Baaghi TV

Author: +9251

  • اسلام آباد :فرشتہ قتل کیس چار پولیس اہلکار برطرف ،نااہلی کے مرتکب قرار پائے

    اسلام آباد :فرشتہ قتل کیس چار پولیس اہلکار برطرف ،نااہلی کے مرتکب قرار پائے

    اسلام آباد:فرشتہ گل نامہ بچی کے اغوا اور پھر قتل کے واقعہ پر جس طرح پولیس اہلکاروں نے سستی اور نااہلی کا مظاہرہ کیا اعلیٰ حکام کی طرف سے برطرفی کا پروانہ بھی ان پولیس اہلکاروں کے حصہ میں آیا .ڈی آئی جی نے ایک بیان میں یہ تسلیم کیا ہے کہ یہ اہلکار نااہلی کا مرتکب ہوئے ہیں اس نااہلی کی سزایہی ہے کہ ایسے غیر ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو قرار واقعی سزا دی جائے .انہوں نے کہا کہ پہلے ان کو نوکریوں سے برطرف کیا گیا ہے بعد ازاں ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی

    یاد رہے کہ فرشتہ گل قتل کیس میں والدین نے بار بار پولیس کو اپنی بے بسی کی درخواست دی لیکن پولیس اہلکاروں فرشتہ گل کے باپ کی ایک ناں سنی .جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فرشتہ گل کو اغوا کرنے والے کو موقع مل گیا جس کی وجہ سے اس ننھی کا قتل ہو گیا.

  • پاکستان میں مجھے محبت اور پزیرائی ملی ہے ہمیشہ یاد رہے گا.اشرف غنی

    پاکستان میں مجھے محبت اور پزیرائی ملی ہے ہمیشہ یاد رہے گا.اشرف غنی

    لاہور:پاکستان میں مجھے بہت محبت اور پزیرائی ملی ہے میں اسے ہمیشہ یاد رکھوں گا.پاکستان اور افغانستان کے حالات میں بہتری کی امید ہے دونوں ہمسایہ ممالک ہیں اچھے تعلقات کی توقع ہے .ان خیالات کا اظہار افغانستان کے صدر اشرف غنی نے وزیر اعلیٰ پنجاب بزدار سے ایک ملاقات میں کیا .وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے اس موقع پر افغان صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لاہور میں آپ کی میزبانی کر کے دلی خوشی ہوئی ہے اور آپ کا دورہ پاک افغان تعلقات کو نئی جہت دے گا۔

    اشرف غنی نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان برادرانہ ملک ہیں اور ہماری قدریں مشترک ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے دور میں پاک افغان تعلقات میں بہت بہتری آئی ہے۔وزیر اعلی عثمان بزدار نے افغان صدر اشرف غنی کو ان کے دورہ لاہور کی تصویروں کی البم پیش کی ،افغان صدر اشرف غنی نے البم کی تمام تصاویر دیکھیں،اُنہوں نے اپنے دورے کی تصاویر دیکھ کر مسرت کا اظہارکیا اور کہا کہ لاہور میں مجھے بہت پذیرائی اور محبت ملی۔

    افغان صدر اشرف غنی نے لاہور میں شاندار مہمان نوازی پر وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا شکریہ اداکیااور کہا کہ یہ البم میرے لئے یاد گار ہے، آپ کی ٹیم نے بہت محنت سے البم تیار کی ہے،افغان صدر اشرف غنی نے کہا کہ لاہور سے خوشگوار یادیں لے کر جا رہا ہوں۔

  • اشرف غنی: زلمی شرٹ ، زلمی بیٹ ،دوطرفہ کرکٹ سیریز کی خواہش کردی

    اشرف غنی: زلمی شرٹ ، زلمی بیٹ ،دوطرفہ کرکٹ سیریز کی خواہش کردی

    پشاور:افغانستان کے صدر اشرف غنی سے پشاور زلمی کی ملاقات .پاکستان کے دورے پر آئے افغان صدر اشرف غنی اور پشاور زلمی کے چیئر مین جاوید آفریدی میں ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات کے دوران جاوید آفریدی نے پشاور زلمی شرٹ اور زلمی بیٹ افغان صدر اشرف غنی کو پیش کیا۔ جسے بعد میں افغان صدر نے پشاور زلمی کی شرٹ زیب تن بھی کی۔اس موقع پر افغان صدر اشرف غنی کا جاوید سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان دو طرفہ کرکٹ سیریز جلد ہو گی۔

    تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی زلمی پشاور کی شرٹ پہنے اور ہاتھ میں بیٹ تھامے بڑے خوش دکھائی دے رہے ہیں. اس موقع پر موجود دوسرےشرکا نے بھی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے تالیاں بجائیں اور پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالات بہتر ہونے کی امید کا بھی اظہار بھی کیا

  • راولپنڈی بچے پر تشدد کا معاملہ,وفاق المدارس نے مدرسہ سے الحاق ختم کردیا

    راولپنڈی بچے پر تشدد کا معاملہ,وفاق المدارس نے مدرسہ سے الحاق ختم کردیا

    راولپنڈی :وفاق المدارس نے بچے پر تشدد کی اطلاع ملتے ہی مدرسہ کا الحاق ختم کر دیا,تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئ, تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کے ایک مدرسہ میں طالبعلم پر تشدد کا وفاق المدارس نے سخت نوٹس لے لیا,مدرسہ کا الحاق فی الفور ختم کردیاگیا,وفاق المدارس نے مقامی علماء کرام پر مشتمل تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی-ناظم دفتر وفاق المدارس مولانا عبدالمجید نے واضح کیا کہ وفاق المدارس کی طرف سے بچوں پر تشدد اور مار پیٹ کی سختی سے ممانعت ہے اور مار پیٹ کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے-انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ افسوس ناک ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے-انہوں نے کہا کہ ملک بھر کے مدارس میں سے کسی کے بارے میں بھی کوئ شکایت موصول ہو تو تحقیق کے بعد سخت تادیبی کارروائی کی جاتی ہے.

  • معاشی صورت حال مشکل فیصلے ،مستقبل میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے ،آرمی چیف جنرل باجوہ

    معاشی صورت حال مشکل فیصلے ،مستقبل میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے ،آرمی چیف جنرل باجوہ

    اسلام آباد:پاکستان اس وقت معاشی مشکلات سے دوچار ہے ،معاشی بہتری کے لیے فوج بھی کردار ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی اسلام آباد کی نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی میں معیشت کے حوالے سے جمعہ کو منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ معاشی خودمختاری کے بغیر کسی قسم کی خودمختاری ممکن نہیں۔

    فوج کے تعلقات عامہ کی پریس ریلیزکہا گیا ہے کہ اس سیمینارمیں آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ لینے سے انکار کیا ’اور یہ واحد قدم نہیں جو ہم معیشت کی بہتری کے لیے اٹھا رہے ہیں۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے مطابق مالیاتی بدانتظامی کے باعث پاکستان مشکل معاشی حالات کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتیں اس حوالے سے تامل کا شکار رہیں.انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے دور رس فوائد کے لیے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے ہیں اور ہم بھی اقدامات کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔

    آرمی چیف نے کہا کہ مشکل وقت میں کوئی فرد تنہا کامیاب نہیں ہو سکتا اس کے لیے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے.انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے مشکل فیصلوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے ہم سب کو کردار ادا کرنا چاہیے۔
    ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ دوسرے ممالک نے بھی ایسے ہی چیلنجز کا سامنا کیا اور وہ مشکل فیصلوں کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔ ’ہم بھی انشااللہ ان چیلنجز کو عبور کرنے میں کامیاب ہوں گے‘۔

  • سربیا :گدھی کے دودھ سےپنیرتیار:1 کلوگرام 1لاکھ 85 ہزار کا

    سربیا :گدھی کے دودھ سےپنیرتیار:1 کلوگرام 1لاکھ 85 ہزار کا

    سربیا :ویسے تو دنیا بھر میں پنیر کو بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے .پنیر بہت سارے لوگوں کی مرغوب غذا ہے لیکن سربیا میں جو پنیر دستیاب ہے اس کی قیمت سن کر پنیر کے شوقین لوگوں کے ہوش اڑ جا ئیں گے۔ جی ہاں صرف ایک لاکھ 85 ہزار روپے میں ایک کلوگرام پنیرملتا ہے۔ یہ پنیر گدھی کے دودھ سے تیار کیا جاتا ہے۔ سربیین باشندے سلو بودان سیمک نے ایک انٹرویوکے دوران خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ سفید رنگ کا پنیر نہ صرف گاڑھا اور ذائقے میں بھرپوربلکہ صحت کے لیے بھی مفید ہوتا ہے۔

    اس پنیر کی قیمت 1130 ڈالر فی کلو ہے جو کہ اسے دنیا کی مہنگے ترین پنیروں میں سے ایک بناتا ہے۔
    سیمک اور ان کے ساتھی کسان 2012 سے اس پنیر کی تیاری کے لیے شمالی سربیا میں واقع جنگلی حیات کے ایک پارک میں پالی گئی 200 گدھیوں کا دودھ دوہتے ہیں۔گدھی کے دودھ کی خصوصیات انسانی دودھ سے ملتی جلتی ہیں اورسیمک کے مطابق یہ کئی بیماریوں بشمول دمہ اور پھیپھڑو کے ورم کے لیے مفید ہے۔سیمک کا کہنا ہے کہ ایک شیرخوار بچہ پیدائش کے پہلے دن سے اس دودھ کو بغیر کچھ ملائے پی سکتا ہے۔ سیمک اسے ’قدرت کا عجوبہ‘ کہتے ہیں۔

    اگرچہ گدھی کے دودھ کے حوالے سے سائنسی تحقیق کی کمی کے باعث خصوصیات کے بارے میں صیحح معلومات نہیں لیکن دودھ میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہے اوراقوام متحدہ نے اسے گائے کے دودھ سے الرجک لوگوں کے لیے ایک اچھا متبادل تسلیم کیا ہے۔سربیا کے اس فارم میں گدھی کے دودھ سے صابن اور شراب بھی بنائی جاتی ہے۔

    سیمک کے مطابق مقصد ’بلکان‘ گدھوں کی نسل کا تحفظ بھی ہے۔ خیال رہے کہ گدھی کے پنیر کے حوالے سے 2012 میں اس وقت سرخیاں بنیں جب میڈیا میں یہ خبریں آئیں کہ مشہور ٹینس سٹار کووچ نے اس پنیر کا سالانہ آرڈر دیا۔ تاہم انہوں نے ان خبروں کی تردید کی تھی۔

  • تبدیلی کا کیک اور آدھی روٹی ۔۔ ایاز خان

    ایک ملک میں انہتائی کرپٹ حکمرانوں کی حکومت تھی ۔ اوپر سے لے کر نیچے تک رشوت کا بازار گرم تھا ۔ غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہوتے جاتے تھے ۔ لوگ روکھی سوکھی روٹی پر گزارہ کرتے تھے ۔۔ عوام جتنا کماتے سب خرچ ہوجاتا۔بلکہ مقروض رہتے ۔
    وہاں ایک شخص جس نے ساری عمر کھیل کود میں گزاری تھی اور اچھا خاصا کھاتا پیتا تھا۔۔لوگوں کی حالت اور حکمرانوں کی بے حسی پر کُڑھتا رہتا تھا۔۔پھر اس نے سوچا کیوں نہ خود بادشاہ بن کر لوگوں کو غربت سے نکالا جائے اور اور کرپٹ اور ظالم حکمرانوں سے جان چھڑائی جائے ۔ ۔اورپھر اُس نے لوگوں کو قائل کرنا شروع کردیاکہ وہ انہیں ظالم حکمرانوں سے نجات دلائے گا۔۔جو دولت ان حکمرانون نے لوٹی ہے وہ واپس لا ئے گا ۔۔اور لوگوں اور غذائیت کی کمی کے شکاربچوں کو روٹی کی جگہ کیک کھانے کو دے گا ۔پھر کیا تھا کہ لوگوں نے اس شخص کی بات پر یقین کرلیا۔اور کرپٹ حکمرانوں کو ہٹا کر اُسے حکمرانی دے دی گئی جب وہ شخص حکمران بنا تو کیادیکھتاہے کہ خزانہ تو خالی ہے بلکہ ملک کا دیوالیہ نکلا ہواہے۔
    پھر کیا تھا کہ سابقہ کرپٹ حکمرانوں پر مقدمات بنے اور انہیں جیل میں ڈالا گیاکہ لوٹی دولت واپس دو۔۔مگر نہ دولت واپس آئی اور نہ ہی خزانہ بھرا۔۔ نئے حکمران نے اپنے وزیروں مشیروں کے ساتھ سر جوڑ لیا۔کچھ نے مشورہ دیا کہ دوست ملکوں سے قرض لیا جائے ۔او ر خزانہ بھر ا جائے تاکہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک مل سکیں ۔۔نیا حکمران کبھی اس ملک بھاگا کبھی اُس ملک بھاگا۔۔کچھ ادھر سے لیا کچھ اُدھر سے لیا ۔۔مگر خزانہ بھر نا تو دور کی بات ۔کاروبار حکومت چلانا مشکل ہوگیا۔۔پھر کیا تھا کہ فیصلہ کیاگیاکہ اُس آدمی کو لایا جائے جو پہلے حکمرانوں کو بھاری سود پر ر قم کا بندوبست کر کہ دیتاتھا۔اگرچہ نئے حکمران نے عوام سے وعدہ کیا تھاکہ ۔وہ خود کُشی کرلے گا لیکن ایسے کام کبھی نہیں کرے گا جو پہلے والے حکمران کرتے آئے ہیں ۔۔مگر اُس نے تو عوام کو روٹی کی جگہ کیک کھلانے تھے ۔اس عظیم مقصد کے لےے اُس نے بھاری سود اور شرطوں سے بھرپور قرض بھی لے لیا۔۔لیکن حالات پھر بھی قابو میں نہیں آرہے تھے ۔۔کیونکہ خزانہ تھا کہ جتنا مرضی ڈالے جاﺅ بھر تاہی نہیں تھا ۔اور قرض تھا کہ آسمانوں کو چھونے لگا۔۔نئے حکمران نے بڑے بڑے معاشی پنڈت بلا لیے ۔۔اور اُن کے سامنے اپنا مدعا رکھا کہ عوام کو روٹی کی جگہ کیک کیسے کھلایا جائے ۔کیونکہ ان حالات میں تو ممکن نہیں ۔

    فیصلہ کیا گیا کہ لگان اتنا بڑھا دیاجائے کہ خزانہ بڑھ جائے اور کیک کی فیکٹریاں لگ سکیں ۔اور پھر فیصلے پر عملدرآمد شروع ہوا۔۔ پھر کیا تھا کہ ہر کمانے والے پر جو پہلے ہی طرح طرح کے تاوان دیتاتھا۔نئے نئے لگان لگادیے گئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ جو چار روٹیاں کھاتا تھا ۔مہنگائی بڑھنے اور تاوان کٹنے سے دو روٹیوں پر آگیا۔۔جو دو روٹیاں کھاتا تھاایک ۔۔اور جو ایک روٹی کھاتا تھا ۔اسے مجبور کردیاگیاکہ وہ آدھی روٹی کھائے ۔۔۔رہی بات آدھی اور چوتھائی کھانے والوں کی تو انہیں بھی دو دو تین تین نوالے لگان میں دینے کا کہہ دیا گیا۔۔تاکہ ۔ اُن کے لیے کیک کا بندوبست ہوسکے ۔۔ اُن میں سے ایک مشیر ایسا بھی تھا جو سامنے تو نہیں آتا تھا لیکن فیصلے وہی کرتا تھا کہ کس وزیر کو لگانا ہے اور کسے ہٹانا ہے ۔اس مشیر کا چینی کا دھندہ تھااور چونکہ کیک بغیر چینی کے مکمل نہیں ہوسکتا تو مشیر نے کہا کہ اتنے کیک بنانے کے لیے بہت زیادہ چینی درکار ہوگی ۔اور لوگ سستے داموں چینی لے کر کھا جاتے ہیں ۔۔اس لیے اگر چینی پر بھی تاوان لگا دیا جائے تو اتنے پیسے اکٹھے ہوجائیں گے کہ مستقبل میں کیک بنانے کے لےے چینی وافر مقدار میں موجود ہوگی اور ضرورت پڑنے پر ان پیسوں سے درآمد بھی کی جاسکے گی ۔۔پھر کیا ہوا کہ چینی پر بھی لگان لگا دیاگیااور عوام کے بچوں کو جو پانی میں قطرہ بھر دودھ ڈال کر چینی ملا کر پلا یا جاتا تھا ۔۔وہ بھی ممکن نہ رہا۔۔۔حالات زرہ خراب ہوئے تو صنعتکاروں اور کاروباری حضرات جن کے منافعے زرہ کم ہوئے تو ۔انہوں نے مزدور نکالنے شروع کردےے ۔بچ جانے والوں کو کہا جانے لگا کہ دو دو تین تین لوگوں کا کام ایک کو کرنا پڑے گا اور وہ بھی آدھی تنخواہ پرجب عوام میں بے روزگاری اور بے چینی بڑھی تو ملک کا حکمران آئے روز مجمع لگاتا ۔اور لوگوں کو کہتا کہ وہ ےہ سب اس لےے کررہا ہے تاکہ عوام روٹی کی بجائے ”کیک “ کھاسکیں اور بچوں کی نشو و نما اچھی ہوسکے ۔۔انہیں ےہ کچھ عرصہ برداشت کرنا پڑے گا۔۔اور کہتا کہ میں نے خود بھی محل میں رہنا چھوڑ دیاہے ۔۔اور اپنے خرچے پر ایک چھوٹے سے گھر میں رہتاہوں ۔اس لےے صبر کریں ۔اور لگان دیں ۔
    مگر ےہ جھوٹے دلاسوں سے عوام کے پیٹ کہاں بھرتے ہیں اور ۔اور پھر کیا ”کیک “ کے انتظار میں لوگ کب تک آدھی روٹی پر گزارہ کریں ؟۔۔پھر کیا تھا کہ وہی کرپٹ حکمران جنہوں نے عوام کو بس روٹی تک محدود کر رکھا تھا اور عوام میں اُنکی جگہ نیا حکمران لابٹھایا ، نئے حکمران کے خلاف اکٹھے ہو نا شروع ہوگئے ۔اور عوام کو کہنے لگے ۔۔”دیکھا ہم تمھیں روٹی تو دیتے تھے ۔۔۔اس نئے حکمران نے تو تمھاری روٹی بھی آدھی کردی “۔۔۔اور پھر وہ سارے کرپٹ ملکر نئے حکمران کو ہٹانے کی کوشش میں لگ گئے ۔۔اور ساتھ ہی حکومت کو معیشت کو ٹھیک کرنے کے لےے معاہدوں کی پیشکش بھی کرنے لگے ۔۔۔۔
    کہانی ابھی جاری ہے !

  • ملک ریاض پھر منظر عام پر ،بزنس مین کا خوف ختم کرنا ہوگا،معیشت کے لیے تجاویز

    ملک ریاض پھر منظر عام پر ،بزنس مین کا خوف ختم کرنا ہوگا،معیشت کے لیے تجاویز

    اسلام آباد:پاکستان کی معروف کاروباری شخصیت اور بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض کافی عرصہ ملکی منظر نامے سے غائب رہنے کے بعد اچانک اس وقت منظر عام پر آگئے جب ملک میں معاشی صورت حال سے نبٹنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت طرح طرح کے منصوبے منظر عام پر لا رہے ہیں.معروف بزنس مین بحریہ ٹاون کے مالک ملک ریاض نے حکومت کو تجویز دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ پہلے وہ بزنس مین کا خوف ختم کرے .جب تک بزنس مین خوف میں رہے گا وہ بالکل سرمایہ کاری نہیں کرے گا.

    ملک ریاض نے کہا کہ کاروباری کمیونٹی کو عزت دینا ہوگی .اگر کوئی ان سے متعلق معاملات ہیں تو ان کیمرہ ان کو آگاہ کرنا چاہیے .لطی پرایف آئی اے اورنیب "ان کیمرا”بات کرے .ملک ریاض نے حکومت کو مشورہ دیا کہ بزنس مین سے مجموعی ٹیکس لے لیں انکم ٹیکس نہ لیا جائے تو بہتر ہے.

    ملک ریاض نے تجویز دی کہ اگر اس ملک کی معاشی اور معاشرتی صورت حال بہتر کرنا چاہتے ہیں تو تعلیم اورصحت کاروباری طبقے کے حوالے کئےجائیں .ملک ریاض نے حکومت کو ایک اور تجویز دی کہ حکومت کو چاہیے کہ حکومت گھی ،آٹا،چاول اورچینی کیلئےراشن سسٹم شروع کرے اس سے ملک میں غربت کے حوالے حکومت کو معاملات بہتر کرنے میں مدد ملےگی

  • پاکستان کے خلاف بیان دینے سے انکار ،ہمارا پڑوسی ملک ہے ،کپتان افغان گلبدین نائب

    پاکستان کے خلاف بیان دینے سے انکار ،ہمارا پڑوسی ملک ہے ،کپتان افغان گلبدین نائب

    ہیڈنگلے :پاکستان کے خلاف صحافی کا افغان کرکٹ ٹیم کے کپتان گلبدین نائب سے کوئی بیان لینے کا منصوبہ ناکام ،افغان کپتان گلبدین نائب کا پاکستان کے خلاف جارحانہ بیان دینے سے نہ صرف گریزکیا بلکہ پاکستان سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کرکٹ کھیلنا چاہتے ہیں. تاکہ ہمارا ملک دوبارہ اپنے پاوں پر کھڑا ہوسکے.گلبدین نے کہا کہ اس وقت ملک حالت جنگ میں ہے لیکن اس کے باوجود نوجوان نسل کے لیے کرکٹ بہت کچھ ہے.

    پریس کانفرنس میں افغان کپتان گلبدین نائب نے اعتراف کیا کہ پاکستان ہمارا پڑوسی ہے اور ہم پاکستان میں کرکٹ کھیلتے رہے ہیں لیکن ہمارا ملک گزشتہ 45 سالوں سے کشیدہ صورتحال سے گزر رہا ہے، ملک حالت جنگ میں ہے لیکن اس کے باوجود آج کی نوجوان نسل کے لیے کرکٹ بہت کچھ ہے۔افغان کپتان نے کہا کہ نوجوان کرکٹ سے بڑھ کر دیگر شعبوں میں ملک کے لیے کچھ کر دکھانا چاہتے ہیں تاکہ ہمارا ملک دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہےکہ پاکستان کے ساتھ زیادہ سے زیادہ کرکٹ کھیلی جائے۔پاکستان کرکٹ ٹیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس بابر اعظم اور حارث سہیل جیسے میچ ونر ہیں لیکن ہم کسی ایک کھلاڑی کو ٹارگٹ نہیں کر رہے،کوشش کریں گے کہ ٹورنامنٹ کا اختتام اچھے انداز میں جیت کے ساتھ کریں۔گلبدین نے کہا کہ بلا شبہ پاکستان کی ٹیم بلاشبہ اچھی ٹیم ہے لیکن ہمارے پاس راشد خان جیسا بولر ہے جو اپنے دن دنیا کی کسی بھی بیٹنگ لائن کو تہس نہس کر سکتا ہے۔

    یاد رہے کہ جمعہ کو پریکٹس سیشن کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے ہیڈنگلے میں نماز جمعہ کی امامت کی۔ ان کی امامت میں افغان کرکٹرز نے بھی نماز جمعہ ادا کی۔ سرفراز احمد حافظ قران ہیں اور باقاعدگی سے نماز پڑھاتے ہیں۔

    xADVERTISEMENT

  • ریچھ کے حملے سے زخمی روسی شخص کی  ایک ماہ تک موت سے لڑائی

    ریچھ کے حملے سے زخمی روسی شخص کی ایک ماہ تک موت سے لڑائی

    ماسکو:جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے کے مصداق واقعات جو انسانی عقل کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتے ہیں.ایسے ہی روس میں ایک ایسا شخص زندہ ملا ہے جو بالکل ’’ انسانی ممی‘‘ کی طرح دکھتا ہے جس کو ریچھ نے حملہ کر کے زخمی کر دیا تھا اور ایک ماہ تک موت سے لڑتا رہا جسے زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور طبی امداد دی جا رہی ہے۔

    اس شخص کا نام الیگزینڈر ہے جس کا کہنا ہے کہ ریچھ نے مجھ پر حملہ کیا جس کے بعد میرے جسم پر بہت زیادہ زخم آئے ایک وقت ایسا بھی جب میں مرنے والا تھا کیونکہ بھوکے کتے میرا جسم نوچنے والے تھے میں زخمی ہونے کی وجہ سے اُٹھنے سے بھی قاصر تھا۔الیگزینڈر کا کہنا ہے کہ روس کے ٹیووا ریجن میں مجھ پر براؤن ریچھ نے حملہ کیا۔ اس وقت الیگزینڈر کو علاج کی غرض سے ہسپتال داخل کرایا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے کیونکہ الیگزینڈر کی ریڑھ کی ہڈی کو کافی نقصان پہنچا ہوا ہے۔سریبین ٹائمز کے مطابق الیگزینڈر نے ڈاکٹرز کو بتایا کہ ریچھ کے حملے کے بعد میں زخمی حالت میں ویران جگہ پڑا رہا اور زندہ رہنے کے لیے ایک ماہ تک موت سے لڑتا رہا۔ میں نے اس دوران زندہ رہنے کیلئے اپنے پیشاب کو بطور پانی استعمال کیا۔

    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک کمزور شخص ہے آنکھیں کھولتا ہے اپنا نام اور اپنے بارے میں بتاتا ہے، اسی دوران ڈاکٹرز بھی حیران ہیں کہ اتنا زخمی ہونے کے باوجود یہ شخص کیسے زندہ رہا۔ یہ قدرت کی طرف سے ایک معجزہ ہے کہ ایک شخص اتنا زخمی ہو کر زندہ ہے۔