Baaghi TV

Author: +9251

  • سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد ہلاک. آئی ایس پی آر

    بنوں میں انیٹلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز سے مقابلے کے دوران تین دہشت گرد مارے گئے ہیں آئی ایس پی آر کے مطابق دس اور گیارہ اپریل کی رات، سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر ضلع بنوں کے عام علاقے نورار میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ آپریشن کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں تینوں دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا ہے کہ ہلاک دہشت گردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔ مارے گئے دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں اور معصوم شہریوں کے قتل میں ملوث رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقے کے مقامی لوگوں نے آپریشن کو سراہا اور علاقے سے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے بھرپور تعاون کا اظہار کیا ہے۔

  • خاتون کو سنگسار کرنے کا فتویٰ، امام سمیت 4 افراد گرفتار

    خاتون کو سنگسار کرنے کا فتویٰ، امام سمیت 4 افراد گرفتار

    خاتون کو سنگسار کرنے کا فتویٰ، امام سمیت 4 افراد گرفتار

    بنگلادیش میں خاتون کو کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے کے الزام میں پیش امام سمیت 4 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خاتون کو پیش امام کے فتوے کے بعد 82 کوڑے مارے گئے اور 80 پتھر مارے گئے، تاہم خاتون کی جان بچ گئی۔


    بنگلادیش میں 30 سالہ عورت کو غیر ازدواجی تعلقات کے الزام میں پیش امام نے کوڑے مارنے اور سنگسار کرنے کا فتویٰ دیا جس پر پیش امام اور دیگر تین افراد کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    پولیس کا کہنا ہے بنگلا دیش کے خواتین اور بچوں کے خلاف ظلم کی روک تھام کے ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اور اس پر مزید کاروائی جارہی ہے جبکہ ملزمان کیخلاف سخت سے سخت قانونی کاروائی عمل میں لائی جاوے گی

  • ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    ضیاءالدین یوسفزئی؛ جدوجہد کی کہانی، دوست کی زبانی

    میرے لیئے ضیاء الدین یوسفزئی کا تعارف ذرا مختلف ہے ان لوگوں سے جنہوں نے افسانوی، پراسرار، متنازع یا غیر فطری قصے سن رکھے ہیں کیونکہ جہانزیب کالج میں ملالہ کے والد ضیاءالدین یوسفزئی مجھ سے سینئر تھے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن سے تمام ہمدردیوں کے باوجود ایک غیر تحریری نسل پرستانہ قوم پرستی کے غالب جزبات پر میرے شدید تحفظات تھے. کیونکہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن کا خاصہ رہا ہے کہ بہترین جزباتی تقریر اور بہترین شاعری کا بہاؤ ہر رہنما میں مشترک رہا مگر ساتھ ہی مجالس و مکالمے میں دلیل کی جگہ زور اور "پرتشدد” الفاظ کی ادائیگی تقریر و شاعری کو محض طاقت کا اظہار بنا دیتی تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی نے طلبہ تنظیم کی سربراہی سنبھالی تو ایک فرق نے مجھے فورا متوجہ کیا کیونکہ میری نظر میں وہ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن میں فٹ نہیں تھے اس لیئے کہ وہ دلیل سے بات کرتے تھے اور عدم تشدد کے قائل تھے جبکہ یہ اے این پی کے آئین کے عین مطابق اور عمل کے برعکس تھا. دوسرا ضیاء الدین کی ادائیگی میں لکنت تھی ہکاہٹ تھی مگر جب شعر ادا کرتے تھے تو اس روانی سے کہ پن ڈراپ خاموشی ہوتی اور پہلی دفعہ میں نے دیکھا کہ غیر سیاسی اساتذہ کرام دروازوں ، برآمدوں میں کھڑے ہوکے مدلل مقرر اور برجستہ شاعری سنانے والے کو سنتے تھے اور میری عقیدت ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ ان کی شخصیت کی عجیب پراسراریت کی وجہ سے تھی جس کو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا کیونکہ وہ انتہائی انکساری اور تہذیب سے رہتے جس کو میں ان کی عظمت یا احساس کمتری میں کوئی ایک سمجھنے سے قاصر رہا.

    وہ اساتذہ میں غیر معمولی مقبولیت اور پذیرائی رکھتے تھے جو کسی طالب علم رہنما کے لیے میں نے نہیں دیکھی تھی
    وہ بہت ترقی پسند اور لبرل تھے جبکہ تھیوکریسی کے مخالف تھے مگر روحانیت پسند ضرور سے تھے۔ وہ مذہب پر بات نہیں کرتے تھے مذہب پر تنقید نہیں کرتے تھے مگر تنقید کے بارے میں ہمیشہ غیر جانبدار رہتے چونکہ بائیں بازو کی سیاست زندہ اور سر گرم تھی اور ریاست کی طرف سے مذہبی استعمال اور اس استعمال میں استحصال غالب تھا اس لیے بائیں بازو کے نظریات کے عامل افراد کا استعمار کے ساتھ مذہبی تنقید فیشن کے اندر تھا. ضیاء الدین یوسفزئی ایک روایت پسند مذہبی شخص اور ایک حق تنقید کے حامی دوہری شخصیت کی طرح نظر آتے اور وہ مذہبی انتہا پسندی اور لا دینی انتہا پسندی کے دور میں اعتدال پر تھے جو اس کی جیسی شخصیت سے امید نہیں کی جا رہی تھی اور وہ خود شاعر اور لطیف احساسات کے مالک تھے .

    انگریزی ادب اور پشتو ادب پر ایک قابل ذکر عبور رکھتے تھے علاوہ ازیں سب سے بڑھ کر وہ ایک بہت اچھے سامع تھے جس نے مجھے بہت متاثر کیا۔ اور پھر وہ ہمارے محلے میں بھی آکر رہنے لگے تھے جہاں کسی عام محلے دار کی طرح اسی لہجے میں گفتگو کرتے وہ نوجوانوں اور عام محلے داروں میں بہت مقبول تھے لہذا میں نے ایک چھٹی والے دن ضیاء الدین کو دیکھا جن کے ہاتھ میں چھوٹی سی سیڑھی ایک بورڈ تھا میں دور سے دیکھ رہا تھا غور کرنے پر معلوم ہوا کہ ضیاء الدین ہی ہے میرے ساتھ جو لڑکے تھے وہ ان کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں جانتے تھے جو جانتے تھے شانگلے والا نیا کرایے دار اچھا لڑکا سے زیادہ شناسائی نہیں رکھتے تھے لہذا ہم خوڑ پار کرکے ان کے پاس پہنچے وہ کچھ شرمائے کچھ خوش ہوئے میں نے پوچھا کیا کر رہے ہیں ؟

    بورڈ دیکھاتے ہوئے کہنے لگے ساجد ایک کوشش سی ہے "خوشحال پبلک سکول لنڈیکس” میں نے پوچھا کیا آپ واقعی انگلش میڈیم سکول کھولنے میں سنجیدہ ہو جس کا کوئی اچھا سٹینڈرڈ بھی ہوگا ؟ انہوں نے اعتماد سے جواب دیا یقیناً
    میں نے کہا نام کا انتخاب قطعی غلط ہے بورڈ کو حیرت سے دیکھتے ہوئے پوچھا کیوں ؟ میں کہا اگر انگلش میڈیم سکول کھولنے کا اردہ ہے تو خوشحال خان ، رحمان بابا قسم کا نام رکھنے کی جگہ شیکسپیئر ، سینٹ، لارنس ، کوین یا جان ، مارٹن ٹائپ نام رکھیں اور میں واقعی سنجیدہ تھا . وہ کھل کر ہنسے اور گلے لگے جس کا مطلب تھا وہ قطعی طور پر متفق نہیں ہے. وہ بورڈ ہم نے ملکر نصب کیا یہ تشہیری مہم تھی سکول کی جس کو ایک لمبے عرصے تک وہاں سے گزرتے ہوئے ہمدردی سے دیکھتا .

    انعام ہمارا دوست تھا اور اس نے نشاط چوک میں ایک کتابوں کی دوکان کھول لی۔ جس میں روایتی کتابوں کے علاوہ ترقی پسند ادب پر کتابیں اور رسائل بھی موجود ہوتے دیکھتے ہی دیکھتے وہ کئی لوگوں کے لیے ایک جائے اطمینان اور پاک ٹی ہاؤس جیسی اہمیت حاصل کر گیا ۔ ضیاء الدین یوسفزئی بھی گاہے بگاہے وہاں آتے جہاں میں ، عثمان اولس یار اور دیگر نظام سے مایوس موجود ہوتے جزباتیت تو تھی ان دنوں میں چودہ اگست کی کاروباری سطح پر منانے کی کوئی روایت نہیں تھی۔ میری یاد میں پنجاب بیکری والے اپنی بیکری سجا کر کچھ اظہار کرتے ورنہ سکولوں میں ہی چودہ اگست کے نغمے سن کر چھٹی اور نہ چھٹی کا سا ماحول ہوتا ایک چودہ اگست کو بغیر کسی پیشگی مشورے کے ہم نے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ لی۔ ضیاء الدین آیا تو ان کے بازو پر باندھ دیا اور ہم خود غیر اہم تھے ہمارے احتجاج کی اہمیت ہمارے علاؤہ کسی نے محسوس نہیں کی اور ہم خود نہیں جانتے تھے ہمارا کیا مقصد ہے ہاں نظام پر عدم اعتماد ایک وجہ ضرور تھی.

    ضیاء الدین یوسفزئی کے خلاف پچھلے سالوں میں چودہ اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا الزام لگا پڑھا تو بے اختیار ہنس دیا، ضیاء الدین یوسفزئی کی نظریات سے زیادہ ان کی شرافت اور دوستی کا احترام سیاہ پٹی کو ان کے بازو پر لے آیا تھا جو دہائی سے اوپر گزرنے کے بعد ان کے لیے طعنہ بن گیا جبکہ انعام اور ہم کئی پشتوں سے پڑوسی تھے عثمان اولس یار رشتہ دار ، کلاس فیلو ، دوست اور ہم نظریہ اور باقی دو تین دوست بھی ایسے ہی تھے عبداللہ یوسف زئی ، واجد علی خان کا بھی گزر ہوتا اور حوصلہ افزائی کرتے. ضیاء الدین یوسفزئی نے ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز کر لیا تھا اور روخان صاحب و فضل ربی راہی صاحب کی قربت مل گئی تھی جس کی مجھے توقع بھی تھی اور ان کے اندر اہلیت تو تھی ہی کہ اس محفل تک پہنچتے۔

    ضیاء الدین یوسفزئی ایک با اعتماد ماہر تعلیم کی صورت میں ابھرنا شروع ہوئے ساتھ ہی ادبی سرگرمیوں کے سماجی سرگرمیوں میں بھی پیش پیش رہے جبکہ انکی خواہش تھی کہ تعلیم سائنسی بنیادوں پر آسان ،سستی اور پر کشش ہو دوئم کمزور اور بے آسرا لوگوں کی مالی مدد کا مستقل کوئی سلسلہ بھی بنائے اسی میں ہی سرگرم رہے اور میں بھی عملی زندگی میں آ کر سوات چھوڑ چکا تھا مگر ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ رابطہ تھا جسکی وجہ ایک پچھلا تعلق دوسرا میرے بہنوئی احمد شاہ کے ساتھ ان کی دوستی ، میرے والد صاحب کے ساتھ ان کا تعارف اور اچھے الفاظ میں ذکر سمیت متعدد ۔۔

    دو ہزار آٹھ یا نو میں ضیاء الدین یوسفزئی کا ایک میسج آیا کہ وہ بیرونی ملک کسی ادبی سلسلے میں جا رہا ہے اور کچھ
    میں نے اس کا میسج ویسے ہی فیس بک پر لگا دیا میرے ایک فیس بک دوست اور سوات کے ایک رہائشی نے تبصرہ لکھا کہ وہ بہت خوش ہوگا اگر ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کروں اور اگر میں ان کا نمبر فراہم کر سکوں میں نے یوسفزئی سے پوچھا انہوں نے ہنس کر کہا نیکی اور پوچھ پوچھ اور پھر ضیاء الدین نے واپسی پر میرا بڑا شکریہ ادا کیا کہ میری وساطت سے جو میزبانی ملی اس نے کافی مدد کی اور بہت کچھ دیکھنے سیکھنے سمجھنے کا موقع ملا چونکہ ضیاء الدین کو میں ایک خوددار ، شکر گزار اور قناعت پسند شخص کے طور پر بھی جانتا تھا مجھے بہت اچھا لگا۔ مذید باہر سے دوست کی جانب سے ضیاء الدین یوسفزئی کی میزبانی کا موقع فراہم کرنے اور تنگی وقت ملاقات کے ذکر نے اور بھی خوشی فراہم کی جو دراصل میزبان کی مہمان کے لیے خراج تحسین تھا.

    مجھے فخر ہوا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے ان کو گرویدہ کر لیا تھا 2009 میں جب حالات بہت خراب ہونے لگے تو مجھے ضیاء الدین کی بڑی فکر ہوتی تھی اور رابطہ بھی بہت رکھتا تھا ان کا احتجاج اور رد عمل میرے خیال میں ضرورت سے زیادہ تھا شعوری آگاہی کی ان کی تمام کاوشیں بہت ہی خطرناک ہو سکتیں تھیں جس سے وہ متفق نہیں تھا یا آنے والے واقعات کا سب لوگوں کی طرح ان کو بھی صحیح ادراک نہیں تھا جبکہ ایک وقت آیا جب مجھے لگا کہ شاید میں ان کو زندہ پھر کھبی نہیں دیکھ پاونگا اور سوات سے ابادی کے انخلاء سے کچھ پہلے وقت پہلے بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ سوات چھوڑ رہے ہیں مگر دہشت گردی اور انسانیت دشمنی کو شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    میں نے فون پر رابطہ کیا تو سفر میں تھے دل برداشتہ تھے دو ہزار نو میں ہی نشاط چوک میں سیدوشریف کی طرف گاڑی موڑتے ہوئے وہ سٹرک کنارے چلتے ہوئے نظر آیا ہم نے ایک دوسرے کو دیکھا گاڑی پارک کرکے میں ان کو گلے ملا اور کہا کہ مجھے یقین تھا ہم کھبی دوبارہ زندہ نہیں مل پائیں گے سوات کا تاریخی ہجرت کا دور ختم ہو چکا تھا۔
    وہ مگر پر عزم تھا اور سوات کے حالات کو خراب کرنے کو منظم کوشش اور مجرمانہ فعل برملا کہہ رہا تھا اور ان کے عزم میں اور پختگی تھی شاید ہی کچھ لوگ اس طرح اظہار کرتے ہونگے جیسے وہ کر رہا تھا انخلا سے پہلے اور اب بعد میں وہ سوات قومی جدوجہد اور قومی بیداری پر زور دے رہا تھا جبکہ بعد میں سوات قومی جرگے کا اہم رکن بھی بن گیا.

    دہشت گردی ، کرفیو کی طوالت اور ریاستی ردعمل کی مایوس اظہار کا بہت بڑا ناقد تھا
    2009 کے واقعات اور ناخوشگوار تجربات کے بعد میں نے محسوس کیا کہ اعتدال پسند اور استقامت پسند ضیاء الدین کے اندر یہ دونوں صفات کم ہوتے جارہے ہیں۔ ایک طرف وہ دہشت گردوں کے خلاف شدید مزاحمت اور ناپسندیدگی کا اظہار کرتے تھے دوسری طرف ریاستی اداروں اور ریاست کی لاپرواہی اور غیر ضروری تاخیر کو بھی حدف تنقید بنا رہے تھے ساتھ ہی ان کے امدادی کاموں میں بھی باقاعدگی اور تیزی آ رہی تھی ایک طوفان تھا جو ان کے اندر ابل رہا تھا
    2010 کے سیلاب میں انہوں نے رابطہ کیا اور مجھے ایک بڑی رقم عطیہ کرنے کا مطالبہ کیا. میں چونکہ ہمیشہ مالی غیر ہمواری اور معاشی بے ترتیبی کا شکار رہا ہوں مالی امداد سے معزرت کی۔ جس پر انہوں نے متاثرین کی فہرستوں کو مرتب کرنے میں مدد کی درخواست کی اور پھر انکے امداد دینے کا طریقہ بہت ہی عجیب تھا ۔ میڈیا اور شہرت سے پردہ کرکے گھر گھر جاکر امداد پہنچائی وہ گراؤنڈ پر موجود رہا 2011 میں موثر طور پر وہ سوات کا کیس پیش کر رہا تھا ۔ مذاکرے ، سیمینار اور پریس کالموں کے ذریعے سوات میں استحصال کے خلاف ایک موثر آواز بنے رہے مسلسل دھمکیوں اور سیکورٹی رسک کے باوجود وہ اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے کو تیار نہیں تھے اور واقعی ان کی فکر بہت بڑھ گئی تھی۔

    اکتوبر 2012:میں کم سن ملالہ پر قاتلانہ حملہ ہوا ۔ ملکی اور غیر ملکی میڈیا سمیت سب نے ملالہ کے احتجاج اور ڈائری کو وجہ قرار دیا مگر نجانے کیوں مجھے اب بھی لگ رہا ہے کہ ضیاء الدین کو چھپ کرانے کے لیے سافٹ ٹارگٹ چنا گیا. بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں سے بات کرتے ہوئے دہشت گردوں نے یہ موقف دیا کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی ’’پشتون ثقافت کے برعکس نا صرف مغربی اقدار کی حامی ہے بلکہ اس نے صدر اوباما کو بھی اپنا آئیڈیل قرار دیا ہے‘‘ اس وقت سوات قومی جرگہ پوری طرح سرگرم تھا اور تمام سربراہ ٹارگٹ کیے جا رہے تھے۔ اور اس ٹارگیٹنگ پر کھل کر جرگے کا موقف آ رہا تھا

    اس دن میں راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں میٹنگ میں تھا چائے کے وقفے میں ٹی وی آن کیا تھا تو ملالہ یوسفزئی پر حملے کی خبریں چل رہی تھیں میں نے انتہائی پریشانی میں اپنے بہنوئی احمد شاہ کو فون کیا انہوں نے کہا کہ ابھی کچھ نہیں کہا جاسکتا میں ساتھ ہوں وہ ہسپتال میں ہے اور ضیاء الدین پہنچ رہا ہے بعد میں ملالہ یوسفزئی کو شفٹ کرنا پڑا خیبرپختونخواہ کے ماہر نیورو سرجنوں کی ٹیم کی مدد کے لیے ملٹری ہسپتال کے نیورو سرجن پہنچے مگر زندگی اور موت کی جنگ جاری رہی اور ملالہ یوسفزئی کے لیے جدید علاج فوری طور پر فراہم کرنے کا فیصلہ ہوا. پہلے سے سوات بین الاقوامی میڈیا دہشت گردی کے شکار کے طور پر نمایاں تھا سکول کے بچیوں پر حملے نے مغربی سول سوسائٹی کو کھل کر طالبان کی مذمت اور ملالہ کو فوری طور پر صحت کے بہترین مواقع دینے کا مطالبہ ٹاپ ٹرینڈ ہوگیا۔

    اس وقت کے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے اس کو دہشت گردی کا بزدلانہ فعل قرار دیا اور ملالہ کو بہترین طبعی امداد دینے کا وعدہ اور اپیل کی اور ایک آئر ایمبولینس میں ملالہ کو انگلستان منتقل کیا گیا اور دنیا بھر سے لاکھوں بچوں نے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ضیاء الدین یوسفزئی پاکستان میں رہ گیا وہ ، اس کے جزبات اور حثیت ثانوی ہوگیے
    مالی طور پر وہ اتنا مستحکم نہیں تھا کہ وہ برطانیہ کا سفر اور وہاں رہائش کا بندوست کر سکے ساتھ ہی دیگر قانونی لوازمات کی تیاری میں موت سے لڑنے والی ایک بچی کے بے بس باپ کا درد روح پرور تھا ملالہ کے ایک سے اوپر ایک آپریشن کیے جا رہے تھے متفرق خبریں مل رہی تھی زندگی کے مطالق شہبات کا اظہار کیا جا رہا تھا تو کہیں مستقل معزوری کی نوید دی جا رہی تھی.

    اور پھر وہ دن آیا کہ ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ ایک مہذب ملک پہنچ گیا جہاں اظہار تحریر و تقریر کی آذادی کے ساتھ بہترین طبی سہولیات حاصل تھے ملالہ رو بہ صحت ہوتی گئی مگر وہ چہرے کے ایک سائڈ کے اعصابی نظام کی مفلوجی کا شکار بحرحال ہوگئی۔ سپیچ تھراپسٹ اور فزیوتھراپسٹ نے ملکر نیورولوجی کے شعبے کے ساتھ ملکر طبی کرشمہ انجام دیا. ملالہ بولنے کی لائق ہوئی تکلیف سے ہی سہی مگر اس کی آواز نے ضمیروں کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اس نے اپنے باپ کی جدوجہد کو جاری رکھنے اور دہشت گردی کی مخالفت اور سختی سے کرنے کا اعلان کیا۔
    آصف علی زرداری صاحب نے دورہ انگلستان کے موقع پر خصوصی ملاقات کی اور پاکستانی ہائی کمیشن کی ملکیتی ایک مکان بھی رہنے کو دیا.

    ضیاء الدین نے حکومت پاکستان کو درخواست دی کہ یہ مکان ان کی ضرورت سے کہیں بڑا ہے اور ویسے ہی دہشت گردی زدہ ملک پر بوجھ ہے اس لیے ان کو انکی چھوٹی فیملی کے حساب سے مکان دیا جائے 2014 تک ملالہ کی آواز دنیا کے ساتھ ارب سے زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی تھی اور اسی سال ان کو امن کے لیے عالمی ایوارڈ اور اگلے سال انٹرنیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لیے نامزد کیا گیا۔ اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے ملالہ نے تعلیم کو دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا واحد موثر ہتھیار قرار دیا کروڑوں لوگوں نے براہ راست انکی تقریر سنی اقوام متحدہ نے اپنے ایک فنڈ جو دنیا بھر میں بچوں کی تعلیم اور بہتر صحت کے لیے سرگرم تھا کا نام تبدیل کرکے ملالہ فنڈ رکھ دیا برطانیہ میں ہی ضیاء الدین یوسفزئی کو اقوام متحدہ کے زیر انتظام تعلیم کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے میں ملازمت مل گئی مگر وہ ایک طویل عرصے مالی دشواری کا شکار رہے.

    ملالہ ملنے والی انعامی رقم ملالہ نے پاکستان میں بچیوں کی تعلیم کے لیے عطیہ کر دی۔ سوات اور شانگلہ میں کئی پبلک و پرائیویٹ سکولوں کو فنڈز کی فراہمی شروع کر دی بے شمار طلباء تعلیمی وظائف حاصل کرنے لگے تور پکئ ایک گھریلو ناخواندہ خاتون نے پڑھنا شروع کیا اور ان کی شاعری وطن سے محبت ، یاد اور امن کے پیغام پر مبنی میڈیا پر سامنے آنے لگی عملی طور پر ایک وطن پرست اور محب وطن ضیاء الدین اپنے خاندان کے ساتھ وطن بدر ہوگیا ہے
    پچھلے سال ان کے لنڈیکس والے گھر پر کام کرنی والی خاتون کے لیے انہوں نے میرے نام پر کچھ امدادی رقم بجھوائی جو بینک کے قانونی ضابطے پورے کرتے ہوئے نکالے گیے اور پھر مجھے ایف آئی اے سے انکوائری کے سلسلے کا سامنا کرنا پڑا۔

    مجھے کہا گیا کہ میرا نام کا اضافہ پہلے سے موجود مالی امداد لینے والوں کی فہرست میں ہوگیا ہے اور کہ میرا ضیاء الدین کے ساتھ کیا رشتہ ہے میں نے بتایا کہ ضیاء الدین یوسفزئی نے یہ امداد میرے توسط سے ایک پرانی جاننے والی بزرگ خاتون کو بھجوائی ہے جو میں نے اسی دن ادا کر دی تھی اور بینک سے کئی مہینے بعد وصول کی ۔ بڑی مشکل سے ثبوتوں اور گواہیوں کے بعد یقین دلایا ہم نے ضیاء الدین یوسفزئی کو تسلیم نہیں کیا ان معنوں میں ہرگز نہیں جس کا وہ حق رکھتا تھا ۔

    ہم نے باچا خان کو تسلیم نہیں کیا، ہم نے بھگت سنگھ کی آذادی کی تحریک کا مذہب جائزہ لیکر مسترد کیا۔ ہم زمینی حقائق کے ماننے کو تیار نہیں ہوتے۔ ضیاء الدین یوسفزئی کے ساتھ نیا کچھ نہیں کیا ۔۔
    دنیا بھر کے آذاد و مہذب ممالک نے ان کے سامنے سر نگوں کیے ۔ ضیاء الدین یوسفزئی آج بھی طالبان حاکمیت کے خلاف سرگرم ہے۔ افغانستان میں خواتین کے تعلیم پر پابندی کے دن گن رہا ہے وہ شاید واحد موثر آواز ہے جو بلند ہے
    بے انصافی ، دہشت گردی ، لاقانونیت اور ریاستی عدم تعاون کے خلاف ، ریاستی نظر اندازی اور سرد مہری کے خلاف، انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے مجھے یقین ہے ضیاء الدین یوسفزئی تاریخ میں صحیح سمت کھڑا ہے وہ مختلف قسم کی جدوجہد میں ہے جس میں باچا خان، بھگت سنگھ ، رابندرناتھ ٹیگور ، مولانا عبیداللہ سندھی ، سبھاش چندر بوس اور مولانا آزاد کی مشترکہ جھلک نظر آتی ہے ۔

  • عید الفطر؛ چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    عید الفطر؛ چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    عید الفطر؛ چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب

    پاکستان میں عید الفطر کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 20 اپریل بروز جمعرات (29 رمضان المبارک) وزارت مذہبی امور اسلام آباد میں ہوگا۔

    اعلامیے کے مطابق مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے اجلاس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کریں گے اور اعلامیے کے مطابق زونل کمیٹیوں کے اجلاس ملک بھر میں مقررہ مقاما ت پر ہوں گے۔ یاد رہے کہ گزشتہ 22 مارچ کو ملک میں رمضان المبارک 1444 ہجری کا چاند نظر آیا تھا اور جمعرات کو پہلا روزہ ہوا تھا۔ خیال رہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین عبدالخبیر آزاد نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں چاند نظر آنے کی شہادتیں موصول ہوئی ہیں۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ بہاولپور، رحیم یار خان، صوابی، قلعہ سیف اللہ اور مردان سے چاند کی شہادت موصول ہوئیں جس کے بعد متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ ملک میں 23 مارچ بروز جمعرات پہلا روزہ ہوگا۔ علاوہ ازیں رمضان المبارک کا چاند دیکھنے کے لیے ملک بھر میں زونل کمیٹی کے اجلاس بھی ہوئے تھے۔

  • فاطمہ آفندی کا موبائل چھیننے کی واردات

    فاطمہ آفندی کا موبائل چھیننے کی واردات

    ٹی وی ڈراموں کی اداکارہ فاطمہ آفندی اپنی خوبصورتی اور اداکاری کی وجہ سے جانی جاتی ہیں، وہ کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتی ہیں. انہوں نے تابش ہاشمی کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں‌کہا ہے کہ میرے پاس جو موبائل تھا وہ پرانا ہو گیا تھا میں اپنے شوہر سے کہتی رہی کہ جب گم ہوجائیگا تب نیا دلائو گے تو انہوں نے مجھے نیا موبائل لے دیا ، پرانا تو گم نہ ہوا لیکن نیا گم ہو گیا. اداکارہ نے بتایاکہ میں ایک جگہ شوٹنگ کررہی تھی ، دن بھر ہم سب وہاں‌شوٹنگ کرتے رہے رات کو جب پیک اپ ہوا میں اپنی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی ، لائن پرڈیوسر نے ایک دم

    میری گاڑی کا شیشہ ناک کرنا شروع کر دیا ، مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ ایسا کیوں کررہا ہے جب شیشہ اتارا تو پتہ چلاکہ اسکے پیچھے ڈاکو ہیں ، لہذا میں نے اپنا موبائل ان کو دیدیا ، اورپھر میرے لائن پرڈیوسر نے مجھے کہا کہ آپ تو ہمیں مروانے لگی تھیں اگر شیشہ نہ نیچے کرتیں اور موبائل نہ دیتیں. فاطمہ نے کہا کہ یوں میرے منہ سے کہی ہوئی بات ہی پوری ہو گئی اور میرا موبائل چھینا گیا.

  • بھومیکا چاولہ  نے تیرے نام کی میوزک لانچ پر سلمان خان کو بھائی بول دیا تو کیا ہوا؟‌

    بھومیکا چاولہ نے تیرے نام کی میوزک لانچ پر سلمان خان کو بھائی بول دیا تو کیا ہوا؟‌

    بالی وڈ اداکارہ بھومیکا چاولہ جنہوں نے سلمان خان کے ساتھ فلم تیرے نام میں‌کام کیا فلم سپر ہٹ ہوئی اس میں سلمان خان کی اداکاری کو آج بھی یاد کیا جاتاہے، فلم کا میوزک آج بھی کانوں میں رس گھولتا ہے . فلم کی ہیروئین بھومیکا چاولہ کی خوبصورت معصوم مسکراہٹ آج بھی ویسی کی ویسی ہے. بھومیکا چاولہ نے تیرے نام کی یادوں کو یاد کرتے ہوئے سلمان خان کی موجودگی میں میڈیا کو بتایا کہ جب ہم نے تیرے نام کی شوٹنگ ختم کر لی فلم کی پرموشن کی تیاریاں شروع کر دیں‌، فلم کا میوزک لانچ تھا اس پر میں نے پریس سے کہا کہ سلمان خان کے ساتھ کام کرکے

    بہت مزہ آیا ہے جب میں نے سلمان خان کو بھائی کہا تو وہاں سب کو بہت برا لگا کہ میں سلمان خان کو بھائی بلا رہی ہوں انہوں نے کہا کہ جب ہم نے کام کیا ہم دونوں جوان تھے ، اب وقت بدل چکا ہے ہم چینج ہو چکے ہیں لیکن ہم نے جو ساتھ کام کیا اسکی یادیں ابھی بھی تازہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گی. بھومیکا چاولہ نے کہا کہ لیکن اب میں سلمان خان کو بھائی نہیں بولوں گی تب تو بول دیا تھا. بھومیکا کے ایسا کہنے کے بعد ساتھ کھڑے سلمان خان نے پوچھا کہ کیوں اب ایسا کیو گیا ہے جو بھائی نہیں‌بلاو گی تو بھومیکا نے ہنس کر اس سوال کو ٹال دیا.

  • لیلی کو کونسا اداکار پہلی نظر میں بھا گیا تھا؟‌

    لیلی کو کونسا اداکار پہلی نظر میں بھا گیا تھا؟‌

    نوے کی دہائی میں لالی وڈ میں اداکارہ لیلی کی اینٹری ہوئی ، اپنی خوبصورتی اور بہترین رقص کی وجہ سے انہوں نے بہت جلد شہرت کما لی. شاید لیلی اپنے کیرئیر میں بہت آگے جا سکتی تھیں لیکن انہوں نے اپنے کیرئیر پر بہت زیادہ توجہ نہ دی، اداکارہ لیلی نے اپنے ایک انٹرویو میں بتایا ہے کہ میں جب انڈسٹری میں آئی تو بہت سارے لوگوں کو یقینا نہیں‌جانتی تھی ، بہت سارے اداکار اچھے تھے لیکن ایک ایسا اداکار تھا جس کو دیکھتے ہی میں اس پر فدا ہوگئی ، لیلی نے کہا کہ جس کو دیکھتے ہی میں فدا ہوئی اسکا نام ہے احسن خان، میں نے اسکو پہلی بار دیکھا تو اس

    نے مجھے کہا کہ آپ فلموں میں کام کررہی ہیں؟‌اگر آپ فلمیں کریں تو بہت ہٹ ہوں گی ، کیونکہ آپ تو بہت پیاری ہیں، وہ کہہ کر چلا گیا لیکن میری نظروں میں وہ سما گیا ، میں اس کو پسند کرنے لگی ، بعد میں ہمارا فئیر بھی ہوا ، ساری انڈسٹری کو پتہ تھا کہ میرا اور احسن کا افئیر ہے اس کے باوجود مجھے نکاح فلم میں‌احسن خان کی بہن کا رول دیا گیا . یہ سازش کس کی تھی مجھے آج تک نہیں پتہ چل سکا لیکن یقینا اس کا افسوس ضرورہے کہ مجھے اھسن کی بہن کا رول دیا گیا.

  • رانی مکھر جی کیوں چاہتی ہیں کہ انکی بیٹی بہت ساری زبانیں سیکھے؟‌

    رانی مکھر جی کیوں چاہتی ہیں کہ انکی بیٹی بہت ساری زبانیں سیکھے؟‌

    بالی وڈ اداکارہ رانی مکھر جی جنہوں نے معروف فلمساز آدیتیہ چوپڑا کے ساتھ شادی کی ، ان کی ایک بیٹی ہے ، رانی نے کرینہ کپور کے ساتھ ایک انٹرویو میں اپنی بیٹی کے ھوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں چاہتی ہوں کہ میری بیٹی بہت ساری زبانیں سیکھے ، اس وقت انگلش اور ہندی بول لیتی ہے ، ہم چونکہ مہاراشٹرا میں‌رہتے ہیں اس لئے میری کوشش ہے کہ وہ مراٹھی زبان بھی سیکھے اور وہ سیکھ رہی ہے ، میں چاہتی ہوں کہ سپینش زبان بھی سیکھے ، میں اس لئے ایسا چاہتی ہوں کہ کیونکہ کل کو وہ باہر کے ملکوں میں جائے تو اسکو بولنے اور سمجھنے

    میں مسئلہ نہ ہو. رانی نے کہا کہ میری بیٹی پڑھائی لکھائی میں دلچسپی رکھتی ہے ، سکول بہت شوق سے جاتی ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کیا چاہتی ہوں کیا نہیں چاہتی میں اس چیز کو اپنی بیٹی پر مسلط نہیں کرتی وہ خود بہت زیادہ پر جوش رہتی ہے مختلف چیزیں سیکھنے میں. انہوں نے کہا کہ میری بیٹی بہت آرٹسٹک زہن رکھتی ہے وہ پینٹنگ بھی سیکھ رہی ہے ، اسکو گلوکاری میں بھی دلچپسی ہے اور وہ مجھ سے کہتی ہے کہ اسے گلوکاری سیکھنی ہے تو میں اسکو اس کے ہر شوق میں سپورٹ کرتی ہوں اوربہت زیادہ حوصلہ افزائی کرتی ہوں.

  • حنا الطاف کو آغا علی کی طرف سے کتنی عیدی ملتی ہے؟

    حنا الطاف کو آغا علی کی طرف سے کتنی عیدی ملتی ہے؟

    اپنی اہلیہ حنا الطاف کے دیوانے آغا علی اور حنا نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں ان سے مختلف سوال ہوئے، میزبان ندا یاسر نے حنا سے پوچھا کہ آپ کے شوہر آغا آپ کو کتنی عیدی دیتے ہیں ، تو اس پر انہوں نے کہا کہ مجھے آغا کی طرف سے اچھی خاصی عیدی ملتی ہے ، ندا یاسر نے پوچھا کہ کتنی عیدی ملتی ہے تو حنا نے کہا کہ میں بتا نہیں سکتی کہ لیکن اچھی خاصی عیدی ہوتی ہے ، اس پر آغا علی نے کہا کہ اتنی بھی اچھی نہیں ہوتی لیکن اتنی ہوتی ہے کہ حنا کو برا نہ لگے. حنا نے کہاکہ عیدی ایک ایسی چیز ہے جو نہیں چھوڑنی چاہیے جتنی ملے

    رکھ لینی چاہیے. اور میں تو بہت زیادہ پرجوش ہوتی ہوں کہ مجھے عید پر اپنے شوہر سے عیدی ملے گی. انہوں نے کہا کہ ہم عید لاہور میں‌کرتے ہیں، اور ہم دونوں ہی بہت خوش ہوتے ہیں کہ ہم فیملی کے درمیان عید کریں گے ، اس دوران کسی شوٹنگ پر نہیں جانا ہو گا. حنا نے کہا کہ فیملی کے ساتھ وقت گزارنا بہت اچھا لگتا ہے اور ہم تو لاہور جا کر عید کرنے کےلئے اپنی ٹکٹس بھی کروا چکے ہیں.

  • میرا نماز پڑھنا دوپٹہ لینا نہ لینا میرا اور خدا کا معاملہ ہے راکھی کا ناقدین کو جواب

    میرا نماز پڑھنا دوپٹہ لینا نہ لینا میرا اور خدا کا معاملہ ہے راکھی کا ناقدین کو جواب

    بالی وڈ کی آئٹم گرل کہلائی جانے والی راکھی ساونت آئے دن رہتی ہیں تنقید کی زد میں، حال ہی میں وہ تنقید کی زد میں اس وقت آئیں جب انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک تصویر جاری کی جس میں‌وہ نماز پڑھ رہی ہیں لیکن شلوار ٹخنوں سے اونچی ہے اس کو لیکر سوشل میڈیا پر کچھ لوگوں نے ان پر کافی تنقید کی. ان کو ایک وڈیو پیغام کے زریعے راکھی نے جواب دیا ہے. انہوں نے کہا ہے کہ خود تو روزے بھی رکھتے ہو ، شرابیں بھی پیتے ہو ، اور آگئے ہو مجھے سمجھانے؟ میں تو کوئی نشہ نہیں‌کرتی ، سگریٹ نہیں پیتی ، لہذا تم لوگ اپنی بکواس اپنے پاس رکھو، مجھے نماز نہ سکھائو ، مجھے اسلام نہ سکھائو، میرا میرے خدا کے ساتھ رشتہ ہے ، میں سر پہ دوپٹہ لوں یا نہ لوں

    کسی کو کیا تکلیف ہے. میں نماز پڑھتی ہوں روزے رکھتی ہوں ، خدا سے میرا ایک رشتہ ہے تم لوگ کون ہو؟‌
    راکھی نے کہا کہ میرے شوہر عادل مسلم تھے لیکن ہاتھ پیر جوڑ کر میں ان کو نماز پڑھواتی تھی، میرا یقین میرے خدا پر ہے میں اسکو ہر بات کی جوابدہ ہوں لہذا اپنے کام سے کام رکھیں. میں‌نے خدا سے گلہ کیا کہ میرا گھر ٹوٹا اچھا نہیں ہوا ، میرا کیا قصور تھا خدا نے میرے دل میں بات ڈالی کہ اس نے میرا گھر نہیں‌توڑا بلکہ میری زندگی بچائی ہے. میرا بھی اب یقین ہے کہ اس نے میری زندگی بچائی ہے. مجھے ناقدین سے فرق نہیں‌ پڑتا اسلئے جسکو جو اور جتنا بولنا ہے بولتا رہے.