Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر،ڈاکٹر صغریٰ صدف کا یوم پیدائش

    لکھا تھا بڑے چاؤسے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    ڈاکٹر صغری صدف
    28 فروری 1963: تاریخ پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ڈاکٹر صغریٰ صدف صاحبہ ایک ہمہ جہت اور فعال ادبی شخصیت ہیں۔ اردو اور پنجابی زبان میں شاعری اور افسانہ نگاری کرتی ہیں جبکہ پاکستان کے مشہور اخبار ’جنگ‘ میں سماجی، سیاسی، لسانی اور صوفیانہ موضوعات پر کالم لکھتی ہیں۔ فلسفہ، سماجیات اور اردو میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے کئے ہیں۔ وہ 28 فروری 1963 میں ضلع گجرات پاکستان کی تحصیل کھاریاں کے ایک نواحی گاؤں میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے خاندان خواہ برداری میں لڑکیوں کو پڑھانا معیوب سمجھا جاتا تھا مگر ڈاکٹر صاحبہ کے والد صاحب جو کہ تعلیمی لحاظ سے مڈل پاس تھے انہوں نے اپنی بیٹی صغرا کی خواہش پر اعلی تعلیم دلوائی ۔ ڈاکٹر صاحبہ کا اصل نام صغری ہے قلمی نام صغرا صدف ہے ۔ صدف کا تخلص انہوں نے چھٹی جماعت میں اختیار کیا اس وقت انہیں صدف کے معنی بھی معلوم نہ تھا۔ شاعری میں ڈاکٹر شاہین مفتی صاحبہ سے انہوں نے رہنمائی حاصل کی ۔ وہ اپنی شاعری کو ” دل کی واردات” قرار دیتی ہیں ۔

    ڈاکٹر صاحبہ نے صوفی شاعر میاں محمد بخش پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تصنیف کیا ہے۔ پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگویج، آرٹ اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر جنرل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی سماجی اور علمی اداروں اور تنظیموں کی رکن ہیں۔ پی ٹی وی کے لئے کئی پروگراموں کے اسکرپٹ لکھ اور پیش کر چکی ہیں ۔ ان کی اب تک شائع ہونے والی کتابوں میں : ’میں کیوں مانوں ہار‘ ’وعدہ‘ ’مورکھ من‘۔ ’جدا ہیں چاہتیں اپنی‘ ۔ ’مائے میں کنوں آنکھاں‘ (شعری مجموعے ) ’قلم‘ ’نقطہ‘ ’استغراق‘ (کالموں کے مجموعے) ’فیض کا عمرانی فلسفہ‘ اور ’میاں محمد بخش‘ ’فلاسفی آف ڈوائن لو‘(تحقیق اور تنقید) اس کے علاوہ چھ کتابیں انگریزی اور پنجابی سے اردو تراجم کی اور پنجابی میں افسانوں کا ایک مجموعہ بھی شائع ہوچکا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ علامہ اقبال ٹاون لاہور میں مستقل طور منتقل ہو چکی ہیں ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مدتوں جس سے ملاقات نہ تھی
    جب وہ آیا تو کوئی بات نہ تھی

    دل بھی کچھ سرد ہوا جاتا ہے
    مجھ میں بھی شدت جذبات نہ تھی

    وہ کہ سمجھا ہی نہیں نظروں کو
    میری آنکھوں میں کوئی رات نہ تھی

    کیسے ممکن تھا کہ ہوتی مجھ کو
    میری قسمت میں اگر مات نہ تھی

    میں کہ کھوئی رہی اپنے من میں
    میرے رستے میں مری ذات نہ تھی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے
    طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے

    جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے
    لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے

    بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ
    جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے

    سارے جہاں کی روشنی کب مانگتی ہوں میں
    بس میری زندگی کا ستارا ملے مجھے

    دنیا میں کون ہے جو صدفؔ سکھ سمیٹ لے
    دیکھا جسے بھی درد کا مارا ملے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا
    اب اس کو بھلانے میں ذرا وقت لگے گا

    تو نے جو پکارا تو پلٹ آؤں گی واپس
    ہاں لوٹ کے آنے میں ذرا وقت لگے گا

    لکھا تھا بڑے چاؤ سے جس نام کو دل پر
    وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا

    دیتا ہے کسی اور کو ترجیح وہ مجھ پر
    اس کو یہ جتانے میں ذرا وقت لگے گا

    جس شاخ پہ پھل پھول نہیں آئے ہیں اب تک
    وہ شاخ جھکانے میں ذرا وقت لگے گا

    سب رنج و الم ملنے چلے آئے ہیں مجھ سے
    محفل کو سجانے میں ذرا وقت لگے گا

    میں دیکھ بھی سکتی ہوں کسی اور کو تجھ سنگ
    یہ درد کمانے میں ذرا وقت لگے گا

    جو آگ صدفؔ ہجر نے ہے دل میں لگائی
    وہ آگ بجھانے میں ذرا وقت لگے گا

  • پاکستانی کی پارلیمانی تاریخ ،مگسی برادرز کا منفرد اعزاز برقرار

    پاکستانی کی پارلیمانی تاریخ ،مگسی برادرز کا منفرد اعزاز برقرار

    عام انتخابات میں 2 بھاٸی ایم این اے اور 2 بھاٸی ایم پی اے منتخب

    ڈیرہ مراد جمالی( کیٸر سوشل میڈیا سیل) پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں مگسی برادران کو گزشتہ 3 دہائیوں سے یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ ہر عام انتخابات میں بیک وقت 2 بھائی رکن قومی اسمبلی اور 2 بھائی رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے آ رہے ہیں جو کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ بھی ہے 8 فروری 2024 کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں نوابزادہ خالد خان مگسی کچھی جھل مگسی نصیر آباد سے قومی اسمبلی کے رکن اور نوابزادہ عامر خان مگسی قمبر شہداد کوٹ سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ نوابزادہ طارق خان مگسی جھل مگسی سے رکن صوبائی اسمبلی اور نوابزادہ نادر خان مگسی شہداد کوٹ سے صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے ہیں یہ چاروں بھای 2018 کے عام انتخابات میں بھی انہی انتخابی حلقوں سے منتخب ہوئے تھے

  • میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی،وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    نصرت زہرا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف شاعرہ اور صحافی نصرت حسین زہرا کا تعلق کراچی پاکستان سے ہے ان کے والدین کا تعلق امرتسر سے ہے جو کہ تقسیم ہند سے چند ماہ قبل ہجرت کر کے پاکستان آگئے ۔ ان کے والد صاحب کا نام امانت علی اور والدہ محترمہ کا نام فہمیدہ بانو ہے ان کے 3بھائی اور 5 بہنیں ہیں ۔نصرت زہرا نے کراچی یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا ہے ۔وہ ایشیا کے پہلے پنجابی نیوز چینل اپنا ٹی وی میں بحیثیت نیوز اینکر فرائض انجام دے چکی ہیں وہ دنیائے ادب کے مقبول ترین ادبی پروگرام” بزمِ شاعری” میں بحثیت میزبان ایک برس تک بخوبی فرائض انجام دیے انہوں نے پاکستان کی مقبول ترین شاعرہ پروین شاکر کی شاعری اور شخصیت سے متاثر ہو کر شاعری شروع کی اور وہ پروین شاکر کو ہی شاعری میں اپنا استاد مانتی ہیں ۔انہوں نے پروین شاکر کی سوانح حیات ” پارہ پارہ” کے نام سے تحریر کی ہے ۔نصرت زہرا کی شاعری کا مجموعہ” الفراق ” ترتیب و اشاعت کے مرحلے میں ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوک ہر خار پر جو خوں ٹھہرا
    مری ہستی میں تو جنوں ٹھہرا

    تری راہوں کو چن لیا دل نے
    پھر مرے خواب کا زبوں ٹھہرا

    جانے کس دھن میں چل رہی تھی ہوا
    خطۂ یاس میں سکوں ٹھہرا

    رنگ بدلے کئی زمانوں نے
    دل کی حالت کہ جوں کا توں ٹھہرا

    میں ہنسی بھی میں گڑگڑائی بھی
    وہ نہ یوں ٹھہرا اور نہ یوں ٹھہرا

    کیا کہا تو نے دل گرفتہ سے
    پرچم آس سرنگوں ٹھہرا

    مضمحل تھا کوئی بہت کل رات
    پھر طلسمات کا فسوں ٹھہرا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیسے طوفان اس سفر میں ہیں
    جیسے کچھ حادثے نظر میں ہیں

    میرے بھی دل میں راکھ اڑتی ہے
    تیرے بھی خواب اس اثر میں ہیں

    وہ گھنا پیڑ ہو کہ سایہ طلب
    آخرش سب ہی چشم تر میں ہیں

    پیاس سے دم مرا بھی گھٹتا ہے
    شب کے سناٹے بھی خبر میں ہیں

    خواہش بے نوا ہے جب سے سوا
    تیرے افسانے ہر نگر میں ہیں

  • ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    رانا خالد محمود قیصر

    12 دسمبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رانا خالد محمود قیصر
    تاریخ پیدائش : 12 دسمبر1961
    جائے پیدائش۔۔پڈعیدن ضلع نوشہرو فیروز۔۔سندھ
    تعلیم۔۔۔ایم اے (اردو۔۔۔تاریخ_ عمومی) ایم بی اے فنانس ۔۔ایل ایل بی(ایس ایم لاء کالج۔۔کراچی) ایم فل اردو۔۔کراچی یونیورسٹی( حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر) ریسرچ اسکالر۔ پی ایچ ڈی ۔کراچی یونیورسٹی۔۔موضوع۔۔سندھ میں اردو غزل۔ادبی و سیاسی رجحانات

    ملازمت۔۔۔پاکستان اسٹیل ملز 1981تا جون 1987۔ الائیڈ بنک۔۔ 1987 تاریخ 2021۔۔ریٹائرڈ بطور ریجنل ہیڈ آپریشنز/ بزنس

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔

    اذفر کون ہے۔۔۔اذفر زیدی اور تلامذہ کا تزکرہ
    گلشن عقیدت۔۔۔اذفر زیدی کا تقدیسی کلام۔۔مرتب
    ہندسوں کے درمیان۔۔غزلیں
    ادبی جمالیات مضامین
    امید سہارا دیتی ہے غزلیں
    ارباب قرطاس و قلم مضامین
    آگہی۔۔مضامین
    مقالہ۔ایم فل۔۔حسن حمیدی احوال و آثار بحوالہ ترقی پسند شاعر
    ہجر_ ناتمام غزلیں
    مری جستجو مدینہ ۔۔حمد و نعت سلام و منقبت۔
    تخلیق_ حمد و نعت کی تعمیری تنقید
    نگاہ_ صداقت۔ غزلیں
    پرکار۔۔غزلیں
    عصری ادب اور تنقیدی روئیے
    عکس_ اذہان

    کراچی اور پڈ عیدن ضلع نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ادیب، شاعر، مصنف ، محقق اور بینکار رانا خالد محمود قیصر صاحب کا خاندان تقسیم ہند کے بعد ہندوستان سے ہجرت کر کے 1947 میں پڈ عیدن سندھ میں آباد ہوا۔ رانا خالد محمود قیصر صاحب 7 بھائی اور ان کی 4 بہنیں ہیں ۔ رانا خالد ابتدائی تعلیم کے بعد مزید تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں کراچی منتقل ہو گئے مگر اپنے پیدائشی شہر پڈ عیدن میں اب بھی ان کا گھر موجود ہے وہاں سے ان کا تعلق نہیں ٹوٹا ۔ رانا صاحب نے 1974 سے شاعری شروع کر دی ، 1987 میں نوابشاہ میں شادی کی ۔ اولاد میں انہیں 3 بیٹیاں منزہ خالد، ڈاکٹر مائدہ خالد اور ماہ رخ جبکہ دو بیٹے رانا عبدالمنان کمپیوٹر انجنیئر اور رانا عبدالحنان سائٹ ویئر انجنیئر فاسٹ یونیورسٹی کراچی ہیں ۔

    رانا خالد محمود قیصر کی شاعری سے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔

    میکدے ہوں گے مگر ایسے کہاں ہیں قیصر
    ایک ساغر سے ہزاروں کو پلانے والے

    ریت الفت میں یہ ڈالی جائے
    راہ آپس میں نکالی جائے

    روز کے لڑنے سے تو بہتر ہے
    ایک دیور اٹھا لی جائے

    رنج دکھ آلام سب دور سے ٹلتے رہے
    ماں دعا دیتی رہی ہم پھولتے پھلتے رہے

    اپنا بنا کے ہم نے رکھا دل نہ رہ سکا
    تم نے نظر ملائی تھی کہ اپنا دل گیا

    مسکراتی ہے مجھے دیکھ کر اب ان کی نظر
    آج بدلی ہوئی تقدیر نظر آتی ہے

    ٹھنڈک رہے گی آنکھوں میں قیصر مری سدا
    اے جان تیرے حسن کے منظر سمیٹ لوں

  • ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ کا معصومانہ سوال

    کیسے کیسے لوگ / آغا نیاز مگسی

    گزشتہ شب واٹس ایپ پر خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی ایک پوسٹ گریجویٹ شاعرہ صاحبہ کے ساتھ اپنے اپنے علاقوں کے متعلق تعارفی سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کا تعلق کس شہر سے ہے تو میں نے جواب میں عرض کیا کہ میرا تعلق ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ بلوچستان پنجاب میں ہے یا سندھ صوبے میں ؟ مجھے ان کے اس غیر متوقع بلکہ معصومانہ سوال پر ایک لمحے کیلئے تھوڑا سا غصہ آیا لیکن جلد ہی میں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے وضاحت کی کہ محترمہ بلوچستان نہ تو پنجاب میں ہے اور نہ ہی سندھ میں واقع ہے بلکہ یہ بھی پاکستان کا ایک صوبہ ہے تاہم ، میں ان کو اس وقت یہ بتانا بھول گیا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور معدنیات و دیگر قدرتی وسائل کے لحاظ سے شاید دنیا کا سب سے امیر ترین صوبہ ہے لیکن یہ الگ بات ہے کہ اس کے باوجود غربت اور پسماندگی میں بھی بلوچستان ایک عالمی ریکارڈ رکھتا ہے۔

    کراچی کی ایک سینیئر شاعرہ جو کہ بیرون دنیا کے کئی ممالک کا دورہ کر چکی ہیں وہ گزشتہ 4 ماہ سے مجھ سے پوچھتی رہتی ہیں کہ آغا صاحب آپ کس شہر سے ہیں ؟ اور میرا ہر بار وہی جواب ہوتا ہے کہ ڈیرہ مراد جمالی نصیر آباد بلوچستان سے ہوں ان سے بھی سینیئر ترین شاعرہ جرمنی کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بلکہ مذہبی اسکالر بھی ہیں وہ گزشتہ 5 سال سے سال میں ایک یا دو بار مجھ سے رابطہ کر کے پوچھتی ہیں کہ آغا صاحب وہ جو آپ نے میرا تعارف لکھا تھا اگر آپ کے پاس اس کی کاپی ہے تو پلیز مجھے سینڈ کریں مجھ سے کسی اخبار یا میگزین والے نے مانگا ہے اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میں واٹس ایپ پر انہی کی ڈی پی سے کاپی پیسٹ کر کے انہیں دوبارہ ارسال کر کے ان کی ڈھیر ساری دعائیں سمیٹ لیتا ہوں ایسا معاملہ صرف خواتین تک محدود نہیں ہے۔

    نصیر آباد میں ایک ڈپٹی کمشنر صاحب کافی عرصہ پہلے تعینات تھے میں جب بھی ان سے کسی سلسلے میں ملاقات کیلئے جاتا تو مجھے بڑے اخلاق سے کہتے کہ ” جی جناب حکم فرمائیں آپ کس ڈپارٹمنٹ سے ہیں ” ۔؟

  • جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    وہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    مظفر علی سید

    6 دسمبر 1929: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے معروف نقاد ، محقق اور شاعر مظفر علی سید 6 دسمبر 1929ء کو امرتسر پنجاب (ہندوستان) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم امرتسر میں اور مزید تعلیم لاہور میں حاصل کی۔ 15 اگست 1947 میں ہندوستان کی تقسیم و آزادی کے بعد مظفر علی سید اپنے خاندان کے ہمراہ ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان منتقل ہو گئے ۔مظفر علی سید کی تصانیف میں "تنقید کی آزادی”، "فکشن، فن اور فلسفہ” اور "پاک فضائیہ کی تاریخ” شامل ہیں۔ انھوں نے اردو شاعری میں کلاسیکل غزل گوئی کو ترجیح دی اور چند بہترین غزلیں لکھی ہیں اس کے علاوہ انھوں نے نامور ادیب مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے "خامہ بگوش کے قلم سے” ، "سخن در سخن” اور "سخن ہائے گفتنی” کے نام سے بھی مرتب کئے۔
    ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں۔
    1. تنقید کی آزادی (تنقید)
    2. پاک فضائیہ کی تاریخ (تاریخ)
    3. یادوں کی سرگم (خاکے)
    4. احمد ندیم قاسمی کے بہترین افسانے (ترتیب)
    5. خامہ بگوش کے قلم سے (ترتیب)
    6. سخن در سخن (ترتیب)
    7. سخن ہائے گفتنی (ترتیب)
    8. سخن اور اہل سخن
    9. 1001سوال جواب(معلومات عامہ) طبع فیروز سنز
    فکشن ، فن اور فلسفہ ( ڈی ایچ لارنس کے تنقیدی مضامین کے تراجم)
    10. لسانی و عرضی مقالات ( مجموعہ مضامین)
    11. "تنقید ادبیات اردو”( از سید عابد علی عابد) کاتنقیدی جائزہ

    مظفر علی سیدؔ نے 28؍جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی اور لاہور کے کیولری گراؤنڈ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے ۔

    مظفر علی سید کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو
    نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو

    دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول
    مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو

    نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ
    یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو

    نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے
    جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو

    اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے
    تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی
    جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو

    مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں
    جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہر ایک راہ سے آگے ہے خواب کی منزل
    ترے حضور سے بڑھ کر غیاب کی منزل

    نہیں ہے آپ ہی مقصود اپنا جوہر ذات
    کہ آفتاب نہیں آفتاب کی منزل

    کچھ ایسا رنج دیا بچپنے کی الفت نے
    پھر اس کے بعد نہ آئی شباب کی منزل

    مسافروں کو برابر نہیں زمان و مکاں
    ہوا کا ایک قدم اور حباب کی منزل

    محبتوں کے یہ لمحے دریغ کیوں کیجے
    بھگت ہی لیں گے جو آئی حساب کی منزل

    ملے گی بادہ گساروں کو شیخ کیا جانے
    گنہ کی راہ سے ہو کر ثواب کی منزل

    مسام ناچ رہے ہیں معاملت کے لیے
    گزر گئی ہے سوال و جواب کی منزل

    ملی جو آس تو سب مرحلے ہوئے آساں
    نہیں ہے کوئی بھی منزل سراب کی منزل

    مزاج درد کو آسودگی سے راس کرو
    کہاں ملے گی تمہیں اضطراب کی منزل

    رہ جنوں میں طلب کے سوا نہیں سیدؔ
    اگرچہ طے ہو خدا کی کتاب کی منزل

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیدؔ تمہارے غم کی کسی کو خبر نہیں
    ہو بھی خبر کسی کو تو سمجھو خبر نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مضمون کی تیاری میں ویکیپیڈیا سے بھی مدد لی گئی

    موجود ہو تو کس لیے مفقود ہو گئے
    کن جنگلوں میں جا کے بسے ہو خبر نہیں

    اتنی خبر ہے پھول سے خوشبو جدا ہوئی
    اس کو کہیں سے ڈھونڈھ کے لاؤ خبر نہیں

    دل میں ابل رہے ہیں وہ طوفاں کہ الاماں
    چہرے پہ وہ سکون ہے مانو خبر نہیں

    دیکھو تو ہر بغل میں ہے دفتر دبا ہوا
    اخبار میں جو چھاپنا چاہو خبر نہیں

    نوک زباں ہیں تم کو شرابوں کے نام سب
    لیکن نشے کی بادہ پرستو خبر نہیں

    کاغذ زمین شور قلم شاخ بے ثمر
    کس آرزو پہ عمر گزارو خبر نہیں

    سیدؔ کوئی تو خواب بھی تصنیف کیجیے
    ہر بار تم یہی نہ سناؤ خبر نہیں

  • یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    کوئی تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    نور جہاں ثروت ،اردو صحافت کی خاتون اول

    28 نومبر 1949: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کی نامور شاعرہ اور صحافی نورجہاں ثروت 28 نومبر 1949ء کو دہلی میں پیدا ہوئیں انہوں نے دہلی کالج سے گریجویشن کیا جبکہ 1971 میں دہلی یونیورسٹی سے ایم اے کیا ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ جواہر لال یونیورسٹی دہلی میں لیکچرر مقرر ہوئیں اس کے بعد ڈاکٹر ذاکر حسین کالج میں بھی تعینات ہوئیں۔ بعد ازاں صحافت سے دلچسپی کے باعث شعبہ صحافت سے وابستہ ہو گئیں۔ ان کے صحافتی کیریئر کا آغاز 1986 ء میں روزنامہ قومی اخبار سے رپورٹر کی حیثیت سے ہوا انہیں کسی بھی اردو اخبار کی پہلی خاتون رپورٹر کا اعزاز حاصل ہوا جبکہ 1988 میں وہ روزنامہ انقلاب دہلی کی ریزیڈنٹ ایڈیٹر مقرر ہوئیں جو کہ اردو صحافت میں پہلی خاتون ایڈیٹر کا منفرد اعزاز ہے ۔ اور اسی لیے انہیں اردو صحافت کی ’خاتون اول‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ انھیں کئی اہم اعزازات سے بھی نوازا گیا جن میں لالہ جگت نرائن صحافت ایوارڈ (1985ء)‘ راجدھانی سوتنتر لیکھک ایوارڈ (1986ء)‘ نشانِ اردو برائے ادبی خدمات (1989ء)‘ نئی آواز برائے صحافت ایوارڈ (1994ء)‘ میر تقی میر ایوارڈ (1995ء)‘ انٹر نیشنل ایسوسی ایشن آف فار ایجوکیشن فار ورلڈ برائے صحافت (1999ء)‘ قومی تحفظ و بیداری ایشین اکیڈمی آف فلم اینڈ ٹیلی ویژن ایوارڈ (2000ء)‘ میڈیا انٹر نیشنل ایوارڈ (2002ء) اور اردو اکادمی دہلی ایوارڈ (2010ء) شامل ہیں۔ جبکہ 2009 میں انہیں 50 ہزار روپے پر مشتمل بہترین شاعرہ کا ایوارڈ بھی دیا گیا۔ نور جہاں دہلی کی ٹکسالی اردو بولتی تھیں ۔ انہوں نے شادی نہیں کی ۔ 7 اپریل 2010 میں دہلی کی ایک نواحی بستی نوین شاہدرہ میں تنہائی کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔ 1995 میں ان کا شعری مجموعہ ” بے نام شجر” کے نام سے شائع ہوا۔ وہ ایک منفرد کالم نگار بھی تھیں جن کے کالم کی سرخی کسی شعری مصرع پر مبنی ہوتی تھی ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کون تنہائی کا احساس دلاتا ہے مجھے
    یہ بھرا شہر بھی تنہا نظر آتا ہے مجھے

    جانے کس موڑ پہ کھو جائے اندھیرے میں کہیں
    وہ تو خود سایہ ہے جو راہ دکھاتا ہے مجھے

    اس کی پلکوں سے ڈھلک جاؤں نہ آنسو بن کر
    خواب کی طرح جو آنکھوں میں سجاتا ہے مجھے

    عکس تا عکس بدل سکتی ہوں چہرہ میں بھی
    میرا ماضی مگر آئینہ دکھاتا ہے مجھے

    وہ بھی پہچان نہ پایا مجھے اپنوں کی طرح
    پھول بھی کہتا ہے پتھر بھی بتاتا ہے مجھے

    اجنبی لگنے لگا ہے مجھے گھر کا آنگن
    کیا کوئی شہر نگاراں سے بلاتا ہے مجھے

    کسی رت میں بھی مری آس نہ ٹوٹی ثروتؔ
    ہر نیا جھونکا خلاؤں میں اڑاتا ہے مجھے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی اپنی وفا کا واسطہ دینے لگا
    دور سے آواز مجھ کو حادثہ دینے لگا

    طے کرو اپنا سفر تنہائیوں کی چھاؤں میں
    بھیڑ میں کوئی تمہیں کیوں راستہ دینے لگا

    راہزن ہی راہ کے پتھر اٹھا کر لے گئے
    اب تو منزل کا پتا خود قافلہ دینے لگا

    غربتوں کی آنچ میں جلنے سے کچھ حاصل نہ تھا
    کیسے کیسے لطف دیکھو فاصلہ دینے لگا

    شہر نا پرساں میں اے ثروتؔ سبھی قاضی بنے
    یعنی ہر نافہم اپنا فیصلہ دینے لگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں تو کہنے کو ہم عدو بھی نہیں
    ہاں مگر اس سے گفتگو بھی نہیں

    وہ تو خوابوں کا شاہزادہ تھا
    اب مگر اس کی جستجو بھی نہیں

    وہ جو اک آئینہ سا لگتا ہے
    سچ تو یہ ہے کہ روبرو بھی نہیں

    ایک مدت میں یہ ہوا معلوم
    میں وہاں ہوں جہاں کہ تو بھی نہیں

    ایک بار اس سے مل تو لو ثروتؔ
    ہے مگر اتنا تند خو بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر دیکھا ہوا وہ آرزو کا خواب تھا
    کہ آسودہ ہوئی ہوں اپنے ہی انکار سے

  • تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    میں دیکھتا ہوں انہیں روز گزر جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہیں ہی نہیں

    الیاس بابر اعوان،شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، نقاد، محقق، کالم نگار

    پیدائش:28 نومبر 1976ء

    تعلیم:ایم اے (اردو)
    پی ایچ ڈی
    مادر علمی:جامعہ پنجاب
    اصناف:شاعری، تنقید، افسانہ
    ناول، تحقیق، ترجمہ
    نمایاں کام:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خواب دگر
    ۔ (2)نووارد
    ۔ (3)ایک ادھوری سرگزشت
    ۔ (4)معاصر متن کی دریافت
    ۔ (5)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ (6)منحرف
    مستقل پتا:ایچ۔141، آبادی نمبر2
    دیم اسٹریٹ،ٹنچ بھاٹہ، راولپنڈی

    الیاس بابر اعوان راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے نوجوان شاعر اور افسانہ نگار ہیں۔
    ولادت
    ۔۔۔۔۔
    الیاس بابر اعوان کی پیدائش 28 نومبر 1976ء، راولپنڈی، صوبہ پنجاب، پاکستان میں ہوئی۔ ان کے والد کا نام محمد افضل اعوان ہے۔
    مادرِ علمی
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیڈرل گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول
    ۔ نمبر ا صدر لاہور
    ۔ (2)فیڈرل گورنمنٹ ڈگری کالج
    ۔ لاہور کینٹ
    ۔ (3)گورنمنٹ شالیمار ڈگری کالج
    ۔ باغبانپورہ لاہور
    ۔ (4)نیشنل یونیورسٹی آف مارڈرن لینگوئجز
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (5)رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    ۔ (6)بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی
    ۔ اسلام آباد
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پی ایچ ڈی اسکالر
    ۔ (انگریزی ادب)
    ۔ (2)پی جی ڈی
    ۔ ( پروفیشنل ایتھکس اینڈ ٹیچنگ میتھڈولجیز)
    ۔ (3)ایم فل (انگریزی ادب)
    ۔ (4)ایم اے انگریزی ادب و لسانیات
    ۔ (5)ایم اے اردو ادب و لسانیات
    ۔ (6)ایم ایڈ
    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شعر و ادب کی دنیا میں وارد ہوئے۔ اسلام آباد میں نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگوئجز میں انگریزی ادب کے لیکچرر ہیں۔ اردو، انگریزی اور پنجابی میں لکھتے ہیں۔ حلقہ ارباب ِ ذوق راولپنڈی کے چار سال تک سیکرٹری رہے اور جدیدادبی تنقیدی فورم کے بانی ہیں۔ اردو میں تنقید، نظم، غزل اور افسانے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں شاعری اور افسانے بھی لکھتے ہیں۔
    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خوابِ دِگر (شعری مجموعہ)-2012ء
    ۔ پبلشر: رمیل پبلیشرز راولپنڈی
    ۔ (2)نووارد ( نظمیہ مجموعہ)- 2016ء
    ۔ سانجھ پبلشرز لاہور نے شائع کیا
    زیر طباعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)معاصر متن کی دریافت:
    ۔ (تنقیدی مضامین)
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (2)جدید تنقیدی تصورات
    ۔ مترجم: الیاس بابر اعوان
    ۔ پبلشر: کتاب محل لاہور
    ۔ (3)منحرف۔ نظموں کا مجموعہ
    ۔ (زیر ـ اشاعت)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    صرف آزار اٹھانے سے کہاں بنتا ہے
    مجھ سا اسلوب زمانے سے کہاں بنتا ہے
    آنکھ کو کاٹ کے کچھ نوک پلک سیدھی کی
    زاویہ سیدھ میں آنے سے کہاں بنتا ہے
    کچھ نہ کچھ اس میں حقیقت بھی چھپی ہوتی ہے
    واقعہ بات بنانے سے کہاں بنتا ہے
    حسن یوسف سی کوئی جنس بھی رکھو اس میں
    ورنہ بازار سجانے سے کہاں بنتا ہے
    اس میں کچھ وحشت دل بھی تو رکھی جاتی ہے
    باغ بس پھول اگانے سے کہاں بنتا ہے
    راستہ بنتا ہے تشکیل نظر سے بابرؔ
    خاک کی خاک اڑانے سے کہاں بنتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھ کھلے گی بات ادھوری رہ جائے گی
    ورنہ آج مری مزدوری رہ جائے گی
    جی بھر جائے گا بس اُس کو تکتے تکتے
    کچی لسی میٹھی چُوری رہ جائے گی
    اُس سے ملنے مجھ کو پھر سے جانا ہوگا
    دیکھنا پھر سے بات ضروری رہ جائے گی
    تھوڑی دیر میں خواب پرندہ بن جائے گا
    میرے ہاتھوں پر کستوری رہ جائے گی
    تم تصویر کے ساتھ مکمل ہو جاؤ گے
    لیکن میری عمر ادھوری رہ جائے گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ٹوٹی میز اور جلی کتابیں رہ جائیں گی
    ڈرون گرے گا امن کی باتیں رہ جائیں گی
    لڑنے والے روشن صبحیں لے جائیں گے
    میری خاطر اندھی شامیں رہ جائیں گی
    سچ لکھنے والے سب ہجرت کر جائیں گے
    بازاروں میں قلم دواتیں رہ جائیں گی
    یوں لگتا ہے رستے میں سب لٹ جائے گا
    گھر پہنچوں گا تو کچھ سانسیں رہ جائیں گی
    امیدوں پر برف کا موسم آ جائے گا
    دیواروں پر دیپ اور آنکھیں رہ جائیں گی
    ہم دروازے میں ہی روتے رہ جائیں گے
    جانے والوں کی بس باتیں رہ جائیں گی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    غلام زادوں میں کوئی غلام ہے ہی نہیں
    ہمارے شہر میں سچ کا نظام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ جلد ہی پتھر میں ڈھلنے والے ہیں
    یہاں کسی سے کوئی ہم کلام ہے ہی نہیں
    میں دیکھتا ہوں انہیں اور گزرتا جاتا ہوں
    تمام چہرے ہیں چہروں کے نام ہے ہی نہیں
    تمہاری مرضی ہے رکھ لو ہمیں یا ٹھکرا دو
    ہمارے پاس محبت کا دام ہے ہی نہیں
    یہ لوگ اسے تری تصویر ہی سمجھتے ہیں
    پر اس کے جیسا کوئی خوش کلام ہے ہی نہیں
    وہاں پہ خوابوں کو خیرات کر کے چلتے بنو
    جہاں شعور حلال و حرام ہے ہی نہیں
    ذرا سی لہجے کی نرمی سے مان جائیں گے
    کہ بگڑے لوگوں کا کوئی امام ہے ہی نہیں

    منقول

  • کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    کوئی ہم سا ہو تو سامنے آئے

    طاہرہ سید

    یوم پیدائش 6 نومبر 1958

    پاکستان کی ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ ،خوب صورت گلوکارہ طاہرہ سید 6 نومبر 1958 میں پیداہوئیں۔ وہ برصغیر کی نامور کلاسیکل گلوکارہ ملکہ پکھراج اور معروف ادیب و مصنف سید شبیر حسین شاہ کی بیٹی ہیں ۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن اور قانون کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے بچپن ہی میں 10 سال کی عمر سے گائیکی شروع کی جبکہ 14 سال کی عمر میں 1969 میں وہ پہلی بار ریڈیو پاکستان اور 1970 میں پی ٹی وی پر گانے کیلئے آئیں۔ اپنی والدہ ملکہ پکھراج، استاد اختر حسین اور استاد نذر حسین سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔ انہوں نے پاکستان کے علاوہ امریکہ اور ہندوستان سمیت کئی ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا ۔ حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ صدارت سے نوازا گیا ۔ اپریل 1985 میں نیشنل جیوگرافک میگزین نے طاہرہ سید کو اپنے سرورق /ٹائٹل پر شائع کیا۔ طاہرہ سید نے 1975 میں معروف ٹی وی کمپیئر اور وکیل سید نعیم بخاری سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹی کرن اور ایک بیٹا حسنین پیدا ہوا۔ طاہرہ سید اور اس وقت کے وزیر اعظم وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی 1990 میں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی ۔ نواز شریف انہیں پی سی بھوربن میں بلا کر رات دیر گئے تک ان سے ” غزلیں ” سنتے رہتے جس کو وہ معاوضے میں سینیٹر سیف الرحمان کی کمپنی ” ریڈکو ” کے ذریعے ہر ماہ 10 لاکھ روپے بینک ٹو بینک ٹرانسفر کرا دیتے تھے۔

    طاہرہ سید کی نواز شریف سے زیادہ قربت کے باعث نعیم بخاری نے طاہرہ کو طلاق دے دی ۔ نعیم بخاری سے علیحدگی کے بعد طاہرہ نے دوسری شادی نہیں کی جبکہ نعیم بخاری نے دوسری شادی کی جس سے ایک بیٹا اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ طاہرہ کے دونوں بچے وکیل بن گئے۔ کرن بخاری نیو یارک میں اور حسنین بخاری مسقط میں وکالت کر رہے ہیں ۔ طاہرہ سید اب بھی رومانویت پسند ہیں ان کا کہنا ہے کہ ہر عورت کی زندگی میں رومان کو خاص اہمیت حاصل ہے اگر مجھے پھول دے یا کارڈ لکھ کر ارسال کرے یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔ طاہرہ کے گائے ہوئے کئی گیت ، غزلیں اور نغمے بہت مشہور ہیں جن میں

    1 ہر اک جلوہ رنگین مری نگاہ میں ہے

    2 ہم سا کوئی ہو تو سامنے آئے

    3یہ عالم شوق کا دیکھا نہ جائے ،و دیگر شامل ہیں

  • زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار،از قلم،آغا نیاز مگسی

    زیبا بختیار

    یوم پیدائش 2 نومبر 1971

    آغا نیاز مگسی

    ہندوستان اور پاکستان کی معروف ٹی وی اور فلمی اداکارہ زیبا بختیار 2 نومبر 1971 میں کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں۔ وہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھی ممتاز قانون دان اور سابق اٹارنی جنرل پاکستان یحیٰی بختیار اور ہنگری کی عیسائی خاتون ایوا کی بیٹی ہیں، زیبا بختیار نے 1988 میں پی ٹی وی کے ایک ڈرامہ ” انارکلی ” سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیاجبکہ 1991 میں ایک انڈین فلم ” حنا”میں کام کر کے اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا ،

    1995 انہوں نے مشہور انڈین گلوکار اور موسیقار عدنان سمیع خان سے شادی کی جس سے انہیں ایک بیٹا اذان پیدا ہوا۔ چار سال کی ازدواجی زندگی کے بعد دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی۔ 1989 میں ان کی شادی جاوید جعفری سے ہوئی ایک سال بعد 1990 میں ان کے درمیان علیحدگی ہوئی۔ سائرہ بختیار زیبا بختیار کی بہن جبکہ ڈاکٹر سلیم بختیار اور ڈاکٹر کریم بختیار ان کے بھائی ہیں۔ زیبا بختیار کی مستقل رہائش کراچی میں ہے،