Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاو

    موسیقار خواجہ خورشید انور

    30 اکتوبر 1984: تاریخ وفات

    باکمال موسیقار خواجہ خورشید انور ساز بجانا نہیں جانتے تھے بلکہ انہوں نے ماچس کی ڈبیا انگلی سے بجا کر لازوال دھنیں تخلیق کیں۔
    ایم اے فلسفہ میں اول آئے، گولڈ میڈل ملا مگر لینے گئے ہی نہیں۔
    مقابلے کے امتحان میں پورے ہندوستان میں ٹاپ کیا، لیکن بھگت سنگھ جیسے انقلابیوں سے روابط کی وجہ سے نااہل قرار پائے۔
    یہ نااہلی ہندوستان کی فلمی موسیقی کیلئے نعمتِ غیر مترقبہ ثابت ہوئی۔

    اس سے فلمی موسیقی کو خواجہ خورشید انور ملے۔ جنہوں نے دل کا دیا جلایا، مجھ کو آواز دے تو کہاں ہے، رم جھم رم جھم پڑے پھوار، جس دن سے پیا دل لے گئے ، آگئے گھر آگئے بلم پردیسی سجن پردیسی، چاند ہنسے دنیا بسے روئے میرا پیار، آبھی جا آبھی جا، او جانے والے رے ٹھہرو ذرا رک جاﺅ،۔چھونے چھونے ناچوں گی گونے گونے گاﺅں گی، سن ونجھلی دی مٹھڑی تان وے، کدی آ مل رانجھن وے، زلفان دی ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں ڈھولنا، او ونجھلی والڑیا جیسی دھنیں تخلیق کیں۔
    خواجہ صاحب کے صاحبزادے خواجہ عرفان انور فرماتے ہیں کہ ساز بجانا کلاسیکی موسیقی کیلئے بالکل ضروری نہیں۔ ہماری موسیقی بنیادی طور پر ووکل ہے۔ خورشید انور لاہور ریڈیو اور منتخب محفلوں میں گاتے بھی رہے۔

    خواجہ خورشید انور 21 مارچ 1912 کو میانوالی کے محلہ بلوخیل میں پیدا ہوئے جہاں انکے نانا بطور سول سرجن ضلعی ہسپتال تعینات تھے۔ ان کا تعلق موسیقی کے کسی گھرانے سے نہیں تھا۔ ان کی علامہ اقبال سے بہت نزدیک کی رشتہ داری تھی۔ ان کے نانا خان بہادر عطا محمد شیخ کی بیٹی علامہ کی اہلیہ تھیں۔ ان کی والدہ گجرات میں پیداھوئیں. علامہ اقبال کی پہلی اہلیہ کریم بی بی کی چھوٹی بہن تھیں بلکہ علامہ نے ان کی والدہ فاطمہ بی بی کا رشتہ بصداصرار کروایا. ان کے والد بیرسٹر فیروزالدین لاہور کے ایک کامیاب وکیل تھے۔ انکے چھوٹے بھائی خواجہ سلطان احمد (بیرسٹر خوجہ حارث کے والد) لاہور کے بڑے اور استاد وکلاء میں شمار ہوتے تھے۔ ان کے والد کو صرف ایک شوق تھا اور وہ تھا کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی سننا اور جمع کرنا۔ ان کے گھر میں ہزاروں کی تعداد میں ریکارڈ موجود تھے۔ گھر میں موسیقی کی بڑی بڑی محفلیں ہوا کرتی تھیں۔ جن میں استاد توکل حسین، استاد عبدالوحید خاں ،استاد عاشق علی خاں، استاد غلام علی خاں، موسیقار فیروز نظامی، رفیق غزنوی جیسے اساتذہ شرکت کرتے تھے۔ انہی محفلوں سے خورشید انور کو موسیقی کا شوق پیدا ہوا اور انہوں نے استاد توکل حسین سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔
    خواجہ خورشید انور نے 1935 میں گورنمنٹ کالج لاہور سے فلسفہ میں ماسٹرز کیا اور اول آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خواجہ صاحب تقسیم انعامات کی تقریب میں قصداً نہیں گئے۔ انگریز وائس چانسلر نے جب گولڈ میڈل کے لیے نام پکارا۔ وہ موجود نہ پائے گئے۔ تو اس نے برجستہ کہا کہ جو طالب علم اپنا میڈل لینا بھول گیا ہے وہ حقیقی طور پر ایک فلسفی ہے۔ مگر خورشید انور کی منزل کوئی اور تھی۔ اس کو سُر اور ساز کا بادشاہ بننا تھا۔ عین اسی وقت لاہور میں ایک محفل موسیقی منعقد ہو رہی تھی جس میں ہندوستان بھر کے نامور موسیقار اور گائیک شرکت کر رہے تھے۔ انھیں موسیقاروں میں اس طالب علم کے موسیقی کے استاد خان صاحب توکل حسین خان بھی شامل تھے۔ وہ طالب علم جلسہ تقسیم اسناد اور گولڈ میڈل تو چھوڑ سکتا تھا مگر اس محفل کو نہیں چھوڑ سکتا تھا۔

    اس سے اگلے سال 1936 میں خواجہ خورشید انور نے اعلیٰ ملازمتوں ( آئی سی ایس ) کے لئے مقابلے کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کی لیکن انٹرویو میں ناکام قرار دئیے گئے چونکہ وہ انگریز راج کے خلاف تحریک آزادی میں شریک رہے تھے اور انقلابیوں کو کالج لیبارٹری سے پکرک ایسڈ (Picric Acid) فراہم کرنے کے الزام میں قید بھی بھگت چکے تھے۔ بی اے کا امتحان بھی جیل سے دیا تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنے مزاج کو سول سروس کے مزاج سے ہم آہنگ نہ پاتے تھے۔ وہ تحریری امتحان میں بھی صرف اپنے گھر والوں کے شدید اصرار کے باعث شریک ہوئے تھے۔
    یہ ناکامی ان کی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
    1939 میں خواجہ خورشید انور نے آل انڈیا ریڈیو دہلی پر میوزک پروڈیوسر کی حیثیت سے نوکری کر لی ۔ وہاں ان کی ملاقات اے۔آر۔ کاردار سے ہوئی۔ کاردار اس زمانے کے سکہ بند فلمساز تھے۔ 1941ء میں خواجہ صاحب نے ان کی پنجابی فلم”کڑمائی” کا میوزک بنایا۔ یہ فلم اتنی کامیاب نہ ہو سکی جتنی توقع کاردار اور خورشید انور کر رہے تھے۔ دو سال کے بعد 1943ء میں “اشارہ” فلم آئی۔ اس میں بھی موسیقی خواجہ صاحب ہی کی تھی۔ اس کے گانے “ثریا بیگم” ـ” گوہر سلطان” اور وستالہ کماٹھیکر نے گائے تھے۔ ان گانوں نے برصغیر کو ایک سحر میں مبتلا کر دیا۔ ہر گلی کوچے میں ان کی آواز سنائی دیتی تھی۔ یہ اس عظیم موسیقار کی پہلی کامیابی تھی۔ اس کے بعد شہرت کا ایک لامتناہی زینہ تھا جس پر یہ نوجوان چڑھتا چلا گیا۔

    1947ء میں سہگل نے خواجہ خورشید انور کی بنائی ہوئی دُھن پر اپنی زندگی کا آخری گانا گایا۔ اس فلم کا نام “پروانہ” تھا۔ اس فلم کے پانچوں گانوں کی موسیقی خواجہ خورشید انور کی تھی۔ گانے ڈی این مدھوک نے لکھے ۔ دو میں نخشب اور تنویر نقوی کا اشتراک تھا۔ 1949ء میں خواجہ صاحب کو موسیقی کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس کا نام “کلیئر ایوارڈ” تھا۔موسیقار”روشن” اور “شنکر جے کشن” اس موسیقی کے جادوگر کی دہلیز پر بیٹھنے والوں میں سے تھے۔ “نوشاد” جو خود ایک یکتا موسیقار تھے، خواجہ صاحب کے احترام میں کھڑے رہتے تھے۔

    خواجہ خورشید انور 1952ء میں پاکستان آ گئے۔ یہاں ان کے پائے کے موسیقار نہ ہونے کے برابر تھے۔ نورجہاں جیسی عظیم گائیکہ بھی ایک مشکل دور سے دوچار تھی۔ 1956ء میں خورشید انور نے”انتظار” فلم کی دُھنیں ترتیب کیں۔ اس کے گانے نورجہاں کے لیے ایک نئی فنی زندگی کا ذریعہ بنے۔ یہ اپنے وقت کی مقبول ترین فلم تھی۔ اس کی کامیابی خواجہ صاحب کے بے مثال میوزک کے سبب تھی۔ اس فلم کے بعد تو خواجہ صاحب فن کے آسمان پر چمکنے لگے۔
    مرزا صاحبان، زہرعشق، جھومر، کوئل، ایاز، گھونگھٹ حویلی، چنگاری، سرحد، ہیررانجھا، شیریں فرہاد، مرزاجٹ اور سلام محبت، وہ فلمیں تھیں جنکی کامیابی کا سہرا خواجہ خورشید انور کی جادوئی موسیقی کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے مجموعی طور پر18 فلموں کی موسیقی ترتیب دی، 15 اردو اور 3 پنجابی۔ انہوں نے گھونگھٹ، حیدر علی، اور ہمراز سمیت چند فلموں کی ہدایات بھی دیں۔

    فیض احمد فیضؔ اکثر کہا کرتے تھے کہ ان کی شاعری میں خورشید انور کا جذب موجود ہے۔ فیض صاحب، ان سے بہت متاثر تھے۔ فیض کالج میں خواجہ صاحب سے ایک سال سینئر تھے۔ ن م راشد بھی ان دنوں کالج میں تھے۔

    خواجہ خورشید انور کا ایک بڑا کارنامہ ’’آہنگِ خسروی‘‘ ہے۔ یہ 30 لانگ پلے ریکارڈز پر مشتمل ایک البم ہے جس میں برصغیر کی کلاسیکی موسیقی کے معروف گھرانوں کے 90 راگ محفوظ کر دئیے۔ یہ لانگ پلے ریکارڈ ملکہ موسیقی روشن آرا بیگم، استاد سلامت علی خان، ذاکر علی خان اور اختر علی خاں، استاد فتح علی خاں (پٹیالہ)، اسد امانت علی خاں اور حامد علی خاں، استاد اسد علی خاں، استاد رمضان خان، استاد امراﺅ بندو خان، استاد غلام حسین شگن، استاد حمید علی خان، استاد فتح علی خان (گوالیار)، ملک زادہ محمد افضل خان اور ملک زادہ محمد حفیظ خان کی آوازوں میں تیار کئے گئے تھے۔ “آہنگ خسروی” اور “راگ مالا” ایسے عظیم کام ہیں جو ان کے بعد بہت کم لوگ کر پائے۔

    خواجہ صاحب کا موسیقی بنانے یا ترتیب دینے کا طریقہ بہت مختلف بلکہ منفرد تھا۔ وہ ماچس کی ڈبیا کو ایک خاص انداز میں بجاتے تھے اور وہیں سے وہ اپنی نایاب دُھن کی بنیاد تشکیل دے دیا کرتے تھے۔ 1980ء میں خواجہ صاحب کو “ستارہ امیتاز” سے نوازا گیا۔ 1982ء میں انھیں بمبئی کی میوزک انڈسٹری کا سب سے بڑا ایوارڈ دیا گیا۔ اس ایوارڈ کا نام تھا
    ”Mortal-Men، Immortal-Melodies Award”
    خواجہ صاحب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ریڈیو پاکستان نے ان کی بنائی ہوئی سگنیچر ٹیون سے آغاز کیا ۔
    خواجہ خورشید انور 30 اکتوبر 1984 کو دنیا سے رخصت ہوئے۔

  • عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    عمران خان کے لانگ مارچ میں حادثے میں مرنیوالی خاتون صحافی کی پہلی برسی

    صدف نعیم
    تاریخِ وفات:30 اکتوبر 2022ء

    صدف نعیم خاتون صحافی 1987ء کو پیدا ہوئیں، لاہور پریس کلب کی کونسل ممبر میں بطور رپورٹر طویل عرصہ سے روزنامہ خبریں اور 2009ء سے چینل 5 کے ساتھ وابستہ تھیں اور جرنلسٹ گروپ کی جانب سے ممبر گورننگ باڈی کیلئے الیکشن بھی لڑ چکی تھیں۔ 24 میں سے 16 گھنٹے ڈیوٹی کرتی تھیں، اپنے چینل کے لیے وہ عموماً سیاسی جماعتوں اور سیاسی معاملات کی کوریج کرتی تھیں اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی بھی باقاعدگی سے کور کرتی تھیں۔

    30 اکتوبر 2022ء کو لانگ مارچ (حقیقی آزادی مارچ) میں سادھوکی، (تحصیل کامونکی ضلع گوجرانوالہ) میں صدف نعیم نے عمران خان کے سست رفتار کنٹینر پر چڑھنے کی کوشش کی جس سے گرنے کے بعد اسی کنٹینر کے نیچے آکر موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ اس سے دو روز قبل صدف نعیم نے عمران خان کا انٹرویو بھی کیا تھا۔ ان کی عمر 35 سال تھی۔ اولاد میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے۔ نماز جنازہ اچھرہ میں ہوئی۔ شوہر محمد نعیم بھٹی نے کسی بھی قسم کی قانونی کاروائی سے انکار کر دیا۔ وفاقی حکومت نے 50 لاکھ روپے اور پنجاب حکومت نے 25 لاکھ لواحقین کو امداد دینے کا اعلان کیا۔

    ٹی وی دیکھا تو بیٹی صدف کی تصویر دیکھ کر کلیجہ پھٹ گیا۔ صدف کی ماں کی گفتگو

     صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

    عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد 

    کامونکی،لانگ مارچ کی کوریج کرنیوالے صحافیوں پر پولیس کا تشدد

    پی ٹی آئی نے جلسے کی اجازت کیلئے اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا

    وزیراعلیٰ پنجاب کی صحافی صدف نعیم مرحومہ کی بیٹی ،بیٹے سے ملاقات، دیا چیک

    تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی تعزیت کیلئے صحافی صدف نعیم کے گھر آمد ہوئی تھی،عمران خان پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ صدف نعیم کے گھر پہنچے اور لواحقین سے اظہار تعزیت کیا، عمران خان کے ہمراہ اسد عمر ،میاں اسلم و دیگر بھی موجود تھے،عمران خان نے لانگ مارچ میں شہید ہونے والی خاتون صحافی کے لئے دعائے مغفرت کی اور لواحقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کی. صدف نعیم کی والدہ عمران خان کو دیکھ کر زاروقطار روتی رہیں ، شفقت محمود بھی عمران خان کے ہمراہ تھے،

    صدف نعیم لانگ مارچ کے دوران کینیٹر کے نیچے آ کر شہید ہو گئی تھیں، صدف نعیم کی نماز جنازہ گزشتہ شب اچھرہ میں ادا کی گئی بعد ازاں مقامی قبرستان میں تدفین کی گئی، صدف نعیم کے شوہر نے کوئی بھی کاروائی کرنے سے انکار کر دیا تھا تا ہم یہ بھی اطلاعات ہیں کہ صدف نعیم کے شوہر سے پی ٹی آئی رہنماؤں نے زبردستی دستخط کروائے ہیں،

  • میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    سوچتی ہوں کہ ملے حلم میں گوندھا ہوا شخص
    علم اوتار سا اور لہجہ پیمبر جیسا

    شہلا شہناز

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی ایک خوب صورت پاکستانی شاعرہ اور ماہر تعلیم پروفیسر شہلا شہناز صاحبہ کا تعلق فیصل آباد پنجاب سے ہے وہ 7 اپریل 1976 میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام محمد یونس اور والدہ محترمہ کا نام صفیہ ہے۔ وہ 4 بہن بھائی ہیں جن میں شہلا سب سے بڑی ہیں۔ انہوں نے تمام تر تعلیم اپنے پیدائشی شہر فیصل آباد میں حاصل کی جبکہ ماسٹرز پنجاب یو نیورسٹی لاہور سے کیا۔ ان کی مادری زبان پنجابی ہے اس کے علاوہ اردو اور انگریزی زبان پر بھی عبور رکھتی ہیں ۔ انہوں نے اسکول کے زمانے سے ہی شاعری شروع کی ۔ تعلیم سے فراغت کے بعد وہ محکمہ تعلیم پنجاب میں لیکچرر مقرر ہو گئیں اوراس وقت اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے اپنے فرائض ادا کر رہی ہیں ۔ 7 اگست 2014 میں ان کی شادی ہوئی اور ماشاء اللہ وہ ایک ہونہار بیٹے کی ماں ہیں۔ شہلا شہناز صاحبہ بہت خوب صورت شاعری کرتی ہیں لیکن درس و تدریس اور گھریلو مصروفیات کے باعث مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں اور اب تک انہوں نے اپنی شاعری کی کوئی کتاب بھی شائع نہیں کی ہے ۔ علامہ اقبال، میر تقی میر، پروین شاکر ، یاسمین حمید اور مجید امجد ان کے پسندیدہ شعراء میں شامل ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ تری قربت کہ سطر ِ خوشنما لکھنے لگی
    تُو پلٹ آیا تو میں کتنا نیا لکھنے لگی

    ایک ٹھوکر تک ہے یہ انبار ِخشت و سنگ سب
    راہ کی دیوار کو میں راستہ لکھنے لگی

    تم مجھے اس آنکھ کی پُتلی میں دیکھو گے تمام
    یہ جو میں حرف ِ ہنر کو آٸنہ لکھنے لگی

    دن کو خط بھیجا تو اُس میں چھاٶں تہہ کر کے رکھی
    رات کو مکتوب لکھا تو دیا لکھنے لگی

    کور آنکھوں کے لیے میں نے تراشے تھے نجوم
    گونگے ہونٹوں کے لٸے حرف ِ صدا لکھنے لگی

    لہر کو دریا کی مٹھی میں پڑا رہنے دیا
    اور صحراٶں کی قسمت میں گھٹا لکھنے لگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تھا کوئی شخص مرے دل میں سمندر جیسا
    اب تو سناٹا ہے ہر سو میرے اندر جیسا

    ہجر لذت سے تہی وصل بھی پھیکا پھیکا
    میرے پہلو میں یہ کیا نصب ہے پتھر جیسا

    شہلا شہناز

  • بیسویں صدی کے مشہور ترین امریکی مصنف   آرتھر ملر کا یوم ولادت

    بیسویں صدی کے مشہور ترین امریکی مصنف آرتھر ملر کا یوم ولادت

    آرتھر ملر بیسویں صدی کے چند مشہور ترین امریکی مصنفین میں سے تھے جو اپنی تحریروں کے ذریعے امریکی اسٹیبلشمنٹ پر کڑی تنقید کرتے تھے، آرتھر ملر17 اکتوبر 1915ء میں نیو یارک میں پیدا ہوئے اور ان کے والد اگرچہ ایک کپڑوں کی فیکٹری کے مالک تھے لیکن 1929 میں امریکی معیشت میں آنے والی بدحالی سے متاثر ہوئے۔
    آغا نیاز مگسی
    آرتھر ملر نے ذاتی محنت سے صحافت کے شعبے میں اپنی تعلیم کے اخراجات برداشت کیے اور وہ ایک ریڈیکل مصنف کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ وہ اپنے لبرل خیالات کی وجہ سے جلد ہی امریکی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے ملک میں شروع کی جانے والی کمیونسٹ مخالف مہم میں زیر اعتاب آئے لیکن تفتیش کے دوران اپنے کمیونسٹ دوستوں کے نام ظاہر کرنے سے انکار کر دیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم کی چین کے صدر کی جانب سے دیئے گئے عشائیے میں شرکت
    محمد بن سلمان کا سعودی عرب،پہلی بار ہو رہا”ریاض فیشن ویک”
    حنیف عباسی کی سزا کیخلاف اپیل پر سماعت،فیصلہ محفوظ
    ان کی شہرت کی ایک اور وجہ 1956 میں مشہور امریکی اداکارہ مارلن منرو سے ان کی شادی بھی تھی۔ ایک سنجیدہ دانشور اور مصنف کے ایک فلمسٹار کے ساتھ اس ملاپ پر کئی لوگوں کو بہت حیرانی بھی ہوئی تھی، آرتھر ملر کو 1949 میں تینتیس برس کی عمر میں ’ ڈیتھ آف دی سیلز مین‘ لکھنے پر ادب کا پلٹزر انعام ملا تھا، آرتھر ملر کے دیگر مشہور ڈراموں میں ’ اے ویو فرام اے برج‘ اور ’دی لاسٹ یانکی‘ شامل ہیں۔
    10فروری 2005 کو ان کا انتقال ہوا۔ آرتھر ملر کی اسسٹنٹ جولیا بولس کے مطابق ان کا انتقال کنکٹیکٹ میں ان کی رہائشگاہ پر ہوا۔ ان کی موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی گئی۔

  • پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی،نیلما ناہید درانی

    پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی،نیلما ناہید درانی

    گو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
    ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیا

    نیلما ناہید درانی

    ادیبہ، شاعرہ ، سفرنامہ نگار
    پاکستان کی پہلی خاتون SSP
    15 اکتوبر : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تعارف و گفتگو: آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی شہرت یافتہ 4 زبان پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، سفر نامہ نگار اور پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی محترمہ نیلما ناہید درانی صاحبہ 15 اکتوبر 1955 میں لاہور میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام آغا اعجاز حسین درانی ، والدہ محترمہ کا نام آفتاب بیگم اور دادا محترم کا نام آغا نعمت اللہ جان درانی ہے۔ دادا مذہبی اسکالر اور مصنف تھے جن کا تخلص احقر امرتسری تھا۔ والد صاحب شاعری اور مصوری کرتے تھے ۔ نیلما صاحبہ کا تعلق پٹھانوں کے مشہور درانی قبیلے ( سدوزئی ) سے ہے ان کی مادری زبان اردو، پدری زبان فارسی اور پیدائشی زبان لاہوری پنجابی ہے۔ وہ پانچ بہن بھائی ہیں ان کے دو بھائی ہیں اور دونوں لکھاری ہیں۔ ایک بھائی آغا مدثر پنجابی کہانی نویس ہیں اور دوسرے بھائی آغا مزمل اردو اور پنجابی میں شاعری کرتے ہیں ۔ نیلما درانی کے 3 بچے ہیں بڑا بیٹا سوفٹ ویئر انجنیئر ہے بیٹی ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہے اور چھوٹا بیٹا لندن یونیورسٹی میں بزنس ایڈمنسٹریشن کا طالب علم ہے اور نیلما صاحبہ اس وقت لندن میں ان کے ہاں قیام پذیر ہیں ۔ نیلما ناہید درانی اردو ، انگریزی ، پنجابی اور فارسی زبان میں شاعری کرتی ہیں اس کے علاوہ وہ ایک بہت بڑی لکھاری بھی ہیں وہ سفرنامہ نگار اور کالم نویس بھی ہیں ان کے لکھنے کا انداز بہت متاثرکن ہے اس لیے ان کے قارئین کی تعداد کا حلقہ بہت وسیع ہے۔ نیلما کی پہلی کہانی ماہنامہ ہدایت لاہور میں شائع ہوا جس کے ایڈیٹر نظرزیدی تھے۔ انہوں نے 1965 سے یعنی 10 سال کی عمر میں شاعری شروع کی۔ نیلما نے اسلامیہ گرلز ہائی سکول لاہورسے میٹرک ، لاہور کالج برائے خواتین لاہور سے بی اے اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے فارسی ، پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس لاہور سے صحافت میں ایم اے کیا۔ اور 2000 میں ایم اے پنجابی کیا ۔

    ایم اے صحافت کے دوران ہی پی ٹی وی پر انائونسر کی جاب مل گئی ۔ ریڈیو پاکستان کیلئے بچوں کی کہانیاں بھی لکھتی رہیں جب وہ ایف اے کی طالبہ تھیں ۔
    پاکستان ٹیلی ویژن میں 4 ماہ کی سروس کے بعد انہیں محکمہ پولیس میں انسپکٹر کی جاب مل گئی۔ ۔۔اور وہ دونوں ذمہ داریاں نبھاتی رہیں۔صبح کو پولیس کی ڈیوٹی سر انجام دیتیں ۔۔شام کو پی ٹی وی سے اناونسمنٹ کرتیں۔۔۔
    جب رائل ٹی وی کا آغاز ہوا تو اس کے ایک گھنٹہ دورانیہ کے ٹاک شو پروگرام ۔۔ستاروں کے ساتھ۔۔۔کی دو برس تک کمپیرنگ کی
    ایف ایم ریڈیو 101۔۔کے غزل ٹائم کی کمپئرنگ کی۔
    ریڈیو پاکستان لاہور کے مقبول ادبی پروگرام ۔۔تخلیق کی کپمئیرنگ کی اور بہت سے شاعروں ادیبوں کے انٹرویوز ریکارڈ کروائے
    وہ اپنی محنت ۔ ذہانت اور بہتر کارکردگی کی بدولت ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے پاکستان کی پہلی خاتون ایس ایس پی کا منفرد اعزاز حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئیں۔ جبکہ وہ مختلف پولیس ٹریننگ اسکولز کی پرنسپل کے عہدے پر بھی فائز رہیں۔ وہ اقوام متحدہ کےامن مشن میں افریقہ میں بھی تعینات رہی ہیں ۔ 2010 میں انہیں ان کی انگریزی نظم پر یونائٹڈ نیشن افریقن یونین UNAMID کی جانب سے World Aids day کے حوالے سے پہلا انعام دیا گیا ۔ 2004 میں گورنر پنجاب خالد مقبول نے انہیں بہترین شاعری اور پولیس کارکردگی پر فاطمہ جناح میڈل دیا جبکہ 2005 وزیر اعظم شوکت عزیز نے انہیں بھی اعلی کارکردگی کی بنا پر گولڈ میڈل کا انعام دیا ۔ 1989 میں شالیمار ریکارڈنگ کمپنی نے نیلما کی شاعری پر مشتمل ” انتظار” کے عنوان سے کیسٹ جاری کیا جس میں ان کی تمام غزلیں حامد علی خان نے گائی ہیں۔ نیلما صاحبہ حمد، نعت، غزل ، نظم ، سلام، منقبت اور مرثیہ کی اصناف میں طبع آزمائی کر چکی ہیں۔ ان کی شاعری کی پہلی کتاب ۔۔جب تک آنکھیں زندہ ہیں۔۔۔جو 1986 میں چھپی تھی کی پہلی غزل کو بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل ہوئی ہے جس کا مطلعہ ہے

    اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے
    سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے

    نیلما ناہید درانی صاحبہ کی اب تک 16 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ان کی اردو اور پنجابی شاعری ، سفرنامے اور افسانے شامل ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں ۔
    1 جب تک آنکھیں زندہ ہیں 2 جب نہر کنارے شام ڈھلی 3 تمھارا شہر کیسا ہے 4 واپسی کا سفر 5 قطرہ قطرہ عشق 6 جنگل ، جھیل اور میں 7 نیلما کی غزلیں 8 اداس لوگوں سے پیار کرنا 9 راستے میں گلاب رکھے ہیں 10 چانن کتھے ہویا 11 دکھ سبھا ایہ جگ 12 چاند ، چاندنی چندی گڑھ 13 چڑھدے سورج دی دھرتی 14 ٹھنڈی عورت 15 بیلجم میں 20 دن 16۔تیز ہوا کا شہر

    چند منتخب اشعار قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یوں خوف زدہ چہرے لیے پھرتے ہیں سارے
    لوگوں کو کسی نے تو ڈرایا ہے کوئی ہے

    اب اونچی فصیلیں ہیں یہاں آہنی در ہیں
    یوں موت کو پہرے پہ بٹھایا ہے کوئی ہے

    مجھے جہاں کے یزیدوں سے ڈر نہیں لگتا
    کہ میرے گھر پہ مرے پنجتن کا سایہ ہے

    جو بھی قریب آیا اسے پیار کر لیا
    اپنی نظر کو یونہی گنہ گار کر لیا

    گو دیکھنے کے واسطے لاکھوں تھے خوبرو
    ہم نے تو ایک چہرے کو معیار کر لیا

    ظلم ہے اور کوئی روتا نہیں
    ظلم ہے سب کو دکھائی بھی تو دے

    کوئی تو خزاں میں پتے اگانے والا
    گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے

    شہر میں بستے حیوانوں سے ڈر لگتا ہے
    مجھ کو ایسے انسانوں سے ڈر لگتا ہے

    مسجد کے حجرے میں بچے مر جاتے ہیں
    تیرے گھر کے دربانوں سے ڈر لگتا ہے

    بچھڑتے وقت اس نے جو کہا تھا
    اسی اقرار نے چونکا دیا تھا

    نیلما ناہید درانی

  • ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    شان الحق حقی
    شاعر ابن شاعر، ماہر لسانیات، محقق و مترجم

    11 اکتوبر : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    60 سے زائد کتابوں کے مصنف ، ماہر لسانیات ، نقاد ، شاعر اور مترجم شان الحق حقی 15 ستمبر 1917 میں دہلی میں معروف شاعر اور مترجم مولانا احتشام الحق حقی المعروف ناداں دہلوی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ وہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے خانوادے کی تیرہویں پیڑھی سے تھے اور ڈپٹی نذیر احمد کے پڑ نواسے تھے۔ ان کے والد ایک عالم ، و شاعر اور مترجم تھے جنہوں نے دیوان حافظ شیرازی اور رباعیات عمر خیام کا فارسی زبان سے اردو زبان میں ترجمہ کیا۔ شان الحق حقی اڑھائی سال کی عمر کو پہنچے تو ان کی والدہ محترمہ کا انتقال ہو گیا چناں چہ انہیں ان کی پھوپھی کے پاس پشاور بھیج دیا گیا مڈل تک انہوں نے پشاور میں تعلیم حاصل کی جس کے بعد واپس دہلی لائے گئے ۔ دہلی اور علی گڑھ سے اعلی تعلیم حاصل کی ۔ لندن میں ذرائع ابلاغ کا کورس بھی مکمل کیا۔ قیام پاکستان کے فوری بعد اگست 1947 میں وہ اپنے خاندان کے ہمراہ دہلی سے کراچی منتقل ہو گئے ۔ وہ کراچی سے شائع ہونے والے ” ماہ نو” کے دو سال تک چیف ایڈیٹر رہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر انفارمیشن ، فلمسازی اور یونائٹڈ اشتہارات کراچی کے ڈائریکٹر اور آرٹس کونسل کی مجلس انتظامیہ کے رکن و دیگر کئی سرکاری و غیر سرکاری عہدوں پر فائز رہے۔ انہوں نے سب سے اہم علمی کام آکسفرڈ ڈکشنری کا اردو زبان میں ترجمہ کیا جو کہ 22 جلدوں پر مشتمل ہے جس کی اب تک 25 لاکھ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ ان کی دیگر تصانیف میں ، انتخاب کلام ظفر، انجان راہی (امریکی ناول گار جیک شیفر کے ناول SHANE کا ترجمہ) تار پیرہن(منظومات) دل کی زبان، پھول کھلے ہیں ، نکتہ راز، افسانہ در افسانہ(خود نوشت / سوانح حیات ) حرف دل رس (غزلوں کا مجموعہ)، شاخسانے، نقد و نگارش، ، آئینہ افکار غالب، درپن درپن(مختلف زبانوں کی شاعری کا ترجمہ)، لسانی مسائل و لطائف ، نوک جھونک ،سہانے ترانے، حافظ ایک مطالعہ، لسان الغیب، تیسری دنیا، صور اسرافیل(بنگالی شاعر قاضی نذرالسلام کی نظموں کا ترجمہ) ن، نوائے ساز شکن (ان کی شاعری کا آخری مجموعہ) و دیگر کتب شامل ہیں ۔ وہ اردو، عربی، فارسی، انگریزی ، ہندی ، سنسکرت ، ترکی اور فرانسیسی زبان پر عبور رکھتے تھے ۔
    حکومت پاکستان کی جانب سے شان الحق حقی صاحب کو ان کی اعلی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں ستارہ امتیاز اور قائد اعظم ایوارڈ ایوارڈ دیا گیا جبکہ اسلام آباد میں ایک سڑک ” شان الحق حقی روڈ” کے نام سے منسوب کیا گیا ۔ 11 اکتوبر 2005 میں کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک ہسپتال میں داخل پھیپڑوں کے سرطان کے دوران علاج ان کا انتقال ہوا اس موقع پر ان کی اہلیہ سلمی Salma اور بیٹا شایان حقی وہاں پر موجود تھے ۔

    نمونہ کلام (جسے ناہید اختر نے خوب صورت آواز میں گایا ہے)
    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تم سے الفت کے تقاضے نہ نباہے جاتے
    ورنہ ہم کو بھی تمنا تھی کہ چاہے جاتے

    دل کے ماروں کا نہ کر غم کہ یہ اندوہ نصیب
    زخم بھی دل میں نہ ہوتا تو کراہے جاتے

    کم نگاہی کی ہمیں خود بھی کہاں تھی توفیق
    کم نگاہی کے لئے عذر نہ چاہے جاتے

    کاش اے ابر بہاری ترے بہکے سے قدم
    میری امید کے صحرا میں بھی گاہے جاتے

    ہم بھی کیوں دہر کی رفتار سے ہوتے پامال
    ہم بھی ہر لغزش مستی کو سراہے جاتے

    لذت درد سے آسودہ کہاں دل والے
    ہیں فقط درد کی حسرت میں کراہے جاتے

    ہے ترے فتنۂ رفتار کا شہرا کیا کیا
    گرچہ دیکھا نہ کسی نے سر راہے جاتے

    دی نہ مہلت ہمیں ہستی نے وفا کی ورنہ
    اور کچھ دن غم ہستی سے نباہے جاتے

    شان الحق حقی

  • کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں

    کتنے بے درد ہیں صر صر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیاء کہتے ہیں

    اہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے

    نوابزادہ نصر اللہ خان

    شاعر۔ سیاست دان۔ دانشور

    یوم پیدائش 13 نومبر 1916 خان گڑھ
    یوم وفات 27 ستمبر 2003 اسلام آباد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نوابزادہ نصراللہ خان 13 نومبر 1916کو مظفر گڑھ پنجاب کے ایک نواحی گاؤں خان گڑھ میں ایک پٹھان نورزئی قبیلے کےط سردار نواب سیف اللہ خان کے گھر میں پیدا ہوئے ۔ 1933ء میں انہوں نے عملی سیاست کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کاآغاز مجلس احرار سے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد وہ مسلم لیگ میں شامل ہوگئے اور 1950ء میں پنجاب اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں انہوں نے حسین شہید سہروردی کے ساتھ عوامی لیگ کی بنیاد رکھی اور پھرپاکستان جمہوری پارٹی کے نام سے اپنی علیحدہ سیاسی جماعت بھی قائم کی۔ 1964ء میں انہوں نے کمبائنڈ اپوزیشن پارٹیز کے نام سے ایک اتحاد قائم کیا اور اس برس منعقد ہونے والے صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو اپنا امیدوار نامزد کیا۔ نوابزادہ نصراللہ خان نے مختلف ادوار میں مختلف سیاسی اتحادوں کے قیام میں فعال حصہ لیا جن میں پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ، جمہوری مجلس عمل، یو ڈی ایف، پاکستان قومی اتحاد، ایم آر ڈی، آل پارٹیز کانفرنس، این ڈی اے اور اے آر ڈی کے نام سرفہرست تھے۔ انہیں ’’بابائے جمہوریت‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ وہ محترمہ بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں کشمیر کمیٹی کے چیئر مین کے عہدے پر بھی فائز رہے ۔ وہ شائستہ گفتگو اور نرم لہجے کے مالک تھے ۔ انہوں نے اردو میں شاعری بھی کی ” ناصر” تخلص استعمال کرتے تھے ۔ 27 ستمبر 2003 میں اسلام آباد واقع اپنی رہائش گاہ میں حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے ۔ انہیں اپنے آبائی گاؤں خان گڑھ ضلع مظفر گڑھ میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ ان کے فرزند نوابزادہ افتخار احمد خان 2018 کے الیکشن میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے تھے۔

    غزل

    نوابزادہ نصر اللہ خان ناصر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کتنے بے درد ہیں صَرصَر کو صبا کہتے ہیں
    کیسے ظالم ہیں کہ ظلمت کو ضیا کہتے ہیں

    جبر کو میرے گناہوں کی سزا کہتے ہیں
    میری مجبوری کو تسلیم و رضا کہتے ہیں

    غم نہیں گر لبِ اظہار پر پابندی ہے
    خامشی کو بھی تو اِک طرزِ نوا کہتے ہیں

    کُشتگانِ ستم و جور کو بھی دیکھ تو لیں
    اہلِ دانش جو جفاؤں کو وفا کہتے ہیں

    کل بھی حق بات جو کہنی تھی سرِ دار کہی
    آج بھی پیشِ بتاں نامِ خدا کہتے ہیں

    یوں تو محفل سے تری اُٹھ گئے سب دل والے
    ایک دیوانہ تھا وہ بھی نہ رہا کہتے ہیں

    یہ مسیحائی بھی کیا خوب مسیحائی ہے
    چارہ گر موت کو تکمیلِ شِفا کہتے ہیں

    بزمِ زنداں میں ہوا شورِ سلاسل برپا
    دہر والے اسے پائل کی صدا کہتے ہیں

    آندھیاں میرے نشیمن کو اڑانے اٹھیں
    میرے گھر آئے گا طوفانِ بلا کہتے ہیں

    اُن کے ہاتھوں پہ اگر خون کے چھینٹے دیکھیں
    مصلحت کیش اسے رنگِ حنا کہتے ہیں

    میری فریاد کو اِس عہد ہوس میں ناصر
    ایک مجذوب کی بے وقت صدا کہتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اب شور سلاسل میں سرور ازلی ہے
    پھر پیش نظر سنت سجاد ولی ہے

    کب اشک بہانے سے کٹی ہے شب ہجراں
    اور کب کوئی بلا صرف دعاؤں سے ٹلی ہے

    دو حق و صداقت کی شہادت سر مقتل
    اٹھو کہ یہ وقت کا فرمان چلی ہے

    غارت گر یہ اہل ستم بھی کوئی دیکھے
    گلشن میں کوئی پھول نہ غنچہ نہ کلی ہے

    ہم راہروئے دشت وفا روز اول سے
    اور قافلہ سالار حسین ابن علی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش ، ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    اگاتھا کرسٹی ، جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ

    15 ستمبر 1890. یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جاسوسی اور کرائم ناول کی ملکہ کا خطاب حاصل کرنے والی دنیا کی مشہور ترین ناول نگار اگاتھا کرسٹی کا پورا نام اگاتھا میری کلیرسا کرسٹی تھا اور وہ 15 ستمبر 1890 کو برطانیہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ وہ ایک کثیر التصانیف ادیبہ تھیں اور انھوں نے 87 ناول تحریر کیے جن کا ترجمہ دنیا کی 103 زبانوں میں ہوا اور جن کی 30 کروڑ کاپیاں فروخت ہوئیں۔
    سنہ 1914 میں ان کی پہلی شادی آرچی بالڈ پیسٹی سے ہوئی مگر 1928 میں ان کی علیحدگی ہو گئی۔ پھر سنہ 1930 میں اُن کی دوسری شادی میکس میلووان سے ہوئی جو آثار قدیمہ کے شعبے سے منسلک تھے اور انھیں مشرق وسطیٰ کی قدیم تاریخ کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔
    میکس میلووان کا اولین کام میسوپوٹیمیا کی تہذیب کے دارالحکومت ’اُر‘ کو بازیافت کرنا تھا۔ وہیں ان کی ملاقات اگاتھا کرسٹی سے ہوئی تھی جن کے ساتھ بہت جلد وہ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔ میکس میلووان کی تحقیق اور تحریر کا کام جاری رہا اور انھوں نے مشرق وسطیٰ کی بہت سارے قدیم مقامات پر تحقیقی کام کیا جن میں عراق اور شام کے بہت سے تہذیبی مراکز شامل تھے۔
    وہ عراق میں برٹش سکول آف آرکیالوجی کے ڈائریکٹر بھی رہے اور سنہ 1956 میں ان کی پہلی تصنیف ’25 ایئرز آف میسوپوٹیمین ڈسکوری’ منظر عام پر آئی۔
    آثار قدیمہ سے دلچسپی سنہ 1960 میں انھیں پاکستان کھینچ لائی۔ یہ دورہ میکس میلووان کا تھا اور جوڑے نے اس دوران کراچی، موئن جو دڑو، لاہور اور کئی دوسرے شہروں کا دورہ کیا۔ مگر اخبارات نے زیادہ اہمیت اگاتھا کرسٹی کو دی جو اس 15 روزہ دورے میں اُن کے ساتھ ساتھ رہیں۔
    اس بات کا اندازہ اس فیچر سے ہوتا ہے جو چھ مارچ 1960 کو ’السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان‘ میں شائع ہوا۔
    اگاتھا کرسٹی نے اس جریدے کے مدیر کو بتایا کہ وہ اور ان شوہر بہت عرصے سے اس خطے کی سیاحت کرنے کے خواہش مند تھے۔ انھوں نے کہا: ’میں ابھی پندرہ روز تک انڈیا کا دورہ بھی کر کے آئی ہوں مگر میں نے وہ دورہ مسز میلووان کے نام سے کیا اور وہاں کسی کو میری شناخت معلوم نہ ہو سکی۔‘
    شاید یہ اس پاکستانی صحافی کی ذہانت اور حاضر دماغی کی داد دے رہی تھیں جنھوں نے مسز میلووان کا راز بھانپ لیا تھا۔
    السٹریٹڈ ویکلی میں شائع ہونے والے انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے بتایا کہ ان کے شوہر دس سال سے عراق میں میسوپوٹیمیا کی تہذیب پر کام کر رہے تھے اور اب وہ اس موضوع پر اپنی کتاب مکمل کرنے والے ہیں جس کے لیے انڈیا اور پاکستان کے قدیم مقامات اور یہاں سے دریافت ہونے والے آثار قدیمہ کا جائزہ لینا بہت ضروری تھا۔

    السٹریٹڈ ویکلی آف پاکستان کے مدیر نے اگاتھا کرسٹی سے پوچھا کہ وہ ناول لکھنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرتی ہیں۔ اگاتھا کرسٹی نے کہا کہ وہ پہلے کہانی کا اختتام سوچتی ہیں اور پھر ناول لکھنا شروع کرتی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ایک ناول لکھنے میں انھیں تقریباً تین ماہ درکار ہوتے ہیں۔
    وہ اپنا ناول خود ٹائپ کرتی ہیں اور اس دوران کسی کو اجازت نہیں ہوتی کہ وہ اس ناول کو پڑھ سکے۔ ان کے مطابق تحریر کا سب سے مناسب وقت رات کا پچھلا پہر ہے۔ اس وقت میں تحریر پر توجہ مرکوز کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ اُن کا پسندیدہ ناول ’اینڈ دین دیئر ور نن‘ ہے۔
    دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ناول اگاتھا کرسٹی کی سب سے مقبول کتاب ثابت ہوئی ہے اور اس کی دنیا بھر میں 10 کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔
    اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار کون ہیں تو انھوں نے مائیکل گلبرٹ اور مارجوری ایلنگھم کے نام لیے جبکہ امریکی مصنّفین میں ان کے پسندیدہ جاسوسی ناول نگار الزبتھ ڈیلی اور ارل اسٹینلے گارڈنر تھے۔ انھوں نے کہا ’ان مصنفین کی کردار سازی لاجواب ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی سے یہ بھی پوچھا گیا کہ برطانیہ کے مشہور سراغ رساں ادارے سکاٹ لینڈ یارڈ سے ان کے تعلقات کیسے ہیں۔ اس پر جواب ملا کہ وہ صرف چند مرتبہ اس ادارے کے لوگوں سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ادارے کے لوگ ان کے ناولوں کو دلچسپ ضرور تصور کرتے ہیں مگر حقیقت سے دور۔۔
    انھوں نے کہا کہ برطانیہ میں ہونے والے کچھ قتل ایسے بھی تھے جن کی پولیس رپورٹ میں نے بڑی دلچسپی سے پڑہی مگر میں نے انھیں کبھی اپنے ناول کے قالب میں نہیں ڈھالا۔
    اس انٹرویو میں اگاتھا کرسٹی نے اپنے مشہور کردار ہرکیول پویئرو کے بارے میں بھی بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی مصنف کو جاسوسی ناول کا طویل سلسلہ لکھنا ہو تو اسے کچھ ’سٹاک کریکٹر‘ تخلیق کرنے پڑتے ہیں۔
    ’ہرکیول پویئرو بھی میرا ایسا ہی ایک کردار ہے۔ یہ کردار میں نے پہلی جنگ عظیم میں بلجیم سے برطانیہ ہجرت کرنے والے ایک پولیس افسر کو سامنے رکھ کر تراشا تھا۔ وہ پولیس افسر تو کب کا وفات پا چکا مگر میرا کردار اب بھی زندہ ہے۔‘
    اگاتھا کرسٹی نے ہنستے ہوئے کہا ’اگر وہ پولیس افسر اس وقت زندہ ہوتا تو اس کی عمر 103 سال کے لگ بھگ ہوتی۔‘
    جب اگاتھا کرسٹی سے پوچھا گیا کہ کیا وہ پاکستان کے پس منظر میں کوئی ناول تخلیق کرنا چاہیں گی تو انھوں نے اس کا جواب نفی میں دیا۔ انھوں نے کہا کہ کسی ایسے ملک کے پس منظر میں ناول لکھنا بہت مشکل ہے جسے وہ بہت کم جانتی ہیں۔ ’یہ کام صحافی تو کر سکتے ہیں مگر کوئی تخلیقی ادیب نہیں۔‘
    کہا جاتا ہے کہ سنہ 1960 کے اس دورے کے بعد اگاتھا کرسٹی ایک مرتبہ پھر پاکستان سے گزریں۔ اس بات کے راوی سہیل اقبال ہیں۔
    انھوں نے اپنے ایک مضمون میں جو، ابن صفی میگزین میں شائع ہوا تھا، لکھا ہے کہ سنہ 1965 کے لگ بھگ اگاتھا کرسٹی نے کسی اور ملک جاتے ہوئے کراچی ایئر پورٹ کے وی آئی پی لاﺅنج میں کچھ دیر قیام کیا تھا۔
    ان کے اس قیام کا کچھ لوگوں کو پہلے سے علم تھا جن میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر رضی اختر شوق اور روزنامہ حریت سے منسلک صحافی اے آر ممتاز شامل تھے اور وہ اگاتھا کرسٹی سے ملنے ایئر پورٹ پہنچ گئے۔
    انھوں نے دوران گفتگو پاکستانی جاسوسی ادب کا ذکر کیا تو اگاتھا کرسٹی مسکرائیں اور بولیں: ’مجھے اُردو نہیں آتی لیکن برصغیر کے جاسوسی ادب سے تھوڑی بہت واقفیت رکھتی ہوں۔ اردو میں صرف ایک اوریجنل رائٹر ابن صفی ہیں اور سب اس کے نقال ہیں، کسی نے بھی اس سے ہٹ کر کوئی نئی راہ نہیں نکالی۔‘

  • یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    کبھی ترے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا

    اصلی نام :سلمہ اعجاز
    قلمی نام:سلمیٰ حجاب
    تاریخ ولادت:15 ستمبر 1949
    ء

    نام سلمہ اعجاز: قلمی نام :سلمہ حجاب۔ پیدائش 15 ستمبر 1949 ۔ وطن۔ لکھنؤ، تعلیم: فلسفے میں ایم ۔اے اور بی ۔ایڈ۔ پہلا شعری مجموعہ ’’دھنک‘‘اور دوسرا’’اسماں اور بھی ہیں‘‘ ’’تیسرا زیر ترتیب ہے۔ ’’بزم اردو‘‘ لکھنو، کی پانچ سال صدر رہیں اورپروفيسر ملک زادہ منظور احمد کی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ’’امکان‘‘ لکھنؤ سے مسلسل دس برسوں تک معاون اور نائب مدیر کی حیثیت سے منسلک رہیں اور ان کے انتقال کےبعد 2017 میں ’’امکان‘‘ کا ایک خصوصی شمارہ، پروفيسر ملک زادہ منظور احمد نمبر نکالنے کے بعد ادارت سے دستبردار ہو گئیں۔ شاعری کے علاوہ افسانے اور مضامین بھی لکھتی ہیں جومعروف ادبی رسائل میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کبھی تیرے خط کو جلا دیا کبھی نام لکھ کے مٹا دیا
    یہ مری انا کا سوال تھا تجھے یاد کر کے بھلا دیا
    نیا آرزو کا مزاج ہے نئے دور کی ہیں رفاقتیں
    تری قربتوں کا جو زخم تھا تری دوریوں نے مٹا دیا
    مجھے ہے خبر تجھے عشق تھا فقط اپنے عکس جمال سے
    کہ میں گم ہوں تیرے وجود میں مجھے آئینہ سا بنا دیا
    میں حصار میں تو حصار میں اسی سلسلے کو دوام ہے
    کبھی مصلحت نے جدا کیا تو کبھی غرض نے ملا دیا
    سبھی کہہ رہے ہیں یہ برملا جو گزر گیا وہی خوب تھا
    ابھی ایک پل جو ہے آسرا اسے سب نے یوں ہی گنوا دیا
    وہ شرر ہو یا کہ چراغ ہو ہے تپش مزاج میں اے حجابؔ
    کبھی ہر نفس کو جلا دیا کبھی روشنی کو بڑھا دیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    جینا کیا ہے حباب ہو جانا
    اک حقیقت کا خواب ہو جانا
    عشق ہے سلسلہ سوالوں کا
    اور وفا لا جواب ہو جانا
    بارہا محفلوں نے دیکھا ہے
    خامشی کا رباب ہو جانا
    یہ کرشمہ ہے زر نوازی کا
    ان کا تم سے جناب ہو جانا
    جنبش فکر کی یہی حد ہے
    بس عذاب و ثواب ہو جانا
    جب وہ گوہر شناسیاں نہ رہیں
    اے گہر پھر سے آب ہو جانا
    تشنگی امتحان لیتی ہے
    اے ندی تو سراب ہو جانا
    اٹھ گئی اس طرف نظر ان کی
    اے تمنا حجابؔ ہو جانا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    سکون دل کو مرا اضطراب کیا جانے
    شکست خواب کو تعبیر خواب کیا جانے
    وہ منکشف ہے ابھی صرف دشت و صحرا پر
    جو کیف تشنہ لبی ہے وہ آب کیا جانے
    نشاط سجدہ سے جس کو غرض ہے وہ بندہ
    جھکا دے سر تو عذاب و ثواب کیا جانے
    وہ زندگی سے ادا سیکھتا ہے جینے کی
    تمام چہرے جو پڑھ لے کتاب کیا جانے
    اسیر شوق تو اذن سفر کا طالب ہے
    مقام عیش کو خانہ خراب کیا جانے

    نظم
    ۔۔۔۔۔۔
    آخری خواہش
    ۔۔۔۔۔۔
    تھی خواہش کسی کی
    کہ میں زندگی کا
    اہم واقعہ
    کوئی چن کر سناؤں
    میری فکر نے جب ادھر رخ کیا تو
    یہ پایا کہ
    مشکل بڑی ہے
    کہ یہ زندگی تو
    اہم واقعوں کی
    مسلسل کڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    ادھر بھی جڑی ہے
    اسی فکر میں میں پڑی رہ گئی کہ
    اٹھاؤں کدھر سے
    اہم واقعہ اک
    تسلسل کو اس کے
    کدھر سے میں توڑوں
    اگر توڑ بھی دوں
    تو پھر کیسے جوڑوں
    شروع کی کڑی تو بہت ہی اہم تھی
    اسے چھو کے دیکھا تو بالکل نرم تھی
    ابھی درمیاں تک میں
    پہنچی نہیں تھی
    کہ رنگین کڑیاں
    کھنکنے لگیں خود
    مجھے چھو کے دیکھو
    مجھے چوم لو تم
    کہ مجھ سے اہم
    کچھ نہیں زندگی میں
    عجب معجزہ تھا کہ
    کڑیاں سبھی وہ
    نہ آنچل سے الجھیں
    نہ ٹھہریں کہیں بھی
    گزرتی رہیں اور
    گزرنے سے پہلے
    حسیں رنگ اپنے
    عطا کر کے مجھ کو
    مری ہی کلائی میں
    بن بن کے کنگن
    کھنکنے لگی تھیں
    تسلسل مگر ان کا ٹوٹا نہیں تھا
    کوئی رنگ بھی ان کا جھوٹا نہیں تھا
    ابھی تک تو ان کو
    سنبھالے سنبھالے
    گزرتی رہی میں
    سرا آخری جب
    مرے ہاتھ میں ہے
    تو جی چاہتا ہے
    مجھے تھام لے وہ
    میری سست رفتاریوں کے مقابل
    اگر وہ ٹھہر نہ سکے
    تو مرا ساتھ دینے کی خاطر
    وہ اتنا تو کر دے
    کہ میرے گزرنے سے پہلے
    مرا وقت آنے سے پہلے
    بڑھے
    اور
    مجھے قید کر لے

  • میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں،سائرہ بھارتی

    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی

    تعارف و گفتگو : آغا نیاز مگسی

    ہندوستان کی معروف ادیبہ و شاعرہ سائرہ بھارتی کا اصل نام سائرہ خان ہے وہ 24 دسمبر 1973 میں دہلی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد محترم کا نام رشید احمد اور والدہ محترمہ کا نام زیب النساء ہے اور وہ دونوں وفات پا چکے ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کا کہنا ہے کہ میں پہلے ہندی رسم الخط میں شاعری لکھتی تھی مگر اردو کی محبت مجھے اردو رسم الخط کی طرف لے آئی۔ سائرہ نے تعلیمی سلسلے میں ایم اے اور بی ایڈ کر رکھا ہے اور درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں ۔ شاعری میں فرید شمسی صاحب ان کے استاد ہیں جن کا تعلق رام پور اتر پردیش سے ہے۔ سائرہ شاعری کے علاوہ خاکہ نگاری بھی کرتی ہیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی رہتی ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اب تک قصر ادبی ایوارڈ، شری غزل ایوارڈ سمیت ڈیڑھ درجن کے لگ بھگ ایوارڈز حاصل کر چکی ہیں جن میں ادبی ایوارڈز کے علاوہ سماجی ایوارڈ بھی شامل ہیں ۔ سائرہ صاحبہ کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1999 میں والدین کی مرضی سے ایک بزنس مین نسیم الدین صدیقی صاحب کے ساتھ شادی سے ہوا۔ ان کے خاوند محترم کا شعر و ادب سے تعلق نہیں ہے مگر اپنی شریک حیات کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ماشاء اللہ وہ دو بچوں ایک بیٹا اور ایک بیٹی کے خوش قسمت والدین ہیں۔ سائرہ بھارتی نے پرانے دور کے روایتی مشاعروں اور موجودہ دور کے آن لائن مشاعروں دونوں کو شعر و ادب کے فروغ کیلئے مفید اور بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے پرانے دور کے مشاعروں میں بھی شعراء اور شاعرات کے ادبی ذوق کی تکمیل ہوتی تھی اور نئے شعراء کی تربیت ہوتی تھی تو آجکل کے سوشل میڈیا کے آن لائن و دیگر مشاعروں میں بھی شامل ہونے والے شعراء گھر بیٹھے دور دور سرحد پار ممالک کے مشاعروں میں بھی حصہ لے سکتے ہیں اور اپنے اپنے کلام پیش کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے رہے ہیں ۔ سائرہ کی نظمیہ شاعروں پر مشتمل ایک شعری مجموعہ” یادوں کے سائے” 2008 میں شائع ہو چکا ہے جبکہ اردو غزلوں پر مشتمل ان کی شاعری کا ایک اور مجموعہ زیر طباعت ہے۔ سائرہ کی شاعری کا مقصد سماج میں پھیلی برائیوں کو روکنے کی کوشش اور اپنی تہذیب و تمدن اور مثبت روایات کو آنے والی نسلوں تک پہنچانا اور ورثے کے طور پر منتقل کرنا ہے۔ سائرہ صاحبہ کے پسندیدہ ادباء و شعراء اور شاعرات میں غالب، میر، مومن، ذوق، فراز ، ڈاکٹر مظفر حنفی، ڈاکٹر بشیر بدر، پروین شاکر، کشور ناہید ، منشی پریم چند اور سعادت منٹو شامل ہیں۔ سائرہ کی شاعری مختلف اخبارات و رسائل اور فیس بک وغیرہ میں شائع اور شامل ہوتی رہتی ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    یہ ظلمت یہ وحشت یہ نفرت کے سائے
    کہیں بن نہ جائیں…… بغاوت کے سائے

    ये ज़ुल्मत ये वहसत ये नफ़रत के साये
    कहीं बन न जाएँ…… बग़ावत के साये

    کڑی دھوپ میں ہے سفر نفرتوں کا
    کہاں کھو گئے ہیں محبت کے سائے

    कड़ी धूप में है ……..सफ़र नफ़रतों का
    कहाँ खो गए हैं…….. मुहब्बत के साये

    شرافت ہی نام و نشاں ہے ہمارا
    تعاقب میں رہتے ہیں ذلت کے سائے

    शराफ़त ही नामो…….. निशां है हमारा
    तअक़्क़ुब में रहते हैं. ज़िल्लत के साये

    ہمیں راستہ ڈھونڈنا ہوگا خود ہی
    بھٹکنے لگے ہیں قیادت کے سائے

    हमें रास्ता ढूँढना……….. होगा ख़ुद ही
    भटकने लगे हैं ……….क़यादत के साये

    ہوا نفرتوں کی بڑھا دے گی نفرت
    پریشاں بہت ہیں محبت کے سائے

    हवा नफ़रतों की…… बढ़ा देगी नफ़रत
    परीशां बहुत हैं ……….मुहब्बत के साये

    جُھلسنا پڑے گا ہمیں اور کتنا
    بدلنے پڑیں گے سیاست کے سائے

    झुलसना पड़ेगा……. हमें और कितना
    बदलने पड़ेंगे ……….सियासत के साये

    مجھے گرمیء حشر کا خوف کیوں ہو
    مرے ساتھ ہیں ماں کی خدمت کے سائے

    मुझे गर्मी ए हश्र …….का ख़ौफ़ क्यूँ हो
    मिरे साथ हैं माँ की… ख़िदमत के साये

    اسے سائرہ بھول جانا ہے مشکل
    مرے ساتھ ہیں اُس کی چاہت کے سائے

    سائرہ بھارتی
    उसे सायरा भूल…… जाना है मुश्किल
    मिरे साथ हैं उसकी….. चाहत के साये

    सायरा भारती
    ضروری نہیں میں کسی کیلئے بھی
    میں دنیا کو دل سے لگاتی نہیں ہوں

    حقیقت مرے دل کو دیتی ہے راحت
    میں خوابوں کی دنیا بساتی نہیں ہوں

    سائرہ بھارتی