Baaghi TV

Author: +9251

  • نئی فلم تھینک یو فار کمنگ کو لیکر شہناز گل کیوں ہیں خوش ؟‌

    نئی فلم تھینک یو فار کمنگ کو لیکر شہناز گل کیوں ہیں خوش ؟‌

    سلمان خان کی فیورٹ‌اداکارہ شہناز گل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں جم کر خوشی کا اظہار کیا ہے . انہوں نے کہا ہے کہ تھینک یو فار کمنگ کے سیٹ پر میرے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا گیا جیسا کہ مجھ سے سینئرز کے ساتھ کیا جا رہا تھا. ان کا کہنا تھا کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ ادھر بھی ایسا ہوگا کہ بڑے لوگوں کو الگ دکھایا جاتا ہے اور چھوٹے لوگوں کو سائیڈ پر کیا جاتا ہے لیکن ادھر ایسا کچھ نہیں تھا۔نوجوان اداکارہ نے کہا کہ پروڈکشن کا بھی بہت بڑا رول ہوتا ہے، انہوں نے ایک فیصد بھی ایسا محسوس نہیں ہونے دیا کہ یہ لڑکی اصل رول والی ہے باقی کردار سائیڈ پر رہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ مجھے وینٹی بھی اچھی دی گئی اس کے علاوہ جب شوٹ ہوتا تھا تب ہی مجھے بلایا جاتا تھا، اور شوٹنگ سے بہت پہلے بلانے کی بجائے مجھے عین ٹائم پر بلایا جاتا تھا، ”اس فلم کےسیٹ پر میں اسی وجہ سے بہت انجوائے کررہی ہوں” کیونکہ میرے ساتھ یکساں سلوک کیا جا رہا ہے. واضح رہے کہ شہناز گل نے بگ باس سے شہرت حاصل کی اس کے بعد سلمان خان کی وجہ سے ان کا بالی وڈ‌کیرئیر راتوں رات اوپر چلا گیا.

    عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    وحید مراد کی اہلیہ سلمی مراد انتقال کر گئیں

    زباب رانا نے بتا دیا وہ کیسے لڑکے سے شادی کریں گی ؟‌

  • کیا عرفی جاوید نے منگنی کر لی ؟‌

    کیا عرفی جاوید نے منگنی کر لی ؟‌

    بھارتی بولڈ فیشن ماڈل و اداکارہ عرفی جاوید کسی نہ کسی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں ،زیادہ تر ان کو ان کی بولڈ ڈریسنگ کی وجہ سے جانا جاتا ہے. عرفی جاوید کے حوالے سے خبریں گردش کررہی ہیں کہ انہوں نے منگنی کر لی ہے. عرفی جاوید کی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر چند تصویریں وائرل ہو رہی ہیں۔ اِن تصویروں میں عرفی جاوید کو سیاہ رنگ کے لباس میں ایک مسٹری مین نامعلوم شخص کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ عرفی جاوید نے اِن تصویروں میں دوپٹہ اوڑھا ہوا ہے اور انہیں کچھ رسومات ادا کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    ان وائرل تصویروں سے متعلق بھارتی میڈیا کی جانب سے امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عرفی جاوید نے پوشیدہ انداز میں منگنی کر لی ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق عرفی جاوید کے ساتھ تصویروں میں نظر آنے والا شخص کون ہے اس سے متعلق تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔واضح رہے کہ عرفی جاوید ایک بھارتی مسلمان اداکارہ ہیں جبکہ اِن تصویروں میں انہیں ہندو رسومات ادا کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔عرفی جاوید نے تاحال اپنی منگنی کی خبروں کی نہ تصدیق کی ہے نہ ہی تردید کی ہے. لیکن گمان یہی کیا جا رہا ہے کہ عرفی جاوید نے منگنی کر لی ہے.

    عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    وحید مراد کی اہلیہ سلمی مراد انتقال کر گئیں

    زباب رانا نے بتا دیا وہ کیسے لڑکے سے شادی کریں گی ؟‌

  • بھارت جانے سے قبل ہی میں‌بہت بولڈ اداکارہ تھی حمائمہ ملک

    بھارت جانے سے قبل ہی میں‌بہت بولڈ اداکارہ تھی حمائمہ ملک

    اداکارہ حمائمہ ملک جنہوں نے بول فلم سے شائقین کے دل جیت لئے . انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں‌کہا ہے کہ یہ الزام غلط ہے کہ میں‌بھارت جا کر بولڈ ہوئی بلکہ میں تو پاکستان میں ہی بہت بولڈ اداکارہ تھی.انہوں نے کہا کہ اداکار عمران ہاشمی جو کہ بھارت کے مقبول ترین فنکار ہیں ان کے ساتھ مجھے کام کرنے بہت مزا آیا . انہوں نے ہمیشہ مجھے بہت زیادہ عزت دی. میں‌نے ان کے ساتھ فلم نٹور لال میں کام کیا اس میں ایک بار گرل کا کردار کیا ، اس کے بعد مجھ پر بہت زیاد ہ تنقید کی گئی .

    اس تنقید کو میں بالکل ہی بے جا تصور کرتی ہوں. انہوں نے کہا کہ ”مجھے سنجے دت اور وویک اوبرائے کےساتھ کام کرنے کاموقع میسر آیا ”. انہوں نے کہا کہ میرا شمار پاکستان کی ان اداکارائوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بالی وڈ میں بھی جا کر اپنی شناخت بنائی ، میں بالی وڈ میں کم مگر ایسا کام کیا جو دونوں ملکوں میں آج بھی یاد کیا جاتا ہے. حمائمہ ملک نے کہا کہ چھوٹی سکرین ہو یا بڑی دونوں پر کام کرنے کا اپنا ہی مزہ ہے. جندو ڈرامہ میرے دل کے بہت قریب ہے اس کو کرنے کےلئے میں‌نے دل و جان سے محنت کی .

    عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    وحید مراد کی اہلیہ سلمی مراد انتقال کر گئیں

    زباب رانا نے بتا دیا وہ کیسے لڑکے سے شادی کریں گی ؟‌

  • گرفتار سابق انسپکٹر عابد باکسر   فرار

    گرفتار سابق انسپکٹر عابد باکسر فرار

    لاہور پولیس مقابلوں سے شہرت حاصل کرنے والے سابق انسپکٹر عابد باکسر کو پولیس نے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کرلیا تھا لیکن اب وہ فرار ہوگیا ہے اور فرار کی اطلاع آنے سے قبل عابد باکسر کا بتانا تھاکہ مجھےغیرقانونی پولیس مقابلے میں ماردیا جائے گا جبکہ لاہور پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ عابد باکسرسرکاری رائفلیں چھین کر 3 ساتھیوں سمیت فرار ہوا ہے اور پولیس ذرائع کے مطابق کہا جارہا ہے کہ عابد باکسر کو محافظوں سمیت گرفتار کیا گیا تھا جبکہ عابد باکسراشتہاری ملزمان کےساتھ فرارہوا، ملزم گرفتاری کے بعد پولیس کو للکار رہا تھا۔

    تاہم اس سے قبل پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ عابد باکسر کو پولیس افسران کو دھمکیاں دینے کے الزام میں سی آئی اے نے گرفتار کیا تھا جس کے بعد انہیں سی ٹی اے ماڈل ٹاؤن تھانے منتقل کیا گیا تھا علاوہ ازیں پولیس کے مطابق عابد باکسر کو ماڈل ٹاؤن میں اُن کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد عابد باکسر کے اہلخانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے چھاپے کے دوران عابد باکسر کے پندرہ ملازمین کو بھی حراست میں لیا تھا، کارروائی کے دوران پولیس نے گھر کا سامان اور کیمرے بھی توڑ دئیے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بھارت جانے سے قبل ہی میں‌بہت بولڈ اداکارہ تھی حمائمہ ملک
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    جبکہ دوسری طرف عابد باکسر نے واقعہ کے بعد ٹوئٹ میں کہا کہ میرے گھر پرغیرقانونی طور پر چھاپہ مارا گیا، ڈی ایس پی سی آئی اے محمدعلی بٹ کی قیادت میں ٹیم نے میرے گھر پرچھاپہ مارا تھا۔ انسپکٹر راشد امین بٹ، ماجد بشیر بھی ٹیم میں شامل تھے۔ عابد باکسر کا مزید کہنا تھا کہ راشد امین بٹ میرے گھر پر فائرنگ کرانے والوں میں شامل تھا، میں غیرمسلح ہوں، مجھےغیرقانونی پولیس مقابلے میں مارا جائے گا، میرے گھر پر چھاپے کا نوٹس لیا جائے۔

  • سجل علی کی دل کو چھو لینے والی انسٹاگرام پوسٹ

    سجل علی کی دل کو چھو لینے والی انسٹاگرام پوسٹ

    خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ سجل علی جو کہ انسٹاگرام پر بہت ایکٹیو رہتی ہیں اور ایک بڑی فین فالونگ رکھتی ہیں. انہوں نے حالیہ دنوں میں ایک ایسی پوسٹ کی جس نے ان کے مداحوں کے دل جیت لئے. سجل علی نے انسٹاگرام پر اپنی ایک تصویر جاری کی ہے جس میں وہ سیاہ اور سفید لباس میں ملبوس ہیں۔ سجل علی نے مذکورہ پوسٹ کے کیپشن میں لکھا کہ میں نے یہ کہیں پڑھا اور سوچا کیوں نہ یہ آپ سب سے بھی شیئر کیا جائے۔ انہوں نے لکھا کہ دنیا میں زیادہ تر چیزیں نہ سفید ہوتی ہیں اور نہ سیاہ، نہ غلط ہوتی ہیں اور نہ ہی صحیح ہوتی ہیں، بلکہ ہر چیز ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔

    انہوں نے مزید لکھا کہ مجھے اب یہ بات سمجھ آئی ہے کہ مختلف ہونے میں کوئی خرابی نہیں ہے اور ہمیں چیزوں کو مختلف ہونے دینا چاہیے، ہمیں انہیں سیاہ یا سفید میں سے ایک بنانے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے، ہمیں انہیں سرمئی رہنے دینا چاہئے۔سجل علی کی اس پوسٹ پر ان کے مداحوں نے کمنٹس کئے اور زیادہ تر مداحوں نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا اور کہا کہ سجل علی نے ہمارے دل کی بہت ہی حقیقی بات کر دی ہے.

    عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    وحید مراد کی اہلیہ سلمی مراد انتقال کر گئیں

    زباب رانا نے بتا دیا وہ کیسے لڑکے سے شادی کریں گی ؟‌

  • مجھے کبھی یکطرفہ محبت نہیں ہوئی منیب بٹ

    مجھے کبھی یکطرفہ محبت نہیں ہوئی منیب بٹ

    ٹی وی کےمشہور اداکار منیب بٹ جنہوں نے ایمن خان کے ساتھ شادی کی ہے . جب سے ایمن خان کی شادی ہوئی ہے تب سے وہ ڈراموں میں کام نہیں‌کررہیں ، اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ وہ شوبز سے دور منیب بٹ کے کہنے پر ہوئی ہیں‌. اس حوالے سے منیب بٹ نے ایک بار پھر اپنے انٹرویو میں‌کہا ہے کہ میں نے ایمن خان کو کام کرنے سے منع نہٰیں کیا. ان کے کیرئیر کو لیکر جو بھی فیصلے ہیں وہ خود اپنی مرضی کے مطابق کرتی ہیں،

    انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ”مجھے ایمن کے ساتھ عشق ہوا تو میں‌نے شادی کر لی ”، منیب بٹ نے کہا کہ مجھے شادی سے پہلے بہت بار محبت ہوئی ، اور بہت ساری لڑکیاں پسند بھی آئیں لیکن مجھے کبھی بھی محبت یکطرفہ نہیں ہوئی. انہوں نے کہا کہ جب اصل محبت کے بعد عشق کے سفر کا آغاز ہوتا ہے تو شادی ہوجاتی ہے. یاد رہے کہ منیب بٹ ٹی وی ڈراموں کے مشہور اداکار ہیں انہوں نے اپنے کیرئیر میں‌ابھی تک ہر طرح کے کردار کئے ہیں ، انہوں نے ایک فلم کی لیکن اس کے بعد دوبارہ آج تک فلموں کا رخ نہیں‌کیا. ان کا فلم کا تجربہ اچھا نہیں رہا. ان کا کہنا ہے کہ میں ڈراموں میں ہی ٹھیک ہوں‌اگر کوئی غیر معمولی سکرپٹ آفر ہوا تو شاید فلم کر بھی لوں.

    عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    وحید مراد کی اہلیہ سلمی مراد انتقال کر گئیں

    زباب رانا نے بتا دیا وہ کیسے لڑکے سے شادی کریں گی ؟‌

  • جو تنقید کے لئے خود کو تیار نہیں کرتا وہ اچھا فنکار نہیں بن پاتا ثانیہ سعید

    جو تنقید کے لئے خود کو تیار نہیں کرتا وہ اچھا فنکار نہیں بن پاتا ثانیہ سعید

    سینئراداکارہ ثانیہ سعید نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے تنقید اور اداکاری ساتھ ساتھ چلتی ہے. جو فنکار زہنی طور پر خود کو تنقید کےلئے تیار نہیں کرتا وہ کبھی بھی اچھا فنکار نہیں بن پاتا. انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے کیرئیر میں‌ابھی تک اتنا کام کر لیا ہے کہ اب مجھ پر میرے کردار اثر انداز نہیں کرتے . ہاں جو کردار میرے دل کے قریب ہوتے ہیں وہ میں اپنے ساتھ لیکر چلتی ہوں. انہوں نے کہاکہ مجھے کام کرتے رہنا بہت اچھا لگتا ہے .

    لیکن ”میں‌اپنی مرضی کے مطابق کام کرتی ہوں اگر مجھے پراجیکٹ اچھا لگتا ہے تو ہی میں کام کرنے کی حامی بھرتی ہوں ورنہ نہیں”. انہوں نے آج کے ڈراموں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں مسائل کی نشاندہی اور انہیں درست کرنے کے نظریے کے طور پر ڈرامے بنتے تھے لیکن اب مسائل کو معمول سمجھنے پر بنائے جا رہے ہیں۔ثانیہ سعید نے کہا کہ ہر اداکار محنت سے کام کرتا ہے اور اداکاری کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے، تنقید تو کوئی بھی ایک سیکنڈ میں کر دیتا ہے لیکن تنقید کرنے والے یہ خیال نہیں‌کرتے کہ اداکار کتنی محنت کرتا ہے

     

    عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    وحید مراد کی اہلیہ سلمی مراد انتقال کر گئیں

    زباب رانا نے بتا دیا وہ کیسے لڑکے سے شادی کریں گی ؟‌

    .

  • ورلڈکپ؛  اب تک کئی حیرت انگیز اور دلچسپ ریکارڈ بن چکے ہیں؟

    ورلڈکپ؛ اب تک کئی حیرت انگیز اور دلچسپ ریکارڈ بن چکے ہیں؟

    انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ورلڈ کپ 2023 صرف شائقین کرکٹ کے لیے ہی نہیں بلکہ کھلاڑیوں کے لیے بھی زبردست ثابت ہورہا ہے اور اس ایونٹ کے ابتدائی 10 میچز میں ہی کئی ریکارڈ بن گئے اور اس گزشتہ روز جنوبی افریقا اور آسٹریلیا کے درمیان 10واں میچ لکھنو میں کھیلا گیا، اس ورلڈ کپ میں کئی حیرت انگیز اور دلچسپ ریکارڈ بن چکے ہیں جبکہ ورلڈ کپ 2023 میں پاکستان نے شائقین کے ساتھ ماہرین کرکٹ کو بھی حیرت زدہ کردیا ہے، جس نے میگا ایونٹ کی تاریخ کے بڑے ہدف کو کامیابی سے عبور کرنے کا ریکارڈ اپنے نام کرلیاہے۔

    واضح رہے کہ سری لنکا نے پاکستان کو 345 رنز کا ہدف دیا تھا، جو اس نے 10 گیندوں قبل عبور کرلیا، میچ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ دونوں ٹیموں کے 2، 2 کھلاڑیوں نے سنچریاں اسکور کیں، یوں ایک میچ میں 4 سنچریاں بنیں، یہ بھی ورلڈ کپ میں ایک ریکارڈ ہے جبکہ جنوبی افریقا ٹیم جس نے آسٹریلیا کو 10ویں میچ میں شکست سے دوچار کیا ہے، اس نے سری لنکا کے خلاف ایونٹ کے چوتھے میچ میں 428 رنز کا بڑا ہدف سیٹ کیا اور ریکارڈ بنادیا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اداکارہ و گلوکارہ مسرت نذیر کا یوم پیدائش
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    تاہم ورلڈ کپ کے اسی مقابلے میں جنوبی افریقا کے ایڈن مارکرم نے صرف 49 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی اور میگا ایونٹ کی تاریخ میں تیز ترین سنچری کا اعزاز اپنے نام کرلیا تھا جبکہ اس سے قبل یہ اعزاز آئرلینڈ کے کیون اوبرائن کے پاس تھا، جنہوں نے انگلینڈ کے خلاف 2011 میں بنگلورو میں 50 گیندوں پر سنچری اسکور کی تھی اور بھارتی کپتان اور اوپنر روہت شرما جو آسٹریلیا کے خلاف میچ میں صفر پر پویلین لوٹ گئے تھے، انہوں نے افغانستان کے خلاف سنچری اسکور کی، جو ورلڈ کپ میں اُن کی ساتویں سنچری تھی، اس سے قبل ورلڈ کپ میں 6 سنچریوں کا ریکارڈ سچن ٹنڈولکر کے پاس تھا جبکہ روہت شرما نے افغانستان کے خلاف میچ میں شاندار پرفارمنس دی اور 5 چھکے لگائے، اس طرح وہ انٹرنیشنل کرکٹ میں سب سے زیادہ (556) چھکے لگانے والے کھلاڑی بن گئے۔

  • عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    عدنان صدیقی کی 4 سال کے بعد ڈراموں میں واپسی

    ڈائریکٹر ثاقب خان نے اپنے نئے پراجیکٹ کا آغاز کردیا ہے جس کی کاسٹ میں عدنان صدیقی،کنزا ہاشمی،نادیہ جمیل،سلیم معراج،راشد فاروقی،زینب قیوم اور فائزہ گیلانی شامل ہیں۔اس پراجیکٹ کے زریعے ناظرین نادیہ جمیل کو تین اور عدنان صدیقی کو چار سال بعد ڈرامے میں دیکھ سکیں گے۔ڈرامے کی پروڈیوسر مومنہ درید ہیں جسے ہم۔ٹی وی سے نشر کیا جائے گا۔عدنان صدیقی کے مداحوں کے لئے یقینا یہ ایک خوشخبری ہے کیونکہ وہ اب اپنے پسندیدہ فنکار کو ڈراموں میں ایکبار پھر دیکھ سکٰیں گے. عدنان صدیقی اس پراجیکٹ کو لیکر کافی پرجوش ہیں ،

    دوسری طرف ثاقب خان کا بھی کہنا ہے کہ ڈرامے کی کہانی بہت مختلف اور اچھی ہے دیکھنے والوں کو یقینا یہ ڈرامہ پسند آئیگا .یاد رہے کہ ثاقب خان کی ڈائریکشن میں بنایا گیا ڈرامہ”فراڈ” بہت مقبول ہوا تھا جبکہ ان دنوں گرین ٹی وی سے نشر ہونے ڈرامہ”تمہارے حسن کے نام”بھی بہت پسند کیا جارہا ہے۔ثاقب خان نے گزشتہ برس فلم گھبرانا نہیں ہے بنائی ، جس میں‌مرکزی کردار صبا قمر ، زاہد احمد اور جبران سید نے مرکزی کردار ادا کئے تھے .فلم کو بہت پسند کیا گیا. ”ثاقب خان ایک منجھے ہوئے ڈائریکٹر ہیں امید ہے کہ عدنان صدیقی کے ساتھ بھی ان کا پراجیکٹ مقبول ہو گا. ”

  • اداکارہ و گلوکارہ  مسرت نذیر کا یوم پیدائش

    اداکارہ و گلوکارہ مسرت نذیر کا یوم پیدائش

    چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ

    مسرت نذیر کا پورا نام مسرت نذیر خواجہ 13 اکتوبر 1940 کو لاہور میں پیدا ہوئی آجکل کینیڈا میں مقیم پاکستانی گلوکارہ اور فلمی اداکارہ ہیں، جنہوں نے بہت ساری اردو اور پنجابی فلموں میں اداکاری کی۔ مسرت نذیر کے شادی بیاہ کے پنجابی نغمات لوک گیت زبان زدعام ہیں۔ مسرت نذیر کے والدین کشمیری نژاد پنجابی تھے۔ ان کے والد خواجہ نذیر احمد، لاہور میونسپل کارپوریشن میں رجسٹرڈ ٹھیکیدار کے طور پر کام کرتے تھے۔
    مسرت نذیر کی زندگی کے اوائل میں، ان کے والدین چاہتے تھے کہ وہ ڈاکٹر بنیں، اور انھیں بہترین تعلیم فراہم کی جس کی ۔ مسرت نے میٹرک کا امتحان (دسویں جماعت) امتیازی کے نمبروں ساتھ پاس کیا اور انٹرمیڈیٹ کا امتحان (بارہویں جماعت) لاہور کے کنیئرڈ کالج سے پاس کیا۔

    ان کی شادی ڈاکٹرارشد مجید سے ہوئی ہے اور وہ 1965 ء سے کینیڈا میں مقیم ہے مسرت نذیر کے تین بچے ہیں۔ مسرت نذیر نے اپنا فلمی کیریئر کو اپنے شوہر کے لئے ترک کردیا جو اس وقت ان کا کیریئر عروج پر تھا اور اس کے ساتھ کینیڈا جانے پر راضی ہوگئیں ۔
    مسرت نذیر اور ارشد مجید 1970 ءکی دہائی کے آخر میں پاکستان واپس آکر لاہور میں آباد ہونا چاہتے تھے۔ بمطابق 2005ء، ارشد مجید لاہور میں ایک اسپتال قائم کرنا چاہتے تھے اور وہ اس مقصد کے لئے وہاں ایک مکان خرید چکے تھے جو ان کے پاس ہے اور وہ ابھی تک برقرار رکھا ہے۔ بہت پیسہ خرچ کرنے، مہینوں کی جدوجہد کے بعد، ارشد مجید نے ہار مانی۔

    ایک مختصر عرصہ میں سپرسٹار ہیروئن کا درجہ پانے اور اپنے عین عروج کے دور میں فلمی دنیا کی چکا چوند روشنیوں کو خیرآباد کہہ دینے والی مسرت نذیر ، ایک ناقابل فراموش اداکارہ تھی۔۔!
    مسرت نذیر کو گائیکی کا شوق تھا لیکن فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا نے اسے فلم قاتل (1955) میں وقت کی مقبول ترین اداکارہ صبیحہ خانم کے مقابل سائیڈ ہیروئن کے طور پر متعارف کروایا تھا۔ نیرسلطانہ ، اسلم پرویز اور گلوکار سلیم رضا کی بھی یہ پہلی پہلی فلم تھی جو اپنی جملہ خوبیوں کے علاوہ اقبال بانو کی مشہور زمانہ غزل "الفت کی نئی منزل کو چلا۔۔” کی وجہ سے یادگار فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

    اپنی دوسری ہی فلم
    پتن (1955) میں مسرت نذیر کو بریک تھرو مل گیا تھا۔ یہ ایک سپرہٹ پنجابی فلم تھی جس میں مسرت نذیر کی جوڑی پاکستانی فلموں کے دوسرے سپرسٹار ہیرو سنتوش کے ساتھ تھی۔ اس فلم میں زبیدہ خانم کا یہ گیت "چھڈ جاویں نہ چناں بانہہ پھڑ کے۔۔” پہلا سپرہٹ گیت تھا جو مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔ اسی فلم میں بابا چشتی کے کمپوز کئے ہوئے دو بڑے اعلیٰ پائے کے دوگانے بھی تھے جنہیں زبیدہ خانم اور عنایت حسین بھٹی نے گایا تھا اور وہ مسرت نذیر اور سنتوش پر فلمائے گئے تھے "ساڈا سجرا پیار ، کوے بار بار ، کیتے ہوئے قرار بھل جاویں نہ۔۔” اور "بیڑی دتی کھیل اوئے ، محبتاں دا میل اوئے ، رب نے ملایا ساڈا پتناں تے میل اوئے۔۔”
    اسی سال مسرت نذیر نے مشہورزمانہ فلم پاٹے خان (1955) میں میڈم نورجہاں اور زبیدہ خانم کے ساتھ ایک معاون اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا اور اس پنجابی فلم میں اردو بولی تھی۔ میڈم نورجہاں کے گائے ہوئے دو اردو گیت "جان بہار ، آیا تیرے آنے سے رت پہ نکھار۔۔” اور "دوراہی رستہ بھول گئے ، رنگ بدل گیا افسانے کا۔۔” مسرت نذیر پر فلمائے گئے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہم نے ریاست کو بچانے کے لیے اپنی سیاست کا نقصان کیا. شہباز شریف
    سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف مذمتی قرارداد
    حماس کے حملے کی تعریف کرنے پر اسرائیلی بچہ گرفتار
    شہر چھوڑ دیں،جب تک کہا نہ جائے، کوئی واپس نہ آئے، اسرائیل نے غزہ میں پمفلٹ گرا دیئے
    1956ء میں اپنے دوسرے ہی سال میں مسرت نذیر ، ایک چوٹی کی اداکارہ بن چکی تھی۔ اس سال اس کی چھ فلمیں ریلیز ہوئیں۔ پنجابی فلم ماہی منڈا (1956) میں مسرت نذیر نے پہلی بار ٹائٹل رول کیا جس میں ہیرو ، پاکستان کے پہلے سپرسٹار اور سب سے کامیاب اور مقبول ترین فلمی ہیرو سدھیر تھے۔ یہ فلم عنایت حسین بھٹی کے مشہور زمانہ گیت "رناں والیاں دے پکن پرونٹھے۔۔” کی وجہ سے مشہور تھی جو اداکار ظریف پر فلمایا گیا تھا۔ مسرت نذیر پر فلمایا گیا زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "وے میں نار پٹولے ورگی ، مینوں اکھ دی پٹاری وچ رکھ وے۔۔” سدھیر ہی کے ساتھ مسرت نذیر نے فلم مرزا صاحباں (1956) میں ٹائٹل رولز کئے تھے لیکن یہ ایک ناکام فلم تھی۔

    اسی سال کی ایک اور کامیاب فلم قسمت (1956) میں مسرت نذیر کے ہیرو سنتوش تھے لیکن سال کی سب سے بڑی گولڈن جوبلی اردو فلم باغی (1956) تھی جس نے سدھیر کو پاکستان کا پہلا ایکشن ہیرو بھی بنا دیا تھا۔ مسرت نذیر کی ایک اور اوسط درجہ کی فلم پینگاں (1956) میں بابا چشتی ہی کی دھن میں کوثرپروین کا گایا ہوا سب سے مقبول پنجابی گیت فلمایا گیا تھا "تینوں بھل گیاں ساڈیاں چاہواں تے اساں تینوں کی آکھناں۔۔” اس فلم میں ہیرو اسلم پرویز تھے جو اپنے دوسرے ہی سال میں سدھیر اور سنتوش کے بعد تیسرے مقبول ترین ہیرو بن گئے تھے۔
    اس سال کی ایک اور یادگار فلم گڈی گڈا (1956) بھی تھی جو اپنی منفرد کہانی کی وجہ سے یادگار تھی۔ بچیوں کے کھیل میں گڑیوں کی شادی ہوتی ہے لیکن اصل نکاح ہیرو ہیروئن سے پڑھوا لیا جاتا ہے جس پر باقی فلم کی کہانی چلتی ہے۔ یہی کہانی معروف ناول نگار رضیہ بٹ کے ایک ناول ‘گڑیا’ کی بھی تھی۔ اس فلم میں بھی بابا چشتی کی دھن میں منورسلطانہ کا یہ گیت بڑا پسند کیا گیا تھا "او دلا کچیا ، قراراں دیا پکیا ، کسے دے نال گل نہ کریں۔۔” اس فلم کے دو اور گیت "نئیں ریساں شہر لہور دیاں۔۔” اور "بابل دا ویہڑا چھڈ کے ، ہوکے مجبور چلی ، گڈیاں پٹولے چھڈ کے ویراں توں دور چلی۔۔” بھی بڑے مقبول ہوئے تھے۔

    1957ء میں مسرت نذیر کی کل سات فلمیں ریلیز ہوئی تھیں۔ سال کی سب سے بڑی فلم یکے والی (1957) تھی جس کا بزنس ریکارڈ آج تک نہیں ٹوٹ سکا۔ معروف صحافی علی سفیان آفاقی کے مطابق اس فلم پر اس دور کا ایک لاکھ روپیہ لاگت آئی تھی اور کمائی 45 لاکھ روپے ہوئی تھی یعنی منافع کا تناسب پینتالیس گنا تھا جو آج تک کسی بھی فلم کے بزنس کا ایک ناقابل شکست ریکارڈ ہے۔ اسوقت ایک ڈالر تین سے چار روپے کا ہوتا تھا اور ایک روپیہ بہت بڑا سکہ ہوتا تھا۔ بات پیسوں اور آنوں میں ہوتی تھی اور ایک روپے میں سولہ آنے ہوتے تھے۔ اس فلم کی کمائی سے باری سٹوڈیو بنا تھا جو 92 کنال اراضی پر محیط تھا۔ آج تک کسی فلم کی کمائی سے اتنی بڑا سرمایہ کاری نہیں ہوئی۔ اس فلم میں مسرت نذیر یکہ یا تانگہ چلاتی ہے اور نیلو اسے لڑکا سمجھ کر عاشق ہو جاتی ہے۔ روایتی ہیرو ، سدھیر تھے۔ بابا چشتی کا جادو سر چڑھ کر بولا تھا اور بیشتر گیت سپرہٹ ہوئے تھے جن میں "کلی سوای بھئی ، بھاٹی لوہاری بھئی۔۔” ، تیرے در تے آکے سجناں وے ، اسیں جھولی خالی لے چلے۔۔” ، ” ریشم دا لاچہ لک اوئے ، نالے بلیاں تے سجرا سک اوئے۔۔” ، "ہان دیا منڈیا وے اکھیاں چوں غنڈیا۔۔” قابل ذکر ہیں۔ یہ سبھی گیت پچاس کے عشرہ کی سب سے مقبول و مصروف گلوکارہ زبیدہ خانم نے گائے تھے۔

    اسی سال کی فلم آنکھ کا نشہ (1957) میں مسرت نذیر نے عین شباب کے دور میں ینگ ٹو اولڈ رول کیا تھا اور اس فلم میں اپنی حریف اداکارہ صبیحہ خانم کی ماں کا رول کیا تھا۔ سدھیر ، ہیرو کے علاوہ فلمساز بھی تھے۔ فلمساز اور ہدایتکار انورکمال پاشا کے والد حکیم احمدشجاع کے ناول باپ کا گناہ (1957) کو اسی نام سے فلمایا گیا تھا۔ اس فلم میں درپن ، پہلی بار مسرت نذیر کے ہیرو بنے تھے۔ فلم ٹھنڈی سڑک (1957) میں پہلی بار کمال متعارف ہوئے تھے جن کی پہلی ہیروئن بھی مسرت نذیر ہی تھی۔ فلم سہتی (1957) میں مسرت نذیر کا ٹائٹل رول تھا اور پہلی بار ہیرو اکمل تھے جنہوں نے مراد کا رول کیا تھا۔ پیر وارث شاہؒ کی کہانی پر بنائی گئی اس فلم میں ہیر کا رول نیلو اور رانجھے کا عنایت حسین بھٹی نے کیا تھا۔ دیگر دو فلمیں سیستان اور پلکاں (1957) میں مسرت نذیر کی پانچ فلمیں منظرعام پر آئیں۔ سال کی یادگار فلم جٹی (1958) تھی جسے ‘چٹی’ کے نام سے ریلیز کیا گیا تھا کیونکہ جٹ برادری نے فلم کے نام پر اعتراض کیا تھا۔ یہ بھی فلم یکے والی (1957) کی طرز پر بنائی گئی تھی جس میں زبیدہ خانم کا گایا ہوا شاہکار گیت "میری چنی دیاں ریشمی تنداں۔۔” فلم کا حاصل تھا۔

    اداکار رنگیلا کو پہلی بار اس فلم میں مکالمے بولنے کا موقع ملا تھا۔ فلم زہرعشق 1958 بھی اپنے نغمات کی وجہ سے یادگار تھی جس میں حبیب ہیرو تھے۔ مسرت نذیر پر ناہید نیازی اور کوثرپروین کے یہ دو مقبول گیت فلمائے گئے تھے "موہے پیا کو ملن کو جانے دے بیرنیا۔۔” اور "پل پل جھوموں ، جھوم کے گاؤں۔۔” خواجہ خورشیدانور کی موسیقی تھی۔ فلم جان بہار (1958) پہلی فلم تھی جس کے ہدایتکار سید شوکت حسین رضوی تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس فلم میں پہلے میڈم نورجہاں ہیروئن کا رول کر رہی تھیں لیکن طلاق کی وجہ سے ان کی جگہ مسرت نذیر کو کاسٹ کیا گیا تھا۔ یہ غالباً واحد فلم تھی جس کے ایک گیت میں سدھیر اور سنتوش کو ایک ساتھ بیٹھے ہوئے دیکھا گیا تھا۔ اس سال کی دیگر دو فلمیں نیا زمانہ اور رخسانہ (1958) تھیں۔
    1959ء میں مسرت نذیر ، نو فلموں کے ساتھ چوٹی کی ہیروئن تھی۔ اس سال کی سب سے بڑی فلم کرتارسنگھ (1959) تھی جو اپنی کہانی ، ادکاری اور نغمات کی وجہ سے ایک شاہکار فلم تھی۔ اس فلم میں نسیم بیگم کا یہ گیت "دیساں دا راجہ میرے بابل دا پیارا ، ویر میرا گھوڑی چڑھیا۔۔” ایک فوک گیت کا درجہ اختیار کر گیا تھا۔ مسرت نذیر پر فلمایا ہوا زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "گوری گوری چاننی دی ، ٹھنڈی ٹھنڈی چھاں نی ، دل کرے چن دا میں منہ چم لاں نی۔۔” فلم جھومر (1959) میں ناہید نیازی کا یہ سپرہٹ گیت "چلی رے چلی رے ، میں تو دیس پیا کے چلی رے۔۔” بھی مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔ فلم راز (1958) میں مسرت نذیر پر زبیدہ خانم کا یہ گیت بھی بڑا مقبول ہوا تھا "میٹھی میٹھی بتیوں سے جیا نہ جلا۔۔” اس فلم میں پہلی بار اعجاز کے ساتھ جوڑی بنی تھی۔ فلم سولہ آنے (1959) میں بھی زبیدہ خانم کا یہ گیت بڑا مقبول ہوا تھا "روتے ہیں چھم چھم نین ، بچھڑ گیا چین رے۔۔” فلم سوسائٹی (1959) ایک بولڈ موضوع پر بنائی گئی فلم تھی۔ دیگر فلموں میں یاربیلی ، سہارا ، لکن میٹی اور جائیداد (1959) تھیں۔

    1960ء کا سال مسرت نذیر کے لئے سات فلمیں لے کر آیا۔ اس سال کی خاص بات یہ تھی کہ فلم سٹریٹ 77 (1960) میں مسرت نذیر نے اپنا بنیادی شوق پورا کیا تھا یعنی بطور گلوکارہ اپنا اکلوتا گیت گایا تھا "یوں چپکے چپکے آنکھوں میں تصویر تیری لہرائی ہے۔۔” نیم آرٹ فلم کلرک (1960) میں مسرت کی جوڑی فلم کے ہدایتکار خلیل قیصر کے ساتھ تھی جن کی یہ بطور ہیرو واحد فلم تھی۔ اس سال کی دیگر فلمیں گلبدن ، نوکری ، وطن ، دل نادان کے علاوہ فلم ڈاکو کی لڑکی (1960) بھی تھی جس میں ساٹھ کے عشرہ کی سب سے مقبول و مصروف گلوکارہ مالا نے موسیقار رشید عطرے کی دھن میں اپنا پہلا گیت "اے میرے دل بتا ، کیسے بتا دوں بھلا۔۔” گایا تھا جو مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا۔
    1961ء میں مسرت نذیر کے کریڈٹ پر پانچ فلمیں تھیں۔ سال کی سب سے بڑی فلم گلفام (1961) تھی جس کے ہیرو درپن تھے۔
    اس فلم میں نسیم بیگم کا یہ خوبصورت گیت مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا "حضور دیکھئے ، ضرور دیکھئے ، شباب ہے نشے میں چور چور دیکھئے۔۔” موسیقار رشید عطرے کی کمال کی دھن تھی۔ فلم مفت بر (1961) میں مسرت نذیر نے وہی رول کیا تھا جو فلم بے قصور (1970) میں دیبا یا فلم انمول (1973) میں شبنم نے کیا تھا ، ان دونوں فلموں کی کہانی اسی فلم سے ماخوذ تھی۔ اس سال کی دیگر فلموں میں چھوٹے سرکار ، سنہرے سپنے اور منگول (1961) تھیں۔

    1962ء میں مسرت نذیر کی صرف دو فلمیں سامنے آئیں۔ غالباً اس عرصہ میں وہ شادی کر چکی تھی اور باقی ماندہ فلمیں مکمل کروا رہی تھی۔ ایک منزل دو راہیں (1962) تو عام سی فلم تھی لیکن شہید (1962) ایک شاہکار فلم تھی۔ کردارنگاری میں یہ مسرت نذیر کی سب سے بڑی فلم تھی۔ اس پر فلمایا ہوا نسیم بیگم کا یہ سدابہار گیت "اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو ، اشک رواں کی نہر ہے ، اور ہم ہیں دوستو۔۔” کیا کمال کا گیت تھا۔ منیر نیازی کی شاعری ، رشیدعطرے کی دھن ، نسیم بیگم کی آواز اور اس پر مسرت نذیر کی لاجواب ادکاری ، بلاشبہ ہدایتکار خلیل قیصر کی یہ شاہکار فلم بین الاقوامی میعار کی تھی۔ اعجاز روایتی ہیرو تھے لیکن طالش نے ایک انگریز کے روپ میں عالمی میعار کی اداکاری کا مظاہرہ کیا تھا۔ علاؤالدین نے بھی ایک عرب شیخ کے کردار میں لاجواب کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔

    (1967)مسرت نذیر نے فلم عشق پر زور نہیں (1963) میں مہمان اداکارہ کے طور پر کام کیا تھا۔ اس کی آخری ریلیز شدہ فلم بہادر ، چار سال تک تکمیل کے مراحل طے کرتی رہی اور بالآخر 1967ء میں جا کر ریلیز ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ شادی کر کے بیرون ملک چلی گئی تھی لیکن فلمساز بضد تھا کہ فلم لازمی مکمل کرے گا اور مسرت نذیر ہی کے ساتھ کرے گا ، سو اس نے انتظار کیا اور فلم مکمل کروا کے ہی دم لیا تھا۔ یہ فلم جب ریلیز ہوئی تھی تو فلم کے ہیرو درپن کا دور گزر چکا تھا اور ولن محمدعلی ، چوٹی کے ہیرو بن چکے تھے۔ یہی واحد فلم تھی جس میں مسعودرانا کا کوئی گیت مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا "اے جان غزل ، لہرا کے نہ چل ، دلبر میرا دل تڑپا کے نہ چل۔۔” مسعودرانا کا اپنے ابتدائی دور میں آئرین پروین کے ساتھ گایا ہوا یہ دلکش رومانٹک دوگانا درپن اور مسرت نذیر پر فلمایا گیا تھا جس کی دھن دیبو بھٹاچاریہ نے بنائی تھی۔
    مسرت نذیر نے صرف سات برسوں میں 46 فلموں میں کام کیا تھا جن میں 32 اردو اور صرف 14 پنجابی فلمیں تھیں۔ سدھیر اور اسلم پرویز کے ساتھ بارہ بارہ فلموں میں کام کیا تھا۔ سنتوش کے ساتھ چھ جبکہ درپن اور اعجاز کے ساتھ سات سات فلموں میں کام کیا تھا۔ مسرت نذیر پر سو سے زائد گیت فلمائے گئے تھے جن میں سے آدھے گیت صرف زبیدہ خانم نے گائے تھے۔

    سیالکوٹ کے ایک کشمیری خاندان سے تعلق رکھنے والی مسرت نذیر نے کینیڈا کے ایک پاکستانی ڈاکٹر ارشد مجید سے شادی کی تھی۔ دو عشروں تک پاکستان سے باہر رہی لیکن 1980 کے عشرہ میں ایک منجھی ہوئی گلوکارہ کے طور پر دھماکہ خیز انداز میں واپس آئی۔ اس کا گایا ہوا لوک گیت "میرا لونگ گواچہ۔۔” ایک سٹریٹ سانگ ثابت ہوا جو فلمی دنیا میں کسی بھونچال سے کم نہ تھا۔ موسیقار ایم اشرف نے مسرت نذیر کے اس گیت کو فلم دلاری (1987) میں شامل کیا تھا۔ میڈم نورجہاں کو جب یہ خبر ملی تو انہوں نے فلمساز اور ایم اشرف کو حکم دیا کہ یہی گیت ، اسی دھن اور بولوں کے ساتھ ان سے بھی گوا کر فلم میں شامل کیا جائے اور فلم پہلے ریلیز بھی کی جائے ، ایسا ہی ہوا۔ میڈم کا گایا ہوا گیت فلم اللہ راکھا (1987) میں شامل کیا گیا تھا لیکن نقل ، اصل سے بہتر نہ تھی۔ اللہ راکھا (1987) کراچی میں سوا مہینے جبکہ دلاری (1987) سوا پانچ مہینے تک چلتی رہی تھی۔ بظاہر ‘لونگ گواچہ’ کی یہ سرد جنگ مسرت نذیر نے جیت لی تھی۔ مسرت نذیر نے اس دور میں بڑی تعداد میں پرائیویٹ البم ریلیز کئے تھے جن میں مقبول عام گیت ، غزلیں ، شادی و بیاہ کے لازوال پنجابی لوک گیت بھی تھے۔ مسرت نذیر کی گائی ہوئی ایک غزل کیا کمال کی تھی "چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر ، آہستہ آہستہ۔۔!”

    اعزازات
    1958ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم زہر عشق کے لئے۔
    1959ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم جھومر کے لئے۔
    1962ء میں نگار ایوارڈز برائے بہترین اداکارہ، فلم شہید کے لئے۔ میں مسرت نذیر کو صدر پاکستان کی طرف سے1989
    میں تمغہء حسن کارکردگی عطاء کیا گیا۔
    ۔……۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وکی پیڈیا سے ماخوذ

    ترتیب و پیشکش آغا نیاز مگسی