Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے (رجسٹرڈ) کی مرکزی باڈی برائے 2026 کا باضابطہ اعلان

    جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے (رجسٹرڈ) کی مرکزی باڈی برائے 2026 کا باضابطہ اعلان

    اوکاڑہ (نامہ نگار: ملک ظفر)جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے (رجسٹرڈ) نے تنظیم کی مرکزی باڈی برائے سال 2026 کے قیام کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ یہ مرکزی باڈی دنیا بھر میں قائم تنظیم کے تمام چیپٹرز کی باہمی مشاورت، اعتماد اور متفقہ حمایت سے تشکیل دی گئی ہے۔

    تنظیم کی نئی مرکزی قیادت میں میاں عامر علی (برطانیہ) کو مرکزی صدر، محمد آصف قائمی (پاکستان) کو مرکزی سیکرٹری جنرل اور سمیع اللہ عثمانی (پاکستان) کو مرکزی فنانس سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے، جبکہ وومن ونگ کی مرکزی صدر کی ذمہ داریاں حمیرا ثناء (برطانیہ) کے سپرد کی گئی ہیں۔

    مرکزی باڈی میں پاکستان اور بیرونِ ملک مقیم سینیئر، متحرک اور پیشہ ور صحافیوں کو شامل کیا گیا ہے تاکہ تنظیم کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر مزید مضبوط، مؤثر اور فعال بنایا جا سکے۔

    مرکزی باڈی کے دیگر عہدیداران میں چیف کوآرڈینیٹر شاہین بٹ (برطانیہ)، سینیئر نائب صدور امان اللہ کھوکھر اور محمد بلال قریشی (پاکستان)، نائب صدور نعیم خان (پاکستان)، رانا عظیم (سعودی عرب)، ممتاز منیر سہوترہ (اسپین) اور میر مختار میر (ہالینڈ) شامل ہیں۔ ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریاں عامر کفایت (پاکستان) کے سپرد کی گئی ہیں۔

    اسی طرح انفارمیشن سیکرٹریز کے طور پر سید علی عمران نقوی اور گل محمد لغاری (پاکستان)، جوائنٹ سیکرٹریز کے طور پر شبیر احمد اعوان اور محمد اقبال قائم خانی (پاکستان)، ڈپٹی سیکرٹری ملک ظفر اقبال (پاکستان) اور آفس سیکرٹری عامر حیات (پاکستان) کو نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ ایگزیکٹیو ممبران میں محمد خرم قادری، سلمان جاوید چوہدری، رانا شاہد خلیل اور محمد شمعون نذیر کھوکھر (تمام پاکستان) شامل ہیں۔

    مرکزی باڈی کے اراکین نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ صحافت کے فروغ، صحافیوں کے حقوق کے تحفظ، آزادیٔ اظہار کے دفاع اور فلاحی مقاصد کے لیے بھرپور اور مؤثر کردار ادا کریں گے۔

    دنیا بھر میں قائم تنظیم کے تمام چیپٹرز، جن میں برطانیہ، یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور پاکستان شامل ہیں، نے نئی مرکزی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ یہ قیادت صحافی برادری کو درپیش مسائل کے حل، تنظیمی نظم و ضبط کے استحکام، بین الاقوامی روابط کے فروغ اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کرے گی۔

    مرکزی قیادت نے اس موقع پر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ جرنلسٹس ایسوسی ایشن آف پاکستان/یوکے (رجسٹرڈ) کو ایک مضبوط، متحد اور عالمی سطح پر مؤثر صحافتی پلیٹ فارم بنایا جائے گا، جہاں صحافیوں کے حقوق، عزت اور وقار کا ہر صورت تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔

  • گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

    گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت

    گُل پلازہ سانحہ: حادثہ نہیں، ریاستی غفلت کا زندہ ثبوت
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    کراچی کے گُل پلازہ میں پیش آنے والا آتشزدگی کا المناک واقعہ محض ایک اور “حادثہ” قرار دے کر فائلوں میں دفن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سانحہ کسی اچانک اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں پر محیط ریاستی غفلت، مجرمانہ لاپرواہی اور کمزور عملداری کا کھلا ثبوت ہے۔ اگر اسے محض حادثہ سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا تو یہ ناانصافی صرف متاثرین ہی نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے ساتھ بھی ہوگی۔

    یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ آخر کیوں پاکستان کے بڑے شہروں، خصوصاً کراچی، لاہور، فیصل آباد اور راولپنڈی میں واقع کمرشل پلازے آگ لگنے کی صورت میں موت کے پھندے بن جاتے ہیں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ ہر سانحے کے بعد انکوائری کمیٹیاں بنتی ہیں، بیانات دیے جاتے ہیں، مگر چند ہفتوں بعد سب کچھ فراموش کر دیا جاتا ہے؟

    ہمارے ہاں کمرشل عمارتیں تعمیر کرتے وقت سرمایہ کار، بلڈر اور نقشہ پاس کرنے والے ادارے تو پوری طرح متحرک ہوتے ہیں، مگر جب بات فائر سیفٹی کی آتی ہے تو سب کی آنکھوں پر پٹی بندھ جاتی ہے۔ ناقص اور پرانی الیکٹریکل وائرنگ، اوورلوڈنگ، غیر معیاری تاریں اور غیر تربیت یافتہ الیکٹریشنز معمول بن چکے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا بلڈنگ کنٹرول اتھارٹیز کو یہ سب نظر نہیں آتا، یا سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی دانستہ نظر انداز کر دیا جاتا ہے؟ اگر فائر سیفٹی قوانین پر واقعی عمل درآمد ہوتا تو گُل پلازہ جیسے سانحات شاید جنم ہی نہ لیتے۔

    زیادہ تر کمرشل عمارتوں میں فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹر اور اسپرنکلر سسٹم یا تو سرے سے موجود ہی نہیں ہوتے یا صرف نقشوں اور فائلوں تک محدود رہتے ہیں۔ اگر کہیں نصب بھی ہوں تو ان کی دیکھ بھال نہیں کی جاتی، بیٹریاں ختم، سسٹم خراب اور الارم خاموش رہتے ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ کئی پلازہ مالکان فائر سیفٹی آلات کو غیر ضروری خرچ سمجھتے ہیں، حالانکہ یہی آلات قیمتی انسانی جانوں کے محافظ ہوتے ہیں، اور متعلقہ ادارے اس مجرمانہ غفلت پر خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔

    گُل پلازہ جیسے سانحات میں سب سے تشویشناک پہلو ایمرجنسی ایگزٹس کا غیر مؤثر ہونا ہے۔ کئی عمارتوں میں یہ راستے یا تو تالہ بند ہوتے ہیں یا اضافی سامان سے بھرے ہوتے ہیں۔ واضح نشانات کی عدم موجودگی میں ایمرجنسی کے وقت لوگ گھبراہٹ میں غلط سمتوں میں بھاگتے ہیں اور یہی گھبراہٹ جان لیوا ثابت ہو جاتی ہے۔ یہ بھی ایک اہم سوال ہے کہ عمارتوں کی منظوری دیتے وقت ایمرجنسی راستوں کا عملی معائنہ کیا جاتا ہے یا صرف کاغذی نقشوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

    ایک اور بڑا المیہ یہ ہے کہ دکانداروں اور عملے کو فائر سیفٹی سے متعلق بنیادی تربیت تک نہیں دی جاتی۔ فائر ایکسٹینگشر کی موجودگی اس وقت بے معنی ہو جاتی ہے جب استعمال کا طریقہ ہی معلوم نہ ہو۔ نہ فائر ڈرل ہوتی ہے، نہ عملی مشق، نہ آگاہی، پھر بھی یہ توقع کی جاتی ہے کہ بحران کے وقت سب کچھ خودبخود درست ہو جائے گا۔

    ضلعی انتظامیہ اور فائر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ہونے والے معائنے اکثر محض رسمی کارروائی ثابت ہوتے ہیں۔ فائلوں میں “اطمینان بخش” رپورٹ درج ہو جاتی ہے، جبکہ زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہوتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ان انسپکشنز کا مقصد جان بچانا ہے یا صرف کاغذی ذمہ داری پوری کرنا؟

    ہر بڑے سانحے کے بعد وہی پرانا ڈرامہ دہرایا جاتا ہے۔ میڈیا شور مچاتا ہے، سیاست دان مذمتی بیانات دیتے ہیں، اعلانات ہوتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ نہ کسی افسر کو سزا ملتی ہے، نہ کسی بلڈر کا احتساب ہوتا ہے اور نہ ہی نظام میں کوئی بنیادی اصلاح کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے سانحات کم ہونے کے بجائے بڑھتے جا رہے ہیں۔

    اب سوالات مزید نظر انداز نہیں کیے جا سکتے۔ کیا انسانی جانوں کا تحفظ واقعی ہماری ریاست کی ترجیح ہے؟ فائر سیفٹی قوانین پر عمل نہ کرانے والوں کا احتساب کب ہوگا؟ غیر معیاری تعمیرات کی اجازت دینے والے افسران کب قانون کے کٹہرے میں آئیں گے؟ اور کب تک ہم ایسے سانحات کو “قدرتی آفت” قرار دے کر اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ ہوتے رہیں گے؟

    حل کوئی انوکھے نہیں۔ فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ کو حقیقی معنوں میں لازمی بنانا ہوگا، ناقص عمارتوں کو سیل کرنا ہوگا، بلڈر مافیا کو لگام دینا ہوگی اور انسپکشن کے نظام کو محض رسمی نہیں بلکہ مؤثر اور عملی بنانا ہوگا۔ سب سے بڑھ کر، انسانی جان کو کاروبار اور منافع سے بالاتر سمجھنا ہوگا۔

    ہم برسوں سے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر چل رہے ہیں اور ہر سال سینکڑوں افراد اس کی قیمت اپنی جانوں سے چکا رہے ہیں۔ گُل پلازہ کا سانحہ ہمیں آئینہ دکھا گیا ہے۔ اب یہ ہم پر منحصر ہے کہ ہم اس آئینے کو توڑ دیتے ہیں یا اپنے چہرے کی اصلاح کرتے ہیں۔ اگر آج بھی سنجیدہ اور سخت فیصلے نہ کیے گئے تو کل کوئی اور پلازہ، کوئی اور مارکیٹ اور کوئی اور خاندان ہماری غفلت کی قیمت چکائے گا۔
    یہ صرف تنقید نہیں، ایک انتباہ ہے…………..آخر کب تک؟

  • میرپور ماتھیلو: سرکاری سکول ایک سال سے بند، 150 بچے تعلیم سے محروم

    میرپور ماتھیلو: سرکاری سکول ایک سال سے بند، 150 بچے تعلیم سے محروم

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کی تحصیل میرپور ماتھیلو کے گاؤں شیر محمد خان کولچی میں واقع سرکاری پرائمری سکول گزشتہ ایک سال سے بند پڑا ہے، جس کے باعث 150 سے زائد معصوم بچے تعلیم جیسے بنیادی حق سے محروم ہو چکے ہیں۔ سکول کی طویل بندش کے خلاف طلبہ سراپا احتجاج بن گئے ہیں، جبکہ متعلقہ حکام کی خاموشی حکومتی بے حسی اور مجرمانہ غفلت کی واضح مثال بن چکی ہے۔

    تفصیلات کے مطابق گورنمنٹ پرائمری اسکول زنگی خان کولچی گزشتہ ایک سال سے ویران اور لاوارث پڑا ہے۔ اسکول کی عمارت خستہ حال ہو چکی ہے اور اس کی حالت اس قدر خراب ہے کہ وہ بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے، جو کسی بھی وقت کسی بڑے حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔

    مقامی مکینوں کے مطابق یہ اسکول مسلسل 20 سال تک باقاعدگی سے فعال رہا، جہاں دو اساتذہ تعینات تھے اور سینکڑوں بچوں نے یہیں سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ تاہم گزشتہ ایک سال سے نہ اساتذہ موجود ہیں اور نہ ہی تعلیمی سرگرمیاں، جس کے باعث بچوں کا تعلیمی مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہو گیا ہے۔

    احتجاجی طلبہ نے ہاتھوں میں کتابیں اٹھا کر علامتی احتجاج کیا اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ بند اسکول کو فوری طور پر بحال کیا جائے، اساتذہ کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے اور عمارت کی مرمت کروا کر تعلیمی سلسلہ دوبارہ شروع کیا جائے، تاکہ نونہالوں کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

    دوسری جانب افسوسناک امر یہ ہے کہ ضلع گھوٹکی کے منتخب عوامی نمائندے اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم کی جانب سے بھی تاحال کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو ایک پوری نسل جہالت کی نذر ہو جائے گی، جس کی ذمہ داری براہِ راست متعلقہ محکموں اور حکومتی نمائندوں پر عائد ہو گی۔

  • گھوٹکی: پولیس کافیصلہ کن کچہ آپریشن، کوش گینگ کے دو بدنام ڈاکو ہلاک، 12 گرفتار

    گھوٹکی: پولیس کافیصلہ کن کچہ آپریشن، کوش گینگ کے دو بدنام ڈاکو ہلاک، 12 گرفتار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی کے کچہ ایریا میں امن و امان کی بحالی کے لیے جاری بڑے اور فیصلہ کن ٹارگیٹڈ آپریشن کے دوران سکھر رینج پولیس، وفاقی سول انٹیلیجنس ایجنسی اور سندھ رینجرز نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کوش گینگ کے دو انتہائی خطرناک اور بدنام زمانہ ڈاکوؤں کو ہلاک کر دیا، جبکہ 12 سے زائد جرائم پیشہ عناصر کو گرفتار کر لیا گیا۔ آپریشن کے دوران 8 سے 10 ڈاکوؤں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    یہ آپریشن ڈی آئی جی لاڑکانہ/سکھر ناصر آفتاب، ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران، ایس ایس پی خیرپور ڈاکٹر سمیع اللہ سومرو اور ایس ایس پی سکھر اظہر مغل کی براہِ راست قیادت میں کیا گیا، جس میں سکھر رینج پولیس اور سندھ رینجرز نے پیشہ ورانہ مہارت اور مؤثر حکمتِ عملی کے تحت اہم کامیابی حاصل کی۔

    پولیس کے مطابق ہلاک ہونے والے ڈاکوؤں کی شناخت ملاؤ ولد جوت علی کوش اور محمد مراد عرف ڈاڈو ولد جوت علی کوش کے طور پر ہوئی ہے۔ دونوں ڈاکو کچہ ایریا میں طویل عرصے سے سرگرم اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب تھے۔ ہلاک ڈاکو ملاؤ کوش کے خلاف سندھ اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں 40 سے زائد جبکہ محمد مراد عرف ڈاڈو کوش کے خلاف 16 سے زائد سنگین مقدمات درج تھے، جن میں اغوا برائے تاوان، قتل، ڈکیتی، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور سہولت کاری جیسے سنگین جرائم شامل ہیں۔

    پولیس حکام کے مطابق دونوں ڈاکو موٹر وے پر حملوں، اغوا کی وارداتوں اور پولیس افسران کو براہِ راست دھمکیاں دینے میں بھی ملوث رہے، جس کے باعث کچہ ایریا اور ملحقہ علاقوں میں خوف و ہراس کی فضا قائم تھی۔

    آپریشن کے دوران مشترکہ فورسز نے کوش گینگ کے متعدد ٹھکانوں تک رسائی حاصل کی، جہاں سے اسلحہ، سہولت کاری کے شواہد اور دیگر مشتبہ مواد برآمد کیا گیا۔ بعد ازاں جرائم پیشہ عناصر کے زیرِ استعمال ٹھکانوں کو نذرِ آتش کر کے مسمار کر دیا گیا تاکہ مستقبل میں انہیں دوبارہ جرائم کے لیے استعمال نہ کیا جا سکے۔

    ترجمان گھوٹکی پولیس کے مطابق کچہ ایریا میں ٹارگیٹڈ آپریشن پوری شدت کے ساتھ جاری ہے اور یہ کارروائیاں اس وقت تک جاری رہیں گی جب تک ڈاکوؤں کا مکمل خاتمہ یا ان کا غیر مشروط سرنڈر ممکن نہیں ہو جاتا۔ پولیس اور رینجرز نے واضح کیا ہے کہ ریاستی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    علاقہ مکینوں اور سول سوسائٹی حلقوں نے سکیورٹی فورسز کی اس کامیاب کارروائی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ ان مسلسل آپریشنز کے نتیجے میں کچہ ایریا ایک بار پھر امن کا گہوارہ بن سکے گا۔

  • کندھ کوٹ :حافظ علی رضا کی دینی علوم میں نمایاں کامیابی، دستارِ فضیلت سے نوازا گیا

    کندھ کوٹ :حافظ علی رضا کی دینی علوم میں نمایاں کامیابی، دستارِ فضیلت سے نوازا گیا

    کندھ کوٹ (باغی ٹی وی ،نامہ نگارمختیاراعوان) شہر کے رہائشی نوجوان عالمِ دین حافظ علی رضا بن مولوی محمد ابراہیم کوسو نے قرآنِ پاک کی حفظ اور دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد دستارِ فضیلت حاصل کر لی ہے، جس پر علاقے کے علمی و عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حافظ علی رضا نے اپنی دینی تعلیم مدرسہ جامعہ انوار المدینہ اوستہ محمد بلوچستان میں معروف استاد قاری ساجد علی سکندری سے حاصل کی، جہاں انہوں نے قرآنِ پاک سمیت دیگر دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔ دستارِ فضیلت کی پروقار تقریب مدرسہ جامعہ راشدیہ درگاہ عالیہ پیر جو گوٹھ میں منعقد ہوئی، جس میں جید علمائے کرام، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    تقریب کے شرکاء اور علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے علمِ دین کی اہمیت اور حافظِ قرآن کے بلند مقام پر تفصیلی روشنی ڈالی، جبکہ نوجوان نسل کی دینی و اخلاقی تربیت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ اس موقع پر علاقے کے معززین نے حافظ علی رضا کو اس عظیم سعادت پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ وہ مستقبل میں بھی دینِ اسلام کی سربلندی اور اشاعت کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے رہیں گے۔

  • اوباڑو: مرید شاخ میں ٹرالی الٹنے سے ٹریفک کئی گھنٹے معطل، انتظامیہ کی غیر موجودگی سے شہری پریشان

    اوباڑو: مرید شاخ میں ٹرالی الٹنے سے ٹریفک کئی گھنٹے معطل، انتظامیہ کی غیر موجودگی سے شہری پریشان

    گہوٹکی (باغی ٹی وی نامہ نگار مشتاق علی لغاری) اوباڑو کے مرید شاخ میں گنے سے بھری ایک ٹرالی الٹنے کے باعث مرکزی سڑک مکمل طور پر بند ہو گئی، جس سے شہر بھر میں آمد و رفت متاثر ہو گئی ہے۔کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود ٹرالی کو سڑک سے نہیں ہٹایا جا سکا، جس کے باعث کاروباری مراکز بند، مزدور بے روزگار اور مریض، خواتین، بزرگ اور سکول جانے والے بچے سڑکوں پر پھنس گئے ہیں۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ تعلقہ اوباڑو میں چار شوگر ملیں موجود ہونے کے باوجود گنے کی بھاری ٹرالیاں متبادل راستے استعمال نہیں کر رہیں، جس سے شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

    شہریوں نے الزام لگایا کہ شہر لاوارث بن چکا ہے، نہ ٹریفک پولیس موقع پر موجود ہے اور نہ انتظامیہ کی کوئی کارروائی نظر آ رہی ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام، ضلعی انتظامیہ اور شوگر مل مالکان سے فوری طور پر ٹرالی ہٹا کر ٹریفک بحال کرنے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے علیحدہ راستوں کا بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

  • گھوٹکی:پولیس کے تین الگ الگ مقابلے، تین ملزمان زخمی حالت میں گرفتار، اسلحہ برآمد، متعدد ساتھی فرار

    گھوٹکی:پولیس کے تین الگ الگ مقابلے، تین ملزمان زخمی حالت میں گرفتار، اسلحہ برآمد، متعدد ساتھی فرار

    میرپورماتھیلو(باغی ٹی وی،نامہ نگارمشتاق لغاری)ضلع گھوٹکی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس نے مؤثر کارروائیاں کرتے ہوئے تین مختلف مقامات پر الگ الگ مقابلوں کے دوران تین ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ ان کے متعدد ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    پہلا مقابلہ تھانہ اوباوڑو کی حدود میں پیش آیا، جہاں پولیس کو اطلاع ملی کہ چار نامعلوم مسلح ملزمان لنک روڈ راجنپور پر واردات کے ارادے سے موجود ہیں۔ پولیس پارٹی موقع پر پہنچی تو مسلح ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں پولیس اور ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا۔ دورانِ مقابلہ ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا، جس کی شناخت بخت علی ولد مومن شر سکنہ دیہہ دب، تعلقہ اوباوڑو کے نام سے ہوئی۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے پسٹل برآمد کیا گیا، جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہو گئے۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم قتل، چوری، رہزنی، پولیس مقابلہ اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم کے خلاف پہلے سے کرائم نمبر 50/2025 دفعہ 302 اور کرائم نمبر 55/2025 دفعہ 379، 435، 427 تعزیراتِ پاکستان تھانہ ماچھکہ میں درج ہیں۔

    دوسرا مقابلہ تھانہ اے سیکشن میرپورماتھیلو کی حدود میں حسین بیلی لنک روڈ پر پیش آیا، جہاں پولیس کو چھ نامعلوم مسلح ملزمان کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ پولیس کے پہنچنے پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتار ملزم کی شناخت گلاب ولد جنگو پتافی سکنہ سومر موری تعلقہ میرپورماتھیلو کے نام سے ہوئی، جبکہ اس کے پانچ ساتھی فرار ہو گئے۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے بھی پسٹل برآمد ہوا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق ملزم چوری، رہزنی اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث تھا۔ اس حوالے سے کرائم نمبر 12/2026 دفعہ 324، 353، 399، 402 تعزیراتِ پاکستان اور کرائم نمبر 13/2026 دفعہ 25 سندھ آرمز ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔

    تیسرا مقابلہ تھانہ بی سیکشن میرپورماتھیلو کی حدود میں کندھ کوٹ کشمور روڈ پر ہوا، جہاں چار نامعلوم مسلح ملزمان واردات کے ارادے سے موجود تھے۔ پولیس کے پہنچنے پر فائرنگ کے تبادلے کے دوران ایک ملزم اپنے ہی ساتھی کی گولی لگنے سے زخمی ہو گیا، جسے پولیس نے حکمتِ عملی کے تحت گرفتار کر لیا۔ زخمی ملزم کی شناخت شاہ بخش ولد لیاقت علی پتافی سکنہ سومر موری تعلقہ میرپورماتھیلو کے نام سے ہوئی، جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہو گئے۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے پسٹل برآمد کیا گیا۔ مقدمہ کرائم نمبر 05/2026 دفعہ 324، 353، 398، 401 تعزیراتِ پاکستان اور کرائم نمبر 06/2026 دفعہ 25 سندھ آرمز ایکٹ کے تحت درج کیا گیا۔

    تمام زخمی ملزمان کو طبی امداد کے لیے مقامی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران نے کامیاب کارروائیوں پر پولیس ٹیموں کو شاباش دیتے ہوئے جرائم کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • شکارپور:میونسپل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت،کھلے گٹر نے ایک اور معصوم جان نگل لی

    شکارپور:میونسپل انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت،کھلے گٹر نے ایک اور معصوم جان نگل لی

    شکارپور (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)شکارپور میں میونسپل انتظامیہ کی خطرناک اور ناقابلِ معافی غفلت ایک اور معصوم جان نگل گئی۔ بھٹائی کالونی کا رہائشی کمسن بچہ عادل لاشاری کھیلتے ہوئے کھلے گٹر میں گر گیا اور ڈوب کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ دلخراش واقعے کے بعد علاقے میں کہرام مچ گیا اور فضا سوگوار ہو گئی۔

    عینی شاہدین کے مطابق حادثے کے فوراً بعد بچے کو نکالنے کی کوششیں کی گئیں، تاہم گٹر میں پانی کی زیادتی کے باعث عادل کی جان نہ بچائی جا سکی۔ جاں بحق بچے کی والدہ غم کی شدت سے بار بار بے ہوش ہوئیں جبکہ اہلِ خانہ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ واقعے کے بعد علاقہ مکین شدید غم و غصے میں مبتلا نظر آئے۔

    شہریوں نے میونسپل انتظامیہ پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ شکارپور شہر میں درجنوں گٹر بغیر ڈھکن کے کھلے پڑے ہیں جو کسی بھی وقت مزید معصوم جانیں لے سکتے ہیں، مگر متعلقہ حکام مسلسل خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ عوام کا کہنا ہے کہ متعدد بار شکایات کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیا گیا۔

    افسوسناک سانحے کے بعد عوامی غصہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہریوں، سماجی حلقوں اور متاثرہ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ شہر بھر میں موجود تمام کھلے گٹروں کو فوری طور پر بند کیا جائے، غفلت کے مرتکب میونسپل افسران اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرتے ہوئے مقدمات درج کیے جائیں، واقعے کی شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کر کے رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے اور متاثرہ خاندان کو فوری اور بھاری مالی معاوضہ دیا جائے۔

    شہریوں نے دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو شکارپور بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا، جس کی تمام تر ذمہ داری میونسپل انتظامیہ اور ضلعی حکام پر عائد ہوگی۔ عوام کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ شکارپور کی میونسپل کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور اگر اب بھی قاتل گٹروں کو بند نہ کیا گیا تو یہ شہر معصوم بچوں کے لیے مزید خطرناک بنتا چلا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: شفاف ای۔ٹکٹنگ اور روڈ سیفٹی، ریجنل آفیسر پٹرولنگ پولیس کا فیلڈ دورہ

    اوکاڑہ: شفاف ای۔ٹکٹنگ اور روڈ سیفٹی، ریجنل آفیسر پٹرولنگ پولیس کا فیلڈ دورہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)شفاف ای۔ٹکٹنگ نظام کے نفاذ، ٹریفک قوانین کی یقینی عملداری اور دھند کے دوران ممکنہ ٹریفک حادثات سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی فراہم کرنے کی غرض سے ریجنل آفیسر پنجاب ہائی وے پٹرول پولیس ساہیوال جمیل احمد ساجد فیلڈ میں متحرک نظر آئے۔

    تفصیلات کے مطابق ریجنل آفیسر پنجاب ہائی وے پٹرول پولیس جمیل احمد ساجد نے ضلع اوکاڑہ کی متعدد اہم شاہراہوں سمیت پٹرولنگ پولیس کے مختلف انفورسمنٹ ایریاز کا دورہ کیا۔ اس دوران سنیپ چیکنگ کے عمل کا جائزہ لیا گیا، جہاں پٹرولنگ پولیس کی جانب سے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف ای۔ٹکٹنگ، مقدمات کے اندراج اور گاڑیوں کی ایمپاؤنڈنگ جیسے اقدامات کا معائنہ کیا گیا۔

    ریجنل آفیسر کی زیر نگرانی پٹرولنگ پولیس افسران نے ٹریفک قوانین کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب روڈ یوزرز کے خلاف مؤثر تادیبی کارروائیاں عمل میں لائیں۔ اس موقع پر شہریوں کو دھند اور دیگر موسمی حالات کے دوران جان لیوا ٹریفک حادثات سے بچاؤ کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات بارے تفصیلی بریفنگ بھی دی گئی۔

    بریفنگ کے دوران واضح کیا گیا کہ پٹرولنگ پولیس کی اولین ترجیح عوام الناس کے جان و مال اور عزتِ نفس کا تحفظ ہے، جس کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ ریجنل آفیسر نے پٹرولنگ پولیس افسران کو ہدایت کی کہ وہ پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو مزید مؤثر انداز میں انجام دیتے ہوئے شہریوں کو محفوظ اور سہل سفر کی سہولیات فراہم کریں۔

  • اوکاڑہ: پنجاب پولیس شہداء کے بچوں کی تعلیمی معاونت، لیپ ٹاپ تقسیم

    اوکاڑہ: پنجاب پولیس شہداء کے بچوں کی تعلیمی معاونت، لیپ ٹاپ تقسیم

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے ویژن کے مطابق پولیس شہداء کے اہلِ خانہ کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تسلسل میں ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر اوکاڑہ محمد راشد ہدایت کی جانب سے شہداء کے بچوں میں جدید تعلیمی سہولیات فراہم کرتے ہوئے لیپ ٹاپ تقسیم کیے گئے۔

    اس موقع پر شہید ریاض احمد کی صاحبزادی آمنہ ریاض، جو فزکس میں ایم فل کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں، کو ان کی ریسرچ کے لیے لیپ ٹاپ فراہم کیا گیا۔ اس کے علاوہ اشرف طاہر شہید اور محمد حسین شہید کے بچوں کو بھی تعلیمی معاونت کے تحت لیپ ٹاپ دیے گئے۔

    ڈی پی او محمد راشد ہدایت نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پولیس شہداء کے بچوں کے روشن مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن تعلیمی اور فلاحی سہولیات فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء ہماری قوم کا فخر ہیں اور ان کے اہلِ خانہ کی ویلفیئر پولیس کی اولین ترجیح ہے، جس کے لیے تمام ضروری اقدامات مستقبل میں بھی جاری رکھے جائیں گے۔