Baaghi TV

Author: +9251

  • ہم میں سے بہت سارے لوگ غلطی کرکے اسکا اعتراف نہیں کرتے عارف لوہار

    ہم میں سے بہت سارے لوگ غلطی کرکے اسکا اعتراف نہیں کرتے عارف لوہار

    معروف فوک گلوکار عارف لوہار نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ ہم میں‌سے بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو غلطی کرکے اس کا اعتراف نہیں‌کرتے. ہم لوگ غلطی کرکے اس پر ڈٹ جاتے ہیں اور غلطی ماننا تو اپنی توہین سمجھتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ہم سب کو چاہیے کہ ہم سب ایک دوسرے کا ساتھ دیں . اور جتنا ہو سکے ایک دوسرے کی مدد کریں ٹانگیں نہ کھینچیں.مسلمان ہونے کے ناطے ہمیں ایک دوسرے کا سہارا بننا ہے لیکن ہم تو ایک دوسرے کے حقوق چھیننے پر لگے ہوتے ہیں.

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمارے اندر برداشت کی بہت زیادہ کمی ہو گئی ہے. میں‌مانتا ہوں کہ ہمارے ہاں بہت سارے مسائل ہیں جن میں‌ہم سب الجھے ہوئے ہیں، انہی مسائل کی وجہ سے ہم چڑچڑے پن اور زہنی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں.” عارف لوہار نے کہا کہ ہمارے ملک میں جتنے بھی مسائل ہوں پریشانیاں‌ہوں لیکن اس جیسا ملک دنیا میں‌نہیں‌ہے. ”میں نے دنیا کے بہت سارے ممالک دیکھے ہیں لیکن جو سکون مجھے پاکستان میں ملتا ہے وہ کہیں اور نہیں ملتا.

  • مولانا فضل الرحمان سے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کی  ملاقات

    مولانا فضل الرحمان سے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کی ملاقات

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے ملاقات کی ہے جبکہ اس ملاقات میں مولانا نے قومی مفاہمت کے ایجنڈے پرکردار کی حامی بھرلی ہے اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کے ذرائع نے مولانا فضل الرحمان کو منانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں سیاسی جماعتوں میں رابطوں اور مفاہمتی ایجنڈے پر اتفاق رائے پر کام ہوگا۔


    نجی ٹی وی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی مفاہمت کے ایجنڈے پر مشاورت کیلئے پی ٹی آئی سے بات چیت کا بھی امکان ہے اور پی ٹی آئی پہلے ہی قومی مفاہمت کے ایجنڈے پر اتفاق کر چکی ہے۔

    جبکہ دوسری جانب اس حوالے سے جے یو آئی کا کہنا ہے کہ محمد علی درانی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوئی، انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے ان کی خوشدامن کے انتقال پر تعزیت کی جبکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، آئندہ کے انتخابات سمیت دیگر امور پر گفتگو ہوئی۔

  • لاہور سے ڈرامہ کراچی کیسے شفٹ ہوا وسیم عباس نے بتا دیا

    لاہور سے ڈرامہ کراچی کیسے شفٹ ہوا وسیم عباس نے بتا دیا

    سینئر اداکار وسیم عباس جنہوں‌نے پاکستان ٹیلی ویژن پر بہت زیادہ کام کیا اور نام کمایا. انہوں‌نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہےکہ لاہور میں ڈراموں‌کے حوالے سے بہت رونق ہوا کرتی تھی ، پی ٹی وی میں ڈرامے بنتے تھے ، لاہورمیں آرٹسٹوں‌کا ایک ہجوم رہتا تھا . لیکن یہ رونقیں ختم ہو گئیں اور چند ایک نا عاقبت اندیش لوگوں‌کی وجہ سے ڈرامہ اور ڈرامے کی رونقیں کراچی منتقل ہو گئیں میں اس چیز کے خلاف نہیں ہوں ، لیکن لاہور میں ایک عرصہ گزارا ہے اور یہیں سے کیرئیر کی شروعات کی تو کبھی کبھی یاد کرکے دل بھر آتا ہے.

    انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ اداکاری آسان کام نہیں ہے بلکہ بہت ہی مشکل کام ہے. میں تو کہتا ہوں کہ ساری زندگی اداکاری کے رموز و سوقاف سمجھنے میں‌نکل جاتے ہیں. انہوں نے کہا کہ فنکار تو ساری زندگی کام سیکھتا ہی رہتا ہے ، کوئی بھی فنکار یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس نے سب سیکھ لیا ہے، یہ وہ کام ہے جو آخری سانس تک آرٹسٹ سیکھتا رہتا ہے. یاد رہے کہ ”وسیم عباس کے بیٹے علی عباس بھی ڈراموں میں کام کرتے ہیں ”وہ اپنی بہترین اداکاری کی وجہ سے جانے جاتے ہیں، وسیم عباس زیادہ تر سنجیدہ اداکار ی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں.

    پاکستان اور ترکی کی کو پروڈکشن” صلاح الدین ایوبی” کا ٹیزر جاری کردیا گیا

    ماضی کی معروف ماڈل ماہم امجد کے والدکے قتل کیس کی اہم سماعت

    پاکستانی اداکار و ماڈل عامر شاہ "رن وے ماڈل یونیورس 2023″منتخب

  • پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ کون؟ خرم حمید روکھڑی کی اہم خبریں

    پنجاب کا اگلا وزیر اعلیٰ کون؟ خرم حمید روکھڑی کی اہم خبریں

    سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں ترجمان استحکام پاکستان پارٹی خرم حمید روکھڑی نے کہا ہے کہ ہماری کوشش ہے کہ پنجاب میں ہمارا وزیر اعلیٰ آئے اور اس کے لیے جتنی سیٹیں درکار ہوں گی وہ نکالیں گے۔


    جبکہ مبشر لقمان نے کہا کہ اس کی ٹینشن نہیں وہ بھلے آپ کی 15 نشتیں بھی ہوں وزیر اعلیٰ کے امید علیم احمد خان ہیں، اس پر روکھڑی نے کہا کہ ہم اتنی نشستیں نکالیں گے کہ ہمارا ہی وزیر اعلیٰ ہوگا۔

    جبکہ سینئر اینکر مبشرلقمان کی جانب سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر جہانگیر ترین اور میاں نواز شریف پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی اور ایسا ہوتا تو پھر اس میں جانشین کا آپشن ہوتا ہے کیونکہ یہ تو سیاست کا حصہ ہے۔ ہم اس کے قائل نہیں لیکن جہانگیر نے پہلے بھی پارٹی میں موو کیا اور اب بھی ہوجائے گا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مغرب صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کا شریک. سینیٹر مشاہد حسین سید
    قاسم علی شاہ الحمرا آرٹس کونسل کی چیئرمین شپ سے مستعفی
    سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
    ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
    ملٹری کورٹ بارے سوال پر کہا کہ ان کا نظام بہت اچھا ہے اور جو عدالت نے فیصلہ دیا اس میں کیا سب چیزیں واضح ہیں یا ایسے ہی ہیں لیکن ملٹری کورٹ میں شفافیت بہت ہے اور ان کی آفادیت بہت ہی اعلی قسم کی ہے۔

  • اسرائیلی بمباری میں معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا ابوندا شہید

    اسرائیلی بمباری میں معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا ابوندا شہید

    غزہ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں جہاں بہت ساری شہادتیں ہو چکی ہیں وہیں معروف مصنفہ، شاعرہ اور ناول نگار حبا ابوندا بھی شہید ہوگئی ہیں۔32 سالہ مصنفہ حبا ابوندا کو اپنے ناول ’’آکسیجن ازناٹ فاردی ڈیڈ‘‘سے شہرت ملی تھی جبکہ سوشل میڈیا پر حبا ابوندا کا ایک ویڈیو کلپ بھی وائرل ہورہا ہے۔وائرل ویڈیو میں حبا ابوندا سوال کر رہی ہیں کہ “ہم کس جہنم میں رہ رہے ہیں؟ ایسا کیسے کب تک چلے گا؟”غزہ کی معروف مصنفہ حبا ابوندا نے اپنی شہادت سے ایک روز قبل سوشل میڈیا پر پیغام جاری کیا تھا جس میں اُنہوں کہا تھا کہ ” اگر ہم مرجائیں تو جان لیں کہ ہم ثابت قدم ہیں اور ہم سچے ہیں”۔

    یاد رہے کہ” اس سے قبل اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں وہ 12 سالہ فلسطینی یوٹیوبر عونی الدوس بھی شہید ہوگیا تھا جو یوٹیوب پر ایک لاکھ سبسکرائبرز مکمل ہونے کا خواب سجائے ہوا تھا”۔عونی الدوس نے غزہ پر اسرائیلی حملوں سے کچھ عرصہ قبل ہی یوٹیوب پر اپنا چینل بنایا تھا، وہ اپنے چینل پر “گیمنگ ویڈیوز” اپ لوڈ کرتے تھے اور اُن کا خواب تھا کہ وہ ایک مشہور اور کامیاب انسان بنیں۔شہید ہونے والی مصنفہ ایک بڑی فین فالونگ رکھتی تھیں.

    پاکستان اور ترکی کی کو پروڈکشن” صلاح الدین ایوبی” کا ٹیزر جاری کردیا گیا

    ماضی کی معروف ماڈل ماہم امجد کے والدکے قتل کیس کی اہم سماعت

    پاکستانی اداکار و ماڈل عامر شاہ "رن وے ماڈل یونیورس 2023″منتخب

  • اسرائیلی جارحیت ، کراچی گورنر ہاو س میں‌تقریب شوبز سٹارز کی شرکت

    اسرائیلی جارحیت ، کراچی گورنر ہاو س میں‌تقریب شوبز سٹارز کی شرکت

    اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کے لئے شوبز سٹارز مختلف پلیٹ فارمز پر آواز اٹھا رہے ہیں ، گزشتہ روز اداکارہ اشناہ شاہ نے ایک ریلی میں شرکت کی ، اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھائی. اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کے حق میں‌یکجہتی دکھانے کےلئے آج گورنر ہاؤس کراچی میں تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں شوبز انڈسٹری کی نامور شخصیات نے شرکت کی۔شرکا میں اداکار قیصر خان نظامانی،مجاہد علی اصغر ،ندیم جعفری،عدنان جیلانی،ٹیپو،اسامہ غازی، یاسمین کاوش،ایاز خان اور بہروز سبزواری شامل ہیں۔شرکا نے اسرائیلی جارحیت کی بھرپور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مسلم ممالک اور اقوام متحدہ فلسطینیوں کو ان کا حق دلوانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ جنگ بندی کے لئے بھی اقدامات کرے۔

    ان تمام شوبز فنکاروں نے یہ بھی کہا کہ ہم سب کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف بلا امتیاز متحد ہو جانا چاہیے۔”فلسطین میں ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر نظر آ رہے ہیں”مسلسل بمباری میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شہید ہو چکی ہے لیکن دُنیا میں بعض ایسے ”انصاف پسند“ بھی ہیں جن کا دِل چند اسرائیلی بچوں کی موت پر تو دُکھی ہو جاتا ہےلیکن فلسطینیوں کی شہادت پر آواز اٹھاتے ہوئے ان کو تکلیف ہوتی ہے.

    پاکستان اور ترکی کی کو پروڈکشن” صلاح الدین ایوبی” کا ٹیزر جاری کردیا گیا

    ماضی کی معروف ماڈل ماہم امجد کے والدکے قتل کیس کی اہم سماعت

    پاکستانی اداکار و ماڈل عامر شاہ "رن وے ماڈل یونیورس 2023″منتخب

  • مغرب صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کا شریک. سینیٹر مشاہد حسین سید

    مغرب صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کا شریک. سینیٹر مشاہد حسین سید

    انگولا کے شہر لوانڈا میں 147ویں IPU اسمبلی میں پاکستانی وفد کے سربراہ سینیٹر مشاہد حسین سید کا اہم اعلان کیا ہے جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید کا 147ویں آئی پی یو اسمبلی کی گورننگ کونسل سے خطاب ہوا ہے جس میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ غزہ کی صورت حال کے باعث اسلامو فوبیا کے مسئلے کو ہنگامی ایجنڈہ آئٹم کے طور پر لینے کی تجویز کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

    سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پاکستان اب غزہ پر جاری اسرائیلی وحشیانہ بمباری پر بحث کی وکالت کرتا ہے، کچھ مغربی ممالک بھی ان صیہونی اسرائیلی انسانیت سوز جرائم میں برابر کے شریک ہیں جبکہ فلسطین کے معاملے پر تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ اسلامو فوبیا اور قرآن پاک کی حرمت کا مسئلہ بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ روانگی 26 اکتوبر سے شروع
    قاسم علی شاہ الحمرا آرٹس کونسل کی چیئرمین شپ سے مستعفی
    سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
    ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
    جبکہ سینیٹر مشاہد حسین سید نے مزید کہا کہ غزہ کی صورت حال نے پاکستان کو فوری بحران کو ترجیح دینے پر مجبور کر دیا ہے اور یہ فیصلہ عالمی مسائل سے نمٹنے اور انصاف اور امن کی وکالت کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

  • تھپڑ کہانی اور سین کی ڈیمانڈ ہو تو مارنے میں‌کوئی مضائقہ نہیں یاسر حسین

    تھپڑ کہانی اور سین کی ڈیمانڈ ہو تو مارنے میں‌کوئی مضائقہ نہیں یاسر حسین

    اداکار یاسر حسین نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌ڈراموں میں‌تھپڑ مارے جانے پر بات کی. انہوں نے کہاکہ میرے لئے یہ کافی حیرانی کی بات ہے کہ اگر آج بھی ڈراموں میں‌ تھپڑ مارے جاتے ہیں، میزبان نے کہاکہ کیا آپ ڈرامے نہیں دیکھتے تو انہوں نے کہا کہ نہیں‌میں‌آج کے ڈرامے میں‌نہیں‌دیکھتا. انہوں نے مزید کہا کہ جب میں ڈرامہ سیریل دریچہ (2011) ڈراما کررہا تھا اس میں بھی تھپڑ مارنے کے بہت سین ہوتے تھے، میں نے خود بھی 6،7 تھپڑ مارے تھے، وہ میرا پہلا ڈراما تھا، اگر آج بھی ڈراموں میں تھپڑ مارے جارہے تو بتائیں میں کیوں دیکھوں؟

    انہوں‌ایک سوال کے جواب میں کہا کہ” اگر تھپڑ مارنا کہانی اور سین کی ڈیمانڈ ہو تو تھپڑ مارنے میں‌کوئی ہرج نہیں ہے”. جس پر میزبان نے یاسر حسین کو یاد دلایا ان کا گزشتہ سال کا ڈراما ’ایک تھی لیلیٰ‘ میں بھی تھپڑ مارنے کا سین تھا۔ جس پر یاسر حسین نے کہا کہ ’جی وہ کہانی کے لحاظ سے اس سین میں تھپڑ مارنا ضروری تھا۔یاد رہے کہ پاکستانی ڈراموں میں آج بھی مرد کی طرف سے عورت پر ہاتھ اٹھایا جاتا ہے، ایسے سینز اور کہانیوں کو لیکر سوشل میڈیا پر کافی بحث مباحثہ چلتا رہتا ہے. اور ڈراموں میں تھپڑ مارنے جانے کے عمل کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے.

    پاکستان اور ترکی کی کو پروڈکشن” صلاح الدین ایوبی” کا ٹیزر جاری کردیا گیا

    ماضی کی معروف ماڈل ماہم امجد کے والدکے قتل کیس کی اہم سماعت

    پاکستانی اداکار و ماڈل عامر شاہ "رن وے ماڈل یونیورس 2023″منتخب

  • پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ روانگی 26 اکتوبر سے شروع

    پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ روانگی 26 اکتوبر سے شروع

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بعد پاکستان میں مقیم افغان پناہ گزینوں کی برطانیہ روانگی 26 اکتوبر سے شروع ہوجائے گی اور اسلام آباد سے چارٹرڈ پروازوں کے ذریعے افغان پناہ گزینوں کو برطانیہ بھیجا جائے گا جبکہ سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک اعلامیہ کے مطابق افغان پناہ گزینوں کا پاکستان سے برطانیہ انخلاء بارہ خصوصی چارٹر پروازوں کے ذریعے ممکن بنایا جائے گا.

    جبکہ ان پروازوں کے ذریعے دو ہزار افغان پناہ گزین برطانیہ جائیں گے اور چارٹرڈ پروازوں کا آپریشن دسمبر تک جاری رہے گا تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ہفتہ وار ایک پرواز برطانیہ روانہ ہوا کرے گی جس میں انہیں بھیجا جائے گا
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    قاسم علی شاہ الحمرا آرٹس کونسل کی چیئرمین شپ سے مستعفی
    سونے کی قیمت میں کمی ریکارڈ
    ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
    جبکہ جمعرات کو پہلی پرواز دو سو افغان پناہ گزینوں کو لے کر اسلام آباد سے برطانیہ روانہ ہوگی، جس کیلئے اسلام آباد ایئرپورٹ پر خصوصی انتظامات کیے جارہے ہیں، پروازوں کے لیے برطانوی حکام اورسی اے اے کے درمیان باہمی مشاورت سے لینڈنگ اور ٹیک آف کے امور طے کیے جائیں گے۔

  • پاکستان اور ترکی کی کو پروڈکشن” صلاح الدین ایوبی” کا ٹیزر جاری کردیا گیا

    پاکستان اور ترکی کی کو پروڈکشن” صلاح الدین ایوبی” کا ٹیزر جاری کردیا گیا

    پاکستان اور ترکی کی کو پروڈکشن تاریخی ڈرامہ صلاح الدین ایوبی کا ٹیزر جاری کر دیا گیا ہے، ٹیزر خاصا مختصر ہے ، اور بہت پسند کیا جا رہا ہے۔ ٹیزر میں مرکزی کردار دکھایا گیا ہے اور صلاح الدین ایوبی کو اسلامی ریاست کا پرچم ہاتھ میں تھامے دوڑتے گھوڑے پر دیکھا جا سکتا ہے۔صلاح الدین ایوبی کے مناظر کے پس پردہ اغور غنیش کی آواز سنائی دیتی ہے جو کہ ترک زبان میں ہے، تاہم ٹیزر میں ترک زبان کا انگریزی ترجمہ دیا گیا ہے۔ٹیزر کے اختتام پر صلاح الدین ایوبی کو دور سے مسجد اقصیٰ کو دیکھتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ڈرامے کے ٹیزر کو صلاح الدین ایوبی کا کردار ادا کرنے والے ترک اداکار اغور غنش سمیت ڈرامے کے پروڈیوسرز میں شامل پاکستانی اداکار عدنان صدیقی نے بھی اپنے اپنے انسٹاگرام اکاﺅنٹس پر شیئر کیا۔عدنان صدیقی نے ڈرامے کے ٹیزر کو شیئر کرتے ہوئے پاکستانی اور ترکیہ کے پروڈکشن ہاوسز اور پروڈیوسرز کا شکریہ ادا کیا اور انہوں نے پروڈیوسرز میں ہمایوں سعید کا نام بھی لکھا۔

    ”اسی ڈرامے کے حوالے سے اپریل 2023 میں ہمایوں سعید نے بتایا تھا کہ ممکنہ طور پر ڈرامے کو رواں برس کے اختتام تک پہلے ترکیہ میں نشر کیا جائے گا،” اس کے ایک سال بعد اسے پاکستان میں دکھایا جائے گا۔انہوں نے اس تاثر کو مسترد کردیا تھا کہ وہ ڈرامے میں مرکزی کردار میں دکھائی دیں گے، تاہم بتایا تھا کہ وہ کچھ اقساط میں مختصر کردار ادا کرتے دکھائی دے سکتے ہیں۔یاد رہے کہ اس ڈرامے کو دسمبر 2021 میں بنانے کا اعلان کیا گیا تھا ۔

    میں اور سدھارتھ اپنی نجی زندگی کو پرائیویٹ رکھنا پسند کرتے ہیں کیارا ایڈوانی

    جو بھی کہنا ہے مجھے کہیں میری فیملی کو کچھ نہ کہیں راج کندرا کی ..

    دلیپ تاہل کو دو ماہ کی قید ہو گئی