Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    قمیض تیڈی کالی سھنی پھلیں والی

    عطاء الله خان نیازی عیسیٰ خیلوی

    تاریخ پیدائش : 19 اگست 1951

    مزدوری، بیرا گیری اور ٹرک کلینری سے گلوگار بننے تک

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہونے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ گلوکار عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی 19 اگست 1951 میں ضلع میانوالی کے قصبہ عیسیٰ خیل کے محلہ بھنبھراں کے ایک متوسط طبقہ کے خاندان احمد خان نیازی کے گھر میں پیدا ہوئے۔ نیازی پٹھان قوم کا ایک مشہور قبیلہ ہے لیکن یہ لوگ پشتو زبان کی بجائے سرائیکی زبان بولتے ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کی دو بہن اور دو بھائی ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی کا نام ثناء الله خان ہے ان کی بڑی بہن فوت ہو چکی ہیں چھوٹی بہن گورنمنٹ اسکول ٹیچر ہیں ۔ عطاء الله نے بی اے تک تعلیم حاصل کی ہے ۔ انہیں بچپن سے ہی گانے بجانے سے دلچسپی تھی یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے والد کے ساتھ کاروبار میں ہاتھ بٹانے کی بجائے موسیقی سے اپنے شوق کا اظہار کرتے ہوئے گانا سیکھنے کی اجازت مانگی مگر ان کے والد صاحب نے سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گانا بجانا میراثیوں یعنی ڈھول بجانے والوں کا کام ہے ۔ ان کے والد ان کو اعلیٰ تعلیم دلا کر آفیسر بنانے کے خواہش مند تھے مگر عطاء الله 1975 میں گھر سے نکل کر کراچی پہنچ گئے ۔ یہاں 10 روپے ماہانہ کرایہ کے ایک کمرے میں رہائش اختیار کی ۔ دن کو مزدوری کرتے تھے اور رات کو گانا سیکھنے کی کوش کوشش کرتے تھے ۔ 2 سال بعد اپنی بڑی بہن کی وفات کی اطلاع ملنے پر اپنے گاؤں گئے ۔ چند روز رہنے کے بعد والد سے دوبارہ گانا گانے کی اجازت مانگی مگر اب بھی والد نہیں مانے عطاء الله کی ضد دیکھ کر انہوں نے کہا کہ اگر تم گانا ہی چاہتے ہو تو اس گھر میں تمھارے لیے گنجائش نہیں ہے اور گلوکار بننے کی صورت میں اپنا قبیلہ نیازی ظاہر نہیں کرنا جس کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور یہاں وہ دن کو ہوٹلوں میں بیراگیری کرتے اور رات کو موسیقی کی تربیت حاصل کرنے لگے۔ کچھ عرصہ ٹرک کے کلینر بنے اور کچھ عرصہ کرایہ کا رکشہ چلانے لگے۔

    1978 میں عطاء الله کو ریڈیو پاکستان بہاولپور میں گانے کا موقع مل گیا جس کا معاوضہ انہیں 25 روپے کے چیک کی صورت میں دیا گیا۔ 1979 میں ان کے مقدر کا ستارہ چمک اٹھا جب فیصل آباد کے ایک رہائشی چوہدری رحمت علی نے عطاء الله کا اپنے خرچے پر آڈیو کیسٹ کا البم ریکارڈ کروایا جس کی پہلی غزل نے ہی دھوم مچا دی جس کے بول تھے

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
    ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    اس البم میں عطاء اللہ خان نے اپنے والد کے حکم کے مطابق اپنے نام کے ساتھ نیازی نہیں لکھا بلکہ اپنے قبیلے کی بجائے اپنے گاؤں کی نسبت سے عیسیٰ خیلوی لکھوایا اور یہیں سے وہ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے نام سے مشہور ہوئے۔ عطاء الله خان کی شہرت اور مقبولیت میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا یہاں تک وہ بین الاقوامی سطح پر مشہور ہو گئے۔ وہ اردو، سرائیکی، سندھی ، پنجابی سمیت متعدد زبانوں میں گاتے ہیں لیکن ان کی اصل شہرت اردو اور سرائیکی زبان کی گائیکی میں ہے وہ اب تک 100 سے زائد ممالک میں اپنے فن کا مظاہرہ کر چکے ہیں ۔ 1992 میں لندن میں ملکہ برطانیہ نے ان کو لائف اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں تمغہ حسن کارکردگی سے نوازا گیا جبکہ 1994 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آڈیو کیسٹ البم ریکارڈ کرانے پر ان کا نام گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل کیا گیا ۔ عطاء الله خان نے یکے بعد دیگر 5 شادیاں کیں جن میں سے انہوں نے 3 بیویوں کو طلاق دے دی ہے اور 2 بیویاں ان کے عقد میں ہیں جن میں ایک معروف فلمی اداکارہ بازغہ اور ایک بیوی تونسہ شریف کے ایک اعلیٰ طبقے کے خاندان سے ہے۔ بازغہ اپنے بچوں سمیت انگلینڈ میں مقیم ہے جبکہ عطاء الله خان اپنی دوسری بیوی کے ساتھ لاہور میں مقیم ہیں ۔ ان کے چھوٹے بھائی ثناء اللہ خان نیازی راولپنڈی میں مقیم ہیں ۔ عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے چار بچوں میں دو بیٹے سانول، بلاول اور دو بیٹیاں لاریب اور فاطمہ ہیں ۔ لاریب ایک بہت بڑی اداکارہ بن چکی ہے جس نے ہالی ووڈ کی فلموں میں بھی اداکاری کی ہے ۔ سانول خان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فن گائیکی کو اپنا لیا ہے ۔ عطاء الله خان نے کچھ عرصہ فلموں میں اداکاری بھی کی مگر وہ اس شعبے میں کامیابی حاصل نہ کر سکے جس کے بعد انہوں نے اپنی تمام تر توجہ موسیقی پر دے دی۔ انہوں نے کچھ عرصہ سیاست میں بھی گزارا پہلے پاکستان پیپلز پارٹی میں اور اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف میں ۔ پی ٹی آئی میں انہوں نے عمران خان نیازی کے بارے میں یہ گیت گایا

    آئے گا عمران ہے سب کی جان
    بنے گا نیا پاکستان

    اس گیت کی وجہ سے عمران خان اور پی ٹی آئی کی مقبولیت میں بڑا اضافہ ہوا لیکن پی پی پی کی طرح وہ پی ٹی آئی سے بھی مایوس ہو کر سیاست سے الگ ہو گئے لیکن پی ٹی آئی کے کارکنوں کے لہو کو گرمانے کے لیے ان کا گایا ہوا یہ گیت اب بھی اسی طرح مقبول ہے ۔

    عطاء الله خان عیسیٰ خیلوی کے گائے ہوئے ہزاروں گیت، غزلوں اور گانوں سے چند گیت اور غزلوں کے بول قارئین کی نذر

    ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی

    قمیض تیڈی کالی تے سہنی پھلیں والی

    عشق میں ہم تمہیں کیا بتائیں کس قدر چوٹ کھائے ہیں

    انج پنڈی تے پشور لگا جاندا عیسیٰ خیل دور تے نئیں سجناں

    ایہہ تھیوا مندری دا تھیوا

    چن کتھاں گزاری ہے رات وے

    بے وفا یوں تیرا مسکرانا بھول جانے قابل نہیں ہے

    ہمیں چھوڑ دیاکس دیس گئے پیا لوٹ کے آنا بھول گئے

    نکی دی گل توں رسدائیں ڈھولا تیڈی کمال اے

    دونوں کو آ سکی نہ نبھانی محبتیں
    اب پڑ رہی ہیں ہم کو بھلانی محبتیں

  • لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا

    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسپ سے اک موڑ پر

    گلزار (سمپورن سنگھ کالرا)

    تاریخ پیدائش : 18 اگست 1936
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد سے لگ بھگ100 کلو میٹر کے فاصلے پر، جی ٹی روڈ کے کنارے ضلع جہلم کا تاریخی قصبہ دینہ ضلع جہلم میں پیدا ہونے والے گلزارؔ بھارت کے مشہور گیت کار بھی ہیں۔ مشہور اداکارہ راکھی کے شوہر نامدار ہیں اورایک بیٹی میگھنا گلزار کے باپ ہیں۔ ریشم کا یہ شاعر آج بھی اپنی جنم بھومی سے اتنی ہی محبت کرتا ہے، جیسے آج سے پون صدی پہلے کرتا تھا:

    ذکر جہلم کا ہے، بات دینے کی
    چاند پکھراج کا، رات پشمینے کی
    کیسے اوڑھے گی اُدھڑی ہوئی چاندی
    رات کوشش میں ہے چاند کو سِینے کی

    گلزارؔ 18اگست 1936 ء کو دینہ شہر سے قریباً تین کلومیٹر دوری پر واقع ایک گاؤں کُرلہ میں پیدا ہوئے۔ بعد میں ان کے والد مکھن سنگھ نے دینہ کے مرکزی بازار میں مکان لیا، دکان خریدی اور اپنے خاندان کے ساتھ یہاں منتقل ہو گئے۔ گلزارؔ نے بچپن کا زیادہ وقت دینہ کے اسی گھر میں گزارا تھا۔ یہ گھر اور اس کے آس پاس کی دکانیں آج بھی موجود ہیں، جس جگہ یہ گھر ہے اسے پرانا ڈاک خانہ چوک کہا جاتا تھا،لیکن اب اس کا نام پاکستانی چوک ہے۔ جب گلزار تقسیم کے بعد پہلی بار یہاں آئے، تو اپنے گھر کو دیکھ کر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔
    گلزارؔ کا آبائی گھر اب ایک شیخ خاندان کے پاس ہے۔ اس خاندان کے لوگوں کا کہنا ہے کہ تقسیم سے پہلے وہ کالڑہ خاندان کے کرایہ دار تھے۔ بعد میں یہ گھر انہیں الاٹ کر دیا گیا۔شیخ خاندان کے ایک بزرگ شیخ عبدالقیوم ایڈووکیٹ گلزار کے ہم عمر ہیں۔ وہ گلزارؔ کے پچپن کے ساتھی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے اور ہم دونوں ایک ہی سکول میں پڑھتے تھے۔ شیخ عبدالقیوم کا کہنا ہے کہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے، تو میں نے ان سے کہا تھا کہ کیا ہم اس گلی کا نام ’’گلزارؔ سٹریٹ‘‘ رکھ دیں، تو گلزارؔ کا کہنا تھا کہ یہ بہت خوشی کی بات ہوگی۔

    شیخ عبدالقیوم کے مطابق یہ گلی پچھلے 70 سال سے اسی حالت میں ہے جب کہ کالرہ خاندان کے گھر کا ایک حصہ اب تک اپنی اصل حالت میں ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ یہیں پر گلزارؔ کے والد مکھن سنگھ کی کپڑے کی دکان ہوا کرتی تھی۔گلزارؔ کا یہ گھر قریباً چار فٹ چوڑی گلی میں واقع ہے اور گھر کا پرانا حصہ ٹوٹ پھوٹ رہا ہے۔ ان کے گھر کے دوسرے حصے میں نئی عمارت تعمیر کر دی گئی ہے۔ دینہ کے مقامی لوگوں کا کہنا تھاکہ جب گلزارؔ یہاں آئے تھے ،تو کچھ دوستوں نے یہ مشورہ دیا تھا کہ اس گھر کو خرید کر یہاں لائبریری بنا دی جائے، لیکن بعد میں اس بارے میں کچھ نہ ہو سکا، لیکن گلزار ؔکے دینہ آنے کے بعد اب اس گلی کو گلزار سٹریٹ کے نام سے ہی پکارا جاتا ہے۔وہ سکول جہاں گلزارؔ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی تھی، گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ کے میاں محلے میں واقع ہے۔ سکول کا وہ حصہ جہاں گلزارؔ کا کلاس روم تھا، اب موجود نہیں ، تاہم اس سکول کے ایک بلاک کا نام ’گلزارؔ کالرہ بلاک‘ رکھ دیا گیا ہے۔ گورنمنٹ ہائی سکول، دینہ 1921ء میں پرائمری سکول کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔ 1941ء میں اسے مڈل کا درجہ دیا گیا اور اسی دور میں گلزارؔ نے یہاں تعلیم حاصل کی تھی۔ 1989 ء میں اسے ہائی سکول بنا دیا گیا۔

    شیخ عبدالقیوم بتاتے ہیں جب گلزار ؔکچھ دوستوں کے ساتھ سکول کی طرف جا رہے تھے، تو ان میں بہت جوش دکھائی دے رہا تھا، وہ سب سے آگے آگے تھے۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کوئی بچہ خوشی خوشی سکول جا رہا ہو۔اُن کا کہنا تھا کہ میں نے گلزارؔ سے کہا کہ آپ کوئی چیز ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ گلزار نے پوچھا ؛وہ کیا؟‘۔۔۔ تو میں نے جواب دیا ؛ بستہ، جس پر وہ مسکرا دئیے۔

    گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں اب بہت سے لوگ جانتے ہیں اور یہ بھی کہ دینہ اور ضلع جہلم کی ادبی روایات بہت قدیم ہیں۔جہلم کی ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے دینہ کے شاعر شہزاد قمر نے بتایا کہ اس خطے نے بہت سے باکمال لکھنے والے پیدا کیے ہیں۔ یہاں کے لکھنے والوں کی خاص بات، ان کی مزاحمتی سوچ ہے۔انقلابی شاعر اور مزدور رہنما درشن سنگھ آوارہ سے لے کر موجودہ دور میں تنویرسپرا، اقبال کوثر اور دوسرے لکھنے والوں کا انداز مزاحمتی رہا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ ظلم کے خلاف آواز بلند کی ہے۔ آج بھی دینہ کے بہت سے شاعروں اور ادیبوں کا انداز مزاحمتی پہچان رکھتا ہے۔ دینہ کے ایک اور بزرگ شاعر صدیق سورج سے جب پوچھا گیا کہ دینہ کے لوگ گلزار کو کتنا جانتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ گلزار کے بارے میں تو سبھی جانتے تھے، لیکن گلزار اور دینہ کے تعلق کے بارے میں زیادہ لوگوں کو گلزار کے یہاں آنے کے بعد ہی علم ہوا۔دینہ میں گلزارؔ کے نام سے گلی اور سکول کے ایک بلاک کا نام گلزارؔ پر رکھنا دینہ کے لوگوں کے دلوں میں گلزار ؔکے لیے محبت کا اظہار ہے اور وہ کہتے ہیں کہ انہیں گلزارؔ کے دوبارہ یہاں آنے کا انتظار ہے: دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے –

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    منتخب کلام

    غالب

    بلی ماراں کے محلے کی وہ پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں
    سامنے ٹال کی نُکڑ پہ بٹیروں کے قصیدے
    چند دروازوں پہ لٹکے ہوئے بوسیدہ سے کچھ ٹاٹ کے پردے
    اور دُھندلائی ہوئی شام کے بےنُور اندھیرے سائے
    ایسے دیواروں سے منہ جوڑ کے چلتے ہیں یہاں
    چُوڑی والان کے کٹرے کی بڑی بی جیسے
    اپنی بُجھتی ہوئی آنکھوں سے دروازے ٹٹولے
    اِسی بےنُور اندھیری سی ” گلی قاسم ” سے
    ایک ترتیب چراغوں کی شُروع ہوتی ہے
    ایک قرآنِ سخن کا بھی ورق کُھلتا ہے
    اسد اللہ خاں غالِب کا پتہ ملتا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "دِل ڈھونڈتا ہے”

    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن
    جاڑوں کی نرم دھوپ اور آنگن میں لیٹ کر
    آنکھوں پہ کھینچ کر ترے آنچل کے سائے کو
    اوندھے پڑے رہیں، کبھی کروٹ لئے ہوئے
    یا گرمیوں کی رات کو پُروائی جب چلے
    بستر پہ لیٹے دیر تلک جاگتے رہیں
    تاروں کو دیکھتے رہیں چھت پر پڑے ہوئے
    برفیلے موسموں کی کسی سرد رات میں
    جا کر اسی پہاڑ کے پہلو میں بیٹھ کر
    وادی میں گونجتی ہوئی خاموشیاں سنیں
    دِل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فُرصت کے رات دن

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ بولوں میں تو کلیجہ پھونکے
    جو بول دوں تو زباں جلے ھے
    سلگ نہ جاوے اگر سنے وہ
    جو بات میری زباں تلے ھے

    لگے تو پھر یوں ، کہ روگ لاگے
    نہ سانس آوے نہ سانس جاوے
    یہ عشق ھے نامراد ایسا
    کہ جان لیوے تبھی ٹلے ھے۔

    ھماری حالت پہ کتنا رووے
    آسماں بھی تُو دیکھ لینا
    کہ سرخ ھو جاویں گی اُس کی آنکھیں
    جیسے جیسے , یہ دن ڈھلے ھے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "سکیچ”
    یاد ہے اِک دن
    میرے میز پہ بیٹھے بیٹھے
    سگریٹ کی ڈبیہ پر تم نے
    چھوٹے سے اِک پودے کا
    ایک سکیچ بنایا تھا
    آ کر دیکھو
    اس پودے پر پھول آیا ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "اِک نظم”
    یہ راہ بہت آسان نہیں
    جس راہ پہ ہاتھ چھڑا کر تم
    یوں تن تنہا چل نکلی ہو!
    اس خوف سے شاید، راہ بھٹک جاؤ نہ کہیں
    ہو موڑ پہ میں نے نظم کھڑی کر رکھی ہے !
    تھک جاؤ اگر
    اور تم کو ضرورت پڑ جائے
    اک نظم کی اُنگلی تھام کے واپس آ جانا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    "رُخصت”
    جیسے جھنّا کے چٹخ جائے کسی ساز کا تار
    جیسے ریشم کی کسی ڈور سے انگلی کٹ جائے
    ایسے اِک ضرب سی پڑتی ہے کہیں سینے میں
    کھینچ کر توڑنی پڑ جاتی ہے جب تجھ سے نظر
    تیرے جانے کی گھڑی ، سخت گھڑی ہے جاناں !

    گلزار صاحب کےالفاظ میں تروینی کا تعارف حاضر ہے۔

    "تروینی نہ تو مثلث ہے، نہ ہائیکو، نہ تین مصرعوں میں کہی ایک نظم۔ ان تینوں ‘ فارمز’ میں ایک خیال اور ایک امیج کا تسلسل ملتا ہے۔ لیکن ‘تروینی’ کا فرق اس کے مزاج کا فرق ہے۔ تیسرا مصرعہ پہلے دو مصرعوں کے مفہوم کو کبھی نکھار دیتا ہے، کبھی اضافہ کرتا ہے، یا کبھی ان پر کمینٹ کرتا ہے۔ ‘ تروینی’ نام اس لیے دیا گیا تھا کہ سنگم پر تین ندیاں ملتی ہیں۔ گنگا، جمنا اور سرسوتی۔گنگا اور جمنا کے دھارے سطح پر نظر آتے ہیں ، لیکن سرسوتی جو ٹیکسیلا سے بہہ کر آتی تھی، وہ زمین دور ہو چکی ہے ۔ تروینی کے تیسرے مصرعے کا کام سرسوتی دکھانا ہے جو پہلے دو مصرعوں سے چھپی ہوئی ہے۔”

    **************
    وہ میرے ساتھ ہی تھا دور تک ، مگر اک دن
    جو مڑ کر دیکھا تو وہ دوست میرے ساتھ نہ تھا

    پھٹی ہو جیب تو کچھ سکّے کھو بھی جاتے ہیں
    *************
    کچھ مرے یار تھے رہتے مرے ساتھ ہمیشہ
    کوئی آیا تھا، انھیں لے کے گیا، پھر نہیں لوٹے

    شیلف سے نکلی کتابوں کی جگہ خالی پڑی ہے
    *************
    وہ جس سے سانس کا رشتہ بندھا ہوا تھا مرا
    دبا کے دانت تلے، سانس کاٹ دی اس نے

    کسی پتنگ کا مانجا، محلّے بھر میں لٹا!
    *************
    کوئی صورت بھی مجھے پوری نظر آتی نہیں
    آنکھ کے شیشے مرے چٹخے ہوئے ہیں کب سے

    ٹکروں ٹکروں میں سبھی لوگ ملے مجھ سے
    *************
    تیری صورت جو بھری رہتی ہے آنکھوں میں سدا
    اجنبی لوگ بھی پہچانے سے لگتے ہیں مجھے

    تیرے رشتے میں تو دنیا ہی پرولی میں نے!
    ************
    اک اک یاد اٹھاؤ اور پلکوں سے پونچھ کے واپس رکھ دو
    اشک نہیں یہ آنکھ میں رکھے ، قیمتی قیمتی شیشے ہیں!

    طاق سے گر کے قیمتی چیزیں ٹوٹ بھی جایا کرتی ہیں
    *************
    آؤ سارے پہن لیں آئینے
    سارے دیکھیں گے اپنا ہی چہرہ

    سب کو سارے حسیں لگیں گے یہاں
    ************
    عجیب کپڑا دیا ہے مجھے سلانے کو
    کہ طول کھینچوں اگر،ارض چُھوٹ جاتا ہے

    اُدھرنے سینے ہی میں عمر کٹ گئی ساری
    *************
    جس سے بھی پوچھا ٹھکانہ اس کا
    اک پتہ اور بتا جاتا ہے

    یا وہ بے گھر ہے، یا ہرجائی ہے
    *************
    زمین گھومتی ہے گِرد آفتاب کے
    زمیں کےگِرد گھومتا ہے چاند رات دن

    ہیں تین ہم! ہماری فیملی ہے تین کی
    *************
    لوگ میلوں میں بھی گم ہو کر ملے ہیں بارہا
    داستانوں کے کسی دلچسب سے اک موڑ پر

    یوں ہمیشہ کے لئے بھی کیا پچھڑتا ہے کوئی؟
    *************
    کھڑکیاں بند ہیں، دروازوں پہ بھی تالے ہیں
    کیسے یہ خواب چلے آتے ہیں پھر کمرے میں

  • وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

    شگفتہ شفیق

    8 اگست 1969: یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی معروف ادیبہ ، شاعرہ اور افسانہ نگار شگفتہ شفیق 8 اگست 1969 میں کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے حمد، نعت ، غزل اور نظم کی اصناف میں شاعری کی ہے جبکہ نثر میں انہوں نے کہانیاں اور افسانے بھی لکھے ہیں۔ وہ کچھ عرصہ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئی تھیں مگر اللہ کے فضل سے تندرست ہو کر اس سے چھٹکارہ پا چکی ہیں۔ شفگتہ شفیق گلستان جوہر کراچی میں مستقل سکونت پذیر ہیں ان کی اب تک 5 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن کے نام درج ذیل ہیں۔
    1 , میرا دل کہتا ہے
    2 , یاد آتی ہے
    3 , جاگتی آنکھوں کے خواب
    4 , شگفتہ نامہ
    5 , مری شاعری گنگنا کر تو دیکھو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    میرے تو گھر میں رہتے ہیں موسم کمال کے
    اللہ کرے نہ آئیں کبھی دن زوال کے

    اتنا بڑا کیا ہے اسی نے تو پال کے
    آنے نہ دے جو پاس مرے دن ملال کے

    اک یاد تیری ساتھ تھی اب وہ بھی ڈھل گئی
    قصے پرانے ہو گئے میرے گلال کے

    دل کو بہت سکون اسے دیکھ کے ملا
    خوش باش ہیں وہ خوب مجھے بھول بھال کے

    دنیا کی بات چھوڑیئے قصہ یہ گھر کا ہے
    دن جا چکے ہیں لوٹ کے رنج و ملال کے

    آنسو بہا کے باپ نے بیٹے سے یہ کہا
    کیا مل گیا تجھے مری پگڑی اچھال کے

    میں سوچتی ہوں کیسی شگفتہؔ یہ بات ہے
    اب تو پہاڑ بن گیا غم پال پال کے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پھر کوئی ہے سلسلہ الزام کا
    یہ وطیرہ ہے مرے گلفام کا

    روز کرتا ہے وہ روشن شام کو
    اک دیا چھوٹا سا میرے نام کا

    خوبصورت دل ربا سی شاعری
    سلسلہ ہے روح تک الہام کا

    چاہتوں کی بارشیں کرتا ہے وہ
    خوب واقف ہے وہ اپنے کام کا

    دل میں اپنے سوچتی ہوں میں کبھی
    وقت آئے گا مرے آرام کا

    وہ جنوں خیزی تو کب کی مٹ چکی
    اب شگفتہؔ واسطہ ہے نام کا

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    لگن زندگی کی جگانی پڑے گی
    خوشی سب کی خاطر منانی پڑے گی

    گھرانے کی عزت بچانی پڑے گی
    ہنسی تو لبوں پر سجانی پڑے گی

    ابھی مل گئے ہم کبھی یہ بھی ہوگا
    کہ رسم جدائی نبھانی پڑے گی

    تجھے کھو کے جینا بھی کیا زندگی ہے
    مگر زندگی یوں بتانی پڑے گی

    تیرا شیوہ چلتی ہواؤں سے لڑنا
    ہر اک بات تجھ سے چھپانی پڑے گی

    تیرے تیکھے تیور بتاتے ہیں مجھ کو
    کہ ہستی تو اپنی مٹانی پڑے گی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    طلب عشق ساری مٹا دی ہم نے
    اس کو روکا نہ صدا دی ہم نے

    خواب لوگوں نے جلا ڈالے تھے راکھ راہوں میں اڑا دی ہم نے

    اسے پھر کام ہم سے آ پڑا ہے
    وہ میٹھے لہجے میں گویا ہوا ہے

  • دویا جین، ہندی اور اردو کی معروف شاعرہ

    دویا جین، ہندی اور اردو کی معروف شاعرہ

    روبرو آئنے کے روز میں آئوں کیسے
    کتنا مشکل ہے نظر خود سے ملاتے رہنا

    دویا جین

    دویا جین 17 جولائی 1969ء کو بینا، مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئیں، دویا جین، ہندی اور اردو کی شاعرہ ہیں۔ سیکنڈری میں میرٹ پانے پر انھیں جواہر لال نہرو میموریل انعام ملا۔ ڈاکٹر ہری سنگھ کور یونیورسٹی سے انہوں نے ایم ایس سی (بوٹنی) کی تعلیم گولڈ میڈل کے ساتھ پوری کی۔ ڈپارٹمنٹ آف ٹیکنالوجی سے ودیا جین کو جے آر ایف ملا اور انہوں نے 1993 میں اپنی پی ایچ ڈی مکمل کی۔ اسپیس سائنس سے متعلق ان کے مضامین کئی رسالوں اور اخبارات میں شائع ہوئے۔

    بی بی سی ہندی اور اردو سروس سے بھی ان کو کئی انعامات ملے۔ ایک عرصے سے ہندی کویتا، کہانی، ڈرامے لکھ رہی ہیں ۔غزل سننے، پڑھنے اور لکھنے کا شوق لمبے عرصے سے رہاغالب اکیڈمی اورIGNU سے اردو کا کورس کیا اور اپنا شعری مجموعہ” خیاباں” کے نام سے شائع کیا-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پھر زباں پہ وہی بھولا سا فسانہ آیا
    یاد وہ بے خودی کا پھر سے زمانہ آیا

    لیتے انگڑائی ہیں غم زخم لگے ہیں رسنے
    یاد جب بھولا ہوا دوست پرانا آیا

    وہ ٹھہرتا ہے کہاں لاکھ بلائے کوئی
    لوٹ کے وقت کو تو تھا نہیں آنا آیا

    زلف ضدی جو جبیں کو مری چھوکر گزری
    ابر کو یاد کوئی وعدہ نبھانا آیا

    تیری سنگ یہ دل آج جو آوارہ ہے
    لوٹ کے وقت وہ بچپن کا سہانا آیا

    چرچا محفل میں جو پھر آج میری تھی نکلی
    ہر گلی کوچے سے پھر میرا دیوانہ آیا

    کر لیا وعدہ لو پھر اس نے جو ملنے کا پھر
    دیکھنا کل نیا کیا یاد بہانہ آیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    راس آیا نہیں ہم کو ترا آتے رہنا
    یوں ترا برسوں تلک وعدہ نبھاتے رہنا

    تو نے یہ جانا نہ آداب محبت کیا ہے
    ہر ملاقات پہ ملنے ترا آتے رہنا

    رائیگاں ہو گیا وہ گانا ترا راگ بسنت
    موسم خار میں پھولوں کو اگاتے رہنا

    اک سدا تیری بھی شامل تھی ہجوم طفلاں
    ہر سحر چھجے پہ مجھ کو بھی بلاتے رہنا

    جانتا تو نہیں کانٹے تو مرے دل میں چبھے
    پھول تیرا مری راہوں میں بچھاتے رہنا

    ہے یہ بے قفل قفس پر وہ پرندہ نہ اڑا
    قصۂ عشق ترا اس کو سناتے رہنا

    تیرے جیسا بھی ہے اک شخص زمانے بھر میں
    کب تلک مجنوں اور رانجھوں کو گناتے رہنا

    راکھ جب میں نے کریدی تو کہے چنگاری
    کام تم جیسوں کا ہے دنیا جلاتے رہنا

    روبرو آئنے کے روز میں آؤں کیسے
    کتنا مشکل ہے نظر خود سے ملاتے رہنا

  • وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا
    وہ گزرا زمانہ مجھے بھول جانا

    موسیقار : مدن موہن

    14 جولائی 1975: یوم وفات

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہندوستان کے نامور موسیقار اور میوزک ڈائریکٹر مدن موہن اردو اور ہندی فلموں کے مشہور و مقبول و معزز اور سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے موسیقاروں میں سے ایک تھے – 25 سال پر محیط کیریئر میں، انہوں نے صرف 100 سے کچھ زیادہ فلموں کے لیے موسیقی ترتیب دی، جن میں سے صرف 25 باکس آفس پر ہٹ ہوئیں۔ اس کی وجہ ان کی انتہائی پرہیزگار طبیعت تھی اور اس نے اپنی فلموں کے لیے جتنی دھنیں بنائیں وہ آج بھی موسیقار حلقوں میں شاہکار تصور کی جاتی ہیں۔ مدن موہن 25 جون 1924 کردستان میں پیدا ہوئے،. 1932 میں ان کا خاندان چکوال اس کے بعد جہلم اور کچھ عرصہ لاہور میں آباد ہوا 1951 میں ان کا خاندان بمبئی ہندوستان منتقل ہو گیا وہ راج بہادر چونی لال کے بیٹے تھے، جنہوں نے بامبے ٹاکیز اور فلمستان جیسے مشہور اسٹوڈیوز میں کام کیا۔ بچپن سے ہی وہ موسیقی کی طرف مائل اور باصلاحیت کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ درحقیقت، اپنی زندگی کے دوران، انہوں نے کمپوزیشن کا ایک حیرت انگیز ریکارڈ قائم کیا، جن میں سے زیادہ تر یا تو مناسب فلموں کی کمی کی وجہ سے استعمال نہیں کی گئیں یا ان کی فلموں کے لیے متبادل دھنیں بنائی گئیں۔ انہوں نے بالی ووڈ میں میوزک ڈائریکٹر سی رام چندر کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنا شروع کیا، اور اپنی پہلی بڑی فلم دی آئیز (1950) کے ساتھ ملی جو کہ ایک محبت کا مثلث ہے۔ فلم کامیاب رہی۔ اس کے بعد موہن کے پاس کافی کام آیا۔ ان کی پہلی فلموں میں ان کے بچپن کے دوست راج کپور کے ساتھ فلموں کی تریی تھی – آشیانہ (1952)،دھون (1952) اور پاپی (1953)۔ بدقسمتی سے موہن کے لیے، انھوں نے جن فلموں کے لیے کمپوزنگ کرنے کا انتخاب کیا، انھوں نے زیادہ اثر پیدا نہیں کیا، اور یہ صرف بھائی بھائی (1956) کے ساتھ تھا، جس میں لیجنڈری کمار بھائیوں، اشوک کمار اور کشور کمار نے کام کیا تھا، کہ انھیں کچھ کامیابی ملی۔ لیکن اس کے بعد سے، چیزیں کھردری ہو گئیں۔ ریلوے پلیٹ فارم (1955)، گیٹ وے آف انڈیا (1957)، جبکہ بہترین موسیقی کے ساتھ، زیادہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اور معاملات کو مزید خراب کرنے کے لیے، تمام سرکردہ ستاروں نے کام کرنے کے لیے پہلے ہی ایک خاص موسیقار کا انتخاب کر لیا تھا (مثلاً نوشاد،) جس نے ڈیبیوٹنٹ کے لیے کوئی جگہ نہیں چھوڑی، چاہے وہ باصلاحیت ہو۔

    پھر، 1950 کی دہائی کے آخر اور 1960 کی دہائی میں، چیزیں بہتر کے لیے بدل گئیں۔ دیکھ کبیرا رویا (1957) اور عدالت (1958) کے لیے ان کے اسکور نے یہ ظاہر کیا۔ اور 1960 کی دہائی میں، وہ واقعی انپدھ (1962) کے ساتھ نظر آنے لگے، ان کے گانوں نے پورے ہندوستان میں دھوم مچا دی۔ اس فلم کے ساتھ ہی وہ غزل کے بادشاہ کے طور پر جانے جانے لگے، حالانکہ وہ عدالت (1958) کے ساتھ پہلے ہی گوسامر دھنوں کے لیے اپنی شہرت قائم کر چکے تھے۔ انہوں نے راج کھوسلہ کی دو فلموں – وہ کون تھی (1964) اور میرا سایا (1966) کے ساتھ مزید تجارتی کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے فلمساز چیتن آنند کے ساتھ بھی کام کرنا شروع کیا، جس کے لیے انہوں نے ایک جنگی فلم حقیقت (1964) میں اپنا سب سے شاندار اسکور بنایا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے گلوکاروں میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا، لیکن لتا منگیشکر کے ساتھ ان کے کام کا خاص تذکرہ کیا جانا چاہیے، جس نے ان دونوں کو اپنی بہترین کارکردگی دکھائی۔ یہ افسانوی مجموعہ 1951 میں اداا (1951) کے ساتھ قائم ہوا اور ان کی موت تک (اور بعد میں) جاری رہا۔ موہن کے پاس لتا کی آواز میں بہترین آواز لانے کا یہ خاص ہنر تھا – وہ سنجوگ (1961) میں، نیلا آکاش (1965) میں جاونٹی اور میرا سایا (1966) میں پرکشش آواز دے سکتی تھی۔ تاہم، یہ جذباتی گانوں میں تھا کہ وہ اپنے بہترین تھے۔ 1970 کی دہائی میں، جب ہرے راما ہرے کرشنا (1971) جیسی فلموں کے مغربی گانے، موہن نے تب بھی شاعرانہ دھنیں ترتیب دیں۔ ان کی سخت جمالیاتی حس کی وجہ سے وہ اگر تجارتی طور پر کامیاب فلم ساز نہیں تو حساس فلم سازوں کے ساتھ بہت زیادہ مانگ میں تھے، اور انہوں نے ہرشیکیش مکھرجی، سمپورن سنگھ گلزار اور راجندر سنگھ بیدی جیسے معزز ناموں کے ساتھ تعاون کیا، بیدی کے ساتھ ان کا تعاون خاص طور پر نمایاں رہا جیسا کہ دستک کے ساتھ تھا۔ 1970) کہ انہیں بہترین میوزک ڈائریکٹر کا نیشنل ایوارڈ ملا – یہ وہ واحد بڑا ایوارڈ تھا جسے ان کی زندگی میں ملا۔14 جولائی 1975 میں، 51 سال کی عمر میں، موہن کا جگر کے سیروسس سے انتقال ہو گیا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے فوراً بعد دو فلمیں ریلیز ہوئیں – موسم (1975) اور لیلا مجنوں (1975) – موسیقی کی شاندار کامیابیاں بنیں۔ تاہم، تین دہائیوں کے بعد، دو فلموں نے موہن کو خراج تحسین پیش کیا۔ ایک اب تمہارے ہولے وطن ساتھیو (2004) تھی، ایک جنگی فلم جس نے دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا عنوان حقیت (1964) کے ان کے ایک گانے سے لیا گیا تھا۔ تاہم یہ فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی۔ دوسری فلم، ویر زارا (2004) نامی رومانوی نے ایک موسیقار کے لیے زیادہ موزوں خراج تحسین پیش کیا – ہدایت کار، یش چوپڑا نے ان کی کچھ غیر استعمال شدہ کمپوزیشنز لیں اور انہیں فلم میں استعمال کیا۔ ویر زارا (2004) کی شاندار کامیابی، خاص طور پر اس کے ساؤنڈ ٹریک نے مدن موہن کو اب تک کے بہترین موسیقاروں میں سے ایک کے طور پر قائم کیا.

    مدن موہن کی موسیقی میں گائے ہوئے مشہور گیتوں میں سے کچھ گیتوں کے بول درج ذیل ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آپ کی نظروں نے سمجھا پیار کے قابل مجھے

    تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں کیا رکھا ہے

    دل ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن

    تیرے پاس آ کے میرا وقت گزرتا ہے

    میری یاد میں تم نہ آنسوں بہانا

    میں تو تم سنگ نین ملا کے ہار گئی سجناں

    ہم سے آیا نہ گیا تمسے بلایا نہ گیا

    وہ دیکھو جلا گھر کسی کا

  • آج پھر دیر تلک تیرے خیالوں میں رہی ،رحم اے گردش دوراں یہ تماشا کیا ہے

    آج پھر دیر تلک تیرے خیالوں میں رہی ،رحم اے گردش دوراں یہ تماشا کیا ہے

    میری آنکھوں کے سمندر میں یہ ایسا کیا ہے
    جو بھی ڈوبے وہ بتاتا نہیں ہوتا کیا ہے

    رخسانہ سحر

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف ادیبہ، شاعرہ اور کالم نگار رخسانہ سحر صاحبہ 12 جولائی 1974 میں ساہیوال پنجاب(پاکستان)میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام رخسانہ شفیق ہے ۔ ان کی اب تک 3 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 2 شعری مجموعے ” ہر پل میرے ساتھ ہو تم” اور ” میں تمہیں جیت لائوں گی” اس کے علاوہ ان کی ایک تصنیف ” پھلوں اور سبزیوں سے علاج ” شائع ہوئی ہے۔ رخسانہ سحر صاحبہ اس وقت اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

    میری آنکھوں کے سمندر میں یہ ایسا کیا ہے
    جو بھی ڈوبے وہ بتاتا نہیں ہوتا کیا ہے

    آج پھر دیر تلک تیرے خیالوں میں رہی
    "رحم اے گردش دوراں یہ تماشا کیا ہے”

    روبرو بیٹھ کے وہ شخص نہ جانے مجھ سے
    اپنی آنکھیں جو جھکاتا ہے چھپاتا کیا ہے

    چھین لیتا ہے بچھڑ کر تو مرے ہوش و حواس
    یاد آکر تو مجھے ہوش میں لاتا کیا ہے

    زندگی جیسے بھی گزری ہے گزاری ہے سحر
    اِس نے پوچھا بھی نہیں میرا تقاضا کیا ہے

    رخسانہ سحر

  • میں سمجھ بیٹھی جسے  اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان ، خدا خیر کرے

    8 جولائی 1955

    مینو بخشی کا یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آج مضطر ہے مری جان خدا خیر کرے
    دل میں ہے درد کا طوفان خدا خیر کرے

    رات کو نیند نہیں صبح کو آرام نہیں
    ان کے آنے کا ہے امکان خدا خیر کرے

    وہ ملاتے ہیں نظر غیر کی صورت ہم سے
    یہ تو ہے موت کا سامان خدا خیر کرے

    یہ سنا ہے کہ دکھائیں گے وہ جلوہ اپنا
    دل کے اب نکلیں گے ارمان خدا خیر کرے

    اب مجھے دیکھ کے کترانے لگی ہے دنیا
    مٹ گئی وہ مری پہچان خدا خیر کرے

    جس کی فطرت ہے جفا اور ستم ہے شیوہ
    ہے وہی دل کا نگہبان خدا خیر کرے

    اٹھ گئے پاؤں اسی راہ میں اب تو مرے
    جس میں نیں جی کا ہے نقصان خدا خیر کرے

    میں سمجھ بیٹھی جسے اپنی محبت کا خدا
    وہ فرشتہ ہے نہ انسان خدا خیر کرے

    ایسی ماضی کے سمندر نے قیامت ڈھائی
    دل کی بستی ہوئی ویران خدا خیر کرے
    ….
    پیدائش : 08 Jul 1955

    مینو بخشی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں اسپینش زبان کی پروفیسر ہیں لیکن شاعری ان کا شوق ہے۔ مادری زبان پنجابی ہونے کے باوجود شاعری میں لطیف جذبات کے اظہار کے لئے انہوں نے اردو جیسی خوبصورت اور دلکش زبان کا انتخاب کیا ہے۔ کلاسیکل موسیقی میں تربیت یافتہ مینو نے اردو کے سلیس مترنم الفاظ اپنی غزلوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ موسیقی کے سترنگی سروں میں باندھ کر ادب نواز ناظرین کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ دہلی ، لکھنو اور پٹنہ میں منعقد معیاری مشاعروں میں شرکت کی ہے اور ملک و ملک سے باہر محفل موسیقی میں مینو نے اپنی مترنم آواز سے سامعین کو محظوظ کیا ہے۔برطانوی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’ہائوس آف لارڈس ‘ میں بھی وہ اپنی شاعری اور غزل گائیکی پیش کرچکی ہیں۔ مینو لندن فلم فیسٹول کی چیئر پرسن ہیں۔

    کلاسیکل موسیقی کی تعلیم کے بعد مینو نے گائیکی کی شروعات صوفیانہ کلام سے کی۔لفظوں نے جب دل کی راہ پکڑلی تو اندر چھپی شاعرہ نے دستک دی اور اس طرح مینو بخشی کی غزلوں کا پہلا مجموعہ ’’ تشنگی ‘‘ روپا پبلکیکشنز انڈیا نے شائع کیا۔ شاعری کے قدردانوں نے ان کی تخلیقی صلاحیت کی دل کھول کر تعریف کی۔ 2014 میں حسن آرا ٹرسٹ نے امیر خسرو اعزاز اور بہار اردو اکادمی نے جمیل مظہری ایوارڈ سے نواز کر مینو کی شاعرانہ صلاحیت کا اعتراف کیا۔ ان کا دوسرا مجموعہ کلام ’’ موج سراب ‘‘ بھی روپا پبلیکشنز انڈیا نے شائع کیا ہے۔حکومت ہند کے لئے اسپینش ترجمان کا اہم کام بھی پروفیسر مینوبخشی بخوبی نبھاتی آرہی ہیں۔ وہ کئی زبانوں کے درمیان ایک مضبوط کڑی ہیں۔اس کی بہترین مثال اردو میں شاعری ، یونیورسٹی میں اسپینش، سماجی حلقوں میں ہندی اور انگریزی ہے۔ حال ہی میں انہیں اسپین اور اسپین کی ثقافت کو پروموٹ کرنے کی سمت میں اہم رول ادا کرنے کے لئے Order of Isabella la Catolica ایوراڈ سے نوازا گیا ہے۔ یہ اسپین کا دوسرا سب سے بڑا اعزاز ہے جو اسپین کے بادشاہ کے ہاتھوں کسی غیر اسپینش شخصیت کو دیا جاتاہے۔ شادی کے موقع پر گائے جانے والے روایتی پنجابی گیتوں کا البم مینو کی آواز میں بے حد مقبول ہے۔

  • دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل

    دل اب بھی تری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے

    زیب النساء زیبی

    تاریخ ولادت:03 جولا‎ئی 1958ء
    رہائش: گلشن اقبال کراچی پاکستان
    مادر علمی:وفاقی جامعۂ اردو
    جامعہ کراچی
    تعلیمی اسناد:ایم اے سیاسیات
    ایم اے اجتماعی ابلاغیات
    ادبی حیثیت :شاعرہ، افسانہ نگار

    زبان:اردو

    زیب النساء زیبی صاحبہ ایک نامور پاکستانی شاعرہ، افسانہ نگار، کالم نگار، مترجم اور ماہر تعلیم ہیں۔ اب تک 60 ادبی تخلیق اور 25 نصابی کتابیں تالیف اور ترجمہ کر چکی ہیں۔ شعری صنف سوالنے متعارف کرائی ہے، جب کہ تروینی میں اردو زبان کا پہلا مجموعہ شائع کیا ہے۔ اب تک تین کلیات شائع ہو چکی ہیں جن میں غزلیات کی کار دوام، ستر شعری اصناف پر مشتمل 23 مجموعے سخن تمام کے عنوان سے اور افسانوں، ناولٹوں اور ناول پر مشتمل عکس زندگی شامل ہیں۔ جب کہ ایک کلیات تحقیق و تنفید، ادبی مضامین اور کالموں کی زیر ترتیب ہے۔
    ذاتی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء کراچی میں اقبال بیگ اور زہرا خاتون کے ہاں 3 جولائی 1958ء کو پیدا ہوئیں، ان کے دیگر بہن بھائیوں میں 4 بھائی اور 3 بہنیں شامل ہیں۔ ایم اے صحافت، ایم اے سیاسیات کی سند جامعہ کراچی سے حاصل کی۔ محکمہ اطلاعات، حکومت سندھ میں افسر اطلاعات کے عہدے پر خدمات سر انجام دیتی رہی ہیں۔ زیب النساء کی شادی محمد اقبال شیخ (سابق سرکاری افسر) سے ہوئی، ان کی اولاد میں دو بیٹیاں عنبرین افشاں اور سحرین درخشاں ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سخن تمام، (کلیات)
    اس میں ستر اصناف سخن پر شاعری کے 23 مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (2)کارِ دوام، کراچی، زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1744 ص (غزلیات)
    اس میں غزلیات کے اکیس مجموعے شامل ہیں۔
    ۔ (3)عکسِ زندگی، ،کراچی،زیبی اینڈ عائزاز پبلی کیشنز، 2014ء، 1040 ص (کلیات)
    اس میں افسانوں کے اٹھارہ مجموعے،سات ناولٹ اور ایک ناول شامل ہے۔
    حمد و نعت
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)حرف حرف بندگی (مجموعہ نعت)
    ۔ (2)بھیگی بھیگی پلکیں (مجموعہ نعت)
    بچوں کا ادب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)چاند ستارے آسمان
    ۔ (2)پھول کلیاں خوشبو
    ۔ (3)کہکشاں در کہکشاں
    فکاہیہ شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یہ عالم شوق کا
    ۔ (3)ایسی تیسی
    ۔ (4)یہ کہانی اور ہے
    سہ مصرعی نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تنہا تنہا چاند
    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)مجھے کچھ کہنا ہے
    ۔ (2)کبھی تو ملیں گے
    سوالنے
    ۔۔۔۔۔
    آتی رت کا پھول (ذاتی اختراع)
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    تیرا انتظار ہے (اردو میں دوسرا اور کسی شاعرہ کا پہلا مجموعہ تروینی)
    قطعات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سحر درخشاں
    ۔ (2)عنبر وافشاں
    رباعیات اور دوہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)یاد کے موسق
    ۔ (2)مسمط
    ۔ (3)تم سے دور تو نہیں (مثلث، مربع، مخمس، مسبح، مثمن، متسح، معثر، مسمط، تربیج بند، ترکیب بند میں)
    ۔ (4)ہتھیلی پر گلاب (چہار بیت، کہہ مکرنی، لوری، کافی، ڈھولا، گیکت، پہلی، ہیر، خماسی، پنجگانہ، سداسی، ملی نغمہ، قوالی، سہرا رخصتی یا مصری تکونی، ترائیلے)
    ناولٹ
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)خاموش جنازے
    ۔ (2)جہنم کے فرشتے
    ۔ (3) دلدل
    ۔ (4)کالی زبان
    ۔ (5)شہزادے کا انتظار
    ۔ (6)سیر عدم کی
    ۔ (7)اوروہ ہے اور ہم ہیں دوستو
    ناول
    ۔۔۔۔۔
    آدھی گواہی

    تاثرات
    ۔۔۔۔۔
    رئیس امروہوی
    ۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی کو قدرت نے فیاضی کے ساتھ فہم و ادراک اور مشاہدات کی قوت سے شناسا کیا ہے۔
    عصمت چغتائی
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی اور ان کی ذہانت و تخلیقی کارکردگی پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیائے ادب ہمیشہ فخر کرتا رہے گا۔
    ڈاکٹر وزیر آغا
    ۔۔۔۔۔۔
    زیب النساء زیبی نے اپنی تحریروں میں زندگی کے تلخ حقائق کو موضوع بنایا ہے۔ ان کے موضوعات میں بہت تنوع ہے اور ان کا فکر و خیال میں بلا کی برق رفتاری ہے۔
    فیض احمد فیض
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زیبی انقلابی جوش و جذبے سے پر ایک حقیقت پسند دردمند دل رکھنے والی تخلیق کار ہیں۔ انھوں نے اپنی تحریرون میں مظلوموں اور نسائیت کے مسائل کو بہت جرات سے بے نقاب کیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    : محبت کا جہاں میں گر محبت ہی صلہ ہوتا
    نہ آنکھوں سے کسی کی درد کا آنسو گرا ہوتا
    یہ تیری دلنشیں دنیا بھی جنت کی طرح ہوتی
    سرشت آدمی کو بس نہ اتنا شر دیا ہوتا
    – جہنم پیٹ کا رکھا ہے تونے ساتھ انساں کے
    سمندر خواہشوں کا جسم کو کچھ کم دیا ہوتا
    ملا کیا اس کو سچائی کے رستےپر قدم رکھ کر
    کہ ایسی نیک نامی کا یہاں کچھ تو صلہ ہوتا
    جو اتنے امتحاں لینے تھے ہر انسان سے تونے
    تو ہر انسان کو تونے پیمبر ہی کیا ہوتا
    دہے ہیں نا تواں زیبی کو اتنے درد و غم تونے
    دیا اک آس کا دل میں جلا کر رکھ دیا ہوتا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کردار ہے اور اپنی کہانی سے جڑا ہے
    انسان تو بس عالم ِ فانی سے جڑا ہے
    میں کیسے کہوں پیاس سے مرتے نہیں پنچھی
    یہ سانس کا رشتہ بھی تو پانی سے جڑا ہے
    دل ا ب بھی تیری آرزو کرتا ہے مسلسل
    دل اب بھی میرا یاد پرانی سے جڑا ہے
    ہر شخص ہی دنیا سے چلا جائے گا اک دن
    ہر شخص ہی جب نقل مکانی سے جڑا ہے
    اس غم کو بھی اب دل میں جگہ دینی پڑے گی
    یہ غم بھی مرے ساتھ جوانی سے جڑا ہے
    یہ درد میری جان کا دشمن بنا زیبی
    اس درد کا رشتہ بھی روانی سے جڑا ہے

    ہائیکو
    ۔۔۔۔۔
    کیسی مہنگائی
    غربت سے تنگ آکر ماں
    بچے بیچ آئی

    ہر گھر روشن ہے
    جانے میرے گھر کا کیوں
    سورج دشمن ہے

    سرسی چھند دوہا
    ۔۔۔۔۔
    باپ ہوا ہے بوڑھا پھر بھی محنت کرنےجائے
    سچ کہتا ہے نہیں تو اس کو روٹی کون کھلائے

    جس کے پاس ہے دولت شہرت ساتھ چلے سنسار /
    سب کے لبوں پر ایسے منش کی دیکھی جےجے کار

    دوہا چھند
    ۔۔۔۔۔
    میں بھی لکھتی ہوں غزل پاس مرے ہیں نیر
    میرے رہبر رہنما غالب مومن میر

    کہہ مکرنی
    ۔۔۔۔۔
    کیسا برگ و بار شجر ہے
    سایہ بھی اس کا گھر گھر ہے

    اس کے بنا جیون ویراں
    اے سکھی رب . نا سکھی ماں
    _
    تروینی
    ۔۔۔۔۔
    دنیا کی دوزخوں میں انسان جل رہا ہے
    جنت کی حسرتوں میں خود کش بھی پل رہا ہے
    تہذیب کا جنازہ شاید نکل رہا ہے

    رباعی
    ۔۔۔۔۔
    ملتا ہے زمانے کو بھی محنت سے کمال
    آتا ہے ہر اک شے پہ زمانے میں زوال
    اک بار ملا کرتی ہے دنیا میں حیات
    رہتا ہی نہیں حسن سراپا یہ جمال

  • محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    اس شہر حوادث میں اگر ٹوٹ بھی جائوں
    اک عکس مرا شہر کے لوگوں میں رہے گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محمود الحسن گیلانی ،ادیب، شاعر، مصنف اور قانون دان

    وہ میاں نواز شریف، قاضی حسین احمد، راحت فتح علی خان ،اداکارہ میرا و دیگر نامور شخصیات کے وکیل رہ چکے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گفتگو و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور پاکستان سے تعلق رکھنے والے معروف ادیب، شاعر ، مصنف اور نامور قانون دان محمود گیلانی صاحب 12 دسمبر 1964 میں ضلع شیخو پورہ کے گاؤں ” لالکے” میں واقع اپنے نانا محترم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید محمود الحسن گیلانی اور قلمی نام محمود گیلانی ہے ۔ والد صاحب کا نام سید سردار محمد گیلانی جو کہ ایک زمیندار پیشہ تھے 2011 میں ان کی وفات ہوئی ۔ محمود گیلانی کے دادا سید ولایت حسین گیلانی بہت بڑے عالم ، بزرگ و روحانی شخصیت اور حافظ قرآن تھے ضلع جالندھر کے ایک گاؤں کی مسجد کے امام تھے ان کی اہلیہ سیدہ حسن جان بھی قرآن کی حافظہ تھیں اور گاؤں کی بچیوں کو قرآن کی تعلیم دیتی تھیں سید ولایت حسین گیلانی کے حسن اخلاق اور دینی تعلیمات سے متاثر ہو کر ہزاروں غیر مسلم ان کا دست بیعت ہو کر مسلمان ہو گئے ۔ تقسیم ہند کے بعد سید ولایت حسین اپنے خاندان کو ساتھ لے کر ہندوستان سے ہجرت کر کے لاہور پاکستان منتقل ہو گئے ۔ سید محمود الحسن گیلانی نے پرائمری تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول ڈھلواں ضلع لاہور، میٹرک گورنمنٹ اخوان ہائی اسکول برکی لاہور سے گریجو ایشن وفاقی گورنمنٹ اردو آرٹس کالج کراچی ، ایم اے اردو اور ایل ایل بی جامعہ پنجاب لاہور سے کیا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے ایک وکیل ہیں لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں فوجداری کے مقدمات لڑتے ہیں۔ وکالت کے شعبے میں ان کی مقبولیت اور شہرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وہ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف ، جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر قاضی حسین احمد، گلوکار راحت فتح علی خان ، کرکٹر عبدالقادر ، اعجاز احمد، پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما فوزیہ وہاب اور اداکارہ میرا و دیگر کئی نامور شخصیات کے وکیل رہ چکے ہیں۔ وہ ادارہ ہیومن جسٹس فرنٹ رجسٹرڈ پاکستان اور "بزم سرخیل ادب” کے چیئر مین ہیں ان کے ادارے ” ہیومن جسٙٹس فرنٹ کی جانب سے گزشتہ 20 سال سے اب تک 10 ہزار کے لگ بھگ بے بس ، غریب اور نادار لوگوں کو مفت قانونی امداد فراہم کر کے انصاف دلایا گیا ہے۔ گیلانی صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے ۔

    بڑا بیٹا سید آفتاب سرخیل ایک ملٹی نیشنل کمپنی کے مینیجر ہیں بیٹی سیدہ نایاب گیلانی صاحبہ چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں وہ. لندن سے اعلی تعلیم حاصل کر چکی ہیں جبکہ چھوٹا بیٹا سید التمش حسن ایک آرمی پبلک اسکول میں زیر تعلیم ہے۔ سید محمود گیلانی صاحب ایف ایم 95 ریڈیو سے بھی منسلک ہیں جس میں وہ پچھلے 13 سال سے ” بابے دینے دا ڈیرہ ” کے عنوان سے ایک پروگرام کر رہے ہیں جبکہ وہ لاہور کے لاء کالج اور مختلف یونیورسٹیوں میں قانون پر لیکچرز بھی دیتے رہتے ہیں مختلف ٹی وی چینلز کے سیریلز میں اداکاری کے جوہر بھی دکھا چکے ہیں۔ گیلانی صاحب کا دفتر ٹرنر روڈ لاہور پر واقع ہے۔ محمود گیلانی نے 7 سال کی عمر سے شاعری شروع کی ان کے ایک کلاس فیلو ناصر بھی شاعری کرتے تھے ۔ شاعری میں محمود گیلانی کے استاد علامہ بشیر رزمی ہیں۔ وہ حمد، نعت، غزل اور ہائیکو کی صنف میں طبع آزمائی کرتے رہے ہیں۔ سید محمود گیلانی صاحب موجودہ اردوادب سےمطمئن نہیں ان کے خیال میں پاکستان میں اردو ادب قلم فروش اور ضمیر فروش نام نہاد ادیبوں کے نرغے میں ہے اس لیے عصری تقاضوں کے مطابق صحیح اور معیاری ادب تخلیق نہیں ہو رہا ہے اصل ادیب اور شعراء اپنے معاشی مسائل میں گھرے رہنے کے باعث گمنامی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ الیٹرونک اور پرنٹ میڈیا بھی طوائف کا کردار ادا کرتے ہوئے حکمرانوں کی قصیدہ گوئی کرنے والے ادباء اور شعراء کو پروموٹ کر رہا ہے۔ اصل ادباء کو متحد ہو کر نام نہاد ادیبوں اور شعراء کی اجارہ داری کے خاتمے کے لیے بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ محمود گیلانی کی ” بزم سرخیل ادب ” ادبی نشستوں اور مشاعروں کا انعقاد کرتی رہتی ہے اور کم وسائل اور غریب قلمکاروں کی فلاح و بہبود کے لیے بھی سرگرم عمل ہے ۔ محمود گیلانی کی اب تک 5 کتابیں چھپ کر منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں 1 گل نایاب (حمدیہ اور نعتیہ شاعری پر مشتمل) 2 ۔ اک اور آسمان ( غزلیہ شاعری ) 3 . کچھ تو کہو (غزلیات شاعری). 4 . تجھے لائوں کہاں سے ( شاعری) 5 . تلوار اور ترازو ( مقدمات کی سچی کہانیاں ) جبکہ ان کی کتاب ” میں نے خود کو مرتے دیکھا” زیر طباعت ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ غزل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آنسوں کی طرح روز وہ أنکھوں میں رہے گا
    وہ شخص ہمیشہ مرے خوابوں میں رہے گا

    ممکن تو نہیں گر میں اسے بھول بھی جاٶں
    پھر بھی وہ خیالوں مری سوچوں میں رہے گا

    اس بزم میں ہوتا ہے سدا تذکرہ اس کا
    بس تذکرہ اس کا مری باتوں میں رہے گا

    سانسوں میں وہ مچلے گا کبھی جسم کی صورت
    وہ جسم کی صورت کبھی سانسوں میں رہے گا

    اس شہر حوادٹ میں اگر ٹوٹ بھی جاٶں
    اک عکس مرا شہر کے لوگوں میں رہے گا

    اس شخص کی پہچان مری ذات سے ہوگی
    وہ شخص سدا میرے حوالوں میں رہے گا

  • گوہر جان ،منفرد گلوکارہ  رقاصہ اور شاعرہ

    گوہر جان ،منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ

    تاریخ پیدائش 26 جون 1879
    تاریخ وفات 17 جنوری 1930
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برصغیر کی منفرد گلوکارہ رقاصہ اور شاعرہ گوہر جان 20 جون 1873 کو اعظم گڑھ میں پیدا ہوٸیں۔ وہ آرمینیاٸی نسل کی عیساٸی خاتون تھیں۔ ان کا اصل نام انجلینا ان کے والد کا نام ولیم رابرٹ اور والدہ کا نام وکٹوریہ ہمنگز تھا۔ گوہر جان کے والدین کے مابین علیحدگی ہونے کے بعد ان کی ماں اعظم گڑھ سے بنارس چلی آٸی بیٹی بھی ان کے ہمراہ تھی ۔ یہاں خورشید خان نامی ایک نیک دل مسلمان نے ان کو رہاٸش دی اور ہر طرح کی مدد بھی کی جس سے متاثر ہو کر دونوں ماں بیٹیاں مسلمان ہو گٸیں ۔ وکٹریہ کا اسلامی نم ملکہ جان اور انجلینا کا اسلامی نام گوہر جان رکھا گیا۔ گوہر جان نے 15سال کی عمر میں دربھنگا میں اپنے فن گاٸیکی کا پہلا عملی مظاہرہ کیا انہوں نے اپنے وقت کے بڑےاساتذہ سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ان کی خوب صورت آواز اور رقص کی وجہ سے شہرت دور دور تک پھیل گٸی یہاں تک ان کو ملکہ برطانیہ تک پذیراٸی مل گٸی۔ گوہر جان گاٸیکی اور رقص کے علاوہ شاعری میں بھی کمال رکھتی تھیں شاعری میں وہ ہمدم تخلص استعمال کرتی تھیں ان کی زیادہ تر گاٸی ہوٸی غزلیں اپنی ہی تھیں تاہم وہ اپنے دور کے نامور شعراء کا کلام بھی بڑے شوق سے گاتی تھں اور شعراء کا بڑا احترام کرتی تھیں ۔ گاٸیکی میں وہ دادرا ٹھمری سمیت مختلف راگ اور راگنیوں پر عبور رکھتی تھیں ۔ وہ بڑے رکھ رکھاٶ اور شوق و ذوق رکھنے والی خاتون تھیں وہ گھڑ سواری کی ماہر تھیں ۔ گوہر جان کوبرصغیر کی موسیقی کی تاریخ میں یہ منفرد اور قابل فخر اعزاز حاصل ہوا ہے کہ ہندوستان میں گرامو فون پر سب سے پہلے ان کو اپنی گاٸیکی ریکارڈ کرانے کا اعزاز دیا گیا۔ گراموفون پر سب سے پہلی ان کی آواز گونجی جس کےبول تھے ماٸی نیم از گوہر جان ۔ گوہر جان نے سید غلام عباس نامی ایک شخص کےساتھ شادی کی مگرکچھ عرصہ بعد ہی ان کے مابین علیحدگی ہو گٸی ۔ گوہرجان کو مال و دولت اور شہرت سب کچھ حاصل تھا مگر وہ ازدواجی زندگی کی دولت سے محروم تھیں یہی وجہ تھی کہ جب اردو کےعظیم مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی اور گوہر جان کےمابین پہلی ملاقات ہوٸی تو گوہرجان نے اکبر الہ آبادی سے ایک شعر سنانے کی فرماٸش کی جس پر اکبرالہ آبادی نے گوہر کے حالات کے تناظر میں یہ شعر کہا

    خوش نصیب آج بھلا کون ہے گوہر کے سوا
    اللہ نے سب کچھ دے رکھا ہے شوہر کے سوا

    گوہر نےبھی اس کے جواب میں برجستہ شعر کہہ دیا

    یوں تو گوہر کو میسر ہیں ہزاروں شوہر
    ہاں پسند اس کو ایک بھی نہیں اکبر کے سوا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ