Baaghi TV

Author: +9251

  • بشریٰ بی بی کی توشہ اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں 15 نومبر تک توسیع

    بشریٰ بی بی کی توشہ اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں 15 نومبر تک توسیع

    احتساب عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی توشہ اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں 15 نومبر تک توسیع کردی ہے۔ جب کہ نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ نیب بتا چکا ہے کہ بشریٰ بی بی کی گرفتار مطلوب نہیں ہے اور اسلام آباد کی احتساب عدالت میں عمران خان کی بشریٰ بی بی کیخلاف توشہ خانہ اور 190 ملین پاؤنڈ اسکینڈل کیس میں ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیرنے سماعت کی ۔

    نیب پراسکیوٹر نے عدالت میں بیان دیا کہ بشریٰ بی بی نے تیسری بار درخواست ضمانت دائرکی ہے، جب کہ گزشتہ 2 بار ضمانتوں کی درخواست نمٹا دی گئی تھیں، اور نیب نے کہا بھی تھا کہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں، انہوں نے ایک ہی گراؤنڈ پر دربارہ درخواست ضمانت ہ دائر کردی ہے اور بشریٰ بی بی کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ بشریٰ بی بی کو کم سے کم نوٹس تو پہلے دیا جائے۔
    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور
    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    جبکہ واضح رہے کہ نیب کے تفتیشی افسر نے اپنا بیان احتساب عدالت میں جمع کروایا، جس میں کہا کہ بشریٰ بی بی کی گرفتاری مطلوب نہیں ہے اور بشریٰ بی بی کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ بشریٰ بی بی کے خلاف مقدمات بنانے کی کوشش کی جارہی جبکہ عدالت نے بشریٰ بی بی کی دونوں مقدمات میں ضمانت میں15 نومبر تک توسیع کردی اور سماعت ملتوی کردی۔

  • شاہ محمودقریشی؛  سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور

    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست ایک ساتھ سماعت کے لئے منظور کرلی ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس ٹرائل سے متعلق دستاویزات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ہے.

    واضح رہے کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ضمانت کی درخواست پر نوٹس کر دیئے تھے، اس درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں، ایف آئی آر اور چالان کی مصدقہ کاپیاں لف نہیں کی گئیں اور جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزم کا کوئی حق ختم نہ کیا جائے، سب کیلئے یہی کہا ہے کسی قاعدے قانون کے تحت ہی ٹرائل جانا ہے، درخواست پر اعتراضات دورکررہے ہیں۔

    خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس درخواست کو ضمانت کی درخواست کے ساتھ سماعت کیلئے رکھ لیں اور عدالت نے شاہ محمود کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

  • 31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش سارہ شگفتہ

    تمہیں جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    سارہ شگفتہ

    31 اکتوبر : یوم پیدائش

    سارہ شگفتہ کا شمار اردو کی جدید شاعرات میں ہوتا ہے۔ وہ 31؍اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ اردو اور پنجابی میں معتد بہ نظمیں تخلیق کیں۔ نظمیہ شاعری کے لیے انھوں نے نثری نظم کا پیرایہ اختیار کیا۔ غریب اور ان پڑھ خاندانی پس منظر کے باوجود وہ پڑھنا چاہتی تھیں مگر میٹرک بھی مکمل نہ کر سکیں۔ ان کی سوتیلی ماں، کم عمر کی شادی اور پھر مزید تین شادیوں نے انھیں سخت ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا۔ نتیجتاً انھیں دماغی امراض کے اسپتال میں داخل کیا گیا جہاں انھوں نے خودکشی کی ناکام کوشش کی۔ خود کشی کی یہ کوشش مختلف موقعوں پر چار بار دہرائی گئی۔ ان کی اردو شاعری کے مجموعے ’آنکھیں‘ اور’نیند کا رنگ‘ کے نام سے شائع ہوئے۔
    04؍جون 1984ء کو انھوں نے کراچی میں ٹرین کے نیچے آکر جان دے دی۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کے مطالعے کو ایک نئی جہت عطا کی۔ وفات کے بعد ان کی شخصیت پر پنجابی کی مشہور شاعرہ اور ناول نگار امرتا پرتیم نے ’ایک تھی سارہ‘ اور انور سن رائے نے ’ذلتوں کے اسیر‘ کے نام سے کتاب تحریر کی اور پاکستان ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کیا جس کا نام ’آسمان تک دیوار‘ تھا۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ

    منتخب شاعری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں
    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
    اور اپنا اپنا بین ہوئے
    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
    میں نے موت کے بال کھولے
    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی
    شام دوغلے رنگ سہتی رہی
    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے
    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں
    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
    سجدوں سے سر اٹھا لو
    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
    جب میرے سفید بال
    تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا
    میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
    جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
    ان کھیتوں میں
    میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
    بس پہلی بار ڈری بیٹی
    میں کتنی بار ڈری بیٹی
    ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی
    میرا جنم تو ہے بیٹی
    اور تیرا جنم تیری بیٹی
    تجھے نہلانے کی خواہش میں
    میری پوریں خون تھوکتی ہیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے
    مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو
    خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے
    میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو
    آگ کا ذائقہ چراغ ہے
    اور نیند کا ذائقہ انسان
    مجھے پتھروں جتنا کس دو
    کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو
    میں خدا کی زبان منہ میں رکھے
    کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا
    زنجیروں کی رہائی دو
    کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے
    مجھے تنہا مرنا ہے
    سو یہ آنکھیں یہ دل
    کسی خالی انسان کو دے دینا

  • پولیس پر حملہ  اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    تربت میں مسلح افراد کے حملے میں پولیس اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق ہوگئے ہیں جبکہ پولیس حکام کے مطابق تربت کے علاقے ناصر آباد پولیس تھانے کی حدود میں گزشتہ شب رات گئے نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی جس کے نیتجے میں مزدورں کی سیکورٹی پر مامور ایک پولیس اہلکار سمیت چار مزدور شہید ہوگئے علاوہ ازیں پولیس کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے حملے میں ایک مزدور شدید زخمی ہوا، لاشوں اور زخمی مزدور کو تربت اسپتال منتقل کردیا گی۔

    علاوہ ازیں بتایا گیا ہے کہ جاں بحق تمام مزدوروں کا تعلق پنجاب سے ہے، پولیس نے موقعے پر پہنچ کر علاقے کو گہرے میں لیکر ملزمان کی تلاش کے لئے سرچ آپریشن شروع کردیا اور نگراں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر علی مردان ڈومکی کا تربت میں چار مزدوروں اور ایک پولیس اہلکار کی شہادت پر اظہار افسوس کیا وزارت داخلہ و قبائلی امور سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا واقعہ قابل مذمت اور ناقابل برداشت ہے،دنیا کا کوئی مذہب دہشت گردی کی اجازت نہیں دیتا، نہتے مزدوروں کا قتل اندوہناک واقعہ ہے، ملوث عناصر کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔
    سائفرکیس؛ آج سرکاری گواہاں کے بیانات ریکارڈ ہونگے
    علی مردان ڈومکی کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی روایات تو مہمان نوازی ہے نہ کہ گھر آئے مہمان کی جان لینا، امن دشمن عناصر ہماری روایات کے بھی دشمن ہیں، نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ فرائض کی ادائیگی کے دوران بلوچستان پولیس اہلکار نے بھی جام شہادت نوش کیا، بحالی امن کے لئے سیکورٹی فورسز کے بہادر جوانوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور تمام انتظامی افسران اور سیکورٹی فورسز جائے وقوعہ پر موجود ہیں، امن دشمن عناصر کی سرکوبی کے لئے آخری حد تک جائیں گے۔

  • سائفرکیس؛   آج سرکاری گواہاں کے بیانات ریکارڈ  ہونگے

    سائفرکیس؛ آج سرکاری گواہاں کے بیانات ریکارڈ ہونگے

    آج سائفرکیس میں آج سرکاری گواہاں کے بیانات ریکارڈ کئےجائیں گے، خصوصی عدالت جج ابوالحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں سماعت کریں گے جبکہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ خصوصی عدالت میں آج سائفرکیس کی سماعت ہوگی، جج ابوالحسنات ذوالقرنین اڈیالہ جیل میں سماعت کریں گے اور سماعت کے دوران سرکاری گواہاں کے بیانات ریکارڈ کئے جائیں گے، گواہان میں نادر خان، عمران ساجد، محمد نعمان، شمعون اور فرخ عباس شامل ہیں۔

    جبکہ گزشتہ سماعت پر ہائیکورٹ کا تحریری فیصلہ نہ ہونے کے باعث بیانات ریکارڈ نہیں ہوئے تھے اور آفیشل سیکریٹ ایکٹ 1923 کے تحت قائم خصوصی عدالت نے سائفر کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی پر 23 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی تھی، جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھ کر سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، اور شاہ محمود نے اس جرم میں ان کی معاونت کی۔

  • جنگ بندی کا مطالبہ؛ برطانوی عہدیدار برطرف

    جنگ بندی کا مطالبہ؛ برطانوی عہدیدار برطرف

    غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کرنے پر برطانوی عہدیدار سرکاری عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ برطرف کیے گئے پال بریسٹو نے ایسے تبصرے کیے جو اجتماعی ذمہ داری کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتے ہیں اور گزشتہ ہفتے برطانوی وزیر اعظم رشی سونک کو لکھے گئے ایک خط میں پال بریسٹو نے کہا تھا کہ غزہ میں مستقل جنگ بندی سے زندگیاں بچیں گی اور امداد ان لوگوں تک پہنچ سکے گی جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

    علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ حکومت انسانی بنیادوں پر تعطل کی حمایت کرتی ہے لیکن مکمل جنگ بندی کی حمایت نہیں کرتی اور فیس بک پر رشی سونک کو لکھے گئے خط پوسٹ کرتے ہوئے مستعفی برطانوی عہدیدار نے لکھا تھا کہ عام فلسطینیوں کو حماس کے جرائم کی اجتماعی سزا نہیں ملنی چاہیے کیونکہ بین الاقوامی قانون کے تحت اجتماعی سزا ممنوع ہے۔

    تاہم واضح رہے کہ رشی سونک کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جنگ بندی کی حمایت کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے، رپورٹس کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں اپوزیشن ارکان کی ایک بڑی تعداد نے غزہ میں جنگ بندی کے مطالبے کی حمایت کی تاہم حکمران جماعت کی اکثریت نے اس مطالبے کو مسترد کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟
    وزیراعظم کے لمز تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ
    پاکستانی فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری انتقال کرگئے

    اس کے علاوہ اینڈی میکڈونلڈ کو لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے برطرف کردیا گیا ہے، اس حوالے سے پارٹی کا کہنا ہے کہ انہوں نے فلسطین کے حق میں نکالی گئی ایک ریلی میں تقریر کرتے ہوئے انتہائی قابل اعتراض تبصرہ کیا تھا۔

  • کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟

    کیا بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی مسلمان تھیں؟

    آج 31 اکتوبر 2023 اور وقت بھی قریب صبح کے نو بجے ہے لیکن آج ہم آپ کو اکتوبر 31، 1984 کی صبح قریب 9 بجے کے وقت آج سے ٹھیک 39 سال پہلے کا بھارتی تاریخ کا سب سے بڑا سانحہ جس میں بھارت کی پہلی خاتون وزیراعظم اندرا گاندھی کو انہی کے پراعتماد محافظ نے قتل کردیا جس پر انہیں بے انتہاء اعتماد تھا ۔ یہ کہنا ہے صحافی ملک رمضان اسرا کا جنہوں نے اپنے یوٹیوب ولاگ میں مزید کہا کہ سورج ابھر چکا تھا اور پرندے اڑان بھر چکے تھے لیکن اندرا گاندھی کو کیا پتا تھا کہ آج کے اس بدقسمت دن ان کی روح بھی پروا ز کرجائے گی؟
    https://www.youtube.com/watch?v=rCv98DXPL00&t=283s
    ملک رمضان اسراٰ مزید کہتے ہیں کہ "ہندوستان کی وزیر اعظم اندرا گاندھی ون صفدر یارجنگ روڈ پر واقع اپنی رہائش گاہ کے گیٹ سے باہر نکلتی ہیں اور پاس ہی موجود اپنے دفتر کی طرف جارہی ہوتی ہیں اس دوران وہ اپنے سیکرٹری آر کے دھاون سے باتیں کررہی ہوتی ہیں کہ ان کی نظر اچانک چائے کی ٹرے اٹھائے ایک ملازم پر پڑتی ہے جو آئے ہوئے مہمانوں کے لیے چائے لے جا رہا تھا۔ تاہم اندرا گاندھی انہیں مہمان کے لیے اسے کوئی خوبصورت ٹرے لانے کو کہا اور آگے بڑھ گئی تاہم وہ جیسے ہی گیٹ کے نزدیک گئی تو ان کے پراعتماد سکھ محافظ بینت سنگھ تیزی سے ان کی طرف لپکے اور اپنی پستول نکال کر اس کا رخ سیدھا اندرا کی طرف کرکے گولیاں چلا دی جبکہ اس دوران انہوں نے دوسرے سکھ محافظ ساتھی کو بھی آواز دی جس کا نام ستونت سنگھ تھا ن انہوں نے زمین پر گری ہوئی اندرا گاندھی پر اپنی سٹین گن کی گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔

    جبکہ اس کے بعد بینت سنگھ پنجابی میں چلایا کہ؛ اسی جو کجھ کرنڑا سی کرلیا ہنڑ تسی جو کرنڑے کرلو اور اپنے ہاترھ اوپر اٹھا لئے، اور ہتھیار پھینک کر اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس موقع بدقسمتی سے بھارتی وزیر اعظم کیلئے موجود ایمبولینس تو موقع پر موجود تھیں مگر ان کا ڈرائیور پراسرار طور غائب تھا، لیکن آر کے دھاون نے گھائل اندرا گاندھی کو ایک کار میں ڈال کر ہسپتال پہنچایا۔ آپریشن تھیٹر میں پہنچنے سے قبل ہی وہ دم توڑ چکی تھیں۔ شام چار بجے کے سرکاری اعلان میں ان کی موت کی تصدیق سے قبل ساری دنیا میں میڈیا کے ذریعے ان کی موت کی خبر پہنچ چکی تھی۔ وہ قتل ہونے والی صبح کی گزشتہ رات اڑیسہ کے دورے سے واپس آئی تھیں ۔ اور انہوں اس صبح نامور اداکار پیٹرا سٹینوف کے ساتھ عوامی دربار میں لوگوں سے ملاقات کی فلم بندی کروانی تھی اور انہیں انٹرویو دینا تھا۔

    اب یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا کہ آخر اندرا گاندھی کو اپنی ہی سکھ محافظوں نے قتل کیوں کردیا؟

    تو اس جواب یہ ہے کہ انتہا پسند سکھوں کے ہاتھوں اندرا گاندھی کی موت دراصل ان کے مذہبی مقام گولڈن ٹیمپل پر کیے جانے والے فوجی آپریشن ’بلیو سٹار‘ کا انتقام لینا تھا۔ نامور ہندوستانی صحافی کلدیپ نایر کے مطابقاس قتل سے قبل سیکیورٹی اداروں نے ان کے سکھ محافظوں کو تبدیل کرنا چاہا مگر اندرا گاندھی انہیں برقرار رکھنا چاہتی تھیں اور ان کا پر اعتماد بھی جبکہ دوسری اہم وجہ یہ تھی کہ وہ سمجھتی تھیں کہ اس طرح محافظوں کو ہٹانے سے سکھ برادری پر برا تاثر جائے گا اور سمجھا جائے گا پوری کمیونٹی سے نفرت کی جارہی ہے۔ جبکہ ان سکھ محافظوں کا تعلق موجودہ خالستان موومنٹ سے تھا جو خالستان تحریک چلا رہے ہیں آزادی خالستان کیلئے۔

    اب آتے ہیں اندرا گاندھی کی ذاتی زندگی کی طرف اور آپ کو بتاتے ہیں کہ کیا اندرا گاندھی نے ایک مسلمان سے شادی کی تھی اور کیا انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا؟

    معروف سوئڈش صحافی برٹل فوک اپنی کتاب ’فیروز خان ۔دی فارگٹن گاندھی‘ میں لکھتے ہیں کہ کمالہ جو اندرا گاندھی کی ماں تھیں نے اپنے خاوند اور بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لال نہرو سے ٹی بی کے باعث اپنی موت سے قبل کہا تھا کہ وہ اپنی بیٹی اندرا گاندھی کے مستقبل کے بارے میں کافی فکرمند ہیں اور اس حق میں بھی قطعی نہیں ہیں کہ وہ فیروز خان سے شادی کرے کیونکہ وہ اسے اپنی بیٹی کے لائق نہیں سمجھتی تھیں۔

    اندرا گاندھی کی ماتا کمالہ کا 1936 میں دہانت ہوگیا، مگر تب تک فیروز خان اور اندرا کی زندگی کافی آگے بڑھ چکی تھی۔ ادھر جواہر لال نہرو کو ان دونوں کے معاشقے کا پہلے سے علم تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ اس بات کی نوبت شادی تک بھی پہنچے گی۔ بعد ازاں دونوں نے لندن کی ایک مسجد میں جا کر شادی کرلی اور اندرا نے اپنا اسلامی نام میمونہ بیگم رکھ لیا تھا۔ لیکن نہرو خاندان کے لیے اندرا کا غیر ہندو سے شادی پر اصرار کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا۔ اس سے قبل نہرو کی بہن وجیہ لکشمی پنڈت کی ایک مسلمان کے ساتھ شادی نے بھی طوفان برپا کیا تھا۔ وہ اپنے والد کے اخبار انڈیپنڈنٹ کے ایڈیٹر سید حسین کے دام الفت میں گرفتار ہو گئی تھیں۔ دونوں نے نہرو خاندان کے علم میں لائے بغیر نہ صرف شادی کر لی بلکہ لکشمی نے اسلام بھی قبول کر لیا تھا۔

    تاہم جب جواہر لال نہرو کو اس شادی کا پتہ چلا تو وہ کافی پریشان ہوگئے کیونکہ نہرو کو فیروز خان پر نہیں بلکہ ان کے مذہب پر اعتراض تھا۔ لیکن اندرا نے بالآخر اپنے باپ کو منا لیا اور بعد میں انہوں نے فیروز خان کے ساتھ ہندوستان آکر 26 مارچ 1942 کو اپنی شادی ہندو طریقے سے کر لی جو اصل میں ہندو انتہاء پسندوں اور سیاست میں کسی قسم کی کنٹرورسی سے بچنا تھا۔ فیروز خان کا خاندانی نام فیروز خان گھندے تھا اور وہ ہندوستان کی آزادی کی تحریک میں مہاتما گاندھی کے کردار سے بہت متاثر تھے اور انہیں اپنا آئیڈیل مانتے تھے۔گاندھی بھی ان کی بہت قدر کرتے تھے۔

    ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ اگر مجھے فیروز خان کی طرح کے سات افراد مل جائیں تو ہندوستان سات روز میں آزاد ہو جائے۔ فیروز خان جو پہلے اپنا خاندانی نام گندھے استعمال کرتے تھے، انہوں نے محبت میں گاندھے کو گاندھی سے بدل دیا۔ بعض مؤرخین کہتے ہیں کہ نہرو نے ان کی مذہبی شناخت کو چھپانے کے لیے انہیں مجبور کیا کہ وہ اپنے نام کے ساتھ لفظ گاندھی لکھیں۔ اس طرح شادی کے بعد اندرا کے نام کے ساتھ بھی لفظ گاندھی آ گیا۔ یہاں یہ بات بھی بتانا ضروری ہے کہ اندرا کے نام کے لاحقے ’گاندھی‘ سے عموماً یہ سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے موہن کرم چند گاندھی سے عقیدت کی وجہ سے اسے اپنے نام کا حصہ بنایا مگر حقیقت اس کے برخلاف ہے۔ اس کی نسبت اندرا کے شوہر فیروز گاندھے کی وجہ تھی جو خود بھی بعد میں فروز گاندھی بن گئے۔

    کتاب پرسنز ، پیشنز اینڈ پالیٹکس‘ کے مصنف یونس خان نے دعویٰ کیا ہے کہ سنجے جو اندرا کے بیٹے ہیں کے ختنے ہوئے تھے اور ظاہر ہے کہ یہ ایک مسلم روایات کا خاصا ہے۔
    شادی کے بعد فیروز خان، جواہر لال نہرو کے اخبار ’دی نیشنل ہیرالڈ‘ کے ایم ڈی بن گئے۔آزادی کے بعد 1950 سے 1952 کے درمیان وہ صوبائی اسمبلی کے رکن نامزد ہوئے۔ 1952 میں جب بھارت میں پہلے عام انتخابات ہوئے تو وہ رائے بریلی اتر پردیش سے لوک سبھا کے ممبر بھی منتخب ہو گئے۔

    اس الیکشن مہم میں اندرا گاندھی نے خصوصی طور پر دہلی سے جاکر ان کی الیکشن مہم میں حصہ لیا تھا۔ منتخب ہونے کے بعد انہوں نے کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی اور معروف بینکر رام کشن ڈالمیا کا پردہ چاک کیا تھا جبکہ 1957 میں جب وہ دوبارہ منتخب ہوئے تو انہوں نے حکومتی انشورنس کمپنی میں مالی بے ضابطگیوں پر آواز اٹھائی جس کی وجہ سے نہرو حکومت کی شفافیت نہ صرف سوالیہ نشان بن گئی بلکہ ان کے وزیر خزانہ کو مستعفی بھی ہونا پڑا۔ اب اس کے بعد یہیں سے ان کی اور نہرو خاندان کے چپقلش کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں۔

    1958 میں فیروز خان کو دل کو دورہ پڑا۔ اندرا گاندھی اس وقت اپنے والد کے ساتھ وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ میں قیام پذیر تھیں۔لیکن انہیں جب فیروز خان کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنے والد کے ساتھ بھوٹان کے دورے پر تھیں، وہ وہاں سے واپس آئیں اور فیروز خان کو لے کر کشمیر چلی گئیں تاہم 1960 میں انہیں دل کا دورا پڑا اور وہ دہلی کے ایک ہسپتال میں انتقال کر گئے۔

    فروز خان گاندھے یا گاندھی کی وفات کے چھ سال بعد اندرا بھارت کی وزیراعظم بن گئیں۔ رائے بریلی کی وہ سیٹ جس سے وہ الیکشن لڑا کرتے تھے، بعد میں اسی حلقے سے راجیو گاندھی کی بیوی اور ان کی بہو سونیا گاندھی نے الیکشن لڑنا شروع کردیا۔ فیروز خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر ان کی شادی اندرا سے نہ بھی ہوتی اور زندگی ان کے ساتھ وفا کرتی تو وہ بھارت کے صدر یا وزیراعظم بنتے کیونکہ ان کی صلاحیتوں سے خود نہرو بھی خائف رہتے تھے۔

    ہندوستان چھوڑ دو‘ تحریک کے دنوں میں جب دونوں کی شادی کو ابھی چھ ماہ بھی نہیں ہوئے تھے کہ اگست 1942 میں انہیں گرفتار کرکے ایک سال کے لیے جیل میں ڈال دیا گیا۔ اس کے بعد ان کے دو بیٹے راجیو اور سنجے 1944 اور 1946 میں پیدا ہوئے۔معروف بھارتی سکالر کے این راؤ اپنی کتاب ’دی نہرو ڈائنسٹی‘ میں لکھتے ہیں کہ ’راجیو گاندھی کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد اندرا گاندھی کے اپنے شوہر فیروز خان سے تعلقات کشیدہ ہو گئے اور دونوں الگ الگ رہنے لگے لیکن باقاعدہ طلاق بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس دوران اندرا حاملہ ہوئی اور سنجے پیدا ہوا گیا.

    این کے راؤ اپنی کتاب میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سنجے گاندھی فیروز خان کا بیٹا نہیں تھا بلکہ ایک اور مسلمان یونس خان کا بیٹا تھا، جو پیشے کے لحاظ سے سفارت کار تھے اور انہوں نے اندرا گاندھی کے ساتھ ناجائز تعلقات پیدا کرلیے تھے۔ بعد میں وہ اندرا گاندھی کے مشیر بھی رہے۔ این کے راؤ: مزید لکھتے ہیں کہ اندرا گاندھی اپنے باپ نہرو کی طرح دل پھینک عاشقہ تھیں۔ فیروز خان سے اگرچہ انہوں نے اپنی پسند کی شادی کی تھی اور وہ لندن میں فیروز خان کے ساتھ گزرے اپنے ایام کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتی تھیں لیکن اپنی ذات میں جابرانہ مزاج کی وجہ سے ان کی کسی سے بن نہیں پاتی تھی۔ لہذا فیروز خان نے جب دیکھا کہ ان کی حیثیت ایک نوکر جیسی ہے جبکہ ہندو دھرم میں خاوند کو دیوتا جیسا رتبہ حاصل ہوتا ہے تو وہ خود ہی الگ ہوگئے۔

  • امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر کو چاقو مار کر قتل کردیا گیا

    امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر کو چاقو مار کر قتل کردیا گیا

    امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر طلعت جہاں کو ہیوسٹن میں چاقو مار کر قتل کردیا گیا ہے اور میڈیا رپورٹس کے مطابق52 سالہ ڈاکٹر طلعت جہاں خان کو ہفتے کی دوپہر امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں اُن کی رہائشی بلڈنگ میں چاقو بردار حملہ آور نے قتل کیا گیا جبکہ حملہ آور نے ڈاکٹر طلعت خان پر متعدد وار کیے اور وہ زخمیوں کی تاب نہ لاکر چل بسیں۔ ابتدائی تحقیقات میں قتل کی وجوہات معلوم نہ ہوسکیں۔

    تاہم بعد ازاں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے امریکا میں پاکستانی نژاد ڈاکٹر طلعت جہاں خان کو قتل کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا جبکہ میڈیا رپورٹس کے مطابق 24 سالہ حملہ آور سفید فام مائلز جوزف فرِیڈ رِیش پر قتل کا فردِ جرم بھی عائد کر دیا گیا ہے تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کی وجہ جاننے کے لیے تفتیش جاری ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وزیراعظم کے لمز تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ
    پاکستانی فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری انتقال کرگئے
    ڈاکٹر طلعت کے رشتہ داروں کو کہنا ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے ملزم کو کبھی نہیں دیکھا، وہ رواں سال جولائی میں واشنگٹن سے ٹیکساس منتقل ہوئی تھیں۔

  • وزیراعظم کے لمز  تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ

    وزیراعظم کے لمز تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ

    وزیراعظم صاحب ! ہم اپنی کلاسز چھوڑ کر طلباء ، پروفیسرز آپکا انتظار کر رہے تھے اور آپ 50 منٹ تاخیر سے آئے ہیں، میں اس بات پر شرمندہ ہوں کے میرے وزیراعظم کو علم عزت نہیں- لمز یونیورسٹی میں دیر سے آنے پر نوجوان کا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے شکوہ کرڈالا جبکہ واضح رہے کہ آج لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے طالب علموں کے ساتھ خصوصی نشست میں شریک ہوئے ہیں.


    جبکہ اس موقع پر نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر نے کہا کہ نگراں حکومت کا قیام آئینی طریقے سے عمل میں آیا ہے اور الیکشن کی تاریخ دینا نگراں حکومت کا نہیں، الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، نگران حکومت کا کام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہے، ہم اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

    معیشت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح انتہائی کم ہے، لوگوں کی اکثریت ٹیکس دینا گوارہ نہیں کرتی، اگر 40 فیصد لوگ بھی ٹیکس دینا شروع کر دیں تو بلوچستان سمیت ملک بھر کی محرمیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے اور ترقیاتی منصوبے آگے بڑھ سکتے ہیں اور انوار الحق کاکڑ نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک میں آپ ٹیکس دیے بغیر وہاں ایک دن بھی نہیں رہ سکتے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تعصبات سے بالاتر ہو کر ہمیں قومی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنا ہو گا، انسان غلطیوں سے ہی سبق سیکھتا ہے. وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے یہ بھی کہا کہ ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے جدو جہد کرنا پڑتی ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ابھی تک لوگ لسانیت اور فرقہ واریت کا شکار ہو کر ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کے بھیانک نتائچ پورے معاشرے کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا
    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ اور اثاثہ ہیں مگر عسکریت پسندوں نے بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدرسوں اور تعلیمی درسگاہوں میں نصابی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کے لیے بھی قانون سازی کی گئی ہے۔ نگراں وزیر اعظم نے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے اس لئے صحیح اور غلط کے درمیان فرق آپ نے خود کرنا ہے۔

  • پاکستانی فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری انتقال کرگئے

    پاکستانی فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری انتقال کرگئے

    پاکستان فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے ہیں اور فلم انڈسٹری کے سینئر ڈائریکٹر حسن عسکری شیخ زید اسپتال میں زیر علاج تھے، وہ پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھے جبکہ واضح رہے کہ نگران وزیر اعلی پنجاب محسن نقوی کا معروف فلم ڈائریکٹر و رائٹر حسن عسکری کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

    وزیر اعلی محسن نقوی کا سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالٰی مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے، واضح رہے کہ حسن عسکری کا شمار پاکستان فلم انڈسٹری کے لیجنڈری ہدایت کاروں میں ہوتا ہے، انہوں نے بے شمار سپرہٹ فلمیں تخلیق کیں، 1975 میں ریلیز ہونے والی ان کی فلم وحشی جٹ نے جہاں ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کی تھی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا
    بلاول بھٹو زرداری 15 نومبر سے خیبرپختونخوا کا دورہ کرینگے
    حسن عسکری کی اہم فلموں میں تیرے پیار میں، عبد اللہ دی گریٹ، جنت کی تلاش، دل کسی کا دوست نہیں، اچھا شوکر والا، شیر دل، میلہ، دوریاں، تلاش، اک دوجے کیلیے، طوفان، جٹ دا کھڑاک، ہیرا اور خون پسینہ شامل ہیں۔