Baaghi TV

Author: +9251

  • وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان

    کوئٹہ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ منصوبے جذبات اور احساسات کے بجائے پیشہ ورانہ قابلیت سے چلتے ہیں، صوبائی حکومت32 ارب روپے کی لاگت سے گزشتہ 15سال سے ادھوری 450 اسکیمات کو مکمل کر رہی ہے، صوبے میں قانونی سازی بہتر کی جارہی ہے، میر عبدالقدوس بزنجو پارٹی کے رہنماء اور پارلیمنٹ کا حصہ ہیں انہیں اظہار راۓکا حق ہے، ریکوڈک منصوبہ کیس میں ہرجانے کی رقم صوبے کو اداکرنی ہوگی، یہ بات انہوں نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہی،وزیراعلیٰ جام کمال خان نے کہا کہ صوبے میں پہلی دفعہ منرل سیکٹر پر کام کر رہے ہیں ریکوڈک کا کیس عالمی سطح پر چل رہا ہے اسکا ایک فیصلہ ہمارے خلاف آچکا ہے لیکن اب تک ہر جانے کی رقم طے نہیں ہوئی قوی امکان ہے کہ ہم پر اربوں ڈالر کا جرمانہ عائد کیا جائیگا جو کہ بڑی رقم ہے یہ رقم صوبے نے ادا کرنی ہے اور اسکا سارا بوجھ حکومت بلوچستان پر آئیگا ہم اس صورتحال سے نکلنے کے لئے مختلف میکنزم پر کام کر رہے ہیں ریکوڈک و ہ واحد منصوبہ ہے جو کہ فیزبل اور گراؤنڈ پر عملی طور پر موجود ہے،باقی منصوبوں کے حوالے سے باتیں ہیں لیکن ان کے حوالے سے کوئی ٹھوس اور جامع معلومات نہیں ہیں ہمیں صوبے کے طور پر اسمبلی اور اسٹیک ہولڈرز کو بتانا ہے کہ ہماری پوزیشن ٹھیک نہیں ملکی سطح پر بھی اقتصادی صورتحال بہتر نہیں ہے اس صورتحال میں ہمیں اندورنی سطح پر کوئی بیل آؤٹ پیکج ملنے کے امکانات نہیں ہیں انہوں نے کہا کہ جذبات اور احساسات سے منصوبے نہیں چلتے یہ انتہائی پیشہ ورانہ کام ہے،معدنیات دنیا کا مہنگا ترین شعبہ ہے جس پر وسیع ترین کام کرنا پڑتا ہے،ثمر مبارک مند کے کہنے پر صوبے کے ایک ارب روپے لگے لیکن دو سے تین ماہ کام کرنے کے بعد انکا منصوبہ بند ہوگیا تھر میں بھی یہی ہوا لیکن سندھ حکومت نے پیشہ ورلوگوں سے کام لیتے ہوئے تھر سے کوئلہ نکلا جس سے بجلی بنائ جارہی ہے انہوں نے کہا کہ دفتری اور آن گراؤنڈ منصوبے چل رہے ہیں،حکومت کا کام سسٹم ٹھیک کرنا ہے ہمارے فیصلوں کو سروسز پر اثر انداز ہونا چاہیے ہم میڈیا پر آنے کے بجائے مربوط اقدامات کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کی کتاب بنا نا آسان جبکہ اس پر اصل کام عمل درآمد ہے ہماری حکومت جون تک32 ارب روپے کی لاگت سے 450اسکیمات جو گزشتہ حکومتوں کی شروع کردہ ہیں کو مکمل کریگی یہ وہ منصوبے ہیں جنہیں ہم نے شروع نہیں کیا یہ 15سال سے ادھوری اسکیمات تھیں، صوبے کے کالج، سکول،سڑکیں،ہسپتال ادھورے تھے انہیں پورا کر رہے ہیں،ماضی میں جو بھی حکومت آئی اس نے ماضی کے منصوبوں پر کام کرنے کی بجائے اپنے منصوبے شروع کیے انہوں نے کہا کہ صوبے میں قانون سازی بہتر کی جارہی ہے،، سروس اور بھرتیوں کے قانون بہتر کر رہے ہیں 80سال پرانے قوانین میں ریفارمز لا رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اتحادی جماعت ہے ان کے ساتھ تعلقات بہتر ہیں، وزیر اعظم کی مدد سے سی پیک کے مغربی روٹ پر کام کر رہے ہیں اور یہ دو روئیہ بنے گا صوبے میں کارڈیک اور کینسر کا ہسپتال بنا رہے ہیں،، پہلی بار پلاننگ کمیشن کی جانب سے صوبے کی بہتری کے لئے وفاقی پی ایس ڈی پی میں اسکیمات شامل کی جائیں گی،ہم نے صوبے کے ہر ضلعی کو تر جیح دی ہے،انہوں نے کہا کہ عبدالقدوس بزنجو پارٹی کے رکن ہیں بی اے پی میں کھلا ماحول ہے ہم ایک دوسرے سے اظہار رائے کرتے ہیں بعض اوقات ہم سنجیدیگی سے بات نہیں کر رہے ہوتے لیکن میڈیا پر بات آنے کے بعد لوگ سنجیدہ ہو جاتے ہیں اختلاف سیاست کاحصہ ہے سیاست میں لوگوں کے پاس آزادی اظہار ہونی چاہے ہم اسے کسی اور طریقے سے دیکھتے ہیں جبکہ لوگ کسی اور انداز میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

  • 2018ءکےانتخابات کا امیر ترین امیدوار مسجد کی بجلی استعمال کرتارہا

    میاں محمد حسین منا شیخ کا تعلق تحصیل وضلع مظفرگڑ ھ سے ہے اور انہوں نے 2018ءکے عام انتخابات کے دوران کاغذات نامزدگی میں اپنے اثاثوں کی مالیت4کھرب3ارب 77کروڑ روپے ظاہر کی تھی۔مناشیخ نے عام انتخابات میں مظفرگڑھ کے شہری آبادی پر مشتمل حلقہ این اے182اور پی پی 270سے آزاد امیدوار کی حثیت سے الیکشن لڑا تھا اور چند سو ووٹ حاصل کرکے اپنی ضمانت تک ضبط کروابیٹھے تھے۔گزشتہ دنوں میاں محمد حسین منا شیخ کے حوالے سے انکشاف ہوا ہے کہ وہ اپنے ڈیرہ سےمنسلک جامع مسجد مھریہ رضویہ کے میٹر سے بجلی حاصل کر استعمال کرتے رہے۔یہ راز اس وقت فاش ہوا جب جامع مسجد مھریہ رضویہ کے امام حافظ محمد الیاس نے مظفرگڑھ کے تھانہ سول لائن میں درخواست دائر کی کہ محمد حسین مناشیخ مسجد کے میٹر سے بجلی لیتا رہا اور بل کے پیسے طلب کرنے پر مناشیخ نے اپنے کارندوں کی مدد سے امام مسجد کو تشدد کا نشانہ بنایا۔پولیس نے مسجد کے امام کی مدعیت میں میاں محمد حسین مناشیخ کے خلاف مقدمہ درج کرلیا تاہم ابھی تک گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی۔

  • پنجاب فوڈاتھارٹی کی سرکاری گاڑی کا پرائیویٹ استعمال

    مظفرگڑھ میں پنجاب فوڈ اتھارٹی جنوبی پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹرکی گاڑی سکول وین بن گئی،سرکاری گاڑی میں سکول کے بچے اورسوداسلف لانے کی فوٹیج باغی ٹی وی نے حاصل کرلی۔باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتاہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی جنوبی پنجاب کے ڈپٹی ڈائریکٹر شہزاد مگسی کی مبینہ سرکاری گاڑی میں سکول یونیفارم میں ملبوس بچے سوار ہیں جبکہ گاڑی کے پچھلے حصہ میں سوداسلف کے بڑے بڑے تھلے رکھے گئے ہیں ۔گاڑی پر سبز رنگ کی سرکاری نمبر پلیٹ نصب ہے اور اس کانمبرLEG1199ہے۔صحافیوں نے جب سرکاری گاڑی میں بچوں اور دیگر سامان کی موجودگی کے حوالے سے ڈرائیور سے دریافت کیا تو ڈرائیور کا کہناتھاکہ وہ شہزاد مگسی صاحب کے بچوں کو سکول سے اٹھانے اور گھر کا سودا سلف لینے کے لئے بازار آیاہے۔

  • صوبائی وزیر کے ایک ٹکٹ میں دو مزے

    صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک مظفرگڑھ میں پی ایم اے کی تقریب میں شرکت کے لئےنجی میرج کلب آئے تو تقریب تاخیر کا شکار ہوتی دیکھ کر چند قدم کے فاصلہ پر موجود ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال مظفرگڑھ کا "اچانک” دورہ کرڈالا،اس موقع پر انھوں نے ہسپتال کے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں سے انکے مسائل دریافت کئے.صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن مظفرگڑھ کی تقریب میں شرکت کے لئے سیال میر ج کلب میں آئے تو تقریب کچھ تاخیر کا شکار ہوتی دیکھ انہوں نے اپنی کارکردگی دیکھانے کے لئے میرج ہال سے چند قدم کے فاصلہ پر موجود ڈی ایچ کیو ہسپتال مظفرگڑھ کا دورہ کرلیا،صوبائی وزیر توانائی نے مختلف وارڈز کا معائنہ کیا اور مریضوں سے مسائل دریافت کیے.اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا تھا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں بیڈز کی کمی ہے جس کے حوالے سے وہ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد سے بات کریں گے.صوبائی وزیر ڈاکٹر اختر ملک کا کہنا تھا کہ ملتان میں نشتر ہسپتال 2 کا افتتاح کردیا گیا ہے جو 2 سال کے عرصے میں مکمل ہوجائے گا.ان کا کہنا تھا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو بہترین سہولیات فراہم کی جائیں گی.

  • ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا

    امین بھایانی کا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا۔امریکہ میں مقیم معروف ادیب امین بھایانی کا تیسرا افسانوی مجموعہ ”خوابوں کے بند دروازے“ شائع ہو گیا ہے۔ کتاب کا تعارفی فلیپ ممتاز و نامور ادبا نے لکھا ہے جس میں انہوں نے شاندار الفاظ میں مصنف کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔ امین بھایانی نے اس کتاب میں لوگوں کے عمومی مسائل کو کہانیوں کا موضوع بنایا ہے اور ان کی نفسیاتی توضیح بھی کی ہے جو کہ ایک کہنہ مشق ادیب ہی کر سکتا ہے۔مصنف نے اپنے دلچسپ اسلوب سے ہر عمر کے لوگوں کے لیے اس کتاب میں دلچسپی کا سامان کر دیا ہے۔ مصنف کی گہری سوچ اور فلسفہ ان افسانوں میں جھلکتا ہے۔ اس سے قبل امین بھایانی کے دو افسانوی مجموعے ”بھاٹی گیٹ کا روبن گوش“ اور ”بے چین شہر کی پُرسکون لڑکی“ شائع ہو کر ادبی حلقوں میں داد پا چکے ہیں۔ اس کتاب میں شامل افسانے پاک و ہند کے نامور ادبی جرائد میں شائع ہوکر داد پاچکے ہیں۔امین بھایانی مصنف منفرد طرز تحریر کی بدولت ادبی حلقوں میں اپنا ایک خاص مقام رکھتے ہیں۔ ان کی کتابوں کا شدت سے انتظار کیا جاتا ہے اور پذیرائی کے اعتبار سے یہ سر فہرست شمار ہوتی ہیں۔کتاب خوب صورت ٹائٹیل اور عمدہ طباعت سے مزین ہے۔ یہ افسانوی مجموعہ ”کتاب والا پبلشر“ اور ”فضلی سنز“ کے باہمی اشتراک سے شائع کیا گیا اور کتاب سرائے اردو بازار لاہور سے بھی دستیاب ہے۔

  • آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    آفتاب جو غروب ہوا ۔۔۔ محمد طلحہ سعید

    وہ ہمت جرات غیرت کا پیکر مجسم تھا۔وہ سعادت کی زندگی اور شہادت کی موت کا متلاشی تھا۔وہ نور کرنوں میں لپٹا چہرا ہزاروں دلوں کی امیدوں کا محور تھا۔وہ صحابہ کرام کے رستوں پر چلنے والا ایک مرد مسلم تھا۔وہ خزاں کے دور میں بہار کی آخری امید تھا۔وہ لاکھوں بہنوں ،ماؤں اور بیٹیوں کی عفت و عصمت کا محافظ تھا۔وہ فتح علی بن حیدر علی ٹیپو تھا۔
                              اس نے بچپن سے ہی شیروں سے کھیلنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی اپنے باپ سے عزت کی زندگی گزارنا سیکھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی انگریزوں اور مرہٹوں سے ان ہزاروں لاکھوں خون کے قطروں کا انتقام لینے کا عزم کیا ہوا تھا جو بنگال کی مٹی پی گئی تھی۔اس نے بچپن سے ہی مسلمانوں کو انگریزوں کے خلاف آخری قلعہ سمجھا تھا۔اس نے بچپن سے ہی طاقت و جرات کے غیر معمولی جوہر سیکھے تھے۔
            سلطان کی عمر ابھی کم ہی تھی کہ انہیں ان کے والد نے مختلف محاذوں مرہٹوں اور انگریزوں کے خلاف بھیج دیا۔سلطان معظم کی بہادری اور جرات کے اوپر سارا میسور رشک کرتا تھا۔پھر ایک تاریک رات میں،ایک ٹمٹماتا چراغ بھج گیا۔میسور کی عزت کا محافظ اور سلطان ٹیپو کے والد نواب حیدر علی وفات پاگئے۔جنگی صورتحال تھی۔میسور ایک وقت میں مرہٹوں، میر نظام علی اور انگریزوں کے خلاف مد مقابل تھا۔ایسی صورتحال میں جب حیدر علی وفات پاگئے، میسور کو انتہائ خطرناک نتائج مل سکتے تھے لیکن سلطان فتح علی حیدر ٹیپو کی مدبرانہ پالیسی نے میسور کے گرتے قلعے کو سنبھالا۔
         اس اولوالعزم مجاہد نے ہندوستان کے مسلمانوں کے دور انحتاط میں محمد بن قاسم کی غیرت،محمود غزنوی کے جاہ و جلال اور احمد شاہ ابدالی کے عزم و استقلال کی یاد تازہ کر دی تھی۔ہندوستان کے مسلمانوں پر جب مایوسی و بے بسی چھا رہی تھی، تب سلطان ٹیپو کی ریاست میں امیدوں اور ولولوں کی نئ دنیا آباد ہورہی تھی۔جب ہندوستان پر مسلمانوں کے قلعے مسمار کیے جارہے تھے تب میسور میں سرنگا پٹم، چتل ڈرگ اور منگلور میں سلطنت خداداد کے معمار نئے قلعے اور حصار تعمیر کر رہے تھے۔
                           سلطان ٹیپو کا تمام دور عہد جنگوں میں گزری۔سلطان کے خلاف تین طاقتیں تھی۔مگر جس ایک طاقت سے سلطان لڑنا نہیں چاہتا تھا وہ میر نظام علی کی طاقت تھی۔تاریخ گواہ ہے کہ میر نظام علی ہی وہ حکمران تھا جو مسلمانوں کے چراغ بھجا رہا تھا اور انہیں غلامی کی تاریکیوں میں دھکا دے رہا تھا۔اس حکمران نے اپنے مفاد، فقط اپنے مفاد کیلیے لاکھوں عزتوں کا سودا کیا۔سلطان ٹیپو اس سے اس لیے نہیں لڑنا چاہتے تھے کہ اس کے ساتھ فوج مسلمان تھی۔سلطان ہرگز یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی فوج کے ہاتھ مسلمان کے خون سے رنگے جائیں۔تاریخ گواہ ہے سلطان معظم نے ہر ممکن کوشش کی کہ اگر ان کا ساتھ حاصل نہ ہوسکے تو کم از کم انہیں میدان جنگ میں نہ لایا جائے۔مگر میر نظام علی کا تو مقصد صرف خزانے بھرنا تھا۔
                  بالآخر ٹیپو کی ایک ریاست، تین دشمنوں کے ساتھ محو جنگ ہوئ۔اب یہ ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔سلطان ٹیپو اس جنگ کو فتح کرسکتے تھے مگر ایمان فروشوں نے سلطان کی مخبریاں کرکے اسے شکست دلوائ۔میر صادق، پورنیا، میر قمر الدین اور میر معین الدین جیسے غداروں نے صرف میسور کا ہی سودا نہیں کیا تھا بلکہ تمام ہندوستان کے  مسلمانوں کی عزت کا سودا کیا تھا۔تاریخ گواہ ہے کہ اس سودے سے انکے اپنے گھر محفوظ نہ رہے۔جنگ جیتنے کے بعد انگریزوں نے انکی اپنی بہنوں،بیٹیوں کو نہیں چھوڑا تھا۔
                                ٹیپو سلطان 4 مئی 1799ء کو انگریزوں کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے میدان میں آئے۔سلطان نے میسور کے  ہراول دستوں کیساتھ لڑا۔سلطان معظم پر ایک انگریز نے گولی چلائ۔مگر سلطان نے زخم کی فکر نہ کی۔سلطان کے جسم نے خون نکل رہا تھا مگر سلطان معظم اس خون سے سرنگاپٹم کی زمین کو سیراب کرنا چاہتے تھے۔سلطان پر ایک اور گولی لگی اور سلطان پر نقاہت کے آثار ظاہر ہونے لگے مگر وہ لڑتے رہے۔جب زخموں کھ باعث سلطان کی ہمت جواب دینے لگی تو سلطان کے باڈی گارڈ دستے نے سلطان سے کہا "عالی جاہ!اب اس کے سوا کوئ چارہ نہیں کہ آپ اپنے آپ کو دشمن کے حوالے کردیں”
      سلطان نے جواب دیا؛ "نہیں______میرے لیے شیر کی زندگی کا ایک لمحہ گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے!”
                                  سلطان کے گھوڑے پر ایک گولی لگی تو اس نے گرتے ہی دم توڑ دیا۔گھوڑے کیساتھ گرتے وقت سلطان کی دستار ان سے علحیدہ ہوگئ۔سلطان نے اٹھنے کی کوشش کی مگر ایک گولی سلطان کے سینے پے لگی۔پاس ہی ایک انگریز نے سلطان کی کمر سے مرصع پیٹی اتارنے کی کوشش کی۔لیکن سلطان میں ابھی زندگی کے چند سانس باقی تھے۔انہوں نے یہ توہین برداشت نہ کی۔سلطان نے اچانک اٹھ کر تلوار بلند کی اور پوری شدت کیساتھ اس پر وار کیا۔انگریز نے اپنی بندوق آگے کی۔اس کے ساتھ ہی سلطان کی تلوار ٹوٹ گئ۔اس کے ساتھ ہی ایک اور انگریز نے اپنی بندوق کی نالی کا سرا سلطان کی کنپٹی کے ساتھ لگاتے ہوئے فائر کردیا اور وہ آفتاب جس کی روشنی میں اہل میسور نے آذادی کی حسین منازل دیکھی تھیں، ہمیشہ کیلیے غروب ہوگیا۔اس آفتاب کے روپوش ہونے کے ساتھ ہی ہندی مسلمانوں کے اوپر ایک تاریک دور آگیا۔
                                اگلے روز سلطان کا جنازہ جب محل سے نکلا تو سرنگاپٹم کا ہر بچہ اس جنازے میں شریک ہوا۔ہر چشم سلطان کے غم میں پرنم تھی۔اس روز شدید آندھی کے آثار آسمان پر تھے۔جیسے ہی سلطان کے مقدس جسم کی تدفین ہوئ ویسے ہی بادلوں نے اشک جاری کردیے۔
                           تاریخ گواہ ہے کہ اس دن اتنی بارش ہوئ کہ سرنگاپٹم کی گلیاں بازار ندیوں کا منظر پیش کر رہے تھے۔
                                دیکھنے والوں نے دریائے کاویری کی طغیانی دیکھی۔کاش وہ غدار جنہوں نے قوم کے مستقبل کا سودا کیا تھا، ایک دن اور انتظار کرلیتے تو دشمن کی فوج اسی دریا میں ڈوب جاتی______کاش،
                           سلطان معظم!
                            قوم کی جس آذادی کا آپنے خواب دیکھا تھا،وہ آذادی ایک ایسی قوم کو ملی ہوئ ہے جس کو دنیا پاکستانی کے نام سے جانتی ہے۔جو ریاست میسور آپنے قائم کی تھی، اور جو پورے ہند کے مسلمانوں کی محافظ تھی، آج اس جیسی ایک اور ریاست قائم ہے جسے دنیا پاکستان کے نام سے جانتی ہے۔اور یہ ریاست تمام عالم اسلام کی محافظ ہے۔قوم کے جو رضاکار آپکے قافلے میں شامل تھے، وہی رضاکار اس قافلے میں شامل ہیں۔یہ آفت و مصیبت کے وقت، یہ زلزلے اود سیلاب کے وقت امداد کی ناقابل یقین داستانیں رقم کردیتے ہیں۔اور میدان جنگ میں وہ افواج کے دوش دبدوش لڑتے ہیں۔اگر اس ریاست میں کہیں باغیانہ شعور بیدار ہو تو یہ رضاکار اٹھتے ہیں اور لوگوں کی اصلاح کیلیے چل دوڑتے ہیں۔مصائب جھیلتے ہیں، آہنی چٹانوں کو سر کرتے ہیں، اپنے لوگوں کے طعنے سنتے ہیں مگر آپکی طرح،آپکے رضاکاروں کی طرح،آپکی قوم کی طرح یہ لوگ اپنے حوصلے کم نہیں ہونے دیتے،اپنے منشور میں پیچھے نہیں ہٹتے۔
                             سلطان معظم!
                                           جس طرح آپکی ریاست اہل کفر اور انکے ہاتھوں میں کھیلتے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کھٹکتی تھی اسی طرح یہ ریاست کفار اور ان کے چیلے نام نہاد مسلمانوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی تھی۔
                                                  جس طرح آپ کی فوج کم تعداد ہوتے ہوئے بھی دشمن پر غالب رہتی تھی،اسی طرح اس ریاست کی فوج بھی بہادری کے جوہر دکھاتی ہے۔دشمن یہ سوچ کر ان پر حملہ کرتا ہے کہ یہ سو رہے ہوں گے، مگر یہ بیدار رہتے ہیں اور دشمن کو ایسا سبق سکھا جاتے ہیں کہ وہ کبھی بھول نہ پائے۔
                          سلطان معظم!
                                     جس طرح آپکی ریاست میں غدار تھے جو آپکی ریاست کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کی کوششیشیں کر رہے تھے اسی طرح اس ریاست میں بھی غدار پائے جاتے ہیں۔کچھ پہلے حکمران بن کر آتے ہیں،کچھ  الگ بھیس میں آتے ہیں-مگر پھر آفریں کہ اس ریاست کی چاک و چوبند افواج اور اس کے ساتھ ساتھ اس ریاست کی عوام ان غداروں کو انجام تلک پہنچاتے ہیں۔
                   اس ریاست کے لوگ اے سلطان معظم! آپکو بہت یاد کرتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپ کو اپنی انسپائریشن سمجھتے ہیں۔اس ریاست کے لوگ آپکے ہی اس قول پر یقین رکھتے ہیں کہ:
      "شیر کی ایک لمحہ کی زندگی،گیدڑ کی ہزار سالہ زندگی سے بہتر ہے۔”
                 اللہ سلطان معظم اور انکے ساتھیوں کے درجات بلند فرمائے جو آج کے دن یعنی 4 مئی کو انگریزوں کے خلاف لڑتے لڑتے شہید ہوئے اور ہماری اس ریاست پاکستان میں ان جیسے حکمران پیدا فرمائے۔
    اللہ پاکستان کا حامی و ناصر۔
    آخر میں علامہ اقبال کے کچھ اشعار:
    آں شہیدان محبت را امام
    آبروئے ہند و چین و روم شام

    نامشں از خورشید و مہ تابندہ تر
    خاک قبرش از من و تو زندہ تر

    ازنگاہ خواجہ بدر و حنین
    فقر سلطان وارث جذب حسین ؓ

  • بلوچستان ہائیکورٹ نے کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

    کوئٹہ : بلوچستان ہائیکورٹ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق کیس کا محفوظ فیصلہ سنا دیا بلوچستان عوامی ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ پروگرام پلاننگ کمیشن کے سفارشات سے منافی قرار دیا ہائیکورٹ نے 5 ارب 30 کروڑ کے بی اے ڈی ڈی پی کو معطل کردیا ہائیکورٹ کا حکومت پی ایس ڈی پی پر پلاننگ کمیشن کی سفارشات سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد کا حکم ہائیکورٹ نے آئندہ پی ایس ڈی پی بنانے سے متعلق حکومت کو ایک درجن کے قریب گائیڈ لائنز دے دیں اور حکومت 2019-20 اور مستقبل کے پی ایس ڈی پیز ان نکات کو مدنظر رکھتے ہوئے بنائے, حکم حکومت فنڈز مختص کرتے وقت جاری اسکیمات کو ترجیح دے تاکہ ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل ہو اور اضافی لاگت سے بچا جاسکے تعلیمی, زرعی, صحت, جنگلات, گلہ بانی پر محکمانہ پالیسی بنایا جائے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف اور عام عوام کو فائدہ پہنچے حکومت پی ایس ڈی پی میں خالصتا اجتماعی نوعیت, مفاد عامہ پر مبنی منصوبے شامل کرےہائیکورٹ کے حکم نامے میں دیگر نکات بھی شاملصوبائی پی ایس ڈی پی سے متعلق آئینی درخواست شہری شیخ عالم نے 2016 میں دائر کی تھی بلوچستان ہائیکورٹ کے جج جسٹس جمال مندوخیل اور جسٹس کامران ملاخیل پر مشتمل بینچ سے فیصلہ سنایا۔

  • جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔۔ سلمان آفریدی

    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں ۔۔۔۔ سلمان آفریدی


    بات آگے نہيں سچ پوچھو تو بہت آگے نکل چکی ہے ۔۔ جہاں سب سرے ہاتھ میں آ چکے ہیں ، ڈر دور ہو چکا ہے، خوف کے بادل چھٹ چکے ہیں اور بے بنیاد وسوسے اپنی موت آپ مرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سچ بہت کڑوا ہے جبکہ جھوٹ کے تانے بانے مکڑی کا جال ثابت ہو رہے ہیں۔

    سرپھرے سبز لہو سے وفا کی داستان لکھ رہے ہیں جبکہ ٹوپی بردار "انقلابیے” انارکی پھیلانے کو نئی سبیلیں تلاشتے پھرتے ہیں۔۔

    پیاری چندا! تمہاری سرخ "فتانت” کو سلام ۔۔ ایک زمانے سے رواج چلا آتا ہے کہ  بزعم خود ذہین و فطین نابغے زمام اقتدار سنبھالتے ہیں ۔۔ خوب گھڑمس مچاتے ہیں ۔۔ عوام کا لہو جونکوں کی مانند  چوستے ہیں ۔۔اربوں روپے ادھر ادھر کرتے ۔۔ اپنی ناقص پالیسیوں ، غلط فیصلوں اور کرسی سے چمٹے رہنے کی ہوس میں ملک و قوم کے گلے پر کند چھریاں پھیرتے ہیں اور جب جاں بلب احوال کی اصلاح شروع ہوتی ہے تو تم سب مل كر”اشارہ ابرو” کو قصوروار ٹھہراتے ہو ۔ 

    چندا رانی! ماجھے کی بھینس یہ خود کھولتے ، چوری کا الزام فوجے پہ دھرتے اور مارتے پنڈ کے مکینوں كو ہيں. صلح صفائی کی تو "تو رہن ای دے” اور واہ وا صرف اللہ بادشاہ کی ہے۔

    خدا ہدایت دے !شاہیں کو بے بال و پر کرنا ہو ، چیونٹی کو ہاتھی دکھانا ہو یا پھر سانپ کو نیولہ ثابت کرنے کی سامریت چلانی ہو تمہاری زبان کی کاٹ اور فکر کی کجی کی کوئی حد نہیں۔ رہی حد پر آپ کی شدومد تو ہمارے تو ذمے ہی نگہداری کی خدمت ہے۔ باقی سائیبیرین پرندوں کی سردیاں حرام کرنے "اربوں” کے دہ سالہ مہمان جنہیں اس پاک سرزمین پر فرعونیت کا دعوی تھا کو بھی سبھی جانتے ہیں۔

    جان کی امان کے ساتھ ایک محبت بھری گزارش سن لو تو شاید طبیعت کو افاقہ ہو جائے ۔ حالات اب واقعی وہ نہیں رہے بلکه بہت بہتر ہو چکے ہیں بیٹا باپ کے کندھے سے کندھا جوڑے اس کا دست و بازو بنا ہوا ہے ۔۔ جلنے والے کا منہ کالا۔

    اری او چندا ! تکنیک کی تو تم بات ہی چھوڑو کہ وہ سب تو ہم نے ” غیروں” کے لیے سنبھال رکھی ہیں رہی نئی نسل تو وہ اب زرد پراپیگنڈوں پہ کان نہیں دھرتی۔ تاریخ کے کوڑے دان سے بیمار اور جانبدار بیانیہ کے بجائے ذکاوت ، دلیل اور ہماری خوبصورت اقدار میں گندھی ہوئی یہ دانی بینی پیڑھی حقیقی اور پائیدار بیانیوں میں یقین رکھتی ہے اور اس سے بڑھ کر لمبی زبانوں کو لگام دینا  بھی خوب جانتی ہے ۔

    جھلی چندا! خدا لگتی تو یہ ہے کہ چوہدراہٹ والی تو تو نے بونگی ہی ماری ہے۔ کس  گھر میں مسئلے نہیں ہوتے ؟ یہ گھر کے مسئلے ہیں اور گھر میں ہی حل ہو جائیں گے۔ان کے لیے پیٹ سے کپڑا اٹھا اٹھا کر جگ ہنسائی کا سامان فراہم کرنا نری بےوقوفی ہے۔

    میری مانو تو پرانوں شرانوں کے اشلوک چھوڑو اور قران سے لو لگاؤ کہ ہمارے لیے اصل راہنمائی وہیں سے پھوٹتی ہے۔ چاہو تو وقت نکال کر چائے کی پیالی پر مل بیٹھو کہ تبادلہ خیال تو ہو سکے۔  رہی شہہ تو وہ سرحد پار سے آرہی ہے نہ کہ مقامی کردار سے ۔ نہ جانے تمہاری معلومات ناقص ہیں یا تم جان کے گھنی بنی جاتی ہو۔

    باقی دلاری چندا ! دنیا تو دیکھ رہی ہے ۔۔ مان رہی ہے ۔۔ سرپھروں کی لازوال قربانی کو ۔۔ ذرا تم بھی آنکھیں کھول کر دیکھنے کی زحمت کر لو۔ تمہارے بے سر پیر کے "اولامے” پر تو میں اپنے دو عظیم ملکی شاعروں کی روح سے معذرت کے ساتھ اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ 

    "وہ جدھر بھی گیا لوٹا تو میرے پاس آیا 
    جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں”

    (نوٹ: سفر میں ہونے کی وجہ سے موصوفہ کا کالم تاخیر سے دیکھا ورنہ نقد جواب چکا دیا جاتا۔)
    عاصمہ شیرازی کے جس کالم نے قلم اٹھانے پر مجبور کیا اسے ذیل کے لنک سے ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
    https://www.bbc.com/urdu/pakistan-48103207?ocid=socialflow_facebook

  • ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کے گندم خریداری مرکز کے دورہ کے دوران محکمہ خوراک کا عملہ غائب

    ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ ڈاکٹر احتشام انور نےآج گندم خریداری مہم کی نگرانی کے سلسلے میں گندم خریداری مرکز ریلوے سٹیشن مظفرگڑھ ون کا معائنہ کیا. اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ ظہور حسین بھٹہ بھی ان کے ساتھ تھے.ڈپٹی کمشنر کے دورے کے دوران فوڈ سنٹر پر محکمہ فوڈ کا عملہ غائب .ڈپٹی کمشنر نے سخت برہمی کا اظہار کیا . غیر حاضری پر فوڈ انسپکٹر مہر جاوید کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا حکم دیا.اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال حکومت پنجاب نے ضلع مظفرگڑھ میں محکمہ خوراک کو 1لاکھ 41ہزار 285میٹرک ٹن گندم خریداری کا ہدف دیا ہے . گندم خریداری کی عمل کو نہایت شفاف بنایا جارہا ہے. اس سلسلے میں غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی. انہوں نے کہا کہ ہر مرکز پر کاشتکارں کے بیٹھنے کیلئے سایہ دار جگہ، کرسیاں، پینے کے پانی اور بجلی پنکھوں کی سہولت فراہم کی گئی ہے .انہوں نے محکمہ خوراک کے عملے کو ہدایت کی کہ وہ تمام متعلقہ مراکز پر اپنی حاضری کو یقینی بنائیں.

  • مظفرگڑھ کے 8رمضان بازار 6مئی سے فنگشنل ہوجائیں گے

    ڈپٹی کمشنر ڈاکٹر احتشام انور نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی ہدایت پر اس سال بھی رمضان المبارک میں ضلع مظفرگڑھ میں مختلف مقامات پر 8رمضان بازار لگائے جارہے ہیں. جہاں سبزی، پھل، گوشت، مرغی اورانڈے سمیت دیگر ضروریات زندگی کی دیگر اشیاءسستے داموں وافر مقدار میں دسیتاب ہونگی. انہوں نے کہا کہ ان بازاروں میں آنے والوں کے لئے پینے کے پانی , سایہ دار شیڈ اور پنکھوں کا بھی انتظام ہوگا. اس کے ساتھ ساتھ امن وامان کے لیے سکیورٹی انتظامات بھی ہونگے. انہوں نے ہدایت کی کہ ضلع بھر کے بازاروں میں صفائی ستھرائی کا خاص خیال رکھا جائے انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ہے اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی.
    یہ بات انہوں نے آج مظفرگڑھ شہر میں فیاض پارک سے متصل قائم رمضان بازار اور خان گڑھ رمضان بازار کے دورے کے موقع پر کہی. اسسٹنٹ کمشنر مظفرگڑھ ظہور حسین بھٹہ سمیت دیگر متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موقع پر موجود تھے .انہوں نے انتظامات کا جائزہ لیا اور ہدایات جاری کیں.انہوں نے کہا کہ ضلع بھر میں رمضان بازار 6 مئی بروز پیر سے باقاعدہ طور پر فنکشنل کردئیے جائیں گے جہاں صبح سے شام تک عوام اپنی ضرورت کی اشیا خرید سکیں گے. انہوں نے بتایا کہ رمضان بازاروں میں نرخ نامہ آویزاں کیا جائے گاجس پر روزانہ کی بنیاد پر نرخ درج کئے جائیں گے، تمام رمضان بازاروں میں معیاری اشیاء خوردو نوش، سبزی، پھل، گوشت، مرغی کے علیحدہ علیحدہ سٹال لگائے جائیں گے. انہوں نے مزید کہا کہ اشیاء خوردو نوش کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا.انہوں نے کہا کہ رمضان پیکج کے تحت ضلع بھر میں آٹا، چینی، دالیں، بیسن، کجھور اور دیگر اشیا وغیرہ سبسڈائزڈ ریٹ پر عام مارکیٹ کی نسبت سستے داموں دستیاب ہونگے انہوں نے مزید بتایا کہ ضلع کے مخیر حضرات اور سماجی و فلاحی تنظیموں کے تعاون سے ضلع بھر میں مختلف مقامات پر مدنی دسترخوانوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جہاں مسافر, غریب اور مستحق روزہ دار افطاری کر سکیں گے.ڈپٹی کمشنر نے تمام تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ روزانہ کی بنیاد پر رمضان بازاروں کا معائنہ کریں اور اشیاء خوردونوش کی سستے داموں فراہمی کو یقینی بنائیں .