Baaghi TV

Author: +9251

  • 1 ارب 37 کروڑ کے اراضی اسکینڈل کا مرکزی ملزم گرفتار

    1 ارب 37 کروڑ کے اراضی اسکینڈل کا مرکزی ملزم گرفتار

    نیب نے 1 ارب 37 کروڑ روپے کے کرپشن اسکینڈل میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے مفرور مرکزی ملزم ذاکر حسین کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ نیب لاہور کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ ے مطابق ملزم ذاکر حسین پر محکمہ مال کے ملازمین کی ملی بھگت سے 250 کنال اراضی اپنے اور بے نامی داروں کے نام منتقل کرنے کا الزام ہے جو سیکڑوں کنال قیمتی اراضی مشہور ہائوسنگ سوسائٹی کے ساتھ ملحق تھی۔

    علاوہ ازیں نیب کے مطابق ملزم ذاکر حسین محکمہ ریونیو میں تعیناتی کا ناجائز فائدہ اٹھانے اور جعلی کاغذات کی تیاری میں ملوث پایا گیا ہے اور گرفتا ر ملزم جعلی کاغذات کے ذریعے عام شہریوں کی ملکیتی سیکڑوں کنال اراضی ملزم اپنے اور بے نامی داروں کے نام منتقل کرواتا رہا ہے لیکن اب سے پکڑ لیا گیا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    خیبرپختونخوا ؛ بجلی چوری میں ہوشربا اضافہ
    نواز شریف کی قیادت میں ترقی کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    علاوہ ازیں ملزمان جعلی کاغذات کی تیاری میں فراڈ سے جعلی نشان جو مختلف انگوٹھا اور جعلی فرد استعمال کرنے میں شامل تھا جبکہ ملزمان نے جعلی کاغذات کے ذریعے ہتھیائی گئی 250 کنال اراضی میں سے 170 کنال بعد ازاں فروخت کردی تھی تاہم نیب تحقیقات میں ملزمان کے نام 80 کنال اراضی تاحال موجود ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے، نیب حکام ملزم ذاکر حسین کو جسمانی ریمانڈ کیلیے کل احتساب عدالت کے روبرو پیش کریں گے۔

  • خیبرپختونخوا ؛ بجلی چوری  میں ہوشربا اضافہ

    خیبرپختونخوا ؛ بجلی چوری میں ہوشربا اضافہ

    خیبرپختونخوا میں بجلی چوری میں ہوشربا اضافہ دیکھنے میں آٰیا ہے جبکہ سال 23-2022 میں خیبرپختونخوا میں 137 ارب بجلی چوری اور نقصانات کی نظر ہوگئے ہیں جبکہ صوبے کے 7 اضلاع میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 75 فیصد سے زائد رہی ہے اور خیبرپختونخوا کو مالی سال 23-2022 کے دوران 439 ارب کی بجلی فراہم کی گئی تاہم پاور ڈویژن کے مطابق خیبرپختونخوا سے مالی سال 23-2022 کے دوران 302 ارب روپے حاصل ہوئے ہیں ، صوبے میں بجلی چوری اور نقصانات کی مد میں 137 ارب حاصل ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں‌پاور ڈویژن کے مطابق کرم ایجنسی میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 98 فیصد رہا جبکہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 94 فیصد ہے اور اس کے ساتھ ہی اورکزئی ایجنسی میں بھی بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 94 فیصد ہے تاہم ٹانک میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 82 فیصد ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان
    نواز شریف کی قیادت میں ترقی کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    واضح رہے کہ کرک میں 78 فیصد اور بنوں میں 63 فیصد بجلی چوری اور نقصانات ہیں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں 65 فیصد، ہنگو میں 58 فیصد بجلی چوری اور نقصانات ہیں، چارسدہ میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 59 فیصد ہے، شانگلہ میں بجلی چوری اور نقصانات کی شرح 66 فیصد ہے تاہم پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ چترال میں ریکوریز ایک ارب جبکہ نقصانات اور بجلی چوری 2 ارب کی ہے، باجوڑ میں 3 ارب کی بجلی چوری کی گئی جبکہ ایک ارب کی ریکوری رہی ہے، خیبر ایجنسی میں 12 ارب کی بجلی چوری ہوئی ہے تاہم خیبر ایجنسی میں نقصانات اور بجلی چوری کی شرح 52 فیصد ہے۔

  • غزہ کی صورتحال پر سینیٹ کا اجلاس فوراً بلایا جائے . سینیٹر رضاربانی

    غزہ کی صورتحال پر سینیٹ کا اجلاس فوراً بلایا جائے . سینیٹر رضاربانی

    پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر رضا ربانی نے کہا ہے کہ غزہ کی صورتحال پر سینیٹ کا اجلاس فوراً بلایا جائے جبکہ رضاربانی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں ایک ہزار سے زائد عمارات کو تباہ کیا گیا، غزہ میں 23 لاکھ افراد کا پانی ، کھانا،بجلی کی سپلائی منقطع ہے، ایسے میں سینیٹ اجلاس نہ بلا کر نگران حکومت پاکستانی عوام کے جذبات کی عکاسی نہیں کر رہی اور انہوں نے کہا کہ نگران حکومت کو خوف ہے سینیٹ اجلاس ہوا تو اس کے الیکشن ایکٹ سیکشن 230 سے تجاوز کردہ اقدامات بے نقاب ہو جائیں گے۔

    سینیٹر رضا ربانی کا مزید کہنا تھا کہ نگران حکومت نیب میں بھرتی نہیں کرسکتی کیونکہ یہ معیادی تقرریاں ہوتی ہیں،جسے منتخب حکومت ختم نہیں کرسکتی ہے اور اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت نجکاری نہیں کر سکتی،سرکاری اداروں کی نجکاری کے طویل مدتی اثرات ہوتے ہیں، پی آئی اےکی نجکاری کا فیصلہ نگران کابینہ نہیں کر سکتی،یہ مشترکہ مفادات کونسل دیکھ سکتی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات
    نواز شریف کی قیادت میں ترقی کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    خیال رہے کہ شامی دارالحکومت دمشق کے ائیرپورٹ پر اسرائیلی فوج نے بمباری کی ہے جبکہ عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائیہ نے شامی دارالحکومت دمشق سمیت حلب کے ائیرپورٹ پر بھی بمباری کی ہے۔ تاہم دمشق کے ہوائی اڈے پر اسرائیلی بمباری کے بعد ائیرپورٹ سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دئے گئے، ہیں اور اسرائیلی بمباری کی وجہ سےہوائی اڈوں کے رن وے کو نقصان پہنچنے کی بھی اطلاعات ہیں۔

  • آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر سے قطر کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف نے ملاقات کی ہے اور اس میں دوطرفہ دفاعی تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر سے قطر آرمڈ فورسز کے چیف آف اسٹاف کی ملاقات ہوئی ہے۔


    اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں باہمی و پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ علاقائی سلامتی کی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ہے جبکہ اس موقع پر پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان، قطر کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جبکہ مہمان شخصیت نے علاقائی امن و استحکام میں پاکستان آرمی کی مسلسل کاوشوں کو سراہا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف کی قیادت میں ترقی کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق قطری چیف آف اسٹاف نے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کے لیے کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے.

  • نواز شریف کی قیادت میں  ترقی  کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف

    نواز شریف کی قیادت میں ترقی کاسفر 2018 سے شروع کریں گے. شہباز شریف

    مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف کا کہنا ہےکہ معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام لانا بہت ضروری ہے جسے لانا ہوگا جبکہ معاشی اور سیاسی استحکام ایک دوسرے سے جڑا ہے جبکہ لاہور میں تاجروں سے خطاب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تاجر کی دکان چلے گی تو پاکستان چلےگا، معیشت مستحکم ہوگی تو ترقی اور خوشحالی آئےگی، وقت کی ضرورت ہے کہ ملک میں معاشی اور سیاسی استحکام آئے اور ہر روز دھرنوں کی دھمکیاں سمیت نہ جانے کیا کیا زبان استعمال کی گئی تھی، معاشرے میں تقسیم در تقسیم کردی گئی، ملک کو پاؤں پر کھڑا کرنا ہے تو تقسیم ختم کرنا ہوگی۔

    علاوہ ازیں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے ریاست بچانے کے لیے سیاست قربان کردی، 16 ماہ میں ریاست کو بچایا اور سیاست کی پروا نہیں کی، اگر ریاست نہ بچتی تو سب کی سیاست دفن ہو جانی تھی، ہم نے نوجوانوں کو ہنرمند بنانا ہے،کلاشنکوف نہیں لیپ ٹاپ دینا ہے، خوش حالی، معاشی انصاف اور غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں تو نواز شریف کا والہانہ استقبال کرنا ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دل کے مرض کی ایک نئی قسم دریافت
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان
    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی قیادت میں پاکستان ترقی وخوش حالی کاسفر 2018 سے شروع کرےگا، نواز شریف نے بیس بیس گھنٹے کے اندھیرے ختم کیے، سی پیک آیا اور تیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، نواز شریف کی ترقی کا سفر ختم کیا گیا تو ملک میں اندھیرے اور تباہی ہوئی۔

  • ورلڈ کپ؛ کوئنٹن ڈی کوک کی مسلسل دوسری سنچری

    ورلڈ کپ؛ کوئنٹن ڈی کوک کی مسلسل دوسری سنچری

    آئی سی سی ورلڈکپ کے دسویں میچ میں جنوبی افریقا نے آسٹریلیا کو با آسانی 134 رنز سے شکست دے دی گئی ہے جبکہ جنوبی افریقا کے 312 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پوری آسٹریلوی ٹیم 41 ویں اوور میں 177 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور رواں ورلڈکپ میں جنوبی افریقا کی یہ مسلسل دوسری کامیابی جبکہ آسٹریلیا کی مسلسل دوسری شکست ہے۔

    جبکہ اس سے قبل انٹرنیشنل کرکٹ کونسل ورلڈکپ کے دسویں میچ میں کوئنٹن ڈی کوک کی مسلسل دوسری سنچری کی بدولت جنوبی افریقہ ے آسٹریلیا کو جیت کیلئے 312 رنز کا ہدف دے دیا ہے جبکہ لکھنو کے بھارت رتن شری اٹل بہاری واجپائی ایکانا کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے جارہے میچ میں آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر جنوبی افریقا کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی تھی اور جنوبی افریقا نے مقررہ 50 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 311 رنز بنائے اور ڈی کوک 109 اورایڈم مارکرم 56 رنز کے ساتھ نمایاں رہے۔


    جنوبی افریقہ کی طرف سے ٹیم میں ایک تبدیلی بھی کی گئی ہے اور کوئٹزی کی جگہ تبریز شمسی کو شامل کیا گیا جبکہ آسٹریلیانے ٹیم میں 2 تبدیلیاں کیں، کیمرون گرین اور ایلکس کیری کی جگی مارکس اسٹوئنس اور جوش انگلس کو شامل کیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آپ نے گھبرانا نہیں، جیل سے عمران خان کا پیغام
    بھارت کا اسرائیل میں مقیم بھارتیوں کو واپس لانے کے لئے آپریشن اجئے کا اعلان

    واضح جنوبی افریقہ ا کی جانب سے اننگز کا آغاز اوپننگ بیٹر کوئنٹن ڈی کوک اور کپتان ٹیمبا باووما نے کیا،دونوں کے درمیان 108 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی اور پھر باووما 20 ویں اوور میں گلین میکسویل کی گیند پر 35 رنز بناکر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

  • ڈالر مزید سستا ہوگیا

    ڈالر مزید سستا ہوگیا

    امریکی ڈالر روپیہ کے مقابلے میں مزید سستا ہو گیا ہے جبکہ اب ڈالر روپیہ کے مقابلے میں 278.58 پر آگیا ہے جبکہ اس سے قبل ڈالر 279.51 پر تھا اب امید کی جارہی ہے کہ ڈالر کے مزید سستا ہونے سے باقی چیزوں میں بھی کمی واقعہ ہوگی۔

    دوسری جانب ملک میں 24قیراط سونے کے نرخ 2لاکھ روپے فی تولہ سے نیچے آگئے ہیں جبکہ فی تولہ سونے کی قیمت 7800روپے کم ہوکر 197200 روپے ہوگئی۔ دس گرام سونے کے ریٹ 6684روپے گھٹ کر 169070 روپے پر آگئے ہیں جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 13ڈالر بڑھکر 1885ڈالر ہوگئی۔

    علاوہ ازیں صدر بلین ایکسچینج کراچی حاجی ہارون رشید چاند نے کہا کہ گولڈ مافیا کے دباؤ میں نہیں آؤں گا، سٹے بازوں کے جاری کردہ سونے کے ریٹس قبول نہیں، ملک بھر کیلئے سونے کے ریٹس کراچی سے سندھ صرافہ ایسوسی ایشن جاری کرتی ہے، سیکیورٹی ادارے سٹے باز مافیا کے جاری کردہ سونے کے من مانے ریٹس کا نوٹس لیں۔

    جبکہ واضح رہے کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان جمعرات کے روز بھی جاری رہا اور 100 انڈیکس میں کاروباری اوقات کے دوران 279 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد انڈیکس 48772 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا، جو گذشتہ چھ سال کے بعد بلند سطح ہے تاہم عارف حبیب سیکورٹیز کے مطابق انڈیکس کی نو جولائی 2017 کے بعد یہ بند ترین سطح ہے جب انڈیکس 49000 پوائنٹس کی سطح سے اوپر بند ہوا تھا۔

    اسٹاک مارکیٹ میں گذشتہ کئی دنوں سے تیزی دیکھی جا رہی ہے جس کی وجہ معاشی اشاریوں میں کچھ بہتری ہے جس میں ملک کے تجارتی خسارے میں کمی اور ترسیلات زر میں کچھ بہتری ہے۔

  • ذکا اشرف آج  بی سی سی آئی کی دعوت پر بھارت روانہ  ہوں گے

    ذکا اشرف آج بی سی سی آئی کی دعوت پر بھارت روانہ ہوں گے

    بھارتی کرکٹ بورڈ کے اعزازی سیکرٹری جے شاہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی منیجمنٹ کمیٹی کے چیئرمین ذکا اشرف کو ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر خوش آمدیدکہا اور خیال رہے کہ ذکا اشرف آج بی سی سی آئی کی دعوت پر بھارت روانہ ہونے والے ہیں جہاں وہ 14 اکتوبر کو احمد آباد میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ورلڈکپ میچ کے موقع پر پاکستانی ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے موجود ہوں گے۔

    جبکہ نجی ٹی وی کے مطابق ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ وہ اس اہم موقع پر اپنی ٹیم کی سپورٹ کو بہت ضروری سمجھتے ہیں، پاکستانی ٹیم اپنی سخت محنت اور جذبے سے اس مرحلے تک پہنچی ہے اور انہیں امید ہےکہ وہ اپنی بہترین کارکردگی سے ہمیں فخرکرنےکا موقع فراہم کرےگی، علاوہ ازیں اس سے قبل جے شاہ اور ذکا اشرف کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں جے شاہ نے ذکا اشرف کے بھارت آنے پر خوشی کا اظہار کیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ
    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت

    واضح رہے کہ جے شاہ نےکہا کہ وہ ذکا اشرف کے بھارت میں قیام کے دوران ان کی دیگر حکام سے ملاقاتوں کا اہتمام بھی کرائیں گے اور ذکا اشرف کا اس موقع پر کہنا تھا کہ ہم دونوں نے اس موقع پر ان امکانات پر بھی بات کی کہ کس طرح ہم دونوں ملکوں کے درمیان کرکٹ روابط کو بڑھانے اور انہیں ترقی دے سکتے ہیں۔

  • نواز شریف  نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا.  ماہر قانون کا دعویٰ

    نواز شریف نااہلی معاملہ دوبارہ عدالت میں جائے گا. ماہر قانون کا دعویٰ

    ماہر قانون سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کے فیصلے کی اہم بات یہ ہے کہ آٹھ سات کی اکثریت سے سپریم کورٹ نے کہا کہ ماضی میں جو آئین کے آرٹیکل 184/3 کے تحت جو فیصلے ہوچکے ہیں، جن میں میاں نواز شریف کی نااہلی کا فیصلہ بھی شامل ہے، ان فیصلوں کے خلاف اپیل نہیں ہوسکے گی جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ جن لوگوں نے یہ قانون بنایا تھا اس کے پیچھے یہی محرک تھا کہ ماضی میں جو فیصلے ہوئے ان کے خلاف اپیل کی جائے تاکہ میں نواز شریف اپنی نااہلی کو دوبارہ عدالت میں چیلنج کرسکیں، لیکن وہ دروازہ آج بند ہوگیا۔

    واضح رہے کہ انہوں نے نظرثانی اور اپیل کے حق میں فرق واضح کرتے ہوئے کہا کہ نظر ثانی ایک محدود اپیل ہوتی ہے جس میں آپ کو بتانا ہوتا ہے کہ جو فیصلہ ہوا ہے اس میں فاش غلطی کیا ہے اور سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج کے فیصلے کے بعد 184/3 کے فیصلے کے خلاف اپیل حق مل گیا ہے، آئندہ جو 184/3 کا فیصلہ ہوگا اس کے خلاف اپیل ہوسکے گی، اپیل میں آپ نئے سرے سے پورا کیس بحث کرسکتے ہیں، اس لیے اپیل ایک زیادہ مضبوط اور مستحکم علاج ہے، علاوہ ازیں اٹارنی جنرل کی جانب سے سپریم کورٹ میں حلف نامہ جمع کرائے جانے کے باوجود سویلینز کے ملٹری ٹرائل شروع ہونے پر ان کا کہنا تھا کہ یہ سپریم کورٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی اور حکم عدولی ہے، ہم نے اس حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے، سپریم کورٹ کو آگاہ کردیا گیا ہے ان کے حکم کے باوجود ٹرائل شروع کردیا گیا ہے، اٹارنی جنرل کا بھی خط لکھا جارہا ہے کہ انہوں نے عدالت کے سامنے واضح بیان دیا تھا کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا، ان کے بیان کی بھی نفی کی جارہی ہے، ان پر فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے بیان اور عدالت کے فیصلے کی حرمت کو قائم رکھیں۔

    واضح رہے کہ سینئیر ماہر قانون وسیم سجاد نے کہا کہ اس فیصلے کا سیاسی اثر یہ ہوگا کہ جو بھی 184/3 کے تحت لوگ نااہل ہوئے نمایاں طور پر نواز شریف اور جہانگیر ترین، ان کا خیال تھا کہ انہیں اپیل کا حق مل جائے گا، گو کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں مانا۔ لیکن اس کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 میں ترمیم کرکے یہ کہا تھا کہ تاحیات نااہلیت کی حتمی مدت پانچ سال ہوگی، جو قانون بن گیا ہے۔ تو جہاں تک قانون کا تعلق ہے نااہلیت پانچ سال بعد ختم ہوچکی ہے، اور انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور جہانگیر ترین جب اپنے پیپرز فائل کریں گے تو ہوسکتا ہے اعتراض کیا جائے کہ یہ قانون غلط ہے اور آئین کے خلاف ہے تو یہ معاملہ دوبارہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں جائے گا کہ کیا الیکشن ایکٹ 2017 میں کی گئی ترمیم درست ہے یا نہیں، آئندہ یہ سوال اٹھے گا اور اس کے سیاسی اثرات ہوں گے۔

    علاوہ ازیں وسیم سجاد نے کہا کہ میرے خیال میں نواز شریف کی نااہلیت کا معاملہ ریٹرننگ افسر کے سامنے اٹھے گا اور اس کے پاس کوئی جواز نہیں ہوگا یہ کہنے کا کہ میں قانون کو نہیں مانتا، وہ تو کہے گا کہ نااہلیت 5 سال کی ہے، لیکن اس کو چیلنج کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے ایک پیغام آتا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے کی جانب ایک قدم ہے، اس فیصلے کا سیاق و سباق یہ ہے کہ سپریم کورٹ کو آرٹیکل 191 کے تحت رول بنانے کی پاور دی گئی ہے، اسی آرٹیکل میں لکھا ہے ’This is subject to law‘ (یہ قانون کے تابع ہے)، تو سپریم کورٹ کے سامنے سوال یہ تھا کہ کیا لاء کا مطلب یہ ہے کہ جو رولز بن گئے ہیں اس میں مداخلت ہوسکتی ہے اور رائٹ آف اپیل یا تین ممبرز کا جو بینچ بنا ہے یہ ہوسکتا ہے، یا لاء کو ہم محدود کریں اور اس کو اتنا وسیع نہ کریں کہ یہ سپریم کورٹ کے پہلے سے بنے ہوئے رولز میں مداخلت کرسکے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟
    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری

    جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ سویلنز کا ٹرائل آرمی ایکٹ میں ترمیم کے تحت کیا جارہا ہے جس کو چیلنج کیا گیا ہے، اس ضمن میں اٹارنی جنرل نے بیان دیا تھا کہ ہم کوئی ٹرائل شروع نہیں کریں گے، تو بادی النظر میں یہ سپریم کورٹ کی توہین ہے، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وکیل شعیب شاہین نے بھی اپنئے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا ماننا تھا یہ قانون تو بہتر ہے لیکن اس میں دو چیزیں غلط ہیں، ایک تو یہ کہ اپیل کا حق جو آپ دے رہے ہیں اس کو آئینی ترمیم کے زریعے دے سکتے ہیں، اور دوسرا ہمارا سوال یہ تھا کہ ماضی کے فیصلوں پر اس کا اطلاق نہیں کرسکتے۔ تیسرا ہمیں اعتراض یہ تھا کہ اگر آپ نے تین ججز کی کانسٹیٹیوشنل بینچ بھی کرنی ہے تو وہ بھی آئین میں ترمیم کے بغیر نہیں ہوسکتا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ آئین اور اداروں کی خالق پارلیمنٹ ہے، پارلیمنٹ کے فیصلوں میں عوام کی مرضی شامل ہے کیونکہ اس میں عوام کے نمائندے شامل ہیں، اور عوام کا فیصلہ ہر ایک نے ماننا ہے، لیکن یہ پارلیمنٹ پر منحصر ہے کہ کیا وہ اپنی ذاتیات سے بالاتر ہوکر واقعی عوام کی مرضی اور صدق دل کے ساتھ قانون سازی کرتے ہیں یا نہیں۔

  • کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    کیا نواز شریف انتخاب لڑ پائیں گے یا پھر تاحیات نااہل؟

    عدالت عظمیٰ نے تاریخی ججمنٹ دے دی ہے یہ کہنا ہے اینکر پرسن مبشر لقمان کا انہوں نے مزید کہا کہ آج جو تاریخی فیصلہ ہوا اس کے مطابق عدالت نے کہہ دیا ہے میاں نواز شریف کے پاس رائیٹ ٹو اپیل کا حق ختم ہوگیا ہے، علاوہ ازیں انہوں نےقانون کے ماہر حسن رضا پاشا سے سوال کیا کہ کیا اب نواز شریف الیکشن لڑ پائیں گے یا پھر وہ تاحیات جیل میں ہی رہیں گے؟


    نااہل ہونے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حسن رضا پاشا نے کہا کہ ترمیم ہوگئی ہے الیکشن ایکٹ میں جس کے تحت اب نااہلی کا دورانیہ پانچ سال ہے اس پر مبشر لقمان نے کہا کہ الیکشن ایکٹ تو ٹو تھرڈ کے حساب سے پاس نہیں ہوا کیا وہ عدالت عظمیٰ کی ججمنٹ کے اوپر لاگو ہوگا؟ اس پر وکیل نے کہا ارٹیکل 6، 1، 2 ایف میں کہیں بھی نہیں لکھا ہوا ہے نااہلی پانچ سال کیلئے ہوگی.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛

    پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ فیصلے کا نواز شریف پر کوئی اثر نہیں ہوگا. شہباز شریف
    سرفرانگا ریلی؛ عادل نعیم کی جیت
    نواز شریف کو ریلیف نہ ملا تو وہ واپس نہیں آئیں گے . فیصل کریم کنڈی
    پاکستانی ہائی کمیشن ڈاکٹر فیصل کی نواز شریف سے الودعی ملاقات، ویڈیو لیک
    الیکشن کمشین؛ بلوچستان میں تعینات افسران کے تبادلوں کے احکامات جاری
    چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا اسلام آباد میں بینظیر ون ونڈو سینٹر کا دورہ
    روپےکے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں کمی
    علاوہ ازیں انہوں نے نواز شریف کے پاس حق ہے کہ وہ عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، جبکہ میاں نواز شریف کو جیل جانا پڑے گا کیونکہ وہ سزا کے دوران گئے تھے علاوہ ازیں اینکر پرسن نے کہا کہ لگتا ہے کہ نواز ڈیل کرکے آرہے جبکہ اگر عدالت انہیں یہ سہولت فراہم کردے کہ ہم ان کے گھر کو سب جیل قرار دے رہیں تو پھر ایسا تو عمران خان سمیت دوسرے لوگ جو قید ہیں‌کو بھی حق ملنا چاہئے.

    وکیل نے کہا کہ یہ پاکستان ہی ہے کہ سزایافتہ شخص کو باہر ملک بھیج دیا گیا اور آج وہ چار سال بعد واپس آنے کی اپنی مرضی سے تیاری کررہے ہیں جبکہ یہ عدلیہ پر بھی سوال ہے کہ وہ اب تک وہ واپس کیوں نہ آئے.