Baaghi TV

Author: Baaghi Reporter

  • نارنگ منڈی: مرحوم حنیف سرویا کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ تقریب

    نارنگ منڈی: مرحوم حنیف سرویا کے ایصالِ ثواب کے لیے دعائیہ تقریب

    ڈی جی پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن ڈاکٹر محمد شاہد سرویا، اقبال سرویا اور خرم سرویا کے والد مرحوم حنیف سرویا کے ایصالِ ثواب کے لیے دیوان خاص شادی ہال نارنگ میں ایک پُروقار دعائیہ تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، اساتذہ، سماجی رہنما اور معززینِ علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جو قاری محمد منشاء نے نہایت خوبصورت انداز میں پیش کی۔ بعد ازاں معروف نعت خواں علامہ حسنین رضا نے حضور نبی کریم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہوئے نعت شریف پیش کی۔دعائیہ تقریب سے ممتاز مذہبی سکالر مفتی شہباز رسول سعیدی نے والدین کی عظمت کے موضوع پر قرآن و حدیث کی روشنی میں پُراثر خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ "وہ لوگ واقعی خوش نصیب ہیں جن کے والدین زندہ ہیں، کیونکہ انسان کی کامیابی والدین کی خدمت اور فرمانبرداری میں پوشیدہ ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ والدین کی دعائیں اولاد کے لیے سب سے قیمتی سرمایہ ہیں، جو زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی اور کامیابی کا ذریعہ بنتی ہیں۔مفتی شہباز رسول نے کہا کہ دنیا کی کوئی دولت والدین کی خدمت کا نعم البدل نہیں ہو سکتی، اور انسان چاہے جتنی بھی خدمت کر لے، ان کے حقوق کا مکمل حق ادا نہیں کر سکتا۔آخر میں قاری احسان الٰہی نے مرحوم حنیف سرویا کے ایصالِ ثواب، بخشش و مغفرت اور امتِ مسلمہ کی بھلائی کے لیے خصوصی دعا کروائی۔دعائیہ تقریب میں شریک افراد نے مرحوم حنیف سرویا کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ ان کی نیکیوں اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

  • ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد

    ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار حبیب خان)ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن (APWWA) کے زیر اہتمام 14 اگست 2025 کو لاہور میں منعقد ہونے والی “استحکامِ پاکستان کانفرنس و تقریبِ تقسیمِ شانِ پاکستان ایوارڈ” میں ممتاز صحافی، تجزیہ نگار اور قلمکار ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو “شانِ پاکستان ایوارڈ” کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ باوقار تقریب ملک بھر سے تعلق رکھنے والے ان ہیروز کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک شاندار موقع فراہم کرے گی جنہوں نے ادب، صحافت، تعلیم، طب، قانون، فنونِ لطیفہ اور سماجی خدمات جیسے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔

    تقریب کی سرپرستی ممتاز شخصیت ملک یعقوب اعوان کریں گےجبکہ APWWA کے بانی و نگران ایم ایم علی کی زیر نگرانی اس ایوارڈ شو کا انعقاد کیا جائے گا۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کو ان کی غیر معمولی صحافتی خدمات، قومی شعور کو بیدار کرنے اور سماجی مسائل پر بے باک قلمی جہاد کی بدولت اس اعزاز کے لیے چنا گیا ہے۔ ان کی تحریریں نہ صرف فکر انگیز ہیں بلکہ قوم کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک واضح سمت بھی فراہم کرتی ہیں۔

    ایوارڈ نامزدگی پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان بڈانی نمائندہ باغی ٹی وی حبیب خان سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ “یہ ایوارڈ میرے لیے فخر اور عزت کا باعث ہے۔ میری صحافتی خدمات کو اس طرح سراہا جانا میری حوصلہ افزائی کا باعث ہے۔ میں آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوسی ایشن، سرپرست ملک یعقوب اعوان، بانی ایم ایم علی اور خصوصاً ممتاز حیدر اعوان کا دل سے شکر گزار ہوں جنہوں نے مجھے اس اعزاز کے لائق سمجھا۔ میں اپنی قوم کی خدمت جاری رکھنے کے لیے مزید پرعزم ہوں۔”

    “شانِ پاکستان ایوارڈ” ہر سال ان شخصیات کو دیا جاتا ہے جو پاکستان کی فکری، سماجی اور ثقافتی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ تقریب نہ صرف ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے بلکہ دیگر افراد کے لیے بھی ایک عظیم مثال قائم کرتی ہے۔

    یہ تقریب 14 اگست 2025 کو یومِ آزادی کے موقع پر لاہور میں منعقد ہوگی، جس میں ملک بھر سے نامور شخصیات شرکت کریں گی۔ ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی کی نامزدگی کو صحافتی اور سماجی حلقوں میں بے حد سراہا جا رہا ہے اور یہ ایوارڈ ان کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف ہوگا۔

  • ڈیرہ غازی خان: خستہ حال عمارتوں کے سروے کا فیصلہ، ضلعی انتظامیہ متحرک

    ڈیرہ غازی خان: خستہ حال عمارتوں کے سروے کا فیصلہ، ضلعی انتظامیہ متحرک

    ڈیرہ غازی خان (سٹی رپورٹر جواد اکبر) حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر ڈیرہ غازی خان میں خستہ اور بوسیدہ عمارتوں کے خلاف اہم اقدام اٹھا لیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل قدسیہ ناز نے میونسپل کارپوریشن اور تمام میونسپل کمیٹیوں کے سربراہان کو باقاعدہ مراسلہ جاری کر دیا ہے، جس میں ان سے اپنی متعلقہ حدود میں موجود خطرناک اور بوسیدہ عمارتوں کا فوری سروے مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس سروے کا مقصد انسانی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانا اور ممکنہ حادثات سے قبل حفاظتی اقدامات کرنا ہے۔ ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا ہے کہ سروے میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور ہر ادارہ اپنی حدود میں واقع عوامی، رہائشی اور تجارتی عمارتوں کا مکمل اور جامع جائزہ لے۔

    ڈپٹی کمشنر محمد عثمان خالد کا کہنا تھا کہ جن عمارتوں کو خطرناک قرار دیا جائے گا، انہیں گرانے کے لیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ ضلعی انتظامیہ کی اس کارروائی کو شہری حلقوں کی جانب سے سراہا جا رہا ہے اور توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ بروقت سروے اور عملی اقدامات سے ممکنہ جانی نقصان سے بچا جا سکے گا۔

  • میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ

    میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ

    بہاولپور (باغی ٹی وی – نامہ نگار حبیب خان)میپکو لائن مین کو رشوت خوری پر 8 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ ، ایف آئی اے کی بڑی کامیابی،
    بہاولپور میں سپیشل جج سینٹرل کی عدالت نے رشوت خوری کے ایک سنگین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے میپکو کے سابق لائن مین زوار حسین کو مجرم قرار دیتے ہوئے 8 سال قید بامشقت اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنادی۔

    تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے کی ٹیم نے زوار حسین کو 10 ہزار روپے رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اس کے خلاف انسداد بدعنوانی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ عدالت نے جرم ثابت ہونے پر درج ذیل سزائیں سنائیں

    انسدادِ بدعنوانی ایکٹ کے تحت 7 سال قید بامشقت اور 5 لاکھ روپے جرمانہ،تعزیراتِ پاکستان کے تحت 1 سال قید اور 5 لاکھ روپے جرمانہ

    یہ مقدمہ اسپیشل جج سینٹرل کیمپ بہاولپور، جج جلیل احمد نے سنا جبکہ ایف آئی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر لیگل وقاص رضا نے استغاثہ کی مؤثر پیروی کی۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق یہ فیصلہ بدعنوانی کے خلاف ایف آئی اے کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا عملی ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس فیصلے سے سرکاری اداروں میں کرپشن میں ملوث عناصر کو واضح پیغام دیا گیا ہے کہ قانون ان کے خلاف متحرک ہے، اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات جاری رہیں گے۔

  • وی آئی پی کالج تلہ گنگ  کی گولڈ میڈلسٹ طالبات کے اعزاز میں تقریب

    وی آئی پی کالج تلہ گنگ کی گولڈ میڈلسٹ طالبات کے اعزاز میں تقریب

    رپورٹ حسن شاہ
    تلہ گنگ شہر میں قائم معروف تعلیمی ادارے وی آئی پی سیکنڈری سکول و کالج نے اپنی درخشاں روایات قائم رکھتے ہوئے اس سال کی گولڈ میڈلسٹ طالبہ کشف زمان اور مائرہ حسن کے اعزاز میں پر وقار تقریب کا اہتمام کیا

    وی آئی پی کالج تلہ گنگ نے اپنی شاندار تعلیمی روایات کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اس میں مزید بہتری لاتے ہوئے اب تک پنجاب یونیورسٹی لاہور میں پنجاب سطح پر 29 پوزیشنز حاصل کر لی ہیں ۔ ادارے کی دو ہونہار طالبات کشف زمان اور مائرہ حسن گولڈ میڈلسٹ پنجاب سال 23 ، 24 کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کیا۔ علمی ادبی اس محفل کا دورانیہ مختصر تھا جس میں علاقے کی نمایاں شخصیات نے شرکت کی، صدر پی ایم یو چائلڈ سپیشلسٹ ڈاکٹر ارشد ملک، کنسلٹنٹ سرجییکل سپیشلسٹ (امریکہ) شوکت خانم ہسپتال ڈاکٹر محسن رضا، معروف سماجی و بزرگ شخصیت ملک غلام عباس جھابری ایگزیکٹو ممبر سائبان و انجمن بہبود مریضاں تلہ گنگ، پرنسپل گورنمنٹ ایسوسی ایٹ بوائز کالج تلہ گنگ ڈاکٹر بشیر منصور، پروفیسر قاضی عرفان پروفیسر محمد علی سمیت ریٹائرڈ پروفیسر سابقہ جنرل سیکرٹری پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن روف احمد شاہ سمیت علاقہ کی صحافی برادری نے بھی شرکت کی، ٹی این این کی جانب سے جناب ارشد اعوان اورفیضان شیخ جبکہ تلہ گنگ پریس کلب سے سینئر صحافی ملک عامر نواز، لیاقت اعوان، اکرم نور اورنور حسین عاجز نے شرکت کی دیگر شرکا میں معروف تاجر اور سابقہ صدر تلہ گنگ مارکیٹ یونین طفیل منہاس، بزرگ معلم خان زمان، معروف صدا کار و معلم ندیم ملک،معروف قانون دان انکم ٹیکس شیخ بدر سابقہ کونسلر سہیل نور پراچہ بھی موجود تھے

    بی ایس سی 2024 کے امتحانات میں کشف زمان نے جغرافیہ میں 187/200 نمبر حاصل کر کے گولڈ میڈل اپنے نام کیا، جبکہ 2023 میں اسی ادارے کی طالبہ مائرہ حسن نے 660 نمبر لے کر پنجاب یونیورسٹی میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔ جس میں ڈاکٹر ارشد اعوان اور پروفیسر ڈاکٹر بشیر منصور نے طالبات کو اعزازی سرٹیفکیٹ اور نقد انعامات سے نوازا۔

    تقریب میں انجمن بہبود مریضاں کے وفد، جس کی قیادت ڈاکٹر ارشد ملک اور سر ندیم کر رہے تھے، نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ تلہ گنگ کے سینئر صحافیوں اور سماجی شخصیات نے بھی طالبات کی حوصلہ افزائی کی۔

    وی آئی پی کالج کے ڈائریکٹر عمران رضا منہاج نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس موقع پر شرکاء نے وی آئی پی کالج کے بانی، جی ایم رضا منہاس مرحوم، کی تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔وی آئی پی کالج کی انتظامیہ نے تعلیمی میدان میں اپنی محنت اور لگن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کے لیے مستقبل میں بھی ایسی تقریبات کے انعقاد کا وعدہ کیا۔آئی ٹی ٹیچر و سماجی کارکن عاصم رشید، ایگزیکٹو ایڈیٹر وائس آف تلہ گنگ ، قیصر جعفری اور وسیم مدھوال بھی موجود تھے۔

    شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے علم و حکمت کی افادیت پر روشنی ڈالی۔شرکاء نے اس امید کا اظہار کیا کہ گولڈ میڈلسٹ طالبات محنت کے اس سلسلہ کو جاری رکھیں گی۔ حوصلہ افزائی کے لیے طالبات کو تعریفی اسناد اور انعامات دیے گئے۔ اس موقع پر وی آئی پی کالج انتظامیہ نے میڈیاکو بتایا کہ ضلع بھر کا واحد ادارہ ہے جہاں ہائر کلاسزمیں 29 گولڈ میڈل طلباء زیر تعمیل رہے جبکہ ہر سال پوزیشن حاصل کی۔ تقریب میں طالبات کے احترام اور ان کی کاوشوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے شرکا نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔

  • سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

    سرکاری ملازمین کی پنشن ،تنخواہ،اجرت میں اضافہ،پی ڈی ایم کا دوسرا بجٹ اسمبلی میں پیش

    قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ میں خدائے بزرگ و برتر کا تہہ دل سے مشکور ہوں کہ مجھے اس معزز ایوان کے سامنے Coalition Government کا دوسرا بجٹ برائے مالی سال 24-2023 پیش کرنے کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے۔ جناب اسپیکر !اس سے پہلے کہ میں مالی سال 24-2023 بجٹ کے اعداد و شمار اس معزز ایوان کے سامنے پیش کروں، میں آپ کی اجازت سے میاں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم حکومت 2013-17 اور تحریک انصاف کی نا اہل حکومت 22-2018 کا ایک تقابلی جائزہ آپ کے سامنےپیش کروں گا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کو یاد ہوگا کہ مالی سال 17-2016 تک وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں پاکستان کی معیشت کی شرح نمو 6.1 فیصد پر پہنچ چکی تھی۔ افراط زر کی شرح 4 فیصد تھی۔ کھانے پینے کی اشیاء کی مہنگائی میں سالانہ اوسطاً اضافہ صرف 2 فیصد تھا۔ پالیسی ریٹ 5.5 فیصد اور فیصد اور سٹاک ایکسچینج ساؤتھ ایشیاء میں نمبر 1 اور پوری دنیا میں پانچویں نمبر پر تھی۔ پاکستان خوشحالی اور معاشی ترقی کی جانب گامزن تھا اور دنیا پاکستان کی ترقی و خوشحالی کی معترف تھی۔ گلوبل ادارہ (Price Waterhouse Coopers (PWC کی projection کے مطابق سال 2030 تک پاکستان 2010-G کا رکن بننے یعنی دنیا کی 20 سب سے بڑی معیشتوں میں شامل ہونے جا رہا تھا۔ پاکستانی روپیہ مستحکم اور زرمبادلہ کے ذخائر 24 ارب ڈالر کا بلند ترین تاریخی ریکارڈ قائم کر چکے تھے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں بجلی کی کمی کو پورا کرنے کے نئے منصوبے مکمل کیے گئے۔اس سے ملک میں 12 سے 16 گھنٹے کی روزانہ لوڈ شیڈنگ سے نجات حاصل ہوئی اور ملک کی معاشی ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ کو دور کیا گیا۔ اس کے علاوہ انفراسٹرکچر کے شعبے ، ہائی ویز کی تعمیر ، Mass Transit Systems ، روزگار کی فراہمی کے مواقع اور آسان قرضوں کی فراہمی جیسے عوام دوست منصوبوں کی تکمیل کی گئی تھی۔ یہ ایک خوشحالی، استحکام اور ترقی کا دور تھا۔ یاد رہے کہ مالی سال 18-2017 میں وفاقی ترقیاتی بجٹ کا ہدف پہلی دفعہ 1001 ارب روپے رکھا گیا تھا جو آج تک دوبارہ نہیں رکھا جاسکا۔ ضرب عضب اور ردالفساد آپریشنز اور افواج پاکستان کی قربانیوں کے مرہون منت ملک بھر میں دہشت گردی کے ناسور پر قابو پا کر اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکا تھا۔ پاکستان میں امن وامان اور سیاسی استحکام تھا۔

    بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر! ان حالات میں آنا فانا منتخب جمہوری حکومت کے خلاف سازشوں کے جال بچھا دیئے گئے۔ جس کے نتیجے میں اگست 2018 میں ایک Selected حکومت وجود میں آئی۔ اس Selected حکومت کی معاشی ناکامیوں پر اتنا ہی کہنا کافی ہے کہ جو ملک 2017 میں دنیا کی 24 ویں بڑی معیشت بن چکا تھا وہ 2022 میں گر کر 47 ویں نمبر پر آ گیا۔ جناب اسپیکر ! آج پاکستان معاشی تاریخ کے مشکل ترین مرحلے سے گزر رہا ہے۔ میں انتہائی وثوق سے کہنا چاہوں گا کہ آج کی خراب معاشی صورت حال کی اصل ذمہ دار پاکستان تحریک انصاف کی سابقہ حکومت ہے۔ موجودہ حالات پچھلی حکومت کی معاشی بد انتظامی، بدعنوانی، عناد پسندی اور اقربا پروری کا شاخسانہ ہیں۔ لہذا یہ مناسب ہوگا کہ میں مالی سال 22-2021 تک کی معاشی صورتحال کا ایک جائزہ اس معزز ایوان کے سامنے رکھوں۔ جناب اسپیکر ! 4 پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی غلط معاشی حکمت عملی کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ 17.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور زر مبادلہ کے ذخائر تیزی سے گر رہے تھے۔ IMF پروگرام کی تکمیل پاکستان کے لیے انتہائی اہم تھی۔ لیکن PTI حکومت نے اس نازک صورتحال میں حالات کو جان بوجھ کر خراب کیا۔ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں سبسڈی کے ذریعے کمی کردی۔ ایسے اقدامات اٹھائے جو کہ IMF کی شرائط کی صریحاً خلاف ورزی تھی۔ یہاں تک کہ اس ضمن میں آپ کو یاد ہو گا کہ سابقہ حکومت کے وزیر خزانہ نے فون کر کے دو صوبائی وزرائے خزانہ پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ اپنا قومی فریضہ انجام نہ دیتے ہوئے IMF کے پروگرام کو سبوتاژکریں۔

    اسحاق ڈار نے کہا کہ یہ اقدامات نئی حکومت کے لیے بارودی سرنگیں بچھانے کے مترادف تھے۔ ان اقدامات نے نہ صرف مالی خسارے میں اضافہ کیا بلکہ حکومت پاکستان اور IMF کے تعلقات کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس پر ستم ظریفی یہ کہ PTI نے تمام حالات کی ذمہ داری نئی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کی۔ یہ کوشش محض چور مچائے شور کے مترادف تھی۔ ان کو یقین تھا کہ معاشی حالات اتنے خراب ہو جائیں گے کہ کوئی پاکستان کو ڈیفالٹ سے نہیں بچا سکے گا۔ لہذا وہ حقائق کو مسخ کر کے ان کی ذمہ داری آنے والی حکومت پر ڈالنا چاہتے تھے۔ یہ انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرز عمل تھا۔ کسی محب وطن، سیاسی جماعت کو اس طرح کا طرز عمل زیب نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور وزیراعظم شہباز شریف اور اتحادی جماعتوں کے بھر پور تعاون سے ایسے معاشی فیصلے کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سے ان ملک دشمن لوگوں کے عزائم پورے نہیں ہو پار ہے۔ خدائے بزرگ و برتر نے نہ صرف پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا بلکہ ان سازشی عناصر کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی حکمت عملی کی ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت ان کے دور میں مالی خسارے کا خطرناک حد تک بڑھنا تھا۔ مالی سال 22-2021 کا خسارہ GDP کے 7.9 فیصد کے برابر جبکہ Primary Deficit جی ڈی پی کے 3.1 فیصد تک پہنچ چکا تھا۔ موجودہ اتحادی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی IMF پروگرام کو بحال کرنے کی کوشش کی۔ حکومت کو اُس وقت بھی علم تھا کہ پاکستان کو معاشی بحالی کے لیے انتہائی تکلیف دہ اقدامات کرنے پڑیں گے جس کی وجہ سے عوام کو مہنگائی اور غربت میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ روپے کی قدر میں کمی اور Interest Rate میں تیزی سے اضافے کے نتیجے میں معاشی مشکلات میں اضافہ ہوا۔ حکومت نے “سیاست نہیں ریاست بچاؤ پالیسی پر عمل کیا۔ اپنی سیاسی ساکھ کی قربانی دے کر معیشت کی بحالی کو ترجیح دی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ جناب اسپیکر !-6 جون 2018 میں پاکستان کا Public Debt تقریباً 25 ٹریلین روپے تھا۔ PTI کی معاشی بدانتظامی اور بلند ترین بجٹ خساروں کی وجہ سے یہ قرض مالی سال 22-2021 تک 49 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اس طرح پچھلے چار سالہ دور میں اتنا قرض لیا گیا جو 1947 سے 2018 تک یعنی 71 سال میں لیے گئے قرض کا 96 فیصد تھا۔ اس طرح Public Debt and Liabilities اس عرصہ میں 100 فیصد سے بڑھ کر 30 ٹریلین سے 60 ٹریلین روپے پر پہنچ گیا۔ جون 2018 میں External Debt and Liabilities 95 ارب ڈالر تھیں۔ جون 2022 تک یہ 130 ارب ڈالر تک پہنچ چکی تھیں۔ قرضوں کے مجموعی حجم میں اس قدر اضافے کی وجہ سے حکومت پاکستان کے Interest Expenditure میں بے پناہ اضافہ ہوا اور نتیجتاً پاکستان کی معیشت Debt Servicing کی وجہ سے بہت زیادہ Vulnerable ہوگئی۔ جناب اسپیکر ! پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو 2013 میں 503 ارب روپے کا گردشی قرضہ ورثے میں ملا جو کہ مالی سال 2018 تک بڑھ کر 1148 ارب روپے پر پہنچ گیا۔ یعنی 5 سالوں میں گردشی قرضوں میں 645 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ یعنی 129 ارب سالانہ بڑھا۔ جبکہ پی ٹی آئی حکومت کے غیر سنجیدہ رویوں اور بدنظمی کی وجہ سے توانائی کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہوا۔ پی ٹی آئی کے 4 سالہ دور حکومت میں گردشی قرضوں میں 1319 ارب روپے کا اضافہ کے ساتھ یہ 1148 ارب سے بڑھ کر 2467 ارب روپے پر پہنچ گیا۔ یعنی سالانہ 329 ارب روپے بڑھا۔

    ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر !-8 بجٹ خسارہ پاکستان کے معاشی مسائل میں کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ PTI حکومت ٹیکس وصولی کے نظام میں بہتری لانے میں یکسر ناکام رہی جبکہ اخراجات میں بے پناہ اضافہ کر دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ PTI کے چار سالہ دور میں GDP کے تناسب سے اوسط بجٹ خسارہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دور سے تقریباً دو گنا تھا۔ صورتحال کی سنگینی کا اندازہ کرتے ہوئے موجودہ حکومت نے خسارے کو کم کرنے کے لیے کفایت شعاری سے کام لیا۔ Austerity Measures لیے گئے، Untargeted Subsidies کو بہت حد تک ختم کیا گیا اور Grants کی مد میں پچھلے سال کے مقابلے میں اخراجات میں کمی کی گئی۔ ان اقدامات کے نتیجے میں بجٹ خسارہ پچھلے مالی سال میں GDP کے 7.9 فیصد سے کم ہوکر رواں مالی سال میں GDP کا 7.0 فیصد ہو گیا ہے۔ اس طرح بجٹ خسارے میں ایک سال میں GDP کے تقریباً 1 فیصد کے برابر کمی لائی گئی۔ یاد رہے کہ خسارے میں یہ کمی Interest Expenditure میں ہوش ربا اضافے کے باوجود کی گئی جبکہ Primary Deficit کو صرف ایک سال کی مدت میں GDP کے 3.1 فیصد سے کم کر کے 0.5 فیصد پر لایا گیا۔ یعنی 2.6 فیصد کے برابر کمی ہوئی۔

    اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر ! یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ آج کی معاشی صورتحال اور عام آدمی کے لیے مشکلات PTI حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں، بدعنوانیوں اور ناکامیوں کا نتیجہ ہے۔ مجھے امید ہے کہ پاکستان کی عوام اس بات سے پوری طرح آگاہ ہو چکے ہیں کہ موجودہ معاشی مشکلات اور مہنگائی کی مکمل ذمہ دار گزشتہ حکومت ہے۔ ماضی کی Selected حکومت نے اپنے سیاسی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہوئے ملک کی معیشت کو شدید نقصان سے دوچار کیا۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی دور اندیش قیادت میں حکومت نے مشکل ترین حالات میں حکومت کی باگ دوڑ سنبھالی۔ حکومت نے اپنے سیاسی نقصانات کی پرواہ کیے بغیر ملک کو ڈیفالٹ سے بچایا۔ میری گزارش ہے کہ پاکستان کی عوام یہ پہچان لے کہ کس نے ملک کو بچانے کی کوشش کی اور کون پاکستان کی تباہی کا باعث بنتا رہا۔جناب اسپیکر ! اس ضمن میں 9 مئی کو رونما ہونے والے المناک، شرمناک، ملک دشمن واقعات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ سیاسی جماعت کا لبادہ اوڑھے مسلح دہشت گرد جتھوں نے پاکستان کی سالمیت ، ساکھ اور قومی وقار کو مجروح کرنے کی گھناؤنی اور منظم سازش کی ۔ پاک افواج کے شہداء کی قربانیوں کو یکسر نظر انداز کیا اور اُن کی یادگاروں کی بے حرمتی کا جرم کیا ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ دفاعی تنصیبات کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ ایسے ملک دشمن عناصر اپنی ناپاک حرکتوں کی وجہ سے خود ہی بے نقاب ہو چکے ہیں۔ یہ گروہ کسی صورت بھی نرمی اور رحم دلی کے حقدار نہیں۔ ایسے تمام عناصر کو پاکستان کے قوانین کے مطابق سخت سے سخت سزائیں دی جانی چاہیں تاکہ آئندہ کسی کو بھی ایسے ناپاک عزائم کے ساتھ ملک دشمن سرگرمیوں میں حصہ لینے کی جرات نہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر ! ملکی معیشت کو پچھلے ایک سال کے دوران کئی اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ پچھلے سال پاکستان کی عوام خاص طور پر صوبہ سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخواہ کے عوام کو سیلاب کی ناگہانی آفت کا سامنا کرنا پڑا۔ سیلاب کی وجہ سے ملکی املاک اور معاشی نقصانات کا تخمینہ 30 ارب ڈالر سے زیادہ کا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ عوام کی بحالی اور آبادکاری کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں نے بھر پور طریقے سے حصہ لیا۔مزید برآں اقوام متحدہ کے ادارے FAO کے تخمینے کے مطابق سال 2021 کے مقابلے میں سال 2022 کے دوران مبین الاقوامی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں 14.3 فیصد کا اضافہ ہوا۔ پاکستان تیل، گندم، دالیں خوردنی تیل اور کھاد درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جس کی ہمیں زرمبادلہ میں ادا ئیگی کرنا پڑتی ہے اور یہ مہنگائی میں اضافے کا باعث بنا۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی صورتحال جس میں یوکرین کی جنگ، عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ اور مغربی ممالک میں شرح سود میں اضافہ نے ملک کی معاشی مشکلات میں مزید اضافہ کیا ۔ پاکستان کی معیشت کا دوسرا بڑا مسئلہ (Current Account Deficit (CAD ہے۔ PTI حکومت کی وجہ سے مالی سال 22-2021 میں CAD 17.5 ارب ڈالر ہو گیا تھا۔ موجودہ حکومت کے بروقت اقدامات سے CAD میں تقریباً 77 فیصد کمی آئی۔ انشاء اللہ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر یہ خسارہ کم ہو کے تقریباً 4 ارب ڈالر رہ جائے گا۔ اسی طرح تجارتی خسارہ جو کہ سال 22-2021 میں 48 ارب ڈالر تھا، مالی سال 23-2022 میں تقریباً 26 ارب ڈالر متوقع ہے۔ اس طرح ایک سال میں تجارتی خسارے میں تقریباً 22 ارب ڈالر کی کمی لائی گئی ہے۔ CAD اور تجارتی خسارے میں کمی لاتے ہوئے حکومت نے حتی الامکان کوشش کی ہے کہ صرف Luxury Goods اور دیگر غیر ضروری درآمدات کو روکا جائے تاکہ ملک کی معاشی پیداواری صلاحیت میں کم سے کم منفی اثرات مرتب ہوں۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ان کا کہنا تھا کہ جناب اسپیکر موجودہ مخلوط حکومت کے مشکل فیصلوں کی وجہ سے الحمد للہ ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ کو کم کیا گیا ہے۔ حکومت نے IMF پروگرام کے نویں جائزے کی تمام شرائط کو پورا کرلیا ہے۔ IMF پروگرام حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے حکومت با قاعدگی سے IMF کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ ہماری حتی المقدور کوشش ہے کہ جلد سے جلد SLA پر دستخط ہو جائیں اور پروگرام کا نواں جائزہ رواں ماہ میں مکمل ہو جائے۔جناب اسپیکر !14۔ حکومت کو عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے اور اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ عوام کو ریلیف دینے کے زیادہ سے زیادہ اقدامات کیے جائیں۔ تا کہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچایا جاسکے۔ مہنگائی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت نے چند ماہ پہلے BISP کے تحت دیئے جانے والے کیش ٹرانسفر کی شرح میں 25 فیصد اضافہ کیا اور بجٹ کو 360 ارب سے بڑھا کر 400 ارب روپے کر دیا۔ اس کا اطلاق یکم جنوری 2023 سے ہو چکا ہے۔پنجاب اور خیبر پختونخواہ میں مفت آٹے کی تقسیم کی گئی۔ اس کے علاوہ وفاقی حکومت کی طرف سے یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے عوام کو سستی اشیاء کی فراہمی کے لیے 26 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی۔پچھلے ایک ماہ میں حکومت نے دو مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی۔ نتیجتاً پیٹرول کی قیمت میں 20 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 35 روپے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 17 روپے کمی کی گئی۔ امید ہے اس کے نتیجے میں مہنگائی میں کمی آئے گی۔

    انہوں نے کہا کہ جولائی 2022 سے اب تک حکومت ماضی کے تقریباً 12 ارب ڈالر کے بین الاقوامی قرضہ جات کی ادائیگی کر چکی ہے اور تمام تر بیرونی ادائیگیاں بروقت ہو رہی ہیں۔ اس کے باوجود ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 9 ارب 34 کروڑ ڈالر ہیں۔ حکومت نے دوست ممالک اور ڈویلپمنٹ پارٹنرز (Development partners) کے ساتھ بھی بہتر تعلقات قائم کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے ہیں جو کہ پچھلے چند سالوں میں تنزلی کا شکار ہو گئے تھے۔ اس سے معاشی بحالی میں مدد ملے گی۔ حکومت نے غیر ملکی زرمبادلہ کی غیر قانونی ترسیل کو ختم کرنے کیلئے بھی انتظامی اقدامات اٹھائے ہیں جس کے مثبت نتائج ظاہر ہو رہے ہیں۔ جناب اسپیکر ! موجودہ حکومت نے زرعی شعبے پر سیلاب کے تباہ کن اثرات اور مجموعی مشکلات کو دور کرنے کے لیے 2 ہزار ارب روپے سے زائد کا کسان پیکیج دیا۔ مجھے خوشی ہے کہ اس پیکیج کے معیشت پر مثبت اثرات آئے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریوں کے باوجود زرعی شعبہ میں 1.5 فیصد کی گروتھ ہوئی ہے۔ گندم کی Bumper Crop کی وجہ سے 28 ملین ٹن سے زائد پیداوار ہوئی ہے اور کسان کی آمدن میں اضافہ ہوا ہے۔ ہماری دیہی معیشت میں 1500 سے 2000 ارب روپے اضافی منتقل ہوئے۔ اس سے ملک کی مجموعی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا۔ بجٹ 24-2023 کے ذریعے حکومت زرعی شعبے کے لیے مراعات کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتی ہے جس کی تفصیل آگے چل کر پیش کی جائے گی۔ امید ہے کہ یہ اقدامات ملک میں فوڈ سیکورٹی کے حوالے سے اہم کردار ادا کریں گے۔ ا جناب اسپیکر ! رواں مالی سال کے دوران سیلاب سے متاثرہ علاقے ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا نہ کرسکے ۔حکومت نے ان علاقوں میں بحالی کا کام مکمل کر لیا ہے۔ تعمیر نو کے لیے حکومت نے 578 ارب روپے کے منصوبوں پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور انشاء اللہ اگلے مالی سال سے یہ علاقے معیشت میں دوباہر اپنا فعال کر دیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال میں اندرونی اور بیرونی مشکلات کی وجہ سے LSM سیکٹر میں منفی گروتھ کا رحجان رہا، اس کی بڑی وجہ زر مبادلہ کی کمی تھی، جس کی وجہ سے خام مال کی دستیابی میں مشکلات پیدا ہوئیں، ان حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے خام مال کو ترجیحی بنیاد پر ایل کھولنے کی اجازت دیدی گئی ہے۔ حکومت اگلے مالی سال میں اس ان رحجان کو ریورس کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، وزیراعظم شہبازشریف کی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ صنعتی شعبے پر اگلے سال کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا، اسی طرح یہ عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں گراوٹ، ترقی یافتہ ممالک میں’ انوینٹری بلڈ اپ’ میں کمی اور ملک میں خام مال کی بہتر دستیابی کی وجہ سے بھی ایل ایس ایم میں بہتری آئے گی۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ مندرجہ بالا اقدامات کے نتیجے میں ملکی معیشت میں ایک Vulnerableصورتحال سے نکل کر استحکام کی طرف آ رہی ہے، بجٹ مالی سال 2023-2024ء کے ذریعے ملک استحکام سے ترقی کی جانب گامزن ہوگا۔ انشاء اللہ انہوں نے کہا کہ جناب سپیکر اب میں آپ کو بجٹ مالی سال 2023-2024ء کو عمومی سمت کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں، معیشت میں بہتری کی سمت کے باوجود ابھی بھی معیشت کو چیلنجز کا سامنا ہے، ان حالات کے مد نظر ہم نے اگلے مالی سال کے لیے ترقی کا ہدف صرف 3.5 فیصد رکھا ہے، جو کہ ایک Modest targetہے، جلد ہی ملک جنرل الیکشنز کی طرف جانے والا ہے، اس کے باوجود اگلے مالی سال کے بجٹ کو ایک الیکشن بجٹ کی بجائے ایک ذمہ دارانہ بجٹ کے طور پر ترتیب دیا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہم نے بھر پور مشاورت کے بعد اُن Elements of real economy کومنتخب کیا ہے۔ جن کی بدولت ملک کم سے کم مدت میں ترقی کی راہ پر دوبارہ گامزن ہوسکتا ہے۔بجٹ تجاویز میں ہمارے ترجیحی Drivers of Growth مندرجہ ذیل ہیں، زراعت کا شعبہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگلے مالی سال میں اس شعبے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات کرنے کی تجاویز ہیں:زرعی قرضوں کی حد کو رواں مالی سال میں 1800 ارب سے بڑھا کر 2250 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بجلی / ڈیزل کے بل کسان کے سب سے بڑے اخراجات میں شامل ہیں اگلے مالی سال میں 50,000 زرعی ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ معیاری بیج ہی اچھی فصل کی بنیاد ہے ملک میں معیاری بیجوں کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے ان کی درآمد پر تمام ٹیکسز اور ڈیوٹیز ختم کی جا رہی ہیں۔ اسی طرح Sapplings کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی ختم کی جارہی ہے۔ موسمی تبدیلی کی وجہ سے وجہ سے Harvesting کی مدت کم سے کم ہوتی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسان نے تیسری فصل بھی اُٹھانی ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ پکی ہوئی فصل کو جلد سے جلد سنبھالا جائے۔ اس کے لیے Combine Harvesters کی ضرورت ہے۔

    بجٹ تقریر کے دوران اسحاق ڈار نے کہا کہ Combine Harvester کے استعمال کو فروغ دینے کے لیے یہ تجویز ہے کہ ان پر تمام ڈیوٹی و ٹیکسز سے استثنیٰ دیا جائے۔ چاول کی پیداوار بڑھانے کے لیے Rice Planters, Seeder اور Dryers کو بھی ڈیوٹی و ٹیکسز سے استثنیٰ کی تجویز ہے۔ Agro Industry دیہی معیشت میں انقلاب لانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ بجٹ میں Agro Industry کو Concessional قرض کی فراہمی کے لیے 5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ زرعی اجناس کی اصل Value Addition اُن کی Processing میں ہے اس سے اجناس بالخصوص پھل اور سبزیوں کے ضائع ہونے کا احتمال بھی کم کیا جاسکتا ہے۔ اسکے علاوہ Food Processing Units روزگار کے مواقع بھی فراہم کرتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں لگائی جانے والے Agro-based Industrial Units جن کا سالانہ Turnover 80 کروڑ روپے تک ہوگا ان کو تمام ٹیکسز سے 5 سال کے لیے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا۔ PM’s Youth, Business and Agriculture Loan Scheme کے تحت چھوٹے اور درمیانی درجے کے آسان قرضوں کو جاری رکھا جائے گا اور اس مقصد کے لیے اگلے مالی سال میںمارک اپ سبسڈی کے لیے 10 ارب روپےفراہم کیے جائیں گے۔

    انضمام شدہ اضلاح کیلئے بجٹ میں خصوصی ترقیاتی منصوبے شامل کرنے کا فیصلہ

    تحریک انصاف کی صوبائی رکن فرح کی آڈیو سامنے

    بجٹ 2023-24 میں وزیر اعظم پیکج کے تحت 80 ارب کے منصوبے

     وفاقی بجٹ میں نئے انتخابات کیلئے بھی رقم

    پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے حوالے سے بجٹ تجاویز 

    وزیرخزانہ اسحاق ڈار نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ سرکاری ملازمین کی پنشن میں اضافہ کیا جارہا ہے، سرکاری ملازمین کی کم سے کم پنشن 10 ہزار سے بڑھا کر 12 ہزار کی جارہی ہے، وفاقی حدود میں کم سے کم اجرت 32 ہزار روپے کی جارہی ہے، صوبے اس حوالے سے اپنا فیصلہ کریں گے۔ ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹیوٹیوٹ (ای او بی آئی) کے ذریعے پنشن حاصل کرنے والے پنشنرز کی کم سے کم پنشن کو 8500 روپے سے بڑھا کر 10ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ مقروض افراد کی بیواؤں کے 10لاکھ روپے کے قرضے حکومت ادا کرے گی، قومی بچت کے شہداء اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کی حد 50لاکھ روپے سے بڑھا کر 75 لاکھ روپے کی جارہی ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے بجٹ کو 360 ارب روپے سے بڑھا کر 400ارب کردیا ہے۔

  • سعودی عرب نے پاکستان کیلئے3 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع کردی

    سعودی عرب نے پاکستان کیلئے3 ارب ڈالر ڈپازٹ میں توسیع کردی

    کراچی: سعودی حکومت نے پاکستان کیلئے 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ میں مزید مزید ایک سال کے لیے توسیع کردی۔اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق سعودی فنڈ فار ڈویلپمنٹ (ایس ایف ڈی) نے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مستحکم کرنے کے لیے ڈپازٹ کروائے گئے 3 ارب ڈالر کے فنڈ کی مدت میں توسیع کردی، ڈپازٹس کی معیاد ایک سال بڑھانا پاک سعودی مضبوط خصوصی تعلقات کا عکاس ہے۔

    اسٹیٹ بینک کے اعلامیہ کے مطابق سعودی فرمانروا شاہ سلمان کےخصوصی حکم پر مدت میں توسیع کی گئی ڈیپازٹ مد ت میں توسیع سعودی عرب کی پاکستان کو فراہم کی جانے والی مدد کا تسلسل ہے، ڈیپازٹ مدت میں توسیع کا مقصد بینک میں غیر ملکی کرنسی کے ذخائر کو بڑھانا ہے،ڈیپازٹ مدت میں توسیع کا مقصد پاکستان کی مشکل میں مدد کرنا بھی ہے سعودی مدد نے پاکستان کے پائیدار اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا،

     

    ایک ہفتے میں زرمبادلہ کےذخائر32 کروڑ 70 لاکھ ڈالرزمزید کم ہوگئے

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان سے محبت کی دل سے قدر کرتے ہیں سعودی عرب نے ایک بار پھر بڑے بھائی کا کردار ادا کیا سعودی عرب نے پاکستان سے اپنی بے مثال محبت کا ثبوت دیا ، سعودی عرب کے اقدام سے پاکستان کی معاشی صورتحال بہتر بنانے میں مدد ملے گی،پاکستان کی معاشی خود انحصاری اولین قومی ایجنڈا ہے سیاسی استحکام اور میثاق معیشت وقت کی ضرورت ہے،

    واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی اس حوالے سے سعودی ولی عہد سے بات ہوئی تھی، جس میں دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور اور دونوں ممالک کے مابین کئی شعبوں میں تعاون کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔یاد رہے کہ نومبر 2021 میں سعودی فنڈ برائے ترقی ایس ایف ڈی اور اسٹیٹ بینک کے درمیان 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ معاہدے پر دستخط ہوئے تھے۔

    بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں خواجہ سراؤں کو شامل کرنے کی منظوری

  • گرین بیلٹ شعلوں کی زد میں:کون ذمہ دار اور کون واپس لوٹائےگا سرسبزاسلام آباد

    گرین بیلٹ شعلوں کی زد میں:کون ذمہ دار اور کون واپس لوٹائےگا سرسبزاسلام آباد

    اسلام آباد:گرین بیلٹ شعلوں کی زد میں:کون ذمہ دار اور کون واپس لوٹائے گا سرسبزاسلام آباد،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی سپریم کورٹ کی جانب سے بدھ کی شام تحریک انصاف کو جلسے کی اجازت دینے کے فیصلے کے بعد جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کی سڑکوں پر لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے کا سلسلہ جاری رہا۔

    اسی حوالے سے سنیئر صحافی انصار عباسی نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج سے پہلے ہر طرف سرسبزہ ہی تھا مگراحتجاج کے کہیں سرسبزہ نظر نہیں آرہا تھا ،

    مرکزی شاہراہوں سے رکاوٹیں ہٹانے کے بعد تحریک انصاف کے کارکنوں کی بڑی تعداد اسلام آباد میں داخل ہوگئی اور بڑی تعداد میں لوگ ڈی چوک بھی پہنچ گئے تھے، تحریک انصاف کے لانگ مارچ کے شرکاء نے گزشتہ روز اسلام آباد کے اندر آگ لگائی، جلاؤ گھیراؤ کیا، پولیس اہلکاروں پر بھی تشدد کیا گیا،اسلام آباد پولیس کے ترجمان کے مطابق مظاہرین کے پتھراو سے پولیس اور رینجرز کے مزید07 جوان زخمی ہوئے، علاج معالجہ کے لئے ہسپتال منتقل کر دیئے گئے، کل 27 افسران و جوان آج زخمی ہوئے جن میں 18 پولیس، ایف سی اور 09 جوان رینجر کے شامل ہیں۔

    تحریک انصاف کے کارکنوں کے اسلام آباد میں داخلے کے بعد سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز وائرل ہونا شروع ہوئیں جن میں ریڈ زون کے قریب واقع علاقے بلیو ایریا کے گرین بیلٹ میں درختوں میں لانگ مارچ میں شریک شرپسند عناصر کی جانب سے لگائی جانے والی آگ کے سبب درختوں کو جلتا ہوا دکھایا گیا ہے ،ڈی چوک کے آس پاس بھی گرین بیلٹ میں آگ لگانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز شریف نے الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کے کارکن اسلام آباد کے گرین بیلٹ میں درختوں کو آگ لگا رہے ہیں

    ایک صارف امین مگسی کا کہنا تھا کہ تھوڑے سے اسلامی ٹچ کے بعد اسلام آباد میں پھنگ کے سبھی حرام پودے جلا دیئے گئے. اگر یہ اسلامی ٹچ مقدار میں تھوڑا زیادہ ہوتا تو پورا اسلام آباد جل کر راکھ ہو جاتا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گزشتہ روز جو مناظر دیکھنے کو ملے یہ کسی سیاسی جماعت کے کارکنان کے نہیں ہو سکتے، اسلام آباد میں جلاؤ گھیراؤ کے دوران میٹرو سٹیشن کو بھی جلایا گیا، کچھ دکانیں لوٹے جانے کی بھی اطلاعات ہیں،پولیس کو چاہئے کہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے تمام شرپسندوں کو گرفتار کرے اور قرار واقعی سزا دلوائے،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

  • مجید نظامی کے حقیقی وارث رمیزہ کے خلاف میدان میں آگئے

    مجید نظامی کے حقیقی وارث رمیزہ کے خلاف میدان میں آگئے

    روز نامہ نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی مرحوم کی لے پالک بیٹی رمیزہ کے خلاف مجید نظامی مرحوم کے حقیقی وارث میدان آ گئے.

    مجید نظامی مرحوم کے حقیقی بھتیجے احمد کمال نظامی نے نوائے وقت کے ڈیکلریشنز کو حقیقی وارث کے طور پر لاہور کی عدالت میں چیلنج کر دیا ہے بانی نوائے وقت حمید نظامی مرحوم ‘مجید نظامی مرحوم کے بھتیجے اور تحریک پاکستان کے کارکن بشیر نظامی مرحوم کے بیٹے کی حیثیت سے احمد کمال نظامی نے رمیزہ زوجہ اویس زکریا عزیز کی حیثیت کو چیلنج کیا ہے کہ وہ مجید نظامی مرحوم کی حقیقی بیٹی نہیں ہے.

    ان کے والد کا نام میاں عارف تھا ‘جبکہ ان کی والدہ کا نام غزالہ بی بی ہے ‘ ان کے دو بھائی اور ایک بہن بھی ہے احمد کمال نظامی نے سینئر سول جج لاہور کی عدالت میں رمیزہ کے علاوہ 28فریقین کو عدالت سے نوٹسز جاری کروائے ہیں جن میں پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد ‘ڈی جی پی آر ڈپٹی کمشنر لاہور ‘ کراچی ‘اسلام آباد ‘ملتان اور کوئٹہ کو بھی نوٹسز جاری کئے گئے ہیں.

    سیکورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کئے گئے ہیں ‘اس کے علاوہ احمد کمال نظامی نوائے وقت گروپ آف کمپنیز کے شیئرز کو بھی چیلنج کیا ہے کہ رمیزہ مجید نظامی مرحوم کی وارث کے طور پر ان شیئرز کی حق ملکیت کی حقدار قرار نہیں دی جا سکتی’انہوں نے اپنے کیس میں عدالت سے استد عا کی ہے کہ کیس کا حتمی فیصلہ ہونے تک نوائے وقت کے اثاثہ جات ‘ سرمایہ کاری ‘شیئرز ڈیکلریشنز وغیرہ کیساتھ کوئی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے اور انہیں اسی حالت میں بر قرار رکھا جائے.

    انہوں نے عدالت سے یہ بھی تقاضا کیا ہے کہ مجید نظامی مرحوم چونکہ صحافت کے شعبہ میں انتہائی اہم شخصیت تھے اس لئے ان کو مختلف ادوار میں ملنے والے سول ایوارڈ ‘نشان امتیاز ‘ستارہ امتیاز اور ستارہ پاکستان وغیرہ بھی ان کے حقیقی وارثوں کو دئیے جائیں ‘دعوے میں نوائے وقت کی تینوں کمپنیوں کے شیئرز کا تذاکرہ کیا گیا ہے ‘جس کے تحت رمیزہ بھی کئی شیئرز کو اپنی ملکیت ظاہر کر رہی ہے ‘احمد کمال نظامی نے اپنے کیس کے حوالے سے ایک سٹام پیپر کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس میں ان کے مطابق مجید نظامی مرحوم نے خود امریکہ کا ویزہ حاصل کرنے کےلئے ایک سٹام پیپر میں اعتراف کیا تھا کہ رمیزہ ان کی لے پالک بیٹی ہے ‘ اس سٹام پیپر کے گواہان میں معروف قانون دان مقبول باٹا ایڈووکیٹ اور حمید نظامی مرحوم کے صاحبزادے اور معروف صحافی عارف نظامی کے دستخظ موجود ہےں’واضح رہے کہ مجید نظامی مرحوم کے تین بھائی حمید نظامی مرحوم ‘خلیل نظامی مرحوم اور بشیر نظامی مرحوم تھے جبکہ دو بہنیں طلعت اکبر مرحومہ اور سردار بی بی مرحومہ تھیں.

    حمید نظامی مرحوم اور بشیر نظامی مرحوم ‘مجید نظامی مرحوم سے بڑے جبکہ خلیل نظامی مرحوم ان کے چھوٹے بھائی تھے ۔