Baaghi TV

Author: آغا نیاز مگسی

  • اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا

    اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا

    14 جون 1957 یوم پیدائش

    اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی معروف اداکارہ ، فلمساز اور ہدایتکارہ سنگیتا 14 جون 1957 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب کا نام سید طیب حسین رضوی والدہ محترمہ کا نام سیدہ مہتاب رضوی ہے ۔ سنگیتا کا اصل نام سیدہ پروین رضوی ہے ۔ ان کی دو بہنیں نسرین رضوی اور حنا رضوی جبکہ ایک بھائی رضا علی رضوی ہیں ۔ ان کی بہن نسرین رضوی بھی اداکارہ ہیں جو کہ کویتا کے نام سے مشہور ہیں ۔ سنگیتا اور کویتا کی والدہ محترمہ مہتاب رضوی کا تعلق بھی فلمی دنیا سے رہا ہے۔ سنگیتا نے 1966 سے چائلڈ اسٹار کی حیثیت سے 12 سال کی عمر میں اپنے فلمی کیریئر کا آغاز کیا اور 1971 میں وہ کراچی سے لاہور منتقل ہو گئیں ۔ سنگیتا صاحبہ نے دو شادیاں کی ہیں ۔ پہلی شادی اپنے ایک ساتھی اداکار ہمایوں قریشی سے کی جس سے انہیں ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن یہ شادی ناکام ہوئی جس کی وجہ سے ان کے درمیان علیحدگی ہو گئیں انہوں نے دوسری شادی ایک کاروباری شخصیت نوید اکبر بٹ صاحب سے کی اور ماشاء الله ان کی خوشگوار ازدواجی زندگی گزر رہی ہے ۔

  • ڈاچی والیا موڑ  مہار وے

    ڈاچی والیا موڑ مہار وے

    ڈاچی والیا موڑ مہار وے

    سریندر کور

    بلبل پنجاب کا خطاب پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ

    14 جون 2006: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بلبل پنجاب کے نام سے شہرت پانے والی گلوکارہ اور شاعرہ سریندر کور 25 نومبر 1929 کو لاہور میں پیدا ہوئیں ۔ وہ پنجابی لوک گیت کی صنف میں اپنی شراکت کے لیے مشہور تھیں۔ انہوں نے نے کئی مشہور اشعار گائے ہیں جن میں نند لال نورپوری، موہن سنگھ، امریتا پریتم اور دیگر نے لکھا ہےجبکہ کئی گیت اور اشعار خود ان کے اپنے لکھے ہوئے ہیں ۔انہوں نے بلھے شاہ کے پنجابی صوفی کافیاں بھی گائیں اور خوب پذیرائی حاصل کی۔ ان کے چند مقبول گانوں میں ‘جتی قصوری ۔پڑیاں نہ غریبی’، ‘گھمن دی رات لمی ہے جان میرے گیت لمے نے’، ‘اہنا آکھیاں’ ‘چ پون کیون کالرا’، ‘ماونتے دھیان’، ‘لٹھے دی چادر’، ‘کالا’ شامل ہیں۔ ڈوریا اور بہت کچھ۔ وہ اپنی بڑی بہن پرکاش کور کے ساتھ جوڑی کے ساتھ ملک بھر میں مشہور ہوگئیں۔ انہوں نے آسا سنگھ مستانہ، رنگیلا جٹ، کرنیل گل، دیدار سندھو اور یہاں تک کہ اپنی بیٹی ڈولی گلیریا اور پوتی سنائی کے ساتھ گایا ہے۔ چھ دہائیوں پر محیط اپنے کیریئر میں انہوں نے اپنے فنی کیریئر کا آغاز 1943 میں لاہور ریڈیو اسٹیشن سے کیا جبکہ مجموعی طور پر انہوں نے 2,000 سے زیادہ گانے ریکارڈ کیے۔ سال 1984 میں، انہیں پنجابی لوک موسیقی کے لیے سنگیت ناٹک اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں 2006 میں حکومت ہند کی طرف سے چوتھا سب سے بڑا سول ایوارڈ پدم شری بھی ملا۔ انہیں ملینیم پنجابی سنگر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ انہیں 2002 میں گرو نانک دیو یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا گیا۔ سریندر کور کا انتقال 14 جون 2006 کو 77 سال کی عمر میں نیو جرسی، امریکہ کے ایک ہسپتال میں ہوا۔ بھارت کے وزیر اعظم من موہن سنگھ نے سریندر کور کو ان کی وفات کے بعد بلبل پنجاب کا خطاب دیا۔

    سریندر کور تقسیم ہند کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ غازی پور ہندوستان منتقل ہو گئیں ۔ 1948 میں ان کی شادی دہلی یونیورسٹی کے پنجابی شعبہ کے سربراہ پروفیسر جوگندر سنگھ سوڈھی سے ہوئی تھی، جنہوں نے بعد میں ہندی فلم انڈسٹری میں ان کا کیریئر بنانے میں بہت بڑی مدد کی۔ یہ جوڑے پنجاب میں انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن کے سربراہ تھے۔ 2006 میں دور درشن پر ان کی زندگی اور شراکت پر ایک دستاویزی فلم، ’پنجاب دی کوئل‘۔ نشر کی گئی ان کی بہن پرکاش کور اور بڑی بیٹی ڈولی گلیریا بھی گلوکارہ ہیں۔ سریندر کور کی 3 بیٹیاں ہیں ۔ بڑی بیٹی ڈولی گلیریا پنجکولہ امریکہ میں رہتی ہیں جبکہ نندینی سنگھ اور پرمودنی نیو جرسی امریکہ میں آباد ہیں ۔

  • نامور مصنف، مترجم، سیاستدان چنگیز اعتما توف کا یوم وفات

    نامور مصنف، مترجم، سیاستدان چنگیز اعتما توف کا یوم وفات

    پیدائش:12 دسمبر 1928ء
    وفات:10 جون 2008ء
    نورنبرگ
    وجۂ وفات:نمونیا، گردے فیل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:سوویت اتحاد
    کرغیزستان
    جماعت:اشتمالی جماعت سوویت اتحاد
    مادر علمی:گورکی انسٹی ٹیوٹ برائے عالمی ادب
    مادری زبان:کرغیز زبان
    پیشہ ورانہ زبان:فرانسیسی، روسی، کرغیز
    اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اعزاز اکتوبر انقلاب (1988)
    آرڈر آف لینن (1971)

    چنگیز اعتماتوف سوویت اور کرغیزستان کے نامور مصنف، مترجم، سیاستدان، سفارت کار اور کرغیز و روسی ادب کی مشہور شخصیت تھے جو اپنے ناول ”جمیلہ“ کی وجہ سے مشہور و معروف ہیں۔
    حالات زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف سوویت یونین میں کرغیزستان کے ایک گاؤں شیکر میں 12 دسمبر، 1928ء کو کرغیز باپ اور تاتار ماں کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کو جوزف اسٹالن کی طرف سے 1938ء میں پھانسی دی گئی۔ چنگیز اعتماتوف نے ادبی زندگی کا آغاز 1952ء میں کیا اور 1959ء سے روسی اخبار پرودا کے لیے بطور کرگیز نامہ نگار لکھنا شروع کیا۔ انہیں اہم شناخت اپنی نصنف پہاڑوں اور مرغزاروں کی کہانیاں 1963ء سے حاصل ہوئی۔ اس تصنیف پر انہیں سال 1963ء کا لینن انعام دیا گیا۔ چنگیز اعتماتوف نے اپنی تخلیقات میں محبت، دوستی، جنگی ہیروازم اور کرغیز نوجوانوں کی سماجی و روایتی پابندیوں کو موضوع بنایا ہے۔ چنگیز اعتماتوف کی اہم تخلیقات میں دشوار راستہ 1958ء، روبرو 1957ء، جمیلہ 1958ء، پہلا استاد 1967ء، سفید دخانی کشتی 1970ء شامل ہیں۔
    سیاست و سفارت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف ادیب کے علاوہ سیاست دان اور سفارت کار ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہیں۔ انہیں 1966ء میں سوویت یونین کی اعلیٰ سوویت کا رکن بنایا گیا۔ 1967ء میں اگزیکٹیو بورڈ برائے سوویت انجمن مصنفین کے رکن، مشیر برائے صدر سوویت یونین میخائل گورباچوف، سوویت سفیر برائے لکسمبرگ اور 1990ء میں کرغیزستان کے سفیر برائے یورپی یونین مقرر ہوئے۔
    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔
    ناول و افسانے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1956ء – دشوار راستہ
    ۔۔۔ 1957ء – روبرو
    ۔۔۔ 1958ء – جمیلہ
    ۔۔۔ 1962ء – پہلا استاد
    ۔۔۔ 1963ء – پہاڑوں اور
    ۔۔۔ مرغزاروں کی کہانیاں
    ۔۔۔ 1970ء – سفید دخانی کشتی
    ۔۔۔ 1977ء – سمندرکے کنارے
    ۔۔۔ دوڑتا ہوا چتکبری کتا
    ۔۔۔ 1986ء – تختۂ دارا
    ۔۔۔ 1986ء – جب پہاڑ گرتے ہیں
    انگریزی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1964ء
    ۔۔۔ Short Novels
    ۔۔۔ 1970ء
    ۔۔۔ Farewell Gul’sary
    ۔۔۔ 1972ء
    ۔۔۔ White Steamship
    ۔۔۔ 1972ء
    ۔۔۔ The White Ship
    ۔۔۔ 1973ء
    ۔۔۔ Tales of the Mountains
    ۔۔۔ and the Steppes
    ۔۔۔ 1975ء
    ۔۔۔ Ascent of Mount Fuji
    ۔۔۔ 1983ء
    ۔۔۔ Cranes Fly Early
    ۔۔۔ 1988ء
    ۔۔۔ The Day Lasts More
    ۔۔۔ Than a Hundred Years
    ۔۔۔ 1989ء
    ۔۔۔ The Place of the Skull
    ۔۔۔ 1989ء
    ۔۔۔ Time to Speak
    ۔۔۔ 1988ء
    ۔۔۔ he time to speak out
    ۔۔۔ 1990ء ۔۔۔ other Earth and
    ۔۔۔ Other Stories
    ۔۔۔ 2008ء
    ۔۔۔ Jamila
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1963ء – لینن انعام، روس
    ۔۔۔ 1968ء 1977ء 1983ء
    ۔۔۔ سوویت ریاستی انعام، روس
    اداروں سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1966ء – رکن اعلیٰ سوویت
    ۔۔۔ برائے سوویت یونین
    ۔۔۔ 1967ء – رکن اگزیکٹیو بورڈ
    ۔۔۔ برائے سوویت انجمن مصنفین
    ۔۔۔ مشیر برائے صدر سوویت یونین
    ۔۔۔ میخائل گورباچوف
    ۔۔۔ سوویت سفیر برائے لکسمبرگ
    ۔۔۔ 1990ء -سفیر کرغیزستان
    ۔۔۔ برائے یورپی یونین
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    چنگیز اعتماتوف 79 سال کی عمر میں 10 جون 2008ء کو نورنبرگ، جرمنی میں وفات پاگئے۔

  • بالی جٹی کا یوم وفات

    بالی جٹی کا یوم وفات

    بالی جٹی کا یوم وفات

    8 جون 1996: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وہ چھلانگ لگا کر سٹیج پر آتیں تو تھیٹر کا پنڈال بڑھکوں، نعروں ، تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھتا ۔ تھیٹر کے ناظرین نے انہیں ببر شیرنی کا خطاب دیا تھا۔
    یہ تھیں بالی جٹی جن کا اصل نام عنایت بی بی تھا۔ وہ 1937ء میں ساہیوال میں پیدا ہوئیں۔ 1958ء میں انہوں نے پنجاب کے لوک تھیٹروں سے اپنے فنی کیریئر کا آغاز کیا جو میلوں ٹھیلوں پر شو کرتے تھے ۔ انہوں نے ہیر رانجھا، سسی پنوں، سوہنی مہینوال، مرزا صاحباں، لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، پیر مرادیا، ویر جودھ ، سلطانہ ڈاکو، قتل تمیزن اور نور اسلام وغیرہ متعدد ڈراموں میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان ڈراموں میں وہ اداکاری کے ساتھ ساتھ گلوکاری بھی کرتی تھیں۔ ان کے گائے ہوئے کئی گانے لوک گیتوں کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
    انہوں نے عالم لوہار، عنایت بھٹی جیسے فن کاروں کے مقابل پرفارم کیا۔ ان کا گایا ایک ڈوئیٹ بہت مشہور ہوا جو انہوں نے اپنے تھیٹر کے فنکار امین کے ساتھ گایا تھا۔ جس کے بول تھے
    "آ لے کنجیاں رکھ لے سرہانے، چلی ہاں میں پیکیاں نوں”۔
    مختلف تھیٹروں سے وابستہ رہنے کے بعد انہوں نے اپنا ذاتی ’’شمع تھیٹر‘‘ بھی بنایا تھا جو بارہ سال چلا ، پھر کئی مسائل کی وجہ سے بند کرنا پڑا۔

    1967ء میں ریلیز ہونے والی ایک پنجابی فلم منگیتر میں بھی انہوں نے منور ظریف کے ساتھ اداکاری کی تھی۔

    بالی جٹی کی آواز بہت گرج دار اور بلند تھی جو تھیٹر کی دنیا میں ان کی مقبولیت کا ایک بہت بڑا سبب تھا۔ وہ مرزا صاحباں گانے میں کمال رکھتی تھیں۔
    کسی زمانے میں معاشرتی قیود کی وجہ سے زنانہ کردار بھی مرد کرتے تھے لیکن یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ بالی جٹی حسب ضرورت مردانہ کردار بھی کرتی رہیں۔

    بالی جٹی کا 8 جون 1996ء کو انتقال ہوا اور سبزہ زار لاہور کے قبرستان میں سپردِ خاک کی گئیں۔

    گلوکارہ ریحانہ اختر بالی جٹی کی بہو تھیں اور گلوکارہ صائمہ اختر پوتی ہیں جو ان کی گائیکی کا انداز زندہ رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
    ان کا کوئی بیٹا گلوکاری کی طرف نہیں آیا لیکن کچھ گلوکار خود کو ان کا بیٹا بتا کر روزی کما رہے ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    پہلے اک عرض تمنا پہ بچھے جاتے تھے
    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    عشرت معین سیما

    6 جون : یوم پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام عشرت ظہیر ہے قلمی نام عشرت معین سیماہے۔ والد کا نام معین الدین اور والدہ کا نام زبیدہ معین ہے۔ ان کے والدین نے ہندوستان کے صوبے بہار سے کراچی ہجرت کی تھی۔ وہ 6 جون 1968 کو کراچی میں پیدا ہوئیں ۔انہوں نے جامعہ کراچی سے ابلاغ عامہ میں ماسٹر جرمنی میں برلن یونیورسٹی سے دوسرا ماسٹر انڈولجی اور ابلاغیات میں کیا اور دو ہزار چودہ میں پی ایچ ڈی لسانیات/ ابلاغیات میں کیا۔ پہلے فری یونیورسٹی میں بطور اردو ہندی لیکچرار رہیں بعد ازاں جرمنی کے وزارت داخلہ میں مترجم اور ماہر لسانیات کے طور پر کام کر رہی ہیں ۔

    اب تک ان کی 9 اردو میں مختلف اصناف پر کتابیں آچکی ہیں۔ جن میں تین شعری مجموعے
    ۱-جنگل میں قندیل
    ۲- آئینہ مشکل میں ہے
    ۳۔ با اہتمامِ جنوں
    دو افسانوں کے مجموعے
    ۴- گرداب اور کنارے
    ۵- دیوار ہجر کے سائے
    ایک تحقیقی مضامین
    ۶-جرمنی میں اردو
    ایک سفر نامہ
    ۷-اٹلی کی جانب گامزن
    ۸- اداریہ نویسی اور پاکبان کے اداریے
    ۹- دیس دیس کے ملا جی ( ملا نصرالدین کی کہانیاں) تصوف اور مزاح کے تناظر میں

    اس کے علاوہ ایک سفر نامہ “اردو کی محبت میں” ہندوستان اور پاکستان کے اخبار میں ہفتہ وار شائع ہوا ہے۔ وہ بچوں کے ادب پر بھی کام کر رہی ہیں
    ۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی بین القوامی انعامات و اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ جن میں بزم صدف نئی نسل ایوارڈ دو ہزار سترہ اور سینٹر آف ماڈرن اورینٹ برسلز کا اردو تدریس و صحافت کے حوالے سے ایوارڈ قابل ذکر ہے۔ اس کے علاوہ ترکی پاکستان ہندوستان برطانیہ اور یورپ کی کئی جامعات اور ادبی و علمی تنظیموں نے فروغ اردو زبان و ادب کے حوالے سے متعدد سند و شیلڈ سے نوازا ہے۔
    جرمن ادب و ادیب کے تعارف اور فن کلام کےاردو ترجمے سے متعلق بھی ایک کتاب جلد منظر عام پہ آنے والی ہے۔
    برلن میں پہلا ادبی جریدہ “ نئی کاوش “ جاری کیا اور پہلا ادبی ریڈیو “ آواز ادب گذشتہ دنوں شروع کیا جو نہایت کامیابی سے چل رہا ہے جس کے تحت پہلی یورپیئن اردو رائٹرز کانفرنس منعقد کروائی ۔
    عشرت معین سیما کو کئی بین القوامی جامعات اور تنظیموں و اداروں سے اعزازات اردو کی ترویج کے حوالے سے مل چکے ہیں۔

    اشعار

    کسی نے ہاتھ ملایا تھا سیما چاہت سے
    ہتھیلیوں میں ہماری ساد رہی خوشبو

    پہلے اک عرض تمنا پہ بچھے جاتے تھے
    اب مرے حکم کی تعمیل کہاں ممکن ہے

    قفس میں بیٹھ کے کرتی ہوں سیما ذکر چمن
    خزاں میں گوشہ محو بہار ہوں کب سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • ساغرؔ خیامی

    ساغرؔ خیامی

    ساغرؔ خیامی

    7 جون 1936: یوم پیدائش

    اصل نام :رشیدالحسن
    تخلص : ساغرؔ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ساغرؔ خیامی کا شمار طنزومزاح کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش ۷ جون ۱۹۴۶ کو لکھنؤ کے ایک علمی اور تہذٰبی گھرانے میں ہوئی ۔ پرانے لکھنؤ کا یہ گھرانہ اپنی تہذیبی پاسداریوں اور اپنی ادبی اور عملی سرگرمیوں کے لئے معروف تھا ۔ ساغر خیامی کے دادا ان کے والد اور ان کے بھائی سب شاعری کرتے تھے ۔ ساغر نے ابتدا میں غزل کی روایتی قسم کی شاعری کی لیکن اپنے بھائی ناظر خیامی (جو طنز ومزاح کے ایک اچھے شاعر تھے) کے اثر سے طنز ومزاح کی شاعری کی طرف آگئے ۔
    ساغر کی ابتدائی تعلیم عربی و فارسی سے ہوئی اس کے بعد انہوں نے انگریزی کی تعلیم حاصل کی اور جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے غیر تدریسی عملے سے وابستہ ہوگئے ۔

    ساغر کے شعری مجموعے ’انڈر کریز‘ اور ’پس روشنی‘ ’ قہقہوں کی بارات ‘ ’ کچھ وہاں کیلئے‘ بہت مقبول ہوئے ۔ ساغر کی نظموں میں طنز ومزاح دنوں ایک ساتھ گھل مل گئے ہیں ان کی نظموں میں ایسی صورتحال بنتی ہے کہ پڑھنے اور سننے والا ہنستے ہنستے اداس ہونے لگتا ہے اور اپنے آس کی بظاہر سہی سالم نظر آنے والی دنیا کو ایک بہت بدلی ہوئی آنکھ سے دیکھنے لگتا ہے ۔ ساغر ہمارے اس مہذب معاشرے کی منافقتوں کو بہت چالاکی سے طنز کا نشانہ بناتے ہیں ۔ غالب کو مرکز میں رکھ کر کہی گئیں ساغر کی نظمیں بہت مقبول ہوئیں ۔’ غالب اپارٹمینٹ ‘ ’ غالب دلی میں ‘ آج بھی بہت دلچسپی سے پڑھی اور سنی جاتی ہیں ۔ ساغر مشاعروں میں بھی اپی ہی ایک لے میں کلام پڑھتے تھے ۔ ۱۹ جون ۲۰۰۸ کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا
    …..

    ساری جفائیں سارے کرم یاد آ گئے
    جیسے بھی یاد آئے ہوں ہم یاد آ گئے

    جب بھی کہیں سے پیار ملا یا خوشی ملی
    دنیا کے درد و رنج الم یاد آ گئے

    دیکھیں ہیں جب بھی گل کے قریں چند تتلیاں
    کتنے خیال و خواب بہم یاد آ گئے

    لکھا تھا تم نے خط میں کہ تم نے بھلا دیا
    کیا حادثہ ہوا ہے کہ ہم یاد آ گئے

    پردیس میں جو آئی نظر نرگسی نگاہ
    اک با وفا کے دیدۂ نم یاد آ گئے

    مدت ہوئی ہے بچھڑے ہوئے اپنے آپ سے
    دیکھا جو آج تم کو تو ہم یاد آ گئے

    سلجھائیں جب بھی زیست کی ساغرؔ نے گتھیاں
    ناگاہ تیری زلف کے خم یاد آ گئے

  • گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    عابدہ تقی ( ادیبہ و شاعرہ)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تعارف و تبصرہ : آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، نقاد، افسانہ نویس اور سفر نامہ نگار سیدہ عابدہ تقی صاحبہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے لیکن ان کی ولادت 11 نومبر 1969 میں ان کے ننہیال کے گھر راولپنڈی میں ہوئی ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید تقی حسین اور والدہ محترمہ کا نام رابعہ خاتون ہے ۔ عابدہ اپنے 7 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ 4 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ ان کا تعلق سادات نقوی البھاکری اور علمی و ادبی خاندان سے ہے ۔

    عابدہ کے والد نے اردو میں نعت، منقبت اور سلام پر مبنی شاعری کی ہے پیشے کے لحاظ سے وہ پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ ونگ سے وابستہ رہے ہیں جبکہ ان کے دادا جان سید باغ حسین شاہ نقوی کربلائی نے فارسی اور پنجابی میں مدحت رسول، سلام اور منقبت پر مبنی شاعری کی ہے۔ عابدہ تقی صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ انہیں اردو اور انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے جبکہ وہ عربی اور فارسی زبانیں بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی و میٹرک اور سیکنڈری تعلیمات کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے Msc Geography کیا ہے۔ عابدہ نے اپنے کالج لائف کے زمانے سے شاعری شروع کی۔

    معروف شاعر نیساں اکبر آبادی شاعری میں ان کے استاد رہے ہیں ۔ عابدہ تقی کی شاعری حمد، نعت، سلام ، منقبت ، غزل اور نظمیہ اصناف پر مبنی ہے ان کی شاعری میں سماجی ، معاشی و معاشرتی مسائل پر نظر ہے اور قلبی واردات بھی شامل ہے ان کو اپنی ذات کا دکھ بھی ہے تو زمانے کا غم بھی ہے ان کی شاعری میں خوف، مایوسی، ہجر و فراق، احساس محرومی، کسی انہونی کا خوف اور شکوہ شامل ہے تو کہیں وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان کی شاعری میں وصل کا احوال نہیں ملتا، مجموعی طور پر ان کی شاعری متاثر کن اور دلپذیر ہے جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

    عابدہ تقی ایک بھرپور اور فعال علمی و ادبی زندگی گزار رہی ہیں ۔ انہیں حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی پہلی خاتون سیکریٹری مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے وہ 2011 سے 2013 تک اس عہدے پر فائز رہی ہیں وہ اسلام آباد ادبی فورم کی بھی 2 سال سیکریٹری رہی ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ایم فل کی ایک طالبہ مدیحہ فاطمہ نے ” عابدہ تقی کی ادبی خدمات” کے عنوان سے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی میں تھیسس مکمل کیا ہے۔

    پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نجی ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تنقید و افسانہ نگاری کے علاہ ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو کہ ایران ، عراق اور شام کے مقامات مقدسہ کی زیارت و روداد اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ عابدہ نے ایران ، عراق اور شام کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور کویت کی بھی سیاحت کی ہے۔ عابدہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دوسرا فرشتہ-2005
    ۔ (2)فصیل خواب سے آگے-2003
    ۔ (3)دستک باب ِعلم پر-2002
    ۔ (4)منبر سلونی کی اذاں-1999

    عابدہ تقی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
    تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی

    کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
    ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی

    الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
    گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی

    یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
    ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی

    جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
    تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی

    یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
    سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا سے خوشبو کا کوئی پیام آیا نہیں
    دیے جلائے مگر خوش خرام آیا نہیں

    اسی کا متن تب و جاں کا کر رہا ہے حصار
    وہ ایک خط جو ابھی میرے نام آیا نہیں

    ابھی چاند کی خاطر دریچے کھولنا کیا
    ابھی تو شام ہے ، ماہِ تمام آیا نہیں

    ہمارے ہاتھ بھی در کھٹکھٹانا چاہتے ہیں
    جو انتخاب ہو دل کا وہ باب آیا نہیں

    دلوں کے سودے میں نقصان ہو بھی سکتا ہے
    شعور تھا تو سہی میرے کام آیا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کی کھوئی رونق پلٹ آئی ہے تو اب
    غم ستانے لگا ہے شہر کی ویرانی کا

    ان دنوں زیست کا اطراف میں ہے ایک ہی ڈھب
    خوف انہونی کا دھڑکا کسی انجانی کا

    ایک خطبے سے بدل آئی ہوں طاقت کا نصاب
    تخت کو جیت کے زندان سے آئی ہوں

    مرا ہم قدم کسی چاندنی کی جلو میں تھا
    اسے کیا خبر کہ میں چل رہی تھی غبار میں

    دشت احساس میں اڑتی ہے اسی درد کی دھول
    جانے والے نے پلٹ کے بھی نہ دیکھا ہم کو

    یک بہ یک رونق کدوں کے درمیاں سے کٹ گئے
    ایک اس سے کٹ کے ہم سارے جہاں سے کٹ گئے

    یاد رکھتا کون ایسے میں کسی عنوان کو
    مرکزی کردار ہی جب داستاں سے کٹ گئے

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

  • فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    فرانز کافکا ،بیسویں صدی کے بہترین ناول نگار

    3 جون 1924 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    فرانز کافکا کا شمار بیسویں صدی کے بہترین ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ 3 جولائی 1883 چیک ریپبلکن کے شہر پراگ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیلم سے لے کر قانون کی ڈگری تک پراگ میں ہی تعلیم حاصل کی ۔ وہ یہودی مذہب سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کے والد کا نام ہرمن اور والدہ محترمہ کا نام جوئی تھا۔ ان کی مادری زبان عبرانی تھی ۔ ان کا اصل نام امسخل تھا عبرانی زبان میں اس کا معنی ” کوا” ہے جسے چیک زبان میں کافکا اور ہندی زبان میں کاگا کہا جاتا ہے اور وہ فرانز کافکا کے نام سے مشہور ہوئے۔ کوے کو بدنصیبی ،نحوست اور شر کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور اتفاق سے کافکا بھی زندگی بھر بدنصیبی کا شکار رہے جس کی وجہ سے انہوں نے تنگ آ کر خودکشی کی کوشش کی مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ان کو خودکشی کرنے سے روک لیا۔

    انہوں نے اپنی زندگی میں 3 بار عشق کیا ان کا پہلا عشق 1912 میں فیرو لین نامی لڑکی سے ہوا 5 سال تک ان کے درمیان جذباتی تعلق قائم رہا جس کے بعد فرولین کی شادی ہو گئی اور کافکا دل تھام کر رہ گیا۔ 1920 میں ان کا دوسرا عشق ملینا نامی ایک لڑکی سے ہو گیا جو کہ شادی شدہ تھی اس لیے اس سے ان کی شادی ممکن نہیں ہو سکی ۔ ملینہ نے بھی کافکا کو ٹوٹ کر چاہا کیوں کہ اسے اپنے شوہر سے محبت نہیں ملی تھی ۔ ایک بار کافکا نے ملین کو خط میں لکھا کہ میں بہت خراب، بیکار اور رشتے نہ نبھانے والا نہیں ہوں جس پر ملینا نے اسے جواب میں لکھا کہ خواہ تم ایک لاش کی طرح ہی کیوں نہ ہو لیکن مجھے پھر بھی تم سے ہی محبت رہے گی۔ 1923 میں ان کا تیسرا عشق ڈورا ڈائمنڈ نامی لڑکی سے ہوا لیکن یہاں پر بھی عشق و محبت میں ناکامی اس کا مقدر بن گئی ڈورا کی شادی بھی کہیں اور ہو گئی جس کے باعث کافکا نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ انہوں نے اپنے ناول اور افسانے وغیرہ جلانے کا ارادہ کیا مگر ان کے دوست میکس برڈ نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ میکس برڈ کے ساتھ مل کر انہوں نے صیہونی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 3 جون 1924 میں وہ ٹی بی کے مرض میں ویانا کے ایک سینی ٹوریم ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ کافکا کی وفات کے بعد ان کے دوست میکس برڈ نے ان کی کتابیں شائع کروائیں جن میں ناول”دی ٹرائل ” قلعہ” اور امریکا اور ایک افسانہ A Hunger Artist شامل ہیں ۔ 2017 میں یاست جواد نے کافکا کا کے شاہکار ناول The Triel کا ” مقدمہ” کے نام سے اردو زبان میں ترجمہ کر کے نیشلطبک فائونڈیشن سے شائع کروایا جبکہ محمد عاصم بٹ نے ان کے افسانہ کا ” فاقہ کش فنکار” کے عنوان سے اردو میں ترجمہ کیا۔ فرانز کافکا کے ناول” دی ٹرائل ” پر 4 فلمیں بن چکی ہیں ۔

  • اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاؤ گے

    اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاؤ گے

    اے اہل وطن جس وقت تم مجھے بلاو گے
    مجھے سرباز دیکھو گے مجھے جانباز پاو گے

    یوسف عزیز مگسی

    ترقی پسند بلوچ سردار، شاعر، ،،سیاست دان اور صحافی

    31 مئی 1935: یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عظیم بلوچ رہنما، صحافی ، شاعر اور دانشور نواب یوسف عزیز مگسی کی تعریف کرتے ہوئے مولانا ظفر علی خان نے اپنی ایک نظم میں کہا ہے کہ

    تم کو خفی عزیز ہے ہم کو جلی عزیز
    عارض کا گل تمھیں، ہمیں دل کی کلی عزیز
    لفظ بلوچ مہرو وفا کا کلام ہے
    معنی ہیں اس کلام کے یوسف علی عزیز

    جبکہ شاعر مشرق اور مفکر پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال نے انہی یوسف عزیز مگسی کی شخصیت اور جدوجہد سے متاثر ہو کر ” بڈھے بلوچ کی بیٹے کو نصیحت ” کے عنوان سے انتہائی خوب صورت نظم لکھی ۔ نواب یوسف عزیز مگسی حیرت انگیز خواہ سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے کہ ان سے جو بھی ملتا تھا وہ ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا جس کا واضح ثبوت علامہ اقبال اور مولانا ظفر علی خان جیسی عظیم شخصیات کا ان کی انگریز سرکار اور بلوچ معاشرے میں ہونے والی ناانصافیوں اور زیادتیوں کے خلاف جدوجہد اور جذبے سے متاثر ہو کر اس کے اعتراف میں اپنی شاعری میں اس کا اظہار کرنا ہے ۔ یوسف عزیز مگسی کمال کی شخصیت تھے اور ایسی شخصیات بقول علامہ اقبال ہزاروں سال بعد پیدا ہوتی ہیں ۔ یوسف عزیز بہ یک وقت سیاست دان، صحافی، شاعر اور خلق خدا و محروم اور مظلوم طبقات کے خدمت گار تھے ۔ وہ ایک روایت شکن ، ترقی پسند اور انقلابی قبائلی سردار تھے ۔

    یوسف عزیز مگسی 1908 میں جھل مگسی بلوچستان میں پیدا ہوئے وہ ایک بہت بڑے قبائلی سردار نواب قیصر خان مگسی کے فرزند تھے ۔ نواب قیصر خان مگسی کے 3 بیٹے تھے جن میں باالترتیب گل محمد خان، یوسف علی خان اور محبوب علی خان تھے ۔ بلوچ اور سندھی معاشرے میں محاورے کے طور پر اگر کسی کی طاقت اور شخصیت کو چیلنج کرنا ہو تو یہ کہا جاتا ہے کہ ” کون سے نواب قیصر خان کے بیٹے ہو یا یہ کہ کون سا تم کانبھو خان کے بیٹے ہو” ۔ تو یہ یہ یوسف عزیز اسی نواب قیصر خان کے بیٹے تھے جبکہ سندھ کے سابق وزیر اعلی جام صادق علی، کانبھو خان کے بیٹے تھے ۔ نواب قیصر خان مگسی، بلوچستان پر برطانوی راج اور اس کے گماشتوں کے سخت مخالف تھے اس وجہ سے وہ بلوچ قوم میں بہت مقبول اور برطانوی سرکار اور ان کے حمایت یافتہ بلوچ حکمرانوں کی نظر میں باغی اور مجرم ٹھہرے جس کی وجہ سے ان کو بلوچستان سے جلاوطن کر کے ملتان بھیج دیا گیا اور وہیں ان کی وفات ہوئی۔ نواب قیصر خان مگسی کی جلاوطنی کے بعد ان کے بڑے صاحبزادے گل محمد خان کو مگسی قبیلے کا نواب مقرر کیا گیا ۔ نواب گل محمد خان ایک درویش صفت شاعر تھے زیب تخلص استعمال کرتے تھے وہ 10 زبانوں میں شاعری کرتے تھے جن میں فارسی زبان بھی شامل تھی اور ان کا شمار فارسی زبان کے بڑے شعراء میں ہوتا ہے ۔ نواب گل محمد خان زیب مگسی ایک غیر فعال سردار ثابت ہوئے جس کی بناء پر ان کے چھوٹے بھائی یوسف علی خان مگسی کو نواب منتخب کیا گیا ۔ یوسف علی خان مگسی بھی شاعر تھے یہ اردو اور فارسی زبان میں شاعری کرتے تھے اور ” عزیز ” تخلص استعمال کرتے تھے جس کی وجہ سے وہ ” یوسف عزیز مگسی” کے نام سے مشہور ہوئے ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی 22 سال کی عمر میں مگسی قبیلے کے سربراہ یعنی نواب مقرر ہوئے تھے ۔ یوسف عزیز بہت باشعور، حساس، بہادر اور رحم دل قسم کی شخصیت کے مالک تھے ۔ انہوں نے بحیثیت بلوچ سردار کے دیکھا اور محسوس کیا کہ ان کی سرزمین پر برطانوی سامراج کا تسلط ہے اور ان کے حمایت یافتہ خان آف قلات میر محمود خان اور ان کے وزیر اعظم شاہ شمس اپنی ہی بلوچ قوم کا نہ صرف بدترین استحصال کر رہے ہیں بلکہ ظلم اور جبر کا ریکارڈ قائم کر دیا ہے ۔ خان آف قلات میر محمود خان ظلم اور جبر کا استعارہ بن گئے تھے ان کے دور میں خان آف قلات کی کٹھ پتلی حکومت اور برطانوی سرکار کے خلاف لکھنا اور بولنا یا احتجاج کرنا سنگین ترین جرم سمجھا جاتا تھا ۔ بلوچستان میں آج بھی اگر کوئی شخص کسی بھی قسم کی جرئت یا طاقت کا استعمال اور اظہار کرے تو یہ محاورہ استعمال کیا جاتاہے کہ ” مر گیا محمود خان ” یعنی محمود خان نہیں ہے اس لیئے فلاں بندہ خود کو طرم خان یا 30 مار خان سمجھ رہا ہے ۔ ایسے ظلم ، جبر ، گھٹن اور خوف و دہشت کے ماحول میں نواب یوسف عزیز مگسی، برطانوی سرکار اور حکومت قلات کے خلاف شیر کی طرح سینہ سپر ہو کر سامنے آ گئے ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی نے بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین پر بسنے والے عوام میں شعور بیدار کرنے برطانوی راج اور قلات گورنمنٹ کے ظلم اور جبر کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے صحافت اور شاعری کا استعمال شروع کر دیا ۔ انہوں نے اپنی ایک نظم میں بلوچ قوم سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ

    کرم بے تیغ بقدر وسعت جسے ہو ذوق تماشا کفن بدوش آئے

    اب آگے مرحلہ آتا ہے سخت کوشی کا
    ہمارے ساتھ نہ اب کوئی عیش کوش آئے

    یوسف عزیز نے کراچی سے البلوچ کے نام سے اخبار جاری کیا جس میں بلوچ قوم اور بلوچ سرزمین پر برطانوی سرکار اور ان کی حمایت یافتہ حکومت قلات کی زیادتیوں، ناانصافیوں، ظلم اور جبر کے خلاف خبریں اور تبصرے اور اداریہ لکھا جاتا تھا حکومت نے ان کے اخبار کو بند کر دیا اس کے بعد یوسف عزیز نے مختلف ناموں سے اخبارات جاری کیے جن میں ترجمان بلوچستان، بلوچستان جدید اور ینگ بلوچ وغیرہ شامل تھے حکومت نے ان سب اخبارات پر پابندی عائد کر کے بند کر دیا ۔ یوسف عزیز نے بلوچ قوم کے مسائل پر 2 مرتبہ جیکب آباد میں سالانہ آل انڈیا بلوچ کانفرنس کا انعقاد کر کے بلوچ سرداران اور اکابرین کو تحریک آزادی کی جدوجہد میں شامل کرنے پر آمادہ کرنے کی تاریخی کوشش کی ۔ یوسف عزیز نے ” بلوچستان کی فریاد ” کے عنوان سے لاہور سے ایک کتابچہ شائع کیا جس میں خان آف قلات کے وزیر اعظم شاہ شمس کے ظلم اور جبرو استبداد کو عوام کے سامنے لایا گیا جس کے جرم میں یوسف عزیز کو ایک سال زندان میں ڈالا گیا اور بھاری جرمانہ بھی کیا گیا ۔

    نواب یوسف عزیز مگسی پہلے بلوچ سردار تھے جنہوں نے خواتین کے بنیادی حقوق کے لیے آواز بلند کی اور بلوچ قوم کے بیٹوں سمیت بلوچ بیٹیوں کی تعلیم پر بھی زور دیا ۔ یوسف عزیز نے جھل مگسی میں جامعہ یوسفیہ قائم کیا جس میں طلبہ کو مفت تعلیم دی جاتی اور باہر کے طلبہ کے لیے طعام اور قیام کا بھی بندوبست کیا گیا جبکہ بچیوں کے لیے اسلامی اور جدید علوم کی غرض سے جھل مگسی کے علاقے میں اسکول اور مدرسے قائم کیے۔ انہوں اپنی زرعی آمدن کی 10 فیصد رقم تعلیم کے فروغ کے لیے مختص کر دیا تھا جبک مریضوں کے علاج کے لیے اپنی ذاتی رقم سے شفا خانے قائم کیے اور پانی کی قلت کے پیش نظر انہوں نے اپنےذاتی خرچ پر” کیر تھر نہر” قائم کر کے عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی ملکہ زبیدہ کی جانب سے قائم کردہ "نہر زبیدہ ” کی یاد تازہ کر دی ۔ بلوچ قوم کے یہ عظیم محسن، قائد اور دانشور صرف 27 سال کی عمر میں 31 مئی 1935 میں کوئٹہ کے ہولناک زلزلے میں جانبحق ہو گئے ۔ بلوچ قوم کے دلوں میں آج بھی ان کی ناگہانی موت کا سوگ اور غم تازہ ہے ۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ نواب یوسف عزیز مگسی کا نہ تو مقبرہ بنایا گیا ہے اور نہ ہی ان کی شاعری اور مضامین اور افکار کو محفوظ کر کے کتابی شکل دی گئی ہے ۔ چوں کہ نواب یوسف عزیز مگسی دن رات قومی جدوجہد میں مصروف تھے اس لیئے وہ کم سنی میں شادی نہیں کر سکے تو ان کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بھائی محبوب علی خان مگسی کو، مگسی قبیلے کا نواب مقرر کیا گیا ۔ مگسی قبیلے کے موجودہ نواب، بلوچستان کے سابق گورنر اور سابق وزیر اعلی ذوالفقار علی خان مگسی، نواب محبوب علی خان مگسی کے پوتے اور نواب سیف اللہ خان مگسی کے صاحبزادے ہیں ۔

  • یوم وفات،زیب النساء،فارسی کی شاعرہ

    یوم وفات،زیب النساء،فارسی کی شاعرہ

    گرچہ من لیلی اساسم، دل چو مجنون دونواست
    سر بہ صحرا می زنم لیکن حیا زنجیر پا است

    زیب النساء

    یدائش:15 فروری 1638ء
    دولت آباد
    وفات:26 مئی 1702ء
    دہلی
    مدفن:لاہور
    رہائش:آگرہ
    والد:اورنگ زیب عالمگیر
    والدہ:دلرس بانو بیگم
    بہن/بھائی:زبدۃ النساء،
    بدر النساء
    زینت النساء
    مہر النساء
    سلطان محمد اکبر
    بہادر شاہ اول
    محمد اعظم شاہ
    محمد کام بخش
    مغل محمد سلطان
    خاندان:مغلیہ سلطنت
    زبان:فارسی
    شعبۂ عمل:شاعری

    ہندوستان کے بادشاہ اورنگزیب کی بیٹی عالمہ، فاضلہ، عارفہ اور فارسی زبان کی شاعرہ تھی۔ زیب النساء نے تین سال کے عرصے میں قرآن مجید حفظ کیا۔ فارسی، عربی اور اردو زبان سے کافی واقفیت پیدا کرلی۔ ہیت، فلسفہ اور ادبیات میں بھی کافی درک حاصل کرلی۔ دانشمند، ادب دوست اور شاعر پرور تھی۔ ان کی حمایت کرتی یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ کتابیں، رسالے اور دیوان اس کے نام لکھے گئے ہیں۔ ان کے والد ہر کام میں اس سے مشورہ کرتے تھے۔ شادی نہیں کی۔ 65سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ زیب المنشات اور زیب التفاسیر کتابیں ان کے آثار ہیں۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔
    زیب النساء (خواتین کی زینت)، شہزادہ محی الدین(مستقبل کے شہنشاہ اورنگ زیب) کی سب سے بڑی صاحبزادی، شادی کے ٹھیک نو ماہ بعد 15 فروری 1638 کو دکن کے شہر دولت آباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کی والدہ دلرس بانو بیگم اورنگزیب کی پہلی بیوی اور چیف ساتھی تھیں اور صفویڈ ایران(فارس) کی حکمران سلطنت کے ممتاز خاندان کی شہزادی تھیں۔ زیب النساء اپنے والد کی چہیتی بیٹی تھی۔
    تعلیم اور کارنامے
    ۔۔۔۔۔
    اورنگ زیب نے دربار کی ایک خاتون حفیظہ مریم پر زیب النساء کی تعلیم کی ذمہ داری ڈالی۔ ایسا لگتا ہے کہ زیب النسا کو اپنے والد کی ذہانت اور ادبی ذوق ورثہ میں ملی تھی کیونکہ زیب النساء نے فقط تین سال میں قرآن حفظ کیا اور سات سال کی عمر میں حافظہ بن گئیں۔ اس موقع پر ان کے والد نے ایک زبردست دعوت اور عوامی تعطیل منایا۔ شہزادی کو اس کے خوش و خرم والد نے 30000 سونے کے سکے کا انعام بھی دیا۔ اورنگ زیب نے اپنی شہزادی بیٹی کو اچھی طرح تعلیم دینے کے لیے استانی بی کو بھی بطور انعام سونے کے30000 سکے دئے۔
    تب زیب النساء نے اس وقت کے علوم کو محمد سعید اشرف مازندرانی سے سیکھا ، جو فارسی کے عظیم شاعر بھی تھے۔ وہ فلسفہ ، ریاضی ، فلکیات،ادب سیکھتی تھیں اور فارسی ، عربی اور اردو کی ماہر تھیں۔ خطاطی میں بھی ان کی اچھی شہرت تھی۔
    اس کی لائبریری نے دوسرے تمام لوگوں کے نجی ذخیرے کو پیچھے چھوڑ دیا اور اس نے اس کے حکم کے مطابق ادبی کام پیش کرنے یا اس کے لیے مخطوطات نقل کرنے کے لیے بہت سارے علما کو آزادانہ تنخواہوں پر ملازمت دی اس کی لائبریری میں قانون ، ادب ، تاریخ اور الٰہیات جیسے ہر موضوع پر کام ہوا۔
    زیب النساء ایک نیک دل خاتون تھیں اور ہمیشہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کرتی تھیں۔ اس نے بیوہ خواتین اور یتیموں کی مدد کی۔ اس نے نہ صرف لوگوں کی مدد کی بلکہ ہر سال وہ حجاج کو مکہ اور مدینہ بھیجتیں۔ انہوں نے موسیقی میں بھی دلچسپی لی۔
    اورنگزیب کا انضمام
    ۔۔۔۔۔
    جب شاہجہان کے بعد اورنگ زیب شہنشاہ ہوا تو زیب النساء 21 سال کی تھی۔ جب اورنگ زیب کو اپنی بیٹی کی صلاحیت اور قابلیت کے بارے میں معلوم ہوا تو وہ اس سے اپنی سلطنت کے سیاسی امور پر تبادلہ خیال کرنا شروع کیا اور اس کے مشورے سنتا۔ کچھ کتابوں میں اس کا تذکرہ کیا گیا ہے کہ جب جب زیب النساء دربار میں حاضر ہوتیں اس کے استقبال کے لیے ہر بار اورنگزیب تمام شاہی شہزادوں کو بھیجتا۔ زیب النساء کی چار دیگر چھوٹی بہنیں تھیں: زینت النساء ، زبدۃ النساء ، بدر النساء اور مہر النساء۔

    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔
    گرچہ من لیلیٰ اساسم، دل چو مجنون دونواست
    سر بہ صحرا می زنم لیکن حیا زنجیرِ پا است

    دخترِ شاہم ولیکن رو بہ فقر آوردہ ام
    ‘زیب’ و ‘زینت’ بس ہمینم نامِ من زیب النساء است

    تاریخ پاک و ہند میں اس کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ زیب النساء نے عربی اور فارسی کی اعلٰی تعلیم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن پاک بھی حفظ کیا۔ شعروشاعری میں اپنے استاد ملا محمد سعید اشرف ماژندارانی سے اصلاح لی، علما اور اہل فن کی بھر پور سرپرستی کی اور ان کے لیے ایک اعلٰی پائے کا کتب خانہ قائم کیا۔

    اشعار کا نمونہ ملاحظہ ہو:۔

    بشکند دستی کہ خم در گردنِ یاری نشد
    کور بہ چشمی کہ لذت گیر دیداری نشد
    صد بہار آخر شد و ہر گل بہ خرقی جا گرفت
    غنچۂ باغِ دلِ ما زیب دستاری نشد