Baaghi TV

Author: +9251

  • ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    ایران اور امریکہ, اسلامک بلاک اور سی پیک!!! بلال شوکت آزاد

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز کیا ہوگی؟

    نہیں جانتے؟

    چلیں ہم آپ کو آج بتاتے ہیں کہ اس صدی کی سب سے بڑی بریکنگ نیوز یہ ہوگی کہ

    "امریکہ نے ایران پر حملہ کر دیا”۔

    اب یہ بھی سن لیں کہ یہ صرف ایک بریکنگ نیوز ہے جو فی الحال صرف آپ کو میری تحریر میں ہی پڑھنے کو ملے گی۔

    لیکن ایسا حقیقت میں کبھی بھی نہیں ہونے والا اور نہ ہی کبھی ہوگا کیونکہ اس کے پیچھے کوئی ایک دو دن کی کہانی نہیں بلکہ ایک لمبی داستان ہے جس کی توثیق آپ کو کچھ اس طرح سے بھی مل سکتی ہے اگر آپ آئی ایس آئی کے سابقہ چیف جنرل حمید گل کی گفتگو سن لیں یا ان کا کوئی انٹرویو پڑھ لیں جس میں اس بابت بات کی گئی ہو جیسے کہ جنرل حمید گل صاحب مرحوم فرما گئے کہ

    "بےشک میری قبر پر آکر پیشاب کر دینا اگر امریکہ یا اسرائیل کبھی بھی ایران پر حملہ کرے۔”

    حمید گل صاحب نے یہ بات یوں ہی ہوا میں تکا مار کے نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے ان کی زندگی کا ایک اچھا خاصا تجربہ ہے۔

    جب میں نے یہ بات سنی تو مجھے بھی اس میں رتی برابر شک نہیں لگا بلکہ جو میرے ذہن میں چل رہا تھا یہ بالکل اس کے عین مطابق ترجمانی تھی۔

    میں بچپن سے پاکستانی اور غیر ملکی میڈیا کی خبروں میں یہ سنتا اور پڑھتا آرہا ہوں کے امریکہ اور ایران کی آپس میں دشمنی ہے کیونکہ ایران اسرائیل کا دشمن ہے۔

    لیکن اصل مزے کی بات یہ ہے کہ یہ تینوں ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہیں بلکہ درپردہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کے سب سے بہترین اوربڑے محافظ ہیں۔

    ایران کا خوف اور دبدبہ خطےمیں ایک تسلسل سے بنانے کا فائدہ امریکہ٫ اسرائیل اور ایران کو ہی ہوا۔

    کیونکہ اگر خطے میں ایران جیسی ریاست نہ ہوتی اور اس کا مذہبی یا مسلکی پس منظر نہ ہوتا جو مڈل ایسٹ میں موجود اس کے متضاد مسلک والے ممالک کے لیے تشویش کا باعث ہے تو امریکہ اور اسرائیل کی عالمی سازشی دیگ کبھی بھی چولہے پر نہ چڑھتی۔

    ایک طرف امریکہ٫ ایران کو دھمکیاں لگاتا رہتا ہے لیکن کبھی ایک گولی بھی ایران پر نہیں چلاتا۔

    جبکہ دوسری طرف اسرائیل٫ ایران کو آنکھیں دکھاتا رہتا ہے لیکن اس کی اٹھکیلیاں اور لاڈ بھی جاری رہتے ہیں۔

    اور ایران؟

    ایران کی تو کیا ہی بات ہے؟

    ایران ایک طرف امریکہ کو اپنے جوہری طاقت بننے کی دھمکی لگاتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو تباہ کرنے کے دعوے کرتا رہتا ہے لیکن درحقیقت جب جب خطے میں کوئی جنگی یا درون خانہ سازشںی بساط سجتی ہے تب تب ایران ہر وہ چال چلتا ہوا نظر آتا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو خطے میں محفوظ کرتی ہے۔

    کیا یہ اتفاق ہے کہ اس سال فروری میں محمد بن سلمان جب پاکستان کے دورے پر آئے تب بیک وقت بھارت اور ایران میں فالس فلیگ آپریشن اور من گھڑت دہشت گردی کے واقعات رو پذیر ہوئے۔

    جن کے ڈانڈے ان دونوں ممالک نے پاکستان سے زبردستی جوڑنے کی کوشش کی اور صرف کوشش نہیں کی بلکہ دھمکی بھی دی۔

    اور اسی کا تسلسل پھر پاک بھارت محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں ساری دنیا نے دیکھا اور جس میں بعد کی انٹیلی جنسیو رپورٹس کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیک وقت 3 سے 4 ممالک پاکستان کو اپنے حملے کی زد پر لینے کے لئے تیار بیٹھے تھے صرف بھارت ایک دفعہ کھل کر بسم اللہ کرتا۔

    کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ وہ 4 ممالک میں سے بھارت کے علاوہ باقی تین کون کون سے تھے؟

    ایران٫ اسرائیل اور امریکا۔

    اب یہ بات تو ہر کوئی جانتا ہے کہ ان تین ممالک کو بھارت کے علاوہ پاکستان سے کیا تکلیف ہے اور یہ کس وجہ سے درون خانہ ایک جیسے مفادات رکھتے ہیں جو پاکستان کی تباہی پر منتج ہیں۔

    سی پیک۔ ۔ ۔

    جی ہاں سی پیک ہی وہ مشترکہ تکلیف ہے جو بیک وقت بھارت٫ ایران٫ اسرائیل٫ امریکہ اور افغانستان کو ہے۔

    اس تکلیف کو تقویت اس وقت مزید پہنچی جب روس٫ سعودی عرب٫ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک سمیت چند یورپی ممالک نے بھی سی پیک میں اظہار دلچسپی دکھایا بلکہ یہاں تک کہ محمد بن سلمان جب پاکستان میں دورے پر آئے تب سی پیک کے حوالے سے اچھی خاصی انویسٹمنٹ کی بات کرکے گئے جس سے خطے میں راتوں رات سیاسی اور نظریاتی بھونچال آیا۔

    اب یہ کوئی اتنی بڑی راکٹ سائنس نہیں کہ ہم لوگ موجودہ عالمی صورتحال کو سمجھ نہ سکیں۔

    امریکہ اور اسرائیل کسی صورت نہیں چاہتے کہ خطے میں پاکستان کسی بھی صورت جڑ پکڑے کہ اسے مشرق وسطی میں وہی حیثیت حاصل ہونا شروع ہو جو انیس سو ستر اور اسی کی دہائی میں حاصل تھی۔

    مطلب یہ سارے عرب ممالک کہیں سی پیک میں سرمایا کاری اور منافع کے لالچ میں پاکستان کی طرف جھک کر اسے خطے کا چوہدری نہ بنا دیں کہ ایک بڑا اسلامک بلاک تشکیل پا جائے لہذا ہر وہ طریقہ ہر وہ چال اپنائی جائے جس سے پاکستان کو اپنے لالے پڑے رہیں اور ہم خطے میں بلا شرکت غیرے چوہدری بن کر پنجائتیں سجاتے رہیں اور سب کو اپنی اپنی پڑی رہے۔

    اس میں جو سب سے زیادہ اہم کردار ادا کر رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل کے مفادات کو تحفظ دینے کے لیے وہ اور کوئی نہیں بلکہ پاکستان کے تین ہمسایہ ممالک یعنی افغانستان٫ ایران اور بھارت ہیں۔

    اب آپ کہیں گے کہ اتنی لمبی چوڑی بحث کا کیا فائدہ جب کہ امریکہ تو خطےمیں اپنا بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج لیکر بیٹھ گیا ہے۔

    درحقیقت یہ بحری بیڑہ اور فضائی و بری افواج خلیج میں ایران کی سرکوبی کے لئے نہیں بلکہ سعودی عرب کو کنٹرول میں رکھنے اور پاکستان پر قریب سے نظر رکھنے کے لئے اتاری گئی ہیں۔

    یہ اچانک سے بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کے حملے٫ ایران اور پاکستان کی سرحدوں پر جھڑپیں اور تنازعات٫ افغانستان کی طرف سے عسکری اور نظریاتی مداخلت اور بھارت کی طرف سے دن رات پروپیگنڈا مشینری پاکستان کے خلاف مصروف عمل ہے جبکہ امریکہ پاکستان کو دیدہ و نادیدہ شکنجوں میں لپیٹ رہا ہے۔

    اور پچھلے دو سالوں میں جو درحقیقت بریکنگ نیوز تھیں جن پر امت مسلمہ کا شدید ردعمل آنا چاہیے تھا خواہ وہ عسکری اور سیاسی ہوتا یا نظریاتی۔

    لیکن پہلی چوٹ پر چِلانے کے بعد باقی معاملات پر معذرت کے ساتھ امت مسلمہ سمیت وہ ممالک بھی خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے جو انسانی حقوق کے چیمپئن بنے پھرتے ہیں۔

    آغاز امریکہ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے کیا٫ پھر نئی امریکی حکومت نے پاکستان کے کردار کو مسخ کرنے کا سلسلہ شروع کیا یہ کہہ کر کہ پاکستان ایک دھوکے باز ملک ہے جس نے امریکہ سے 33 بلین ڈالر کی امداد وصول کرکے امریکہ کو کہیں کا نہیں چھوڑا٫ اس کے بعد امریکہ بنفس نفیس شام میں اتر آیا اور وہاں اس نے کیا کیا گل کھلائے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں اور سب سے آخر میں جو اہم پیشرفت ہوئی وہ یہ کہ گولان کی پہاڑیاں آفیشلی اسرائیل کے حوالے کردیں اور پورے حق سے کیں یہاں تک کہ انداز بھی جارحانہ تھا اور اب شنید ہے کہ تھرڈ ٹیمپل کی تعمیر میں حائل سے سب سے بڑی رکاوٹ مسجد اقصیٰ کا انہدام بھی جلد ہی ٹرمپ کی مہربانی اور اجازت سے ممکن ہونے والا ہے۔

    اس کے علاوہ امریکہ کا گھوم پھر کر ہر بل پاکستان پر پھٹا کہ پاکستان یکدم سفارتی اور خارجی سطح پر دنیا ہی نہیں بلکہ امت مسلمہ میں ابھر کر سامنے آنے کی کوشش کر رہا تھا جو امریکہ کی دور رس نتائج والی صیقل پالیسیوں کے خلاف تھا۔

    اور یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ جو چیز٫ بات٫ شخصیت٫ نظریہ اور ملک
    امریکی پالیسیوں کے خلاف ہو اس کا مطلب صاف ہے کہ وہ اس کے مفادات کے حق میں نہیں۔

    اچھا ویسے امریکہ کے مفادات دراصل ہیں کیا؟

    سب سے پہلے تو امریکہ کی سپر ویژن برقرار رہے٫ اسرائیل ناصرف محفوظ رہے بلکہ دن بدن پھلے اور پھولے تاکہ گریٹر اسرائیل کا خواب شرمندہ تعبیر ہو اور اسلام یا اسلامی ممالک کسی صورت وہ طاقت نہ حاصل کر سکیں جو ماضی میں ان کو حاصل تھی۔

    یہ ہے امریکی مفادات کا وہ نچوڑ جس کے اردگرد رہ کر امریکہ کی ساری سیاسی و عسکری پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں۔

    میں پھر کہوں گا کہ اگر کسی بھائی کو یہ غلط فہمی ہو رہی ہے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے کے لئے خطے میں آکر بیٹھا ہے یا کسی بھی وقت امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے یا ایران جوابی کارروائی میں امریکا یا اسرائیل پر کوئی شدید حملہ کرے گا تو وہ یہ غلط فہمی دور کر لے کہ ایسا ہوتا ہوا فی الحال نظر نہیں آتا۔

    وہ پنجابی کا ایک محاورہ ہے کہ "کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو”٫ اس وقت خطے میں "ساس” مطلب کہ امریکہ جو کچھ بھی "بیٹی” یعنی ایران کو سنا رہا ہے وہ دراصل "بہو” یعنی کے سعودی عرب اور پاکستان کو سنا اور جتا رہا ہے۔

    مجھے اس بات پر ایک سو ایک فیصد یقین ہے کہ امریکہ ناک ناک تنگ آچکا ہے پاکستان کی بڑھتی ہوئی عسکری طاقت اور سی پیک کے بعد متوقع معاشی ترقی کو بھانپ کر لہذا اب امریکا کھل کر نہ سہی پر کسی حد تک جتا کر پاکستان کے سر پر بیٹھنے کے لئے خلیج میں اترا ہے کہ

    "بھائی تم میری باتوں کو یا شورشرابے کو دور کے ڈھول سہانے سمجھ کر کسی غلط فہمی میں مت رہنا۔”

    مجھے ذاتی طور پر یہ لگتا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کو اس صورتحال کا اندازہ تھا اسی وجہ سے ان کے درمیان گزشتہ چھ سے آٹھ ماہ میں ہر طرح کا تعاون اور قربتیں بڑھی ہیں۔

    باقی اگر کسی کو ایک فیصد بھی یہ بات حقیقت لگتی ہے کہ امریکہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے لیے آیا ہے یا محدود پیمانے کا حملہ کرے گا تو چلو دیکھ لیتے ہیں پھر۔

    بیس سال تو مجھے ہوگئے ہیں یہ سنتے اور پڑھتے ہوئے کہ امریکہ ایران پر حملہ کرنے والا ہے۔

    اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو پھر یہ واقعی ایک بریکنگ نیوز ہوگی اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ بریکنگ نیوز آپ کو اور مجھے کب اپنے ٹیلی ویژن اور سوشل میڈیا پر دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔

  • محکمہ خزانہ کے سئنیر ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر برطرف

    کوئٹہ ۔ حکومت بلوچستان نے کرپشن کا الزام ثابت ہونے پر محکمہ خزانہ کے سئنیر ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر اور سب اکاؤنٹنٹ کو ملازمت سے برطرف کردیا ہے دونوں افسران نے 3.400ملین روپے کے ریلیز آرڈر میں جعل سازی کرتے ہوئے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا اور دونوں افسران کے خلاف قائم محکمانہ انکوائری میں الزام ثابت ہوگیا ہے اور سیکرٹری خزانہ نے برطرفی احکامات جاری کر دئیے ۔ برطرف ہونے والوں میں سئنیر ڈسٹرکٹ اکاونٹس آفیسر نصیر آباد محمد فضل اور سب اکاؤنٹنٹ لورالائی محمد اکبر شامل ہیں ۔

  • ڈی پی او گجرات کا رمضان بازار کا اچانک دورہ، سیکورٹی اور قیمتوں کا جائزہ

    ڈی پی او گجرات کا رمضان بازار کا اچانک دورہ، سیکورٹی اور قیمتوں کا جائزہ

    گجرات (نمائندہ باغی ٹی وی )ڈی پی او گجرات سید علی محسن کا رمضان بازارکا اچانک دورہ،اشیا ء خردو نوش کی قیمتوں اور رمضان بازار کی سیکورٹی کا جائزہ لیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق ڈی پی او گجرات سید علی محسن نے رمضان المبارک کے حوالے سے لگائے گئے رمضان بازارکا اچانک دورہ کیا،دورہ کے دوران مختلف اشیاء خردونوش کی قیمتوں اور ان کے معیار کو چیک کیا گیا دوکانداروں کو معیاری اشیاء فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی اس کے علاوہ رمضان بازار میں تعینات اہلکاروں کو بہترین انداز میں ڈیوٹی سر انجام دینے پر شاباش دی۔

  • وزیراعلی پنجاب سرگودھا کی عوام کو پھر اچکما دےکر نکل گئے

    وزیراعلی پنجاب سرگودھا کی عوام کو پھر اچکما دےکر نکل گئے

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی)وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار سرگودہا کی عوام کو ایک دفعہ پھر اچکما دے کر نکل گئے سردار عثمان بزدار نے جنوری سے سرگودھا کے دورے کا اعلان کر رکھا ہے جو مسلسل تاخیر کا شکار ہے آج جب وہ مختلف شہروں کے دورہ جات پر نکلے تو زرائع کٹ کہنا تھا کہ وہ سرگودھا بھی آئیں گے اس سلسلے میں ظلعی انتظامیہ نے بھرپور تیاری کر رکھی تھی صحافی خضرات بھی دن بھر تیاریوں میں مصروف رہے حکومتی مشینری کو صفائی ستھرائی میں لگائے رکھا مگر وزیر اعلی کا اڑن کٹھولا ہوا میں ہی آگے نکل گیا وزیراعلی نے اپنے سرائیکی علاقوں نور پور تھل , بھکر کا دورہ کر کے فیصل آباد کا روانہ ہو گئے جس سے تاثر یہ جا رہا ہے کہ وزیر اعلی صرف جنوبی پنجاب اور سرائیکی علاقوں کے ہی وزیر اعلی ہیں اور انہی کی طرف توجہ مبزول کئےہوئے ہیں

  • کم سن چوروں کی سی سی ٹی وی باغی ٹی وی نے حاصل کرلی

    کوٹ ادو میں کم سن چور دکاندار کو باتوں میں الجھا کر لاکھوں روپے چوری کرکے لے گئے،چوری کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی.مظفرگڑھ کی تحصیل کوٹ ادو میں کم سن لڑکی تعمیراتی سامان کی دکان میں خریدار بن کر آئی اور خریداری کے بہانے کم سن لڑکی نے دکان کے مالک کو دکان سے باہر نکالابعدازاں لڑکی کا ساتھی ایک کم سن لڑکا دکان میں داخل ہوا اور دکان کے کاؤنٹر سے 3 لاکھ روپے سے زائد رقم چوری کرکے رفوچکر ہوگیا،چوری کی واردات کی سی سی ٹی وی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی۔فوٹیج میں کم سن چوروں کو دکاندار میں واردات کرتے صاف دیکھا جاسکتا ہے.متاثرہ دکاندار کیمطابق چوری کرنے والے کم سن چوروں کیخلاف کاروائی کے لیے تھانہ کوٹ ادو کو درخواست دیدی ہے جبکہ پولیس کیمطابق تعمیراتی سامان کی دکان میں ہونے والی چوری کے واقعے کی تحقیقات کی جارہی ہیں.

  • نیشنل ہائی ویز اور موٹر وے پولیس کا ڈرائیوروں کو ٹریفک قوانین پر لیکچر

    نیشنل ہائی ویز اور موٹر وے پولیس کا ڈرائیوروں کو ٹریفک قوانین پر لیکچر

    گجرات (طارق محمود سے) نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس گجرات کا ڈرائیوروں کو ٹریفک قوانین پر بریفنگ ‘ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹر وے پولیس گجرات نے ڈی آئی جی محمد عالم شنواری اور ایس ایس پی مسرور احمد کو لاپی کی خصوصی ہدایت پر ڈی ایس پی میاں عبدالرزاق اور آپریشن آفیسر انسپکٹر عشرت رشید نے گجرات جنرل بس سٹینڈ میں جا کر ڈرائیور حضرات کو ٹریفک قوانین کے متعلق خصوصی لیکچر دیا ‘ جن میں ڈرائیور حضرات کو سیٹ بیلٹ ‘ غفلت لاپرواہی اور گاڑی تیز نہ چلانے کی ہدایت دی اور اوگرا سے منظور شدہ سی این جی کٹ اپنی گاڑی میں لگوائیں اور اورر لوڈنگ سے گریز کریں اور گاڑی کا روڈ پر مٹ اور فٹنس سرٹیفکیٹ اپنے پاس رکھیں اور گاڑیوں کے تمام کاغذات مکمل رکھیں ‘ خلاف ورزی کی صورت میں ڈرائیور کا لائسنس کینسل کر دیا جائےگا اور ساتھ بھاری جرمانہ میں کیا جائےگا۔

  • ماضی کے معروف اداکار کو ہم سے بچھڑے 11 برس ہو گئے

    ماضی کے معروف اداکار کو ہم سے بچھڑے 11 برس ہو گئے

    سرگودھا(نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودھا سے تعلق رکھنے والے معروف فلمی اداکار رفیق انجم کو ہم سے بچھڑے ہو ئے گیارہ برس بیت گئے ہیں ان کی گیارھویں برسی پر ان کے اہل خانہ نے ان کی مغفرت کی خصوصی دعا کرائی سرگودھا کی عوام رفیق انجم کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اس موقع پر رائٹر آصف خنیف نے ان کی خدمت کو خراج تحسین پیش کیا

  • شیخوپورہ بائی پاس پر حادثہ، دو افراد زخمی

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) سرگودھا روڑ بائی پاس پر ٹرک اور کار کے درمیان تصادم ہو گیا-
    حادثے سے کار میں سوار ڈو افراد شدید زخمی ہو گئے-
    ریسکیو1122 شیخوپورہ کی امدادی ٹیم نے فورا” زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کے بعد ڈسٹرکٹ ہیڈ کواٹر ہسپتال منتقل کر دیا-

  • شیخوپورہ پولیس کو ملی بڑی کامیابی

    شیخوپورہ(نمائندہ باغی ٹی وی) ڈی پی او غازی صلاح الدین کی خصوصی ہدایت پر اے ایس پی توحید الرحمان, ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن ظہیر عالم شاہ، اے ایس آئی نوید ڈوگر نے اپنی ٹیم کے ہمراہ شب و روز محنت کر کے جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے 5 رکنی کاشف عرف کاشی ڈکیت گینگ اور 6 رکنی شعمون عرف بوبی ڈکیت گینگ اور ایک نامور ڈاکو بوٹا کو گرفتار کر کے ان کے قبضہ سے 11 لاکھ مالیت کا مال مسروقہ، موٹر سائیکلز، سکریچ کارڈز، موبائل فونز ،کپڑےاور نقدی رقم برآمد کرنے کے ساتھ بھاری مقدار میں ناجائز اسلحہ برآمد کیا

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اے ایس پی توحید الرحمان میمن اور ایس ایچ او ظہیر عالم شاہ نے بتایا کہ ہم جرائم کے خاتمہ کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہمارا فرض اول ہے مختلف مقامات پر ناکے لگا کر اور چھاپے مار کر جرائم پیشہ عناصر کی پکر دھکر جاری ہے اس ماہ رمضان کے بابرکت مہینے میں عوام کی جان و مال کی حفاظت کر رہے ہیں انشاء اللہ مزید بھی جدید ٹیکنالوجی اور مخبر خاص کی اور محکمہ سلاحتوں سے ہم جرائم کا خاتمہ کریں گے

  • ریسکیو 1122 کے اہلکاروں نے نئی مثال قائم کر دی

    شیخوپورہ (نمائندہ باغی ٹی وی) ریسکیو 1122 بلاامتیاز تمام مخلوقات کیلئے باعث نعمت ہے-
    ریسکیو 1122 شیخوپورہ نے جانوروں کے ساتھ ہمدری کی اعلی مثال قائم کر دی
    ریسکیو 1122 شیخوپورہ کے ریسکیو اہلکاروں نے رکشہ اور گدھا گاڑی کے تصادم میں زخمی ہونے والے کوچوان اور گدھا گاڑی کے جانور کو طبی امداد فراہم کی