باغی ٹی وی : ڈیرہ اسماعیل خان( نامہ نگار)ویٹرنری حکام کی ملی بھگت سے مضرصحت گوشت کی فروخت جاری، قصاب برادری سرکاری مذبحہ خانے کی بجائے گھروں میں لاغربیمارجانورذبح کرنے میں مصروف، ویٹرنری ڈاکٹرزکی ملی بھگت سے معیاری اورصحت مند گوشت پر لگائی جانے والی مہرقصاب برادری کے حوالے کردی گئی، قصاب برادری بیمارلاغرجانوروں کے گوشت پر مہرثبت کرکے عوام میں بیماریاں بانٹنے لگے،ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں کاڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے ویٹرنری ڈاکٹرز کی بے حسی اورقصاب برادری کی من مانیوں کے خلا ف نوٹس لینے اور قصاب برادری کو گھروں کی بجائے سرکاری مذبحہ خانے میں جانورذبح کرنے کامطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق ویٹرنری حکام کی ملی بھگت اوربے حسی کی وجہ سے قصاب برادری کوگھروں میں جانورذبح کرنے کی کھلی چھٹی ملی ہوئی ہے۔قصاب برادری گھروں میں لاغربیمارجانورذبح کرکے ویٹرنری حکام کی جانب سے مہیاکی والی صحت مند اورحفظان صحت گوشت پر لگائی جانے والی مہر ثبت کرکے بازاروں اورمارکیٹوں میں کھلے عام فروخت کررہے ہیں جبکہ پانی ملے گوشت کی مہنگے داموں فروخت جاری ہے۔عوام مضر صحت گوشت کھانے پر مجبورہیں اور مختلف قسم کی موذی بیماریوں میں مبتلاہورہے ہیں۔واضح رہے کہ اکثرواقعات میں قصاب برادری حرام جانورذبح کرنے کے کاروبار میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ڈیرہ کے عوامی سماجی حلقوں نے ویٹرنری حکام کی قصاب برادری سے ملی بھگت کرکے جانوروں کو سرکاری مذبحہ خانے کی بجائے گھروں میں ذبح کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کی ہے۔انہوں نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ نصراللہ خان سے ویٹرنری حکام کی بے حسی پر نوٹس لینے اورقصاب برادری کو گھروں کی بجائے سرکاری مذبحہ خانے میں جانورذبح کرنے کامطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق گوشت کی فراہمی ممکن بنائی جاسکے۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن میاں شفقت حبیب کا حکم نہیں ماننا مختلف سکول کے ہیڈٹیچرز کو حکم
باغی ٹی وی شیخوپورہ( محمد طلال سے)چیف ایگزیکٹیو ایجوکیشن میاں شفقت حبیب کا حکم نہیں ماننا مختلف سکول کے ہیڈٹیچرز کو حکم ۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکینڈری شیخوپورہ کا ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کو تقسیم کرنے کی کوشش۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق محمد سجاد اسلم ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ جس جگہ پر بھی ان کی پوسٹنگ ہوئی ہے یہ متنازعہ شخصیت رہے ہیں شیخوپورہ کے سرکاری سکولز میں غیر قانونی طریقہ سے پرائیویٹ آکسن اکیڈمی کا سلیبس لاگو کرنا ہو یا دوسرے معاملات ہوں آکسن اکیڈمی سلیبس کے معاملہ پر ہیڈٹیجرز کو چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایجوکیشن میاں شفقت حبیب جنھوں نے اس سلیبس کو لاگو نہ کرنے کے احکامات حاری کیے تھے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم نے ہیڈٹیچرز کو سی ای او ایجوکیشن کا حکم نہ ماننے کہا۔ فاروق آباد میں اپنی ریٹائرڈ ٹیچر بہن کو مانیٹرنگ آفیسر گرلز ہائیرسیکینڈری سکول فاروق آباد لگا دیا۔ شرقپور شریف میں ایک کلرک کو فوکل پرسن لگادیا۔ جو اساتذہ کرام کے جائز وناجائز کام کروانے کے لیے بھی رشوت طلب کرتا ہے بات یہی نہیں رکی ایک ہی ہیڈ ٹیچر کو چار مختلف سکولوں کی ڈی ڈی او اور دو مختلف سکولوں کا اضافی چارج بھی دے دیا۔ انرولمنٹ کے معاملہ میں ان صاحب کی کارکردگی صفر ہے انرولمنٹ میں سکینڈری ونگ کی کارکردگی صرف سات فیصد رہی جو کہ انتہائی کم ہے۔ جبکہ دوسری ایلیمنٹری ونگز سیکینڈری ونگ سے بہت آگے ہیں۔ان کا اساتذہ کے ساتھ رویہ بھی ہتک آمیز ہے۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری محمد سجاد اسلم ڈینگی کے فوکل پرسن مقرر ہیں مگر اس سلسلہ میں بھی ان کی کارکردگی صفر ہے انکی عدم دلچسپی کے باعث سکول ایجوکیشن ڈیپاڑٹمنٹ سے جواب طلبیاں معمول بن چکی ہیں۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایجوکیشن شیخوپورہ نے خود سکولوں کی چیکنگ کے دوران ڈینگی کے پھلاو کو روکنے کے خاطرخواہ اقدامات نہ کرنے پر 40اساتذہ کو شوکاز نوٹس جاری کرکے ان کے خلاف پیڈاایکٹ کے تحت کاروائی کا آغاز کردیا ہے۔ جبکہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کے کاموں کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی بد نام ہو رہی ہے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹی کی کارکردگی بہتر ہونے کی بجائے تنزلی کی طرف جارہی ہے۔ڈی ای او سیکینڈری گرلز سکولوں میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں۔کبھی بھی وقت پر کسی سکول نہیں پہنچتے اور نہ اپنے دفتر کو ٹائم دیتے ہیں۔اس سلسلہ میں جب ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سیکنڈری شیخوپورہ سجاد اسلم صاحب سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تو وہ دستیاب نہیں تھے۔شہر کے سماجی حلقوں میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر سکینڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ای او سکینڈری شیخوپورہ محمد سجاد اسلم کی غیر تسلی بخش کارکردگی کا نوٹس لیا جائے۔

ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن کا کل آخری روز،
باغی ٹی وی : تلہ گنگ (شوکت علی ملک سے) ضلع تلہ گنگ کے قیام کے حوالے سے دی گئی ڈیڈ لائن کا کل آخری روز، اہلیانِ تلہ گنگ نوٹیفکیشن کے اجراء کےلیے پُرامید، نوٹیفیکیشن کے اجراء پر ق لیگی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنے کا فیصلہ، نوٹیفکیشن جاری نہ ہونے پر الٹی گنتی شروع کرنے پر غور، گزشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے تلہ گنگ ضلع کے قیام کے حوالے سے مختلف پیشن گوئیاں اور قیاس آرائیاں جاری ہیں، مختلف ذمہ دار ذرائع نے ماہِ ستمبر کے آخر میں تلہ گنگ ضلع کے نوٹیفیکیشن کے بلند و بانگ دعوے کر رکھے تھے، جس کا کل آخری روز ہے، عوامی حلقوں نے اگلے چند گھنٹوں میں تلہ گنگ ضلع کا نوٹیفکیشن جاری ہونے پر ایم پی اے حافظ عمار یاسر سمیت تمام ق لیگی مقامی قیادت کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم اگر دی گئی ڈیڈ لائن تک نوٹیفکیشن جاری نہ کیا گیا اور مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے گئے اور کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کی کوشش کی گئی تو الٹی گنتی شروع کرنے کا بھی اصولی فیصلہ کر رکھا ہے، عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ متعدد بار تلہ گنگ ضلع کے نام پر اپنی سیاسی ہٹیاں چمکانے کی کوشش کی گئی اور ہمارے جذبات کیساتھ کھیلا گیا مگر اب کی بار کوئی گنجائش باقی نہیں، لہذٰا ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بلا حیل و حجت اور بغیر کسی تاخیری حربے کے تلہ گنگ ضلع کا نوٹیفکیشن جاری کرکے ہمارا دیرینہ اور دِلی مطالبہ پورا کرکے شکریہ کا موقع فراہم کیا جائے۔

شیخوپورہِ پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا
باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی پرنسپل نے درجنوں طالبات کے مستقبل کو داؤپر لگا دیا وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب کا خواب چکنا چور کردیا سینکڑوں طالبات ٹیچرز کے ناروا سلوک کی وجہ سے گھر بیٹھ گئی ہیں طالبات اور والدین نے پرنسپل اور سٹاف کی سفاکیت کے خلاف احتجاج اور نعرے بازی کی وزیراعلی ہمیں انصاف دو ہماری تعلیم میں حرج ہو رہا ہے جب میڈیا نمائندگان نے موصوفہ سے رابط کیا تو موقف دینے سے انکار کر دیا اساتذہ طالبعلم کے روحانی والدین ہوتےہیں لیکن جب عہدے کا خمار ہو تو وہی شیطانی روپ لے کر بچوں کے مستقبل کےساتھ کھلواڑ پر اتر آتے ہیں ایسا ہی کارنامہ گورنمنٹ گرلز ہائی سکول کینال پارک کی بدزبان اور انسانیت سے عاری پرنسپل نے درجنوں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ پسند اور نہ پسند کی بنیاد پر طلبہ کی نہم کلاس میں رجسٹریشن کروا کر درجنوں طلبہ کو سکول سے نکال کر ان کے خوابوں کو چکنا چور کردیا موجودہ پرنسپل کے ہوتے بچیوں کی تعداد 900 رہ گئی جبکہ پہلے 1400 کے قریب تھی وزیراعلیٰ کا پڑھا لکھا پنجاب اور انرولمنٹ ان گورنمنٹ سکولز کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں بااثرسیاسی پرنسپل کی گردن میں طاقت کا ایسا سریا پڑا ہے کہ نکالے گئے طلبہ کے والدین نے جب پرنسپل سے نکالنے کی وجہ پوچھی تو موصوفہ دھمکیوں پر اتر آئی سینکڑوں والدین اور طالبات نے پرنسپل کے رویہ اور بچوں کے مستقبل کے خوابوں کو تعبیر ملنے سے پہلے ہی روند دینے والی سفاک پرنسپل کے خلاف احتجاج کرتے ہوِئے وزیراعلی پنجاب وزیر تعلیم اور سیکرٹری سکولز پنجاب سے انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری نہم کلاس میں رجسٹریشن کروائی جائے اور ایسی پرنسپل جو تعلیم دشمن پالیسیاں اپنا رہی ہے اس کو فی الفور نوکری سے برطرف کیا جائے اور عہدے پر تعینات کرنے سے پہلے کردار سازی ضرور کی جائے

شیخوپورہ ، گردونواح میں ڈکیتی،جیب تراشی،اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتیں،عوام سراپا احتجاج
باغی ٹی وی:شیخوپورہ (محمد طلال سے)شیخوپورہ اور اس کے گردونواح میں ڈکیتی،جیب تراشی،اور چوری کی بڑھتی ہوئی وارداتوں میں روز بروز اضافہ سے عوام سراپا احتجاج۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سول ہسپتال کے سامنےمحمد اقبال جوکہ اقبال پارک کا رہائشی ہے سول ہسپتال شیخوپورہ میں اپنے علاج معالجہ کیلئے جارہا تھا کہ نامعلوم جیب تراشوں نے جیب کاٹ کر38000روپے نکال لئے اور فرارہوگئے۔جبکہ شہر میں جیب تراش کئی لوگوں کی جیبیں صاف کرچکے ہیں۔محلہ رسول پورہ شیخوپورہ کے رہائشی ریاض علی نے اپنی موٹر سائیکل نمبری6278/روڈ پرنس کمپنی موبائل مارکیٹ کے باہر کھڑی کی تھی کہ نامعلوم چور چوری کرکے لے گئے ہیں۔محلہ پیر بہار شاہ شیخوپورہ کے رہائشی محمد عارف نے اپنی موٹر سائیکل نمبری3423/leyہنڈا 70اپنے گھر کے باہر کھڑی کی تھی کہ نامعلوم چور چوری کرکے لے گئے ہیں۔گجر ٹاون غازی مینارہ شیخوپورہ میں فاسٹ فوڈ کی دوکان پر دو ڈاکو 18000روپے اور ایک موبائل فون چھین کر فرار ہوگئے۔
کشمور تا راجن پور لوکل ٹرانسپورٹرز نے سواریوں کو موت کا مسافر بنا دیا
باغی ٹی وی :روجھان ( ضامن حسین بکھر) کشمور تا راجن پور لوکل ٹرانسپورٹ مالکان نے سواریوں کو موت کی گاڑیوں میں سوار کرنا شروع کر دیا ہے ذرائع نے بتایا ہے کہ کشمور سے روجھان اور راجن پور چلنے والی لوکل ہائی ایسز گیس سلنڈروں پر چلنے لگے ذمہ دار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں سواروں سے روجھان سے راجن پور بھاری کرایہ وصول کیا جانے لگا کشمور سے روجھان تا راجن پور جانے والی ہائی ایسز پر پھر سے موت کے سلنڈر (گیس سلنڈر) پر چلنے لگے جو کہ مسافروں کے لئے موت کے سفر کے مترادف ہے متعدد مرتبہ گیس سلنڈرز کی وجہ سے مسافر ہائی ایسز میں آگ بھڑ اٹھی اور جس میں مرد خواتین، بچے بوڑھے جوان جل کر خاکستر ہوئے گئے اور کچھ تو زندگی بھر کے لئے معزور ہو گئے قیمتی جانوں کی ضیاع کے باوجود ایک دو دن سختی کے باد بھول جاتے ہیں اور ہر ایس اس کو چیک کریں گاڑی کے اندر یا گاڑی کے نیچے موت کے گیس سلنڈر لگے ہوئے ہیں کیونکہ یہ گیس ڈیزل یا پیٹرول کی قیمت سے نسبتاً گیس کی قیمت کم پڑتی ہے مگر کرایہ جوں کا توں ہے اور ہائی ایس عملہ مسافروں سے کرائے پر جھگڑا مسافروں سے ناروا سلوک تلخ کلامی بھی روایت بن چکی ہے روجھان کے عوامی سماجی شہری دیہی حلقوں نے وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب، کمشنر ڈیرہ غازی خان لیاقت علی چٹھہ ،ڈپٹی کمشنر راجن پور عارف رحیم اور قائم مقام اسسٹنٹ کمشنر روجھان سے ہائی ایسز میں موت کے گیس سلنڈر چیک کر کے سلنڈروں کو ہٹانے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا تاکہ گیس سلنڈروں سے کوئی ناخوش گوار واقعہ اور قیمتی جانوں کے ضیاع سے بچایا جا سکے

محمد پور دیوان ، ڈاکوؤں نے سٹوڈنٹ پر فائر کھول دیا،شدید زخمی حالت میں ہسپتال داخل
باغی ٹی وی: محمد پور دیوان (محمد جنید خان احمدانی) محمد پور دیوان ، ڈاکوؤں نے سٹوڈنٹ پر فائر کھول دیا،شدید زخمی حالت میں ہسپتال داخل
تفصیل کے مطابق محمد پور دیوان کے نواحی علاقے چک کوڑے والہ کے مقام پر ڈاکوؤں کا سٹوڈنٹ سجاول کھاکھی پر دھاوا مزاحمت کرنے پر ڈاکوؤں نے سجاول کھاکھی پر برسٹ کھول دیا جس کے نتیجے میں سجاول کھاکھی شدید زخمی ہو گیا جسے رورل ہیلتھ سینٹر محمد پور دیوان منتقل کر دیا گیا،پولیس کو اطلاع ملنے پر پولیس تھانہ محمد پور دیوان موقع پر پہنچ کر تفتیش شروع کر دی ہے
تونسہ سیلاب ، ہلاکتوں ،سینکڑوں گھروں کی تباہی و بربادی کا ذمہ دار کون؟ کیا اس انسانی المیہ پرسپریم کورٹ کا سوموٹو ایکشن ہوگا؟
باغی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان (سپیشل رپورٹ) رودکوہی سیلاب کو آئے ہوئے تقریباََ دو ماہ ہوچکے ہیں اس سیلاب نے تونسہ کے علاقہ بستی چھتانی ،گیدڑوالا سمیت کئی بستیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا ڈالا ،کئی انسان سیلابی ریلے میں بہہ کر لقمہ اجل بن گئے ،جن کی لاشیں کئی دنوں بعد ملیں،ہر طرف تباہی و بربادی کے مناظر تھے جو اب تک موجود ہیں ۔یہ سیلاب اب تقریباَ َ ختم ہوچکا ہے لیکن اپنے پیچھے کئی کہانیاں اور سوالات چھوڑ گیا ہے ۔سب سے پہلا سوال تو یہ ہے کہ یہ سیلاب قدرتی تھا یا کسی انسانی غلطی یا خود غرضی اس کی وجہ بنی،اس کا جواب جاننے کی کوشش کرتے ہیں،آئیے آپ کو لیے چلتے ہیں تونسہ کے علاقہ گٹا کُھردک یا مہوئی والا گٹا (بند)۔تاریخ میں پہلی باراس علاقے سیلاب آیا اوربند ٹوٹا جس نے بہت بڑے سانحے کو جنم دیا ۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں کے بااثر افراد سیف اللہ ولد حاجی صدیق ،حیدر ولد شاہل کھردکی جنہیں پی ٹی آئی کے مقامی ایم پی اے اور ایم این کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ان لوگوں نے گٹا کھردک کے ساتھ واقع سرکاری رقبہ اور شاملات پر قبضہ کیاہوا ہے ۔ان لوگوں نے بند کے قدرتی راستے کے درمیان دو پشتے بنواکر قبضہ کیا گیا سرکاری رقبہ کو سیراب کرنے کیلئے اپنی مرضی سے تبدیل کیا اور غیر قانونی کھالا بنایا ۔آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان بننے کے بعد اس وقت ایک آفیسر ملک عبدالعزیز کوریہ نے بیلوںکے ذریعے یہ بند بنوایا ،1987-88میں سردار امجد فاروق کھوسہ نے 20لاکھ روپے کی گرانٹ منظور کرائی اورپھر ہر دوسال بعداس کی مرمت کی جاتی رہی لیکن گذشتہ تین سال سے اس بند کی مرمت نہ ہوسکی ۔دو سال قبل اس بندکی مرمت کیلئے سرکار نے ایک بلڈوزر بھیجا ،مقامی لوگوں کے مطابق اس بلڈوزر کو بااثر لینڈ مافیا نے کا م نہ کرنے دیا رودکوہی دروغہ آیا لیکن اس کی بھی ایک نہ چلی، پھر رودکوہی تحصیلدار سرور ملغانی آیا جس نے لینڈ مافیا سے بکرے کی دعوت کھائی اور دس ہزار روپے نقد نذرانہ وصول کیا پھر انہیں سرکاری بلڈوزر کے ذریعے بند کاڈیزائن تبدیل کرنے کی کھلی اجازت دے دی ،جس سے بااثر افراد قبضہ شدہ رقبہ پر پانی لے جانے میں کامیاب ہوگئے اورفصلات کاشت کرنے لگے۔
دوسرا ظلم اس مافیا نے یہ کیا کہ اس بند پر ہزاروں کی تعداد میں درخت لگے ہوئے تھے،اس مافیاء نے سرکاری عملے کی ملی بھگت سے درخت لاکھوں روپے میں فروخت کردیے،رودکوہی کے راستے پر چھوٹے بند بنا کر ان میں فصلیں کاشت کرلی گئیں، اس سال بارشیں کچھ زیادہ ہوگئیں اور یہ منی ڈیم بھی پانی سے بھر گیا ،مسلسل چھیڑ چھاڑ ،فزیکل تبدیلی ،درختوں کی کٹائی اور بروقت بند کی مرمت نہ ہونے سے یہ بند پانی کا دباؤ برداشت نہ کر سکا اور ٹوٹ گیا ۔
٭۔اب سوال یہ ہے کہ کئی قیمتی انسانی جانیں اس سیلاب کی نذر ہوگئی ان ہلاکتوں کا ذمہ دار کون ہے ؟
٭۔سینکڑوں خاندان سیلا ب سے متاثر ہوئے ان کے گھر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ان کے ذمہ داروں کا تعین کون کرے گا ؟
٭۔ ڈپٹی کمشنر یا کمشنر ڈیرہ غازیخان سیاسی دباؤ سے نکل کر آزادانہ تحقیقات اور ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کر سکیں گے ؟
٭۔کیا سپریم کورٹ آف پاکستان کے محترم چیف جسٹس صاحب اس انسانی المیہ پر سوموٹو ایکشن لیں گے ؟
جوکہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے ؟؟؟؟؟؟
بلوچستان حکومت نےسرکاری ملازمت کےلئے عمر کی حد 43سال مقرر کردی – صوبائی وزیرعبدالرحمن کھیتران
باغی ٹی وی ،کوئٹہ (ویب ڈیسک) بلوچستان حکومت نےسرکاری ملازمت کےلئے عمر کی حد 43سال مقرر کردی،صوبائی وزیرعبدالرحمن کھیتران
عمر کی حد کااطلاق یکم جولائی 2022 سے30 جون 2023 تک ہوگا، وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کے بےروزگار نوجوانوں کادیرینہ مطالبہ پورا کردیا،اس سے قبل بلوچستان اسمبلی میں بھی اس مسئلے پراراکین اسمبلی نے کئی بار آواز اٹھائی تھی،صوبائی وزیرعبدالرحمن کھیتران نے کہا بے کہ روزگار نوجوان زیادہ سے زیادہ نوکریوں کےلئے اپلائی کریں، ان کا کہنا تھا کہ حکومت بےگاری کا مسئلہ ترجیحی بنادوں پر حل کرنا چاہتی ہے
چوٹی زیریں :سیلاب متاثرین،بیوگان اور غریبوں میں تین سو راشن بیگ تقسیم
باغی ٹی وی ، چوٹی زیریں ( محسن نواز کی رپوٹ)سابق چیئرمین چوٹی زیریں سردار حسنین خان لغاری نے سردار جمال خان لغاری،سردار اویس خان لغاری اور سردار محمود قادرخان لغاری سردار محمّد احمد خان لغاری کے تعاون سے سیلاب متاثرین،بیوگان اور غریبوں میں تین سو راشن بیگ تقسیم کیے اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وہ کسی صورت سیلاب متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ان کا مزید کہنا تھا کہ مرحلہ وار تمام مواضعات کے متاثرین میں راشن کی تقسیم کا عمل جاری ہے اور میں تعاون کرنے پر چیف لغاری سردار جمال خان لغاری،سردار اویس خان لغاری اور سردار محمود قادر خان لغاری سردار احمد خان لغاری کا مشکور ہوں ۔









