Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    ڈاکٹر رتھ فاؤ، مسیحائے پاکستان

    آغا نیاز مگسی

    ڈاکٹر رتھ فائو جن کا پورا نام رتھ کیتھرینا مارتھا فائو ہے وہ 9 ستمبر 1929 میں جرمنی کے شہر لپزگ میں پیدا ہوئیں ان کے والد کا نام والتھر فائو اور والدہ کا نام مارتھا فائو ہے ۔ رتھ نے 1949 میں ” مینز” سے ڈاکٹر کی ڈگری حاصل کی ۔ انہوں نے ایک بار ایک ڈاکومنٹری فلم دیکھی کہ کراچی پاکستان میں جذام کے مریضوں کا کوئی علاج نہیں ہے وہ سسک سسک کر اور تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں تو انہوں نے ” تنظیم دختران قلب مریم ” کی جانب سے پاکستان جا کر ان کا علاج کرنے فیصلہ کیا اور کراچی پہنچ گٙئیں یہاں آکر انہوں نے ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر ایک جھونپڑی میں چھوٹا سا کلینک قائم کر کے علاج شروع کر دیا کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر آئی کے گل اور سسٹر پیرنس نے بھی ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا جس سے ان کے کام کو مزید تقویت پہنچی وہ اس وقت 31 سال کی ایک وجیہہ اور خوب صورت عورت تھیں جس نے انسانیت کی خدمت کی غرض سے رہبانیت اختیار کرتے ہوئے زندگی بھر شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔ ڈاکٹر رتھ نے بے سہارا مریضوں کو ڈاکٹر ، ماں ، بیٹی اور بہن بن کر جذام کے مریضوں کا علاج معالجہ شروع کر دیا ان کی خدمت اور خلوص کو دیکھ کر حکومت اور عوام نے ان سے بھرپور تعاون کیا جس سے انہیں جذام کے مریضوں کے علاج معالجے میں آسانی پیدا ہوتی گئی ۔ابتدا میں انہوں نے کراچی میں ” میری ایڈلیڈ لپریسی سینٹر ” قائم کیا اس کے بعد پاکستان کے دیگر بڑے شہروں میں بھی اس کا دائرہ کار بڑھا دیا ۔ کراچی میں افغانستان سے بھی جذام کے مریض آنے لگے ۔ ڈاکٹر رتھ کی شبانہ روز محنت اور خدمت کے نتیجے میں پاکستان میں 1996 کو جذام کے مرض پر قابو پایا گیا جس پر عالمی ادارہ صحت نے یہ تسلیم کرتے ہوئے 1996 میں پاکستان کو جذام پر قابو پانے والا ملک قرار دے دیا ۔

    حکومت پاکستان نے 1979 میں ڈاکٹر رتھ کو محکمہ صحت کا وفاقی مشیر بنا دیا تھا جبکہ 1988 میں انہیں پاکستان کی شہریت دے دی گئی ۔ ان کی خدمات کے اعتراف کرتے ہوئے حکومت پاکستان کی جانب سے ہلال پاکستان ، ستارہ قائد اعظم، ، ہلال امتیاز ، جناح ایوارڈ اور نشان قائد اعظم ایوارڈ دیا گیا جبکہ جرمنی کی حکومت کی جانب سے انہیں بیم بی ایوارڈ دیا گیا ، آغا خان یونیورسٹی کراچی کی جانب سے انہیں ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ دیا گیا ۔ پاکستان میں انسانیت کی محسن کی اعلیٰ خدمات کی بدولت پاکستان ایشیا میں جذام کے مرض پر قابو پانے والا پہلا ملک بن گیا۔ڈاکٹر رتھ فائو 10اگست 2017 کو کراچی میں 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں ۔ 19 اگست 2017 میں سینٹ پیٹرک چرچ صدر کراچی میں ان کی آخری رسومات ادا کی گئیں جس کے بعد انہیں گورا قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رتھ فائو کو جرمنی اور پاکستان کی دہری شہریت حاصل تھی۔

  • بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلوچستان کی پہلی خاتون آفیسرز کا اعزاز بہت سی باصلاحیت خواتین کو حاصل ہے جن میں بلوچستان کی پہلی خاتون ڈپٹی کمشنر کا منفرد اور قابل فخر اعزاز محترمہ عائشہ زہری ، بلوچستان کی پہلی خاتون میڈیکل سپرنٹنڈنٹ و پہلی ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر D H O کا منفرد اعزاز ڈاکٹر رخسانہ مگسی صاحبہ کو حاصل ہے جبکہ بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا اعزاز محترمہ پری گل ترین کو حاصل ہے وہ بلوچستان کی پہلی پی ایس پی کرنے والی خاتون پولیس آفیسر ہیں انہیں 2021 میں کوئٹہ میں بحیثیت ASP تعینات کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون پولیس آفیسر کا منفرد اعزاز حاصل ہوا ہے جبکہ سب انسپکٹر محترمہ صوبیہ خانم کو 2022 میں کوئٹہ کینٹ پولیس تھانہ کی S H O مقرر کیا گیا جس سے انہیں بلوچستان کی پہلی خاتون S H O کا منفرد اعزاز حاصل ہو گیا اور یہ دونوں خواتین پولیس افسران بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر چکی ہیں ۔

    سی ٹی ڈی کی کاروائی،سات مبینہ دہشتگرد گرفتار
    ہیلی کاپٹر حادثے پر بہت دکھ ہوا،اللہ تعالی شہدا کے درجات بلند کرے، نواز شریف
    اگلے 10 دن اہم،بازی پلٹ گئی،نواز شریف،مریم پر ریڈ لائن ختم، بڑی تیاریاں شروع
    اوپن مارکیٹ؛ ڈالر 331 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    حال ہی میں خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والی پی ایس پی آفیسر محترمہ فریال فرید صاحبہ کو بلوچستان میں پہلی خاتون S S P کا منفرد اعزا حاصل ہوا ہے جن کی تقرری بطور ایس ایس پی جعفر آباد میں ہوئی ہے ان کی گفتگو اور عزم سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ یہاں بحیثیت خاتون ایس ایس پی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کریں گی ۔ بلوچستان میں مختلف شعبوں میں بہت سی دیگر خواتین افسران بھی اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انشاء الله ان کے بارے میں بھی معلومات فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔

  • ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    کشتی بھی نہیں بدلی دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا

    غلام محمد قاصر

    تاریخ پیدائش: 4 ستمبر 1944
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے ایک خوب صورت شاعر ًغلام محمد قاصر 4 ستمبر 1944 میں پاکستان کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سے 40 کلومیٹر شمال میں واقع ایک چھوٹے سے قصبے پہاڑپور میں پیدا ہوئے۔ ان کے تین شعری مجموعے تسلسل ، آٹھواں آسماں بھی نیلا ہے اور دریائے گماں شائع ہوئے جنہوں نے سنجیدہ ادبی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی حاصل کی اور قاصر کو جدید اردو غزل کے نمائندہ شعراء میں ایک منفرد مقام کا حامل قرار دیا گیا۔ ان کا تمام شعری کلام جس میں مذکورہ بالا تینوں مجموعے اور غیر مطبوعہ و غیر مدون کلام شامل ہے۔ کلیاتِ قاصر (اک شعر ابھی تک رہتا ہے ) کے عنوان سے 2009ء میں شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے لیے متعدد ڈرامے اور پروگرام لکھے جو ناظرین و سامعین میں بے حد مقبول ہے۔ قاصر کا تحریر کردہ ڈراما سیریل تلاش اور بچوں کے لیے کھیل بھوت بنگلہ نے خاص طور پر بہت مقبولیت حاصل کی۔ قاصر نے پاکستان کے کچھ اہل قلم پر عمدہ مضامین رقم کیے۔ پاکستان اور بیرون ملک پاکستان منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت بھی کی۔ جبکہ این ڈبلیو ایف پی ٹیکسٹ بک بورڈ کے لیے ساتویں ، گیارہویں جماعت کے لیے نصاب مرتب کیا۔

    ملازمت
    گورنمنٹ ہائی اسکول پہاڑ پور سے میٹرک کرنے کے بعد اسی اسکول میں بطور ٹیچر تقرری ہوئی ۔ تاہم ملازمت کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ طور پر تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور اردو ادب میں ایم اے کیا۔ اور اس کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے نواحی علاقوں میں تدریس کے شعبے سے منسلک رہے۔ 1975ء میں بطور لیکچرار پہلی تقرری گورنمنٹ کالج مردان میں ہوئی۔ اس کے بعد سپیرئیر سائنس کالج پشاور ، گورنمنٹ کالج درہ آدم خیل ، گورنمنٹ کالج پشاور، گورنمنٹ کالج طورو اور گورنمنٹ کالج پبی میں درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہے۔

    شاعری کا آغاز
    اسی دوران کہیں سے شعر کی چنگاری پھوٹی جس نے بالآخر پورے ملک میں ان کے نرالے طرزِ ادا کے شعلے بکھیر دیے۔ حتیٰ کہ 1977ء میں جب ان کا پہلا شعری مجموعہ ’تسلسل‘ شائع ہوا تو اس کے بارے میں ظفر اقبال جیسے لگی لپٹی نہ رکھنے والے شاعر نے لکھا کہ میری شاعری جہاں سے ختم ہوتی ہے قاصر کی شاعری وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
    ساٹھ کی دہائی کے اواخر کی بات ہے۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ایک عظیم الشان کل پاکستان مشاعرہ منعقد ہوا جس میں اس دور کے اکثر نامی گرامی شعرا نے حصہ لیا، جن میں ناصر کاظمی، منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، قتیل شفائی، محبوب خزاں وغیرہ شامل تھے۔

    مشاعرے کے آغاز ہی میں ایک نوجوان شاعر کو کلام سنانے کی دعوت دی گئی۔ ایک چوبیس پچیس سالہ دبلے پتلے اسکول ٹیچر نے ہاتھوں میں لرزتے ہوئے کاغذ کو بڑی مشکل سے سنبھال کر ایسے لہجے میں غزل سنانا شروع کی جسے کسی طرح بھی ٹکسالی نہیں کہا جا سکتا تھا۔ لیکن اشعار کی روانی، غزلیت کی فراوانی اور خیال کی کاٹ ایسی تھی کہ بڑے ناموں کی باری کے منتظر سامعین بھی نوٹس لینے پر مجبور ہو گئے۔
    جب نوجوان اس شعر پر آئے تو نہ صرف گاؤ تکیوں سے ٹیک لگائے شعرا یک لخت اٹھ بیٹھے اور بلکہ انھوں نے تمام سامعین کی آواز میں آواز ملا کر وہ داد دی کہ پنڈال کی محاوراتی چھت اڑ گئی۔ شعر تھا:

    تم یوں ہی ناراض ہوئے ہو ورنہ میخانے کا پتہ
    ہم نے ہر اس شخص سے پوچھا جس کے نین نشیلے تھے
    لوگ ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے؟ اس سوال کا جواب غزل کے آخری شعر میں شاعر نے خود ہی دے دیا:
    کون غلام محمد قاصر بیچارے سے کرتا بات
    یہ چالاکوں کی بستی تھی اور حضرت شرمیلے تھے
    قاصر نے روایت اور کلاسیکی زبان کا دامن تھامے رکھا۔ تاہم انھوں نے روایت میں بھی جدت اور ندرت کا مظاہرہ کیا ہے۔
    میں بدن کو درد کے ملبوس پہناتا رہا
    روح تک پھیلی ہوئی ملتی ہے عریانی مجھے
    گلیوں کی اداسی پوچھتی ہے، گھر کا سناٹا کہتا ہے
    اس شہر کا ہر رہنے والا کیوں دوسرے شہر میں رہتا ہے
    احمد ندیم قاسمی ان کے بارے میں لکھتے ہیں: ’جب کوئی سچ مچ کا شاعر بات کہنے کا اپنا سلیقہ روایت میں شامل کرتا ہے تو پوری روایت جگمگا اٹھتی ہے۔
    نظر نظر میں ادائے جمال رکھتے تھے
    ہم ایک شخص کا کتنا خیال رکھتے تھے
    جبیں پہ آنے نہ دیتے تھے اک شکن بھی کبھی
    اگرچہ دل میں ہزاروں ملال رکھتے تھے
    ان کی وسعتِ نظر ایسی ہے جو انسانی نفسیات کی اتھاہ گہرائیوں میں کمال سہولت سے اتر جاتی ہے:
    کشتی بھی نہیں بدلی، دریا بھی نہیں بدلا
    ہم ڈوبنے والوں کا جذبہ بھی نہیں بدلا
    پہلے اِک شخص میری ذات بنا
    اور پھر پوری کائنات بنا
    کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
    تم تو سچے ہو بات جھوٹی ہے

    قاصر کے ہاں روایت اور جدت کے امتزاج کی ایک اور مثال یہ ہے کہ وہ اساطیری روایات کو پلٹ کر انھیں نیا رنگ عطا کر دیتے ہیں، اور ہزاروں بار سنی ہوئی بات بھی اچھوتی ہو جاتی ہے:
    بیکار گیا بن میں سونا میرا صدیوں کا
    اس شہر میں تو اب تک سِکہ بھی نہیں بدلا
    آگ درکار تھی اور نور اٹھا لائے ہیں
    ہم عبث طور اٹھا لائے ہیں
    پیاس کی سلطنت نہیں مٹتی
    لاکھ دجلے بنا فرات بنا
    یوں تو قاسمی، ظفر اقبال، احمد فراز، قتیل شفائی، شہزاد احمد، صوفی تبسم، رئیس امروہوی جیسے کئی مشاہیر نے قاصر کی ستائش کی ہے، لیکن مشہور کالم نگار منو بھائی نادانستگی میں اپنے ایک کالم میں قاصر کا یہ شعر میر کے نام سے نقل کر گئے:
    کروں گا کیا جو محبت میں ہو گیا ناکام
    مجھے تو اور کوئی کام بھی نہیں آتا
    کسی بھی نئے یا پرانے شاعر کو اس سے بڑھ کر داد نہیں دی جا سکتی۔
    وفات
    تین ماہ تک جگر کے سرطان میں مبتلا رہنے کے بعد غلام محمد قاصر 20 فروری 1999 کو اس جہان فانی سے رخصت ہوگئے۔

  • کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    ہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    سیلم احمد

    اردو زبان میں سلیم احمد جیسے شاعر اور ادیب کم ہی گزرے ہیں جنہوں نے خود کو ادب کے لئے اس طرح وقف کردیا ہو کہ کبھی کبھی دھوکا ہونے لگتا ہو کہ وہ گوشت پوست سے بنے ہوئے انسان نہیں بلکہ مجسمہ ٔ خیال ہوں۔ ایسے ہی ایک شاعر اور ادیب سلیم احمد بھی تھے۔ جناب سلیم احمد27 نومبر1927ء کو ضلع بارہ بنکی کے ایک قصبے کھیولی میں پیدا ہوئے۔ وہیں سے میٹرک کیا اور میٹرک کے بعد میرٹھ کالج میں داخل ہوئے جہاں ان کے تعلقات پروفیسر کرار حسین، محمد حسن عسکری، انتظار حسین اور ڈاکٹر جمیل جالبی سے استوار ہوئے جو دم آخر تک قائم رہے۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان چلے آئے، یہیں تعلیم مکمل کی اور 1950ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے۔ جناب سلیم احمد نے 1944ء میں ہی شاعری شروع کردی تھی۔ ان کی شاعری باوجود منفرد لب و لہجے اور نئے اسلوب و مضامین کے کڑے اعتراضات کا نشانہ بنی۔ سلیم احمد کی وجۂ شناخت ان کے بے لاگ اور کھرے تنقیدی مضامین تھے جن کی کاٹ اور جن کی صداقت اور راست بازی کے دوست ہی نہیں دشمن بھی گرویدہ تھے۔ سلیم احمد ایک بہت اچھے ڈرامہ نگار بھی تھے۔ انہوں نے ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے متعدد ڈرامے تحریر کئے، اخبارات میں کالم نگاری بھی کی اورپاکستان کی پہلی جاسوسی فلم ’’راز کی کہانی‘‘ بھی تحریر کی جس پرانہیں بہترین کہانی نویس کا نگار ایوارڈ بھی عطا کیا گیا۔ ٭یکم ستمبر 1983ء کو سلیم احمد کراچی میں وفات پاگئے اور پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے۔ سلیم احمد کے شعری مجموعوں میں بیاض، اکائی، چراغ نیم شب اور مشرق اور تنقیدی مضامین کے مجموعوں میں ادبی اقدار، نئی نظم اور پورا آدمی، غالب کون؟ ادھوری جدیدیت، اقبال ایک شاعر، محمد حسن عسکری آدمی یا انسان شامل ہیں۔
    ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے:
    اک پتنگے نے یہ اپنے رقص آخر میں کہا۔
    روشنی کے ساتھ رہئے روشنی بن جایئے۔

    سیلم احمد کی چند منتخب غزلیں

    غزل

    نہ جانے شعر میں کس درد کا حوالہ تھا
    کہ جو بھی لفظ تھا وہ دل دکھانے والا تھا

    افق پہ دیکھنا تھا میں قطار قازوں کی
    مرا رفیق کہیں دور جانے والا تھا

    مرا خیال تھا یا کھولتا ہوا پانی
    مرے خیال نے برسوں مجھے ابالا تھا

    ابھی نہیں ہے مجھے سرد و گرم کی پہچان
    یہ میرے ہاتھوں میں انگار تھا کہ ژالہ تھا

    میں آج تک کوئی ویسی غزل نہ لکھ پایا
    وہ سانحہ تو بہت دل دکھانے والا تھا

    معانی شب تاریک کھل رہے تھے سلیمؔ
    جہاں چراغ نہیں تھا وہاں اجالا تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    بیٹھے ہیں سنہری کشتی میں اور سامنے نیلا پانی ہے
    وہ ہنستی آنکھیں پوچھتی ہیں یہ کتنا گہرا پانی ہے

    بیتاب ہوا کے جھونکوں کی فریاد سنے تو کون سنے
    موجوں پہ تڑپتی کشتی ہے اور گونگا بہرا پانی ہے

    ہر موج میں گریاں رہتا ہے گرداب میں رقصاں رہتا ہے
    بیتاب بھی ہے بے خواب بھی ہے یہ کیسا زندہ پانی ہے

    بستی کے گھروں کو کیا دیکھے بنیاد کی حرمت کیا جانے
    سیلاب کا شکوہ کون کرے سیلاب تو اندھا پانی ہے

    اس بستی میں اس دھرتی پر سیرابیٔ جاں کا حال نہ پوچھ
    یاں آنکھوں آنکھوں آنسو ہیں اور دریا دریا پانی ہے

    یہ راز سمجھ میں کب آتا آنکھوں کی نمی سے سمجھا ہوں
    اس گرد و غبار کی دنیا میں ہر چیز سے سچا پانی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل

    دیدنی ہے ہماری زیبائی
    ہم کہ ہیں حسن کے تمنائی

    بس یہ ہے انتہا تعلق کی
    ذکر پر ان کے آنکھ بھر آئی

    تو نہ کر اپنی محفلوں کو اداس
    راس ہے ہم کو رنج تنہائی

    ہم تو کہہ دیں سلیمؔ حال ترا
    کب وہاں ہے کسی کی شنوائی

    اور تو کیا دیا بہاروں نے
    بس یہی چار دن کی رسوائی

    ہم کو کیا کام رنگ محفل سے
    ہم تو ہیں دور کے تماشائی

    وہ جنوں کو بڑھائے جائیں گے
    ان کی شہرت ہے میری رسوائی

    معتقد ہیں ہماری وحشت کے
    شہر میں جس قدر ہیں سودائی

    عشق صاحب نے دل پہ دستک دی
    آئیے مرشدی و مولائی

    یہ زمانے کا جبر ہے کہ سلیمؔ
    ہو کے میرے بنے ہیں سودائی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔.۔۔۔۔۔۔۔
    .
    بشکریہ ، عامر شیرازی

    ترتیب و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    تجھ سے اک راز کی سرگوشی بھی کرنا چاہوں
    پھر وہی راز نگل جانے کو جی چاہتا ہے

    بشری رحمان بلبل پاکستان

    تاریخ پیدائش: 29 اگست
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ،ادیبہ،مصنفہ، شاعرہ ، ناول نگار،افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،کالم نگاراور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن 29 اگست 1944میں بہاولپور پنجاب میں پیدا ہوئی انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاولپور سے اور ایم اے صحافت کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی 1960 میں لاہور کے ایک معروف صنعتکار میاں عبدالرحمن سے شادی ہوئی ۔ بشریٰ رحمن کی 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ناول،افسانے، شاعری، ڈرامے اور کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے لکھے ڈرامہ سیریل” لازوال” سے شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ ایک اخبار میں "چادر چار دیواری اور چاندنی” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتی تھیں سائرہ ہاشمی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” بزم ہم نفساں ” کا قیام عمل میں لایا جس کے زیر اہتمام وہ ہر ماہ اپنی رہائش گاہ پر ماہانہ مشاعرے کا انعقاد کرتی تھیں جس میں لاہور کے نامور شعراء اور شاعرات شریک ہو کر اپنا کلام پیش کرتے تھے-

    بشری صاحبہ نے ایک ادبی ماہنامہ ” وطن دوست ” کا بھی اجراء کیا تھا ۔ انہوں نے ادب و سیاست اور صحافت کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ وہ دو بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور دوبارقومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اسمبلی میں ان کی خوش گفتاری اور بہترین فقروں اور الفاظ کے استعمال کی بنا پر انہیں ” بلبل پاکستان” کے خطاب سے نوازا گیا تھا ۔ 7 فروری 2022 کو 78 برس کی عمر میں کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی نے ان کی وفات پر بڑے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا” خوب صورت شخصیت، دلفریب مسکراہٹ، غزالی آنکھوں اور رس بھرے لہجے کی مالک بشری رحمان سے جو بھی ایک بار ملتا وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا اور میں بھی ان کے عشق میں مبتلا ہو گئی”. ۔

    بشری صاحبہ کی شائع ہونے والی کتابوں میں ،بت شکن، چپ، پشیمان ، پیاسی،چارہ گری ،خوب صورت ، عشق عشق، قلم کہانیاں ، مولانا ابوالکلام آزاد،ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو، بہشت،لازوال،دانا رسوائی ، صندل میں سانسیں چلتی ہیں ،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، الله میاں جی اور ، تیرے سنگ در کی تلاش ” شامل ہیں ان کی آخری تصنیف "سیرت طیبہ صلی الله علیہ وسلم” ہے ۔

    ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے سیرت طیبہ کی کتاب مکمل کر کے وفات پائی ہے امید ہے کہ یہ تصنیف ان کی عاقبت سنوارنے کا باعث بنے گی جبکہ انہوں نے آخری افسانہ "_گیسو” دسمبر 2021 میں لکھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مرد کو باغی بنانے میں عورت کا کردار زیادہ ہے شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کو بلا جواز شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ان کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں جس کی وجہ سے شوہر تنگ آ کر اپنے گھر سے باہر غیر محرم خواتین سے رابطہ استوار کرنے پر طرف مائل ہو جاتے ہیں ۔ بشریٰ رحمن صاحبہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2007 میں صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    چند منتخب اشعار

    تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
    آتش شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے

    ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
    دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
    نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

    مرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
    معطر باوضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

  • لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ  کا  چہرہ  دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "واہ واہ” کرتے ہیں

    لوگ شاعری کی بجائے خاتون شاعرہ کا چہرہ دیکھ کر "_واہ واہ” کرتے ہیں

    میں صرف 3 خواتین کو شاعر مانتی ہوں

    پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے ادبی اداروں کی کارکردگی زیرو ہے

    شاعری درد سے جنم لیتی ہے شوق سے نہیں
    معروف شاعرہ ثبین سیف کی کی دلچسپ باتیں

    گفتگو و تعارف: آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ ثبین سیف صاحبہ کراچی میں پیدا ہوئیں ان کا اصل نام ثبینہ پروین ہے لیکن سیف اللہ خان سے شادی کے بعد ان کی نسبت سے ثبین سیف کا نام اختیار کر لیا۔ ان کے والد کا نام سید ابن حسن صدیقی ہے وہ آرمی افسر تھے۔ ثبین کی مادری زبان اردو ہے ۔ ان کے 5 بھائی اور 3 بہنیں ہیں بڑی بہن شادی کے بعد امریکہ منتقل ہو چکی ہیں ۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہیں اس لیئے والدین اور بہن بھائیوں نے انہیں ایک گڑیا اور شہزادی جیسا پیار دیا ۔ اولاد میں ماشاء اللہ ان کے 2 بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ اور بچوں کے باپ ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ میں پہلے خودکشی کرنا چاہتی تھی مگر اپنے بیٹوں کے بچوں کی وجہ سے جینا چاہتی ہوں ۔ ثبین کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔

    معروف ادیبہ اور شاعرہ فرحین چودھری کی طرح ثبین کے خیالات بھی خواتین شاعرات اور ادبی اداروں کے بارے میں کچھ مختلف ہیں ۔ ثبین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ادب کے فروغ کیلئے حکومت کی جانب سے سالانہ کروڑوں روپے مختص کئے جاتے ہیں مگر اس کے باوجود سرکاری ادبی اداروں کی کارکردگی ” زیرو” ہے جبکہ خواتین شاعرات کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ پاکستانی شاعرات کی اکثریت شاعر نہیں ہے وہ صرف حمیدہ شاہین ، ریحانہ روحی اور نرجس زیدی کو شاعرہ تسلیم کرتی ہیں ۔ ان کا دعوی ہے کہ اکثر خواتین صرف نام کی شاعرہ ہیں لوگ مشاعروں اور فیس بک پر ان کی شاعری کی بجائے ان کے چہروں اور تصاویر کو دیکھ کر ” واہ واہ” کی بھرپور داد دیتے ہیں ۔ ثبین مشاعروں میں بہت کم شریک ہوتی ہیں ۔ بیرون ممالک بھی ایسے مشاعروں میں جاتی ہیں جہاں منتظمین کی جانب سے آمد و روانگی کے ٹکٹ و قیام و طعام کا مکمل انتظام کیا جاتا ہو ان کا کہنا ہے کہ میں ان شاعروں میں سے نہیں ہوں جو بیرون ممالک کے مشاعروں کا صرف دعوت نامہ ملنے پر اپنے خرچے پر چلے جاتے ہیں ۔ اپنی شاعری کی وجہ کے بارے میں بتایا کہ شاعری شوق سے نہیں درد سے جنم لیتی ہے انہوں نے کہا کہ میں نے اپنی ماں کے آنسوں دیکھ کر شاعری شروع کی ہے کیوں کہ والدین کی ازدواجی زندگی بہتر نہیں تھی انہوں نے کہا کہ انسان کو شادی بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیئے اور پھر اس شادی کے رشتے کو عمر بھر مضبوطی کے ساتھ نبھانا چاہئے ۔ اپنی ازدواجی زندگی کے بارے میں بھی انہوں نے بڑے افسوس کے ساتھ کہا کہ میں اپنے شوہر کے ” معیار” پر پورا نہیں اتر سکی ۔میں بی اے کر رہی تھی کہ میری شادی کر دی گئی لیکن میری شادی کا ” رزلٹ ” صحیح نہیں آیا۔ ثبین نے شادی شدہ جوڑوں اور تمام والدین سے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے بچوں کی خاطر اپنی شادی کے بندھن کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں کیوں کہ والدین کے مابین علیحدگی کی وجہ سے ان کے بچے بہت زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ثبین نے اس بات پر اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ انہیں لوگوں کی طرف سے بہت عزت اور پیار ملتا ہے جس میں خواتین کی گرم جوشی قابل رشک ہے۔

    ثبین صاحبہ کا ایک بہت مشہور و معروف شعر

    پہلے ڈرتی تھی اک پتنگے سے
    ماں ہوں اب سانپ مار سکتی ہوں

    ایک ضروری وضاحت

    آج ثبین صاحبہ کی سالگرہ ہے لیکن ان کی طرف سے تاریخ پیدائش نہ بتانے کی وجہ سے ان کی تاریخ پیدائش نہیں لکھ سکا جبکہ ان کے وائس میسیج کی وجہ سے ان کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات نہ سمجھنے اور نوٹ نہ کر سکنے کی وجہ سے میں لکھنے سے قاصر رہا ہوں

    غزل . ثبین سیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عمر بھر بوجھ اٹھایا تو نہیں جا سکتا
    ہر تعلق کو نبھایا تو نہیں جا سکتا
    آپ اس بار بھی دیوار میں چنوا دیں مجھے
    اب کے بھی سر یہ جھکایا تو نہیں جا سکتا
    روز مرنے کا ہنر جس نے سکھایا ہے مجھے
    اس کا احسان بھلایا تو نہیں جا سکتا
    چشم بینا ہے مگر عقل سے نا بینا ہیں
    آئنہ ان کو دکھایا تو نہیں جا سکتا
    تم نے اک عمر مرے دل پہ حکومت کی ہے
    تم کو پل بھر میں بھلایا تو نہیں جا سکتا
    جن کو الفاظ سے ڈسنے کا ہنر آتا ہے
    ہاتھ اب ان سے ملایا تو نہیں جا سکتا
    جس قدر سنگ زنی چاہیے کر لیں مجھ پر
    سنگ زادی کو رلایا تو نہیں جا سکتا
    ہوں مکیں جن میں کئی سال سے زندہ لاشیں
    ان مکانوں کو سجایا تو نہیں جا سکتا
    جس کی خاموشی میں آسیب سکوں کرتے ہوں
    ایسا ویرانہ بسایا تو نہیں جا سکتا
    تو بت عشق نہیں تو تو خدا ہے میرا
    اب تجھے ہاتھ لگایا تو نہیں جا سکتا

    غزل
    ۔۔۔۔
    بات کیا ہے یہ بتائیں تو سہی
    گفتگو آگے بڑھائیں تو سہی
    جان جائیں گے کھرا کھوٹا ہے کیا
    آپ مجھ کو آزمائیں تو سہی
    انگلیاں اٹھیں گی چاروں آپ پر
    آپ اک انگلی اٹھائیں تو سہی
    بندہ پرور ناامیدی کفر ہے
    اک دیا پھر سے جلائیں تو سہی
    چاند تارے منتظر ہیں آپ کے
    آسماں تک آپ جائیں تو سہی
    وصل کر دے گا خزاں کو فصل گل
    پھول بالوں میں لگائیں تو سہی
    دیکھیے سنیے ارے جانے بھی دیں
    آپ میرے ساتھ آئیں تو سہی
    خود کو رکھ کر بھول بیٹھی ہوں کہیں
    میں کہاں ہوں کچھ بتائیں تو سہی
    آپ تو بس گھر بنا کر رہ گئے
    آپ اس گھر کو بسائیں تو سہی
    چٹکیوں میں بھول جاؤں گی انہیں
    اب مجھے وہ یاد آئیں تو سہی
    نیند آنکھوں سے خفا ہو جائے گی
    خواب پلکوں پر سجائیں تو سہی
    جان لے لوں گی قسم اللہ کی
    بھول کر مجھ کو بھلائیں تو سہی
    آزمانے کے لیے قسمت ثبینؔ
    دل کو داؤ پر لگائیں تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔
    پوچھیے مت کیا ہوا کیسے ہوا
    بت کوئی میرا خدا کیسے ہوا
    آدمی بے حد برا تھا وہ مگر
    پھر اچانک وہ بھلا کیسے ہوا
    جس دئے کی آبرو تھی روشنی
    وہ طرف دار ہوا کیسے ہوا
    میں جسے سمجھی نہ تھی وہ عشق تھا
    ہاں مگر پھر وہ سزا کیسے ہوا
    آدمی سے پوچھتا ہے آدمی
    آدمی خود سے جدا کیسے ہوا
    مجھ کو آیا تھا منانے کے لیے
    کیا خبر مجھ سے خفا کیسے ہوا
    سوچتی رہتی ہوں میں اکثر ثبینؔ
    جو نہیں سوچا گیا کیسے ہوا

  • جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہوئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ماچس لکھنوی

    اصلی نام:مرزا محمد اقبال
    سن ولادت:1918ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تاریخ وفات:26 اگست 1970ء
    جائے ولادت:لکھنؤ، اتر پردیش
    تصنیفات:انتخابِ کلام ماچس لکھنوی-2004ء
    (مرتبہ:رئیس آغا)

    ماچسؔ لکھنوی نامور مزاحیہ شاعر حضرت ماچس لکھنوی کا اسم گرامی مرزا محمد اقبال تھا۔ ماچسؔ لکھنوی کے نام سے مشہور ہیں۔ 1918 میں اپنے آبائی مکان متصل کاظمین لکھنؤ گیٹ میں پیدا ہوئے اور 26 اگست 1970 کو مختصر علالت کے بعد بعارضۂ کینسر وفات پائی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تذکرۂ معاصرین جلد اول مصنف مالک رام کے مطابق سنولادت 1911ء ہے۔

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    جب کہ ماضی سے بہت پست بھی حال اچھا ہے
    پھر تو مستقبل رنگیں کا خیال اچھا ہے
    جس کا جو ذوق ہو اس کو وہی آتا ہے پسند
    میں تو کہتا ہوں کہ دونوں کا خیال اچھا ہے
    کچھ الیکشن میں تو کچھ نام پہ غالبؔ کے کماؤ
    اک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    چارہ گر کہتے ہیں بس موت کی باقی ہے کسر
    اور ہر طرح سے بیمار کا حال اچھا ہے
    نہیں معلوم اگر سانپ کا منتر تو نہ پھنس
    ہاتھ اس سانپ کی بانبی میں نہ ڈال اچھا ہے
    جو بھی ہارے گا وہی گالیاں دے گا اس کو
    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    ڈھونڈئیے خیر سے جا کر کوئی موٹی سسرال
    ہاتھ جو مفت میں آئے تو وہ مال اچھا ہے
    بین ہی بین گزرتے رہو اس وادی سے
    نہ حرام اچھا ہے بالکل نہ حلال اچھا ہے
    ایک ہم تھے جو سیاست میں کما پائے نہ کچھ
    ورنہ ماضی کے فقیروں کا بھی حال اچھا ہے
    جتنے ہیں دہر میں ہاتھوں کی صفائی کے کمال
    سب سے اے دوست گرہ کٹ کا کمال اچھا ہے
    جس کی بچپن ہی میں شادی ہو وہ کیا جانے غریب
    عشق میں ہجر ہے بہتر کہ وصال اچھا ہے
    اور تو کچھ بھی نہیں حضرت ماچسؔ لیکن
    آپ میں آگ لگانے کا کمال اچھا ہے

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    شیخ آئے جو محشر میں تو اعمال ندارد
    جس مال کے تاجر تھے وہی مال ندارد
    کچھ ہوتا رہے گا یوں ہی ہر سال ندارد
    تبت کبھی غائب کبھی نیپال ندارد
    رومال جو ملتے تھے تو تھی رال ندارد
    اب رال ٹپکتی ہے تو رومال ندارد
    تحقیق کیا ان کا جو شجرہ تو یہ پایا
    کچھ یوں ہی سی ننھیال ہے ددھیال ندارد
    ہے اس بت کافر کا شباب اپنا بڑھاپا
    ماضی ہے ادھر گول ادھر حال ندارد
    تعداد میں ہیں عورتیں مردوں سے زیادہ
    قوالیاں موجود ہیں قوال ندارد
    بیوی کی بھی جوتی کے تلے ہو گئے غائب
    شوہر کے اگر سر سے ہوئے بال ندارد

    ہزل
    ۔۔۔۔۔
    آنکھیں نکل آئی ہیں مری سانس رکی ہے
    جلد آ کہ تری یاد گلا گھونٹ رہی ہے

    دعوت کی تری بزم میں کیوں دھوم مچی ہے
    کیا بات ہے کیا کوئی نئی جیب کٹی ہے
    واعظ کو جو دیکھو تو گھٹا ٹوپ اندھیرا
    ساقی کو جو دیکھو تو کرن پھوٹ رہی ہے
    کیا ہے جو نہیں یہ اثر ربط محبت
    روئے تو ہیں وہ اور مری آواز پڑی ہے
    سائے کی تمنا میں جہاں بیٹھ گیا ہوں
    چندیا پہ وہیں تاک کے دیوار گری ہے
    چھوٹے نہیں چھٹتی ہے ترے وصل کی حسرت
    یہ جونک مرے دل کا لہو چوس رہی ہے
    وہ ان کا زمانہ تھا جہاں عقل بڑی تھی
    یہ میرا زمانہ ہے یہاں بھینس بڑی ہے
    پھر کیا ہے جو ماچسؔ نہیں یہ سوز محبت
    اک برق سی رگ رگ میں مرے کوند رہی ہے

  • نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک  یادگار نشست کا احوال

    نواب اکبر خان بگٹی کے ساتھ ایک یادگار نشست کا احوال

    آغا نیاز مگسی

    ڈیرہ بگٹی بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پاکستان کی منفرد شخصیت کے مالک ، بلوچستان کے سابق گورنر ، سابق وزیر اعلیٰ سابق وفاقی وزیر اور بگٹی قبیلے کے سربراہ نواب محمد اکبر خان بگٹی 12 جولائی 1927 میں بارکھان بلوچستان میں اپنے ننھیال کھیتران قبیلہ کے گھر میں پیدا ہوئے اور26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں ایک سانحے کا شکار ہو کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی یہ پراسرار موت بھی بہت سی دیگر نامور شخصیات کی طرح آج تک ایک معمہ بنی ہوئی ہے۔ مجھے ان کی نمازہ جنازہ کا منظر دیکھنے اور رپورٹنگ کرنے کا اعزاز حاصل رہا ہے جس میں اندرون بلوچستان سے شریک ہونے والا میں واحد صحافی تھا بلکہ مجھے یہ اعزاز بھی حاصل رہا ہے کہ پرنٹ میڈیا میں ان کا صحیح موقف پیش کرنے کا اعتماد حاصل کرنے کے باعث تقریباً 9 سال تک ٹیلی فون پر ان کی خبریں میں پیش کرتا رہا ۔ یہی وجہ تھی کہ کوئٹہ کے بہت سے نامور صحافی کسی موضوع یا کسی اہم مسئلے پر ان کا موقف جاننے کیلئے مجھ سے رابطہ کر کے نواب صاحب کا موقف معلوم کرتے تھے اور اسی تعلق اور اعتماد کے تناظر میں 2005 میں نصیر آباد اور جعفر آباد کے سینیئر صحافی دوستوں عبدالستار ترین ، دھنی بخش مگسی ، شیخ عبدالرزاق اور محمد وارث دیناری نے مجھے حکم دیا کہ میں نواب صاحب سے رابطہ کر کے ان سے ملاقات کیلئے وقت لے لوں ۔ میں نے نواب صاحب سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا جنہوں نے از راہ شفقت فرمایا کہ آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنے صحافی دوستوں کو میرے پاس لے آئیں ۔ میں نے دوستوں سے رابطہ کر کے نواب صاحب کو اپنے پروگرام سے آگاہ کیا جس کے بعد انہوں نے ڈیرہ الله یار کے اپنے قبیلے کے ایک بااعتماد نوجوان دریحان بگٹی کو مجھ سے رابطہ کرنے کیلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ ہم لوگ 12 دسمبر 2005 کو ڈیرہ الله یار سے ڈیرہ بگٹی کیلئے روانہ ہوئے ۔ راستے میں ایک پولیس تھانہ کے ایس ایچ او نے عبدالستار ترین کو زبردستی دو پہر کو کھانا کھلانے کیلئے روکا جس کی وجہ سے ہمیں کافی تاخیر ہو گئی۔ جب ہم ڈیرہ بگٹی شہر میں داخل ہوئے تو ایک دو جگہ پر ہم کسی ضرورت کے تحت گاڑی سے نیچے اترے تو لوگ ہمیں کہتے کہ آپ نواب صاحب کے مہمان ہیں ؟ ہم نے حیرت سے اثبات میں جواب دیا تو وہ بولے کہ نواب صاحب بہت دیر تک اپنی ” کچہری ” یعنی محفل میں آپ لوگوں کا انتظار کرتے رہے ۔ ہم پہلے نواب صاحب کے مہمان خانے گئے جہاں ہمارے لئے کھانے کا انتظام کیا گیا تھا ۔ کھانا کھانے کے بعد وہاں سے ہمیں ان کی خلوت گاہ پہنچا دیا گیا ۔

    ہم جیسے ہی ان کی آرام گاہ میں داخل ہوئے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ میں تو اس انتظار میں تھا کہ بی بی سی ریڈیو سے کب خبر چلتی ہے کہ نواب اکبر بگٹی سے ملاقات کیلئے ڈیرہ بگٹی جانے والے نصیر آباد اور جعفر آباد کے صحافی اغوا کر لیے گئے ہیں ۔ ان سے ملاقات میں ، میں نے اپنے صحافی دوستوں کا ان کے شہر اور صحافتی ادارے کے ساتھ وابستگی کے حوالے سے تعارف کرایا جس کے بعد انہوں نے بلوچی رسم کے مطابق ہم سے بلوچی ” حال” لینا چاہا چناں چہ میں نے انہیں ” حال ” دیا اور ان سے ” حال” لیا جس کے بعد ان سے باقاعدہ انٹرویو / گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا ۔ میرے دوستوں نے ان سے حالات حاضرہ کے مطابق سیاسی سوالات کئے جبکہ میں نے ان سے ذاتی نوعیت کے غیر سیاسی سوالات کئے جن میں ان کے رومان، مذہبی و فکری رجحان ، پسندیدہ شخصیات ، سیر وسیاحت اور خود کو ڈیرہ بگٹی تک محدود رکھنے کے متعلق سوالات شامل تھے جن کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ انہوں نے جوانی میں عشق بھی کیا، دنیا کے کئی ممالک کا مطالعاتی دورہ بھی کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی سال سے ڈیرہ بگٹی سے باہر نہ جانے کی وجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتوں کی نظریں ڈیرہ بگٹی پر مرکوز ہیں اس لئے میں ڈیرہ بگٹی سے باہر نہیں نکلتا جبکہ 18 سال سے گوشت نہ کھانے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ مذہبی لحاظ سے بدھ مت کے بانی گوتم بدھ کی شخصیت سے متاثر ہیں اس لئے ان کی تقلید کرتے ہوئے انہوں نے گوشت کھانا ہمیشہ کیلئے ترک کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی پسندیدہ شخصیات میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ہٹلر کا نام لیا۔ دسمبر کی یخ بستہ رات میں ان کے ساتھ ہونے والی ہماری نشست رات 9 بجے سے صبح 3 بجے تک یعنی 6 گھنٹوں پر محیط تھی ۔ اس گفتگو کے دوران ایک بار ہمارے ایک دوست نے ان سے یہ سوال کیا کہ نواب صاحب آپ کبھی حج یا عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کیلئے سعودیہ بھی گئے یا نہیں تو اس کے جواب میں خلاف توقع نواب صاحب نے ہمارے صحافی دوست سے تلخ لہجے میں سوال کیا کہ ابھی جو مگسی صاحب (میری جانب اشارہ) نے میرے بیرونی ممالک کے دوروں کی فہرست میں جن ممالک کے نام لکھے ہیں تو کیا ان میں سعودی عرب کا نام شامل ہے ؟ اس غیر متوقع سوال اور جواب سے محفل کا ماحول یکسر تبدیل ہو گیا لیکن تقریباً نصف گھنٹے سکوت اور خاموشی کے بعد پھر سے محفل خوشگوار ہو گئی۔ اس طویل اور یادگار نشست کا اختام خود نواب اکبر خان بگٹی نے یہ کہہ کر ، کر دیا کہ اب آپ لوگوں پر نیند کا غلبہ طاری ہو رہا ہے اس لئے جا کر آرام کریں اس طرح ان کے ساتھ ہونے والی یادگار نشست اختتام پذیر ہو گئی جس کی یادیں ابھی تک ہمارے ذہنوں میں محفوظ ہیں ۔

    نوٹ : 2018 سے میں نے بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں صحافت کے شعبے سے قطع تعلق کر لیا ہے جس کے بعد میرا کسی بھی صحافتی ادارے سے تعلق نہیں ہے ۔ (آغا نیاز مگسی )

  • اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے

    اور فرازؔ چاہئیں کتنی محبتیں تجھے
    ماؤں نے تیرے نام پر بچوں کا نام رکھ دیا

    احمد فراز

    یوم پیدائش : 12 جنوری 1931
    یوم وفات : 25 اگست 2008
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رومان کی علامت اور مزاحمت کا استعارہ سمجھے جانے والے سید احمد شاہ علی المعروف احمد فراز 12 جنوری 1931ء میں کوہاٹ خیبر پختونخواہ میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ہندکو ، سید خاندان سے تھا۔ ان کی مادری زبان ہندکو اور پشتو تھی مگر انہوں نے اردو کو اپنے جذبات کے اظہار کا ذریعہ بنایا۔ وہ شاعر ابن شاعر تھے۔ شاعری انہیں اپنے والد سے وراثت میں ملی اُن کے والد سید محمد شاہ برق فارسی کے مشہور شاعر تھے۔ وہ پہلے احمد شاہ کوہاٹی کے نام سے مشہور تھے مگر فیض احمد فیض کے مشورے سے انہوں نے اپنا نام احمد فراز رکھ دیا۔ طالبعلمی کے دوران ہی ان کا پہلا شعری مجموعہ ” تنہا تنہا” شائع ہوا۔ وہ اس دوران ریڈیو پاکستان سے بھی منسلک تھے مگر تعلیم کی تکمیل کے بعد محکمہ تعلیم میں لیکچرر تعینات ہو گئے ۔ 1976 میں احمد فراز کو ” اکادمی ادبیات پاکستان ” کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا لیکن 1977 میں جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کی مخالفت کی بناء پر انہیں کچھ عرصہ جلاوطن ہونا پڑا۔ حالات سازگار ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ” لوک ورثہ” اور ” نیشنل بک فائونڈیشن” کے سربراہ مقرر ہوئے ۔

    احمد فراز بیک وقت رومان کی علامتوں سے لے کر، مزاحمت کے استعاروں تک، ہجر کے مراحل سے وطن پرستی کی فکری اساس تک کی معنویت کے شاعر تھے، اُنہیں حروف اور موضوعات کی کوئی قلت نہ تھی، وہ اپنی شعری روایت اور تاثیر میں اپنی مثال آپ تھے۔
    فراز کی شاعری میں سچائی، غزل کی نغمگی، کیفیات و جذبات و وجدان کا کھرا پن ، ندرتِ خیال،دل موہ لینے والی رومانوی و خواب آور کسک، گمان کے ہلکورے لیتے کٹورے، یقین کے ہمالے اور تصنّوع کی آلائشوں سے پاک جذبات کا اظہار ملتا ہے۔

    فراز کا یہی وہ شاعرانہ امتیاز ہے جس کی بدولت وہ نہ صر ف اس دور میں بلکہ آنے والے تمام ادوار میں بھی یا د کیے جائیں گے اور ان کا نام تاریخ کے باب میں ہمیشہ جلی اور روشن رہے گا۔ فراز کے ایک درجن سے زائد شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ، تنہا تہنا، جاناں جاناں اور فرقت شب و دیگر شامل ہیں ۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی
    میرا قلم عدالت میرے ضمیر کی ہے

    اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا
    جبھی تو لوچ کماں کا زباں تیر کی ہے

    دور ہے تو، تو تری آج پرستش کر لیں
    ہم جسے چھو نہ سکیں، اس کو خدا کہتے ہیں

    کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل
    کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

    سلسلے توڑ گیا، وہ سبھی جاتے جاتے
    ورنہ اتنے تو مراسم تھے، کہ آتے جاتے

    اب کے تجدیدِ وفا کا نہیں امکاں جاناں
    یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

    گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
    مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

    اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں
    جس طرح سوکھے ہوئے پھول کتابوں میں ملیں

    تجھ سے بچھڑ کے ہم بھی مقدر کے ہو گئے
    پھر جو بھی در ملا ہے اسی در کے ہو گئے

    جس سمت بھی دیکھوں نظر آتا ہے کہ تم ہو
    اے جانِ جہاں یہ کوئی تم سا ہے کہ تم ہو

    سراپا عشق ہوں میں اب بکھر جاؤں تو بہتر ہے
    جدھر جاتے ہیں یہ بادل ادھر جاؤں تو بہتر ہے

  • غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا

    شاہد نور کو 24 اگست 1980ء کو سیوان (بہار) میں پیدا ہوئے ان کی والدہ کا نام آسیہ خاتون،والد کا نام مشتاق احمد ہے بی کام (آنرس) کیا اور چیرمین نور آٹوپروفائل گروپ، مینیجنگ ڈائرکٹر ایم جی کنسٹرکشن اورسٹی ڈیولپر گروپ کے نام سے کاروبار شروع کیا تصانیف:میٹھا نیم-2012ء (شعری مجموعہ)

    ایواردڈ و اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)توفیق فاروقی ایوارڈ
    ۔ منجانب ادارہ خاتونِ مشرق، دہلی
    ۔ (2)کامنا کلا سنگم ایوارڈ

    غزل
    ۔۔۔۔
    مجھے آنکھوں نے جل تھل کردیا ہے
    مری مٹی کو دلدل کردیا ہے
    مرے خوابوں کو آنکھوں میں سجاکر
    کسی لڑکی نے کاجل کردیا ہے
    میں اپنی ذات میں اک گلستاں تھا
    تری فرقت نے جنگل کردیا ہے
    کئی دریائوں نے آپس میں مل کر
    سمندر کو مکمل کردیا ہے
    مری بچی کی ننھی سے ہنسی نے
    مرے آنسو کو صندل کردیا ہے
    وہ جب گمنام تھا اچھا بھلا تھا
    اُسے شہرت نے پاگل کردیا ہے
    فرائض کے تقاضوں نے ہی شاہد
    مرے چھالوں کو مخمل کردیا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    لہولہان جب اک شیر جھاڑ سے نکلا
    ہرن کا درد بھی اُس کی دہاڑ سے نکلا
    سنا تھا جھیل کے اُس پار بھوت رہتے ہیں
    مگر ڈکیت کا کنبہ پہاڑ سے نکلا
    اندھیری رات میں اک اجنبی نے دستک دی
    تو چاند اوڑھ کے آنچل ، کواڑ سے نکلا
    سکھا گیا ہے زمانے کا دائو پیچ مجھے
    وہ ایک سانپ جو ہاتھوں کی آڑ سے نکلا
    مرا حسین سا بچپن وہ گائوں کا البم
    کٹورے میں رکھا چاول کے ماڑ سے نکلا
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے
    جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    زمین پھٹ گئی خود اپنے کرب سے شاہد
    پھر اُس کی آہ کا شعلہ دراڑ سے نکلا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    تو جو ہر بات پہ کہتا ہے ترا سب کچھ ہے
    تجھ کو معلوم نہیں ہے کہ خدا سب کچھ ہے
    اس کی آنکھوں کی یہ تعریف مکمل ہوگی
    اس کی آنکھوں میں محبت کے سوا سب کچھ ہے
    اس کے بارے میں غلط بات نہیں سن سکتا
    تم کو معلوم ہے وہ شخص مرا سب کچھ ہے
    کچھ بھی کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی اس کی
    میرے محبوب کے چہرے پہ لکھا سب کچھ ہے

    غزل
    ۔۔۔۔
    ہمارے دل سے یہی اک کسک نہیں جاتی
    تم اتنا کام جو کرتی ہو تھک نہیں جاتی
    تم ہی بتاؤ کہ اب کیا بتاؤں دنیا کو
    مرے بدن سے تمھاری مہک نہیں جاتی
    میں حادثے میں کسی طور بچ گیا ہوں مگر
    مرے دماغ سے اس کی دھمک نہیں جاتی
    جسے وہ دیکھ لے وہ پھول کھلنے لگتا ہے
    جسے وہ چوم لے اس کی چمک نہیں جاتی
    عجیب آپ کی بھی قوتِ سماعت ہے
    ہماری بات کبھی آپ تک نہیں جاتی