Author: Baaghi Entertainment

آنٹیاں بمقابلہ بیٹیاں، آزادی اظہار اور ٹیکنالوجی کے موضوع پر دلچسپ مباحثہ
آج کل کی مائیں اور بیٹیاں کیا توقعات کرتی ہیں؟ باغی ٹی وی کے مباحثہ میں آزادی اظہار اور ٹیکنالوجی کو موضوع بحث بنایا گیا ہے۔
آزادی اظہار کے حوالے سے والدین کا نقطہ نظر یہ ہے کہ آج کل کی بیٹیاں جواب دینے کے چکر میں بڑوں کا ادب اور عزت نہیں کرتیں، یہ دوستی کے چکر رشتہ داریوں کو پس پشت ڈال رہی ہیں۔ جبکہ لڑکیوں کے مطابق جس کے پاس دلیل ہو اسے بولنے کا حق ہونا چاہیے۔
انٹرنیٹ نے صحیح اور غلط کا علم دے دیا ہے۔ والدین کا کہنا ہے کہ ان کے پاس تجربہ ہے جو نوجوان نسل کے پاس نہیں ہے۔ لڑکیوں کو بھی لڑکوں کی طرح جاب کا مساوی حق حاصل ہونا چاہیے اور ان کے ساتھ مساوی سلوک کیا جانا چاہیے۔
دوسری طرف ماؤں کا کہنا ہے کہ گھر کے معاملات بھی تو کسی نے سنبھالنے ہیں۔ اگر لڑکیاں گھر کے کام نہیں کریں گی تو کیا مرد جاب کے بعد یہ کام کرے گا۔
ٹیکنالوجی کے حوالے سے والدین کا کہنا ہے کہ آج کل کے بچوں کے پاس موبائل ہے۔ والدین اگر موبائل سے روکیں تو یہ کہتے ہیں کہ ان کے معاملات میں مداخلت ہے۔
نوجوان نسل کے مطابق والدین ہماری پرائیویسی کو ڈسٹرب کرتے ہیں جو خود سے سیکھنے کے لیے ضروری ہے۔والدین کہتے ہیں کہ نوجوان نسل کو موبائل اور سوشل میڈیا دیکھ کر اتنی توقعات بڑھ جاتی ہیں جو کہ نوجوان نسل کے لیے نقصان دہ چیز ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ زندگی پرفیکٹ ہو اور خوشگوار ہو۔ موبائل اور ٹیکنالوجی کا ایک حدکے اندر ہونا چاہیے۔ان کو زندگی کے باقی کام بھی کرنے چاہئیں۔
حاصل کلام یہ ہے کہ ہر معاملہ کو اعتدال کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔ موبائل اور ٹیکنالوجی کا اتنا استعمال نہ ہو کہ نوجوان نسل باقی کام بھول جائے،۔ اسی طرح دوستی ضرور ہونی چاہیے لیکن رشتہ داریوں کو نظر انداز کر کے نہیں۔
باغی ٹی وی کو موصول ہونے والی نہایت ہی اچھی اور گھریلو ویڈیو جو آپ گھر میں دیکھ سکتے ہیں اور اس میں حصہ لے سکتے ہیں
ہمارے شرکاء نے حجاب پہنے ہوئے ہیں اور اپنا نام نہیں بتانا چاہتی ہیں لیکن یہ موضوع بہت اہم ہے آپ بھی اپنے گھر میں ویڈیو بنا کر باغی ٹی وی کو بھیج سکتے ہیں یاد رہے موضوع آپ کی مرضی کا ہوگا۔
اپنی ویڈیو دی گئی ای میل پر بھیجیں
newsroom@baaghitv.com
یا واٹس اہپ کریں0303-0204604
Stay Tuned to BAAGHITV
مجھے کامیابی ناکامی سے کوئی مطلب نہیں ہے
بھارتی اداکارہ راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے کامیابی یہ ناکامی سے کوئی فرق نہیں پڑتا میں صرف اچھا کام کرنا چاہتی ہوں.
اداکارہ راکل پریت سنگھ بالی وڈ کے لیے نئی لیکن جنوبی بھارت کی فلم انڈسٹری کے بڑے اداکاروں میں شامل ہیں اور کچھ عرصہ پہلے ہی انہوں نے اجے دیوگن کے ساتھ فلم ’دے دے پیار دے‘ میں کام کیا ہے جس میں وہ مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں.
دلی یونیورسیٹی سے تعلق رکھنے والی راکل پریت سنگھ کو بچپن سے ھی فلموں کا شوق تھا پنجابی آرمی آفیسر کے گھر پیدا ہونے والی راکل پریت سنگھ نے 18 سال کی ہی عمر میں ہی ماڈلنگ کرنا شروع کر دیا تھا.
کہا جاتا ہے کہ راکل پریت سنگھ نے جنوبی بھارت کی فلموں سے اپنے فلم کیرئر کا آغاز کیا ہے. لیکن راکل پریت سنگھ نے ایک انٹرویو میں بتایا کے ان کی پہلی فلم ہندی یاریاں تھی.
راکل پریت سنگھ نے کیا ہے کہ کامیابی ہویہ ناکامی مجھے ان باتوں سے کوئی مطلب نہیں ہے .
مجھے بس اپنی فلم کی رلیز سے مطلب ہے کہ وہ کدھر کدھر رلیز ہو رہی ہے.
راکل پریت سنگھ کہتی ہیں کہ مجھے بس کیمرے کے سامنے رہنا پسند ہے مجھے پیسے سے کوئی مطلب نہیں ہے اور نہ ہی میں پیسے کے لیے کام کرتی ہوں
مائرہ خان نے کیا پنجابی گانے پر ڈانس
مائرہ فلم کی دنیا میں تو ویسے سب کے دلوں پر راج کرتی ہی ہیں لیکن انہوں نے پنجابی گانے پر ڈانس کر کہ اج سب کو دیکھا دیا ہے کہ وہ ایک اچھی ڈانسر بھی ہیں.
مئراہ نے ایک پنجابی گانے پر ویڈیو بنا کر اپلوڈ کی جو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے بہت سے لوگ بہت شوق سے دیکھ بھی رہے ہیں اور اگئے بھی شیئر کر رہیے ہیں.
ویڈیو میں مئرہ کے ساتھ بلال بھی اپنا جلوہ دیکھاتے ہوے نطر آہ رہے ہیں بلال تو کچھ ہی دیر میں پیچھے ہٹ گئے لیکن کافی دیر تک اپنی اداوں کا جلوہ دیکھاتی رہیتی ہیں.
maira-khan-ka-punjabi-dance
یاد رہے کہ ڈانس کی ویڈیو مائرہ اور بلال کی عید الضحیٰ پر انے والی نئی فلم سپر سٹار کی شوٹینگ کے درمیان بنائی گئی تھی امید ہے کہ فلم بھی گانے کی طرح سب کے دلوں پر راج کرے گی
باجی بنی انویسٹر
فلم میرا یعنی باجی جس کی کاسٹ میں آمنہ الیاس، اسامہ خالد بٹ ،علی کازمی، محسن عباس ،نیر اعجاز ،نشو ،اور باجی یعنی میرا شامل ہیں
اس فلم میں ساری کاسٹ ایک طرف اور میرا جو کہ اس فلم کا ٹایٹل رول ادا کر رہی ہیں ایک طرف کیونکہ ساری فلم میں آپ کو باجی باجی ےیعنی میرا ہی نظر آیے گی کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ فلم باجی کی انویسٹر خود میرا ہی ہیں اس کا اندازا لوگوں کو تب ہوا جب ،اے ار وای، کے مارنگ شو میں فلم کی پرموشن کے لیے ساری کاسٹ اور فلم کے ڈائرئکٹر ثاقب ملک بھی آئے تو ثاقب ملک نے ایک انقشاف کیا کہ میں پچھلے 15 سال سے فلم بنانے کی کوشیش کر رہا تھا انہوں نے یہ بھی یہ کہا کہ کئی سین شوٹ کرتے ہوئے میرا نے میری مدد کی کہ کون سا سین کتنا وایڈ ہونا چاہیے اور کتنا ٹایٹ ہونا چاہیے ثاقب ملک جو کہ بڑے مانے ہوئے ویڈیو ڈائریکٹر ہیں کیا انہوں نے پندرہ سالوں میں فلم بنانے کی یہ تیاری کر رکھی تھی کہ سیٹ پر ان کو کوئی دوسرا بتا رہا ہے کہ سین کو شوٹ کس طرح سے کرنا ہے ایک تو میرا یعنی باجی نے یہ ثابت کر دیا کہ تم ٹی وی والوں کو کیا پتا کی فلم کیسے شوٹ کرتے ہیں اور اتنے مانے جانے والے ویڈیؤ ڈائریکٹر خوشی سے ان کی بات مانتے رہے یا تو انہوں نے کہی اندر اپنے اپ میں یہ تسلیم کر لیا تھا کہ واقع ہم ٹی وی والوں کو فلم شوٹ کرنا نہیں آتی یہ پھر وہ باجی یعنی میرا جی کی بات اس لیے مان رہے تھے کہ وہ خود اس فلم کی انویسٹر ہیں اس لیے ساری فلم میں خود باجی یعنی میرا جی خود دیکھائی دے رہی ہیں اور باقی ساری کاسٹ صرف سپورٹینگ کاسٹ کے طور پر کام کرتی ہوئی دیکھائی دے رہی ہے صرف نیر اعجاز کے علاوہ فلم دیکھنے والوں کو کسی نے متاثر نہیں کیا وہ بھی اس لیے کہ نیر اعجاز فلم سے ہیں باقی سب لوگ ٹی وی سے ہیں اور ایک دفع پھر ٹی وی والوں نے فلم دیکھنے والوں کو بہت مایوس کیا اور اس فلم کے میوزک نے بھی فلم کو زرہ سپارٹ نہیں کیا جیسا کہ دیکھا گیا ہے اس خطے میں ہٹ ہونے والی فلموں کی کہانی اچھی اور موسیقی بہت دل آویز ہوا کرتی تھی جس کی وجہ سے لوگ فلم دیکھ کر محظوظ ہوا کرتے تھے اور بار بار اس فلم کو دیکھنے کے لیے سینما گھروں میں اتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہوتا نہ کوئی آچھی کہانی لکھنے والے کو ترجح دیتا ہے اور نہ ہی اچھی موسیقی یعنی فلم کی موسیقی ترتیب دینے والے کے پیچھے کوئی جاتا ہے فلم کا گانا بھی سکرپٹ کا ایک حصہ ہوتا ہے جو کہانی کو لے کر آگے چلتا ہے فلم کے گانے میں جو شعاری ہوتی ہیں وہ گانے سے پہلے والی کہانی کو گانے کے بعد والی کہانی سے جوڑتی ہے یہ ائک فلم والا ہی سوچ سکتا ہے کہ گانے کی سچویشن کیسے بنانی ہے جبکہ ٹی وی والوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی اسی لیے فلم باجی کا کوئی گانا لوگوں کے کانوں سے ہوتا کی دلوں میں نہیں اترا اس فلم کی موسیقی دینے والوں نے کچھ پرانی لائن اور پرانی دھنوں کو ہی ری ڈو کر دیا کیا ہمارے پاس اسے موسیقار یہ شاعر موجود نہیں جو کسی بھی فلم کے لیے نئے گانے بنا سکیں وسے ثاقب ملک کی پندرہ سال کی محنت یہ رنگ لائے گی کیا انہوں نے ایسا سوچا ہوگا لہازا ہماری پنجابی فلم کا مزاق اڑاتے تھے یہ اڑاتے ہیں وہ اپنے فلم دیکھنے والوں کی تعداد اتنی تو بنا لیں جتنی پنجابی فلم دیکھنے والوں کی تھی
اگر اپ کو فلم بنانے کا اتنا ہی شوق ہے تو فلم بنایئں ضرور بنایئں اپنے پیسوں سے بنایئں یہ کسی کے پیسوں سے بنایئں ایک بات کا خیال رکھیں کہ اپنے کام کے ساتھ انصاف ضرور کریں جو لوگ اپنی محنت کی کمائی سے ٹکٹ لے کر آپکی فلم دیکھنے اتے ہیں خدارا انکو مایوس مت کریں .
فلم ماڈرن ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن ثاقب ملک کو چاہیے کہ وہ بھی سینما میں بیٹھ کر فلمیں دیکھا کریں گھر میں ٹی وی پر فلم دیکھنے سے کبھی نہیں پتا چلے گا کہ فلم کیسے بناتے ہیں
ارتضیٰ بنی میرا ،میرا بنی باجی (ثاقب کی ) اور باجی ارتضیٰ سفر دوبارہ شروع .
پرانی فلموں میں ہسپتال کی نرس کا کردار ماں نبھاتی تھی لیکن اب ہیرون بنی باجی
جہان ثاقب ملک کو خاص طور پر ناظرین سے معافی مانگنی چاہیے جو سر میں درد لے کر اٹھے وہاں ایس سلمان اور مرحومہ نیر سلطانہ کی قبر پر جا کر بھی معافی مانگنی چاہیے .
ثاقب ملک نے باجی ٹائٹل کے ساتھ وہی سلوک کیا جو کچھ عرصہ پہلے مومنہ اور آحد رضا میر نے ،کوکو کورینا، کے ساتھ کیا لہازا میں اپنے حصے کی پیناڈول کھانے جا رہا ہوں
کرینا کپور اور سیف علی خان گرمیوں کے ملبوسات میں. تصاویر دیکھیں
بالی ووڈ کے معروف اداکار سیف علی خان اور کرینا کپور ہر دفعہ کی طرح مداحوں کو نت نئے ملبوسات پہن کر متاثر کرتے آئے ہیں. اپنے بیٹے تیمور کے ساتھ سیف علی خان اور کرینہ کپور نے فیشن کو نیا نام دیا ہے.
سیف علی خان اور کرینہ کپور نے ماضی میںمتعدد فلموںمیںایک ساتھ اداکاری کے جوہر دکھائے ہیںِ. جن میںایجنٹ ونود نمایاں ہے. جوڑے کو ایک نیوٹریشنسٹ کے کلینک کے باہر گرمیوںکے ملبوسات میں دیکھا گیا جس کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کر لیا . مداح جوڑے کی ملبوسات کے انتخاب کیصلاحیت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے.














