Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • مریم نواز کا سیلاب متاثرین سے خطاب،سٹیج گر گیا، مریم بھی گر گئیں

    مریم نواز کا سیلاب متاثرین سے خطاب،سٹیج گر گیا، مریم بھی گر گئیں

    مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز سیلاب زدہ علاقے میں گئیں تو دوران خطاب سٹیج گر گیا اور مریم نواز بھی گرگئیں

    واقعہ کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میڈم آپ ٹھیک ہیں کوئی چوٹ تو نہیں آئی؟؟؟ جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ الحمدُ للّٰہ ٹھیک ہوں۔ چوٹیں لگتی رہتی ہیں

    مسلم لیگ ن کی مرکزی سینئیر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دوروں پر فاضل پور پہنچی ہیں ۔مسلم لیگ ن کی مرکزی سینئیر نائب صدر محترمہ مریم نواز شریف دانش سکول فاضل پور سڑک کنارے سیلاب متاثرین کے ایک کیمپ میں مصیبت زدہ خواتین سے بات چیت کرنے کے دوران ان کی خیریت دریافت کی ، بچوں سے پیار کیا ، انہیں حوصلہ دیا کہ مشکل کی اس گھڑی میں ھم عوام کے ساتھ ھیں ۔ ریلیف کے ساتھ ساتھ ان کی بحالی کیلئے بھی جلد اقدامات شروع ھونگے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ سیلاب زدگان کیلئے خیمے ، خوراک ، ادویات ، کمبل ،کپڑے ساتھ لائ ھیں ۔ انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔

    اس موقع پر سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی سردار شیر علی گورچانی نےمریم نواز شریف کا شکریہ ادا کیا کہ وہ دکھ اور مشکل میں سیلاب زدگان کے درمیان اکر ان سے اظہارِ یکجہتی کرکے حسن عمل کی روشن مثال قائم کی ھے ۔ مسلم لیگ ن ھی قیادت عوامی حقیقی ھے جسے غریب عوام ، مصیبت کے مارے بے یارو مددگار سسکتی انسانیت کو جینے کا نیا حوصلہ دیا ھے ۔ شردار شرعلی گورچانی نے محترمہ مریم نواز شریف کو بتایا کہ ستم بالائے ستم پنجاب حکومت تو درکنار ان غریبوں کے پاس مقامی ایم پی اے ، ایم این اے تک نہ ائے ھیں ۔ مزید جاری ھے

    متحدہ عرب امارات کے حکام کا آرمی چیف سے رابطہ،سیلاب زدگان کیلیے امداد بھجوانے کا اعلان

    کمراٹ میں پھنسے سیاحوں کو پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ریسکیو کر لیا ہے

    سیلاب سے متاثرہ آخری آدمی کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، آرمی چیف

    پاک فوج نے فلڈ ریلیف ہیلپ لائن قائم کر دی،

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    اس دوران چیف لغاری قبیلہ پاکستان سابق سینیٹر سردار محمد جمال خان لغاری ، سردار عمار اویس لغاری ، سید عبدالعلیم شاہ ، ثانیہ عاشق ،نے بھی سیلاب زدگان سے اظہارِ ھمدردی کیا اور اشیاء خورد و نوش تقسیم کیں ۔

    راجن پور خطاب کرتے ہوئے مریم نواز سٹیج پر لڑکھڑا گئیں،مقامی قیادت کا کہنا ہے کہ مریم نواز سٹیج سے گرنے کے بعد خود اٹھ گئی اور بولیں کوئی بات نہیں,

  • سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔فیصل شاہکار

    سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔فیصل شاہکار

    سیلاب متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔فیصل شاہکار
    پنجاب پولیس کے 6ہزار سے زائد جوان صوبہ بھر میں سیلاب زدگان کی معاونت کیلئے شب و روز مصروف عمل ہیں ۔آئی جی پنجاب
    باغی ٹی وی رپورٹ۔انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب فیصل شاہکار نے کہاہے کہ پاکستان اس وقت تاریخ کے بد ترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے، متاثرین کی مدد و بحالی ہم سب کی قومی و اخلاقی ذمہ داری ہے۔ آئی جی پنجا ب نے کہاکہ مشکل وقت میں سیلاب زدگان کی مدد اور بحالی کے لیے پنجاب پولیس تمام وسائل کا استعمال یقینی بنارہی ہے اور سیلاب سے متاثرہ شہریوں کی مدد، تحفظ اور انہیں سہولیات دینے کیلئے دیگر ضلعی و حکومتی اداروں کے شانہ بشانہ ہے۔ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے کہا کہ پنجاب پولیس کے 6ہزار سے زائد جوان صوبہ بھر میں سیلاب زدگان کی معاونت کیلئے شب و روز مصروف عمل ہیں اور ڈی جی خان، راجن پور، میانوالی، لیہ، بھکر، مظفر گڑھ سمیت دیگر متاثرہ اضلاع میں پولیس سیلاب زدگان کی مدد کیلئے متحرک ہے۔

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ ریسکیو ریلیف ورک میں پولیس کی 400گاڑیاں، 288بائیکس، 74موٹر بوٹس اور دیگر وسائل ریسکیو ورک میں حصہ لے رہے ہیں، پنجاب پولیس کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں 388ریلیف کیمپس لگائے گئے جبکہ متاثرہ علاقوں کے 743دیہاتوں کو خالی کروایا گیا ہے۔ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے کہاکہ 20ہزار 6سومتاثرین سیلاب اور 6ہزار سے زائد مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے اور متاثرہ علاقوں میں ریسکیو و ریلیف ورک جاری رہے گا۔ آئی جی پنجاب نے کہاکہ دریائی چیک پوسٹوں پرتعینات پولیس ٹیمیں الرٹ ہیں اور پولیس کی تمام موٹر بوٹس متاثرین کی مدد اور ریلیف ورک میں مصروف ہیں۔ آئی جی پنجاب نے سیلاب کے دوران ریسکیو ورک میں اچھی کارکردگی کرنے والے پولیس افسران و اہلکاروں کو شاباش دیتے ہوئے کہاکہ وہ خدمت خلق کے جذبے سرشار ہوکر متاثرین کی خدمت و مدد میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے آج ڈیرہ غازی خان میں سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کے موقع پر افسران و اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ آئی جی پنجاب فیصل شاہکار نے ڈیرہ غازی خان کے مختلف مقامات پر سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا اورسیلاب زدگان کی مدد کیلئے جاری پولیس ریسکیو اینڈ ریلیف سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔آر پی او ڈیرہ غازی خان نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پولیس کی امدادی کاروائیوں بارے آگاہ کیاآئی جی پنجاب کو نشیبی علاقوں میں سیلاب سے ہونے والی تباہ کاریوں اور تازہ ترین صورتحال بارے بریفنگ دی۔ آئی جی پنجاب نے سیلاب متاثرین سے ملاقات کی، پنجاب پولیس کی جانب سے راشن بیگز بھی تقسیم کیے۔ آئی جی پنجاب نے آر پی او آفس میں سیلاب کے دوران بہترین فیلڈ ورک سے عوام کی خدمت کرنے والے پولیس افسران و اہلکار وں میں تعریفی اسناد تقسیم کیں۔ انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ پہلے سے زیادہ جوش و جذبے کے ساتھ سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کی خدمت و سہولت کیلئے سرگرم رہیں۔ اس موقع پر ایڈیشنل آئی جی ساتھ پنجاب، آر پی او ڈی جی خان اور ڈی پی او ڈی جی خان سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔

  • سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاںبحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز، خیبر پختون خوا اور بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 75 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ہے۔ارسا حکام
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ارسا نے ڈیرہ غازی خان، لیہ اور راجن پور میں مزید سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی جانب سے دریاں اور بیراجز میں پانی کے بہا اور سیلابی صورتحال سے متعلق تازہ اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں جس کے مطابق دریائے کابل میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب تاہم پانی کا بہا ئوکم ہے۔انڈس ریور سسٹم اتھارٹی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تونسہ بیراج میں بہائو مزید بڑھ گیا اور دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔جب کہ گدو اور سکھر بیراجز پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔

    دوسری طرف این ڈی ایم ایکی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سیلابی ریلوں میں پھنسے اور مختلف علاقوں سے ریسکیو کیے گئے افراد کی تعداد 51 ہزار 275 ہوگئی ہے جس میں سے 1634 افراد زخمی ہیں۔رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے دوران اب تک 162 پلوں کو نقصان پہنچا ہے، 72 اضلاع بری طرح متاثر ہوئے جب کہ 10 لاکھ 51 ہزار سے زائد مکانات ملیامیٹ ہوگئے اور مجبوعی طور پر 3 کروڑ 30 لاکھ 46 ہزار سے زائد افراد براہ راست سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں، سیلاب اور بارشوں کے باعث مرنے والے موشیوں کی تعداد 7 لاکھ 35 ہزار سے زائد ہے۔

  • دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب،الرٹ جاری

    دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب،الرٹ جاری

    دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر اونچے درجے کاسیلاب،الرٹ جاری ، فلڈ کمیشن نے حالیہ سیلاب کو 2010 کے مقابلے میں زیادہ سنگین قرار دے دیا
    ڈیرہ غازیخان . دریائے سندھ میں پانی کی سطح بلند ہو رہی ہے جس کے بعد دریا سے منسلک اضلاع کو پی ڈی ایم اے کو الرٹ کردیا گیا ہے
    ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ، چشمہ، گڈو اور سکھر کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہے، دریائے سندھ سے منسلک تمام اضلاع کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔اس وقت تونسہ بیراج سے 603339 کیوسک پانی گذر رہاہے اونچے درجے کاسیلاب ہے جس سے دریائے سندھ کے ساتھ واقع نشیبی علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آچکے ہیں

    . دوسری طرف اسلام آباد میں وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال کی زیرصدارت سیلابی صورتحال پراجلاس ہوا جس میں این ڈی ایم اے اور فلڈ کمیشن کی جانب سے امدادی کارروائیوں پر بریفنگ دی گئی۔فلڈ کمیشن نے بریفنگ کے دوران کہا کہ حالیہ سیلاب 2010کے مقابلے میں زیادہ سنگین ہے۔

  • تونسہ : وہواکے قریب سیلاب  سے متاثرہ بستی واجان کے مکین بے سہاراکھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور۔

    تونسہ : وہواکے قریب سیلاب سے متاثرہ بستی واجان کے مکین بے سہاراکھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور۔

    تونسہ : وہواکے قریب سیلاب سے متاثرہ بستی واجان کے مکین بے سہاراکھلے آسمان تلے زندگی گذارنے پر مجبور۔
    ہمارے ہاں کوئی حکومتی نمائندہ ،نہ این جی او اور نہ میڈیا کے نمائندے پہنچے،ہم بے یارومددگارحالات کے جبرکامقابلہ کرنے پر مجبور ہیں۔
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ شریف کوسیلاب سے ناقابل تلافی نقصان پہنچا،سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے حکومت اورخیراتی ادارے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں۔اس کے باوجود کئی ایسے علاقے ہیں جہاں سیلاب متاثرین کی امدادکیلئے کوئی حکومتی نمائندہ ،نہ این جی او اور نہ میڈیا کے نمائندے پہنچے سکے ہیں

    ان میں سے تحصیل تونسہ کے علاقے وہوا کے قریب انڈس ہائی وے18کلو میٹر مغرب میں دامن کوہ میں واقع ایک بستی واجان جویونین کونسل لاکھانی پنجاب پولیس کے تھانہ وہوا کی حدود میں ہے،اس بستی سیلابی ریلے سے بہت نقصان پہنچا اس بستی کے بیشتر کچے مکان گرچکے ہیں بچ گئے ہیں وہ رہنے کے قابل نہیں ہیں،اس بستی کے سیلاب متاثرین تک آج تک کوئی خوراک ،امدادی سامان اور سرچھپانے کیلئے ٹینٹ حکومت یا کسی این جی او کی طرف سے نہیں دئے گئے ،اس علاقے کے سیلاب متاثرین کاصرف ایک ہی مطالبہ ہے کوئی ہمارے علاقے میں آئے اور دیکھے ہم کس طرح کی زندگی گذارنے پر مجبور ہیں ،ان سیلاب متاثرین کامطالبہ کہ ہمیں سرچھپانے کیلئے ٹینٹ مہیا کئے جائیں۔

  • بین الصوبائی کوئٹہ روڈ  آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے ناکارہ ہوچکا ہے ،ایمرجنسی فنڈزجاری کرکے بحال کیاجائے۔ عبد السلام ناصر

    بین الصوبائی کوئٹہ روڈ آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے ناکارہ ہوچکا ہے ،ایمرجنسی فنڈزجاری کرکے بحال کیاجائے۔ عبد السلام ناصر

    بین الصوبائی کوئٹہ روڈ آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے ناکارہ ہوچکا ہے ،ایمرجنسی فنڈزجاری کرکے بحال کیاجائے۔ عبد السلام ناصر
    باغی ٹی وی رپورٹ.ڈیرہ غازیخان قومی شاہراہ کوئٹہ روڈ پر روزانہ پانچ ہزار سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں گزرتی ہیں راکھی گاج کے مقام پر آئے روز لینڈ سلائنڈنگ سے روڈ کئی کئی دنوں تک بلاک رہتا ہے جس سے ڈرائیورز اور مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔پچھلے کئی دنوں سے راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر لینڈ سلائنڈ نگ سے روڈ بند تھا ، دو ڈرائیورز کی اموات بھی ہوئی ہیں، ایمبلنسوں میں مریض اور میتیں پھنسی ہو ئی تھی ،ٹرکوں میں لوڈ لاکھوں مالیت کی سبزیاں اور فروٹ خراب ہو گئے اور مسافروں کے لیے کھانے پینے کے سامان کا بھی مسئلہ درپیش تھا، یہ پہاڑی سلسلے کا روڈ بالکل ناکارہ ہو چکا ہے آئے روز حادثات معمول بن چکے ہیں ٹریفک ہر وقت جام رہتی ہے اس روڈ کو ہنگامی بنیاد پر فنڈز جاری کیئے جا ئیں اور لینڈ سلائنڈنگ میں جان بحق ہونے والے ٹرک ڈرائیورز کے لواحقین کی مالی امداد کی جا ئے ۔ یہ بات گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے ضلعی صدر عبد السلام ناصر ، جنرل سیکرٹری ملک خالد محمود ، سینئر نائب صدر حاجی بلال علیانی نے پریس کلب ڈیرہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی انہوں نے کہا کہ ہماراعلاقہ قدرتی آفات کا شکار ہے ہر طرف فلڈ آیا ہوا ہے ہم نے پہلے ہی دن سے خود جا کر انتظامیہ کوآفر کی کہ آپ کو جہاں بھی گڈز ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے ہم اپنی ٹرانسپورٹ مہیا کرتے ہیں راکھی گاج نیلی مٹی کے مقام پر 7جگہوں سے لینڈ سلائنڈ نگ ہوئی بڑے بڑے پتھر گرے ہیں جس سے روڈ مکمل طورپر بند ہو گیا تھا , پہلے دو دن بحالی کے لیے کوئی انتظامات نہیں کیئے گئے تھے ہم نے موقع پر جا کر بھاگ دوڑ کی کمشنر ڈیرہ اور ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کی اس دوران ہم نے وفاقی وزیرمواصلات مولانا اسدمحمود سے رابطہ کیا ان کی ذاتی دلچسپی اورضلعی انتظامیہ سے رابطہ کرنے کے بعد روڈ کی بحالی پر کام شروع ہوا ہے وفاقی وزیرمواصلات مولانا اسدمحمود کے حکم پر فوراً بھاری مشینری موقع پر روانہ کرکے کام شروع کر وا دیا گیا ۔چھ دن مسلسل کام کرنے سے روڈ بحال ہوگیاجس پرہم وفاقی وزیرمواصلات مولانا اسدمحمود کاشکریہ اداکرتے ہیں اورانہیں دعوت دیتے ہیں وہ فورٹ منرو تشریف لائیں اور بین الصوبایی روڈ کی حالت زار خود ملاحظہ فرمائیں۔دوسری اس روڈ کی بحالی میں بارڈر ملٹری پولیس کا اہم کردار ہے پولیٹیکل اسسٹنٹ اکرام ملک نے دن رات اپنی نگرانی میں کام کرایا اور مشکلات اس گھڑی میں موجود رہے اور اپنا کردار ادا کیا نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے بھی بھرپور کردار ادا کیا انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسد محمود اس روڈ کی تعمیر کے لیے فوری طور پر فنڈز جاری کرائیں۔

  • چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    چوٹی زیریں،پی ٹی آئی ایم این اے محمد خان لغاری کی بے حسی پرووٹرپھٹ پڑے

    ڈیرہ غازی خان چوٹی زیریں ، ممبرقومی اسمبلی سردار محمدخان لغاری نے بے حسی کی انتہاکردی اپنے حلقہ انتخاب کے سیلاب متاثرین کی اشک شوئی کیلئے پانچ منٹ بھی نہ نکال سکے ،ووٹرپھٹ پڑے، ویڈیو دیکھئے

  • بس بہت ہوگیا،یہاں سے نکل جاؤ،تمہاری کرپشن سے ہمارے علاقے ڈوبے ہیں۔رضاربانی کھر

    بس بہت ہوگیا،یہاں سے نکل جاؤ،تمہاری کرپشن سے ہمارے علاقے ڈوبے ہیں۔رضاربانی کھر

    بس بہت ہوگیا،یہاں سے نکل جائو،تمہاری کرپشن سے ہمارے علاقے ڈوبے ہیں۔ رضاربانی کھر چیف انجینئرپربرس پڑے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ گذشتہ روز چیف انجینئرمحکمہ انہار ڈیرہ غازیخان ڈویژن ساجد رضوی جب مظفرگڑھ کے علاقے میں گئے تو ان کاآمناسامناپیپلزپارٹی کےایم این اے قومی حلقہ این اے 183 مظفرگڑھ رضاربانی سے ہوگیاتو انہوں نے چیف انجینئرساجدرضوی سے کہا تم یہاں کیا کرنے آئے ہوتمہاری کرپشن کی وجہ ہمارے علاقے سیلاب میں ڈوب گئے ،تمہیں رانالیاقت کے علاوہ اور کوئی ٹھیکیدارنہیں ملتا،بس بہت ہوگیا،مزیدڈرامے بازیاں بندکرو،یہاں سے نکل جائو،مظفرگڑھ میں سیلاب پررضاربانی کھر چیف انجینئرساجدرضوی اور ایکسئن امیر تیمور سے شدید ناراضگی کااظہارکیا اوران پرغصہ ہوئے اورانہیں علاقے سے نکل جانے کاکہا۔
    ویڈیو میں دیکھاجاسکتا ہے کہ وہ کس طرح غصہ کا اظہارکررہے ہیں


    دوسری طرف گذشتہ روز ہفتہ کے دن ڈیرہ غازیخان میں رانا لیاقت ٹھیکیدار نے چیف انجینئرساجدرضوی سے ان کے آفس میں ملاقت کی ،ذرائع کاکہنا ہے کہ ایک بار پھرایمرجنسی ورک کے نام پر رانالیاقت کوایڈوانس میں بھاری رقم جاری کرنے کیلئے ایکسئن اورایس ڈی او زین شکیل کوکہہ دیاہے،راناٹریڈرزکامالک ٹھیکیدار رانا لیاقت وہی ہے جس کی کرپشن کی سپربندلنک نمبرآرڈی 138اور آرڈی 165کودریائے سندھ نے واش کردیا ہے ،جس کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی .

  • لیہ ۔انیمل پورنوگرافی سیکنڈل میں ایک پٹواری بھی شامل، تمام ملزمان گرفتار

    لیہ ۔انیمل پورنوگرافی سیکنڈل میں ایک پٹواری بھی شامل، تمام ملزمان گرفتار

    لیہ ۔انیمل پورنوگرافی سیکنڈل میں ایک پٹواری بھی شامل، تمام ملزمان گرفتار،ملزم شوکت حیات کو ضمانت مسترد ہونے پر پولیس نے گرفتار کر لیا
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ملتان ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر احسان صادق کے حکم پر لیہ پورنوگرافی کیس کے تمام ملزمان گرفتارکرلیاگیا ہے ۔ملزم شوکت حیات کو ضمانت مسترد ہونے پر پولیس نے گرفتار کر لیا۔گرفتار ہونے والاملزم شوکت حیات محکمہ مال میں پٹواری ہے۔ ایس پی رب نواز تلہ نے کہاکہ لیہ پورنوگرافی کیس میں کامیابی پر اللہ پاک کا شکر گزار ہوں۔ ایڈیشنل آئی جی نے کہا اس کیس میں تمام قانونی تقاضوں کو پورا کر کے ملزمان کو کڑی سزا دلوائی جائے۔

  • میگاکرپشن کی وجہ  سے 2 سپربند دریا برد،سینکڑوں لوگ بےگھر

    میگاکرپشن کی وجہ سے 2 سپربند دریا برد،سینکڑوں لوگ بےگھر

    میگاکرپشن کی وجہ سے 2 سپربند دریا برد،سینکڑوں لوگ بے گھر ہوگئے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان میں لنک نمبر ون برجی نمبر138 اوربرجی نمبر165قصبہ سمینہ میں واقع دوسپر کرپشن کی وجہ سے دریابرد ہوگئے ہیں،ان سپربندوں کے ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑپرمشتمل فصلات پلک جھپکتے ہی دریاکی ظالم لہروں کی نظرہوگئیں ،سینکڑوں لوگ بے گھر ہوگئے،جنہوں اپنی مددآپ کے تحت پرائیویٹ کشتیوں کے ذریعے اپنے اہل و عیال اوربچے کھچے سامان کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا ،ان متاثرین تک کوئی سرکاری امداد نہ پہنچ سکی ،آفیسرزصرف ایک دن میں فوٹو سیشن کرکے غائب ہوگئے ،

    اس بارے ایک مقامی زمیندار کا کہنا ہے کہ ان دونوں سپربندکے کٹائو اور دریا برد ہونے میں کئی عوامل کارفرماہیں ، سب سے پہلی یہ سپربندبنے ہوئے ہی ریت کے تھے،یہاں کوئی پکی مٹی نہیں ڈالی گئی،دوسرے نمبران سپربندوں کی مرمت یاریسٹوریشن کیلئے ڈالے گئے پتھروں کیلئے جال نہیں بنائے گئے اور ایسے ہی پتھر دریامیں پھینکے جارہے ہیں،اس کے علاوہ محکمہ معدنیات نے ریت اٹھانے کاٹھیکہ جاری کردیا ،ٹھیکیدارنے ان سپربندوں کی دونوں جانب سے ٹرالیاں بھر کرریت اٹھالی ،اس ٹھیکیدارکو مقامی سیاستدانوں اور وڈیروں کی سرپرستی حاصل تھی ،محکمہ معدنیات کاٹھیکیداران وڈیروں کو مچھلیاں بھیجتا تھا ،جس سے یہ سپربند کمزورہوتے گئے لیکن محکمہ اری گیشن نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی کیونکہ یہ سپربندان کیلئے کمائی کا بہترین ذریعہ بن ہوئے ہیں،آئیے آتے ہیں اصل کہانی کی طرف لنک ون برجی نمبر138سپربندحیدروالا ریگولیٹرکی مرمت اسٹیمیٹ کاسٹ108.337ملین تھی،جوکہ میسرزراناٹریڈرزکے نام سے کنٹریکٹر رانالیاقت جس کاتعلق ساہوال ہے کوجاری کیاگیا۔

    چیف انجینئر،XENاورSDOزین شکیل نے باہم صلاح ومشورہ سے راناٹریڈرز کو55.6ملین کی خطیررقم ایڈوانس میں جاری ،راناٹریڈرزکے مالک ایڈوانس رقم لینے کے باوجود لمٹ ٹائم پرکام مکمل نہ کیا بلکہ سپرپر کام شروع ہی نہ کیا،جس سے 2021میں بھی یہی سپر کٹائو کی زد میں آگیا جس کابیشترحصہ واش ہوگیاتھا،اسی بنیادپرریزیڈنٹ انجینئرمحمدحنیف اوراسکی ٹیم میں شامل ARE(اسسٹنٹ ریزیڈنٹ انجینئر)ودیگرنے موقع پر وزٹ کیااورجب سے ٹھیکیدارکو کام الاٹ ہوااوراندرمیعادکوئی کام نہ کیاگیاجبکہ راناٹریڈرزنے توبھاری رقم ایڈوانس میں لی ہوئی تھی،اس دوران سپردریاکے تیزبہائوکاسامنانہ کرسکااور دریابردہوگیا۔حالانکہ اس ٹھیکیدارکواس سپرکی پروٹیکشن کیلئے ٹھیکہ الاٹ کیاگیاتھا،اگروقت پرسپرکی اسٹیمیٹ کے مطابق ایگزیکیوشن کروائی جاتی توحکومت کا100ملین روپے سے زیادہ کانقصان نہ ہوتا اور لوگوں کی قیمتی زمینیں ،فصلات اوراملاک دریابردنہ ہوتیں۔اس سپرکی پروٹیکشن کی آڑمیں ایس ڈی او سے لیکرچیف انجینئرتک سبھی کرپشن میں ملوث پائے گئے اورانہوں اپناحصہ وصول کیا۔اسی دوران سیکرٹری ایریگیشن نے اس سپر کی مبینہ کرپشن پر انکوائری کمیشن تشکیل دیا ،جس میں مہر منظور حسین پرجیکٹ ڈائریکٹر سمال ڈیم سرکل I اسلام آبادکنوینیئرتھے جبکہ شیخ محمد نواز چیف ریزیڈنٹ انجینئر TPMکنسلٹنٹس M&Rورکس،محمد شاہد پرنسپل ریسریچ آفیسر ہائڈرولکس،غلام رسول ایگزیکٹو انجینئرقادرآباد بریج ڈویژن اس انکوائری کمیشن کے ممبرزتھے۔

    جنہوں نے مفصل رپورٹ جاری کی جس میں انہوں نے ٹھیکیدار اور متعلقہ ذمہ داران آفیسران کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی سفارش کی،انہوں نے رپورٹ میں یہ بھی لکھا کہ گذشتہ 5سال سے سپر بندوں کے پرٹیکشن کی آڑ میں مختلف اسٹیمیٹ بنا کر کرپشن کا کھیل کھیلاجا رہاہے ہیں ،جوکہ گذشتہ 5/10سال میں دریا کے سپروں پر ایمرجنسی 2.89لگائی گئی تھیں ،وہ بھی مشکوک اور فراڈ پر مبنی ہیں، مزید ان سپروں کی مد میں جو T&Pاور سٹاک پرچیز کیے گئے ہیں ان کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے اورنہ ہی موقع پر کوئی سٹاک ہے ، نہ ہی چیف انجینئر ساجد رضوی نے کوئی ایکشن لیا کیونکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ رانا لیاقت جوکہ رانا ٹریڈر کا مالک ہے ساجد رضوی کی اس حصہ داری ہے اس نے اس کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور نہ ہی کارروائی ہونے دی، نہ اسے بلیک لسٹ یا جرمانہ کیا گیا بلکہ اس رانا لیاقت کو مزیدایمرجنسی 2.89ورکس کے تحت تونسہ بیراج ،علی پور،مظفر گڑھ اور ڈیرہ غازیخان کے ٹھیکے الاٹ کردیے ۔گذشتہ سال بھی اسی رانا لیاقت یا رانا ٹریڈرز کی غفلت کی وجہ سے سپربندبرجی نمبر 138لنک نمبر 1دریا برد ہوا تھا دوبارہ اسی سپربند کی پروٹیکشن کا ٹھیکہ بھی اسے دیا گیا ہے ،

    اس کے علاوہ دوسرا سپر لنک ون برجی نمبر165بھی دریائے سندھ بہا کر لے گیا ہے ،اس سپر کی بھی ایمرجنسی 2.89ورکس کے تحت ریسٹوریشن کاٹھیکہ اسی رانا لیاقت کو دے دیا جس نے نیا سٹاک یا پتھر منگوانے کی بجائے پہلے سے موجود سرکاری پتھر دریا میں ڈالنا شروع کردیا ہے اور سابقہ ریکارڈ رجسٹر کو اپ ڈیٹ کرنے کی بجائے نیا رجسٹر بنا کر خر د برد کرنے میں مصروف ہے حالانکہ قانونی طور سٹاک رجسٹرتبدیل کرنے کاسے کوئی اختیار نہیں۔جس کی وجہ سے ڈیرہ غازیخان کا مشرقی علاقہ سمینہ سادات سمیت لاکھوں کی آبادی دریا برد ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے،جبکہ چیف انجینئرساجد رضوی کی ریٹائرمنٹ قریب ہے وہ چاہتاہے اس تھوڑے عرصے میں جتنا کماسکتاہوں کمالوں ریٹائرڈمنٹ کے بعدمجھے کون پوچھے گا ،دیکھتے ہیں ارباب اختیاراس پر کب نوٹس لیتے ہیں۔