان کے والد بدرالزماں ایک گورنمنٹ فارم کے ڈائریکٹر تھے اور ان کا انتقال 31 سال کی عمر میں ہو گیا تھا۔ اس وقت ان کی والدہ ذاکرہ بیگم کی عمر صرف 27 برس تھی۔ بانو قدسیہ کی اپنی عمر اس وقت ساڑھے تین سال تھی۔ ان کا ایک ہی بھائی پرویز تھا جن کا انتقال ہو چکا ہے۔ بانو قدسیہ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی قصبے ہی میں حاصل کی۔
    انھیں بچپن سے ہی کہانیاں لکھنے کا شوق تھا اور پانچویں جماعت سے انھوں نے باقاعدہ لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جب پانچویں جماعت میں تھیں تو ان کے اسکول میں ڈراما فیسٹیول کا انعقاد ہوا جس میں ہر کلاس کو اپنا اپنا ڈراما پرفارم کرنا تھا۔ بہت تلاش کے باوجود بھی کلاس کو تیس منٹ کا کوئی اسکرپٹ دستیاب نہ ہوا۔ چنانچہ ہم جولیوں اور ٹیچرز نے اس مقصد کے لیے بانو قدسیہ کی طرف دیکھا جن کی پڑھنے لکھنے کی عادت کلاس میں سب سے زیادہ تھی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ تم ڈرامائی باتیں کرتی ہو لہٰذا یہ ڈراما تم ہی لکھ دو۔ بانو قدسیہ نے اس چیلنج کو قبول کیا اور بقول ان کے جتنی بھی اُردو آتی تھی اس میں ڈراما لکھ دیا۔ یہ ان کی پہلی کاوش تھی۔ اس ڈرامے کو اسکول بھر میں فرسٹ پرائز کا حقدار ٹھہرایا گیا۔ اس حوصلہ افزائی کے بعد وہ دسویں جماعت تک افسانے اور ڈرامے ہی لکھتی رہیں۔ طویل عرصے تک وہ اپنی کہانیوں کی اشاعت پر توجہ نہ دے پائیں اور ایم اے اُردو کرنے کے دوران اشفاق احمد کی حوصلہ افزائی پر ان کا پہلا افسانہ ’’داماندگی شوق‘‘ 1950 میں اس وقت کے ایک سرکردہ ادبی جریدے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوا۔

    اپنے لکھنے کے حوالے سے بانو قدسیہ کہتی ہیں کہ میں نے کسی سے اصلاح نہیں لی اور نہ کبھی کچھ پوچھا تاوقتکہ میری شادی نہیں ہو گئی۔ اس کے بعد اشفاق احمد صاحب میرے بڑے معاون و مددگار بلکہ استاد ہوئے۔ انھوں نے مجھ سے کہا اگر تمہیں لکھنا ہے تو ایسا لکھو کہ کبھی مجھ سے دو قدم آگے رہو اور کبھی دو قدم پیچھے تاکہ مقابلہ پورا ہو۔ اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوا۔ اشفاق صاحب نے ہمت بھی دلائی اور حوصلہ شکنی بھی کی۔ میری کئی باتوں پر خوش بھی ہوئے۔ آخر تک ان کا رویہ استاد کا ہی رہا۔ میں انھیں شوہر کے ساتھ ساتھ اپنا استاد بھی سمجھتی رہی ہوں۔ بانو قدسیہ نے ایف اے اسلامیہ کالج لاہور جب کہ بی اے کنیئرڈ کالج لاہور سے کیا جس وقت انھوں نے بی اے کا امتحان دیا اس وقت 47 کے فسادات کی آگ پھیل چکی تھی۔ گورداس پور اور شاہ عالمی اس آگ کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔

    اس آگ کے دریا میں بانو قدسیہ بی اے کے پیپرز دینے کے لیے ایف سی کالج جاتی رہیں کیونکہ فسادات کی وجہ سے کنیئرڈ کالج میں امتحانی سینیٹر نہ کھل سکا تھا۔ بی اے کا امتحان کسی طرح دے دیا۔ فسادات پھیلتے چلے گئے بانو قدسیہ اپنے خاندان کے ہمراہ گورداس پور میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت تھی مطمئن تھیں کہ یہ حصہ پاکستان کے حصے میں آئے گا مگر رات بارہ بجے اعلان ہو گیا کہ گورداس پور پاکستان میں نہیں ہے چنانچہ بانو قدسیہ اپنے کنبے کے ہمراہ پتن پہنچیں جہاں سے رات کو قافلے نکل کر جاتے تھے اور اکثر قافلے رات کو قتل کر دیے جاتے تھے۔ بانو قدسیہ کا آدھا قافلہ بچھڑ گیا تھا اور آدھا قتل ہو گیا تھا۔ تین ٹرک پاکستان پہنچے ایک میں بانو قدسیہ، ان کی والدہ اور بھائی بچ گئے تھے جبکہ دوسرے رشتے دار قتل کر دیئے گئے۔ پاکستان پہنچ کر بانو قدسیہ کو بی اے کے رزلٹ کا پتا چلا جس میں انھیں کامیابی ملی تھی۔ 1949 میں انھوں نے گورنمٹ کالج لاہور میں ایم اے اُردو میں داخلہ لیا۔ یہاں اشفاق احمد ان کے کلاس فیلو تھے۔ دونوں کی مشترکہ دلچسپی ادب پڑھنا اور لکھنا تھا۔ دسمبر 1956 میں بانو قدسیہ کی شادی اشفاق احمد سے ہو گئی۔ دونوں لکھاری تھے اور ادب سے گہرا شغف رکھتے تھے۔ شادی کے بعد دونوں رائٹرز کام میں جُت گئے۔ ایک سال بعد انھوں نے ایک ادبی رسالے ’’داستان گو‘‘ کا اجراء کیا تمام کام خود کرتے تھے۔ رسالے کا سر ورق بانو قدسیہ کے بھائی پرویز کا فنِ کمال ہوتا تھا جو ایک آرٹسٹ تھے۔ چار سال تک ’’داستان گو‘‘ کا سلسلہ چلا پھر اسے بند کرنا پڑا۔ اشفاق احمد ریڈیو پر اسکرین رائٹر تھے وہ دونوں ریڈیو کے لیے ڈرامے لکھتے تھے۔ ’’تلقین شاہ‘‘ 1962ء سے جاری ہوا۔

    اس کے ساتھ ساتھ اشفاق احمد ایوب خان کے ہاتھوں تازہ تازہ جاری ہونیوالے سرکاری جریدے ’’لیل و نہار‘‘ کے ایڈیٹر بن گئے تھے۔ ٹیلی ویژن نیا نیا ملک میں آیا تو اس کے لیے اشفاق احمد اور بانو قدسیہ مسلسل لکھنے لگے۔ اشفاق احمد کی کوئی سیریز ختم ہوتی تو بانو قدسیہ کی سیریل شروع ہو جاتی تھی۔ ٹی وی کے پہلے ایم ڈی اسلم اظہر نے اشفاق احمد کو ٹی وی کا سب سے پہلا پروگرام پیش کرنے کی دعوت دی۔ اس پروگرام میں انھوں نے ٹیلی ویژن کو متعارف کرایا تھا۔ اشفاق احمد ٹی وی کے پہلے اناؤنسر تھے۔ ان کا ریڈیو پر بہت وسیع تجربہ تھا۔ یہاں ایک اطالوی فلم بنی تھی۔ اس کے بھی اشفاق احمد مترجم تھے۔

    ٹی وی پر سب سے پہلا ڈراما ’’تقریب امتحان‘‘ ان ہی کا ہوا تھا۔ ریڈیو اور ٹی وی پر بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نصف صدی سے زائد عرصے تک حرف و صورت کے اپنے رنگ دکھاتے رہے۔ ٹی وی پر بانو قدسیہ کی پہلی ڈراما سیریل ’’سدھراں‘‘ تھی جب کہ اشفاق احمد کی پہلی سیریز ’’ٹاہلی تھلے‘‘ تھی۔ بانو قدسیہ کا پنجابی میں لکھنے کا تجربہ ریڈیو کے زمانے میں ہی ہوا۔ ریڈیو پر انھوں نے 1965 تک لکھا پھر ٹی وی نے انھیں بے حد مصروف کر دیا۔ بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لیے کئی سیریل اور طویل ڈرامے تحریر کیے جن میں ’دھوپ جلی‘، ’خانہ بدوش‘، ’کلو‘ اور ’پیا نام کا دیا‘ جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ اس لکھاری جوڑے کے لکھے ہوئے ان گنت افسانوں، ڈراموں، ٹی وی سیریل اور سیریز کی مشترقہ کاوش سے ان کا گھر تعمیر ہوا۔ لاہور کے جنوب میں واقع قیامِ پاکستان سے قبل کی ماڈرن بستی ماڈل ٹاؤن کے ’’داستان سرائے‘‘ میں اشفاق احمد اور بانو قدسیہ کی یادیں بکھری ہوئی ہیں۔ ان دونوں کا تخلیقی سفر جیسے جیسے طے ہوتا گیا ’’داستان سرائے‘‘ کے نقوش اُبھرتے گئے۔ آج ’’داستان سرائے‘‘ ان دونوں کی شب و روز محنت کا امین ہے۔ بقول بانو قدسیہ کے ’’شادی کے بعد مفلسی نے ہم دونوں میاں بیوی کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا تھا۔ اشفاق احمد نے ایک فلم ’’دھوپ سائے‘‘ بھی بنائی تھی جو باکس آفس پر فلاپ ہو گئی تھی اور ایک ہفتے بعد سینما سے اُتر گئی تھی۔ ’’دھوپ سائے‘‘ کی کہانی بانو قدسیہ نے لکھی تھی۔ ڈائریکشن کے علاوہ اس فلم کا اسکرین پلے اشفاق احمد نے لکھا تھا۔ بانو قدسیہ نے افسانوں، ناولز، ٹی وی، ریڈیو ڈراموں سمیت نثر کی ہر صنف میں قسمت آزمائی کی۔ 1981 میں شائع ہونے والا ناول ’’راجہ گدھ‘‘ بانو قدسیہ کی حقیقی شناخت بنا۔

    موضوع کے لحاظ سے یہ ناول درحقیقت ہمارے معاشرے کے مسائل کا ایک ایسا تجزیہ ہے جو اسلامی روایت کے عین مطابق ہے اور وہ لوگ جو زندگی، موت اور دیوانگی کے حوالے سے تشکیلی مراحل میں گزر رہے ہیں۔ بالخصوص ہمارا نوجوان طبقہ ان کے لیے یہ ایک گراں قدر حیثیت کا حامل ناول ہے۔ یہ ناول مڈل کلاس کی جواں نسل کے لیے محض اسی لیے دلچسپی کا باعث نہیں ہے کہ ناول کے بنیادی کردار یونیورسٹی کی کلاس میں ایک دوسرے سے آشنا ہوتے ہیں بلکہ اس لیے کشش کا باعث ہے کہ بانو قدسیہ نے جذبات اور اقدار کے بحران کو اپنے ناول کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی اخلاقیات سے عدم وابستگی کو اس انتشار کا سبب اور مراجعت کو ’’طریقہ نجات‘‘ بتایا ہے۔ راجہ گدھ کا مطالعہ کرنے والے خوب جانتے ہیں کہ یہ کتنا اچھا ناول ہے۔ راجہ گدھ کے 14 سے زائد ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ بانو قدسیہ نے 27 کے قریب ناول، کہانیاں اور ڈرامے لکھے، راجہ گدھ کے علاوہ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل، حاصل گھاٹ اور توجہ کی طالب، قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومتِ پاکستان کی جانب سے انھیں 2003 میں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ اور 2010 میں ’’ہلالِ امتیاز‘‘ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ ٹی وی ڈراموں پر بھی انھوں نے کئی ایوارڈز اپنے نام کیے۔ انگنت، ڈراموں، افسانوں اور شاہکار ناول کی مصنفہ بانو قدسیہ خالق حقیقی سے جا ملیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ۔اردو صحافت کی خاتون اول
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تاریخ ولادت:28 نومبر 1949ء
    تاریخ وفات:17 اپریل 2010ء

    نورجہاں ثروت کی پیدائش دہلی میں 28 نومبر 1949ء کو ہوئی۔ ان کی پرورش ان کی نانی کے سائے میں ہوئی۔ جب انہوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا تو شعبۂ اردو کے صدر مشہور شاعر جاوید وششٹ تھے‘ تو ثروت کو بھی شعر کہنے کا شوق پیدا ہوگیا۔ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز 1970ء میں اردو کے مشہور رسالے ’سیکولر ڈیموکریسی‘ سے ہوا۔ وہ واحد خاتون ہیں جنھیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔
    نور جہاں ثروت کا انتقالِ 17 اپریل 2010ء کو دہلی میں ہوا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے
    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے
    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے
    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے
    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے
    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے
    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا
    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا
    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا
    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا
    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں
    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں
    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں
    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں
    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • معروف ادیبہ سائرہ ہاشمی انتقال کر گئیں

    معروف ادیبہ سائرہ ہاشمی انتقال کر گئیں

    معروف ادیبہ سائرہ ہاشمی انتقال کر گئیں وہ 8 کتابوں کی مصنفہ تھیں، فاطمہ جناح کے متعلق ان کی تصنیف ” دو شخصیتیں” بہت مشہور اور متنازع رہی

    پاکستان کی نامور ادیبہ، مصنفہ ، افسانہ نویس اور ناول نگار سائرہ ہاشمی آج 27 نومبر 2022 کو لاہور میں انتقال کر گئیں۔ وہ برکت علی ہاشمی اور فضل النساء جی بیٹی اور جمیلہ ہاشمی کی بہن تھیں۔ ان کی اب تک 9 تصانیف شائع ہو چکی ہیں جن میں ان کی تصنیف” دو شخصیتیں” بہت مشہور اور متنازع رہی جس میں انہوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی موت کو قتل قرار دیا تھا۔ ان کی دیگر تصانیف میں، اور وہ کالہ ہو گئی، سیاہ برف، زندگی کی بند گلی ،ریت کی دیوار و دیگر شامل ہیں ۔

    رپورٹ. آغا نیاز مگسی

  • شمیم نازلی پاکستان کی پہلی خاتون میوزک کمپوزر:جن کو دنیا یاد کرتی ہے

    شمیم نازلی پاکستان کی پہلی خاتون میوزک کمپوزر:جن کو دنیا یاد کرتی ہے

    شمیم نازلی ایک پاکستانی میوزک ڈائریکٹر تھیں ۔ انہوں نے بہاریں پھر بھی آئیں گی (1969) اور بن بادل برسات (1975) جیسی فلموں میں موسیقی ترتیب دی۔ وہ پلے بیک سنگر مالا کی بڑی بہن تھیں۔ لالی وڈ کی تاریخ میں وہ واحد خاتون موسیقار کے طور پر جانی جاتی ہیں۔

    شمیم نازلی 1940 میں امرتسر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ 1947 میں براعظم ہند کی تقسیم کے بعد، ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے فیصل آباد (اس وقت لائل پور) میں آباد ہوا، نازلی کی ایک چھوٹی بہن مالا تھی جو بعد میں پاکستان کی مشہور پلے بیک گلوکارہ بن گئی۔ فلمی صنعت میں نازلی کے چچا مرزا سلطان بیگ (نظام دین) ریڈیو آرٹسٹ تھے اور انہوں نے ریڈیو پاکستان لاہور کے مشہور پنجابی ریڈیو پروگرام "جمہور دی آواز” میں کئی سالوں تک کام کیا۔ نازلی اور اس کی بہن مالا دونوں کو موسیقی کا جنون تھا۔ اس نے اپنی بہن مالا کو گھر پر موسیقی کی تربیت دی اور بعد میں اسے گلوکارہ کے طور پر تیار کرنے کے لیے سینئر میوزک ڈائریکٹر جی اے چشتی کے پاس لے گئی۔

    چین میں کورونا لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج، شی جن پنگ استعفیٰ دو کے نعرے

    شمیم نازلی نے بطور میوزک ڈائریکٹر اپنے کیریئر کا آغاز 1969 میں اپنی بہن مالا کی پروڈیوس کردہ فلم "بہاریں پھر بھی آئیں گی” سے کیا۔ فلم کے لیے ان کے میوزک کمپوزیشن کو بہت سراہا گیا۔ ٹریک، "پیار کے نغمے کس نے چھیڑے” کی مانگ میں ایک پاپ میلوڈی بن گیا۔ یہ ایک سنسنی خیز کلب گانا تھا جس کی فلمبندی اداکارہ روزینہ پر ہوی تھی۔ فلم کا ایک اور گانا تھا، "خوش نصیبی ہے میری”، جو احمد رشدی اور مالا کی آواز میں ایک رومانوی گانا تھا۔ نازلی کی دوسری فلم ’’نائٹ کلب‘‘ (1971) تھی۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس پر اچھی نہیں چل سکی، لیکن نازلی کی موسیقی بہت عمدہ تھی۔

    بیلجیئم کیخلاف شاندار فتح کےبعد مراکشی کھلاڑی گراؤنڈ میں ہی سجدہ ریز

    فلم کے کچھ قابل ذکر گانے "ملا جو پیار تمھارا بہار آئی ہے” (رشدی/مالا) اور "ساتھیا اے میرے ساتھیا کچھ کہ ذرا” (مالا) تھے۔ اس کے بعد نازلی کو 1975 میں ریلیز ہونے والی ایک ہٹ فلم "بن بادل برسات” کے لیے موسیقی ترتیب دینے کا موقع ملا۔ فلم کے گانے بہت مقبول ہوئے۔ "سوال کرتی ہے عورت، جواب دو مردو، صدا درد سنو”، "تو میرا پیار ہے، تجھے کو صدا میں چاہوں گا”، اور "رم جھم نینا برسیں، پیاسے ہیں جبت تجھ بن، بن بادل برست”۔ جب اداکارہ/ہدایتکارہ شمیم آرا نے اپنی فلم ’’میرا پیار یاد رکھنا‘‘ شروع کی تو انہوں نے نازلی کو بطور میوزک ڈائریکٹر سائن کیا لیکن وہ فلم کبھی سینما گھروں میں ریلیز نہیں ہوئی۔ شمیم نازلی نے فلموں کے علاوہ پی ٹی وی کے ایک پروگرام "بزمِ نگاہ” میں بھی کام کیا اور ریڈیو پاکستان لاہور کے لیے گانے بھی ترتیب دیے۔

    2008 میں نازلی نے پانچ گانوں پر مشتمل اپنا میوزک البم ریلیز کرنے کا منصوبہ بنایا
    شمیم نازلی کا انتقال 27 نومبر 2010 کو ہوا۔
    اس کے ہٹ گانوں کی فہرست یہ ہے:
    1. ملا جو پیار تمھارا بہار آئی ہے (نائٹ کلب)
    2. ساتھیہ او میرے ساتھیہ (نائٹ کلب)
    3. لوگ دیوانے ہیں کیا کام کیا کرتے ہیں (بن بادل برسات)
    4. رم جھم نینا برسے (بن بادل برسات)
    5. نا ماں کا پیار ملا اور نہ باپ کا سایا (بن بادل برسات)
    6. غیروں سے پیار کیا اپنوں پہ وار کیا (بہاریں پھر بھی آئیں گی)
    7. دھڑکھا دل میرا جانے کل ہو کیا (نائٹ کلب)
    8. چور چور چور مچایا میں نہ شور (بن بادل برسات)
    9. تو جو آیا تو دل کو قرار آگایا (بن بادل برسات)
    10. پیار کی نغمے کس نے چھیڑے (بہاریں پھر بھی آئیں گی)
    11. خوش نصیبی ہے میری تم نے اپنایا ہے (بہاریں پھر بھی آئیں گی)
    12. جینا ہے پیارے تو پیار کے جا (بہاریں پھر بھی آئیں گی)
    13. میرے لیے جہاں میں اب کوئی خوشی نہیں (بہاریں پھر بھی آئیں گی)
    14. تیری بغیر زندگی بھٹکا ہوا خیال ہے (بہاریں پھر بھی آئیں گی)
    15. تم آئے ہو تو یہ دل ڈوب گیا غم سے (بہاریں پھر بھی آئیں گی)
    16. تو میرا پیار ہے تجھ کو صدا میں چاہونگا (بن بادل برسات)
    17. سوال کرتی ہے عورت جواب دو مردو (بن بادل برسات)
    18. آ صنم پیار کریں دل سے اقرار کریں (نائٹ کلب)
    19. سہارا دے کلی پیار کا بنا ہے کوئی اجنبی (نائٹ کلب)
    20. دنیا میں پیار نہیں ملے گا (نائٹ کلب)
    اور بہت سے ہٹ گانے ۔