Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں

    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں

    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو

    پیدائش:20 جنوری 1925ء
    دہلی، برطانوی راج
    (موجودہ بھارت)
    وفات:23 نومبر 2015ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان
    قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
    پاکستان (1947-2015)
    مذہب:اسلام
    جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
    پاکستان پیپلز پارٹی
    زوجہ:طیّبہ بانو
    والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
    سیّدہ جمیلہ بیگم
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    جامعہ کراچی
    پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
    زبان:اردو
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
    دور فعالیت:1951-2015

    جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لا حاصل:شاعری
    ۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
    ۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
    ۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
    ۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
    ۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
    ۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
    ۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
    ۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
    ۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
    ۔ (قومی و ملی نغمے)
    ۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
    ۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
    ۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
    ۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
    ۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
    ۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
    کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
    سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
    کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
    کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
    نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
    ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
    وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
    بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
    میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
    شاید آغاز بے وفائی ہے
    تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
    ساری دنیا سے آشنائی ہے
    کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
    عشق ہی عشق سے رہائی ہے
    شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
    میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
    زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
    کوئی تقریب رو نمائی ہے
    اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
    اک سہارا شکستہ پائی ہے
    جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
    موت رو رو کے مسکرائی ہے

  • کعبے سے  غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    پیدائش: 17 56ء
    دہلی
    وفات:23 نومبر 1838ء
    حیدرآباد، دکن، ریاست حیدر آباد

    شاہ نصیر دہلوی یا محمد نصیر الدین ناصر (پیدائش: 1756ء— وفات: 23 نومبر 1838ء) اٹھارہویں اور اُنیسویں صدی کے ابتدائی چار عشروں تک اردو زبان کے مشہور شاعر، میر تقی میر، مرزا غالب اور اُستاد ابراہیم ذوق کے ہم عصر تھے۔تخلص نصیر تھا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    شاہ نصیر نے 23 نومبر 1838ء کو 81 یا 82 سال کی عمر میں حیدر آباد، دکن میں وفات پائی۔ حیدرآباد، دکن میں درگاہ حضرت موسیٰ قادری میں دفن ہوئے۔ مؤرخین نے مادۂ تاریخ ’’چراغ گل‘‘ سے نکالا ہے۔
    کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    اُن کے کلام کو خصوصی حیثیت طویل ردیفوں کے مربوط شکل اور ہم رِشتہ ہونے کی وجہ سے حاصل ہے۔وہ اِنتہائی مشکل زمین میں اِنتہائی خوبصورت شعر اور غزل کہنے میں ملکہ رکھتے تھے۔

    نصیرؔ :۔ سنگلاخ زمینوں اور مشکل ردیف و قوافی کی جو ابتدا ء سوداؔ کے زمانے سے شروع ہوچکی تھی وہ انشاؔ و مصحفیؔ سے گزر کرتا شاہ نصیرؔ کے کلام میں انتہا تک پہنچ گئی اور حقیقت یہ ہے کہ پرانے معیار پر اگر ان کا کلام جانچا جائے تو انھیں سرتاج الشعراء کہا جاسکتا ہے۔ طبیعت کی روانی، کثرتِ مشق اور زور و جوش نے ان کے کلام کو گرما گرم بنا دیا تھا ۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالاتھا، آواز الگ پاٹ دار چنانچہ مشاعروں میں دھوم دھام پیدا کردیتے تھے۔ مصحفیؔ نے ان کے کلام کا زور شور سنا تھا لیکن لکھنوی شعراء ان کی استادی کے زعم میں شریک تھے۔ (الخ) آزادؔ کی رائے میں ان کے کلام کے متعلق زیادہ صحیح ہے لکھتے ہیں : ان کے کلام کو اچھی طرح دیکھا گیا۔ زبان شکوہ الفاظ اور چستی تراکیب میں سوداؔ کی زبان تھی اور گرمی و لذت خدا داد تھی۔ انھیں اپنی نئی تشبیہوں اور استعاروں کا دعویٰ تھا اور یہ دعویٰ بجا تھا۔ نئی نئی زمینیں نہایت برجستہ اور پسندیدہ نکالتے تھے مگر ایسی سنگلاخ ہوتی تھیں کہ بڑے بڑے شہ سوار تقدم نہ مارتے تھے۔ تشبیہہ و استعار ے کو لیا ہے اور نہایت آسانی سے برتا ہے جسے اکثر زبست انشاء پرداز نا پسند کرکے کم استعدادی کا نتیجہ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تشبیہہ یا استعارہ شاعرانہ نہیں پھبتی ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کہتے تو کلام سریع الفہم کیوں کر ہوتا اور ہم ایسی سنگلاخ زمینوں میں گرم گرم شعر کیوں کر سنتے۔ دہلی میں جو بوڑھے استاد مثلاً فراق، قاسم، عظیم بیگ وغیرہ رہ گئے تھے ان کے دعوؤں کو سنتے لیکن چپ نہ کرسکتے تھے۔ جن سنگلاخ زمینوں میں یہ دو غزلے کہتے، دوسروں کو غزل پوری کرنا مشکل ہوتی۔ غرض کہ نصیرؔ ایک زبردست شاعر تھے۔ وہ قدیم الفاظ جو انشاؔ و مصحفیؔ تک باقی تھے مثلاً ٹک وا چھڑے تس پر وغیرہ انھوں نے ترک کردیئے لیکن آئے ہے، جائے ہے وغیرہ افعال کو برقرار رکھا ہے مشکل ردیف قافیے میں بغیر تشبیہہ و استعارے کے بات نہیں بنتی۔ نصیرؔ کا تخیئل و تصور اس میں منجھا ہوا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت آسانی سے سنگلاخ زمینوں میں کامیاب رہتے ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    مشکل ہے روک آہ دل داغ دار کی
    کہتے ہیں سو سنار کی اور اک لہار کی

    کعبے سے غرض اس کو نہ بت خانے سے مطلب
    عاشق جو ترا ہے نہ ادھر کا نہ ادھر کا

    بوسۂ خال لب جاناں کی کیفیت نہ پوچھ
    نشۂ مے سے زیادہ نشۂ افیوں ہوا

    غرور حسن نہ کر جذبۂ زلیخا دیکھ
    کیا ہے عشق نے یوسف غلام عاشق کا

    خیال زلف دوتا میں نصیرؔ پیٹا کر
    گیا ہے سانپ نکل تو لکیر پیٹا کر

    جوں موج ہاتھ ماریے کیا بحر عشق میں
    ساحل نصیرؔ دور ہے اور دم نہیں رہا

    رکھ قدم ہشیار ہو کر عشق کی منزل میں آہ
    جو ہوا اس راہ میں غافل ٹھکانے لگ گیا

    نصیرؔ اس زلف کی یہ کج ادائی کوئی جاتی ہے
    مثل مشہور ہے رسی جلی لیکن نہ بل نکلا

    شیخ صاحب کی نماز سحری کو ہے سلام
    حسن نیت سے مصلے پہ وضو ٹوٹ گیا

    میں اس کی چشم کا بیمار ناتواں ہوں طبیب
    جو میرے حق میں مناسب ہو وہ دوا ٹھہرا

    سو بار بوسۂ لب شیریں وہ دے تو لوں
    کھانے سے دل مرا ابھی شکر نہیں پھرا

    آنکھوں سے تجھ کو یاد میں کرتا ہوں روز و شب
    بے دید مجھ سے کس لیے بیگانہ ہو گیا

    کیوں مے کے پینے سے کروں انکار ناصحا
    زاہد نہیں ولی نہیں کچھ پارسا نہیں

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر کے سوا اور ہے انسان میں کیا

    خیال ناف بتاں سے ہو کیوں کہ دل جاں بر
    نکلتے کوئی بھنور سے نہ ڈوبتا دیکھا

    عشق ہی دونوں طرف جلوۂ دلدار ہوا
    ورنہ اس ہیر کا رانجھے کو رجھانا کیا تھا

    دیکھ تو یار بادہ کش میں نے بھی کام کیا کیا
    دے کے کباب دل تجھے حق نمک ادا کیا

    جا بجا دشت میں خیمے ہیں بگولے کے کھڑے
    عرس مجنوں کی ہے دھوم آج بیابان میں کیا

    برقعہ کو الٹ مجھ سے جو کرتا ہے وہ باتیں
    اب میں ہمہ تن گوش بنوں یا ہمہ تن چشم

    چمن میں دیکھتے ہی پڑ گئی کچھ اوس غنچوں پر
    ترے بستاں پہ عالم ہے عجب شبنم کے محرم کا

    اک آبلہ تھا سو بھی گیا خار غم سے پھٹ
    تیری گرہ میں کیا دل اندوہ گیں رہا

    یہ ابر ہے یا فیل سیہ مست ہے ساقی
    بجلی کے جو ہے پاؤں میں زنجیر ہوا پر

    لگائی کس بت مے نوش نے ہے تاک اس پر
    سبو بہ دوش ہے ساقی جو آبلہ دل کا

    اے خال رخ یار تجھے ٹھیک بناتا
    جا چھوڑ دیا حافظ قرآن سمجھ کر

    ہم ہیں اور مجنوں ازل سے خانہ پرورد جنوں
    اس نے کی صحرا نوردی ہم نے گلیاں دیکھیاں

    یہ داغ نہیں تن پر میں دیکھنے کو تیرے
    اے رنگ گل خوبی آنکھیں ہوں لگا لایا

    لگا جب عکس ابرو دیکھنے دل دار پانی میں
    بہم ہر موج سے چلنے لگی تلوار پانی میں

    آتا ہے تو آ وعدہ فراموش وگرنہ
    ہر روز کا یہ لیت و لعل جائے تو اچھا

    رواق چشم میں مت رہ کہ ہے مکان نزول
    ترے تو واسطے یہ قصر ہے بنا دل کا

    تیرے خیال ناف سے چکر میں کیا ہے دل
    گرداب سے نکل کے شناور نہیں پھرا

    کی ہے استاد ازل نے یہ رباعی موزوں
    چار عنصر سے کھلے معنیٔ پنہاں ہم کو

    ترے ہی نام کی سمرن ہے مجھ کو اور تسبیح
    تو ہی ہے ورد ہر اک صبح و شام عاشق کا

    پوچھنے والوں کو کیا کہیے کہ دھوکے میں نہیں
    کفر و اسلام حقیقت میں ہیں یکساں ہم کو

    دن رات یہاں پتلیوں کا ناچ رہے ہے
    حیرت ہے کہ تو محو تماشا نہیں ہوتا

    متاع دل بہت ارزاں ہے کیوں نہیں لیتے
    کہ ایک بوسے پہ سودا ہے اب تو آ ٹھہرا

    لگا نہ دل کو تو اپنے کسی سے دیکھ نصیرؔ
    برا نہ مان کہ اس میں نہیں بھلا دل کا

    ہم وہ فلک ہیں اہل توکل کہ مثل ماہ
    رکھتے نہیں ہیں نان شبینہ برائے صبح

    دیکھو گے کہ میں کیسا پھر شور مچاتا ہوں
    تم اب کے نمک میرے زخموں پہ چھڑک دیکھو

    شراب لاؤ کباب لاؤ ہمارے دل کو نہ اب گھٹاؤ
    شروع دود قدح ہو جلدی کہ سر پہ ابر بہار آیا

    ملا کی دوڑ جیسے ہے مسجد تلک نصیرؔ
    ہے مست کی بھی خانۂ خمار تک پہنچ

    بنا کر من کو منکا اور رگ تن کے تئیں رشتہ
    اٹھا کر سنگ سے پھر ہم نے چکناچور کی تسبیح

    نہ ہاتھ رکھ مرے سینے پہ دل نہیں اس میں
    رکھا ہے آتش سوزاں کو داب کے گھر میں

    سر زمین زلف میں کیا دل ٹھکانے لگ گیا
    اک مسافر تھا سر منزل ٹھکانے لگ گیا

    دود آہ جگری کام نہ آیا یارو
    ورنہ روئے شب ہجر اور بھی کالا کرتا

    نصیرؔ اب ہم کو کیا ہے قصۂ کونین سے مطلب
    کہ چشم پر فسون یار کا افسانہ رکھتے ہیں

    ہوا پر ہے یہ بنیاد مسافر خانۂ ہستی
    نہ ٹھہرا ہے کوئی یاں اے دل محزوں نہ ٹھہرے گا

    نہ کیوں کہ اشک مسلسل ہو رہنما دل کا
    طریق عشق میں جاری ہے سلسلہ دل کا

    سپر رکھتا ہوں میں بھی آفتابی ساغر مے کی
    مجھے اے ابر تیغ برق کو چمکا کے مت دھمکا

    غرض نہ فرقت میں کفر سے تھی نہ کام اسلام سے رہا تھا
    خیال زلف بتاں ہی ہر دم ہمیں تو لیل و نہار آیا

    سب پہ روشن ہے کہ راہ عشق میں مانند شمع
    پاؤں پر سے ہم نے قرباں رفتہ رفتہ سر کیا

    مت پوچھ واردات شب ہجر اے نصیرؔ
    میں کیا کہوں جو کار نمایان نالہ تھا

    لے گیا دے ایک بوسہ عقل و دین و دل وہ شوخ
    کیا حساب اب کیجے کچھ اپنا ہی فاضل رہ گیا

    کیا دکھاتا ہے فلک گرم تو نان خورشید
    کھانا کھاتے ہیں سدا اہل توکل ٹھنڈا

    تشنگی خاک بجھے اشک کی طغیانی سے
    عین برسات میں بگڑے ہے مزا پانی کا

    میرے نالے کے نہ کیوں ہو چرخ اخضر زیر پا
    خطبہ خوان عشق ہے رکھتا ہے منبر زیر پا

    بسان آئنہ ہم نے تو چشم وا کر لی
    جدھر نگاہ کی صاف اس کو برملا دیکھا

    ریختہ کے قصر کی بنیاد اٹھائی اے نصیرؔ
    کام ہے ملک سخن میں صاحب مقدور کا

    یہ نگل جائے گی اک دن تری چوڑائی چرخ
    گر کبھو تجھ سے زمیں ہم نے بھی نپوائی چرخ

    اک پل میں جھڑی ابر تنک مایہ کی شیخی
    دیکھا جو مرا دیدۂ پر آب نہ ٹھہرا

    بجائے آب مے نرگسی پلا مجھ کو
    غذا کچھ اور نہ بادام کے سوا ٹھہرا

    مے کشی کا ہے یہ شوق اس کو کہ آئینے میں
    کان کے جھمکے کو انگور کا خوشا سمجھا

    ابر نیساں کی بھی جھڑ جائے گی پل میں شیخی
    دیدۂ تر کو اگر اشک فشاں کیجئے گا

    سرزمیں زلف کی جاگیر میں تھی اس دل کی
    ورنہ اک دام کا پھر اس میں ٹھکانا کیا تھا

    سیر کی ہم نے جو کل محفل خاموشاں کی
    نہ تو بیگانہ ہی بولا نہ پکارا اپنا

    چمن میں غنچہ منہ کھولے ہے جب کچھ دل کی کہنے کو
    نسیم صبح بھر رکھتی ہے باتوں میں لگا لپٹا

    پستاں کو تیرے دیکھ کے مٹ جائے پھر حباب
    دریا میں تا بہ سینہ اگر تو نہائے صبح

    گلے میں تو نے وہاں موتیوں کا پہنا ہار
    یہاں پہ اشک مسلسل گلے کا ہار رہا

    لب دریا پہ دیکھ آ کر تماشا آج ہولی کا
    بھنور کالے کے دف باجے ہے موج اے یار پانی میں

    گردش چرخ نہیں کم بھی ہنڈولے سے کہ مہر
    شام کو ماہ سے اونچا ہے سحر ہے نیچا

    نہیں ہے فرصت اک دم پہ آہ اس کو نظر
    حباب دیکھے ہے آنکھیں نکال کے کیسا

    ہم دکھائیں گے تماشہ تجھ کو پھر سرو چمن
    دل سے گر سرزد ہمارے نالۂ موزوں ہوا

    آمد و شد کوچے میں ہم اس کے کیوں نہ کریں مانند نفس
    زندگی اپنی جانتے ہیں اس واسطے آتے جاتے ہیں

    جب کہ لے زلف تری مصحف رخ کا بوسہ
    پھر یہاں فرق ہو ہندو و مسلمان میں کیا

    دیر و کعبہ میں تفاوت خلق کے نزدیک ہے
    شاہد معنی کا ہر صورت ہے گھر دونوں طرف

    غزل اس بحر میں کیا تم نے لکھی ہے یہ نصیرؔ
    جس سے ہے رنگ گل معنیٔ مشکل ٹپکا

    صیاد کے جگر میں کرے تھا سناں کا کام
    مرغ قفس کے سر پہ یہ احسان نالہ تھا

    دے مجھ کو بھی اس دور میں ساقی سپر جام
    ہر موج ہوا کھینچے ہے شمشیر ہوا پر

    کم نہیں ہے افسر شاہی سے کچھ تاج گدا
    گر نہیں باور تجھے منعم تو دونوں تول تاج

    ہو گفتگو ہماری اور اب اس کی کیونکہ آہ
    اس کے دہاں نہیں تو ہماری زباں نہیں

    شوق کشتن ہے اسے ذوق شہادت ہے مجھے
    یاں سے میں جاؤں گا واں سے وہ ستم گر آئے گا

    تار نفس الجھ گیا میرے گلو میں آ کے جب
    ناخن تیغ یار کو میں نے گرہ کشا کیا

    سربلندی کو یہاں دل نے نہ چاہا منعم
    ورنہ یہ خیمۂ افلاک پرانا کیا تھا

    کوئی یہ شیخ سے پوچھے کہ بند کر آنکھیں
    مراقبے میں بتا صبح و شام کیا دیکھا

    یہ چرخ نیلگوں اک خانۂ پر دود ہے یارو
    نہ پوچھو ماجرا کچھ چشم سے آنسو بہانے کا

    وقت نماز ہے ان کا قامت گاہ خدنگ و گاہ کماں
    بن جاتے ہیں اہل عبادت گاہ خدنگ و گاہ کماں

    دل پر آبلہ لایا ہوں دکھانے تم کو
    بند اے شیشہ گرو! اپنی دکاں کیجئے گا

    تار مژگاں پہ رواں یوں ہے مرا طفل سرشک
    نٹ رسن پر چلے ہے جیسے کوئی رکھ کر پاؤں

    تو تو اک پرچہ بھی واں سے نامہ بر لایا نہ آہ
    زندگی کیوں کر ہو گر ہم دل کو پر جاویں نہیں

    اسی مضمون سے معلوم اس کی سرد مہری ہے
    مجھے نامہ جو اس نے کاغذ کشمیر پر لکھا

    آ کے سلاسل اے جنوں کیوں نہ قدم لے بعد قیس
    اس کا بھی ہم نے سلسلہ از سر نو بپا کیا

    وصل کی رات ہم نشیں کیونکہ کٹی نہ پوچھ کچھ
    برسر صلح میں رہا اس پہ بھی وہ لڑا کیا

    دلا اس کی کاکل سے رکھ جمع خاطر
    پریشاں سے حاصل کب اک دام ہوگا

  • جارج ایلیٹ  ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    جارج ایلیٹ ، خاتون ادیبہ کا مردانہ نام

    لفظ Pop Music کی خالق
    22 نومبر 1819 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    قلمی نام جارج ایلیٹ سے شہرت حاصل کرنے والی ناولن نگار، شاعرہ اور مترجم "میری این ایوینز” کی زندگی میں خواتین مصنفین اپنے ہی ناموں کے تحت اپنا کام شائع کروانا شروع کر چکی تھیں، لیکن وہ خواتین کی تحریروں کو دقیانوسی رومانویت تک محدود سمجھنے کی شکل سے بچنا چاہتی تھیں۔ ان کے قلمی نام کے استعمال کی دوسری وجہ اپنی نجی زندگی کو عوامی جانچ سے بچانے کی خواہش تھی، جس کی وجہ شادی شدہ جارج ہنری لیوس کے ساتھ ان کے جنسی تعلقات تھے۔

    مارٹن ایمس اور جولین بارنز کے مطابق ایلیٹ کا ناول "مڈل مارچ” Middlemarch انگریزی ادب کا عظیم ترین ناول ہے۔

    وہ اپنے عہد کی کامیاب ترین ادیب تھیں اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے ناول رومولا Romola کی اشاعت کے لیئے دس ہزار پاونڈ وصول کیئے تھے ۔

    جارج ایلیٹ نے اپنی زندگی کے آخری سال, اپنے سے 20 سال چھوٹے” جان کراس” سے شادی کی تھی۔

    میوزک کے لیئے استعمال ہونے والی اصطلاح پاپ pop کا لفظ سب سے پہلے استعمال انہوں نے اپنے خطوط میں کیا (بمطابق: آکسفورڈ ڈکشنری)۔

    انہوں نے 22 دسمبر 1880 کو وفات پائی۔

    جارج ایلیٹ کے مشہور ناول درج ذیل ہیں:
    Adam Bede, 1859
    The Mill on the Floss, 1860
    Silas Marner, 1861
    Romola, 1863
    Felix Holt, the radical, 1866
    Middlemarch, 1871–72
    Daniel Deronda 1876

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    پت جھڑ کی رت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامان تار تار سیے جا رہی ہوں میں

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کلکتہ میں 22 نومبر 1969ء کو ،سید غلام محی الدین وارثی (مرحوم) اور گہر جان (مرحومہ) کے ہاں پیدا ہوئیں انہوں نے ایم اے، پی ایچ ڈی کی اور خدمتِ خلق میں لگ گئیں ان کی تصانیف میں جاگتی آنکھوں کا سپنا (شعری مجموعہ) زیرِ ترتیب ہیں جس نے ان کو شناخت دی-

    ان کی خدمات کی بدولت انہیں کئی ملکی و بین الاقوامی انعامات و اعزازات سے نواز اگیا جن میں (1)جھانسی کی رانی لکشمی بائی استری شکتی ایوارڈ (حکومت ہند) ، (2) ویمنس آف دی ایئر انٹرنیشنل ایوارڈ (حکومت ہند)، (3)رول ماڈل (حکومت ہند)، (4)فخرِ ہندوستان (حکومت ہند)، (5)مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت ہند)، (6)ملینیم مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (7)ٹیلنٹیڈ لیڈیز ایوارڈ (8)ٹیلنٹیڈ لیڈیز نیشنل ایوارڈ، ویمنس آف دی ایئر (امریکن بائیوگرافیکل انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا)، (10)دی ٹیلی گراف ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (11)بیگم رقیہ ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال) مکمل پتا:پریم آشا، 41/C، جان نگر روڈ کلکتہ-700017 شامل ہیں-

    غزل

    دادِ جفا وفا ہے دیے جارہی ہوں میں
    اُن سے مگر نباہ کیے جارہی ہوں میں
    خونِ دل و جگر ہو کہ ہوں میرے اشکِ غم
    اُن کا ہی نام لے کے پیے جارہی ہوں میں
    پت جھڑ کی رُت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامانِ تارتار سیے جارہی ہوں میں
    وارفتگی کہوں اِسے یا بے خودی کہوں
    بس آپ ہی کا نام لیے جارہی ہوں میں
    شاید کہ زندگی کے کسی موڑ پر ملوں
    یہ سوچتی ہوں اور جیے جارہی ہوں میں
    کیا رنگ لائے خدمتِ مخلوق دیکھیے
    خدمت کا حوصلہ ہے ، کیے جارہی ہوں میں
    مہنازؔ وہ بھی یاد کریں گے مری وفا
    دل دے کے اُن سے درد لیے جارہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حسرتوں کا مزار ہے سینہ
    دفن ہیں دل میں دل کے افسانے
    اس تبسم فروش دنیا میں
    غم کے ماروں کو کون پہچانے
    تم حقیقت کو کیسے سمجھو گے
    جب سمجھتے نہیں ہو افسانے
    میں تو پیاسی ہی لوٹ آئی ہوں
    پوچھ مت کیا کہا ہے دریا نے
    مجھ کو مہنازؔ یہ پتا بھی نہیں
    ڈھونڈتے ہیں کسے یہ پروانے

    اشعار

    زندگی بھر بلندی نہ ملتی ہمیں
    ہار جاتے اگر حوصلے آپ ہم
    کچھ نہ کچھ ہاتھ اس میں پڑوسی کا ہے
    ورنہ کل تک تھے اچھے بھلے آپ ہم
    دوستی کے ہیں انجام سے آشنا
    چونکہ مہنازؔ ہیں دل جلے آپ ہم

    آغا نیازمگسی

  • برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کا یوم وفات

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض کو نیا سے رخصت ہوئے 4 سال بیت گئے-

    برصغیر کی معروف ادیبہ،شاعرہ اور دانشور فہمیدہ ریاض 28 جولائی 1945 کو ہندوستان کے شہر میرٹھ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام ریاض الدین اور والدہ محترمہ کا نام حسنہ بیگم ہے۔

    تقسیم ہند کے بعد ان کا خاندان پاکستان ہجرت کر کے حیدر آباد سندھ میں آباد ہوا۔ فہمیدہ نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد سے اور ایم اے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے کیا۔ دوران تعلیم وہ ڈی ایس ایف کے پلیٹ فارم سے ایوب خان کے خلاف تحریک میں سرگرم عمل رہیں۔1967 میں شادی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئیں۔ وہاں سے انہوں نے تیکنیکی تعلیم میں ڈپلومہ کیا۔ اس دوران بی بی سی ریڈیو کی اردو سروس میں بھی کام کیا۔

    1973 میں لندن سے وطن واپس آئیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں انہوں نے ایک اردو ادبی رسالہ” آواز” جاری کیا جس میں وہ حکومت کی غیر جمہوری پالیسیوں پر تنقیدی مضامین لکھتی رہیں جس پر ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے گئے اور ان کے رسالے کو بند کر دیا گیا تھا جس کی بناء پر وہ پاکستان سے جلاوطنی اختیار کر کے ہندوستان چلی گئیں ۔

    1981 سے 1987 تک ہندوستان میں قیام پذیر رہیں۔اس دوران وہ جامعہ ملیہ۔اسلامیہ دہلی سے وابستہ رہیں ۔ وہاں ان کا ایک شعری مجموعہ” کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے” شائع کیا گیا جبکہ اس سے قبل پاکستان میں ان کے دو شعری مجموعے ” بدن "دریدہ اور ایک دوسرا شعری مجموعہ شائع ہو چکا تھا ۔ جنرل ضیا کی وفات کے بعد وہ اپنی جلاوطنی ختم کر کے اپنے وطن واپس آ گئیں۔

    محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور میں انہیں نیشنل بک کونسل کی چیئر پرسن مقرر کیا گیا تھا ۔ فہمیدہ ریاض نے جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی محرومی کے حوالے سے بھرپور جدوجہد کی۔ فہمیدہ ریاض کی نصف درجن سے زائد کتابیں شائع ہوئیں جن میں "حلقہ مری زنجیر کا” ہم رکاب، ادھورا آدمی، میں مورت ہوں ، اپنا جرم ثابت ہے، اور ” آدمی کی زندگی” شامل ہیں ۔

    فہمیدہ نے دو شادیاں کی تھیں پہلی شوہر سے ایک بیٹی اور دوسرے شوہر سے ایک بیٹی اور ایک بیٹا کبیر پیدا ہوا۔ کبیر 2007 میں امریکہ میں ایک حادثے میں فوت ہو گئے جس کا فہمیدہ کو شدید صدمہ ہوا ۔ 21 نومبر 2018 میں فہمیدہ ریاض کا انتقال ہوا۔

    فہمیدہ ریاض کی شاعری سے انتخاب

    اب سو جاؤ

    اور اپنے ہاتھوں کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    تم چاند سے ماتھے والے ہو
    اور اچھی قسمت رکھتے ہو
    بچے کی سو بھولی صورت
    اب تک ضد کرنے کی عادت
    کچھ کھوئی کھوئی سی یادیں
    کچھ سینے میں چھبھتی یادیں
    اب انہیں بھلا دو سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    سو جاؤ تم شہزادے ہو
    اور کتنے ڈھیروں پیارے ہو
    اچھا تو کوئی اور بھی تھی
    اچھا پھر بات کہاں نکلی
    کچھ اور بھی یادیں بچپن کی
    کچھ اپنے گھر کے آنگن کی
    سب بتلا دو پھر سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو
    یہ ٹھنڈی سانس ہواؤں کی
    یہ جھلمل کرتی خاموشی
    یہ ڈھلتی رات ستاروں کی
    بیتے نہ کبھی تم سو جاؤ
    اور اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ میں رہنے دو

    اس گلی کے ہر موڑ پر

    اس گلی کے موڑ پر اک عزیز دوست نے
    میرے اشک پونچھ کر
    آج مجھ سے یہ کہا
    یوں نہ دل جلاؤ تم
    لوٹ مار کا ہے راج
    جل رہا ہے کل سماج
    یہ فضول راگنی
    مجھ کو مت سناؤ تم
    بورژوا سماج ہے
    لوٹ مار چوریاں اس کا وصف خاص ہے
    اس کو مت بھلاؤ تم
    انقلاب آۓ گا
    اس سے لو لگاؤ تم
    ہو سکے تو آج کل کچھ مال بناؤ تم
    کھائی سے نکلنے کی آرزو سے پیشتر
    دیکھ لو ذرا جو ہے دوسری طرف ہے گڑھا
    آج ہیں جو حکمراں ان سے بڑھ کے خوفناک ان کے سب رقیب ہیں
    دندنا رہے ہیں جو لے کے پاتھ میں چھرا
    شکر کا مقام ہے
    میری مسخ لاش آپ کو کہیں ملی نہیں
    اک گلی کے موڑ پر
    میں نے پوچھا واقعی
    سن کے مسکرا دیا کتنی دیر ہو گئی
    لیجیۓ میں اب چلا اس کے بعد اب کیا ہوا
    کھڑکھڑائیں ہڈیاں
    اس گلی کے موڑ سے وہ کہیں چلا گیا

    پچھتاوا

    خداۓ ہر دوجہاں نے جب آدمی کو پہلے پہل سزا دی
    بہشت سے جب اسے نکالا
    تو اس کو بخشا گیا یہ ساتھی
    یہ ایسا ساتھی ہے جو ہمیشہ ہی آدمی کے قریں رہا ہے
    تمام ادوار چھان ڈالو
    روایتوں میں حکایتوں میں
    ازل سے تاریخ کہہ رہی ہے
    کہ آدمی کی جبیں ہمیشہ ندامتوں سے عرق رہی ہے
    وہ وقت جب سے کہ آدمی نے
    خدا کی جنت میں شجر ممنوعہ چکھ لیا
    اور
    سرکشی کی
    تبھی سے اس پھل کا یہ کسیلا ذائقہ
    آدمی کے کام و دہن میں ہر پھر کے آ رہا ہے
    مگر ندامت کے تلخ سے ذائقے سے پہلے گناہ کی بے پناہ لذت

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر

    خوب صورت سی کنیزوں پے ہے راجا کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ثمینہ رحمت منال کی کتاب” اور کیا چاہیئے ”
    تعارف اور تبصرہ : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برطانیہ میں مقیم پاکستانی نژاد خوب صورت افسانہ نگار اور شاعرہ ثمینہ رحمت منال کا شائع ہونے والا دوسرا شعری مجموعہ ” اور کیا چاہیئے” میرے ہاتھوں میں ہے۔ جس کے لیے میں ان کا بے حد ممنون و شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنا خوب صورت شعری مجموعہ مجھ ناچیز کے لیے بطور تحفہ ارسال فرمایا ہے۔ یہ کتاب مارچ 2022 میں انحراف پبلیکیشنز لاہور سے شائع ہوئی ہے جو کہ 144صفحات پر مشتمل ہے جس کی ابتداء نعت رسول مقبول ﷺ سے کی گئی ہے جس کے بعد پہلا حصہ غزلوں اور دوسرا حصہ نظموں پر مشتمل ہے ۔ کتاب کے پس ورق پر اردو کے ممتاز ادیب ، شاعر اور ڈرامہ سیریل رائٹر امجد اسلام امجد اور اندرون صفحات میں ممتاز شاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر اعتبار ساجد ، نامور شاعرہ نیلما ناہید درانی اور قمر صدیقی نیروی کے ثمینہ منال صاحبہ کی شاعری پر بہترین تبصرے شامل ہیں ۔ اس سے قبل ان کا پہلا شعری مجموعہ” گل بلوئی” 2012 میں شائع ہو چکا ہے۔ ان کی پہلی کتاب کی طرح سال رواں میں شائع ہونے والی دوسری کتاب” اور کیا چاہیئے ” بھی بہترین اور دل میں اترنے والی خوب صورت شاعری پر مشتمل ہے۔

    ثمینہ صاحبہ کی ولادت 9 جنوری 1976 کو کمالیہ پاکستان میں محترم رحمت علی کے گھر میں ہوئی ان کی والدہ صاحبہ کا نام خدیجہ بی بی اور بچوں کے نام یشم منال اور راحم بلال ہے ۔ ثمینہ نے میٹرک کمالیہ گرلز ہائی اسکول سے کنیئرڈ کالج لاہور سے اکنامکس میں بی ایس سی اور ایل ایل بی لندن انگلینڈ سے کیا ہے۔ وہ 1998 میں اپنے خاندان سمیت برطانیہ منتقل ہو چکی ہیں ۔

    ثمینہ صاحبہ کی شاعری سے چند منتخب اشعار قارئین کی نذر ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دور ہو تو اس کو پل پل ڈھونڈتی رہتی ہوں میں
    سامنے آ جائے تو کچھ ڈھونڈنے لگتی ہوں میں

    پاس رہ کر تو سبھی لیتے ہیں لذت لمس کی
    دور رہ کر قربتوں کا لطف لے سکتی ہوں میں

    گر بھروسہ ہو کہ ہے اس پار کوئی منتظر
    چاہے کچا ہو گھڑا، دریا سے لڑ سکتی ہوں میں

    میں نے سوچی ہیں جو باتیں وصل کی شب کے لیے
    ڈائری میں ہجر کی وہ روز لکھ لیتی ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ بھی تو معجزہ ہے محبت کا دوستو
    اس نے وہ سن لیا ہے جو میں نے کہا نہیں

    تھی میرے آنسوئوں کو بھی میری انا عزیز
    سو اس کے آگے ایک بھی قطرہ بہا نہیں

    ورثہ سمجھ کے جو وطن تقسیم کر چکے
    وہ بھی یہ کہہ رہے ہیں انہیں کچھ ملا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فیس بک ، انسٹا، وٹس ایپ اور ٹویٹ
    اب کہیں بھی وہ ملتے نہیں کیا کریں

    خاک ہو جائوں گی میں خاک وطن کی خاطر
    اپنی ماں پر میں کوئی تہمت لگائوں کیسے

    اک گلی میں ہی ہیں بھائیوں کے مکاں
    پھر بھی آپس میں ملتے نہیں کیا کریں

    ہمارے تیر دکھاوے کو رہ گئے ہیں منال
    ہدف ہے سامنے اور ہاتھ میں کمان نہیں

    جب ماں بچھڑ گئی تو مجھے یوں لگا منال
    میرے لیے دعا کا خزانہ نہیں رہا

    خوب صورت سی کنیزوں پہ ہے راجہ کی نظر
    اس کی معصوم سی رانی کی خدا خیر کرے

    اس کے ہاتھوں میں مرے آنچل کا پلو آ گیا
    اور مجھے شرما کے اپنا بھاگنا اچھا لگا

    باہر ہم آ گئے ہیں حدود شباب سے
    شکوے شکایتوں کا زمانہ نہیں رہا
    دو چار پنچھیوں کو ہی لے آئوں زیر دام
    اب میرے پاس اتنا بھی دانہ نہیں رہا

    اب تو آنسوں بھی کرائے پے ملا کرت کرتے ہیں
    لوگ ملتے ہیں جنازوں پے رلانے کے لیے

  • کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوئے یار سے ،ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    علامہ شبلی نعمانی

    3 جون 1857 یوم پیدائش

    18 نومبر 1914 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    علامہ شبلی نعمانی کا اصل نام محمد شبلی تھا تاہم حضرت امام ابو حنیفہ کے اصل نام نعمان بن ثابت کی نسبت سے انہوں نے اپنا نام شبلی نعمانی رکھ لیا تھا۔ وہ 1857ء میں اعظم گڑھ کے ایک نواحی قصبے میں پیدا ہوئے۔ آپ کی تعلیم بڑے اچھے ماحول اور اپنے عہد کے اعلیٰ ترین درس گاہوں میں ہوئی۔ 1882ء میں وہ علی گڑھ کالج کے شعبۂ عربی سے منسلک ہوگئے، یہاں انہیں سرسید احمد خان اور دوسرے علمی اکابر کی صحبت میسر آئی، جس نے ان کے ذوق کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ علامہ شبلی نعمانی کا ایک بڑا کارنامہ ندوۃ العلما کا قیام ہے۔ ان کی زندگی کا حاصل ان کی تصنیف سیرت النبی سمجھی جاتی ہے تاہم بدقسمتی سے ان کی زندگی میں اس معرکہ آرا کتاب کی فقط ایک جلد شائع ہوسکی تھی۔ ان کے انتقال کے بعد یہ کام ان کے لائق شاگرد سید سلیمان ندوی نے پایہ تکمیل کو پہنچایا۔ شبلی نعمانی کی دیگر تصانیف میں شعر العجم، الفاروق، سیرت النعمان، موازنۂ انیس و ادبیر اور الغزالی کے نام سرفہرست ہیں۔
    علامہ شبلی نعمانی کا مزار اعظم گڑھ میں واقع ہے۔

    شبلی نعمانی صاحب کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو قدم چل کر ترے وحشی کے ساتھ
    جادہ راہِ بیاباں رہ گیا

    قتل ہو کر بھی سبکدوشی کہاں
    تیغ کا گردن یہ احساں رہ گیا

    کیا قیامت ہے کہ کوۓ یار سے
    ہم تو نکلے اور ارماں رہ گیا

    بزم میں ہر سادہ رو تیرے حضور
    صورت آئینہ حیراں رہ گیا

    یاد رکھنا دوستو اس بزم میں
    آ کے شبلیؔ بھی غزل خواں رہ گیا

    ضعف مرنے بھی نہیں دیتا مجھے
    میں اجل سے بھی تو پنہاں رہ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ جاتے تو ہیں اس بزم میں شبلیؔ لیکن
    حال دل دیکھیے اظہار نہ ہونے پائے

    عجب کیا ہے جو نوخیزوں نے سب سے پہلے جانیں دیں
    کہ یہ بچے ہیں ان کو جلد سو جانے کی عادت ہے

    فراز دار پہ بھی میں نے تیرے گیت گائے ہیں
    بتا اے زندگی تو لے گی کب تک امتحاں میرا

    جمع کر لیجئے غیروں کو مگر خوبئ بزم
    بس وہیں تک ہے کہ بازار نہ ہونے پائے

    میں روح عالم امکاں میں شرح عظمت یزداں
    ازل ہے میری بیداری ابد خواب گراں میرا

    تسخیر چمن پر نازاں ہیں تزئین چمن تو کر نہ سکے
    تصنیف فسانہ کرتے ہیں کیوں آپ مجھے بہلانے کو

    یہ نظم آئیں یہ طرز بندش سخنوری ہے فسوں گری ہے
    کہ ریختہ میں بھی تیرے شبلیؔ مزہ ہے طرز علی حزیںؔ کا

  • ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967  یوم پیدائش

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش

    حوروں کے پستان ناپتے مولوی ۔۔۔۔!

    ڈاکٹر شہناز شورو .17 نومبر 1967 یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ادیبہ، مصنفہ، ماہر تعلیم اور نظم گو شاعرہ پروفیسر ڈاکٹر شہناز شورو صاحبہ 17 نومبر. 1967 میں میر پور خاص سندھ میں پیدا ہوئیں۔ ابتدائی تعلیم میر پور خاص میں حاصل کرنے کے بعد انہوں نے سندھ یونیورسٹی جام شورو سے انگلش میں ایم اے کیا جس کے بعد انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیرون ممالک کا سفر اختیار کیا ۔ انہوں ناٹنگھم یونیورسٹی برطانیہ سے انگریزی پڑھانے کی تعلیم حاصل کی جبکہ نیو یارک یونیورسٹی امریکہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔ اعلیٰ تعلیم مکمل کرنے کے بعد سندھ کے محکمہ تعلیم میں بطور لیکچرار ان کی تعیناتی ہوئی۔ وہ آجکل پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔ سندھ کے معروف ادیب اور بیورو کریٹ اکبر لغاری صاحب سے ان کی شادی ہوئی ہے۔ پروفیسر شہناز شورو تین زبانوں سندھی ،اردو اور انگریزی میں افسانے، مضامین ، مقالے اور آزاد نظم لکھتی ہیں اور ترجمے بھی کرتی ہیں ان کی نصف درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں "نظر نظر کی بات” زوال دکھ” ” درد جو معراج” اور ترجمے شامل ہیں ۔

    آزاد نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عورت کی کوکھ سے نکلے
    حوروں کے پستان ناپتے مولوی
    بد کردار حاکموں کو نیکی کی سند بانٹنے والے مولوی
    ہمارے لباس ہمارے کردار جانچتے مولوی
    درباری مولوی، پیشہ ور مولوی
    بھوک سے بلکتے انسان دیکھ کر
    جن کی سوچ جاگتی نہیں
    زندانوں میں بے گناہ جسم دیکھ کر
    جن کو نظر آتے نہیں
    ننھی بچیوں کے جسموں کو نوچتے بھیڑیے
    جن کی زبان چپ ہے دیکھ کر
    معصوم بچوں کے جسموں کو چیرتے درندے
    مگر ہم بے پردہ عورتیں
    خدا کا عذاب ہیں
    ہم جینز پہن کر کام کرتی مزدور عورتیں
    وبا کا سبب ہیں
    پروردگار اپنے خلیفے کو رسی ڈال

  • شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش

    شہرہ آفاق ناول ” داستان ایمان فروشوں کی” کے خالق عنایت اللہ التمش
    ایک منفرد تاریخی ناول نگار و صحافی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اردو کے منفرد تاریخی ناول نگار ،ادیب،صحافی، جنگی وقائع نگار، افسانہ نویس اور مدیر عنایت اللہ التمش یکم نومبر 1920 میں پوٹھوہار کے نواحی گاوں گوجر خان میں پیدا ہوئے۔ تعلیمی سہولیات نہ ہونے کے باعث وہ صرف میٹرک تک تعلیم حاصل کر سکے جس کے بعد وہ انڈین آرمی میں بطور کلرک بھرتی ہو گئے مگر دوسری عالمی جنگ شروع ہونے کے باعث انہیں جنگی محاذوں پر برما بھیج دیا گیا جہاں وہ جنگ لڑتے ہوئے جاپانی فوج کے ہتھے چڑھ گئے انہیں جنگی قیدی بنا لیا گیا جہاں انہیں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 1944 میں جاپانی قید سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے جس کے بعد وہ ڈیڑھ سال تک جنگلوں ، جزائر اور بیابانوں میں بھٹکتے ہوئے بڑی مشکل سے اپنے محاذ پر واپس پہنچے وہاں پہنچنے پر انہیں ملیشیا بھیجا گیا اسی دوران ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آ گیا۔ وہ 9 سال بعد 1948 میں اپنی سرزمین پوٹھوہار پاکستان آ گیا یہاں آنے کے بعد وہ پاکستان ایئر فورس میں بھرتی ہو گئے لیکن کچھ عرصہ بعد سرکاری ملازمت چھوڑ کر صحافت میں آ گئے ۔ انہوں نے اپنے صحافتی کیریئر کا آغاز ماہنامہ سیارہ ڈائجسٹ سے کیا کچھ عرصہ بعد انہوں نے لاہور سے اپنا ماہنامہ حکایت کا اجراء کیا۔ سیارہ ڈائجسٹ میں انہوں نے ” خاص نمبر” نکالنے کی طرح ڈال دی جس کے بعد پاکستان اور ہندوستان کے رسائل و جرائد اور اخبارات میں خاص نمبرز نکالنے کا سلسلہ چل نکلا۔ انہوں نے 1965 اور 1971 میں پاک بھارت جنگوں کے دوران محاذ پر جا کر جنگی صورت حال کا جائزہ لے کر آنکھوں دیکھا احوال ” بی آر بی بہتی رہے گی” لاہور کی دہلیز پر” اور ” بدر سے باٹاپور تک” کتابیں لکھ کر لازوال شہرت حاصل کی اس کے علاوہ انہوں نے * داستان ایمان فروشوں کی” اور شمشیر بے نیام” جیسے شہرہ آفاق ناول تحریر کیے۔ عنایت اللہ التمش نے مختلف موضوعات پر 100 سے کے لگ بھگ کتابیں لکھ کر خود کو ادب اور صحافت کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ وہ ایک منفرد قسم کے لکھاری تھے جنہوں نے مختلف موضوعات پر مختلف اور فرضی ناموں سے لکھا۔ انہوں نے میم الف، احمد یار خان، وقاص، محبوب عالم ، صابر حسین راجپوت اور گمنام خاتون کے ناموں سے بھی کئی کتابیں اور کہانیاں لکھیں۔ اردو ادب اور صحافت کے یہ منفرد کردار 16 نومبر 1999 میں لاہور میں انتقال کر گئے۔

    عنایت اللہ التمش کی تصانیف

    تاریخی ناول/داستانیں

    حجاز کی آندھی
    شمشیرِ بے نیام (دو حصے)
    اور نیل بہتا رہا (دو حصے)
    دمشق کے قید خانے میں
    اور ایک بت شکن پیدا ہوا (پانچ حصے)
    داستان ایمان فروشوں کی (پانچ حصے)
    ستارہ جو ٹوٹ گیا
    فردوس ابلیس (دو حصے)
    اندلس کی ناگن
    امیر تیمور (ترجمہ)
    مجرم یا جنگ آزادی کے ہیرو
    شکاریات ترميم
    لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
    سانپ، سادھو اور نوجے کی کہانی
    پگلی کا پنجہ
    ایک لڑکی دو منگیتر
    بیٹا پاکستان کا بیٹی ساہو کار کی
    بھیڑیا، بدروح اور بیوی
    جذبات کا سیلاب
    لاش، لڑکی اور گف کے گناہگار
    قبر کا بھید

    نفسیات

    زندہ رہو جوان رہو
    جوانی کا روگ

    معاشرتی ناول/کہانیاں/چادر چاردیواری
    پاکستان ایک پیاز دو روٹیاں
    چھوٹی بہن کا پگلا بھائی
    چاردیواری کے دریچوں سے
    طاہرہ
    مردتو میں ہوں / میرا تیسرا خاوند
    میں بزدل تو نہیں/وہ مر گیا تم زندہ رہو
    پتن پتن کے پاپی
    الجھے راستے
    ہیرے کا جگر
    منزل اور مسافر(دو حصے)
    استانی اور ٹیکسی ڈرائیور
    پانچویں لڑکی
    کیا میں کسی کی بیٹی نہیں؟
    ایک کہانی (دو حصے)
    اکھیاں میٹ کے سپنا تکیا
    چاردیواری کی دنیا
    رات کا راہی (دو حصے)
    واجدہ، وینا اور وطن (دو حصے)
    ڈوب ڈوب کر ابھری نائو
    جرم، جنگ اور جذبات
    میں گناہگار تو نہیں
    پرچم اڑتا رہا
    پیاسی روحیں
    پیاسے
    سزا اس گناہ کی
    ایک آنکھ اور پاکستان
    دھندلی راہیں (دو حصے)
    تاریک اجالے
    جوانی کے جنگل میں

    جرم و سزا/سراغرسانی کی کہانیاں

    جب بہن کی چوڑیاں ٹوٹیں
    کالا برقع جل رہا تھا
    حوالات میں طلاق
    لائن پر لاش
    دوسری بیوی
    داستان ایک داماد کی
    روح کے رشتے اور مقتول کی بدروح
    دام میں صیاد آ گیا
    جب مجھے اغواء کیا گیا
    پیارکا پل صراط
    چور دروازہ
    ایک رات کی شادی
    رات کا راز
    تعویذ، انگلیاں اور انگوٹھی
    بھائی اور بھیڑیا
    سنگیتا، شراب اور سگریٹ
    بیٹی کی قربانی
    واردات اس رات کی
    چڑیا پھنس گئی
    جب پیار نے کروٹ لی
    جائداد کا وارث
    رتن کمار کی روپا
    آشرم سے اس بازار تک
    دلیر یا بیوقوف
    سندری کا سودا
    جھمکوں کی جوڑی
    کار، شلوار اور دوپٹہ
    بال ایک چڑیل کے
    جنّات کے دربار میں
    قاضی کی کوٹھڑی اور کنواری بیٹی
    بن بیاہی ماں
    سہاگ کا خون
    زلیخا کا جن
    عشق ایک چڑیل کا
    رات، ریل اور برقعے
    پیار کا پاپی

    جنگی کہانیاں/وقائع نگاری/ناول

    بی آر بی بہتی رہے گی
    بدر سے باٹا پور تک
    دو پلوں کی کہانی
    خاکی وردی لال لہو (دو حصے)
    فتح گڑھ سے فرار
    لاہور کی دہلیز پر
    پاک فضائیہ کی داستانِ شجاعت
    لہو جو ہم بہا کر آئے
    ہماری شکست کی کہانی

    طنز و مزاح

    ایوبی، غزنوی اور محمد بن قاسم پاکستان میں
    پھوپھی گام

  • معروف ادیبہ پروین عاطف کا یوم وفات

    معروف ادیبہ پروین عاطف کا یوم وفات

    پاکستان کی معروف ادیبہ پروین عاطف کو دنیا سے رخصت ہوئے 4 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی : پاکستان کی معروف ادیبہ پروین عاطف 1935ء میں گوجرانوالہ کے قریب ایمن آباد میں پیدا ہوئیں اور 17 نومبر 2018 کو راولپنڈی میں وفات پائی وہ ہاکی کے مشہور کھلاڑی اولمپئین بریگیڈیئر عاطف کی اہلیہ اور ممتاز ادیب اور صحافی احمد بشیر کی بہن تھیں۔

    ان کے والد غلام حسین تاریخ اور فارسی میں ایم اے تھےعمر بھر تدریس سے وابستہ رہے، شاعر بھی تھے پروین عاطف اپنے بھائی احمد بشیر کے ساتھ لاہور آگئیں مدرستہ البنات سے تعلیمی سفر کا دوبارہ آغاز کیا. پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے سوشیالوجی کیا-

    پروین عاطف بنیادی طور پر افسانہ نویس تھیں۔ وہ 16 برس تک پاکستان ویمن ہاکی فیڈریشن کی صدر رہیں اس سلسلے میں بے شمار ملکوں کا سفر کیا اور پھر سفر نامے بھی لکھے۔ کئی برس تک ایک قومی اخبار میں ’’ میں سچ کہوں گی” کے عنوان سے کالم بھی لکھتی رہیں-

    پروین عاطف کی تصانیف میں ٹپر وَاسنی، بول میری مچھلی (افسانے) میں میلی پیا اُجلے (افسانے)عجب گھڑی عجب افسانہ (افسانے)ایک تھی شادی (افسانے)صبح کاذب، کرن تتلی اور بگولےاور گاڈ تسی گریٹ او شامل ہیں حال ہی میں ان کا مجموعہ شائع ہوا ہے-