Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیرستان میں کارروائی سے دو دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک نوجوان شہید. آئی ایس پی آر

    وزیرستان میں کارروائی سے دو دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک نوجوان شہید. آئی ایس پی آر

    وزیرستان میں کارروائی سے دو دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک نوجوان شہید. آئی ایس پی آر

    شمالی اور جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فوسز کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے، جس میں دو دہشتگرد ہلاک کردئے گئے۔ جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق وزیرستان کے علاقے رزمک میں سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں ایک دہشتگرد مارا گیا۔

    علاوہ ازیں کراما میں بھی فائرنگ کے تبادلہ میں ایک دہشتگرد ہلاک ہوا ہے۔ پاک فوج کے نائیک فضل جانان نے آپریشن کے دوران جام شہادت نوش کیا۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ اپنے پیاروں کی یہ قربانیاں پاک فوج کے عزم کو جلابخشتی ہیں۔

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ سیکیورٹی فورسز نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے بتایا تھا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشنز کئے گئے، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں 5 دہشت گرد مارے گئے، جن کا تعلق کالعدم تنظیم سے ہے۔

    علاوہ ازیں آئی ایس پی آر کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور دہشت گردوں میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، مارے گئے دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سامان برآمد کرلیا گیا تھا، ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ پاک فوج اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی لعنت ختم کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ واضح رہے کہ شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند روز کے دوران فورسز کے آپریشن میں 9 دہشت گرد ہلاک ہوچکے تھے۔

  • آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری

    آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری

    آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ آصف علی زرداری

    پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین اور سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہی عوام کی سب سے بڑی عدالت ہے۔ اس عدالت کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑے گا۔ 1973 کے آئین کی گولڈن جویلی تقریب سے خطاب میں انہوں نے جوبلی کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ آئین کے تحفظ کیلئے کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید نے 1973 کے آئین کی صورت میں قوم کو ایسا تحفہ دیا تھا جو متفقہ دستور ہے جس پر قومی اسمبلی کے تمام اراکین کے دستخط ہیں۔ سابق صدر نے کہا 1973 کے دستور کی اہمیت یہ ہے قومی اسمبلی میں موجود تمام ممبران، جن کا تعلق مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے تھا، نے آئین سے اتفاق کرتے ہوئے اس پر دستخط کیئے تھے۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرینز کے سربراہ نے 1973ء کے آئین پر دستک کرنے والے تمام سیاستدانوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔

    آصف زرداری نے مادر جمہوریت بیگم نصرت بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی قیادت میں پیپلزپارٹی کے ان ھیروز کو سرخ سلام پیش کیا جنہوں نےآئین کی بحالی کیلئے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ آمریت کے تاریک ادوار میں پیپلزپارٹی کے جیالوں نے اپنے خون سے چراغ روشن کرکے جمہوریت کیلئے جدوجہد کرنے والوں کو راستہ دکھایا ۔ انہوں نے تمام سیاسی کارکنوں کو کو خراج عقیدت پیش کیا جنہوں نے آئین اور جمہوریت کی خاطر پھانسیاں قبول کیں۔

    پی پی شریک چیئر مین نے کہا کہ گڑھی خدا بخش بھٹو کا گنج شہیدان جمہوریت پرستوں کیلئے مینار نور ہے جہاں سے شہیدوں کے خون کی سرخی لیکر جمہوریت کا سورج طلوع ہوتا ہے ، 1973 کے آئین کی اصل صورت میں بحالی محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی زندگی کا اولین مقصد تھا تاکہ بااختیار پارلیمنٹ بحال ہو ، الحمدللہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے ذریعے 1973 کا آئین اصل صورت میں بحال ہو چکا ہے ۔ سابق صدر نے کہا کہ پاکستان کے عوام کی منتخب پارلیمنٹ ہی عوام کی سب سے بڑی عدالت ہے اس عدالت کے سامنے سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑے گا، ہمارا ملک اس لئے آج مشکلات کا سامنا کر رہا ہے کہ کچھ عناصر نے آئین سے انحراف کیا تھا اب وقت آگیا ہے کہ ہم سب آئین پر عمل کریں قوم اور ملک کے مستقبل کے فیصلے کرنے کا اختیار پارلیمنٹ کو کرنے دیں۔

    دوسری طرف پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 1973ء کا آئین ہمارا قومی لائحہ عمل اور وفاق کی زنجیر ہے۔ 1973ء کا آئین ملک کے پہلے منتخب وزیراعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کا قوم کو تحفہ اور امانت ہے۔ قوم کے لیے متفقہ آئین کو بنانے میں اپنا کردار ادا کرنے والے تمام سیاسی رہنماوَں کو بھی سلام پیش کرتا ہوں۔ 14 اگست 1947 کے بعد ہماری قومی تاریخ کا دوسرا اہم ترین دن 10 اپریل 1973ء ہے۔ چیئرمین پی پی نے کہا کہ 1973ء کا آئین پاکستان کا حقیقی معنوں میں آئینہ دار ہے جیسا پاکستان ایک وفاقی ریاست ہے، تو ہمارا آئین ایک وفاقی آئین ہے۔ ہمارا ملک ایک اسلامی ملک ہے، تو ہمارے آئین کی روح اسلامی تعلیمات ہیں۔ ہمارا ملک جمہوریت پسندوں کا ملک ہے، تو ہمارا آئین ایک جمہوری دستور ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین ہماری قومی یکجہتی و اتحاد کی ضمانت ہے۔ جب سے آئین بنا ہے، اس پر حملے کیے جاتے رہے ہیں۔ کچھ قوتوں سے یہ برداشت نہیں ہوتا کہ عوام کو ان کا حق ملے، صوبے اپنے وسائل کے مالک ہوں، اور قانون کے سامنے سب برابر ہوں۔ خود کو قانون سے ماوراء سمجھنے والی سوچ 1973ع کے آئین کو اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ آئین کو بنانے اور بچانے کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کی تاریخ بے مثال ہے۔ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے آمر ضیاء الحق اور آصف علی زرداری نے پرویز مشرف کی جانب سے آئین میں انڈیلی گئی آلائشوں کو کامیابی سے ٹھکانے لگاکر 1973ء کے آئین کو اصل شکل میں بحال کیا۔ جبکہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی آئین کی حفاظت و عملدرآمد اور جمہوری نظام کے ساتھ ہمیشہ کی طرح آج بھی کھڑی ہے، اور آئین کو موم کی ناک سمجھنے والی سوچ کو حتمی شکست دینے کے لیے پرعزم ہے۔

  • پاکستان ریلویز ملازمین کی تنخواہیں 18 اپریل تک ادا کی جائیں. وفاقی وزیر

    پاکستان ریلویز ملازمین کی تنخواہیں 18 اپریل تک ادا کی جائیں. وفاقی وزیر

    وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نےپاکستان ریلویزکے حکام کو ہدایت کی کہ عید الفطر کے پیش نظر ملازمین کی پنشن اور تنخواہیں 18 اپریل تک ادا کی جائیں۔اتوار کو یہاں جاری ایک بیان میں وفاقی وزیر ریلویز و ہوا بازی نے اسلام آباد سے کراچی کے درمیان چلنے والی گرین لائن ٹرین میں افطار کے انتظامات کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت بھی کی ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر پاکستان ریلوے کے شعبہ لوکو شیڈ کے ملازمین کا 10روز سے جاری احتجاج کے باعث ٹرین شیڈول شدید متاثر ہوگیا تھا جبکہ ہزاروں مسافر روزے کی حالت میں گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہوگئے تھے۔

    یاد رہے کہ کراچی میں تنخواہوں کی عدم ادائیگی پرریلوے کے لوکوشیڈملازمین کے احتجاج اورکام چھوڑہڑتال کے باعث کراچی سے اندرون ملک روانہ ہونے والی کئی مسافر ٹرینیں گھنٹوں تاخیرکا شکار ہوگئیں۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اندرون ملک روانہ ہونے والی کئی ٹرینوں کے لیے لوکو شیڈ ملازمین نے انجن تیارنہیں کیے جس کی وجہ سے ٹرینوں کی اندرون ملک روانگی میں 4 گھنٹے سے زائد تاخیرہوئی۔

    علاوہ ازیں ریلوے مظاہرین نے کہا تھا کہ اگر چند روز میں ہمارے مطالبات کی منظوری نہیں دی گئی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کردیا جائے گا،ترجمان پاکستان ریلویز کے مطابق کراچی اور لاہور کے درمیان چلنے پاک بزنس ایکسپریس کو کراچی ایکسپریس میں ضم کردیا گیا ہے۔ مسافر کراچی کینٹ اسٹیشن پر ریزرویشن آفس میں رابطہ کریں،دوسری جانب ٹرینوں کی تاخیر کے سبب کراچی کینٹ ریلوے اسٹیشن پر مسافروں کی بڑی تعداد پریشانی کا شکار ہوگئے۔ ملتان جانے والی مسافر خاتون طاہرہ نے بتایا کہ 12 بجے سے انتظار کر رہے ہیں 2 بجے کا کہا اب 3 بج رہے ہیں مگر ٹرین کی آمد متوقع بھی نہیں۔

  • عمران خان کی الیکشن نہ کرانے کی صورت میں سڑکوں پر آنے کی دھمکی

    عمران خان کی الیکشن نہ کرانے کی صورت میں سڑکوں پر آنے کی دھمکی

    پی ٹی آئی چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پوری قوم کو سوچنا چاہیے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے، ملک اداروں پر چلتا ہے، آج پارلیمنٹ کی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔ توشہ خانہ کیس میں ان سب کی چوری سامنے لائیں گے۔ قوم تیار ہو جائے ، الیکشن نہیں کرائے تو سڑکوں پر ہوں گے۔ جبکہ اپنی حکومت کے خاتمے کے ایک سال مکمل ہونے پر عوام سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ یہ لوگ مجھے مرتضیٰ بھٹو کی طرح قتل کرنا چاہتے تھے، انہیں ڈرتھا مجھے جیل میں ڈالا تو میری مقبولیت میں اضافہ ہو جائیگا، پی ڈی ایم کے تمام لوگ سازش میں شامل تھے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ آج سے ایک سال پہلے میں اپنی ڈائری اٹھا کر وزیر اعظم ہاؤس سے نکلا، مجھے نکالنے کے پیچھے ایک بہت بڑی سازش تھی، میرے خلاف سازش نکالنے سے ایک سال پہلے شروع ہوئی، میں مڈل ایسٹ کے ایک سربراہ کو مل رہا تھا تو اس نے مجھے سازش کے بارے بتایا جبکہ میں بڑا حیران ہوا اور میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے جب میں نے جائزہ لیا تو پھر پتا چلا کہ کس طرح کی سازش ہوئی، ایک کردار جو ماسٹر مائنڈ تھا اس کی آہستہ آہستہ سمجھ آئی. وہ میری جگہ شہباز شریف کو لانا چاہتے تھے، باجوہ کی ڈیل ہو چکی تھی، شہباز شریف کو کیسز میں سزا ہونے والی تھی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ان کو ایک سال میں اتنے بحران نہیں ملے جتنے ہمیں ملےتھے، اس حکومت کی ایک سالہ کارکردگی سب کے سامنے ہے، یہ لوگ کو رونا کے وقت حکومت میں ہوتے تو کیا کرتے؟ پاکستان ان ممالک میں تھا جنہوں نے کورونا میں بہترین کام کیا، پی ڈی ایم حکومت صرف اپنے کرپشن کیسز ختم کرنے آئی۔ سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم انتشار کیوں پھیلائیں گے ہم تو الیکشن چاہتےہیں، مجھ پر 144 کیسز بنائے گئے ہیں،غداری کا مقدمہ بھی بنایا گیا ہے، 144 میں سے 40 مقدمے دہشت گردی کے بنائے گئے ہیں، اعظم سواتی پر پوتے پوتیوں کے سامنے تشدد کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ آج ہم نے وائٹ پیپر جاری کیا ہے، وائٹ پیپر دکھانے کا مقصد ایک سال میں ہونے والی تباہی بیان کرنا ہے، ایک بند کمرے میں تھوڑے سے لوگوں نے ملک کو اس نہج پر پہنچایا، ایک سال پہلے پاکستان کہاں کھڑا تھا اور آج کہاں کھڑا ہے، 2018 میں حکومت سنبھالی تو 20 ارب ڈالر کا خسارہ تھا، ہمیں دو سال کورونا سے نمٹنے میں لگ گئے، ہم نے جیسے کورونا سے نمٹا دنیا نے اس کو تسلیم کیا۔ ہم ٹیرارزم سے ٹورازم پر آگئے تھے لیکن حالات دوبارہ خراب ہو گئے، شکر ہے ان کو تب حکومت نہیں ملی ورنہ آج ملک بالکل تباہ ہو چکا ہوتا، انہوں نے آتے ہی پہلے نیب پھر ایف آئی اے کو تباہ کیا، توشہ خانہ کیس الٹا ان پر پڑ جائے گا، انہوں نے جو گاڑیاں چوری کی ہیں وہ سامنے لے کر آئیں گے، ہمیں میڈیا سے بلیک آؤٹ کر دیا گیا، یہ کہتے ہیں کہ ہم نے میڈیا پر پابندیاں لگائیں۔

    عمران خان نے مزید کہا کہ ایک ٹویٹ پر شہباز گل اور اعظم سواتی کو برہنہ کر کے مارا گیا، روزے کی حالت میں کارکنوں پر تشدد کیا جاتا رہا، گولی لگنےکےباعث عدالت نہیں پیش ہو سکا تھا، سیکیورٹی خدشات کے باعث اسلام آباد کچہری نہیں جا سکا، ڈی آئی جی وارنٹ لے کر زمان پارک پہنچ گیا، میری ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، توشہ خانہ کیس میں ان سب کی چوری سامنے لائیں گے، مجھے سکیورٹی دینا حکومت کا کام ہے لیکن نہیں دےرہی۔ علاوہ ازیں پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ مجھے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی طرح قتل کرانے کی دھمکی دی گئی، پرویز مشرف کے مارشل لاء میں بھی اتنا ظلم نہیں دیکھا، تحریک انصاف کو کچلنے کی کوشش ہو رہی ہے، سیاسی جماعتیں ایسی نہیں کچلی جاتیں، الیکشن کے بغیر کوئی راستہ نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ
    عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ایک سال کے دوران گروتھ ریٹ 6 فیصد سے 0.4 فیصد پر آ گیا ہے، ہمارے دور میں مہنگائی بارہ فیصد تھی اب 35 فیصد پر ہے، آٹے کا بیس کلو کا تھیلا ہمارے دور میں 1200 روپے کا تھا اب 2800 روپے کا ہے، ملکی ایکسپورٹ بڑھنے کے بجائے 10 فیصد کم ہو گئی ہے، جو لندن میں بیٹھے ہیں ان کی دولت ڈالر میں ہے، ڈالرز کم آ رہے ہیں اور قرضے بڑھتے جا رہے ہیں، پوری قوم کو سوچنا چاہیے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے، ملک اداروں پر چلتا ہے، آج پارلیمنٹ کی حیثیت ختم ہو گئی ہے، نگران حکومت شفاف انتخابات کرانے کے لیے بنی تھی۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ قوم تیار ہو جائے ، الیکشن نہیں کرائے تو سڑکوں پر ہوں گے۔ اس طرح کے حرب استعمال کیے تو ہم سڑکوں پر ہوں گے، سابق وزیراعظم ایف آئی آر درج نہیں کرا سکتا۔ ایک خاتون ججز کو کھلے عام برابر بھلا کہہ رہی ہے۔ ہمارے دور میں جتنا میڈیا آزاد تھا تاریخ میں کبھی نہیں ہوا، جب سے ہماری حکومت گئی ہے تو میڈیا کو کنٹرول کیا گیا، نامعلوم افراد کی جانب سے میڈیا مالکان کو دھمکیاں دی گئیں کہ عمران خان کو بلیک آؤٹ کرو، یہ آزادی اظہار رائے سے اتنا ڈرے ہوئے ہیں کہ میڈیا پر پابندیاں لگا دی گئیں، پی ٹی آئی کے کارکنوں کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، چادر چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ دنیا میں امیج جا رہا ہے کہ پاکستان ایک بنانا ریپبلکن ہے، ہمارے دور میں تیل بہت سستا تھا، جو ہم نے تیل روس سے خریدنا تھا وہ بھارت نے معاہدہ کر لیا، راجہ ریاض کو اپوزیشن لیڈر بنا کر پارلیمنٹ کو تباہ کر دیا گیا، اعظم سواتی کو پوتے پوتیوں کے سامنے تشدد کیا پھر ننگا کر کے مارا گیا، ایک ٹویٹ کرنے پر شہباز گل اور اعظم سواتی کو نامعلوم افراد نے ننگا کر کے تشدد کیا۔ مشرف کے مارشل لا دور میں بھی کبھی ایسا ظلم نہیں دیکھا، یہ ظلم ابھی رکا نہیں، ابھی تک جاری ہے

  • لانگ مارچ حملہ کیس کے مدعی ایس ایچ او عامر بھدر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق

    لانگ مارچ حملہ کیس کے مدعی ایس ایچ او عامر بھدر دل کا دورہ پڑنے سے جاں بحق

    وزیرآباد حملہ کیس کی تفتیش میں اہم کردار اور مدعی مقدمہ ایس ایچ او عامر شہزاد انتقال کرگئے ہیں جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر وزیر آباد میں قاتلانہ حملے کے واقعے میں مقدمے کے مدعی ایس ایچ او عامر شہزاد کا انتقال ہو گیا۔ عامر شہزاد بھدر کو ہارٹ اٹیک ہوا، انھیں اسپتال لے جایا گیا تاہم دل کا دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔


    چیئرمین پی ٹی آئی پر حملہ کی ایف آئی آر عامر بھدر کی مدعیت میں ہی درج ہوئی ، پی ٹی آئی کی جانب سے ان پر حملہ کی ایف آئی آر بروقت درج نہ کرنے کا بھی الزام تھا ، عامر بھدر عمران خان پر حملے کے کیس کی تفتیش میں اہم کردار تھے۔ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان پر وزیرآباد میں جب حملہ ہوا تو عامر شہزاد ان دنوں ایس ایچ او صدر وزیر آباد تھے، عمران خان پر حملے کا مقدمہ عامر شہزاد بھدر کے بیان پر سٹی وزیر آباد تھانے میں درج کیا گیا تھا۔

    پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پر گزشتہ سال ریلی کے دوران حملہ کیا گیا تھا، تین نومبر 2022 کو وزیرآباد سے گزرتے ہوئے پی ٹی آئی کے حقیقی آزادی مارچ کے کنٹینر پر فائرنگ کے نتیجے میں عمران خان اور پی ٹی آئی رہنماؤں سمیت 14 افراد زخمی ہو گئے تھے جب کہ معظم نامی ایک شخص جاں بحق ہو گیا تھا۔

  • کابینہ اجلاس؛ وزراء نے صدر کو آئین کے پی ٹی آئی  کے مفادات کا محافظ قرار دیدیا

    کابینہ اجلاس؛ وزراء نے صدر کو آئین کے پی ٹی آئی کے مفادات کا محافظ قرار دیدیا

    وزیراعطم کی زیر صدارت کابینہ اجلاس نے صدر عارف علوی کی طرف سے سپریم کورٹ سے متعلق بل واپس بھجوانے مذمت کردی، وزراء نے صدر کو آئین اور منصب کے بجائے تحریک انصاف کے مفادات کا محافظ قرار دیا۔ ذرائع کے مطاق بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جبکہ نجی ٹی وی کے رپورٹر عثمان خان کے مطابق کابینہ نے سپریم کورٹ سے متعلق بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کروانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

    وفاقی کابینہ نے صدر عارف علوی کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھجوانے کی مذمت کردی، اجلاس میں صدر عارف علوی کے کردار پر کڑی تنقید کی گئی، وزراء نے صدر کو آئین اور منصب کے بجائے تحریک انصاف کے مفادات کا محافظ قرار دیدیا۔ کابینہ اراکین نے رائے دی کہ صدر عارف علوی کے حوالے سے حکومت سخت رویہ اختیار کرے۔ اجلاس میں پارلیمنٹ کی بالادستی یقینی بنانے کیلئے کسی بھی دباؤ میں نہ آنے کا عزم بھی کیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جاری ہے، جس میں موجودہ ملکی سیاسی اور آئینی بحران پر غور کیا جارہا ہے، شہباز شریف لاہور سے ویڈیو لنک کے ذریعے صدارت کررہے ہیں۔ تاہم بیشتر کابینہ اراکین بھی ویڈیو لنک پر اجلاس میں شریک ہیں۔ ریاض پیرزادہ، ساجد طوری، امیر مقام، مولانا عبدالواسع، وزیر مملکت توانائی ہاشم نوتیزئی وزیراعظم ہاؤس سے اجلاس میں شریک ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    وفاقی کابینہ اجلاس میں اہم قومی امور پر مشاورت کی جائے گی، کابینہ اجلاس کا ایجنڈا جاری نہیں کیا گیا تاہم آن ٹیبل فراہم کیا جائے گا، کابینہ اجلاس میں قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق بھی کی جائے گی، آئینی بحران سے نمٹنے کی حکمت عملی پر بھی مشاورت ہوگی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے جج جسٹس اطہر من اللہ کے اختلافی نوٹ کے بعد کی صورتحال پر بھی غور ہوگا جبکہ صدر کی جانب سے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر بل واپس بھیجنے کے معاملے پر بھی لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ علاوہ ازیں ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کی جانب سے موجودہ ملکی صورتحال میں سخت فیصلے کئے جانے کا امکان ہے۔

  • چینی کی افغانستان اسمگلنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی

    چینی کی افغانستان اسمگلنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی

    پنجاب میں چینی کی قیمتوں میں اضافے اور چینی کی افغانستان اسمگلنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔

    پنجاب میں چینی کی قیمتوں میں اضافے اور چینی کی افغانستان اسمگلنگ کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔ ذرائع کے مطابق اب تک 4 لاکھ ٹن چینی افغانستان اسمگل ہوچکی، چینی 25 روپے فی کلو مہنگی ہونے سے ملز کو 115 ارب کا فائدہ ہوا۔

    کین کمشنر کے تحت ہونے والی تحقیقات میں اسمگلنگ میں ملوث ملز مالکان اور ڈیلرز کا بھی پتا چلایا جائے گا جبکہ اس حوالے سے بھی تحقیقات کی جائے گی کہ چینی کون سے راستوں سے سرحد پار بھیجی گئی۔ گزشتہ چند روز میں مختلف شہروں میں چینی کی قیمت میں پچیس سے تیس روپے تک اضافہ ہوچکا، ایک کلو چینی ایک سو تیس روپے تک جاپہنچی ہے۔

    علاوہ ازیں ملک کے مختلف شہروں میں چینی کی قیمت میں اضافےکا سلسلہ جاری ہے. فیصل آباد میں ایک کلو چینی 40 روپے کے اضافے کے بعد 130 سے 135 کی ہوگئی ہے۔ حیدرآباد میں چینی کی قیمت میں 20 روپے کا اضافہ ہوا ہے، کراچی کی ہول سیل مارکیٹ میں چینی 120روپے جب کہ ریٹیل میں 130 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور
    کرشنا ابھیشیک نے اپنے ماموں گووندا اور ممانی کے ساتھ جھگڑے کی خبروں پر رد عمل دیدیا
    سورو گنگولی نغمہ کے ساتھ اپنی دوستی چھپا کر رکھنا چاہتے تھے لیکن کیا ہوا؟‌
    سعودی عرب: حسن قرات کا دنیا کا سب سے بڑا مقابلہ ایرانی قاری نے جیت لیا
    کچے کے علاقے میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن ،آئی جی پنجاب اور ڈی پی او پر فائرنگ

    پشاور میں بھی ایک ہفتے میں ایک کلو چینی25 روپےکے اضافے کے بعد 131 روپے کی ہوگئی ہے۔ جبکہ کوئٹہ میں بھی ایک کلو چینی 125 روپے اور نواحی علاقوں میں 130 روپےکلو فروخت کی جارہی ہے۔

  • ڈینو موریا سلمان خان کی جگہ لینے کے لئے بضد

    ڈینو موریا سلمان خان کی جگہ لینے کے لئے بضد

    متنازعہ ریئلٹی ٹی وی شو بگ باس ہندوستان میں سب سے زیادہ مقبول اور دیکھے جانے والے ریئلٹی شوز میں سے ایک ہے۔ یہ شو 2006 میں شروع ہوا اور گزشتہ 14 برس سے سلمان خان اس کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں. اس شو کےلئے مختلف شخصیات کو شو میں شرکت کرنے کےلئے رابطہ کیا جاتا ہے. اداکار و ماڈل ڈینو موریا کو اس شو میں بطور پارٹیسپینٹ شریک ہونے کے لئے آفر کی ، لیکن انہوں نے ہر بار آفر کو رد کر دیا. ڈینو نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ مجھے بگ باس میں بطور پارٹیسپینٹ شریک ہونے کے لئے کافی آفرز ہوئیں لیکن میں‌ نے ہر بار اس لئے انکار کیا کیونکہ میٰں نہیں‌چاہتا کہ میں بطور پارٹیسپینٹ اس شو میں شریک ہوں ،

    ہاں اگر مجھے سلمان خان کی جگہ دی جائے تو میں اس شو کا حصہ بن سکتا ہوں، انہوں نے کہا کہ ویسے بھی میری میرے کام میں‌ہی بہت زیادہ مصروفیت ہے اسلئے میں ایسا کوئی شو کر ہی نہیں سکتا. یاد رہے کہ ڈینو موریا بھارت کے معروف ماڈل ہیں ان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے فلمسازوں نے ان کو فلمیں بھی آفر کیں ان کی بےپاشا باسو کے ساتھ بڑی سکرین پر جوڑی کو بہت زیادہ سراہا گیا.تاہم کافی عرصے سے یہ بڑی سکرین سے غائب ہیں.

  • 26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور

    26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ قائم ہے شامک داور

    شامک داور بالی وڈ کے منفرد کوریوگرافر ہیں ان کی گوریوگرافی دیکھ کر ہمیشہ ہی جدت کا احساس ہوتاہے. شامک داور کے ساتھ کام کرنا بالی وڈ کی ہر دوسری سلیبرٹی کا خواب رہا ہے. حال ہی میں‌ شامک داور اور شاہ رخ خان ایک تقریب میں اکٹھے ہوئے. اس میں ان دونوں نے سٹیج شئیر کیا اور ڈانس کیا ان کی ڈانس پرفارمنس کو بہت زیادہ سراہا گیا. شامک داور نے شاہ رخ خان کے ساتھ اپنی ایک تصویر انسٹاگرام پر شئیر کی اور لکھاکہ شاہ رخ خان کے ساتھ ملنا اور پرفارم کرنا مجھے ہمیشہ ہی بہت اچھا لگتا ہے . یہ وہ فنکار ہے جس کا سحر کئی سال سے آج تک ویسے کا ویسا ہے. 26 سال کے بعد بھی شاہ رخ خان کا کرشمہ اسی کا اسی طرح ہے. ھالیہ ایونٹ کی وڈیو جس

    میں‌شامک داور ، شاہ رخ خان اور کاجول نظر آرہے ہیں ، تینوں گانا مجھ کو ہوئی نہ خبر پر ڈانس کررہے ہیں اس وڈیو کو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے ، اور یہ وڈیو کافی وائرل ہو رہی ہے.یاد رہے کہ فلم دل تو پاگل ہے کی کوریوگرافی شامک داور نے کی تھی اور اس دور میں انکی کوریو گرافی کو بہت زیادہ مقبولیت ملی تھی.

  • کاجول کی بیٹی نیسا کس کو ڈیٹ کررہی ہیں؟‌

    کاجول کی بیٹی نیسا کس کو ڈیٹ کررہی ہیں؟‌

    بالی وڈ کی معروف جوڑی کاجول اور اجے دیوگن کی 19 سالہ بیٹی نیسا دیوگن اس وقت سرخیوں میں چھائی ہوئی ہیں ، نیسا اپنے خوبصورت سٹائل اور لباس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر ڈسکس ہوتی رہتی ہیں. نیسا سوشل میڈیا پر بہت زیادہ متحرک نہیں ہیں یہاں تک کہ ان کا انسٹاگرام اکائونٹ پرائیویٹ ہے. نیسا کے بارے میں‌کہا جا رہا ہے کہ وہ آج کل ایک لڑکے کو ڈیٹ کررہی ہیں اور وہ لڑکا لندن کی مشہور کاروباری شخصیت ہے ، لڑکے کا نام ویدانت مہاجن ہے. نیسا اس کے ساتھ گھومتی پھرتی دکھائی دے رہی ہیں ، اور ان کے ساتھ ہر جگہ ان کی موجودگی اس بات

    کو ظاہر کررہی ہے کہ دونوں کے درمیان دوستی سے بڑھ کر معاملات ہیں. نیسا دیوگن کا انسٹاگرام اکائونٹ تو پرائیویٹ ہے لیکن ان کی ایک دوست کے اکائونٹ کے زریعے ان کی انکے بوائے فرینڈ کے ساتھ تصاویر دیکھی گئی ہیں‌، تصاویر کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ نیسا اور ویدنت کی دوستی کافی گہری ہے. نیسا اپنے بوائے فرینڈ کی وجہ سے سرخیوں میں تو ہیں لیکن انہون نے تاحال اس کی تردید کا تصدیق نہیں کی. جبکہ دوسری طرف کاجول کا کہنا ہےکہ نیسا میرا فخر ہے میں اسکا ہر لمحے ہر قدم ساتھ دوں گی جیسے میری ماں نے میرا ساتھ دیا تھا.