Baaghi TV

Author: Baaghi Women

  • سردیوں میں "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے

    سردیوں میں "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے

    انسان سبز پتوں والی سبزیاں اور ساگ دونوں کا ساتھ بہت پرانا ہے غذائی اہمیت کے لحاظ سے ان کی حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد ان ہی سا گوں اور سبزیوں پر قائم ہے قدرت ان ہی کے زریعے زندگی کی تعمیر کے لئے ایسے ضروری اجزاء تیار کرتی ہے جو اچھی صحت کے لئے نہایت ضروری ہوتے ہیں ساگ میں جسم کو نشونما دینے والے اجزا بکثرت پائے جاتے ہیں مثلاً وٹامن اے ، بی، ای اور پروٹین وغیرہ اس کے علاوہ ساگ میں کیلشئیم کلورین سوڈیم فاسفورس فولاد بھی کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں ،بچوں کی نشونما اور پرورش میں بھی ساگ بہت مفید ہے اگر بچپن سے ہی بچوں کو ساگ اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالی جائے تو یہ عادت انہیں زندگی بھر بہت سی مشکلات اور بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے

    سردیوں کے موسم میں اگرچہ بہت سے پکوان سامنے آتے ہیں تا ہم "ساگ” کا اپنا ہی مزہ ہے، ساگ پنجاب میں زیادہ پکایا جاتا ہے ، پنجاب میں دیہاتوں میں ساگ کے ساتھ لسی، دیسی گھی اور مکئی یا باجرے کی روٹی کھائی جاتی ہے،ساگ پکانے میں کافی وقت صرف ہوتا ہے، ساگ توڑنا، یا پھر بازار سے لانا، اسے کاٹنا ، اور پھر پکانا اور پکنے میں کافی دیر،یوں بھوک بھی شدید اور ساگ بھی گرما گرم تو کھانے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے

    ساگ پکانے کے لئے سب سے پہلے ساگ کو چھری کی مدد سے باریک باریک کاٹیں اور پھر اسکو اچھی طرح دھوئیں کیونکہ ساگ میں مٹی یا ریت ہو سکتی ہے، ساگ کو دھو کر اسے صاف پانی میں پتیلے میں ڈال کر آگ پر رکھ دی، سبز مرچ بھی ڈال دیں اور تب تک پکائیں جب تک گل نہ جائے، جب ساگ گل جائے تو دوسرے برتن میں گھی ڈالیں اور مصالحہ بنا لیں، مصالحے میں سبز پیاز، لہسن، ادرک اور حسب ذائقہ نمک کا استعمال کریں، مصالحہ بن جائے تو اس میں ساگ ڈال دیں ، اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہونے کو ہیں اور اگلے ہی چند لمحوں میں ملے گا گرم گرم …ساگ…

  • پروجیکٹ نہ ملنے کا دکھ، حرا مانی کا سٹاف پر تشدد، گندی گالیوں کی چیٹ منظر عام پر

    پروجیکٹ نہ ملنے کا دکھ، حرا مانی کا سٹاف پر تشدد، گندی گالیوں کی چیٹ منظر عام پر

    پروجیکٹ نہ ملنے کا دکھ، حرا مانی کا سٹاف پر تشدد، گندی گالیوں کی چیٹ منظر عام پر
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹی وی انڈسٹری کی مشہور اداکارہ حرا مانی نے شوبز انڈسٹری میں پراجیکٹس نہ ملنے کا غصہ اپنے ہی ملازمین پر نکال دیا

    حرا مانی نے پروجیکٹس نہ ملنے پر اپنے ہی ملازمین کو تشدد کا نشانہ بنا دیا، انہیں دھمکی آمیز اور گالیوں والے پیغامات بھیجے اپنے ہی سٹاف کو تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔ حرا مانی کے ساتھ کام کرنے والے نزہت عابد جعفری کی جانب سے ایک پیغام سامنے آیا ہے جس میں نزہت عابد جعفری نے تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ پروڈکشن کے سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اداکارہ حرا مانی کے سابق منیجر کے طور پر بھی کام کیا،کچھ ثبوت بھیج رہی ہوں جو حرا مانی اور اسکے بھائی طلحہ نے بات چیت کی، اسکے سکرین شاٹس اور آڈیو پیغام ہیں، نزہت عابد جعفری کا کہنا تھا کہ حرا مانی نے مجھ پر تشدد کیا ،گالیاں دی ہیں، اس حوالہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آگاہ کر چکی ہوں

    حرامانی کی جانب سے نزہت عابد جعفری کو ملنے والے پیغامات جنکے سکرین شاٹس سامنے آئے ہیں اس میں گالیاں دی گئی ہیں

    نزہت عابد جعفری نے ااپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میری طرف سے کوئی ایسا معاملہ پیش آیا ہو جس سے ان کا کوئی بڑا نقصان ہوا ہو، ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، اس کے بعد دو تین دن ایسا چلتا رہا، دو تین دن میرا ان سے رابطہ نہیں ہوا، نہ ہی ان سے رابطہ کیا، بلکہ ان کا نمبر بلاک لسٹ میں ڈال دیا، یہاں تک میں نے اپنا موبائل پھینک دیا، ان کا میرے دوسرے نمبر فون آیا، وہ کہتے ہیں کہ میرا تو بیڑا غرق ہوگیا ہے، میرا کام کوئی سنبھال نہیں پا رہا ہے، پھر ہم سے فیصلہ کیا کہ ہم کام کرتے ہیں، یہ بات مارننگ شو سے ایک دن پہلے کی ہے، میں وہاں گئی وہاں جا کر معافی وغیرہ مانگ لی، پیچھے کیا ہوا مجھے نہیں پتہ، پل پل میں چیزیں بدل جاتی ہیں، اگلے دن ہم مارننگ شو پر گئے، مارننگ شو کے بعد ہم سیٹ پر آئے، وہاں سب خوش باش تھے، اگلے ہی دن ،ماحول تبدیل ہوگیا، اتوار کو یکثر ہی ماحول تبدیل ہوگیا تھا، مجھے اس طرح کی کالز اور میسج آرہے تھے کہ میں سمجھی کہ میری نوکری چلی گئی ہے، مجھے ڈر تھا کہ میری نوکری نہ چلی جائے، وہ مجھے سے مختلف نمبر مانگ رہی تھیں، چونکہ میں جھوٹ نہیں بول رہی تھی تو میں نمبر دے دیے، ایک ہفتہ بہت مشکل گزرا، 13 تاریخ یک بہت بدتمیزی کی گئی تھی، مجھے اس بات پر ڈانٹا جا رہا ہے، مگر جب وہ بندہ سامنے آتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے سے غلطی ہوگئی تھی، میں جو بھی بات کرتی تھی تو مجھے لعن طعن کی جاتی تھی، سیٹ پر سب کے سامنے مجھے ذلیل کیا گیا تھا، میں نے وہ سب کچھ بھی برداشت کیا تھا، ہم نے 13 تاریخ کو ایوارڈ شو کیلئے لاہور جانا تھا، اسی دن انکے دفتر میں ایک میٹنگ بھی تھی، وہاں بھی گئے تھے، وہاں بھی ان کا رویہ بہت غلط تھا، ان کا رویہ ایسا تھا کہ وہ مجھے اٹھا کر پھینک دیں گے، میں وہاں سے فری ہو کر ائرہورٹ چلی گئی، جب ہم لاؤنچ میں بیٹھے تو وہاں پر پیسے میں نے دیے،

  • تین روزہ برسات، قصور ، گردونواح، کھیت کھلیان اور گلی محلے پانی میں ڈوب گئے

    تین روزہ برسات، قصور ، گردونواح، کھیت کھلیان اور گلی محلے پانی میں ڈوب گئے

    تین روزہ برسات تاحال جاری،پورا شہر قصور ، گردونواح، کھیت کھلیان اور گلی محلے پانی میں ڈوب گئے،برسات تاحال جاری،مکئی کی نئی بوئی فصل تباہ،بیشتر گھروں کی کچی چھتیں و دیواریں گر گئیں

    تفصیلات کے مطابق قصور اور گردونواح میں پرسوں جمعرات سے وقفے وقفے سے برسات کا سلسلہ جاری ہے تاہم کل صبح 8 سے 2 بجے تک ہونے والی شدید برسات سے شہر قصور و گردونواح کے کھیت کھلیان گلی محلے پانی میں ڈوب گئے ہیں
    خاص کر اندرون شہر کے گلی محلے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں جبکہ نواحی تمام دیحات بھی جوہڑ کا منظر پیش کر رہے ہیں زیادہ بارش سے لوگوں کی کچی دیواریں اور چھتیں گر گئی ہیں
    شدید بارش سے مکئی کی تازہ بوئی فصل مکمل برباد ہو چکی ہے جںس سے زمینداروں کو کافی مالی نقصان ہوا ہے
    ندی نالے راجباہیں پانی سے بھر چکی ہیں جن سے پانی نکل کر کھیتوں میں داخل ہو رہا ہے
    انڈیا سے نکلنے والے دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے جس سے قریبی دیہات میں سیلاب کا خدشہ ہے
    خدشہ کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ متحرک ہو گئی ہے
    تاہم برسات کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس کے باعث لوگ مساجد میں بار بار اذان دے رہے ہیں
    لوگوں نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعائے رحم کی اپیل کی ہے
    رپورٹ غنی محمود قصوری
    ڈسٹرکٹ رپورٹر باغی ٹی وی قصور

  • ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    ‏ہمیں سزا قبول کرنے کی عادت ڈالنا پڑے گی:تحریر: عرفان محمود گوندل

    گزشتہ کچھ دنوں سے اسلام آباد میں ویڈیو سکینڈل کے حوالے سے سوشل میڈیا پہ کافی گفتگو جاری ہے ۔
    ابھی تک کی اپ ڈیٹس کے مطابق معاشرے کے بہت سے طبقات خفیہ طور پر اس گناہ پر مٹی ڈالنے اور مجرمین کو سزا سے بچانے کی سر توڑ کوشش کررہے ہیں ۔ ہر طرح کے جوڑ توڑ جاری ہیں ۔۔
    معاشرے قوانین پر عمل کرنے سے پھلتے پھولتے ہیں ۔۔ نبی پاکؐ کی حدیث اور واقع موجود ہے کہ چوری کے مجرم کے لئے سفارش آگئی تو آپؐ نے فرمایا کہ اگر میری بیٹی فاطمہ بھی یہ جرم کرتی تو یہی سزا دیتا۔
    سزا کسی بھی معاشرے میں جرائم کو روکنے کا راستہ ہوتا ہے ۔ لیکن ہمارے ہاں صورت حال اس کے الٹ ہوتی ہے ۔۔ ہم لوگ سزا سے بچانے کی کوشش شروع کردیتے ہیں ۔
    پچھلے کچھ عرصے میں ملتان کا ایک ایسا ہی زنا کا واقعہ زیر بحث ہے۔
    جس میں بیٹی نے باپ پر زنا کا الزام لگایا اور بعد میں مکر گئی ۔۔
    اور کچھ دن پہلے کا ‎#مولوی_سکینڈل بھی آپ کے سامنے ہے ۔
    میری ایک وکیل دوست سے بات ہوئی ۔ ان کا کہنا تھا کہ زنا اور تشدد کے کیس میں سوائے قصور والے کیس کے یا ایک دو اور کیسز میں کسی مجرم کو سزا نہیں ہوئی صلح ہوجاتی ہے ۔۔
    میں نے اپنے علم کے مطابق پھر سوال کیا کہ زنا گناہِ کبیرہ ہے جس کی صلح کا کوئی تصور نہیں ہے یعنی سزا ہی ملنی ہے تو پھر صلح کیسے ہوتی ہے ؟
    وکیل نے کہا جو فریق مجرم قرار دیا جائے وہ مدعی کو پیسے کا لالچ دے کر اس بات پہ آمادہ کرتا ہے کہ مدعی اپنے پہلے بیان سے مکر جائے اور عدالت میں یہ بیان دے کہ اندھیرے کی وجہ سے میں نے غلط بندے پہ الزام لگایا یہ وہ شخص یا عورت نہیں ہے ۔۔
    جبکہ بیک ڈور چینل میں کچھ ” قوتیں ” صلح کی گواہ بن جاتی ہیں ۔ اس طرح ایک جرم پہ پردہ ڈال دیا جاتا ہے ۔۔
    مدعی کو پیسے مل جاتے ہیں اور مجرم سزا سے بچ جاتا ہے ۔
    مجرم کو شہہ ملتی ہے ۔ ایسے لوگ جو اس طرح کی نیت کررہے ہوتے ہیں وہ بھی حوصلہ پاتے ہیں اور اس طرح کے جرائم میں اس لئے شامل ہوجاتے ہیں کہ صلح کرنے کا راستہ موجود ہے ۔۔
    اس طرح پورا معاشرہ آہستہ آہستہ گناہ کی دلدل میں دھنستا چلا جاتا ہے ۔۔
    ہمارے پاکستان میں یہ روایت بن چکی ہے ۔۔ کہ جیسے ہی کسی سے جرم سرزد ہوتا ہے اس کے لواحقین دھوتیاں اور تھِگڑیاں سنبھال کے بڑے بڑے سیاسی ڈیروں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں کہ کسی طرح جرم کی سزا نہ ہو ۔ ۔
    ہمارا معاشرہ ہر صورت مجرم کو پناہ دینے کا عادی ہوچکا ہے ۔۔ اس کے پیچھے محرکات کیا ہوتے ہیں ان میں کچھ تو واضح ہیں
    سرکاری افسر ہمیشہ اس طرح کی ” مرغی ” کو ذبحہ کرتے ہیں جو کسی جرم میں پھنس چکی ہو۔۔

    ہم لوگ تو وہ ہیں کہ سڑک پہ چالان ہوجائے تو بجائے اپنا جرم تسلیم کرنے کے ہم کسی بڑے کو فون ملا کے سفارش کرواتے ہیں ۔
    بعض دفعہ یوں لگتا ہے جیسے ہمارے معاشرے میں مجرم ہے ہی کوئی نہیں ۔۔ یہاں سارے فرشتے ہی رہتے ہیں یہاں کے سارے لوگ سچے ہیں ، یہاں کے سارے لوگ جو کچھ کہتے ہیں وہی درست ہوتا ہے یہاں تک قانون غلط ہوجاتا ہے ، شراب کی بوتل شہد کی بوتل میں تبدیل ہو جاتی ہے لیکن ہم اپنا جھوٹ تسلیم نہیں کرتے ۔۔
    جب ایک معاشرہ ایسا ہوگا جس میں جرم ہوگا لیکن سزا نہیں ہوگی بلکہ مجرم جب جیل سے بھاری رشوت کے عوض جیل سے رہا ہوتا ہے تو اس پہ گل پاشی کی جاتی ہے اسے پھولوں کے ہاروں سے لاد دیا جاتا ہے وہ وکٹری کا نشان بنا کے بڑی گاڑی میں کھڑا ہو کے عوام سے داد وصول کرتا ہے اور ہمارے قانون کا مذاق اڑاتا ہے ، آیان علی جیسیاں ہمارے قانون کو انگلی دکھاتی ہیں۔ نواز شریف اور الطاف حسین جیسے قانون کی آنکھوں میں دھول جھونک کر باہر کے ملکوں میں بیٹھ کے عیاشی کرتے ہیں ۔۔
    ہونا اسلام آباد ویڈیو سکینڈل میں بھی ایسے ہی ہے ۔۔ جیسا کہ وکلا کہہ رہے ہیں کہ انجام صلح ہی ہونی ہے ۔ صرف ریٹ کا مسلہ ہے
    یہ صرف اسی کیس میں نہیں بلکہ ہر کیس کا حال ہے ۔۔۔ جو بھی جرم ہوتا ہے اس میں انجام کار صلح ہوتی یا مجرم کو بچانے کے لئے ہر طرح کے سیاسی سماجی اثرو رسوخ کو استعمال کیا جاتا ہے ۔
    چلیں ہم بھی دیکھتے ہیں کہ کیا انجام ہوتا ہے ۔۔

  • محبت برابری کے اصول پہ نہیں ہوتی….!تحریر۔۔۔ محمد احمد

    محبت برابری کے اصول پہ نہیں ہوتی….!تحریر۔۔۔ محمد احمد

    ہر "کامیاب محبت ” کے پیچهے ایک فرد کی انا کا خون ہوتا ہے…!!
    محبت میں قربانی دینی پڑتی ہے…
    اپنی "انا” کی…
    اپنی "میں” کی…
    بعض اوقات شدید محبت بهی ناکام ہوجاتی ہے…!
    بیشک اس میں آپ اس محبت نامی دیوتا کو ہر چیز کی بلی چڑهاو دو…
    یہ حقیقت ہے کہ محبت کرنے والے بے شمار غلطیوں کو دہراتے ہیں، بالآخر یہ غلطیاں اس محبت کے تاج محل کو ریزہ ریزہ کر ڈالتی ہیں، اسی لئے لارڈ بائرن کہتا ہے کہ
    ’’جلد یا بدیر محبت اپنا انتقام خود بن جاتی ہے‘‘،یہ محبت کرنے والے نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوتے ہیں، انہیں محبوب کی ہر ادا اچھی لگتی ہے، محبوب کا ہر غم اپنا غم لگتا ہے اور ہر داستان محبت کو کم و بیش اپنی ہی زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں،

    محبت یک طرفہ ہوتی ہے…
    دو طرفہ نہیں…
    اور دو طرفہ تو معاہدے ہوتے ہیں…
    محبت نہیں…

    کسی شاعر نے محبت کی تعریف یوں بھی کی ہے کہ
    اک لفظ محبت کا ادنیٰ سا فسانہ ہے
    سمٹے تو دل عاشق، پھیلے تو زمانہ ہے

    اقبالؒ فرماتے ہیں کہ
    یقین محکم، عمل پیہم اور محبت فاتح عالم کے ساتھ زندگی کے عملی میدان میں کامیاب ہوا جا سکتا ہے اور یہی تینوں چیزیں اسلحے کا کام دیتی ہیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ یقین اور محبت کے ساتھ کشمیر فتح ہو سکتا ہے، اس کے لیے عمل اور جدوجہد شرط ہے۔

    کہتے ہیں بے آب و گیا تپتی دهوپ کے صحرا میں محبت ایک سرسبز و شادب بند قلعہ ہے…. جس کے دروازے….!!
    سوچنے والوں پہ نہیں کهولتے….!!!!!!

    تحریر۔۔۔ محمد احمد
    @EyeMKhokhar

  • لذیز رینبو آئسکریم کسٹرڈ

    لذیز رینبو آئسکریم کسٹرڈ

    رینبو آئس کریم کسٹرڈ

    اجزاء:
    کسٹرڈ(مینگو، بنانا،اسٹرابیری فلیور)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔1،1 کپ (تیار شدہ)
    جیلی(سبز اور سرخ)۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2 کپ(تیار شدہ)
    مینگو آئس کریم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آدھا لیٹر
    پلین کیک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک عدد
    فریش کریم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک پیکٹ

    طریقہ:
    پہلے تینوں کسٹرڈ اور جیلی تیار کرلیں۔ پھر آئس کریم، جیلی اور کسٹرڈ فریزر میں رکھ کر خوب ٹھنڈا کرلیں۔ اب ایک کرسٹل کے پیالے میں پہلے کیک کے ٹکڑے بچھا دیں۔ پھر باری باری کسٹرڈ کی تہہ بچھائیں۔ ہر تہہ میں آئس کریم، جیلی کے چوکورٹکڑے اور فریش کریم بھی ڈالتے جائیں۔ آخر میں جیلی اور کریم سے سجا لیں۔ پیالے کو فریزر میں رکھ کر ایک بار پھر خوب ٹھنڈا کرلیں۔ لذیذ ذائقہ دار کسٹرڈ تیار ہے جو دے دسترخوان کو اور بھی رونق۔۔۔۔

  • پیروں کی خشک اور کھردری جلد کی حفاظت کیجئے ہوم میڈ سکرب سے

    پیروں کی خشک اور کھردری جلد کی حفاظت کیجئے ہوم میڈ سکرب سے

    ہمارے جسم کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا عضو پاؤں ہے۔ بعض اوقات انہیں ٹائٹ شوز میں پھنسا دیا جاتا ہے یا پھر سٹائلش جوتے ان کے لیے مصیبت بن جاتے ہیں، یہ سارا دن ہمارا وزن اٹھاتے ہیں۔ایسے میں ضروری ہوتا ہے کہ ان کی دیکھ بھال مناسب طریقے سے کی جائے اور ان کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھا جائے۔ صاف ستھرے ناخن ،اور میل کچیل سے پاک پاؤں پُروقار اور شاندار لگتے ہیں۔
    یہ خوبصورت اور نازک فیتوں والی سینڈلز پہننے کا موسم ہے لہذا کسی تقریب یا میل ملاقات کے موقع پر ایڑیوں اور تلوے کی کھردری اور خراب جلد آپ کا سارا تاثر ماند کر سکتی ہے۔ اس کے لیے فٹ اسکرب بہترین حل ہیں۔ ان کی مدد سے آپ خشک اور کھردری جلد اتار کر اپنے پیروں کو نرم و ملائم اور ہموار بنا سکتی ہیں۔ خوشبو اور تازگی کا احساس اسکے علاوہ ہے۔گھر میں فٹ سکرب کیسے تیار کیا جاتا ہے اور اس کاٹھیک استعمال نیچے درج ہے۔
    اجزاء:
    ایپسم نمک : 1/2 کپ
    کیمومائل یا لوینڈر کا تیل : 20قطرے
    پھولوں کی پتیاں : مٹھی بھر
    انگور کے بیج کا تیل یا سورج مکھی کا تیل : 1/4کپ
    ترکیب اور طریقہ استعمال:
    ایک باؤل کو نیم گرم پانی سے بھر لیں اور اس میں 1/4کپ نمک ، کیمومائل یا لوینڈر ( Lavendor ) تیل کے 10 قطرے اور پھولوں کی پتیاں ڈال کر اس پانی میں تقریباً10منٹ کے لیے اپنے پاؤں کو سکون سے بھگو کر رکھیں۔پھر انگور کے بیج کا تیل یا سورج مکھی کا تیل اور کیمومائل یالوینڈر تیل کے 10 قطرے ڈال کر ملائیں اور اس آمیزے سے پاؤں کو رگڑیں، خاص طور پر تلووں اور ایڑیوں پہ خصوصی توجہ دیں۔اگر آ پ کی جلد بہت حساس ہے تو نمک کی جگہ موٹی چینی استعمال کر سکتے ہیں۔
    وقت کی کمی کی وجہ سے اگر سکرب نہیں بنا سکتیں ہیں تو روزانہ رات کو سونے سے پہلے نیم گرم پانی میں نمک ڈال کر 15منٹ تک پاؤں بھیگے رہنے دیں۔ اب جھانویں سے پاؤں رگڑیں دھونے کے بعد پاؤں خشک کر کے لیمن کریم لگا لیں۔ اس سے آپ کے پاؤں دن بھر کی بھاگ دوڑ کی تھکاوٹ سے آرام پائیں گے۔

  • چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    چھوٹے اور باریک بالوں سے پریشان خواتین خوش ہوجائیں

    خوبصورت اور گھنے بال کرنا اب بس ایک خواب ہی نہیں اگر آپ مندرجہ ذیل طریقے استعمال کرتی ہیں تو آپ کے بال بھی گھنے اور لمبے ہو سکتے ہیں.

    بالوں کا کاٹنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کی بہتر نشوونما چاہتے ہیں تویہ اس کا سب سے آسان طریقہ ہے۔ ماہرین کے مطابق ہر 4 سے 8 ہفتوں کے دوران بال کٹوانے سے ان کی صحت پر انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بالوں کو بڑھنے میں مدد ملتی ہے جب کہ اس طریقے سے بال مضبوط اور گھنے بھی ہوتے ہیں۔

    نیم گرم تیل سے مالش کرنا:
    کمزور بالوں سے نجات کے لیے سر پر نیم گرم تیل کی مالش بھی انتہائی مفید ہے اس سے نہ صرف نئے بال تیزی سے اگتے ہیں بلکہ انسان گنج پن سے بھی محفوظ رہتا ہے جب کہ بالوں کی خشکی سے محفوظ رہنے کے لئے بھی یہ طریقہ کارگر ہے۔ سر کی مالش کے لیے زیتون اور کھوپرے کا تیل زیادہ مفید ہوتا ہے۔

    بالوں میں انڈے کی زردی لگانا:
    سر میں انڈے کی زردی لگانے سے نہ صرف بال گھنے اور مضبوط ہوتے ہیں بلکہ اس سے بالوں کی چمک اور خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے علاوہ یہ بالوں کی جڑوں کو بھی مضبوط بنانے میں مددگار ہوتا ہے۔

    دن میں 50 بار کنگھا کرنا:
    اگر آپ اپنے بالوں کے مسائل سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے دن میں کم از کم 50 بار کنگھا ضرور کریں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سر میں کنگھا کرنے سے نہ صرف بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں بلکہ بالوں کا گرنا بھی کم ہوجاتا ہے۔

    جسمانی صحت کے اثرات:
    خون کی کمی یا جسمانی طور پر کمزور شخص کے بال کبھی بھی صحت مند توانا اور گھنے و سیاہ نہیں ہوں گے اس لیے صحت کی طرف توجہ ضروری ہے جب کہ اس سلسلے میں غذا میں موسمی پھل، سبزیاں، دودھ اور دہی کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے۔

  • چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    چہرے کی پرکشش جلد کے لئیے بنائیے گھریلو کولنگ ماسک

    گھر ہو یا آفس۔۔۔۔ گرمی کی شدت سے ہوئیں سب خواتین پریشان۔۔۔ چہرے کی نرم و نازک جلد اس گرمی سے کشش کھو بیٹھی۔۔۔ تو پریشان مت ہوں آئیے گھر پر ماسک تیارکیجئیے اور چہرے کی نازک جلد کو گرمی کے اثرات سے بچائیے۔۔۔۔
    گھر میں بنائے جانے والے ماسک کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گھریلو ماسک ہر طرح‌کے کیمیکل سے پاک ہوتے ہیں. گھریلو ماسک پھلوں ، سبزیوں، انڈوں‌ سے تیار کئے جاتے ہیں. اس قسم کے ماسک کیلشئیم سے بھرپور اور جلد کےلئیے موزوں‌ہوتے ہیں. گرمیوں‌میں‌چہرے کو ٹھنڈک پہچانے اور جلد کو نرم و ملائم بنانے کے لئے زبردست نسخہ درج ذیل ہے.
    اجزاء
    چھوٹی الائچی ایک چائے کا چمچ
    بادام کاپیسٹ ایک چائے کا چمچ
    کافور ایک چائے کا چمچ
    ملتانی مٹی ایک چائے کا چمچ
    پودینا ایک چائے کا چمچ

    طریقہ
    ان تمام اجزاء کو پیس کر کسی پیالی میں ڈال لیں اور اس میں حسب ضرورت عرق گلاب یا پانی شامل کریں اور اس کا پیسٹ تیار کریں۔اب اسے چہرے پر لگائیں اور پندرہ منٹ لگا کر چہرہ دھو لیں۔ایک دن کے وقفے سے لگائیں۔دو دفعہ کے استعمال سے ہی آپ کی جلد نرم و ملائم اور خوبصورت ہو جائے گی. ان شاء اللہ

    اس ماسک کا کولنگ ایفیکٹ چہرے کی جلد کو گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے. اس میں شامل بادام چہرے کی جلد کو شادابى دیتا ہے۔

    گھریلو ماسک استعمال کرنے سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ کی جلد کی نوعیت کیا ہے.یہ ماسک پسینے سے نجات اور ایکنی کے لئے بھی بہت اچھاہے لیکن ڈرائے سکن کی حامل خواتین استعمال نہ کریں۔ (more…)

  • کیا آپ ایکنی نشانات سے پریشان ہیں؟

    کیا آپ ایکنی نشانات سے پریشان ہیں؟

    خواتین اپنے چہرے کی جلد کو خوبصورت بنانے کے حوالے سے بڑی حساس ہوتی ہیں اور وہ چاہتی ہیں کہ ان کا چہرہ داغ دھبوں اور کیل مہاسوں سے پاک ہولیکن آج کل کی مرغن غذاؤں اور فاسٹ فوڈز وغیرہ کھانے کی وجہ سے چہرے پر چھوٹے چھوٹے دانے نکلتے ہیں اور جب یہ دانے ختم ہوتے ہیں تو جاتے جاتے جلد پر نشان چھوڑ جاتے ہیں ۔جو دیکھنے میں بہت بدنما لگتے ہیں ۔ ایکنی کی وجہ سے بننے والے ان داغ دھبوں کو ختم کرنے کے لیے مارکیٹ مختلف طرح کی پروڈکٹس سے بھری پڑی ہے او ر ان پروڈکٹس میں موجود کیمیکلز وقتی طور پر چہرے کو صاف ستھرااور رنگت کوگوری کر دیتا ہے ۔

    لیکن یہ چند دنوں کے استعمال کے بعد چہرے کا ستیاناس کر دیتی ہیں ۔ جلد مکمل طور پر خراب ہو جاتی ہے اور پہلے سے زیادہ دانے اور نشانات ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ آج میں آپ کے لیے ایکنی کی وجہ سے پڑنے والے داغ دھبوں کے نشانات کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لئے ایک ماسک لے کر آئی ہوں ۔ جو آپ گھر پر ہی تیار کر سکتی ہیں ۔اس کے چند دنوں کے استعمال سے ہی ان شاء اللہ چہرے کی جلد پر موجود داغ دھبوں کے نشانات ختم ہو جائیں گے۔ داغ دھبوں کے نشانات کو ختم کرنے کے لئے گھریلو قدرتی ماسک بنانے کا طریقہ درج ذیل ہے۔

    اجزاء
    ہلد ی : ایک چوتھائی چائے کا چمچ
    شہد(خالص) : آدھا چائے کا چمچ
    انگورکارس : 2سے 3 انگوروں کو مسل کر ان کا رس نکال لیں

    ترکیب اور طریقہ استعمال
    ایک پیالے میں ہلدی اور شہد کو ڈال کر مکس کر لیں ۔ پھر انگوروں کو اس میں ڈال کر چمچ یا انگلی سے مسل دیں اور انگوروں کے چھلکے باہر نکال لیں۔ ان تینوں کو چمچ کی مدد سے اچھی طرح مکس کر لیں ۔چہرے کو کسی اچھے کلینزر سے دھونے کے بعدکسی نرم کپڑے سے اچھی طرح خشک کر لیں ۔اب اس مکسچر کو روئی یا میک اپ برش کی مدد سے چہرے پر لگائیں اور 30 منٹ تک لگا رہنے دیں ۔ آدھے گھنٹے بعد گرم پانی کے ساتھ چہرہ صاف کر لیں ۔اس مکسچر کے استعمال سے آپ کے چہرے کی جلد کے مسام کھل جائیں گے۔

    اس لیے نیم گرم پانی سے چہر ہ دھونے کے بعد ٹھنڈے تازہ پانی سے بھی چہرہ دھوئیں اس سے چہرے کے مسام اپنی نارمل حالت میں آجائیں گے۔اچھے نتائج کے لیے ہفتے میں دو سے تین دن لگائیں اور دو ہفتوں میں چہرے پر بننے والے داغ دھبے اور نشانات سے چھٹکاراحاصل کریں۔

    شہد، انگور او ر ہلدی کے جلد پر ہونے والے مثبت اثرات کی وجہ سے ہی ان کو ایکنی کے نشانات کے لیے بے حد مفید پایا گیا ہے۔ آئیے آپ کو ان سب کی چند ایک خصوصیات کے بارے میں بتاتی ہوں ۔

    ہلدی
    ہلدی ایک اینٹی آکسیڈنٹ خصوصیات کا حامل جز ہے ۔ جو چہرے پر موجود داغ دھبوں کو دور کرتا ہے ، چہرے کی رنگت نکھارتا ہے اوردھوپ کی وجہ سے جلدکے کالے پن کو دور کرتا ہے۔ہلدی جلد کو نرم و ملائم بناتی ہے۔ جھریوں اور چھائیوں کو ختم کرنے میں مدد کرتی ہے۔صدیوں سے ہلدی کا استعمال دلہن کی خوبصورتی میں اضافے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
    انگور
    انگور کا رس ایکنی کے نشانات کو ختم کرنے کے لیے بہت موثر ہے اور نئے نشانات بننے سے روکتا ہے۔ انگور کے اند ر کیلشیئم،میگنیشیم، پوٹاشیئم، وٹامن بی1،بی2 ،بی3 ،بی 5، بی6 ،سی اورفلیونائیڈ کمپاؤنڈ ہوتے ہیں جو جلد کے لیے بہت زیادہ کارآمد ہیں ۔ جلد کو ملائم رکھتا ہے اور جھریوں سے بچاتا ہے۔بڑھتی ہوئی عمر کے اثرات کو کم کرتا ہے۔

    شہد
    شہد کو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں انسانوں کے لیے شفا قرار دیاہے۔شہد سے بہت سی جسمانی اور جلدی بیماریوں کا علاج ممکن ہے۔ شہد جلد کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔اینٹی بیکٹیریل ہونے کی وجہ سے جلد پر موجود بیکٹیریا کا خاتمہ کرتا ہے۔جلد کو نرم وملائم بناتا ہے۔ بے رونق جلد کو تازگی دیتا ہے اور ایکنی کے مسائل کا خاتمہ کرتا ہے۔

    ان سب اجزاء کے مکسچر میں وہ تمام خصوصیات موجودہیں ، جو چہر ے کی جلدپر دانوں کی وجہ سے بننے والے نشانات کو ختم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے استعمال کے چند دن بعد ہی انشاء اللہ داغ دھبے ختم ہو جائیں گے۔