بپنڈی ھٹیاں محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا،ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے چیئرپرسن ٹیوٹا میاں مامون جعفر تارڑ
باغی ٹی وی : بپنڈی بھٹیاں(شاھدکھرل) جلالپور بھٹیاں کے گاؤں محمود پور سمیت دیگر دیہات کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند تعمیر کیا جائیگا۔ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے حفاظتی بند کی تعمیر کیلئے سمری کمشنرکو ارسال کردی۔ڈپٹی کمشنر حافظ آباد توقیر الیاس چیمہ اور چیئرپرسن ٹیوٹا و ایم پی اے مامون جعفر تارڑ نے محمود پور کا دورہ کیا، اوروہاں دریاکے کٹاؤ اور حفاظتی بند کی تعمیر کا جائزہ لیا۔اسسٹنٹ کمشنر پنڈی بھٹیاں بلاول علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ حافظ مبشر الحسن محکمہ انہار کے افسران اور مقامی معززین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ڈپٹی کمشنر کا کہنا تھا کہ محمود پور اور قریبی بستیوں کے رہائشی دیہاتوں کے جان و مال اور قیمتی زرعی اراضی و فصلوں کو دریائے چناب کے کٹاؤ سے بچانے کیلئے ایک میگا پراجیکٹ تیار کیا گیا ہے،اور محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جا ئیگا،اور اس سلسلہ میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹرمینجمنٹ کمیٹی نے سمری کمشنر کو ارسال کر دی ہے۔ جس کے بعد وزیر اعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں صوبائی کابینہ اس منصوبے کے لیے فنڈ ز کے اجراء اور تعمیراتی کام کی منظوری دے گی۔انکا کہنا تھا کہ حفاظتی بند کی تعمیر سے لوگوں کا قیمتی جان و مال، زرعی اراضی اور فصلیں محفوظ ہو سکیں گی۔اس موقع پر چیئرپرسن ٹیوٹا و مقامی ایم پی اے مامون جعفر تارڑنے کہا ہے کہ محمود پور کے مقام پر حفاظتی بند کی تعمیر انکی اولین ترجیح ہے، اور انشاء اللہ وہ جلد وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہٰی سے اس منصوبے کیلئے باقاعدہ فنڈز منظور کر وا کر تعمیراتی کام شروع کروائینگے۔انہو ں نے کہا ہے کہ دریاکے کٹاؤ سے عوام کے قیمتی جان و مال کا جو نقصان ہور ہا ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ اس نقصان کو روکا جائے جس کیلئے حفاظتی بند بنا یا جارہے ہے اور انشاء اللہ اس حفاظتی بند کی تعمیر سے محمود پور سمیت دیگر دیہات بھی دریا کے کٹاؤ اور سیلابی صورتحا ل سے محفوظ رہ سکیں گے۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

پنڈی بھٹیاں : محمود پور کے مقام پر 120ملین کی لاگت سے حفاظتی بند بنایا جائے گا

محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم
باغی ٹی وی : محمدپوردیوان( جنید احمدانی)منہاج ویلفئیر فاونڈیشن راجن پور کے زیرانتظام محمد پور دیوان اور گردونواح کے سیلاب سے متاثرہ 200 خاندانوں میں راشن ،بستر،کپڑےاور پانی تقسیم کیا گیا۔جس میں مہمان خصوصی مرکزی نائب ناظم اعلی سردار شاکر خان مزاری،ڈاکٹراختر عباس کوارڈینیٹر منہاج ویلفئیر فاونڈیشن یو ۔کے ،ملک عبدالروف مصطفوی کوارڈینیٹر ایم ڈبلیو ایف راجن پور اور ڈائریکٹر جامعہ منہاج القرآن راجن پور ،خالد بلال اعوان ،محمد اشرف ملک،غلام مصطفیٰ مغل نے خصوصی شرکت کی۔۔۔اس موقع پر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے ذمہ داران کا کہنا تھا کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے فلسفے اور ان کے منشور کے مطابق ہر مشکل گھڑی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن بلا رنگ و نسل دکھی انسانیت کی خدمت میں ہمیشہ پیش پیش نظر آتی ہے راجن پور ،ڈی جی خان سمیت پورے پاکستان کے سیلابی علاقوں کے لوگ خود کو تنہا نا سمجھیں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اس مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑی ہے متاثرین کی ہر ممکن مدد کی بھی جا رہی ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن مدد کی جائے گی اس کے علاؤہ فاضل پور میں سیلاب متاثرین کیلئے تقریباً 50 خیموں پر مشتمل خیمہ بستی بھی لگائی گئی ہے جس میں لوگوں کو کھانے پینے کے ساتھ ساتھ میڈیکل کی سہولیات اور بچوں کو تعلیم بھی دی جا رہی ہے جو کہ ایک احسن اقدام ہے

تلہ گنگ- الخدمت فاؤنڈیشن نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا
باغی ٹی وی :تلہ گنگ (شوکت ملک سے) اہلیانِ تلہ گنگ کا الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد، الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ نے ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صوبائی قیادت کے حوالے کر دیا، تفصیلات کے مطابق اہلیانِ تلہ گنگ نے الخدمت فاؤنڈیشن پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ کو سیلاب متاثرین کی بھاری امداد فراہم کرکے ریکارڈ قائم کر دیا، صدر الخدمت فاؤنڈیشن تحصیل تلہ گنگ افتخار افتی نے دیگر ضلعی عہدیداران کے ہمراہ ستر لاکھ روپے کا امدادی چیک صدر الخدمت فاؤنڈیشن پنجاب شمالی رضوان احمد کے حوالے کر دیا۔

کندھ کوٹ : برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم
باغی ٹی وی .کندھ کوٹ (نامہ نگار)کندھ کوٹ میں سیلاب اور برساتی سیلاب زدہ علاقوں میں تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین میں راشن اور ادویات تقسیم کئے گئے کندھ کوٹ کشمور اور تنگوانی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا
تفصیلات کے مطابق کیمپ میں ماہر ڈاکٹر، چائلڈ اسپیشلسٹ اور تمام امراض کو ڈاکٹروں نے چیکپ کیا کیمپ میں 500 سے زائد مریضوں کا معائنہ کیا اور انہیں ادویات فراہم کیں مختلف علاقوں اور دیہاتوں میں کندھ کوٹ تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے متاثرین کی بحالی کے لیے تمام مثبت اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں تحریک لبیک پاکستان کندھ کوٹ کی جانب سے راشن اور ادویات سمیت دیگر امدادی سامان متاثریں تقسیم کرنے کا عمل جاری تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بستروں کمبل پانی اودیات اور دیگر ضروریات کے سامان غریب مستحق برسات متاثرین میں تقسیم تحریک لبیک پاکستان کندہ کوٹ بارشوں سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لئے دن رات کوشاں میں مصروف عمل اس موقع پر تحریک لبیک ضلع کشمور کے امیر مفتی محمد قاسم سکندری اور ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے کہا کہ ہم اعلیٰ قیادت کے حکم پر سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے کندھ کوٹ کشمور کے مختلف علاقوں میں فری میڈیکل کیمپ لگائی ہیں تحریک لبیک کے ناظم اعلیٰ مقصود احمد اعوان نے مزید کہا کہ فری میڈیکل کیمپ کا مقصد یہ ہے کہ ضلع کے بارانی علاقوں میں عوام کو ڈیلی ویجز پر صحت کی سہولیات فراہم کرنا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی وبائی امراض کو روکا جا سکے۔
ڈکیتی کے ملزم 24 گھنٹے کے اندرگرفتار۔اندھے قتل کے ملزم سمیت متعدد جرائم پیشہ افراد بھی قانون کے شکنجے میں،اسلحہ برآمد
باغی ٹی وی: شیخوپورہ تحصیل مریدکے(محمد طلال سے) ڈی پی او شیخوپورہ فیصل مختار کی ہدایت پر اے ایس پی مریدکے ڈاکٹر عبدالحنان کی زیرنگرانی ایس ایچ اوصدرمریدکے ولی حسن پاشاکی جرائم پیشہ افرادکیخلاف دبنگ کاروائیاں۔زمیندارکے گھرڈکیتی کی واردات کرنے والے ڈاکو24 گھنٹوں کے اندرگرفتار۔اندھے قتل کے ملزم سمیت متعددجرائم پیشہ افرادبھی دھرلئےجدیداسلحہ برآمد۔باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈی پی او شیخوپورہ فیصل مختار کی ہدایت پر اے ایس پی مریدکے ڈاکٹر عبدالحنان کی زیرنگرانی تھانہ صدرمریدکے پولیس کے ایس ایچ او ولی حسن پاشانے دیگرپولیس پارٹی کے ہمراہ مختلف مقامات کامیاب چھاپے مارکرننگل کسووال میں زمیندار سکندرنول کے گھرپر ڈکیتی کی واردات کے دوران دولاکھ روپے نقدی سمیت دوعددلائسنسی بندوقیں لوٹنے اورمذاحمت پرنوکرانی کوفائرنگ کرکے شدیدزخمی کرنیوالے دوڈاکوؤں بشارت وغیرہ کو24گھنٹوں کے اندرگرفتارکرنے کے علاوہ اندھا قتل ٹریس کراسکے ملزم دانش ولدامانت مسیح سکنہ پنڈمریدکے کوگرفتارکرلیاہے۔گرفتارملزم بھی ڈاکوبتایاجاتاہےجس نے چندروزقبل اپنے ہی ڈاکوساتھی آصف اقبال مسیح سکنہ پنڈمریدکے کوقتل کردیاتھا۔جبکہ دیگرپانچ افرادمقبل طارق غلام مرتضیٰ اورعلی شیروغیرہ کوگرفتارکرکے انکے قبضہ سے ناجائزاسلحہ برآمدکرکے علیحدہ علیحدہ مقدمات درج کردیئے ہیں۔اس موقع پرایس ایچ اوولی حسن پاشانے میڈیاسےگفتگوکرتے ہوۓ کہاہے کہ جرائم کی سرکوبی کیلئے دبنگ کاروائیوں کاسلسلہ کامیابی سے جاری ہے۔عوام کے جان ومال کاتحفظ اورامن کاقیام میری اولین ترجیحات میں شامل ہےاپنے ایریاسے چوروں ڈاکوؤں منشیات فروشوں اورعوام کاسکھ چین چھیننے والوں کاخاتمہ کرکے ہی دم لونگا۔کامیاب کاروائیوں پر ڈی پی او شیخوپورہ نے ایس ایچ او تھانہ صدرسمیت دیگرپولیس پارٹی کوشاباش دیتے ہوۓ انعام کا اعلان بھی کیا ہے

کوٹ چھٹہ – مرغیوں اور مردارجانوروں کے باقیات سے کھانے کا تیل اور گھی بنانے کا انکشاف
باغی ٹی وی – کوٹ چھٹہ (شعیب خان لنگاہ کی رپورٹ )مرغیوں اور جانوروں کے مردہ باقیات کو پیس کر، جلا کر کھانے کا تیل اور مچھلیوں کی خوراک کا انکشاف علاقے میں خوف وحراس علاقہ مکینوں کا احتجاج ، انسانوں اور جانوروں میں کئی بیماریاں پھیلنے لگیں . تفصیل کے مطابق بستی کمہار والہ موضع بستی کھوسہ تحصیل وضلع ڈیرہ غازی خان میں لعلوانی رائس مل کے مالک جبین افضل نے اپنی رائس مل کے اندر ایک غیر قانونی فیکٹری لگائی ہے جس سے وہ اپنا مکروہ کام کر رہا ہے مرغیوں اور مردہ جانوروں کےباقیات کو پیس کر، جلا کر کھانے کا تیل اور مچھلیوں کی خوراک کا انکشاف ہوا ہے،جس کی وجہ سے بدبو پھیلی ہوئی ہے علاقے میں انسان جانور اور تمام قدرتی وسائل و عوامل تکلیف، مشکلات کا شکار ہیں فیکٹری کے نزدیک بستی کھوسہ میں پرائمری سکول ہے بدبو کی وجہ سے سکول کے سٹاف اور بچے کافی اذیت کا شکار ہیں علاقہ میں سانس، پھیپھڑوں، اور جلد کی امراض کافی حد تک پھیل چکی ہے اہل علاقہ کا کہنا ہے کئی بار پنجاب پولیس، اسٹنٹ کمشنر ڈیرہ، کمشنر ڈیرہ غازیخان کو درخواستیں دی مگر سیاسی اثر رسوخ ، پیسے کی وجہ سے انتظامیہ کی طرف سے اس کے خلاف کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی اہل علاقہ نے وزیر اعظم پاکستان، وزیراعلی پنجاب، سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے جیبن افضل نے جو غیر قانونی فیکٹری لگائی ہے اس فی الفور بند کرایا جائے، اہل علاقہ کا کہنا تھا اگر ہمیں اس بدبو سے پھیلنے والی بیماریوں سے نجات نہیں دلائی گئی تو بہت جلد کمشنر آفس کے سامنے احتجاج کریں اور دھرنا دیں گے


پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم
ڈیرہ ڈویژن محکمہ بلڈنگز کے ورک چارج ملازمین تنخواہوں سے محروم ،گھروں میں فاقے
باضی ٹی وی : ڈیرہ غازیخان(نامہ نگار) آل پاکستان پی ڈبلیو ڈی ورکر یونین سی بی اے محکمہ بلڈنگز ڈیپارٹمنٹ ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے عہدیداروں نے کہاہے کہ پانچ ماہ سے محکمہ بلڈنگز ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے ورک چارج ملازمین کو تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین خودکشی کرنے پر مجبور اور گورنمنٹ کے ریگولر آرڈر دینے کے باوجود ٹائم پرٹائم دے رہے ہیں حکومت پنجاب نے ورک چارج ملازمین کو ریگولر ورک مین کر دیا پچھلے پانچ ماہ سے نہ ہی تنخواہ دی، نہ ہی آرڈر دیے ،ورک چارج ملازمین کا اعلی حکام و کمشنر ڈیرہ غازی خان سے نوٹس لیکر ملازمین کے مسائل حل کرنے کا مطالبہ کیاہے.


ڈیرہ – محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے
محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے
باغی ٹی وی :ڈیرہ غازی خان (۔شزادخان کی رپورٹ )محکمہ سپورٹس کی زیر نگرانی 28 ستمبر سے سکول کرکٹ چیمپئن شپ کا آغاز کیا جارہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ،ضلعی انتظامیہ، تعلیم اور لوکل گورنمنٹ کے اشتراک سے فلڈ لائٹس کرکٹ سٹیڈیم ڈیرہ غازی خان میں مقابلے ہوں گے۔ضلع کے منتخب 12 سکولوں کی ٹیمیں حصہ لیں گی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل صابر حسین نےڈویزنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمن،کرکٹ سٹیڈیم ایڈمنسٹریٹر یاسر چنگوانی اور افسران کے ہمراہ فلڈ لائٹس کرکٹ سٹیڈیم کا دورہ کیا۔کرکٹ پچ،گراونڈ اور دیگر معاملات کا جائزہ لیا۔ڈویژنل سپورٹس آفیسر عطاء الرحمن نے بتایا کہ ٹیموں کو کرکٹ کٹ دی جائے گی۔سکولوں کی ٹیموں سے ڈسٹرکٹ چیمپئن کا انتخاب کیا جائے گا اور یہی ٹیم پنجاب لیول کے مقابلوں میں ضلع کی نمائندگی کرے گی
شیخوپورہ: پولیس نے کم وسائل کے باوجود مسلسل جدوجہدسے کئی بین الصوبائی ڈکیت اور قاتل پکڑے۔ ڈاکٹر عبدالحنان
شیخوپورہ: پولیس نے کم وسائل کے باوجود مسلسل جدوجہدسے کئی بین الصوبائی ڈکیت اور قاتل پکڑے۔ ڈاکٹر عبدالحنان
باغی ٹی وی: شیخوپورہ (محمد طلال سے) تحصیل مریدکے میں آئے روزجرائم کی اطلاعات جہاں مقامی آبادی میں عدم تحفظ اور بداعتمادی کو جنم دیتی ہیں وہیں پر مقامی پولیس کی کارکردگی اور تھانوں وناکوں پر شہریوں کے ساتھ اِس کے حسن سلوک بارے سوالات بھی اٹھتے رہتے ہیں۔ تاہم ساری حقیقت یہی نہیں۔ اس کے علاوہ بھی حقیقتیں ہیں جیسا کہ پولیس میں ضروری افرادی قوت کی عدم دستیابی، وسائل و ٹیکنالوجی تک عدم رسائی، جا و بے جا سیاسی مداخلت وغیرہ۔ تمام تر مسائل و چیلنجز کے باوجود پچھلے کم و بیش چھ ماہ کے دوران مقامی پولیس کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو بلاشبہ امید ،رجائیت اور تحسین کے کئی پہلو سامنے آتے ہیں۔ اس امر کی ایک مثال گزشتہ روز اے ایس پی مریدکے ڈاکٹر عبدالحنان کی پریس کانفرنس بنی جس میں تمام تر تفصیلات کے ساتھ انکشاف کیا گیا کہ سرکل پولیس نے گزشتہ تقریباً چھ ماہ کے دوران خطرناک وارداتوں میں ملوث پچیس گینگز گرفتار کیے، تین اندھے قتلوں کا بھی سراغ لگایا گیا۔ مریدکے سٹی،تھانہ صدر اور نارنگ تھانہ میں جرائم پیشہ افراد سے مجموعی طور پر دو کروڑ بیالیس لاکھ اکسٹھ ہزار روپے برآمدگی کی گئی۔ چند روز پہلے مین جی ٹی روڈ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال مریدکے کے سامنے ہوئی سترہ لاکھ روپے ڈکیتی کے ملزم بھی پکڑ ے گئے اور ان سے تمام کی تمام نقدی برآمد کر لی گئی۔ تحصیل کمپلیکس مریدکے میں منعقد ہوئی پریس کانفرنس میں اے ایس پی ڈاکٹر عبدالحنان، ایس ایچ او تھانہ سٹی مریدکے شاہ زمان، ایس ایچ او تھانہ صدر ولی حسن پاشا، ایس ایچ او نارنگ سمیت وارداتوں کے متاثرین بھی موجود تھے۔ ڈاکٹر عدالحنان نے میڈیا نمائندوں کو بتایا کہ مقامی پولیس نے کم وسائل کے باوجود مسلسل جدوجہدسے کئی بین الصوبائی ڈکیت اور قاتل پکڑے۔ علاقہ کے اندر وارداتوں میں ملوث زیادہ بڑے گینگز کے بیشتر اراکین کا تعلق باہر کے شہروں سے ہے تاہم ان کے مقامی سہولت کار جویہاں موجود تھے۔ ان کو بھی قانون کے شکنجے میں لایا گیا ہے۔ بتایا گیا کہ سٹی پولیس نے مجموعی طور پر 91 لاکھ 36 ہزار روپے کی ریکوری کی جس میں 31 لاکھ کے چاول، چھینی گئی پک اپ، چالیس لاکھ نقدی، سندھ سے چوری شدہ ہنڈا سٹی بھی برآمد کی گئی۔ صدر پولیس نے بشارت، وکی، بابری، بلالی، عصمت اللہ،شبیرا، وسیمی ڈکیت گینگ وغیرہ پکڑے۔ اور تقریباً سوا کروڑ روپے کا سونا، نقدی، موبائلز ،گاڑیاں وغیرہ برآمد کر کے مالکان کے حوالے کیں۔ ٹپیالہ دوست محمد اور کٹھیالہ ورکاں کے اندھے قتل ٹریس کیے۔ اسی طرح نارنگ پولیس نے تقریباً 30 لاکھ روپے کی نقدی، گاڑیاں و دیگر سامان برآمد کیا۔ اطلاعات کے مطابق ریکور کی گئی نقدی و سامان کا بیشتر حصہ مختلف وارداتوں کے متاثرین کو واپس کیا جا چکا۔ مزید کی واپسی کا قانونی عمل جاری ہے۔ بلاشبہ مقامی پولیس کی یہ کارکردگی اور اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں تاہم ابھی بھی بے شمار وارداتوں کے متاثرین اس انتظار میں ہیں کہ ان سے ہوئی وارداتوں کے ذمہ دار افراد بھی جلد قانون کے کٹہرے میں لائے جائیں۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ قانون کے رکھوالوں کی ہر محاذ پر مدد کرے تاکہ متاثریں کے یہ جائز مطالبات بھی جلد اپنی تعبیر کو پہنچیں۔


ڈیرہ غازیخان – سیوریج سسٹم تباہ ،شہر کی مین شاہراہوں پر گڑھے ،حادثات معمول
ڈیرہ غازیخان – سیوریج سسٹم تباہ ،شہر کی مین شاہراہوں پر گڑھے ،حادثات معمول بن گئے،نکاسی آب کے سگین و بدترین مسئلے کو فوری حل نہ کیا تو شہر میں ممکنہ بڑی تباہی کو روکنا مشکل ہوگا
باغی ٹی وی : ڈیرہ غازی خان (شہزاد خان یوسفزئی کی رپورٹ)ڈیرہ غازی خان سو سال گزر جانے کے بعد ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جس کا غالبا کسی کو ادراک تک نہیں ہمارے سروے کے مطابق سیوریج کی تباہ کن صورت حال کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہاں کے عوام کی تباہی و بربادی کیلئے بدترین سیوریج نظام ہی کافی ہے اس وقت شہر کی کوئی سڑک ایسی نہیں جس میں آئے روز شگاف نہ پڑتے ہوں حالانکہ بے پناہ حکومتی فنڈز کی فراہمی کے باوجود یہاں کی سڑکوں اور سیوریج و صفائی کا نظام درست نہ ہوسکا اس تمام صورتحال کا ذمہ دار یہاں سے منتخب ہونے والے سابق اور موجودہ عوامی نمائندوں کو ٹھہرایا جاتا ہے جنکی کرپشن، نااہلی یا عدم دلچسپی اور ناقص حکمت عملی کے باعٹ شہر کی یہ دگرگوں صورتحال ہے
انگزیز دور میں جب ڈیرہ غازی خان کو 1910 میں تعمیر کیا گیا تو شہر میں نکاسی آب کے موثر نظام کیلئے نالیوں کا سسٹم رکھا گیا جبکہ مین روڈز پر بڑے بڑے نالے تعمیر کئے گئے اس سے محلوں کی نالیوں کا پانی مین روڈز کے نالوں میں بہہ جاتا گزشتہ دو تین دہائیوں سے نالے اور نالیوں کے موثر نظام کو ختم کرتے کرتے سیوریج کے پائپ گلیوں اور سڑکوں پر ڈالنا شروع کئے گئے جس سے پورے کا پورا نظام درہم برہم ہوتا چلا گیا اب حالت ہے کہ نہ سیوریج کی تکمیل ہوتی ہے نہ نالیوں کے نظام کو کار گر سمجھا جا رہا ہے اس کی ذمہ داری سیاسی نمائندوں پر ضرور ڈالی جا سکتی ہے لیکن اصل مجرمانہ غفلت بیوروکریسی اور مختلف محکموں کے ائنجیرز حضرات پر عائد ہوتی ہے جہنوں نے اپنے کیمشنوں کے چکر میں نہ صرف نااہل ہونے کا ثبوت دیا بلکہ اس مجرمانہ غفلت کے باعث آج پورے شہر میں ہر طرف ڈینامنت نصب ہیں جو چھوٹے چھوٹے آفٹر شاکس کے بعد کسی بھی لمحے کسی بڑے دھماکے کے ہونے کا عندیہ ہے ماضی میں 2018 کے عام انتخابات کے بعد پنجاب کی وزارت اعلی ڈیرہ غازی خان کو دے دی گئی اور یوں وسیب کے سپوت سردار عثمان خان بزدار وزیر اعلی پنجاب بن گئے انہوں نے عالاقائی تعمیر و ترقی کیلئے بڑے بڑے میگا پراجیکٹ کا آغاز کیا اربوں روپے کی گرانٹس دی گئیں لیکن اصل مسائل کا حل تلاش نہ کیا گیا اگر اس شہر کے سیوریج منصوبے کو ازسر نو سروے کرانے کے بعد کسی بڑی کمپنی کے ذریعے کام کرایا جاتا تو لامحالہ اس منصوبے سے ڈیرہ غازی خان شہر کے عوام کو ضرور سکھ میسر آتا مگر افسوس کہ اربوں کھربوں روپے کے فنڈز مٹی میں بہا دیئے گئے یا پھر کرپٹ آفیسران کے ذریعے ذاتی تجوریاں بھر لی گئیں مگر نکاسی آب کے سنگین و بدترین مسائل کو حل نہ کیا گیا اس سے قبل بھی یہاں سے صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر اعلی، گورنر اور وفاقی وصوبائی وزراء رہے مگر کیا مجال کہ کسی نے بھی اس مسئلے کے حل پر توجہ دی ہو ہاں البتہ سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور انکے فرزند سابق وزیر اعلی پنجاب سردار دوست محمد خان کھوسہ نے اپنے دور میں انفراسٹرکچر کے مسائل کے ساتھ ساتھ تعیلم، صحت، اریگشین کے شعبہ جات میں مثالی اقدامات کئے اور آبادی کے اعتبار سے سیوریج لائنوں کو بچھانے کا کام بھی کیا لیکن اس کے بعد 20 سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد منتخب ہونے والے اراکین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ بڑھتے ہوئے آبادی کے مسائل کو مدنظر رکھ کر سیوریج کے لئے ازسر کام کرتے مگر ایسا نہ ہوا عوام کے یہ نمائندے آتے رہے اور جاتے رہے پرانے طرز زندگی کو تباہ کرتے رہے آج افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم کس قدر بدقسمت لوگ ہیں کہ جن کے نمائندوں کے پاس بڑے سے بڑا اقتدار ہونے کے باوجود شہر کی سیوریج بہتر نہ ہوسکی وہ اجتماعی سطح پر علاقے کی کیا محرومیاں دور کریں گے اور ویسے بھی موجودہ عہد کے نمائندوں سے تو اس لئے بھی توقع نہیں کی جا سکتی کہ یہ لوگ تو اداکار زیادہ اور سیاست دان کم لگتے ہیں کیوں انکا مسلسل فوٹو شوٹ چل رہا ہوتا ہے موجودہ تباہی کے ذمہ دار ان سلفی سٹارز کو عوام پہچانیں انکا محاسبہ کرنے کیلئے تیار ہوں جہنوں نے صحت تعیلم، انفراسٹرکچر، پینے کے صاف پانی کی فراہمی صفائی و ستھرائی اور نکاسی آب جیسے اہم اور بنیادی مسائل ہی حل نہ کئے ان سے میگا ترقی و خوشحالی ملے یہ ممکن ہی نہیں












