Baaghi TV

Author: +9251

  • 15 اگست تک جی میل   ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    15 اگست تک جی میل ٹرانسلیشن فیچر تمام صارفین استعمال کرسکیں گے

    گوگل کے مطابق جی میل کی ایپلی کیشن میںٹرانسلیشن کے فیچر کو پیش کردیا گیا ہے لیکن ترتیب وار تمام صارفین کو اس تک رسائی دے دی جائے گی۔ گوگل نے اپنے ایک مضمون میں بتایا کہ اینڈرائیڈ صارفین کے موبائلز پر 15 اگست تک مذکورہ فیچر نظر آنے لگے گا جب کہ آئی او ایس صارفین کے موبائلز میں 21 اگست تک فیچر شامل ہوجائے گا۔

    تاہم واضح رہے کہ گوگل جی میل پر ترجمے کی سہولت فراہم کرتا ہے جب کہ گوگل ٹرانسلیشن دنیا کی 100 سے زائد زبانوں میں بھی دستیاب ہے۔ گوگل ٹرانسلیشن کو جی میل بھی شامل کیا جا چکا ہے جب کہ ڈیسک ٹاپ پر اسے استعمال کرنے والے افراد گزشتہ کئی سالوں سے اس سہولت سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    کمپنی کے مطابق ترجمے کا فیچر ای میل کے ٹاپ پر نظر آئے گا، صرف ایک کلک پر صارفین موصول ہونے والی ای میل کو مطلوبہ زبان میں پڑھ سکیں گے۔ اس ضمن میں واضح کیا گیا ہے کہ اگر کسی صارف کو آئندہ 15 دن کے اندر ای میل کے ٹاپ پر ترجمے کا فیچر نظر نہ آئے تو ایسے صارفین کو جی میل کی سیٹنگ میں جا کر ٹرانسلیشن کے فیچر کو آن کرنا پڑے گا۔ کمپنی کے مطابق ٹرانسلیشن کے آپشن کو ڈسمس کیے جانے کے بعد دوبارہ بھی مذکورہ فیچر ای میل کے ٹاپ پر نطر آئے گا لیکن اگر کوئی صارف ترجمے کے فیچر کو ہمیشہ کے لیے سیٹنگ میں جا کر بلاک کرے گا تو اس سے دوبارہ ترجمے کی اجازت دینا نہیں پوچھا جائے گا۔

  • امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کردیا؟

    امریکی ویب سائٹ نے سائفر لیک کر دیا

    ویب سائٹ دی انٹرسیپٹ دعوی کیا ہے کہ ان کو موصول ہونے والی خفیہ دستاویز کے مطابق امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے 7 مارچ 2022 کو ہونے والے ایک اجلاس میں عمران خان کو یوکرین پر روسی حملے پر غیر جانبداری پر وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹانے کے لیے پاکستانی حکومت کی حوصلہ افزائی کی، امریکہ میں پاکستانی سفیر اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے دو عہدیداروں کے درمیان ہونے والی ملاقات گزشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستان میں شدید چھان بین، تنازعات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، کیونکہ عمران خان اور ان کےمخالفین اقتدار کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ سیاسی کشمکش 5 اگست کو اس وقت شدت اختیار کر گئی جب عمران خان کو بدعنوانی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی اور ان کی برطرفی کے بعد دوسری بار حراست میں لیا گیا۔ عمران خان کے حمایتی ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔


    ویب سائٹ کے مطابق لیک ہونے والی دستاویز میں امریکی حکام کے ساتھ ملاقات کے ایک ماہ بعد پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کا ووٹ لیا گیا، جس کے نتیجے میں عمران خان کو اقتدار سے ہٹادیا گیا۔ خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے امریکہ کی درخواست پر اقتدار سے ہٹانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ پاکستانی کیبل کا متن، جو سفیر کی جانب سے اس ملاقات سے تیار کیا گیا تھا اور پاکستان منتقل کیا گیا تھا، اس سے قبل شائع نہیں کیا گیا تھا۔ اندرونی طور پر ‘سائفر’ کے نام سے جانی جانے والی اس کیبل میں ان گاجروں اور لاٹھیوں کو ظاہر کیا گیا ہے جو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے عمران خان کے خلاف دباؤ ڈالنے کے لیے تعینات کی تھیں، جس میں وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر عمران خان کو ہٹایا گیا تو تعلقات بہتر ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہوا تو مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا.


    ویب سائٹ میں لکھا ہے کہ اس دستاویز کو ‘خفیہ’ کا نام دیا گیا ہے جس میں محکمہ خارجہ کے حکام بشمول جنوبی اور وسطی ایشیائی امور کے بیورو کے معاون وزیر خارجہ ڈونلڈ لو اور اسد مجید خان کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کا ذکر بھی شامل ہے، جو اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر تھے۔ یہ دستاویز ذرائع نے "دی انٹرسیپٹ” کو فراہم کی، جبکہ انٹرسیپٹ ذیل میں کیبل کی باڈی شائع کر رہا ہے ، متن میں معمولی ٹائپوز کو درست کر رہا ہے کیونکہ ایسی تفصیلات دستاویزات کو واٹر مارک کرنے اور ان کے پھیلاؤ کو ٹریک کرنے کے لئے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

    دی انٹرسیپٹ کو حاصل ہونے والی دستاویز کے مندرجات پاکستانی اخبار ڈان اور دیگر جگہوں پر شائع ہونے والی رپورٹنگ سے مطابقت رکھتے ہیں جس میں ملاقات کے حالات اور کیبل میں ہی تفصیلات بیان کی گئی ہیں، جس میں انٹرسیپٹ کی پریزنٹیشن سے حذف کیے گئے درجہ بندی کے نشانات بھی شامل ہیں۔ کیبل میں بیان کردہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی حرکات کو بعد میں واقعات سے ظاہر کیا گیا۔ کیبل میں امریکہ یوکرین جنگ پر عمران خان کی خارجہ پالیسی پر اعتراض کرتا ہے۔ ان کی برطرفی کے بعد ان موقف کو فوری طور پر تبدیل کر دیا گیا، جس کے بعد، جیسا کہ اجلاس میں وعدہ کیا گیا تھا.

    جبکہ ویب نے مزید لکھا کہ دستاویز کے مطابق؛ ملاقات میں، لو نے تنازعہ میں پاکستان کے موقف پر واشنگٹن کی ناراضگی کے بارے میں واضح الفاظ میں بات کی۔ اس دستاویز میں لو کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ‘یہاں اور یورپ کے لوگ اس بات پر کافی فکرمند ہیں کہ پاکستان (یوکرین پر) اتنا جارحانہ غیر جانبدار موقف کیوں اختیار کر رہا ہے،۔ یہ ہمارے لئے اتنا غیر جانبدار موقف نہیں لگتا ہے۔ لو نے مزید کہا کہ انہوں نے امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ساتھ داخلی بات چیت کی ہے اور "یہ بالکل واضح ہے کہ یہ وزیر اعظم کی پالیسی ہے۔

    ویب نے دعویٰ کیا کہ لو نے دو ٹوک انداز میں عدم اعتماد کے ووٹ کا معاملہ اٹھایا: "میرے خیال میں اگر وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کا ووٹ کامیاب ہو جاتا ہے، تو واشنگٹن میں سب کو معاف کر دیا جائے گا کیونکہ روس کے دورے کو وزیر اعظم ایک فیصلے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ بصورت دیگر،” انہوں نے مزید کہا، ”مجھے لگتا ہے کہ آگے بڑھنا مشکل ہو جائے گا۔ لو نے متنبہ کیا کہ اگر یہ صورتحال حل نہ کی گئی تو پاکستان اپنے مغربی اتحادیوں کے ہاتھوں پسماندہ ہو جائے گا۔ لو نے کہا، "میں یہ نہیں بتا سکتا کہ یورپ اسے کس طرح دیکھے گا لیکن مجھے شبہ ہے کہ ان کا رد عمل بھی ایسا ہی ہوگا، انہوں نے مزید کہا کہ اگر خان عہدے پر رہے تو انہیں یورپ اور امریکہ کی طرف سے "تنہائی” کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    لیکن فرحان ورک کے مطابق تحریک انصاف کا سائفر بیانیہ جعلی جعلی ہے کیونکہ اگر امریکہ روس جانے پر پی ٹی آئی حکومت ہٹاتا تو امریکہ کے تین ہی فوائد ہوسکتے تھے

    1۔ پاکستان روس یوکرین جنگ میں یوکرین کا ساتھ دے
    2۔ پاکستان اقوام متحدہ میں روس کے خلاف ووٹ دے
    3۔ پاکستان روس سے دور ہوجائے

    اسکے علاوہ تحریک انصاف ہٹانے کا امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں تھا۔ لیکن پی ٹی آئی حکومت ہٹنے کے بعد کیا امریکہ کو ان تینوں فائدوں میں سے ایک بھی فائدہ ملا؟ نہیں۔
    فرحان ورک نے مزید کہا ثبوت حاضر ہیں
    1۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری صاف صاف واضح کرچکے ہیں کہ پاکستان روس یوکرین جنگ میں نیوٹرل ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    2۔ پاکستان نے اقوام متحدہ میں روس یوکرائن جنگ پر نیوٹرل موقف رکھا۔ یہ وہی موقف تھا جو عمران خان دور کا تھا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اسی موقف کی حمایت کی۔ امریکہ کے پریشر کے باوجود یوکرائن کے حق میں ووٹ نا دیا
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)
    3۔ پاکستان روس سے قطع تعلقی کرلیتا لیکن یہاں تو پاکستان روس سے تیل منگوا رہا ہے۔
    (ثبوت ساتھ جڑا ہے)

    انہوں یہ بھی کہا کہ ان تمام ثبوتوں کو دیکھ کر آپ خود بتائیں کہ اگر امریکہ نے روس سے تعلقات پر تحریک انصاف حکومت ختم کروائی تو پھر اس حساب سے تو پی ڈی ایم حکومت کی بھی یہی پالیسی رہی تو پھر امریکہ کوعمران حکومت ہٹانے کا فائدہ کیا ہوا؟ لیکن وقت نے اس جماعت کے تمام جعلی پراپیگینڈا کو بے نقاب کر دیا ہے۔

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • شاندانہ گلزار کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا

    شاندانہ گلزار کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا

    تحریک انصاف کے رہنما شیر افضل خان مروت نے دعوی کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کو اسلام آباد پولیس نے گرفتار کرلیا ہے جبکہ انہوں نے اپنے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی شاندانہ گلزار کو اسلام آباد پولیس نے آج شام 5 بجے بندوق کی نوک پر اغوا کرلیا، اس کی ماں نے مجھے اس بات کی تصدیق کی ہے، جو اس اندوہناک واقعے کی عینی شاہد ہے۔


    شاندانہ گلزار کی گرفتاری پر پی ٹی آئی نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ فاشسٹ حکومت نے اپنے آخری دن بھی ایک اور خاتون سیاست دان کو گرفتار کیا ہے۔ جبکہ پی ٹی آئی نے کہا کہ ان کی نظر میں شندانہ گلزار کا جرم پی ٹی آئی اور عمران خان کے ساتھ کھڑا ہے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    اس کو مزید اپڈیٹ کیا جائے گا

  • سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ؛ جج سے تلخ کلامی، امان اللہ کنرانی نے وجہ بتا دی

    سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی کا کہنا ہے کہ بدھ 9 اگست 2023 کو سپریم کورٹ کے بنچ 3 میں جناب جسٹس یحی آفریدی کے سامنے دو دیگر جج صاحبان مظاہر اکبر نقوی اور جسٹس حسن رضا رضوی، عمران احمد خان نیازی کی درخواست جس میں سپریم کورٹ بار ایسوسیشن کے سابق ممبر ایگزیکٹو کمیٹی کے کمیٹی کے قتل میں ایف آئ آر کے خلاف برائے استرداد فوجداری کیس کی سماعت کی ابتداء میں درخواست گزار کے وکیل سردار محمد لطیف کھوسہ نے معمول کے مطابق اپنے دلائل کا آغاز کیا اس دوران بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کھوسہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ اب چونکہ آپ کے موکل گرفتار ہوچکے ہیں لہذا مزید اس کیس میں کاروائی کیسے جاری رکھی جائے.

    جبکہ اس پر شہید وکیل عبدالرزاق شر کے صاحبزادے سراج شر مدعی مقدمہ کے وکیل امان اللہ کنرانی نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کو اس کیس میں صرف جے آئی ٹی میں پیش ہونے کے لئے کہاگیا ہے جس پر وہ مسلسل پیش نہیں ہورہے ہیں حالانکہ 2017 میں سپریم کورٹ نے جے آئی ٹی کی تشکیل کو میاں نواز شریف کے کیس میں قانونی جواز فراھم کردیا PLD 2017 SC 265 عدالت نے فرمایا اب چونکہ ملزم گرفتار ہے تو جے آئی ٹی اس سے باز پرس و تفتیش کرسکتی ہے جبکہ اس خوشگوار ماحول میں کاروائی میں مداخلت کرتے ہوئے اچانک بنچ کے ممبر جناب جسٹس مظاہر اکبر نقوی صاحب نے توھین آمیز انداز میں غصے سے انگلی کے اشارے سے مدعی کے وکیل امان اللہ کنرانی کو مخاطب کرتے ھوئے کہا کہ آپ کے کیس میں کیا ہے.

    اعلامیہ کے مطابق انہوں نے جواب دیا اس کیس میں، میں نے پوری تیاری کی ہے جبکہ آپ کا اپنا فیصلہ بھی لایا ہوں مگر وہ اپنی آواز اونچی رکھے ہوئے تھے اس پر وکیل نے کہا اگر آپ جج و عدالت ہیں تو مجھے آپ کا احترام ہے اور میرٹ پر میرے کیس کی شنوائی کریں اگر دھمکی آمیز رویہ اپنائیں گے تو ہم بھی غلام نہیں ہیں اور آپ بھی PLD 1998 SC 161 کے تحت اسد علی ایڈوکیٹ کے کیس کی روشنی میں سینارٹی کے برعکس جج بننے کے اہل نہیں اور یہ معاملہ کوئٹہ میں بنچ کے سامنے اٹھایا گیا بعد میں فل کورٹ نے وکیل کے اعتراض کو قابل سماعت قرار دیکر جونئیر چیف جسٹس کو فارغ کردیا تھا.

    لہذا اُس کی روشنی میں آج اِس کیس میں بھی جناب جسٹس مظاہر نقوی صاحب کو مخاطب کرتے ھوئے استدعا کی کہ ایسے ہی از خود کاروائی کریں جیسے غلام محمود ڈوگر ڈی آئی جی کے تبادلے کے کیس میں آپ نے پنجاب کے الیکشن کا نوٹس لیکر چیف جسٹس کو بنچ بنانے کا لکھا تھا اس کیس میں بھی سینٹارٹی اصول کو طے کرنے کیلئے بڑا بنچ تشکیل دینے کیلئے کاروائی کیلئے چیف جسٹس کو نوٹ بھیج دیا جائے جس پر بنچ کے سربراہ جناب جسٹس یحی آفریدی نے فرمایا آپ کو اپنی شکایت و تحفظات لکھ کر دینی چاہئیے تھے.

    تاہم اس پر کنرانی عرض کیا کہ میرا مدعا اس موقع پر یہ کہنے کا نہ تھا میں نے میرٹ پر دلائل کیلئے تیاری کررکھی ہے جس پر دائیں و بائیں بیٹھے بنچ کے جونئیر جج صاحبان برھم ہوئے تووکیل نے یاد دلایا سندھ ہائی کورٹ میں جونئیر ججز کو سپریم کورٹ میں تعیناتی کے خلاف پٹیشن بھی زیرالتوء ہے جس پر بنچ کے دوسرے جج حسن رضا رضوی نے توھین عدالت نوٹس کی بات کی تو بنچ کے سربراہ جناب یحی آفریدی نے کنرانی سے غیر مشروط معافی مانگنے کی ہدایت کی جو یہ کہہ کر مان لی کہ ججوں کے سامنے گذشتہ 35 سالوں سے ادب احترام کے ساتھ پیش ہوتا رہا ہوں اب بھی مجھے معافی تو کیا ھاتھ جوڑنے پر بھی عار نہیں مگر عدالت اپنی کاروائ میرٹ پر چلائے فریق نہ بنے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ وکیل نے مزید کہا کہ فریق بنے گی تو ہم بھی کھڑے ہیں اور پھر کوئی معافی نہیں مانگیں گے معزز جناب جسٹس یحی آفریدی نے دوسرے معزز جج جناب جسٹس حسن رضا رضوی کی رضامندی سے میرے معافی مانگنے کو قبول کرتے ہوئے مناسب تحریری حکم بعد میں جاری کرنے کا بتاکر عدالت کی کاروائ 24.8.23 تک ملتوی کردی تاہم جے آئی ٹی کو کاروائی کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کے ساتھ سابقہ حکم کے تسلسل میں ملزم عمران خان کو گرفتار نہ کرنے کے عبوری حکم کی توسیع کردی.

  • نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    نگراں وزیراعظم کیلئے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا. قمر زمان کائرہ

    وزیراعظم کے مشیر امور کشمیر قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی کیونکہ انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے اور حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم زیادہ نہیں ہوں گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا تھا کہ اداروں کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہنا چاہیئے اور سوسائٹی بیلنس ہوگی تو ہم آگے بڑھ سکیں گے، 30 سال تک ملک میں آمریت رہی ہے جبکہ جمہوری ادوار میں بھی کام نہیں کرنے دیا گیا، ہمیں حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیئے، بلاول بھٹو نے بات حکومت کی جانب سے کہی۔

    قمر زمان کائرہ نے مزید کہا کہ کوئی شک نہیں ہم مہنگائی اور بیروزگاری پر قابو نہیں پاسکے ہیں لیکن حکومت کی مدت ختم ہونے سے پہلے پیٹرول مہنگا کیا گیا مگر ذرا سوچیں کہ پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے اضافہ کرنا کیا آسان فیصلہ تھا۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کو ریاست کے لیے مشکل فیصلے کرنے پڑے، بلاول بھٹو کے بیان پر میں تبصرہ نہیں کرسکتا، پیمرا ایکٹ میں ترامیم کرکے بل دوبارہ پیش کیا گیا، اس کا مطلب ہے کسی کے کہنے پر ٹھپے نہیں لگ رہے، تیز رفتار قانون سازی سے گریز کرنا چاہیئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ حکومتی ارکان مزے کررہے ہیں، جہاں ضرورت ہوتی ہے ایوان میں اعتراض اٹھایا جاتا ہے، جمہوریت کے لیے ہم ایک قدم آگے اور 2 قدم پیچھے جاتے ہیں، جمہوریت کے لیے جدوجہد میں ہم پیچھے ہی گئے ہیں۔ علاوہ ازیں انتخابات سے متعلق سوال پر قمر زمان کائرہ کا کہنا تھا کہ انتخابات آئینی ضرورت ہیں، 90 دن میں ہوتے نظر نہیں آرہے، سی سی آئی نے 2017 کی مردم شماری کو مشکوک قرار دیا، 2022 میں نئی مردم شماری کا آغاز ہوا تھا، مردم شماری پر ایم کیوایم کو شدید تحفظات تھے، سی سی آئی نے متفقہ طور پر مردم شماری کی منظوری دی، مردم شماری کے نتائج پر تمام جماعتیں متفق ہوگئیں، مردم شماری کے تحت حلقہ بندیاں ہونا قومی تقاضہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ نگراں حکومت کی کوئی مدت نہیں ہوتی، نگراں وزیراعلیٰ کی سی سی آئی میں شرکت پر کوئی قدغن نہیں، انتخابات ہونے تک نگراں حکومت رہتی ہے، نگراں حکومت 90 دن میں ختم نہیں ہوتی، حکومت سازی میں مزید 15 دن لگتے ہیں، نگراں حکومت رہتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں میں پنجاب کی کوئی نشست کم نہیں ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے لیے اب آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں رہی ہے لہذا حلقہ بندیوں میں کسی صوبے کی نشستیں کم یا زیادہ نہیں ہوں گی۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر قمر زمان کائرہ نےکہا کہ نگراں وزیراعظم کے لیے اب تک کوئی نام فائنل نہیں ہوا ہے اور وزیراعظم و اپوزیشن لیڈر اس پر کل مشاورت کریں گے جبکہ الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے لیے 4 ماہ چاہئیں لہذا الیکشن کمیشن کو چاہیئے کہ 3 ماہ میں حلقہ بندیاں مکمل کرلے جبکہ آئین پر جلد از جلد عملدرآمد کرنے کی کوشش کی جانی چاہیئے۔

  • اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں. وزیراعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اوورسیز پاکستانیوں کی ملک کے لیے بہت خدمات ہیں۔ جبکہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی دنیا بھر میں پاکستان کانام روشن کررہے ہیں،ہم اوور سیز پارکستانیوں کیلئے جنتا بھی کر سکتے ہیں،کرنا چاہیے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تمام اوورسیز پاکستان کے سفیر ہیں ،اگر لیبر کو اسکیل پر ٹریننگ دی جائے تو وہ زیادہ ریمیٹنس بنا سکیں گے، دنیا میں نوجوانوں کو کمال ٹریننگ دی جا رہی ہے ،نوجوانوں کوا سکیل ٹریننگ دی جائے تو باہر جا کر یہ اور بھی زیادہ کما سکتے ہیں۔ آج اوور سیز پاکستانیوں کیلئے پیکج کا اعلان کرنا چاہتا ہوں ،اگلی حکومت اس پیکج کو عملی جامہ پہنائے گی۔

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا اوورسیز پاکستانیوں کے جائیداد کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے، تمام پبلک سیکٹر ہاوسنگ اسکیموں میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے خصوصی ڈسکاونٹ دیا جائے گا، سال میں سب سےترسیلات زر بھیجنے والے 10اوورسیزپاکستانیوں کو ایوارڈ دیئے جائیں گے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    جبکہ یونیورسٹیز میں 5فیصد کوٹا اوورسیز پاکستانیوں کے بچوں کیلئے رکھا جائے گا، سمندر پار پاکستانیوں کی جائیدادوں کے مسائل کے حل کیلئے خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔

  • پاکستان کو درپیش چینلجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا. وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    پاکستان کو درپیش چینلجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا. وزیر خارجہ بلاول بھٹو

    وفاقی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ ہمارا کام پاکستان میں دہشت گردی کا خاتمہ اور امن کو بحال کرنا ہے، پاکستان کے امن کو کسی صورت داؤ پر نہیں لگنے دیں گے۔ جبکہ دفترخارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے مختلف پہلو ہیں کیونکہ جیسے ہی وزارت سنبھالی تو خارجہ پالیسی دباؤ کا شکار رہی لیکن پاکستان کو درپیش چیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔

    بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے جب اقتدار سنبھالا تو پاک چین اور پاک امریکا تعلقات مسائل کا شکار تھے جبکہ خوشی ہے کہ ان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا ہے، اور سی پیک کو بحال کیا جبکہ 10 سالہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ علاوہ ازیں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ جیسے چیلنجز کا سامنا تھا اور جس سے نکلنے کیلئے وقت سے پہلے 2 ایکشن پلان مکمل کیے، حنا ربانی کھر نے ایف اے ٹی ایف سے نکلنے میں دن رات کام کیا تاکہ ملک کی بہتری ہو۔


    ان کا مزید کہنا تھا کہ طلبا کو ویزے کی سہولیات کی فراہمی کیلئے اقدامات کیے اور وزارت نے بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے اہم کردار ادا کیا، افغان بہن بھائیوں کو سہولیات کی فراہمی میں کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ جبکہ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دنیا کے ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا، مقبوضہ وادی میں نہتے کشمیریوں کوظلم وجبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہورہی ہیں، اسلاموفوبیا کے خاتمے کیلئے ہر فورم پرآواز اٹھائی، قرآن پاک کی بے حرمتی کسی صورت قبول نہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزارت خارجہ کی کوششوں سے عالمی سطح پر پاکستان کو بہت سے عہدے ملے، سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران خود کو بےبس محسوس کیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو سیلاب متاثرین سے ملوایا، یواین سیکریٹری جنرل نے متاثرین کی بحالی کیلئے پاکستان کی طرف سے آواز اٹھائی اور سیلاب کے دوران عالمی سطح پر پاکستان کی مدد کی گئی۔

  • دستورساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ؛ قانون کی حکمرانی میں ترقی ہے. اسپیکر

    دستورساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ؛ قانون کی حکمرانی میں ترقی ہے. اسپیکر

    سپیکر و ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کا پاکستان کی دستورساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر خصوصی پیغام میں کہنا تھا کہ پارلیمان کی بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی میں ملک کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے. جبکہ سپیکر قومی اسمبلی راجا پرویز اشرف اور ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا ہے کہ پارلیمان کی بالادستی اور آئین و قانون کی حکمرانی میں ملک کی ترقی کا راز پوشیدہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے اور ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں پارلیمان کا کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے علیحدہ علیحدہ پیغامات میں کیا۔

    اس موقع پر اسپیکر نے کہا کہ پارلیمانی نظام کے تسلسل اور جمہوریت کی مضبوطی ملکی بقاء اور سلامتی کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی آئین و قانون کی حکمرانی کے بغیر ملکی تعمیر وترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے پارلیمان نے موثر قانون سازی کے ذریعہ اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ موثر قانون سازی عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال 15 قومی اسمبلی نے ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کو شیان شان طریقے سے منایا اور خواتین بچوں سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے طبقات کے لیے پارلیمان کے دروازے کھولے گئے۔

    علاوہ ازیں انہوں نے اس موقع پر قومی اسمبلی کے ایوان میں بچوں، خواتین، عام آدم حتی کہ خواجہ سراؤں کو بھی اپنا خیالات کے اظہار کا موقع دیا گیا۔انہوں نے کہا کہ ان تقریبات کو منانے کا مقصد پارلیمان اور آئین کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا تھا۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان 23 کروڑ عوام کی دانشگاہ اور عوام کی امنگوں کا محور ادارہ ہے اور اس ادارے میں عوامی نمائندوں کی اجتماعی سوچ کے ذریعے ملک اور قوم کو درپیش کو حل کے لیے قانون سازی اور پالیسیاں وضع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے لیے یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ 15 قومی اسمبلی جمہوری انداز میں اپنی مدد پوری کر رہی ہے اور اس اسمبلی نے ریکارڈ قانون سازی کی اور نئی جمہوری روایات قائم کی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    سپیکر نے اس امید کا اظہار کیا کہ آئندہ منتخب ہونے والی پارلیمان کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور عوام کے مسائل کو حل کرنے اور ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم کردار ادا کرے گی۔ جبکہ اس موقع پر ڈپٹی سپیکر زاہد اکرم درانی نے کہا کہ پارلیمان کی مضبوطی اور ملک میں جمہوریت کا تسلسل ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔انہوں نے کہا کہ پارلیمان عوامی امنگوں کا آئینہ دار ادارہ ہے، اور پالیمان کے ذریعے موثر قانون سازی کر کے ہم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

  • ارکان قومی اسمبلی کیلئے الوداعی عشائیہ

    ارکان قومی اسمبلی کیلئے الوداعی عشائیہ

    آج وفاقی حکومت کا قومی اسمبلی میں آخری روز ہے اور ممبران قومی اسمبلی کو آج رات عشایئے پر مدعو کیا گیا ہے جبکہ اس موقع پر انہیں پرتعیش اور چٹ پٹا ڈنر دیا جائے گا جبکہ ذرائع کے مطابق ڈنر کے مینیو میں مٹن کنہ، ترکش ریشمی کباب، لبنانی بون لیس بوٹی، میاں جی کی دال، چکن بون لیس ہانڈی, مٹن بخارا پلاؤ، بھنڈی مصالحہ، 3 طرح کے سیلڈ، نان کی مختلف اقسام اور کیریمل کرنچ بھی شامل ہیں۔

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی سے الوداعی خطاب کیا اور اس خطاب کے دوران شہباز شریف نے کہا کہ نوید قمر کمال کے آدمی ہیں اور بہت کام والے آدمی ہیں لہذا بلاول بھٹو زرداری نوید قمر کو ن لیگ میں بھیج دیں کیونکہ ایسے شخص کی ہمیں ضرورت ہے، جبکہ وزیر اعظم کے نوید قمر سے متعلق اس جملے پر ایوان میں قہقہے لگ گئے۔
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی

    تاہم اس حوالے اپنی نشست پر موجود پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے جواب دیا کہ وزیر اعظم صاحب آپ اس طرف آجائیں یعنی پیپلزپارٹی میں آجائیں۔ جبکہ خیال رہے کہ نوید قمر کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے اور وہ اتحادی حکومت میں وزیر تجارت ہیں۔

    علاوہ ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 9 مئی کو ملک کے ساتھ زیادتی کی گئی جسے ہمیشہ یاد رکھا جائیگا ،ملکی سرحدوں کے محافظوں نے اپنا خون دے کر ملک کی حفاظت کی ،16 ماہ کسی سیاسی مخالف کو جیل بھجوانا تو دور ناجائز تنگ بھی نہیں کیا ،موجودہ حکومت میں کسی کے خلاف نیب کیسز نہیں بنائے ،پی ٹی آئی کا دور ظلم اور زیادتی کا فاشٹ دور تھا