باغی ٹی وی رپورٹ. ڈیرہ غازی خان ،ایس ایچ او تھانہ سول لائن کی انوکھی کارروائی قومی بھائی کے موٹر سائیکل کی ریکوری دینے کے لیے یتیم اور بیوہ کے غریب بیٹے کوپرانی ایف ائی ار میںنامزدکردیا بیوہ کی آر پی او کودہائی اور تحریر ی درخواست زوہیب کا بھائی عدالت کے د روازہ پر پہنچ گیا اور عدالتی بیلف نے بھی کاروائی کی لیکن تھانے دار نے انوکوبھی پرانی ایف ائی آر پر انٹری ڈال کر رام کرلیا۔تفصیلا ت کے تھانہ سول لائن پولیس نے دن دیہاڑے شہری کو اُٹھالیا اور رہائی کے بدلے میں لاکھوں روپے کی ڈیمانڈ ورنہ جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کی دھمکیاں ٹاؤٹ کے ذریعے دینے والوں پر عدالتی بیلف کا چھاپہ پولیس نے خانہ پری کیلئے رپٹ روزنامچہ میں کچی پنسل سے بند ی ڈال رکھی تھی۔جبکہ تفتیشی کے پاس مقدمہ کی فائل تک موجودنہ تھی۔بیلف کی رپورٹ پر ایڈیشنل سیشن جج عمران شفیع نے ایس ایچ او کی سرزنش کرتے ہوئے فوری ریمانڈ حاصل کرنے کیلئے احکامات دئیے۔معروف قانون دان محمدکمیل حیدر ایڈووکیٹ کے مطابق محمد زوہیب محبوس کی برآمدگی کے حوالہ سے جسٹس آف پیس کو درخواست گزاری جس میں شعیب نے تحریر دی کہ اس کا بھائی اپنے گھر سے 10ستمبر کو کام کے سلسلہ میں مہران نامی شخص کے ہمراہ گیا۔ماڈل ٹاؤن کے نزدیک پہنچے تو وہاں پر موجو د سول لائن پولیس نے ان دونوں کو روک لیا او ر شناختی کارڈ طلب کیے شناختی کارڈ دکھانے کے باوجود ڈیوٹی پر مامو ر عملہ نے رشوت کا تقاضا کیا انکار پر اسے حوالات بند کردیا۔مقامی معززین کے ہمراہ بھی تھانہ سول لائن کے اسٹیشن انچارج سے ملے۔جنہوں نے محبوس کی رہائی کے حوالہ سے مبینہ طورپر رشوت کا تقاضاکیا ،

محمدشعیب بلال کا کہناتھاکہ وہ غریب آدمی ہے اور اتنی رقم ادا نہ کرسکتاہے جس پر پولیس نے اسے تھانے سے نکال دیا زوہیب کی برآمدگی کے حوالہ سے جسٹس آف یپس کو درخواست گزار ی بیلف نے رپٹ روزنامچہ چیک کیا تو اس میں آخرمیں محمدزوہیب ولد محمدبلال کے نام پر کچی پنسل سے مقدمہ نمبر345/22 میں ملوث ہونے کی رپٹ درج کی۔جبکہ اس مقدمہ کے تفتیشی سے مثل مقدمہ بیلف نے طلب کی تو تفتیشی نے کہاکہ وہ اس کے گھر میں ہے سرکاری ریکارڈ کو گھرمیں رکھنے پر ایڈیشنل سیشن جج عمران شفیع نے ایس ایچ او کو طلب کیا اور سرزنش کرتے ہوئے زیر حراست محبوس کا فوری ریمانڈ حاصل کرنے کے احکامات دئیے علاقہ مجسٹریٹ نے دو روز کا فزیکل ریمانڈ دیدیا جبکہ مقدمہ کے مدعی مجیب الرحمن بزدار کے مطابق 8:15بجے رات فاطمہ جنرل اینڈکڈنی ہسپتال واقع بنک الفلاح کے عقب میں موٹرسائیکل کھڑی کی جسے نامعلوم افراد نے سرقہ کیا۔معروف قانون دان محمدکمیل حیدر اور سینئر وکیل محمدعلی صدیقی نے محمدزوہیب،بلال کو نامعلوم مقدمہ میں نامزد کرنے پرمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج عدالتی بیلف کا چھاپہ نہ پڑتا توشاہد پولیس محبوس کوڈیل کے بعد چھوڑدیتی یا پھر اس پر متعدد مقدمات میں نامزد کرکے مقدمات یکسو کرلیتی۔محبوس کے بھائی محمدشعیب بلال کا کہناتھاکہ اس کے بھائی پر آج تک کسی بھی تھانہ میں کوئی ایک مقدمہ بھی درج نہ ہے۔بلاوجہ رشوت نہ دینے پر چوری کے مقدمہ میں ناحق ملوث کیاگیا آئی جی پنجاب،ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب،ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازیخا ن اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ڈیرہ غازیخان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ مقدمہ کی میرٹ پر تفتیش کیلئے کسی دیانتدار پولیس آفیسر کو ذمہ داری سونپی جائے۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

ڈیرہ غازیخان ،ایس ایچ او تھانہ سول لائن نے وردی کی آڑ میں قانون کے پرخچے اُڑا دئے

ضمنی انتاخابات کی تاریخ ایک بار پھر تبدیل
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ضمنی الیکشن میں اعلان کردہ تاریخ کو 12ربیع الاول کے دن آنے پر 16اکتوبر کو الیکشن کرانے کا دوبارہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے
باغی ٹی وی ،شیخوپورہ(محمدطلال )الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب کے 4 حلقوں میں 9 اکتوبر کو ہونے والے ضمنی انتخابات کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا،این اے 157 ملتان، پی پی 139 شیخوپورہ، پی پی 209 خانیوال، پی پی 241 بہاولنگر میں پولنگ 9 اکتوبر کی بجائے 16 اکتوبر کو ہوگی، الیکشن کمیشن آف پاکستان نے یہ تبدیلی عید میلادالنبی کی وجہ سے کی ہے، نوٹیفیکیشن کے مطابق 16 اکتوبر کو قومی اسمبلی کی 8 اور پنجاب اسمبلی کی 3 نشستوں پر پولنگ 16 اکتوبر کو ہوگی


شیخوپورہ جرائم پیشہ عناصر کیلئے جنت بن گیا،چوریاں ، ڈکیتیاں معمول ،پولیس خاموش تماشائی بن گئی
شیخوپورہ بھکھی، چوروں نے ڈکیتی،راہزنی کے بعد ٹرانسفارمر چوری کرنا شروع کردئیے،ایک ہفتہ میں چار ٹرانسفارمر چوری
باغی ٹی وی -شیخوپورہ(محمد طلال سے)نواں کوٹ،بھکھی اور دیگر علاقوں سے ٹرانسفارمر چوری معمول بن گیا پولیس اور واپڈا حکام چکرا کر رہ گئے ایک ہفتے میں 4 مختلف مقامات سے ٹرانسفارمر چوری ہونے پر علاقہ مکین،کسان،کاشتکار سراپا احتجاج بن گے ایک طرف لوڈشیڈنگ کا عذاب تودوسری طرف ٹرانسفارمرز کی چوری نے زندگیاں عذاب بنادی ہیں ”باغی ٹی وی“ کے مطابق تھانہ بھکھی کے علاقے میں ڈکیتی،راہزنی کی وارداتوں میں اضافہ کے ساتھ ہی چوروں نے اپناطریقہ کار بدل لیا ہے اور بجلی کے ٹرانسفارمر چوری کرنے پر توجہ مرکوز کرلی روزانہ کسی نا کسی علاقے سے ٹرانسفارمر چوری کر کے علاقے کو تین سے چار روز کے لیے تاریکیوں کی نظر کردیا جاتے ہیں کسان اور گھریلوں صارفین سراپا احتجاج ہیں،متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے سلمان نذیر، خدیجہ بی بی،سلمی اویس،مظفر تنویر، خوشنود ولائت، علی احمد، ذوالفقار دولا سمیت دیگرنے شبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرانسفارمر واپڈا اہلکاروں کی ملی بھگت سے ہی چوری ہو سکتے ہیں،کیونکہ ٹرانسفارمر کوئی بگل میں چھپا کر لے جانے والی چیز نہیں اس کو اتارنے کے لیے کرین کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ مینداروں کا کہنا تھا کہ واپڈا والے 4/5روز اس کے متبادل ٹرانسفارمر نصب کرنے میں لگا دیتے ہیں اس اثنا میں فصل کو شدید نقصان ہوتا ہے پولیس کا گشت بھی نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ٹرانسفارمر اتارنے میں وقت درکار ہوتا ہے اگر پولیس گشت ہوتو اس طرح آبادیوں سے ٹرانسفارمر چوری نہ ہوں،علاقہ مکینوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرانسفارمر چوروں کو پکڑ کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور پولیس،واپڈا ہلکاران کی غفلت،لاپرواہی اور مجرمانہ تساہل پر ان کیخلاف کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

دوسری جانب شیخوپورہ تھانہ اے ڈویژن،علاقہ غیر بن گیا،مکینوں کا دن کا سکون راتوں کا چین غارت،14 سالہ اوباشوں کی ہوس کا شکار،پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن گئی،تھانہ اے ڈویژن کے مصروف ترین ترین علاقوں میں ڈکیتی،چوری،راہزنی کی وارداتوں میں تشویشناک حد تک اضافہ سے علاقہ مکین خوف وہراس میں زندگیاں گزارنے پر مجبور پولیس گشت نہ ہونے اور ایس ایچ او اے ڈویژن کی کمزور گرفت کی بناء پر گھنگ روڈ،اسٹیڈیم پارک، ارائیانوالہ روڈ،جناح پارک،مسلم گنج سمیت دیگر علاقوں میں نان سٹاپ وارداتوں پر علاقہ مکین سراپا احتجاج بن گئے۔علاقہ مکین موٹر سائیکلوں،لاکھوں روپے کے زیورات، لاکھوں کے موبائل فونز،قیمتی پارچات سے محروم ہوگئے تھانہ اے ڈویژن کے علاقہ اسٹیڈیم کے قریب تین مسلح ڈاکوؤں نے اپنے بھائی تیمارداری کرکے آنے والے محمد ابوبکر،شکیل احمد اوراہل خانہ سے نقدی،موبائل فون،زیورات اور دیگر سامان چھین لیا جبکہ خاتون نے جب ڈاکوؤں سے کہاکہ میرے پاس بس زیورات کے علاوہ کچھ نہیں ہے تو ڈاکومشتعل ہوگئے اور انہوں نے خاتون کے ساتھ مردوں پر پسٹل کے بٹ مار کر انہیں زخمی کردیااور فرار ہوگئے۔اسی تھانہ کے علاقہ طارق روڈ،بھکھی روڈ چوک میں قائم عزیز فارمیسی میں داخل ہوکر ڈاکوؤں نے وقاص عزیز سے 82ہزار روپے نقدی،موبائل فون ودیگرسامان چھین لیا جبکہ موبائل سم واپس مانگنے پر اس پر تھپڑوں کی بارش کردی اور گالیاں دیتے ہوئے فرار ہوگئے۔ کھوکھرٹاؤن میں دربار کھڑانوالہ کے قریب ڈاکوؤں نے خاتون کشور بی بی کا پرس چھین لیا جس میں 35 ہزار روپے نقدی اور موبائل فون تھا۔اسی تھانہ کے علاقہ موبائل مارکیٹ کے باہر سے چورو رضا کی موٹرسائیکل چوری کرکے فرار ہوگئے۔اسی تھانہ کے علاقہ ڈی ایچ کیوہسپتال سے چوروں نے مریض کی تیماری داری کیلئے آنیوالے محمد وسیم کی موٹرسائیکل چوری کرلی۔
اسی تھانہ کے علاقہ ڈیرہ مٹھیایاں سے تین مسلح ڈاکوؤں نے فرازا سے نقدی اور موبائل فون چھین لیا۔اسی تھانہ کے علاقہ محلہ علی پارک سے نوسرباز محمدعرفان سے نقدی لیکر رفو چکر ہوگئے۔اسی تھانہ کے علاقہ گھنگ روڈ گلی نمبر9 سے مسلح ڈاکوؤں نے اختر ایڈووکیٹ کے گھر داخل ہوکر وہاں سے نقدی،موبائل فون،زیورات ودیگر سامان چھین کر فرار ہوگئے پولیس مصروف تفتیش ہے . دریں اثنا محلہ ارائیانوالہ گلی ملک یونس میں دواوباشوں نے 14 سالہ طیب کو بوتل میں نشہ آور چیز پلاکرزیادتی کا نشانہ بناڈالا بتایا گیا ہے کہ طیب اپنے گھر کے باہر کھڑا تھا کہ محسن مغل اور اسامہ نے اسے ورغلا،پھسلا کر فیصل آباد روڈ کے قریب مکان میں لیجاکر بوتل میں نشہ آور چیز ملاکراس سے زیادتی کا نشانہ بناڈالا پولیس نے طیب کے والد کی درخواست پر مقدمہ درج تو کرلیا تاہم کسی بھی ملزم کو گرفتارکرنے سے گریزاں ہے۔
چوک قریشی ،چوروں کے نرغے میں،مسجد کے باہر سے موٹرسائیکل چوری ، پولیس چوروں کو پکڑنے میں ناکام
تھانہ قریشی کے علاقہ میں چوروں اور ڈاکوؤں کا راج قائم
باغی ٹی وی . چوک قریشی مظفرگڑھ سے جمشیدسہرانی کی رپورٹ.چوک قریشی ،چوروں کے نرغے میں،مسجدکے باہرموٹرسائیکل چوری،پولیس چوروں کو پکڑنے میں ناکام ہوگئی ہے،محمد امجد شاہ نے بتایاکہ وہ مسجد پیرن پاک نزد قبرستان والی مسجد جامعہ کریمی میں ادا کرنے گیا، دوران نماز جمعہ موٹر سائیکل نامعلوم چوروں نے چوری کر لی ، امجد شاہ نے 15 پر کال کی تھانہ قریشی میں 10.9.22 کو FIR درج کرائی گی لیکن پولیس نے چپ سادھ لی امجد شاہ نے میڈیا کو بیان دیتے ہوۓ کہا کہ میں ایک غریب انسان ہوں جس نے بڑی مشکل ایک موٹر سائیکل خریدی تھی میری ڈی پی اومظفرگڑھ آر پی او ڈیرہ غازیخان سے سے اپیل ہے کہ تھانہ کرم داد قریشی کے ایس ایچ او کو میری موٹر سائیکل فوری برآمد کرنے کا حکم دیں اور چوروں کو گرفتارکر کے انہیں کیفرِ کردار تک پہنچائیں ۔


چونیاں . پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے مافیاء کا روپ دھار لیا،بھاری فیسوں نے والدین کی کمر توڑ دی
چونیاں تحصیل بھر کےنامور بڑے پرائیویٹ سکولوں نے بچوں کی فیسوں میں بڑا اضافہ تو کر دیا لیکن اس کے باوجود بچوں کو بہتر تعلیم اور کمپیوٹر لیب،سائنس لیب،پینے کاصاف پانی،لوڈشیڈنگ کی صورت میں بجلی جیسی بنیادی سہولیات دینے میں ناکام والدین پریشان،محکمہ ایجوکیشن آفیسرز خاموش تماشائی،شہریوں کا اعلیٰ حکام سے جلد نوٹس لے کر پرائیویٹ سکولوں کیخلاف سخت کارروائی کرنے کا مطالبہ۔
باغی ٹی وی – (چونیاں سے عدیل اشرف کی رپورٹ) تفصیلات کیمطابق چونیاں تحصیل بھر میں موجود بڑے نامور پرائیویٹ سکول مالکان جنہوں نے والدین کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا بچوں کی فیسوں میں کئی گناہ اضافہ کر دیا لیکن بدلے میں بچوں کو بنیادی تعلیمی سہولیات دینے سے بھی قاصر ہیں،موجودہ دور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا دور ہےجب کہ پرائیویٹ سکولوں میں بچوں کے لیے کمپیوٹر لیب، سائنس لیب کی سہولت سرے سے ہی موجود نہیں جبکہ کمیوٹر اور سائنس کا مضمون پہلی کلاس سے شروع ہوجاتا،معصوم بچوں کےپینے کے لیے صاف پانی کے سہولت نہیں، بجلی نہ ہونے کی صورت میں یو پی ایس یا جنریٹر کی سہولت نہیں بچوں کو شدید گرمی میں بیٹھنا پڑتا جبکہ فیسیں اتنی بھاری کہ ہر مہینےفیسیں ادا کرتے وقت والدین کی کمر ٹوٹ جاتی ،آنکھوں میں بے پناہ سپنے سجائےوالدین سرکاری سکولوں کی بجائے پرائیویٹ سکولوں میں اسلیے بچوں کو بھیجتے تاکہ اچھے ماحول میں بنیادی سہولیات کے ساتھ ساتھ ہمارے بچوں کو بہتر تعلیم میسر آسکے لیکن سکول مافیا آئے روز فیسیں تو بڑھا رہے لیکن سہولیات کم کر کرتے جارہے ہیں۔ محکمہ ایجوکیشن کےآفیسرز مکمل خاموش تماشائی بنے ہوئے پرائیویٹ سکولوں کو بغیر چیک کیے این او سی جاری کر دیتے ہیں۔جبکہ دوسری طرف سرکاری سکولوں میں اساتذہ تو بہتر تعلیم یافتہ ہیں لیکن سکولوں کا ماحول بہتر نہ ہونے کہ باعث والدین اپنے بچوں کو پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتے ہیں شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر نوٹس لیا جائے مکمل سہولیات فراہم نہ کرنے والے پرائیویٹ سکولوں کو فوری بند کروایا جائے اور محکمہ ایجوکیشن کو وارننگ دے کر ترجیحی بنیادوں پر تمام سرکاری سکولوں میں پرائیویٹ سکولوں کے طرز پر اچھا تعلیمی ماحول فراہم کروائیں اور سرکاری اساتذہ کو بھی پابند کریں کے اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں پڑھائیں تو والدین پرائیویٹ سکولوں کی بجائے سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخل کروانے کو ترجیح دیں گے جس سےنہ صرف اچھی تعلیم میسر آنے کے ساتھ ساتھ پرائیویٹ سکول مافیا بھی کنٹرول ہو گا بلکہ اس مہنگائی کے دور میں ماہانہ اخراجات میں بھی واضح کمی آئے گی۔
فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
فرقہ پرستی اور میرا بیٹا
تحریر:محمد ریاض
پاپا جی، ہم کون ہیں؟ بیٹا، کیا مطلب؟ پاپا جی ہمار ا کون سا مذہب ہے؟ بیٹا، ہم مسلمان ہیں۔ نہیں پاپا جی ہم کون ہیں؟ مطلب ہم بریلوی ہیں؟دیوبندی ہیں؟ شیعہ ہیں یا پھر وہابی؟بیٹا اس طرح نہیں کہتے، ہم صرف مسلمان ہیں،اگر کوئی آپ سے دوبارہ پوچھے تو آپ نے صرف یہی کہنا ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ اچھا پاپا جی!! ویسے بیٹا آپکو یہ سب کیسے پتا؟ پا پا جی، میری کلاس میں میرا دوست مجھ سے یہ پوچھ رہا تھاکہ آپ لوگ کون ہیں؟بریلوی ہیں، دیوبندی ہیں شیعہ ہیں یا پھروہابی؟ گزشتہ دنوں درج بالا سوال و جواب کی نشست بندہ ناچیز اور اسکے انگلش میڈیم سکول میں جماعت چہارم میں پڑھنے والے بیٹے محمد احمد ریاض کے درمیان ہوئی۔ بہرحال اس تحریر میں بندہ ناچیزکا اپنی اُس کیفیت کا یہاں بیان کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے کہ جس وقت میرا ننھا شہزادہ یہ سوالات پوچھ رہا تھا۔آپ اندازہ لگائیں کہ فرقہ پرستی ہمارے ہاں کس حد تک پہنچ چکی ہے۔ کہ ننھے مُنھے بچے جنہوں نے پاکستان کی باگ دوڑ سنبھالنی ہے ان بچوں کے ابھی کھیلنے کودنے، شرارتیں کرنے کے دن ہیں اور قرآن مجید و فرقان حمید سیکھنے اور اسکے ساتھ ساتھ دین اسلام کی پیاری پیاری باتیں اور دعائیں سیکھنے کے دن ہیں ان ننھے منھے ذہنوں میں یہ فرقہ پرستی کون ڈال رہا ہے؟ اس حقیقت سے بھی آنکھیں نہیں چُرائی جا سکتیں کہ کلمہ طیبہ کے نام پر بننے والی اسلامی ریاست پاکستان میں فرقہ پرستی سے نہ ہی ہماری مساجد و مدارس محفوظ ہیں بلکہ گھر، محلے، بازار، فیکٹریاں، رشتہ داریاں، سول سوسائٹی، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز بھی محفوظ نہیں ہیں۔ بالفاظِ دیگر زندگی کے ہر شعبہ کے افراد اس مسئلے کا شکار ہوچکے ہیں۔ اپنے بیٹے سے اس تکلیف دہ نشست کے بعد میں نے اللہ کریم کا کروڑہاکروڑ شکر ادا کیا کہ اللہ کریم کی ذات نے بہت عرصہ پہلے ہی اِن مسائل سے بالا تر ہوکر ایک مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزار کر اتحادِ اُمت کے لئے کام کرنے کی مجھے توفیق عطا فرمائی۔ الحمدللہ، میں تمام مسالک کے ساتھیوں کو مسلمان سمجھتا ہوں۔ الحمدللہ،میں بہت عرصہ سے مسلمانوں کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز ادا کرلیتا ہوں۔ چاہے وہ مسجد بریلوی مکاتبِ فکر کی ہو یا دیوبندی یا پھراہلحدیث۔ ہر مسلک کے امام کے پیچھے نماز ادا کرلیتا ہوں۔الحمدللہ میں اللہ کریم کی ذات پر پختہ ایمان و یقین رکھتے ہوئے نماز ادا کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ ہر مسلمان کے پیچھے میری نماز قبول ہوگی۔ اپنے ننھے شہزادے کیساتھ اس چھوٹی سی گفت وشنید کے بعد میں نے اللہ کریم کا اس بات پر بھی شکر ادا کیا کہ میں نے اسی کی توفیق اور عطا ء سے اپنے ننھے شہزادے کو مسلک پرستی اور فرقہ پرستی کے مسائل سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ میں اپنے ننھے شہزادے کو اپنے علاقہ کے ہر مسلک کی مسجد میں نماز کے لئے لیکر چلا جاتا ہوں۔نماز کے لئے جاتے ہوئے میرا بیٹا جس مسجد کی طرف اشارہ کرتا ہے میں اسکو اسی مسجد میں لیکر چلا جاتا ہوں۔کیونکہ جس دن میں نے ننھے شہزادے کو کہا کہ بیٹا اس مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے نہیں جانا تو اس ننھے شہزادے کے دماغ میں طرح طرح کے سوالات آئیں گے، جیسا کہ پاپا جی اس مسجد میں نماز پڑھنے کیوں نہیں جانا؟ تو یقینی بات ہے مجھے یہ کہنا پڑے گا کہ بیٹا اس مسجد میں ہماری نماز نہیں ہوتی۔ بیٹے نے پھر اگلا سوال داغ دینا ہے کہ پاپا جی اس مسجد میں ہماری نماز کیوں نہیں ہوتی؟ اس سوال کے بدلے میرے پاس کوئی اور جواب نہیں ہوگا کہ بیٹا یہ مسجد بریلویوں کی ہے یا پھر دیوبندیوں یا وہابیوں کی ہے۔ ننھے دماغ نے پھر اگلا سوال کرنا ہے کہ پاپا جی یہ بریلوی، دیوبندی اور وہابی کون ہوتے ہیں؟ پھر یقینی بات ہے کہ میرے پاس ہر مسلک کے بارے میں منفی باتیں کرنے کے سوا کوئی محفوظ راستہ نہ ہوگاکہ بچپن ہی میں اس ننھے دماغ میں مسلمانوں کی ہر جماعت کے بارے میں زہرآلود مواد کو کوٹ کوٹ کر بھر دیا جائے۔میرا ننھا شہزادہ کسی مسجد میں اونچی آواز میں آمین کی آوازیں بھی سنتا ہے تو کسی جگہ پر کلمہ طیبہ اور درود و سلام کا باآواز بلند ورد بھی سنتا ہے۔کہیں پر سینے پر ہاتھ رکھے اور کہیں پر زیر ناف ہاتھ باندھے، کہیں پر رفع یدین کیساتھ تو کہیں پر بغیر رفع یدین کیساتھ فرزندان توحید کو نماز پڑھتے دیکھتا ہے۔یاد رہے مسلمانوں کے درمیان نماز و دیگر عبادات کی ادائیگی میں اختلاف رائے صدیوں سے جاری ہے، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ان اختلافات کی بناء پر دشمنی، نفرت، عداوت، دوریاں اور پھر اس سے بڑھ کر قتل و غارت گری جیسے فتنوں کو جنم دیا جائے۔ بندہ نا چیز برصغیر پاک و ہند کے جید علماء کرام سے چند ادنیٰ سے سوالات کرنے کی جسارت کرے گا کہ قرآن و احادیث کی کس مقدس کتاب میں بریلوی، دیوبندی یا وہابی مسلک کا ذکر درج ہے؟ کیا دِین اسلام کی تعلیمات ہمیں فرقہ پرستی سے روکتی ہیں یا پھر فرقہ پرستی کو پروان چڑھانے کی ترغیب دیتی ہیں؟ہونا تو یہ چاہئے کہ برصغیر پاک و ہند کے تمام علماء کرام اپنی تمام تر توانیاں ہمارے ہاں پائی جانے والی خرافات، شرک و بدعات کا قلع قمع کرنے اور غیر مسلم افراد کو دین اسلام کی طرف راغب کرنے میں صرف کریں ناکہ اپنے اپنے مسالک کے دفاع میں دن رات ایک کردیں۔انتہائی ادب واحترام سے یہ بات کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ بدقسمتی سے برصغیر پاک و ہند میں اپنے آپکو مسلمان کہلوانے سے زیادہ بریلوی، دیوبندی اور اہلحدیث کہلوانے میں زیادہ فخر محسوس کیا جاتا ہے۔ اللہ کریم مجھ سمیت پوری امت مسلمہ کو فرقہ پرستی سے بالا تر ہوکر مسلمان کی حیثیت سے اُمت کے اتحاد کے لئے جدوجہد کرنے کی ہمت، توفیق و استقامت عطا فرمائے اور باہمی محبت و الفت نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین
سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کر رہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی
سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کررہے ہیں۔رانا شکیل ہٹواڑی
باغی ٹی وی :محمد پور دیوان (محمد جنید خان احمدانی کی رپورٹ ) سیلاب متاثرین کی بحالی اور گھروں کو واپسی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں موضع اسلام پور کے سیلاب متاثرین میں جھوک ایڈ ویلفئر سوسائیٹی اور فاطمہ ویلفئر کی طرف سے مکمل بستر خشک راشن کپڑے تقسیم کئے گئے ہیں اور متاثرین کی مزید امداد جاری ہے ۔ رانا شکیل ہٹواڑی نے سیلاب متاثرین میں امدادی سامان کی تقسیم کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ متاثرین کی جلد بحالی کیلئے تحصیل انظامیہ ہر ممکن کوشش کر رہی ہے اور اسسٹنٹ کمشنر جام پور محترمہ ابگینے خان کی ہدایات پر عمل کرنے ہوئے سیلاب متاثرین کی بحالی تک امداد جاری رہے گی حکومت اور مختلف رفاحی اداروں کیطرف سے ملنے والی امداد سیلاب متاثرین میں بروقت پہنچا رہے ہیں .


محمد پور دیوان کے نواحی علاقے مہرے والہ میں فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے سے عوام آلودہ پانی پینے پرمجبور
باغی ٹی وی – محمد پور دیوان(جنید خان احمدانی)محمد پور دیوان کے نواحی علاقے مھرے والہ میں فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے سے عوام زیر زمین آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں مہرے والہ میں تیرا سال سے زیر زمین پانی انتہائی آلودہ اور استمعال کے قابل نہ ہونے کے باوجود عوام فلٹریشن پلانٹ نہ ہونے کی وجہ صاف پانی پینے سے محروم ہیں اور انتہائی آلودہ پانی پینے سے عوام موزی امراض میں مبتلا ہونے لگی جس سے مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اہلیان مھرے والا نے ڈی سی راجن پور اور متعلقہ اداروں سے فوری طور پر فلٹریشن پلانٹ لگانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان سدھو اتحاد نے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی پیکج تحریک لبیک سانگلہ ہل کے سپرد کردیا احسن علی بھولا سدھو
پاکستان سدھو اتحاد نے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی پیکج تحریک لبیک سانگلہ ہل کے سپرد کردیا احسن علی بھولا سدھو
باغی ٹی وی ننکانہ صاحب( احسان اللہ ایاز ) سیلاب متاثرین کیلئے امدادی پیکج تحریک لبیک کے سپرد کر دیا گیا ۔یہ بات احسن علی بھولا سدھو سرپرست اعلیٰ پاکستان سدھو اتحاد نے میڈیا نماٸندگان کے گفتگو کرتے ہوۓ کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ پورے پاکستان سے سدھو برادری بڑھ چڑھ کر سیلاب متاثرین کی مدد کر رہی ہے۔ اس موقع پر موجود سید تحسین حیدر شاہ نے کہا کہ یہ بہت بڑی کاوش ہے ۔ ہم سب کو متاثرین کی مدد کرنی چاہیے ۔ قاری تصور حسین صدیقی امیر تحریک لبیک نے کہا کہ پورے پاکستان نے تحریک لبیک پر اعتماد کیا ہے اور سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے اللہ تعالیٰ قبول فرمائے ۔مزیدبراں پہلے بھی سانگلہ ہل سے پانچ ٹرک راشن لیکر راجن پور گۓ اور وہاں پر متاثرین میں تقسیم کیا گیا اب بھی راشن اکھٹا ھو رہایے اور مخیر حضرات بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔ سید تحسین حیدر شاہ نے دعا کروائی
چہلم ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس
چہلم حضرت امام حسین ،ضابطہ اخلاق،سیکورٹی کے حوالے سے حکومت سندھ کی ہدایات جاری، ڈپٹی کمشنرکشمور کی زیرصدارت اجلاس
باغی ٹی وی – کندھ کوٹ(نامہ نگار)ڈپٹی کمشنر آفس میں چھلم امام حسین کے انتظامات کا۔ جائزہ لینے کیلئے ایک اجلاس بلوایا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر کشمور منورعلی مٹھیانی کا کہنا تھا کہ ہمارا ضلع ایک پرامن ضلع ہے۔ محرم الحرام مشترکہ تعاون اور امن سے گزرا جس میں علماء کا تعاون قابل تعریف ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے مختلف مکاتب فکر علماء کو مشورہ دیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہ کی جائے۔آپس میں امن اور امن کے قیام کو یقینی بنایا جائے اس موقع پر مختلف علماء نے چہلم کے دوران اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس موقع پر سکیورٹی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر کا کہنا تھا کہ جلوس میں سخت سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا ، پولیس اور رینجرز کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے اور امن قائم رکھا جائے گا۔ گشت کو شہروں اور دیہاتوں تک بڑھایا جائے گا ۔ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ وہ چہلم کے جلوس کے مقررہ راستوں پر صفائی اور لائٹنگ کا انتظام کریں۔ سیپکو حکام کو ہدایت وه چہلم کے دوران لوڈ شیڈنگ نہ کریں۔ اجلاس میں تمام مکاتب فکرکے علما ، نے۔ بڑی تعداد میں شرکت کی۔













