Baaghi TV

Author: +9251

  • اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :ڈپٹی کمشنر گوادر

    اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :ڈپٹی کمشنر گوادر

    گوادر:اعلیٰ اور معیاری تعلیم میرے بلوچ بچوں کا حق:تمام وسائل مہیا کروں گا :اطلاعات کے مطابق ڈپٹی کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ جمیل احمد بلوچ نے کہا ھے کہ طلبا و طالبات کے تعلیمی تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنایا جائے گا کسی بھی طلبا و طالبات کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی اور تمام تصدیقی عمل میرٹ کی بنیاد پر ھونگے

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع گوادر سے میڈیکل کالجز کے لیے نامزد امیدوارں کا لوکل سرٹیفکیٹ کی تصدیقی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا ھے اجلاس میں لوکل سرٹیفکیٹ کمیٹی کے ممبران میں اسسٹنٹ کمشنر گوادر کپٹن ریٹائرڈ راجہ طہر عباس،ضلعی افسر صحت ڈاکٹر موسیٰ بلوچ اے ڈی ایچ ڈاکٹر شاہنواز بلوچ اور ایم ایس سول اسپتال ڈاکٹر عبدالیظف دشتی نے شرکت کی

    اجلاس میں ضلع گوادر کے مقررہ کردہ کوٹہ میڈیکل کالجز کی نشستوں پر مختلف میڈیکل کالجز کے تمام نامزد امیدوارں نے ڈپٹی کمشنر اور بنائی گئی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے اور اپنے لوکل سرٹیفکیٹس کی تصدیق کرائی اجلاس میں ضلع گوادر کے 18 نامزد امیدوارں کے لوکل سرٹیفکیٹ کی جانچ پڑتال اور تصدیقی عمل کا صاف شفاف طریقے سے جائرہ لیا گیا اس سلسلے میں ضلع گوادر کے میڈیکل کالجز کے نامزد 18امیدوارشامل تھے جن میں چار فیمل امیدوار تھے ان 18 امیدوارں میں سے 15 امیدوار جن میں چار فیمل امیدوار شامل تھے

    ڈپٹی کمشنر گوادر کے سامنے پیش ہوئے اور لوکل سرٹیفکیٹ سمیت اپنے تعلیمی کوائف صدیق کے لیے پیش کیے جبکہ تین امیدوار غیر حاضر رہے جن میں مدید خالد ولد محمد خالد،ماریہ بنت عبدالقادر اور باسط علی ولد شیر محمد کے نام شامل ہیں اجلاس میں بتایا گیا کہ میڈیکل کالجز کے تمام نامزد امیدوارں کے تصدیق عمل انتہائی صاف وشفاف طریقے سے انجام دی جائے گی کس بھی امیدوار کی حق تلفی ہرگز نہیں کی جائے گی جن میداورں پر اعتراضات اور خدشات ظاہر کیے گئے ہیں ان امیدوارں کے کوائف چیک کیے جائیں گے اگر کوئی بھی لوکل سرٹیفکیٹ جعلی نکلا تو اس امیدوار کا لوکل سرٹیفکیٹ منسوخ کرکے اس کے خلاف قانون کاروائی عمل لائی جائے گی

  • بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت   ماما محمد خان مینگل  گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے

    بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت ماما محمد خان مینگل گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے

    کوئٹہ :بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت ماما محمد خان مینگل گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے ،اطلاعات کے مطابق بلوچستان کے معروف سماجی و قبائلی شخصیت اور سابق ایکس ای این محکمہ بی اینڈ آر انجینئر ماما محمد خان مینگل طویل علالت کے بعد گزشتہ روز کراچی میں انتقال کر گئے.

    مرحوم ماما محمد خان مینگل سابق انجینئر بی اینڈ آر احمد خان مینگل، ٹھیکیدار نور مینگل اور چیف انجنیئر بی اینڈ آر علی احمد مینگل کے بڑے بھائی جبکہ میٹروپولٹین کے چیف آرکیٹیکٹ حاجی محمد اسحاق مینگل، ایکس ای این ایریگیشن حاجی محمد ابراہیم ، ڈاکٹر محمد اسمٰعیل مینگل اور آصف مینگل کے والد تھے جبکہ ٹھیکیدار عبدالغنی مینگل، غلام مصطفی مینگل، اسسٹنٹ پروٹوکول آفیسر ٹو گورنر بلوچستان محمد عارف مینگل، حبیب اللہ مینگل، ماسٹر ناصر مینگل اور انسپکٹر سی آئی اے عامر مینگل کے ماموں تھے. اور عبدالمجید مینگل، عبدالعزیز مینگل اور کامریڈ عبدالواحد مینگل کے کزن تھے۔

    مرحوم انجنیئر ماما محمد خان مینگل کا نماز جنازہ کل بروز جمعرات صبح 10 بجے مدرسہ مطلع العلوم وحدت کالونی پہلا اسٹاپ بروری روڈ کوئٹہ میں ادا کی جائےگی. بعدازاں مرحوم کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی مدرسہ مطلع العلوم مسجد میں ہی جاری رہے گی.

  • سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کے ہنگامی دورے جاری

    سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کے ہنگامی دورے جاری

    ملتان :سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کے ہنگامی دورے جاری اطلاعات کے مطابق سیکرٹری ہاؤسنگ جنوبی پنجاب جاوید اختر محمود کا رورل ہیلتھ سنٹر مردان پور بوسن روڈ کا دورہ۔ کووڈ ویکسینیشن REDریڈ مہم موثر انداز سے جاری ہے جبکہ مہم کو مزید تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔شہر اور دیہی علاقوں میں بھی مہم کو موثر بنانے کے لئے ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں جو گھر گھر پہنچ کر ویکسینیشن کر رہی ہیں۔

    انہوں نے ان خیالات کا اظہاررورل ہیلتھ سینٹر مردان پور دورہ کے موقع پر کیا۔اس موقع پر ایم ایس رورل ہیلتھ سینٹر مردان پور اور ڈپٹی سیکرٹری زاہد اقبال بھی موجود تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ ویکسینیشن کی مہم پر حکومت خصوصی توجہ دے رہی ہے اور اس مہم کو کامیاب بنانے کے لئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں جبکہ مانیٹرنگ کے سسٹم کو بھی بہتر بنا رہے ہیں۔

    ان کو مزید کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں ویکسین کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے بھر پور اقدامات کر رہے ہیں کیونکہ صحت کی سہولیات کی فراہمی موجودہ حکومت کی ترجیحا ت میں شامل ہے۔

  • پاکستان کیوں افغانستان کے بارے میں فکرمند ہے؟ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے خطرناک وجہ بتا دی

    پاکستان کیوں افغانستان کے بارے میں فکرمند ہے؟ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے خطرناک وجہ بتا دی

    پاکستان کیوں افغانستان کے بارے میں فکرمند ہے؟ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے خطرناک وجہ بتا دی،اطلاعات کے مطابق محکمہ انسداد دہشتگردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں 90 فیصد دہشت گردی افغانستان سے ہوتی ہے، بڈھ بیر حملے میں ملوث افغان دہشت گرد کا نادرا سے شناختی کارڈ بنا ہوا تھا، اس واقعے کے بعد نادرا ہمارے ساتھ تعاون نہیں کررہا۔

    پشاور میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی جاوید اقبال نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں 90 فیصد دہشتگردی افغانستان سے ہوتی ہے، افغانستان کے دہشتگردوں نے پاکستان میں بھی دہشتگردی کی کوشش کی۔

    جاوید اقبال نے کہا کہ پولیس نے کوشش کر کے دہشتگرد کارروائیوں کو روکا ہے، اس سال داسو میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں چینی باشندے ہلاک ہوئے، حملے میں ملوث ملزمان کو سی ٹی ڈی نے گرفتار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ داعش کے لوکل چیپٹر نے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیوں کی بھرپور کوشش کی، داعش نے یہاں پولیو ٹیموں پر حملے کیے، اس گروپ نے ستنام سنگھ کو بھی مارا تھا۔

    جاوید اقبال نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے تین بڑے داعش کے پی چیپٹر کے دہشتگرد مارے ہیں، اس سال 44 بھتے کی ایف آئی آرز درج کی ہیں جن میں 31 افراد کو مختلف کارروائیوں میں گرفتار کیا گیا ہے۔

    جاوید اقبال نے کہا کہ اس سال 40 کے قریب پولیس اہلکارشہید ہوئے، 599 ہائی پروفائل دہشتگردوں کو پکڑا جن میں 110 دہشتگرد اس سال مختلف کارروائیوں میں مارے گئے۔

    ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے کہا کہ داعش کا بنوں میں ابوبکر نامی دہشتگرد پولیو ٹیموں پر حملے کرتا تھا جو پکڑا گیا۔انہوں نے کہا کہ پچھلے چار پانچ مہینوں میں پولیو مہم میں 44 ٹارگٹ کلنگ کے واقعات ہوئے،اس سال تین خودکش حملے ہوئے۔

  • خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3لاکھ سےزائد مریض ٹانگوں سے محروم ہوسکتے ہیں :ماہرین صحت

    کراچی :خبردار:ہوشیار:پاکستان میں ذیابیطس کے3 لاکھ سے زائد مریضوں کو ٹانگوں سے محرومی کا خدشہ ہے:ماہرین صحت نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ،اطلاعات کے مطابق کورونا کی وبا کے دوران پاکستان سمیت دنیا بھر میں ذیابیطس کے نتیجے میں ہونے والے پیروں کے زخموں کے بعد ٹانگیں کٹنے اور معذوری کی شرح میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔اس حوالے سے ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگریہی صورت حال رہی تو پھر معاملات بہت ہی خراب ہوجائیں گے

    پاکستان میں شوگر یعنی ذیابطس سے ہونے والے نقصانات سے آگاہی اور اس کے تدارک کے لیے ہونے والے اس بہت ہی اہم سمٹ میں ماہرین نے بہت ہی سنہری باتیں کیں‌، ماہرین کا کہنا تھا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ 2022 میں پاکستان میں 3 لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کی وجہ سے ہونے والے پیروں کے زخموں کے نتیجے میں اپنی ٹانگوں سے محروم ہو سکتے ہیں۔ان خدشات کا اظہار ڈائبیٹک فٹ انٹرنیشنل کے صدر اور نامور ماہر ذیابیطس پروفیسر ڈاکٹر زاہد میاں نے کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    کراچی میں اس حوالے سے ہونے والی تحقیقات کے حوالے سے جو چیزیں سامنے آئی ہیں اس میں کہا گیاہے کہ اس موقع پر ذیابطیس کی وجہ سے ٹانگیں کٹنے سے بچانے کے لیے مقامی دوا ساز کمپنی ہائی کیو فارما اور بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے درمیان کراچی میں 30 ڈائبیٹک فٹ کلینکس کے قیام کے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے۔

    معاہدے کے تحت بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ماہرین مقامی دوا ساز ادارے کے ساتھ مل کر کراچی میں 30 کلینکس قائم کریں گے تاکہ ذیابطیس کی وجہ سے پیروں میں ہونے والے زخموں کا علاج کرکے ایسے مریضوں کی ٹانگوں کو کٹنے سے بچایا اور ان کو معذوری سے محفوظ رکھا جا سکے۔

    ڈاکٹر زاہد میاں کا کہنا تھا کہ عالمی ذیابیطس فیڈریشن کے مطابق پاکستان میں تین کروڑ تیس لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں جبکہ ذیابیطس کے مرض میں مبتلا افراد میں ٹانگیں کٹنے کی شرح 20 سے 40 فیصد تک ہوتی ہے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ذیابیطس کے مریضوں میں سے 10 فیصد افراد کی ٹانگیں بھی ناقابل علاج زخموں کی وجہ سے کاٹنی پڑیں تو پاکستان میں اگلے سال تین لاکھ سے زائد افراد معذور ہو جائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریبا 85 فیصد افراد کو معذوری سے بچایا جا سکتا ہے جس کے لیے پاکستان میں 3 ہزار سے زائد ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر عالمی معیار کا علاج فراہم کیا جائے۔

    ان کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ پاکستان کے مختلف دواساز کمپنیوں کی مالی اور فنی معاونت سے پاکستان بھر میں فٹ کلینکس قائم کر رہا ہے، کراچی میں کئی سالوں سے قائم فٹ کلینکس کی بدولت لوگوں کی ٹانگیں کٹنے کی شرح میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

    بقائی انسٹی ٹیوٹ آف ڈائیبیٹولوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی کے ڈائریکٹر پروفیسر عبدالباسط کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ذیابیطس میں مبتلا اکثر افراد کو اپنی بیماری کا علم ہی نہیں ہوتا۔

    انہوں نے کہا جب ان افراد میں اس مرض کی تشخیص ہوتی ہے اس وقت تک جسم کے کئی اعضا خراب ہو چکے ہوتے ہیں جبکہ پیروں میں خون کی سپلائی یا تو بہت کم یا ختم ہو چکی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں پیروں میں درد محسوس کرنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے، ایسے مریضوں کو اگر کوئی زخم لگتا ہے تو انہیں پتہ نہیں چلتا اور جلد ہی وہ زخم شوگر کی وجہ سے اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ پاؤں اور ٹانگ کاٹنے کی نوبت آجاتی ہے۔

    پروفیسر عبد الباسط کا کہنا تھا کہ ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم ہونے کے نتیجے میں ایسے مریضوں کا بہتر اور کامیاب علاج ہو سکے گا اور لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے گا۔ہائی کیو فارما کے مینیجنگ ڈائریکٹر عاطف اقبال کا کہنا تھا کہ ان کا ادارہ ملک بھر میں اس طرح کے 500 ڈائبیٹک فٹ کلینکس قائم کرنے کی کوشش کرے گا تاکہ لاکھوں لوگوں کو معذوری سے بچایا جا سکے۔

  • کراچی پہنچنے والے 5 مسافروں میں کووڈ 19 کی تصدیق

    کراچی پہنچنے والے 5 مسافروں میں کووڈ 19 کی تصدیق

    صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی پہنچنے والے 5 مسافروں میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوگئی، تمام مسافروں کو ایئر پورٹ سے قرنطینہ منتقل کردیا گیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق ذرائع محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ کراچی ایئر پورٹ پر 5 مسافروں میں کووڈ 19 کی تصدیق ہوگئی، مسافروں کے ریپڈ ٹیسٹ کیے گئے تھے۔

    ذرائع محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ان میں سے 4 مسافر سعودی عرب سے اور ایک خاتون مسافر دبئی سے کراچی پہنچیں۔

    ذرائع کے مطابق چاروں مسافروں کو قرنطینہ کے کورنگی سینٹر منتقل کردیا گیا جبکہ خاتون مسافر کو مقامی ہوٹل میں قرنطینہ کردیا گیا ہے۔

    یاد رہے کہ گزشتہ روز نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) نے بتایا تھا کہ ملک میں اب تک کرونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے 75 کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں۔

    این آئی ایچ کے مطابق اومیکرون ویرینٹ کا پہلا کیس 13 دسمبر کو کراچی میں سامنے آیا تھا، شہر قائد میں اب تک اومیکرون ویرینٹ کے 33 کیسز سامنے آچکے ہیں۔

    این آئی ایچ کا کہنا ہے کہ وفاقی اور صوبائی صحت حکام اومیکرون کے حوالے سے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور اومیکرون سے متاثرہ افراد کو فوری آئسولیٹ کیا جا چکا ہے۔

  • اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورے رہ گئے : حکومت کو بڑی حمایت مل گئی

    لاہور:اپوزیشن کے سارے کےسارےمنصوبے ادھورےحکومت کو بڑی حمایت مل گئی ،اطلاعات کے مطابق ایک بار پھر اپوزیشن کے سارے کے سارے منصوبے ادھورے رہ گئے ہیں‌ ، یہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ وفاقی حکومت کو منی بجٹ کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے قبل بڑی حمایت مل گئی

    خیال رہے کہ قومی اسمبلی میں منی بجٹ کو پیش کیا جائے گا، جس میں آئی ایم ایف کی شرائط کو مد نظر رکھتے ہوئے بجلی، پٹرول سمیت دیگر اشیاء کی قیمتوں کو بڑھایا جائے گا جبکہ دیگر پر ٹیکسز میں اضافہ کیا جائے گا۔

    ذرائع کے مطابق منی بجٹ کی منظوری کے معاملے پر مسلم لیگ ق نے حکومت کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے، ق لیگ منی بجٹ کو سپورٹ کرے گی۔حکومت کے ساتھ اتحادیوں کے رابطوں میں ق لیگ نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی کی حیثیت سے منی بجٹ کو سپورٹ کریں گے۔

    یاد رہےکہ اس سے پہلے بھی اس وقت اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جب پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا گیا تھا ، اس موقع پر بھی پاکستان مسلم لیگ قائداعظم نے ملک کی بہتری کی خاطرحکومت کی حمایت کی اور اسی حمایت کی وجہ سے ملک میں‌ بڑے عرصے کے بعد کچھ بہتر قانون سازی ہوئی ہے

    اس وقت حکومت کے دیگراتحادیوں کی طرف سے بھی یہی توقع کی جارہی ہےکہ وہ حکومت کی حمایت کریں گے اور حکومت اپنے مقصد میں‌ کامیاب ہوجائے گی

    ادھر آج اس منی بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی طرف سے ایک بار پھر ایوان کومچھلی منڈی بنا دیا گیا قومی اسمبلی میں منی بجٹ پر گونج سنائی دی جانے لگی، اپوزیشن حکومت پر برس پڑی، اپوزیشن نے منی بجٹ پیش کیے جانے پر حکومت کا بھرپور مقابلہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران اپوزیشن منی بجٹ کے معاملے پر حکومت پر برس پڑی، مسلم لیگ ن ، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جگہوں پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف نے منی بجٹ معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ایک سرنڈر 1971 میں کیا تھا، اس سے زیادہ خطرناک سرنڈر اب کیا جا رہا ہے، حکمران پاکستان کی خودمختاری کو سرنڈر کرنے جا رہے ہیں،

    اس موقع پر سابق وزیراعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ قومی اسمبلی اجلاس منی بجٹ کے حوالے سے ایوان کے اندر اور باہر چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں، عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں تباہ حال ہے۔ سب کواس حوالے سے تشویش ہے، اگرکوئی منی بل، منی بجٹ آئے گا توعوام کے دکھوں میں اضافہ ہوگا۔

    وزیر مملکت علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی ڈی سی اور سیاحت کے شعبے کو مکمل طور پر صوبوں کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، پی ٹی ڈی سی کے اثاثے اور ملازمین صوبوں کے حوالے کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے، مرکزی سطح پر ٹورزم بورڈ کام کرے گا، حکومت مقامی و غیر ملکی سیاحت کے فروغ کے لیے کام کرے گی

  • نسلہ ٹاور کیس ، سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر میں پولیس اور اینٹی کرپشن کے چھاپے

    نسلہ ٹاور کیس ، سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر میں پولیس اور اینٹی کرپشن کے چھاپے

    کراچی: نسلہ ٹاور کیس کے ذمہ داروں کی نشاندہی کے لئے پولیس اور اینٹی کرپشن کی ٹیموں نے سندھ بلڈنگ اتھارٹی کے دفتر میں چھاپے مارے۔

    تفصیلات کے مطابق 27 دسمبر کو سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور کے بلڈنگ پلان کی منظوری دینے والے افسران کے خلاف محکمہ جاتی اور کریمنل کارروائی کا حکم دیا تھا، جب کہ نسلہ ٹاور کیس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈی جی اور دیگر افسران کے خلاف فیروز آباد تھانے میں مقدمہ درج کرنے کی بھی ہدایت کی تھی، جس کے بعد آج دوسرے روز پولیس اور اینٹی کرپشن کی ٹیموں نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے دفتر میں چھاپے مارے۔

    نسلہ ٹاور کیس پر عدالتی احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے پولیس نے ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ الطاف حسین کی سربراہی میں پانچ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کردی ہے، کمیٹی کے چار ارکان میں ایس پی ، ڈی ایس پی ، ایس ایچ او اور ایس آئی او شامل ہیں، تحقیقاتی کمیٹی ذمے دار افسران کے خلاف کارروائی کرے گی۔

    ایس ایس پی انویسٹی گیشن ایسٹ الطاف حسین کی سربراہی میں پولیس ٹیم ایس بی سی اے کے مرکزی دفتر پہنچی، اور ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران سے متعلق پوچھ گچھ کی۔ چھاپے کے بعد ایس ایس پی انویسٹی گیشن الطاف حسین کا کہنا تھا کہ ایس بی سی اے حکام سے بات چیت ہوئی ہے، ایس بی سی اے حکام دستاویزات فراہم کریں گے، ہم ابھی ذمہ داروں کا تعین کررہے ہیں اور ابھی تک ایس بی سی اے افسران تعاون کررہے ہیں۔

    ایس ایس پی کا کہنا تھا کہ کیس میں 2 ڈیپارٹمنٹ ملوث ہیں دیگر اداروں کے نام بھی سامنے آئے ہیں، لیکن دیگر اداروں کے نام ابھی نہیں بتا سکتا، ڈی جی ایس بی سی اے اور دیگر افسران سے ملاقات کرکے معلومات حاصل کی ہیں، پولیس ذمہ داران کا تعین کرکے گرفتاریاں شروع کرے گی۔

  • نسلہ ٹاور، فرار ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ جمعے کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے

    نسلہ ٹاور، فرار ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ جمعے کو ریٹائرڈ ہو جائیں گے

    سپریم کورٹ کے حکم پر گرائی گئی غیر قانونی بلڈنگ نسلہ ٹاور کے نقشے کی منظوری کے حوالے سے منظر عام پر آنے والے سابق اور موجودہ افسران کے حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ذرائع نے کہا ہے کہ فرار ہونے والے صفدر مگسی اُس وقت ڈپٹی کنٹرولر بلڈنگ ٹاؤن پلاننگ تھے، اور اب وہ ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ ہیں، اور جمعے کو سروس سے ریٹائرڈ ہو جائیں گے۔

    ذرائع نے بتایا کہ ٹاؤن پلاننگ سے نقشے کی منظوری کے بعد نسلہ ٹاور کی فائل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) افسران کو فارورڈ کی گئی تھی۔

    نقشے کی منظوری کے وقت نثار احمد عرف چھوٹو ٹاؤن بلڈنگ کنٹرولر آفیسر جمشید ٹاؤن تھے، جب کہ ریٹائرڈ افسر سرفراز حسین ڈپٹی کنٹرولر تھے، اور ان دونوں افسران کے دستخط اور اجازت سے بلڈنگ کا نقشہ / لے آؤٹ پلان منظور ہوا۔

    ذرائع کے مطابق فرار ہونے والے صفدر مگسی اس وقت ڈپٹی کنٹرولر بلڈنگ ٹاؤن پلاننگ تھے، وہ کل سے فرار ہیں اور آفس نہیں آ رہے ہیں۔

    فرحان قیصر کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیزائن تھے، انھوں نے سِیل این او سی جاری کی جو غیر قانونی بلڈنگ کو جاری نہیں کی جا سکتی، جب کہ فرحان قیصر اس وقت ڈائریکٹر ڈیزائن ہیں۔

  • سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌:    سیاسی رہنماوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری

    سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌: سیاسی رہنماوں کی طرف سے تعزیت کا سلسلہ جاری

    اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پا گئیں‌،اطلاعات کے مطابق سابق وزیرخزانہ سرتاج عزیز کی اہلیہ محترمہ آج شام قضائے الٰہی سے وفات پا گئی ہیں‌، بیگم سرتاج عزیز کی وفات کی خبر پرملک بھر کی سیاسی و سماجی شخصیات نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہارکیا ہے ،

    دیگررہنماوں کی طرف نواز لیگ کے صدر پاکستان کے اپوزیشن لیڈرشہبازشریف نے بیگم سرتاج عزیز کی وفات پرافسوس کرتے ہوئے اسے سرتاج فیملی کےلیے ایک بہت بڑا صدمہ قرار دیا ہے

     

     

    شہبازشریف نے اس حوالے سے اظہارافسوس کرتے ہوئے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ "پارٹی کے سینئر راہنما، سابق وزیر خزانہ محترم سرتاج عزیز کی اہلیہ کی وفات پر تمام اہل خانہ سے تعزیت اور افسوس کرتا ہوں۔ غم کی اس گھڑی میں ہم سب ان کے ساتھ شریک ہیں۔ اللہ تعالی مرحومہ کو اپنے جوار رحمت میں بلند مقام اور پسماندگان کو صبرجمیل عطا فرمائے۔ آمین

     

    دوسری طرف خاندان کی طرف سے ان کی نمازجنازہ کی ادائیگی کے حوالے سے بتا دیا گیا ہےکہ آج شام 4 بجے ان کی نمازجنازہ ادا کردی گئی ہے اور بیگم سرتاج عزیز کو ایچ 8 قبرستان میں دفن کردگیا ہے

     

    لواحقین کی طرف سے یہ بھی پیغآم جاری جاری دیا گیا ہے کہ  کل  30 دسمبر سہ پہر 3 بجے چک شہزاد فارم اسلام آباد میں رسم سوئم ادا کی جائے گی