Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • بوجھ پھولوں کا اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں

    بوجھ پھولوں کا اٹھاتے ہوئے ڈرتے ہیں

    کتنے نازک ہیں نئے دور کے شہزادے بھیٌٌٌٌٌ
    سمیرا عزیز

    اردو ، عربی اور انگریزی کی معروف ادیبہ، شاعرہ ، صحافی اور کالم نگار

    یوم پیدائش: 24 جون 1976
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نام سمیرہ عزیز
    ولدیت: عزیز الر حمٰن (مرحوم)
    والدہ محترمہ: مہر افروز (مرحومہ )
    مقامِ پیدائش: الخبر۔ سعودی عرب(AlKhober, Saudi Arabia)

    موجودہ سکونت: جدہ، سعودی عرب
    قومیت: سعودی
    تعلیم: پی ایچ ڈی زیرِ تحقیق، ماسٹرز بین اااقوامی تعلقات، ماسٹرز جرنلزم، ماسٹرز ماس میڈیا (تخصص فلم سازی)
    پیشہ: سعودی میڈیا و بزنس وومن (چئیر پرسن سمیرہ عزیز گروپ آف کمپنیز)

    لکھنے کی ابتداء؟ نو برس کی عمر سے بچوں کے معروف رسالوں میں لکھنا شروع کیا

    طبع آزمائی: ناول نگاری،افسانہ نگاری،مضمون نگاری، شاعری، فلمی اسکرین پلے،،نیوز رائٹر،اداریہ، سماجی و سیاسی کالم نگاری، تحقیقی مقالے، گانوں کے بول، اسٹیج شو وغیرہ

    تصانیف و تالیف (نام و سن): بچوں کی بے شمار کہانیاں ((1985-1991،افسانہ نگاری (1991سے جاری ہے مثلاَ اجنبی میرے آنگن کا وغیرہ)، ناول ”رشتے بدل بھی جاتے ہیں“(سال 2000)،کالم و نیوز(سال 2000 سے جاری ہے)،دیوان ’کاغذ کی زمین‘)سال(2016، ڈیجیٹل البم ’موم کی گڑیا‘ (زیر نظرسال (2018، ’لفظوں کی کائنات‘(سال (2020، بالی ووڈ فلم اسکرپٹ، فلم ریم، فلم جر ات۔ڈئیر ٹو لو، فلم فرمان، سعودی فلم اسکرپٹ خلینی اطیر(مجھے اڑنے دو)،سعودی فلم اسکرپٹ ’منو‘
    ۔۔۔ کن زبانوں میں طبع آزمائی کرتی ہیں؟ اردو،انگریزی، عربی

    اعزازات (ادبی/غیر ادبی): سعودی عرب کی پہلی اردو ناول نگار خاتون، جی سی سی رائٹرز ایوارڈ،گریٹ وومن ایوارڈ دوبئی، جرنلزم ایوارڈ انڈیا، بزنس ایوارڈ ریاض، سعودی کلچرل ایوارڈبرائے سو میڈیاافراد وغیرہ
    ۔۔۔ مضامین یا منظومات جن رسائل میں شائع ہوئے یا ہوتے ہیں؟ ہمدرد، بچوں کی دنیا، نونہال، دوشیزہ، پاکیزہ، اردو نیوز، اردو میگزین،آواز (سعودی عرب)، سعودی گزٹ وغیرہ
    ۔۔۔
    دیگر معلومات: سمیرہ عزیز نے نو برس کی عمر سے بچوں کی کہانیاں لکھنا شروع کیں۔ حکیم محمد سعید (مرحوم) کے ننھے لکھاریوں میں وہ بھی ایک تھیں اور ہمدرد رسالے میں ان کی پہلی کہانی ’ماں‘ شائع ہوئی تھی۔ وہ ساتھ ساتھ نظمیں بھی لکھتیں تھیں۔ وہ سعودی عرب کی پہلی’اردو ناول نگار‘ہیں۔انہوں نے میڈیا میں باقاعدہ 1999ء میں قدم رکھا اور ان کی تربیت سعودی وزارت برائے ثقافت و اطلاعات کے زیر نگرانی ہوئی۔ اس کے بعد ان کو امیر احمد بن سلمان (مرحوم) کی سرکردگی میں سعودی ریسرچ و مارکیٹنگ گروپ کے غیر ملکی زبان کے روزنامے و ہفتہ روزہ مجلے اردو نیوز اور اردو میگزین میں تعینات کیا گیا۔ سمیرہ عزیز نے وہاں اپنی محنت، قابلیت او ر جراتمندانہ رپورٹوں سے قدم جمائے۔وہ خفیہ’اسٹنگ آپریشن‘ بھی کرتیں اور حقائق سے پردہ اٹھاتیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب صحافت میں سعودی عرب میں خواتین کا ہونا ایک اچھوتی بات تھی۔سات برس بعد سمیرہ عزیز کوانگریزی روزنامے سعودی گزٹ کی سینئیر انٹرنیشنل ایڈیٹر بنا کر بھیج دیا گیا جو کہ ملک کی بڑی کمپنی عکاظ کے زیر اہتمام شائع کیا جاتا تھا۔ سمیرہ عزیز نے وہاں بھی محنت و خوش دلی سے فرائض منصبی ادا کئے۔ سمیرہ عزیز نے اس ادارے سے اردو ہفت روزہ ’آواز‘ کا بھی اجراء کیا۔آٹھ سال وہاں خدمات انجام دینے بعد سمیرہ عزیز مزید اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرونِ ملک چلی گئیں۔انہوں نے انٹر نیشنل ریلشن، صحافت،ماس کمیونیکیشن اور فلمسازی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کر رکھی ہیں۔ ان کو تعلیم حاصل کرنے کا جنون کی حد تک شوق رہا ہے۔سمیرہ عزیز نے جدہ میں اپنے کاروبار’سمیرہ عزیز گروپ‘کی بنیاد ڈالی۔وہ ذاتی طور پرکئی کمپنیوں مثلاََ فلم کمپنی، اشتہاری ایجنسی (ایڈ ایجنسی)، غذائی کمپنی،امپورٹ ایکسپورٹ، ٹرانسپورٹ اور ایونٹ کمپنی اورشاپنگ اسٹور کی مالکہ ہیں۔ سمیرہ عزیز کی شادی اس وقت ہوئی تھی جب وہ محض 16برس کی تھیں۔ انہوں نے تعلیمی سلسلہ شادی کے بعد جاری رکھا اور محنت،ہمت و عزم کا طویل سفر طے کیا۔سعودی شہریت یافتہ ہوئے بھی اردو کا دامن انہوں نے نہ چھوڑا۔ میڈیا،ثقافت اور ادبی میدانوں میں اردو اور ا نگریزی زبانوں کا مثبت استعمال کرکے انہوں نے اپنے وطن سعودی عرب کو دنیا کے سامنے حقیقی طریقے سے روشناس کروانے کا ذریعہ حاصل کیا۔ ان کی شاعری میں ان کی اپنے وطنِ عزیز سعودی عرب سے محبت کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میں بنیادی طور پرایک صحافی ہوں اور رپورٹنگ کرنا میرا کام ہوا کرتا تھا۔ اسلئے معاشرے میں رونما ہونے والی ہر روداد میری شاعری میں جھلکتی ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی درد اور جذبوں کی عکاسی ملتی ہے۔وہ فر ضی واردات نہیں لکھتیں، چاہے وہ شاعری ہو یا فلم اسکرپٹ، وہ وہی کچھ لکھتی ہیں، جو اپنے ارد گرد دیکھ چکی ہوتی ہیں۔

    اپنی شاعری معاشرے کی نذر کرتے ہوئے وہ اہم بات کہتی ہیں کہ ”اگر سعودی عرب کے صحراء سے اردو شعر و نثر کے گلاب لے کر مَیں نہ نکلی تو کہیں یہ پھول مرجھا نہ جائے۔ مجھے اپنی اردو اور اس سے منسوب اپنی ذاتی کاوشوں پر فخر ہے۔اس وقت بطور سعودی شہری میں آگے نہ آئی تو اردو کا علَم اٹھا کر اس صحراء سے کون دنیا میں نکلے گا؟ صحراء میں عظیم زبان اردو کے پھول کھلتے ہیں، یہ کو ن بتائے گا؟تاریخ مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ میرا کو ئی بھی شعر میری ذات سے منصوب نہ کیجئے گا، بلکہ یہ دیکھئے گا کہ میں نے کسی دوسرے انسان کا درد و مسرت کتنی اپنائیت سے پیش کئے ہیں، اور کتنی سچائی و صاف گوئی سے دوسرے کے دکھ سکھ اپنا کر شعر کی صورت میں ڈھالے ہیں۔جس لمحے میرے شعر میں پوشیدہ ٹِیس و چبھن آپ کومحسوس ہوں، بس وہی میری کامیابی کا لمحہ ہے۔ آپ اگر اپنے ارد گرد اس طرح کے درد کو محسوس کریں تو اس کا مداوہ کرنے کیلئے اور کچھ نہیں کر سکتے ہوں تو ’صرف ایک مسکراہٹ‘ کسی کوہدیہ کرکے بھی دکھی انسانیت کو پیار کا پیغام دے سکتے ہیں۔ میرا پیغام ہے

    یونہی نہیں سخن کا اثاثہ ملا مجھے
    گزری ہے میری عمر کتابوں کے درمیاں

  • یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    یوم پیدائش،عنبریں حسیں عنبر،23 جون 1981

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

    اردو کی معروف پاکستانی شاعرہ عنبرین انصاری المعروف عنبرین حسیں عنبر 23 جون 1981 میں کراچی میں پیدا ہوئیں وہ اردو کے ممتاز شاعر ا ماہر تعلیم پروفیسر سحر انصاری کی صاحبزادی ہیں۔ عنبرین حسیں عنبر کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکی ہیں ۔ ان کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں وہ کراچی سمیت ملک بھر کے مشاعروں میں شرکت کرتی رہتی ہیں اور مشاعروں کی مقبول ترین شاعرات کی فہرست میں شامل ہیں۔

    شعری مجموعے

    ۔ (1)دل کے اُفق پر-2012ء
    ۔ (شعری مجموعہ)
    ۔ (2)تم بھی ناں-2020ء
    ۔ (شعری مجموعہ)

    عنبریں حسیں عنبر کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی
    ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا

    فیصلہ بچھڑنے کا کر لیا ہے جب تم نے
    پھر مری تمنا کیا پھر مری اجازت کیوں

    تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا
    کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں

    مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی
    میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو

    اب کے ہم نے بھی دیا ترک تعلق کا جواب
    ہونٹ خاموش رہے آنکھ نے بارش نہیں کی

    تم نے کس کیفیت میں مخاطب کیا
    کیف دیتا رہا لفظ تو دیر تک

    اڑ گئے سارے پرندے موسموں کی چاہ میں
    انتظار ان کا مگر بوڑھے شجر کرتے رہے

    عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت
    خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے

    اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے
    ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے

    ہم تو سنتے تھے کہ مل جاتے ہیں بچھڑے ہوئے لوگ
    تو جو بچھڑا ہے تو کیا وقت نے گردش نہیں کی

    دھیان میں آ کر بیٹھ گئے ہو تم بھی ناں
    مجھے مسلسل دیکھ رہے ہو تم بھی ناں

    بن کے ہنسی ہونٹوں پر بھی رہتے ہو
    اشکوں میں بھی تم بہتے ہو تم بھی ناں

    بھول جوتے ہیں مسافر رستہ
    لوگ کہتے ہیں کہانی پھر بھی

    دل جن کو ڈھونڈھتا ہے نہ جانے کہاں گئے
    خواب و خیال سے وہ زمانے کہاں گئے

    محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے
    در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا

    کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل
    میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی

    زندگی میں کبھی کسی کو بھی
    میں نے چاہا نہیں مگر تم کو

    وہ جنگ جس میں مقابل رہے ضمیر مرا
    مجھے وہ جیت بھی عنبرؔ نہ ہوگی ہار سے کم

    جو تم ہو تو یہ کیسے مان لوں میں
    کہ جو کچھ ہے یہاں بس اک گماں ہے

    کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی
    ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے

    عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے
    زمیں گم ہو تو پھر کیا آسماں ہے

    ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے
    نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم

    اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں
    ایک وحشت ہے کہ تعبیر ہوئی جاتی ہے

    لفظ کی حرمت مقدم ہے دل و جاں سے مجھے
    سچ تعارف ہے مرے ہر شعر ہر تحریر کا

    تشہیر تو مقصود نہیں قصۂ دل کی
    سو تجھ کو لکھا تیری نشانی نہیں لکھی

    اے آسماں کس لیے اس درجہ برہمی
    ہم نے تو تری سمت اشارا نہیں کیا

    مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہی
    ان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے

    پیروی سے ممکن ہے کب رسائی منزل تک
    نقش پا مٹانے کو گرد راہ کافی ہے

    قدر یوسف کی زمانے کو بتائی میں نے
    تم تو بیچ آئے اسے مصر کے بازاروں میں

  • پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا  وہ شخص

    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

    رشید قیصرانی ،21 جون : یوم وفات

    اردو کے ممتاز شاعر و ادیب رشید قیصرانی 13 دسمبر 1930 میں اپنے والد سردار شیر بہادر خان کی بسائی ہوئی بستی شیر گڑھ میں پیدا ہوئے رشید قیصرانی کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے مشہور بلوچ قبیلے قیصرانی کے سردار گھرانے سے تھا۔ آپ نے شاعری کالج کے زمانہ سے ہی شروع کی۔ آپ نہ صرف اردو غزل میں ملک کے صف اوّل کے شاعروں میں شمار ہوتے ہیں بلکہ آپ کا نام اردو ادب کا بھی ایک مقبول نام ہے۔ مشہور نقّاد ڈاکٹر عابد حسین نے 1955ء میں اردو ادب کی تاریخ لکھتے ہوئے رشید قیصرانی صاحب کو پاکستان کی غزل کی آواز قراردیا ہے۔اس کے بعد ڈاکٹر اختر ارینوی نے، ڈاکٹر انور سدید نے تاریخ ادب اردو میں خاص طور پر ان کا نام مرقوم کیا اور ان کی خدماتِ ادب کو سراہا ہے۔ اسی طرح ملک کے دیگر نامور ادیبوں اور شاعروں نے ان کے فن اور شخصیت پر مضامین لکھے ہیں، جن کوخالد اقبال یاسر اور جلیل حیدر لاشاری نے یکجا کر کے ’’رشید قیصرانی فن اور شخصیت‘‘کے نام سے ایک کتاب کی صورت میں شائع کروایا۔

    رشید قیصرانی کے پانچ شعری مجموعے شائع ہوئے: ’فصیل لب‘، ’صدیوں کا سفر تھا‘، ’نین جزیرے‘، ’سجدے‘ اور ’کنار زمین تک‘۔ پھر ملک کی سیاسی، سماجی اور معاشرتی صورتحال پر آپ کی کتاب Thought of the dayبھی شائع ہوئی جسے بڑی پذیرائی ملی۔ آپ کے اخباری کالم اور مضامین پر مشتمل ایک کتاب ’’یہ کیا ہے، یہ کیوں ہے‘‘ کے نام سے بھی شائع شدہ ہے۔

    آپ کا انتقال 21 جون ملتان میں ہوا آپ عرصے سےعارضہ قلب کے شکار تھے۔

    منتخب کلام بطور خراجِ تحسین:-

    میرے لیے تو حرف دعا ہو گیا وہ شخص
    سارے دکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص

    میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ
    اترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص

    سوچوں بھی اب اسے تو تخیل کے پر جلیں
    مجھ سے جدا ہوا تو خدا ہو گیا وہ شخص

    سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی
    میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ شخص

    میں اس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً
    سمٹا سمٹ کے رنگ حنا ہو گیا وہ شخص

    یوں بھی نہیں کہ پاس ہے میرے وہ ہم نفس
    یہ بھی غلط کہ مجھ سے جدا ہو گیا وہ شخص

    پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اسے رشید
    پھر یوں ہوا کہ مجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص

  • ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

    ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں
    ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    21 جون یوم پیدائش شہید بےنظیر بھٹو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔. .

    ہر وہ شخص جو پیدا ہوا موت اس کا مقدر ہے مگر عظیم لوگ مر کر بھی نہیں مرتے بلکہ جس دن وہ دفن ہوتے ہیں اس دن سے ان کی حیات نو کا آغاز ہو جاتا ہے

    شہیدبےنظیر بھٹو بھی ایک ایسی ہی شخصیت تھیں۔21 جون 1953 کوجب وہ پیدا ہوئیں تب ذوالفقارعلی بھٹو محض25 برس کے ایک خوبرو اور تعلیم یافتہ جوان تھے لیکن آنے والے وقتوں میں انہیں جو شخصی اور سیاسی عروج ملاشائد اس میں ان کی باسعادت بیٹی کےمقدرکےستارےکی چمک بھی شامل تھی۔بھٹوز کےبارےمیں کہاجاتا ہےکہ ان کی عمریں طویل نہیں ہوتیں جو تاریخی اعتبار سےدرست بھی ثابت ہوتا رہا۔ان کے والدذوالفقارعلی بھٹو51برس کی عمر میں مصلوب کردیےگئےاوروہ خود 54 برس کی عمرمیں پنڈی کے مقتل پہ وار دی گئیں۔یہی حادثاتی اموات ان کے بھائیوں کو بھی جواں عمری میں ان سے چھین کر لے گئیں

    شہیدبےنظیربھٹواپنی تاریخ پیدائش کےاعتبارسے gemeni تھیں جو کریم النفس مہمان نواز جلد روٹھنے اور جلد ماننے والے نیز معاف کردینے والے ہنس مکھ ملنسار رمز شناس اور رومانوی مزاج کے ہوتے ہیں۔وہ بھی انہی خصوصیات کی حامل تھیں۔زمانہ طالب علمی میں وہ ہہلے ہاروڈ یونیورسٹی امریکا اوربعدازاں آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ کی طلبہ یونین کی صدر رہیں۔اس دوران انہیں پہلے امریکا اورپھر انڈیا میں اپنے والد کے ساتھ سفارتی کام کا تجربہ بھی ہوا

    1977 میں اپنے والد کی حکومت کے خاتمے ان کی گرفتاری مقدمے اور بالآخر ان کی پھانسی کے بعد تک وہ ابتدا 4 برس قیداورنظربند اور4 ہی برس جلاوطن رہیں۔10 اپریل 1986 کوملک واپسی پرلاہور میں ان کا استقبال برصغیرکی اب تک کی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا اجتماع تھا جس نے وقت کےجابر آمرکےاقتدار کی چولیں ہلادیں۔تب وزیراعظم جونیجو نےضیا سےاختلاف کرکےشہیدبی بی کوسیاست میں حصہ لینےکا موقع دیا اور گول میز کانفرنس میں انہیں بلا کر سیاسی تاریخ کا نیا رخ متعین کیا۔ضیا کی حادثاتی موت کےبعدمنعقدہ انتخابات میں کامیابی کےبعدوہ پاکستان اور عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم منتخب ہوئیں جو جبریہ نظام کے خلاف ان کی پہلی بڑی کامیابی تھی۔ان کی دوسری بڑی کامیابی اپنے سب سے بڑےسیاسی مخالف میاں محمدنواز شریف کوپہلےپارلیمان کش آٹھویں ترمیم کے خاتمے اور بالآخر میثاق جمہوریت کے ذریعےانہیں پارلیمان اورجمہوریت کےمحافظ کاکردارسونپنااورطالع آزماوں کے راستےمسدودکرنا تھا۔

    شہید محترمہ کے فلسفہ سیاست میں نئے عمرانی معاہدے مفاہمت،جمہوریت بہترین انتقام ہے،اور پرامن جہد مسلسل کو دنیا بھر کی جامعات میں میں جدیدسیاسی فکر کےطور پر پڑھایا جاتا ہے
    آج کے دن ہم ان کی طویل جدوجہد سیاسی بصیرت اور ہرحال میں کامیابی کی امید اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جو پاکستان کی موجودہ اور آئندہ نسلوں کےلیے مشعل راہ ہیں۔۔۔بقول فیض

    گھر رہیے تو ویرانی دل کھانے کو آوے
    رہ چلیے تو ہرگام پہ غوغائے سگاں ہے
    ہم سہل طلب کون سے فرہاد تھے لیکن
    اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے

    عمران خان خود امپورٹڈ، بینظیر کو کس نے کہا تھا اس بچے کا خیال رکھنا؟ خورشید شاہ کا انکشاف

    بینظیر کے افتتاح کردہ سنٹر کو تبدیلی سرکار نے بیچنے کا اشتہار دے دیا

    آصفہ زرداری کس صورت میں الیکشن لڑیں گی؟ بڑا اعلان ہو گئا

    وزیرخارجہ بلاول زرداری سے متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کا ٹیلیفونک رابطہ

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

     انسانی حقوق کے متعلق ہمارا عزم غیر متزلزل ہے

    سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ سینیٹر فاروق حامد نائیک نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کو خراج تحسین پیش کیا ہے

    ایسا لگ رہا ہے جیسے بلاول بھٹو کے روپ میں بھٹو واپس آیا ہے

  • بندیا؛  ایک اداکارہ، گلوکارہ  اور  نیوز ریڈر

    بندیا؛ ایک اداکارہ، گلوکارہ اور نیوز ریڈر

    بندیا ایک پاکستانی فلم اور ٹی وی اداکارہ ، گلوکارہ اور نیوز ریڈر و انائونسر ہے جس نے 80 کی دہائی کے اوائل میں اپنے اداکاری کے کیریئر کا آغاز کیا۔ یہ خاتون اپنی بے باکی اور اداکاری کی وجہ سے ہمیشہ سرخیوں میں رہیں۔ اس نے 1980 کی دہائی میں اور 90 کی دہائی میں فلمی صنعت اور شائقین کے دلوں پر خوب راج کیا۔

    وہ ایک قدامت پسند خاندانی پس منظر سے تعلق رکھتی تھی، اور اس کے خاندان کے افراد شوبز انڈسٹری کے لیے مخالفانہ جذبات رکھتے تھے ، باوجود اس کے کہ وہ اپنے کیرئیر کے عروج پر پہنچ گئی اور پھر پراسرار طور پر غائب ہو گئی۔
    1960 میں پیدا ہونے والی بندیا کا تعلق ایک بااثر گھرانے سے ہے۔ ان کے بھائی جنرل ضیاء الحق کی حکومت میں اہم حکومتی عہدے پر تھے۔

    جبکہ ان کی بھانجی ونیزہ احمد پاکستان کی معروف ماڈل ہیں۔ بندیا کا اصل نام روبینہ ہے، انہوں نے 70 کی دہائی کے آخر میں پی ٹی وی اسلام آباد سے انگریزی نیوز کاسٹر کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ بعد میں اس نے فلموں، ٹی وی ڈراموں اور اسٹیج میں اداکاری کی اور گلوکاری بھی کی۔ 90 کی دہائی کے اوائل میں بندیا نے شوبز سے وقفہ لیا اور امریکہ چلی گئیں۔ تقریباً 15 سال کے وقفے کے بعد وہ پاکستان واپس آئیں اور جیو ٹی وی پر "میری بہن مایا” جیسے ڈراموں میں نظر آئیں۔

    بندیا نے دو شادیاں کی ہیں۔ ان کا پہلا شوہر اردن سے پائلٹ تھا اور دوسری شادی ایک امریکی پاکستانی ڈاکٹر سے ہوئی لیکن ڈیڑھ سال بعد دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ یہ دلکش عورت اب 63 سال کی ہے اور اب بھی اپنے لیے صحیح روح کے ساتھی کی تلاش میں ہے۔ بندیا شوہر کی تلاش کے لیے ٹی وی پر ایک پروگرام کا حصہ بھی رہ چکی ہیں۔ یہ بندیا کی تیسری شادی ہوگی۔

    پہلی شادی سے ان کا ایک بیٹا جہانزیب الخمیش ہے جو اس کے پہلے شوہر سے ہے اور اس کے تین پوتے بھی ہیں۔ جبکہ ایک اطلاع ہے کہ بندیا نے تیسری شادی کر لی ہے اور اس کے نئے شوہر نے اسے شوبز میں کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کے بیٹے نے بھی اس فیصلے میں اس کی پوری طرح مدد کی۔ انہوں نے 26 فلموں میں کام کیا جن میں سے 21 اردو، 4 پنجابی اور 1 پشتو فلم۔ وہ مندرجہ ذیل فلموں میں نظر آئیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مرتضیٰ وہاب کی میئر کراچی کی حیثیت سے تقرری کا نوٹیفیکیشن چیلنج

    ویڈیو بیان میں کوئی اشتعال نہیں پھیلایا ،معلوم ہی نہیں کہ لوگ کہاں سے آئے،عمران خان

    عمران خان کا بیانیہ غیر ملکی میڈیا کے سامنے بھی غیر مقبول

    سیکرٹری دفاع کا دفاعی وفد کے ہمراہ ایران کا دورہ
    بیگم جان، یادوں کی بارات، نذرانہ، آواز، شعلہ، بہن بھائی، وعدے کی زنجیر، ترانہ، پاکیزہ، مسٹر رانجھا، آپ کی خاطر، چھوٹے نواب، ساتھی، بڑا ادمی، مسٹر افلاطون، رستم، تانگے والی، سنگدل۔ آہٹ، ایک دن بہو کا، آنگن، مقدر کا سکندر، خان بلوچ، دیوانے دو، جورا، میرا انصاف اور یادوں دولے (پشتو) شامل ہیں ۔

  • 19 جون؛ ارشد غازی  کا یوم پیدائش

    19 جون؛ ارشد غازی کا یوم پیدائش

    وہ خود سری ہے زباں تک سے التجا نہ ہوئی
    کہ ہم سے رسم جہاں آج تک ادا نہ ہوئی

    ارشد غازی کا وطن انبیہٹہ پیرزادگان سہارنپور یوپی ہے۔پیدائش اور تمام ممبئ میں 19 جون 1958 کو ہوئی ۔نجیب الطرفین ارشد غازی کی ننھیال دیوبند اور دادھیال انبیہٹہ کی ہے ۔مولانا انصاری مدار المہام،وزیراعظم ریاست گوالیار سے وہ پانچویں پشت میں ہیں ۔بہت سلسلہ روزگار طویل عرصہ ملک سے باہر رہے۔دار العلوم دیوبند،مظاہر العلوم سہارنپور اور ندوتہ العلماء کی تاسیس میں ان کے اجداد بنیادی اراکین بلکہ اصل محرک رہے انگریزوں کے خلاف ان کے اسلاف نے دو بار جہاد کے فتوی پر دستخط کئے ۔ان کے والد مولانا حامد الانصاری غازی جو کتاب ‘ اسلام کا نظام حکومت ‘کے مولف ہیں ۔والدہ مشہور زمانہ مصنفہ ہاجرہ نازلی ہیں ۔یہی سبب ہے کہ ارشد غازی کی تحریروں اور اشعار میں اس فکر کی جھلک ملتی ہے۔

    ارشد غازی تعلیمی و ثقافتی ادارے اکیڈمی آف ساؤتھ ایشین اسٹڈیز(اساس )کے چیئرمین ہیں جو انہوں نے ستمبر 1999 میں اپنے رفقاء کے ساتھ مل کر علی گڑھ میں قائم کیا ۔اساس ایک غیر سیاسی، غیرجانبدار علمی، تحقیقی و تعلیمی ادارہ ہے جس کا تعلیمی پروگرام بر صغیر میں مدرسہ جدید کاری سے متعلق اس کی عالمی تحریک کا حصہ ہے ۔

    : ارشد غازی کا بنیادی کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے برصغیر کے مدارس اسلامیہ کے لئے سو سے زیادہ جدید درسی کتابیں تیار کیں۔جس میں ملک کے نامی گرامی ماہر تعلیم کا انہیں تعاون حاصل رہا ۔انہوں نے متعدد غیر ملکی اسفارکئے،تین سال قبل حسن روحانی صدر ایران کی دعوت پر ایران گئے جہاں ان کے 12 لیکچر وحدت اسلامی اور ایران و ہند تعلقات پر ہوئے۔

    ان کا شعری مجموعہ ‘نصاب آگہی’ کے نام سے 2015 میں منظر عام پر آیا۔گزشتہ ماہ دوسری کتاب ‘” صحیفہ فکر ” کا اجراء عمل میں آیا جو 360 مطالعوں پر مشتمل ہے ۔شاعری میں باضابطہ ان کا کوئی استاد نہیں رہا۔البتہ بی اے میں اردو کی ایک سندھی پروفیسر مادھوری اکثر ان کے شعر درست کردیا کرتی تھیں ۔ دیگر کتابوں میں افکار سید حامد، حیات وخدمات مولانا حامد الانصاری غازی و مولانا عبداللہ انصاری و مولانا منصور انصاری اور علمائے ہند ہیں۔

    فی الحال وہ مع اہل وعیال علی گڑھ میں مقیم ہیں
    ارشد غازی کا مشہور مقولہ ہے۔۔
    محبت ! خیال رکھنے کا نام ہے

    معروف شاعر ،ماہر تعلیم اور اساس کے چئیرمین ارشد غازی کے یوم ولادت پر ان کا کلام بطور خراج عقیدت پیش خدمت ہے

    : حصار کون و مکاں سے نکلوں تو آگہی کا نصاب لکھوں
    قلم پہ لفظوں کی بندشیں ہیں وگرنہ اس پر کتاب لکھوں
    ___
    ادب میں شجرہ غالب کی یاد گار ہوں میں
    وہ کاروان سخن تھا پس غبار ہوں میں
    فصیل شہر میں شہرت ہے کج کلاہی کی
    کہ تخت مملکت دل کا تاجدار ہوں میں
    ___
    وہ خود سری ہے زباں تک سے التجا نہ ہوئی
    کہ ہم سے رسم جہاں آج تک ادا نہ ہوئی
    __
    نہیں اوصاف کچھ رہبر کے لیکن
    کئے ہیں کام پیغمبر کے لیکن
    ___
    ُفصیل شہر سے باہر مکان ہے میرا
    کہیں نہ ٹھہرو مرے گھر کا جب ارادہ کرو
    _
    مجھ سے یوں کہتا ہوا گزرا ہے دیوانہ کوئی
    کیوں نہیں لکھوالیا قسمت میں ویرانہ کوئی
    __
    آگہی کے شوق میں دیکھا نصاب آگہی
    اب میری نس نس کو ڈستا ہے عذاب آگہی
    یا مجھے دیوانہ کر یا ایک چلمن اور ڈال
    کوئی گستاخی نہ کر دے اضطراب آگہی
    __
    سحر ملی نہ ملی رات سے نکل آئے
    خدا کا شکر غم ذات سے نکل آئے
    _
    آگیا ان کا پھر خیال ہمیں
    اے غم عشق تو سنبھال ہمیں
    بے خودی میں یہ ہوش ہی نہ رہا
    کسی سے کرنا تھا عرض حال ہمیں

  • اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    محرم جاں کوئی دیوار نہ در لگتا ہے
    اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    آفاق احمد صدیقی

    پیدائش:04 مئی 1928ء
    فرخ آباد، وبرطانوی ہند

    وفات:17 جون 2012ء
    کراچی، پاکستان

    مدفن:سخی حسن، کراچی

    مادر علمی:جامعہ علی گڑھ
    زبان:اردو، سندھی

    اعزازات:

    تمغائے حسن کارکردگی

    آفاق صدیقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو اور سندھی زبان کے نامور شاعر، نقاد، مترجم اور پروفیسر تھے۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آفاق صدیقی 04 مئی، 1928ء کو فرخ آباد، اترپردیش، برطانوی ہندستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا پورا نام محمد آفاق احمد صدیقی تھا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وہ سکھر میں آباد ہوئے اور انہوں نے تدریس کے شعبے سے وابستگی اختیار کی۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آفاق صدیقی کی مادری زبان اگرچہ اردو تھی لیکن انہیں فارسی، ہندی اور سندھی زبانوں پر بھی دسترس حاصل تھی۔ شاید اسی بنا پر انہیں تحقیق اور ترجمے سے بھی رغبت تھی اور ان کے قریبی دوستوں کے مطابق انہوں نے چالیس کے لگ بھگ تصانیف چھوڑی ہیں جن میں اٹھارہ تصانیف سندھی زبان میں ہیں۔ ان کے تحقیقی کام اور تراجم کو اردو اور سندھی ادب کے حوالے سے نہایت اہم تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست اور شیخ ایاز کی شاعری کو بھی اردو میں منتقل کیا۔ ان کی ان خدمات کی بنا پر انہیں سندھی اور اردو بولنے والوں کے درمیان ایک پل بھی قرار دیا جاتا تھا۔ 1951ء میں انہوں نے رسالہ کوہ کن نکالا۔ 1953ء میں سندھی ادبی سرکل قائم کیا۔

    آفاق صدیقی نے مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی کے نام سے ایک تنظیم قائم کی جس نے سکھر اور شہر کے نواح میں چودہ ایسے اسکول قائم کیے جن میں کم اور اوسط آمدنی والے خاندانوں کے بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی۔ تدریسی فرائض سے ریٹائر کیے جانے کے بعد وہ کراچی منتقل ہو گئے اور اردو سندھی ادبی فاؤنڈیشن کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ اس تنظیم کے قیام کا مقصد ایسے ادیبوں کی کتابیں شائع کرانا تھا جو اپنی کتابیں خود شائع کرانے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

    آفاق صدیقی کی تصانیف میں پاکستان ہمارا ہے، کوثر و تسنیم، قلب سراپا، ریزہ جاں، تاثرات، عکس لطیف، شاعر حق نوا، پیام لطیف، اقوال سچل، بساط ادب، بابائے اردو وادی مہران میں، ادب جھروکے ، گلڈ کہانی، ادب گوشے، ریگزار کے موتی، ماروی کے دیس میں اور جدید سندھی ادب کے اردو تراجم شامل ہیں۔ ان کی خود نوشت سوانح عمری صبح کرنا شام کا کے نام سے شائع ہوچکی ہے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ارمغان عقیدت
    ادب زاویے (مضامین)
    شاہ لطیف اور عصر حاضر (لطیفیات)
    سندھی ادب کے اُردو تراجم (ترجمہ)
    جدید سندھی ادب (تنقید)
    ریگزار کے موتی (شمالی سندھ کے شعرا)
    بابائے اُردو وادیٔ مہران میں
    بوئے گل و نالۂ دل (شیخ ایاز کا اُردو کلام) (ترتیب)
    ادب جھروکے (مضامین)
    شخصیت ساز (مضامین)
    احوال سچل()انتخاب کلام سچل سائیں
    پیام لطیف (شاہ لطیف کا پیام و کلام)
    شاعر حق نما (سچل سرمت کی شاعری اور شخصیت)
    تاثرات (تنقیدی مضامین)
    پاکستان ہمارا ہے (ملی نغمے)
    بڑھائے جا قدم ابھی
    صبح کرنا شام کرنا (خود نوشت سوانح عمری)
    سُر لطیف(گیت)
    کوثر و تسنیم (حمد،نعت و منقبت)
    عکس ِلطیف (لطیفیات)
    ریزہ جاں (شاعری)
    قلب سراپا (شاعری)
    محمد عثمان ڈیپلائی : شخصیت اور فن
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    حکومت پاکستان نے آفاق صدیقی کی خدمات کے صلے میں صدارتی اعزاز برائےحسن کارکردگی سے نوازا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لطیف ایکسیلینس ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کیا زمیں کیا آسماں کچھ بھی نہیں
    ہم نہ ہوں تو یہ جہاں کچھ بھی نہیں
    دیدہ و دل کی رفاقت کے بغیر
    فصل گل ہو یا خزاں کچھ بھی نہیں
    پتھروں میں ہم بھی پتھر ہو گئے
    اب غم سود و زیاں کچھ بھی نہیں
    کیا قیامت ہے کہ اپنے دیس میں
    اعتبار جسم و جاں کچھ بھی نہیں
    کیسے کیسے سر کشیدہ لوگ تھے
    جن کا اب نام و نشاں کچھ بھی نہیں
    ایک احساس محبت کے سوا
    حاصل عمر رواں کچھ بھی نہیں
    کوئی موضوع سخن ہی جب نہ ہو
    صرف انداز بیاں کچھ بھی نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    محرم جاں کوئی دیوار نہ در لگتا ہے
    اپنا گھر اب تو کسی اور کا گھر لگتا ہے

    ہم بھی دیکھیں تو کہیں جنس وفا کی صورت
    کوئی بتلائے وہ بازار کدھر لگتا ہے

  • یوم وفات، طارق عزیز

    یوم وفات، طارق عزیز

    تاریخ پیدائش:28 اپریل 1936ء
    ساہیوال
    تاریخ وفات:17 جون 2020ء

    اداکار، ٹی وی میزبان، شاعر اور سیاستدان

    وجہِ شہرت:بزم طارق عزیز ٹی وی شو
    ٹیلی ویژن:نیلام گھر ٹی وی سوال جواب کا شو
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    تمغا حسن کارکردگی 1992ء میں

    طارق عزیز (28 اپریل 1936ء) پاکستان کے نامور صداکار، اداکار اور شاعر تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    طارق عزیز 28 اپریل 1936ء کو جالندھر، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جالندھر کی آرائیں گھرانے سے ان کا تعلق ہے۔ ان کے والد میاں عبد العزیز 1947 میں پاکستان چلے گئے۔ انھوں نے اپنا بچپن ساہیوال 142/9L میں گزارا۔ طارق عزیز نے ابتدائی تعلیم ساہیوال سے ہی میں حاصل کی۔ اس کے بعد انھوں نے ریڈیو پاکستان لاہور سے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا۔ جب 1964ء میں پاکستان ٹیلی ویژن کا قیام عمل میں آیا تو طارق عزیز پی ٹی وی کے سب سے پہلے مرد اناؤنسر تھے۔ تاہم 1975 میں شروع کیے جانے والے ان کے سٹیج شو نیلام گھر نے ان کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔ یہ پروگرام کئی سال تک جاری رہا اور اسے بعد میں بزمِ طارق عزیز شو کا نام دے دیا گیا۔
    طارق عزیز ہمہ جہت شخصیت تھے۔ انھوں نے ریڈیو اور ٹی وی کے پروگراموں کے علاوہ فلموں میں بھی اداکاری کی۔ ان کی سب سے پہلی فلم انسانیت (1967 ) تھی اور ان کی دیگر مشہور فلموں میں سالگرہ، قسم اس وقت کی، کٹاری، چراغ کہاں روشنی کہاں، ہار گیا انسان قابل ذکر ہیں۔
    انھیں ان کی فنی خدمات پر بہت سے ایوارڈ مل چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان کی طرف سے 1992ء میں حسن کارکردگی کے تمغے سے بھی نوازا گیا۔ طارق عزیز نے سیاست میں بھی حصہ لیا اور 1997 میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    طارق عزیز ایک علم دوست شخصیت ہونے کے حوالے سے خود بھی قلم کو اپنے اطہار کا ذریعہ بناتے رہے ہیں۔ ان کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ ان کے کالموں کا ایک مجموعہ ’’داستان‘‘ کے نام سے اورپنجابی شاعری کا مجموعہ کلام ’’ہمزاد دا دکھ‘‘ شائع ہو چکا ہے۔ انہوں نے نہ صرف اردو بلکہ اپنی مادری زبان پنجابی میں بھی شاعری کی ہے۔
    پنجابی غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    گناہ کیہ اے، ثواب کیہ اے
    ایہہ فیصلے دا عذاب کیہ اے
    میں سوچناں واں چونہوں دِناں لئی
    ایہہ خواہشاں دا حباب کیہ اے
    جے حرف اوکھے میں پڑھ نئیں سکدا
    تے فیر جگ دی کتاب کیہ اے
    ایہہ سارے دھوکے یقین دے نے
    نئیں تے شاخ گلاب کیہ اے
    ایہہ ساری بستی عذاب وچ اے
    تے حکم عالی جناب کیہ اے

    آزاد نظم سے اقتباس
    ۔۔۔۔۔۔
    دوست یہ تو کی ہے تو نے بچوں کی سی بات
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبوؤں کے بھید
    اس میں دل پر گہرے درد کا بھالا کھانا پڑتا ہے
    ہنستے بستے گھر کو چھوڑ کے بن میں جانا پڑتا ہے
    تنہائی میں عفریتوں سے خود کو بچانا پڑتا ہے
    خوشبوگھر کے دروازوں پر کالے راس رچاتے ہیں
    جو بھی واں سے گزرے اس کو اپنے پاس بلاتے ہیں
    زہر بھری پھنکار سے اس کے جی کو خوب ڈراتے ہیں
    جو کوئی چاہے پا سکتا ہے خوشبووں کے بھید

    تنقید و آراء
    ۔۔۔۔۔۔
    پی ٹی وی کراچی کے سابق جی ایم قاسم جلالی نے طارق عزیز کی بحیثیت پروگرام کمپئیر فنی صلاحیتوں کا ان الفاظ میں اعتراف کیا ہے۔
    ”ان دنوں جبکہ پروگرام ریکارڈ کرنے کی بجائے براہ راست چلائے جاتے تھے، طارق عزیز کو سخت محنت کرنا پڑتی تھی۔پروگرام شروع کرنے کے بعد کسی اداکار یا کردار نے آنا ہوتا تھا اور اسے آنے میں تاخیر ہوجاتی تو طارق عزیز دیکھنے والوں کو اپنی ایسی باتوں میں لگا لیتے کہ تاخیر محسوس ہی نہیں ہوتی تھی ، یوں تاخیر کا عرصہ کمال خوبی سے ازخود نکل جاتا تھا۔“
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

  • صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    صبیحہ خانم کا دوسرا عشق

    کیسے کیسے لوگ /آغا نیاز مگسی

    میرا خیال ہے کہ ایک انسان وہ مرد ہو خواہ عورت زندگی میں جتنی بار بھی عشق کرتا ہے وہ اس کے پہلے عشق کی تجدید یا تسلسل ہوتا ہے اسے ہر نئے محبوب یا محبوبہ میں اپنا پہلا پیار یا پہلی محبت نظر آتی ہے پاکستان کی خوب صورت اداکارہ صبیحہ خانم کا دوسرا عشق بھی اس کی ” پہلی سی محبت ” کا تسلسل ہی معلوم ہوتا ہے ۔ صبیحہ خانم جن کا اصل نام مختار بیگم ان کے والد کا نام محمد علی عرف ماہیا اور والدہ کا نام اقبال بیگم عرف بالو ہے۔ صبیحہ خانم 16 اکتوبر 1935 میں گجرات میں پیدا ہوئیں۔ 1948 میں انہوں نے اسٹیج ڈراموں میں اداکاری کا آغاز کیا ۔ ڈرامہ رائٹر اور شاعر نفیس خلیلی نے انہیں اپنے اسٹیج ڈرامہ ” بت شکن ” میں متعارف کرایا اور انہوں نے ہی مختار بیگم کو صبیحہ خانم کا نام دیا۔ نفیس خلیلی ہی کی سفارش پر فلم ہدایتکار مسعود پرویز نے صبیحہ کو اپنی پہلی فلم ” بیلی” میں شامل کیا یہ فلم 1950 میں ریلیز ہوئی صبیحہ خانم کی بطور اداکارہ یہ پہلی فلم تھی اور مسعود پرویز کی بطور ہدایت کار بھی یہ پہلی فلم تھی۔ فلمی دنیا میں داخل ہونے کے بعد صبیحہ اس وقت کے مشہور فلمی اداکاروں لالہ سدھیر، سنتوش کمار اور درپن کے ساتھ اپنا فلمی کیریئر جاری رکھے ہوئے تھی ۔ اسی میل ملاپ اور قربت کے باعث صبیحہ کو اپنے دور کے ایک مشہور اور خوب صورت فلمی ہیرو سید عشرت عباس المعروف درپن سے عشق ہو گیا اور دونوں نے زندگی بھر ساتھ رہنے اور نبھانے کی غرض سے شادی کا فیصلہ کیا لیکن درپن کے والدین اور بڑے بھائی مشہور فلمی ہیرو سید موسیٰ رضا المعروف سنتوش کمار نے ان کی شادی کو اپنے خاندانی وقار کے منافی قرار دیتے ہوئے مخالفت کی جس کی وجہ سے صبیحہ خانم کی پہلی محبت ادھوری رہ گئی پھر عجیب بات یہ ہوئی کہ صبیحہ خانم کو فلموں میں ایک ساتھ کام کرتے کرتے سنتوش کمار سے محبت ہو گئی اور ان دونوں نے یکم اکتوبر 1958 میں خاندانی وقار کو خاطر میں لائے بغیر شادی کر لی۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ سنتوش کمار پہلے سے شادی شدہ تھے جبکہ ان کے چھوٹے بھائی درپن اس وقت غیر شادی شدہ تھے لیکن وہ صبیحہ خانم کو حاصل کرنے سے محروم رہ گئے۔

    صبیحہ خانم کو بہت سے منفرد اور قابل فخر بلکہ تاریخی اہمیت کے حامل اعزازات حاصل رہے ہیں ان کا سب سے بڑا اعزاز یہ ہے کہ انہیں روس کے شہر تاشقند میں منعقد ہونے والے فلم فیسٹیول میں بہترین غیر ملکی اداکارہ کا ایوارڈ دیا گیا ان کا دوسرا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ وہ پاکستان کی سلور جوبلی فلم ” دو آنسوں” کی ہیروئن تھیں ان کا تیسرا تاریخی اعزاز یہ ہے کہ انہیں پاکستان کی پہلی گولڈن جوبلی فلم” سسی” کی ہیروئن کا بھی اعزاز حاصل ہوا ۔ صبیحہ خانم کی یادگار فلموں میں ، اک گناہ اور سہی، سسی، دو آنسوں، عشق لیلیٰ ، دلا بھٹی، وعدہ، پاسبان، شیخ چلی اور سات لاکھ وغیرہ شامل ہیں ۔ وہ 1999 میں اپنی بیٹی فریحہ کے پاس امریکہ منتقل ہو گئیں اور 13 جون 2020 ریاست ورجینیا میں ان کا انتقال ہوا۔ صبیحہ کی دوسری بیٹی کا نام عافیہ اور اکلوتے بیٹے کا نام احسن رضا ہے وہ بھی امریکہ میں مقیم ہے۔ صبیحہ خانم کی 3 نواسیاں ہیں جن میں مہوش ، مہرین اور سحرش خان ہیں یہ تینوں بھی امریکہ میں مقیم ہیں ۔ سحرش خان کو امریکہ میں پاکستانی طلبہ اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن کی صدر رہنے کا اعزاز حاصل ہے وہ ایک وکیل بھی ہیں اور فلمی اداکارہ بھی ۔ صبیحہ خانم کی تدفین امریکی ریاست ورجینیا کے شہر اسٹرلنگ کے قبرستان میں کی گئی ہے۔

  • یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    مصطفے جان رحمت پہ لاکھوں سلام
    یوم پیدائش،امام احمد رضا خان بریلوی

    1856 یوم پیدائش

    امام احمد رضا خان کی وجہ شہرت میں اہم آپ کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزا رہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتے ہیں۔

    امام احمد رضا خان 14 جون 1856 بمطابق 10 شوال المکرم 1272 ھجری کو بریلی میں پیدا ہوئے ۔

    رسم بسم اللہ خوانی کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ قرآن مجید ناظرہ ختم کرنے اور اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد مرزا غلام قادر بیگ سے میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ نے اپنے والد نقی علی خان سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے : علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علم ہندسہ۔

    تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر میں 14 شعبان 1286 ھ مطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔ اسی دن مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی لکھ کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا۔ جواب بالکل صحیح تھا۔ والد ماجد نے ذہن نقاد و طبع وقاد دیکھ کر اسی وقت سے فتوی نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کردی۔ آپ نے تعلیم طریقت سید آل رسول مارہروی سے حاصل کی۔ مرشد کے وصال کے بعد بعض تعلیم طریقت نیز ابتدائی علم تکسیر و ابتدائی علم جفر و غیر ہ سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی سے حاصل فرمایا۔ شرح چغمینی کا بعض حصہ عبد العلی رامپوری سے پڑھا۔

    فاضل بریلوی 1294ھ،1877ء میں اپنے والد نقی علی خان کے ہمراہ حضرت شاہ آل (م 1878ء ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے۔

    یوں تو آپ نے1286ھ سے 1340ھ تک ہزاروں فتوے لکھے۔ لیکن سب کو نقل نہ کیا جاسکا، جو نقل کر لیے گئے تھے ان کا نام العطایا النبویہ فی الفتاوی رضویہ رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ جدید کی 33 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 22 ہزار سے زیادہ کل سوالات مع جوابات 6847 اور کل رسائل 206 ہیں۔

    آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی کیا۔ آپ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان” ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔ اس ترجمہ کو اب تک انگریزی (میں تین بار)، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وغیرہ میں ڈھالا جا چکا ہے۔

    25 صفر 1340ھ مطابق 28 اکتوبر 1921ء کو جمعہ کے دن ہندوستانی کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ پر عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار بریلی میں ہے