Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ڈیرہ غازی خان  ۔ کوہ سلیمان پر پھر بارش،پہاڑی نالے  بےقابو ہونے لگے،ایک جاں بحق،آبادیوں کوشدید خطرہ

    ڈیرہ غازی خان ۔ کوہ سلیمان پر پھر بارش،پہاڑی نالے بےقابو ہونے لگے،ایک جاں بحق،آبادیوں کوشدید خطرہ

    ڈیرہ غازی خان۔کوہ سلیمان پر پھر بارش،پہاڑی نالے بے قابوہونے لگے،ایک جاں بحق،آبادیوں کوشدیدخطرہ ،ضلع بھر میں ڈسٹرکٹ پولیس کو الرٹ کر دیا گیا.
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازی خان میں کوہ سلیمان پرایک بار پھرموسلادھار بارش سے پہاڑی ندی نالے بے قابو ہونے لگے ،آبادیوں کوشدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے مقامی ذرائع کے مطابق کوہ سلیمان تمن بزدار میں میرخان بنگانی ہنگلون کچھ میں برساتی نالے میں اپنے بچوں کو بچاتے ہوئے خودپانی کی تیزلہروں کی نذر ہو گیا۔

    اس وقت سنگھڑ ندی میں تاریخ کا سب سے بڑا پانی کاریلا آ رہا ہے جس سے سوکڑ ،مندرانی ،بغلانی و دیگر آبادیوں کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے ،اب تک کی اطلاعات کے مطابق سنگھڑ ، زندہ پیر،سوری لنڈ ، وڈور ، کاہا ، رونگھن ، مٹھاون ندیوں میں طغیانی ہے اور اطراف کی تمام ذیلی شاخوں میں بھی طغیانی ہے، کوہ سلیمان میں بارش ندی نالوں میں طغیانی فورٹ منرو،مبارکی اوریک بئی کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں ، اُدھرمبارکی کے علاقہ مٹ چانڈیہ میں ندی نالوں کا پانی لوگوں کی زمینوں اور گھروں میں داخل ہو گیاہے۔کوہ سلیمان سے ملحق بلوچستان کے علاقہ وادی رڑکن میں صبح 5 بجے سے موسلادھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں، ندی نالوں میں طغیانی سے سیلابی صورت حال پیدا ہو چکی ہے، مکان گرنے کی اطلاع بھی ہیں۔


    اِدھرڈیرہ غازی خان کے پہاڑی علاقوں میں بارشوں کا سلسلہ پھر سے شروع ہونے پر ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار سمیت تمام ضلعی انتظامیہ فیلڈ میں الرٹ ہوگئی ہے،رود کوہیوں میں طغیانی سے ڈی جی خان میں الرٹ وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے پانی کی آنے پر لوہار والا،بستی گل محمد چانڈیہ کا دورہ کیا،انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کئے گئے انتظامات کا موقع پر جائزہ لیا۔اس موقع پراسسٹنٹ کمشنر صدر شکیب سرور،محکمہ انہار اور متعلقہ افسران بھی انکے ہمراہ تھے۔محمد انور بریار نے ریسکیو 1122 کی ریسکیو ٹیموں سے ملاقاتیں بھی کیں۔انہوں نے کہا کہ رود کوہیوں میں طغیانی کے باعث تمام ادارے الرٹ ہیں،تمام متعلقہ افسران،مشینری فیلڈ میں متحرک ہے،مقامی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کاعمل شروع کردیا گیا ہے،محمد انور بریار نے کہا کہ پہلے کی طرح اب بھی سیلابی پانی سے کامیابی کیساتھ نمٹیں گے،لوگ قدرتی آفت سے نہ گھبرائیں،خود کو محفوظ مقامات پر منتقل کریں،ہم نکاسی آب کیلئے منظم انداز میں کام کریں گے،مزید بارشوں کی وجہ سے ضلعی انتظامیہ بھی محتاط ہے،حکومت پنجاب کی ہدایات کی روشنی میں ریلیف کے کام شروع کررہے ہیں۔

    سیلابی صورتحال کے پیش نظر ڈی پی او محمد علی وسیم کی ہدایت پر ضلع بھر میں ڈسٹرکٹ پولیس کو الرٹ کر دیا گیا۔ڈی پی او محمد علی وسیم نے سرکل آفیسران اور ایس ایچ اوز ضلع ہذا کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ موسلا دھار بارشوں سے رود کہیوں اور نہروں وغیرہ میں طغیانی کی وجہ سے عوام الناس کو محفوظ مقامات پر جانے کا بتائیں۔خاص طور پر دیہی علاقوں میں فلڈ آ سکتا ہے اس ایمر جنسی کے تحت سرکل آفیسران اور ایس ایچ او اپنے اپنے علاقوں میں سروے کریں۔اپنے اپنے علاقے میں رہنے والی عوام الناس کو فلڈ سے محتاط رہنے کی ہدایت کریں۔فلڈ آنے کی صورت میں رہائشی بستی میں عوام الناس کی مدد کو یقینی بنائیں۔عوام الناس کو اطلاع دی جاتی ہے کہ ایمر جنسی کی صورت میں 15 یا اپنے متعلقہ تھانہ یا پھر 0649260113 پر اطلاع دیں۔

  • مشہور سرائیکی ٹک ٹاکر سمیر عباسی کے ساتھ جنسی زیادتی یا کچھ اور؟

    مشہور سرائیکی ٹک ٹاکر سمیر عباسی کے ساتھ جنسی زیادتی یا کچھ اور؟

    مشہور سرائیکی ٹک ٹاکر سمیر عباسی کے ساتھ جنسی زیادتی یاکچھ اور؟حقائق منظرعام پر آگئے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔سوشل میڈیا پرویڈیو زگردش کررہی ہیں جن میں بتایا جارہا ہے کہ خانبیلہ سے تعلق رکھنے والے ٹاک ٹاکر سمیر عباسی کو ڈیرہ غازی میں ایک دعوت پر مدعو کیا گیا اور بعد ازاں نشہ آور ادویات دیکر زیادتی کی گئی ،میڈیکل میں زیادتی ثابت ،سمیرعباسی کے والداوربھائی کی مدعیت میں مقدمہ درج۔
    ویڈیو لنک جس میں ٹک ٹاکر سمیرعباسی سے جنسی زیادتی کا دعویٰ کیاگیا
    https://https://youtu.be/H3ofcqyF5zw
    جب اس سلسلے میں پولیس ترجمان ڈیرہ غازیخان سے رابطہ کیاتو انہوں نے بتایا کہ ڈیرہ غازیخان میں ایساکوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا اور نہ ہی ڈیرہ غازیخان میں اس قسم کے واقعے کی اطلاعات ہیں ۔جب اس سلسلے میں مزید تحقیقات کیں تومعلوم ہوا کہ ٹک ٹاکرسستی شہرت کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور یہ لوگ خود شوشہ چھوڑتے ہیں تاکہ لوگ انہیں سرچ کریں ان کا واچ ٹائم بڑھے اور سوشل میڈیا پر ان کی ریٹنگ زیادہ ہو۔
    دیکھئے ٹک ٹاکرسمیرعباسی اس واقعے کے بارے میں کیاکہہ رہاہے۔

  • ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ – سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے، حادثات معمول

    ڈیرہ غازی خان میں سیوریج لائنز پھٹ گئیں، سیوریج کا پانی زیر زمین رسنے سے مین شاہراہوں پر کئی فٹ چوڑے گڑھے پڑ گئے حادثات معمول بن گئے
    باغی ٹی وی رپورٹ.صدرعوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ڈیرہ غازیخان مولانا غلام سرور عثمانی نے کہا ہے کہ عوامی اتحاد ویلفیئر آرگنائزیشن ایک فلاحی تنظیم ہے جو کہ عوامی مسائل اور عوامی خدمت کے منشور پر کام کرتی ہے اور الحمد اللہ ڈسٹرکٹ ڈیرہ غازیخان کے عوام میں اپنے خدمت کے جذبے کی وجہ سے ہر دلعزیز ہے۔پورے ڈیرہ غازیخان شہر کے واٹر ڈسپوزل بند کرکے سیوریج لائن کا بھٹہ بٹھا دیا سارے شہر کی سیوریج لائن پھٹ گئیں اور سار ا سیوریج کا پانی زیر زمین رسنا شروع ہوگیا اب حالت یہ ہے کہ پورے شہر کی سٹرکیں یکدم دھڑام سے گر جاتی ہیں اور پھر اس خلا کو مٹی ڈال کر بند کردیا جاتا ہے کسی سٹرک کا یوں اچانک پھٹ جانا انسانی زندگی کے ساتھ ساتھ مالی نقصان کا بھی پیش خیمہ اور سبب بن رہا ہے .

    سارے شہر کی سٹرکیں جن میں کالج روڈ،پاسپورٹ آفس روڈ،ہسپتال روڈ،گولائی کمیٹی روڈ،صدر بازار،پتھر بازار،فریدیہ بازار،لیاقت بازار،قائداعظم روڈ،کنگن روڈ،پیر قتال روڈ،اسٹیشن روڈ،کچہری روڈ،گولائی کمیٹی تا فیصل مسجد چوک روڈ،پیارے والی پل تا ڈاٹ پل،باری باری گر چکی ہیںمولانا سرور عثمان نے مزید بتایا کہ چند دن پہلے کالج تا پاسپورٹ آفس روڈ کے اوپر یکدم سٹرک پھٹ جانے سے بجری سے بھرا ٹرک الٹ گیا جس کے نتیجے میں 10ویلر ٹرک ہاش پاش ہوگیا اور روڈ پر بجری اور ٹرک کے ٹکڑے دور دور تک بکھر گئے۔یہ تباہی کی ان سب ذمہ داروں کے خلاف تحقیقات کرکے ان کا سراغ لگانا آپ کی ذمہ داری ہے اور ان کے خلاف ایکشن لینا اور عبرت ناک سزا دلوانا آپ کا فرض ہے۔ ہماری ویلفیئر آرگنائزیشن کا کام عوامی مسائل اور کرپٹ لوگوں کی نشاندہی کرنا ہے تاکہ عوام آئندہ رونما ہونے والے حادثات سے محفوظ رہ سکیں کیونکہ ہم ایک محب وطن لوگ ہیں اور اپنے ملک کے وفا دار ہیں۔ہمارے شہر ڈیرہ غازیخان میں ریکارڈ کام ہورہے ہیں جو سابقہ حکومت نے 10سال میں بھی نہیں کیے۔ہم وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰ سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ ڈیرہ غازیخان کی موجودہ صورتحال پر فوری ایکشن لیا جائے۔فوری کام کروائے جائیں۔پینے کا صاف پانی کا بھی بہت فقدان ہے بیماریاں جنم لے رہی ہیں ہر دوسرا شخص یرقان، معدہ جگر کے مرض میں مبتلاء ہیں۔ صفائی کے ناقص انتظامات ہیں جگہ جگہ گندگی اور بدبو نظر آتی ہے

  • لیہ ۔ پورن ویڈیو سکینڈل میں استعمال ہونے والا کتا اور دو مزید ملزم گرفتار

    لیہ ۔ پورن ویڈیو سکینڈل میں استعمال ہونے والا کتا اور دو مزید ملزم گرفتار

    لیہ ۔ پورن ویڈیو سکینڈل میں استعمال ہونے والا کتا اور دو مزید ملزم گرفتار،دو ملزمان انوار اور شوکت پہلے ہی گرفتار ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔لیہ میں لڑکی سے زیادتی اور پورنوگرافی کے مبینہ سکینڈل کا معاملہ لیہ پولیس نے واقعہ میں نامزد 7 میں سے 2ملزمان کو حراست میں لے لیاتھا،آج لیہ پولیس نے مزید پورن ویڈیو سکینڈل میں استعمال ہونے والا کتا اور دو مزید ملزم گرفتارکرلیا ہے ،اس طرح اب تک گرفتار ملزمان تعداد 4ہوگئی ہے۔لیہ پولیس جدید ٹیکنالوجی کو استعمال میں لاکر ملزمان کاتعاقب جاری رکھے ہوئے ہے ،ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس کی خصوصی ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔ وزیراعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی تھی۔ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو خصوصی ٹیمیں تشکیل دیں۔واقعہ کی تمام پہلوئوں سے تفتیش کرنے کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دی گئی تھی۔یاد رہے کہ 22 سالہ کرن نامی خاتون کے والد کی مدعیت میں درخواست تھانہ صدرلیہ کو دی گئی، درخواست میں لکھاگیا کہ ملزمان نے جھوٹی پیشی پر بلایا او اسلحہ کے زور پر اغوا کر لیا ۔چوک اعظم میں نامعلوم جگہ پر لے جا کر پہلے خود زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر ملزمان نے ہاتھ اور منہ باندھ کر کتے کے ساتھ پورن ویڈیو بھی بنائی ۔ متاثرہ لڑ کی نے کہا کہ ملزمان نے 5 دن حبس بے جا میں رکھا گروہ پورن ویڈیو بیچنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہیں۔ویڈیو وائرل کی دھمکی دے کر 50 ہزار روپے بھتہ بھی وصول کیا۔خاتون نے تھانہ کی بجائے علاقہ مجسٹریٹ کو میڈیکل کے لئے درخواست دی ۔علاقہ مجسٹریٹ نے لڑکی کے مکمل معائنہ کے احکامات جاری کر دیئے ۔

  • علی پور۔  زہریلی شراب پینے سے 11افراد ہلاک 4 کی حالت تشویشناک،شراب فروش گرفتار

    علی پور۔ زہریلی شراب پینے سے 11افراد ہلاک 4 کی حالت تشویشناک،شراب فروش گرفتار

    علی پور۔ زہریلی شراب پینے سے 11 افراد ہلاک 4 کی حالت تشویشناک، ہلاک ہونے والوں میں ایک عورت بھی شامل ہے۔تھانہ صدرکی حدود موضع ٹبی ارائیں کا شراب فروش گرفتار،اس سے قبل شراب فروش پر 100سے زائد ایف آئی آر درج ہیں ۔ذرائع
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ضلع مظفرگڑھ کی تحصیل علی پورمیں زہریلی شراب پینے سے 11 افراد ہلاک ہوگئے ہیں اور 4 افرادکی حالت خطرے میں بتائی جارہی ہے ،تشویشناک حالت کے باعث تحصیل ہیڈکوارٹرہسپتال علی پور نے ان فراد کونشترہسپتال ملتان اور بہاولپورہسپتال ریفرکردیاہے ۔شراب سے جاں بحق ہونے والا علی پورسٹی کے رہائشی شیخ سانول نے اپنے آخری بیان میں شراب بیچنے والے شخص کی نشاندہی کی تھی۔اس نے عالم نزع میں بتایا کہ ٹبی ارائیں کے رہائشی سلطان عرف سلطانہ ارائیں سے شراب خریدی تھی ،موضع ٹبی ارائیں سیت پوررودڈ پر علی پور شہر سے 4/5کلومیٹر کے فاصلے پر تھانہ صدرکے حدود میں واقع ہے ،جبکہ شراب سے ہلاک ہونے والے تمام افراد کا تعلق علی پور سٹی تھانہ سٹی کی حدود میں ہے ،شراب سے ہلاک ہونے والوں میں ایک عورت بھی شامل ہے۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ احمد نواز شاہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوتے ہوئے ایس ایچ او تھانہ سٹی علی پور جہاں زیب لغاری اورایس ایچ او تھانہ صدر علی پور سجاد حیدر کو معطل کرکے کلوز ٹو لائن کردیا۔ایس پی انویسٹی گیشن کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے ۔شراب فروش سلطان عرف سلطانہ ارائیں کوتھانہ سٹی پولیس علی پور نے گرفتارکرلیاہے۔
    دوسری طرف ریجنل پولیس آفیسر ڈیرہ غازی خان محمد سلیم نےمظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں ذہریلی شراب پینے سے ہلاکتوں کے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر مظفرگڑھ سے رپورٹ طلب کرلی ہے اور واقعہ میں ملوث تمام ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم۔ چاروں اضلاع میں شراب فروشوں کے خلاف سخت کریک ڈائون کا حکم بھی جاری کردیا ہے۔

  • کوٹ چھٹہ ۔گن پوائنٹ پردوبچوں کی ماں اغواء ،شوہرزخمی،ملزمان آزاد،متاثرین کااحتجاج

    کوٹ چھٹہ ۔گن پوائنٹ پردوبچوں کی ماں اغواء ،شوہرزخمی،ملزمان آزاد،متاثرین کااحتجاج

    کوٹ چھٹہ ۔گن پوائنٹ پردوبچوں کی ماں اغواء ،شوہرزخمی،ملزمان آزاد،متاثرین کااحتجاج،حکام سے نوٹس لینے کامطالبہ
    باغی ٹی وی رپورٹ،ڈیرہ غازیخان کی تحصیل کوٹ چھٹہ ، تھانہ درخواست جمال خان کی حدود میںدس روز قبل10 سے 12 مسلح افراد کا رات کی تاریکی میں نواں جنوبی کے رہائشی عبدالکریم نامی شخص کے گھر پر دھاوا ، عبدالکریم کو زدوکوب و زخمی کرنے کے بعد دو بچوں کی ماں کو اغوا کر لیا ،شور شرابہ و ویلہ کرنے پر حق ہمسائے اور رشتہ دار موقع پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ عبدالکریم خون میں لت پت زمین پر پڑا ہے، اسے اٹھایا اور تھانہ درخواست جمال خان پولیس کو اطلاع دی اورپولیس موقع پر پہنچی اور قانونی کارروائی کرتے ہوئے انہوں نے مضروب کو ڈاکٹ جاری کرنے کے بعد RHC قادرآباد بھیج دیا ،

    RHC قادرآباد نے فرسٹ ایڈ دینے کے بعدٹیچنگ ہسپتال ڈیرہ غازی خان ریفرکردیا ،میڈیکل میں تشدد ثابت ہونے کے بعد بھی پولیس تھانہ درخواست جمال خان روائتی سستی لاپرواہی کے باعث ملزمان گرفتارنہ ہوئے ،جس پر انہی اغوا کاروںنے 8 دن بعد دوبارا کچھیلا برادری پر دھاوا بول کر عبدالمالک کچھیلا پر اندھا دھند فائرنگ کر دی، عبدالمالک فائرنگ سے شدید زخمی قادر آباد ہسپتال میں داخلک رادیا مگرRHCکے ڈاکٹروں نے بے حسی کی انتہاہ کردی، مریض کو پورے 24گھنٹوں میں صرف ایک ڈرپ اور ایک پین کلرانجکشن لگایاگیا،مریض انتہائی سیریس حالت میں پڑا تھا جس پرلواحقین نے قادرآباد RHCکے ڈاکٹروں کے رویہ پرشدیداحتجاج کیا ہے اور حکام سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔

  • لیہ – خاتون سے اجتماعی زیادتی،برہنہ ویڈیو بھی بنالی گئی،ایڈیشنل آئی جی کا نوٹس،JIT تشکیل،ملزمان کی گرفتاری کاحکم

    لیہ – خاتون سے اجتماعی زیادتی،برہنہ ویڈیو بھی بنالی گئی،ایڈیشنل آئی جی کا نوٹس،JIT تشکیل،ملزمان کی گرفتاری کاحکم

    لیہ – خاتون سے اجتماعی زیادتی،برہنہ ویڈیو بھی بنالی گئی،ایڈیشنل آئی جی کا نوٹس،JIT تشکیل،12 گھنٹے کے اندر ملزمان کی گرفتاری کاحکم
    باغی ٹی وی رپورٹ. ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ڈاکٹر احسان صادق نےلیہ میں خاتون سے اجتماعی زیادتی اور ویڈیو بناکربلیک میلنگ کے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے JIT تشکیل دینے کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور 12 گھنٹوں میں ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ واقعہ میں ملوث ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے، ڈاکٹر احسان صادق نے کہا ملزمان کے خلاف زمین تنگ کر دی جائے جدید سائنسی خطوط پر تفتیش کر کے حقائق سامنے لائے جائیں اور متاثرہ کو انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ شہری تجمل حسین نے پولیس کو درخواست دی کہ ملزمان نےاسلحہ کے زور پر کرن بی بی کواغواکر کے نامعلوم جگہ پر لے جا کر کرن بی بی کے ساتھ زیادتی کی ,تشدد کیا اور برہنہ ویڈیو بنائی، لیہ پولیس نے مقدمہ نمبر 667در ج کرکے ملزمان کی گرفتاری کےلیے پولیس ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں اور ملزمان کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں قبل ازیں بھی تجمل حسین تھانہ چوبارہ میں انہیں ملزمان کے خلاف بیٹی کے ساتھ اغوا,زیادتی ,تشدد اور برہنہ ویڈیو بنانے سے متعلق درخواست دے چکا ہے اور مقدمہ نمبر 446/22 بجرم 376؛292 ت پ درج ہے ملزمان بر ضمانت عبوری ہیں متاثرہ کرن بی بی کا شوہر ندیم شہزاد منشیات کے 8مقدمات میں چالان عدالت ہو چکا ہے۔

  • ڈیرہ غازی خان۔عثمان بزدارکی طرف ڈولفن پولیس کو دئے گئے موٹرسائیکلزواپس مانگ لئے گئے۔مراسلہ جاری

    ڈیرہ غازی خان۔عثمان بزدارکی طرف ڈولفن پولیس کو دئے گئے موٹرسائیکلزواپس مانگ لئے گئے۔مراسلہ جاری

    ڈیرہ غازی خان۔عثمان بزدارکی طرف ڈولفن پولیس کو دئے گئے موٹرسائیکلزواپس مانگ لئے گئے۔مراسلہ جاری
    باغی ٹی وی رپورٹ ۔ڈیرہ غازی خان ڈولفن فورس کو عارضی طور پر دی جانے والی موٹر سائیکلیں واپسی مانگ لی گئی ہیں موٹر سائیکل واپسی کے حوالہ سے مراسلہ جاری کر دیا گیا ہے ،مراسلہ ایڈیشنل انسپکٹرجنرل سائوتھ پنجاب نے آر پی او ڈیرہ غازیخان کے نام جاری کیا ہے ،مراسلہ میں کہاگیا ہے کہ سابق وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کے دور حکومت میں ڈولفن فورس کا قیام عمل میں لایا گیا تھااورابتدائی طور پر ڈولفن اسکواڈ کیساتھ موٹر سائیکلیں بھی لاہور سے لی گئی تھیں ڈی جی خان اور تونسہ میں ڈولفن فورس کے زیر استعمال موٹر سائیکلیں واپسی مانگ لی گئیں یاد رہے کہ 30 موٹر سائیکلیں ڈولفن فورس ڈی جی خان کے زیر استعمال ہیں۔

    اس وقت ڈیرہ غازیخان میں سٹریٹ کرائم ،موٹرسائیکل چوری ودیگرجرائم عام ہیں ،ڈولفن فورس کی وجہ سے عوام نے قدرے سکھ کاسانس لیاتھالیکن جب ڈولفن پولیس کے موٹرسائیکلیں نہیں ہوں گی توعوام کوکس طرح تحفظ فراہم کرسکے گی۔ایڈیشنل آئی جی سائوتھ پنجاب کے اس اقدام نے ڈیرہ غازیخان کی عوام میں بے چینی کی لہڑدوڑ گئی ہے اورعوام عدم تحفظ کاشکارہوگئی ہے۔

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    تیسری وآخری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    واضح رہے کہ مشرف ہی کے دور میں پاکستان میں گمشدگیوں میں اضافہ ہوا۔افغانستان پر حملے کے وقت مبینہ طور پر بہت سے القاعدہ دہشتگرد افغان سرحد عبور کر کے شمالی وزیرستان میں پناہ لینے میں کامیاب ہو گئے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ انہیں شروع میں ہی داخل ہونے سے روکا جاتا کیونکہ پھر انہی دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کرناپڑا، جس کی زد میں سویلین عوام بھی آئے۔ ان آپریشنز کا سلسلہ 2004میں شمالی وزیرستان سے شروع ہوا لیکن آہستہ آہستہ جنوبی وزیرستان، باجوڑ ایجنسی، اورکزئی ایجنسی، خیبر ایجنسی تک پھیل گیا۔ بعد ازاں تحریک طالبان پاکستان کی صورت میں نمودار ہونے والے نئے چیلنج نے ان آپریشنز کو سوات، دیر اور بونیر تک پھیلادیا۔ اس جنگ نے پاکستان کے پرامن قبائلی علاقوں میں انتشار پیدا کیا ۔جنرل پرویز مشرف ہی کے دور میں امریکہ کو پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے کرنے کی اجازت دی گئی۔ اگلے چند سالوں میں اس ٹیکنالوجی کے ذریعے ہزاروں بیگناہ قبائلی شہریوں کی جانیں گئیں اور ہزاروں کی تعداد میں بوڑھے، بچے اور مردوخواتین اپاہج ہوئے۔جنرل مشرف کے حکم پر 26اگست 2006کوڈیرہ بگٹی میں ایک غار پر میزائل حملے میں اکبر بگٹی کو ماردیاگیا۔ اس قتل نے بلوچستان میں وہ آگ لگائی جس کے شعلے آج بھی ٹھنڈے نہیں ہوئے۔لال مسجد آپریشن نے جنرل پرویز مشرف کی مقبولیت کو سب سے بڑا دھچکا لگایا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے سربراہ نے طلبہ کو ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر ابھارا تھا اور اس کا سد باب لازمی تھی لیکن پہلے تو لال مسجد میں اسلحہ بھرا جاتا رہا اور یہ سکیورٹی کی سطح پر بڑی ناکامی ہی تھی کہ اس مدرسے میں اتنا اسلحہ جمع کر لیا گیا کہ کئی دن تک فوج کا آپریشن جاری رہا تب جا کر لال مسجد clear ہو سکی۔ اس آپریشن کے حوالے سے بھی چودھری شجاعت کے مطابق بات چیت کے ذریعےحل نکالا جا چکا تھا لیکن پھر اچانک نجانے کیا ہوا کہ فوج کو آپریشن کا حکم دے دیا گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن مشرف نے محض اس لئے کیا کہ امریکہ اور چین کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سنجیدہ ہیں اور لال مسجد میں اسلحے کو بلا روک ٹوک جمع ہونے دینے کی وجہ بھی یہی تھی کہ مغرب کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ پاکستان میں جنرل مشرف نہ ہوں تو یہاں دہشتگرد قبضہ کر لیں گے۔ 28جولائی 2007 کو ابوظہبی میں جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی جس کے بعد پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن تقریبا ساڑھے آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کر کے 18اکتوبر کو وطن واپس آئیں تو ان کا کراچی ائیرپورٹ پر فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بے نظیر کا کارواں شاہراہِ فیصل پر مزارِ قائد کی جانب بڑھ رہا تھا کہ اچانک زور دار دھماکے ہوئے جس کے نتیجے میں150 افرادکو موت کی نیند سلادیاگیا جبکہ سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب اپنے بچوں(بلاول، بختاور اور آصفہ)سے ملنے دوبارہ دوبئی گئیں تو ملک کے اندر جنرل مشرف نے 3 نومبر کو ایمرجنسی نافذ کر دی۔ یہ خبر سنتے ہی محترمہ بے نظیربھٹو دوبئی سے واپس وطن لوٹ آئیں۔ ایمرجنسی کے خاتمے، ٹی وی چینلز سے پابندی ہٹانے اور سپریم کورٹ کے ججز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ اس وقت تک ملک میں نگران حکومت بن چکی تھی اور مختلف پارٹیاں انتخابات میں حصہ لینے کے معاملے میں بٹی ہوئی نظر آ رہی تھیں۔ اس صورت میں پیپلز پارٹی نے میدان خالی نہ چھوڑنے کی حکمت عملی کے تحت تمام حلقوں میں امیدوار کھڑے کیے۔ اور کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائے ۔27دسمبر 2007 کو جب محترمہ بے نظیربھٹو لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آبادجا رہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد محترمہ بے نظیربھٹو کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں محترمہ بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گئیں۔محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے فوراََ بعد راولپنڈی فائر بریگیڈ کے عملے نے جائے وقوعہ کو پانی کے ذریعے دھو کر چمکا ڈالا۔ ان کا یہ عمل آج بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔
    2018کے عام انتخابات میں سابق کرکٹرعمران کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے کامیابی سمیٹی اس طرح 17اگست 2018 کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم منتخب ہوئے اور 10 اپریل 2022 تک بطور وزیراعظم رہے۔اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کی طرف سے عدم اعتمادکی کامیابی پرعمران خان کووزیراعظم ہائوس سے نکلناپڑا ۔ درحقیقت دو دہائیوں پر مشتمل اپنے سیاسی سفر میں انہوں نے لچک دکھانے، عہد کی پاسداری کرنے یا اصولوں کی پیروی کرنے کے فن کو کبھی نہیں سیکھا۔ وہ عمدگی کے ساتھ اکسانے والے، مقبول بیانئے کو قائم کرنے اور عوام کے خوابوں کی پہچان رکھنے کے ماہر تو رہے تاہم ان میں انہیں عملی جامہ پہنانے کی صلاحیت نہ تھی۔ 2018 میں ان کی اقتدار میں آمد کرپشن، نوجوانوں میں بیروزگاری کا مسئلہ حل کرنے اور دنوں میں معیشت کی بحالی کے بلند بانگ وعدوں سے مامور تھی۔ بدقسمتی سے ناقص حکمرانی اور غلط ترجیحات کی وجہ سے یہ وعدے کبھی پورے نہ ہو سکے۔
    آخر کارعمران خان کو اس بنا پر یاد رکھا جائے گا کہ وہ معاشی چیلنجزکا مقابلہ نہ کرسکے ،عوام کو مہنگائی کے سونامی کے سپردکردیا،ہوشربامہنگائی نے کروڑوں لوگوں کو غربت کی لکیرسے نیچے دھکیل دیا، اس پر توجہ دینے کے بجائے وہ حزب اختلاف کو نشانہ بناتے رہے۔عمران خان حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے بھیجے ہوئے زرمبادلہ، داخلی و بیرون ملک سے لیے گئے قرضوں اور آئی ایم ایف کے معاشی بیل آٹ پر بڑی حد تک انحصار کرتی رہی ۔ آخر میں اپنی حکومت کے خلاف خاص کر گنجان آباد اور سیاسی اعتبار سے اہم صوبے پنجاب میں پائی جانے والی ناراضگی کا رخ موڑنے کے لیے عمران خان نے یہ جواز پیش کیا کہ امریکہ کی بائیڈن حکومت نے ملک میں انتقال اقتدار کے لیے پاکستان کی حزب اختلاف سے مل کر سازش کی ہے اورنیاپاکستان بنانے کیلئے اورنعرے کااضافہ کیا”کیاہم غلام ہیں۔۔؟”عوام کواس نعرے سے مسلسل بیوقوف بنارہاہے جبکہ درپردہ امریکہ سے اپنے معاملات طے کررہاہے رواں ماہ جس کی جھلک خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم کی ملاقات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعلی خیبر پختون خواہ محمود خان سے امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے ملاقات کی ہے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیراعلی محمود خان نے امریکی سفیر کو صوبے کے پہلے دورے پر خوش آمدید کہا، اس موقع پر انہوں نے مختلف شعبوں میں کے پی حکومت سے تعاون اور اشتراک پر امریکی حکومت کا شکریہ ادا کیا۔محمود خان نے کہا کہ مختلف شعبوں میں امریکی تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس ملاقات سے قبل امریکی سفیر نے محکمہ صحت کے پی کو یو ایس ایڈ کے تحت 36ہیلتھ وہیکلز حوالے کرنے کی تقریب میں شرکت کی، اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے امریکی سفیر کا کہنا تھا کہ ہیلتھ وہیکلز فراہمی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔خیبرپختون خواہ کے وزیراعلیٰ محمودخان نے امریکی سفیرسے گاڑیاں لیکر عمران کے بیانیہ کیاہم امریکہ کے غلام ہیں کواُڑاکررکھ دیاہے ۔اس ملاقات نے رجیم چینج کے غبارے سے بھی ہوانکال دی ہے۔عمران خان ہروقت اپنے مخالفین کوچورچورکہنے کاکوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ،اسی چورچورکے شورمیں الیکشن کمیشن کاممنوعہ فارن فنڈنگ کیس کافیصلہ بھی آگیا ہے جس میں لکھاگیا ہے کہ پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ کا الزام ثابت ہوچکاہے، پاکستان تحریک انصاف ممنوعہ فنڈنگ کا کیس بانی رکن اکبر ایس بابر نے 2014میں دائر کیاتھا،الیکشن کمیشن نے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ برس بعد سنایا جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف پر غیر ملکی فنڈز لینے کے الزامات ثابت ہوگئے ہیں۔پی ٹی آئی نے امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔پی ٹی آئی کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیوں نہ فنڈز ضبط کر لیے جائیں۔ چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے متفقہ فیصلہ سنایا،الیکشن کمیشن نے 21جون کو فریقین کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا،فیصلے کے مطابق تحریک انصاف پارٹی نے عارف نقوی اور 34 غیر ملکی شہریوں سے فنڈز لیے جبکہ 8 اکانٹس کی ملکیت ظاہر کی اور 13 اکانٹس پوشیدہ رکھے گئے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے سامنے غلط ڈکلیئریشن جمع کرایا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اکائونٹس چھپائے، بینک اکائونٹس چھپانا آرٹیکل 17کی خلاف ورزی ہے،13 نامعلوم اکاونٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکائونٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔فیصلے میں کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008سے 2013تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے جبکہ ان کے پاس فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ نہیں تھے۔
    اب وفاق میں سابقہ اپوزیشن اتحادپی ڈی ایم کی حکومت ہے جس کے وزیراعظم میاں محمدشہباشریف ہیں جوابھی تک عوام کوکچھ ڈیلیورکرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ضروریات زندگی کی تمام اشیاء عوام کی قوت خرید سے باہرہوچکے ہیں۔پٹرولیم مصنوعات مہنگی،گھی ،دالیں ،سبزیاں،آٹااورادویات اتنامہنگی ہوچکی ہیں کہ دیہاڑی دارمزدورسے زندہ رہنے کاحق بھی چھین لیاگیاہے۔1947سے 2022تک اس مملکت پاکستان کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے گئے۔ کرپشن دھونس دھاندلی اوربے ایمانی نے قائداعظم کے پاکستان کی معیشت کوتباہ و بربادکردیا ہے ،ایوب خان کے دورمیں 20گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں لیکن اب ان کی تعداد22ہوچکی ہے،ان کرپٹ خاندانوں کی وجہ سے مملکت پاکستان اتنامقروض ہوچکا ہے کہ دیوالیہ ہونے کے قریب ہے ،پاکستان پر جتنابھی قرض ہے وہ کسی عام پاکستانی نے نہیں لیااورنہ ہی کوئی کرپشن کی ہے اورنہ ہی قرض لی گئی رقم عام پاکستانی پر خرچ کی گئی ، قرض لی گئی تمام رقوم یہ22خاندان مختلف حیلوں بہانوں سے ہڑپ کرتے آرہے ہیں ۔یہ سب ڈاکولٹیرے حکمران جنہوں نے پاکستان کی ہرایک چیز بیچ کھائی ہے ،ان لوگوں کی دولت میں روزبروزاضافہ ہورہالیکن میراملک پاکستان مزید قرضوں کے بوجھ میں دبتاجارہاہے ،یہ انہی لوگوں کی اولادیں ہیں جن کے بارے میں میرے قائد حضرت قائداعظم محمدعلی جناح نے فرمایاتھاکہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں ۔(ختم شد)

  • فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا

    فیکٹ فائنڈنگ،ڈس انفولیب سے متعلق عمران خان کاجھوٹ پکڑاگیا
    باغی ٹی وی رپورٹ.سابق وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ روز اپنے خطاب میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا۔پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا کرنے والے بھارتی نیٹ ورک بے نقاب کیایاد رہے کہ عمران خان کے دعوے کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ ڈس انفو لیب بذات خود ایک ادارہ ہے جو فیک خبروں کے نیٹ ورک کو ایکسپوز کرتا ہے۔ واضح رہے کہ نومبر2019 میں ’ای یو ڈس انفو لیب‘ نے انکشاف کیا تھا کہ دنیا کے 65 سے زائد ممالک میں 260 سے زائد ایسی فیک نیوز ویب سائٹس ہیں جو انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔ریسرچ گروپ ‘ڈس انفو لیب’ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ویب سائٹس انڈیا کے مفاد میں یورپی یونین اور اقوام متحدہ پر اثر انداز ہونے کے لیے بنائی گئی ہیں جو بارہا پاکستان پر تنقید کرتی پائی گئی ہیں۔یہ ویب سائٹس امریکہ، کینیڈا، بیلجیئم اور سوٹزرلینڈ سمیت 65 سے زیادہ ممالک سے چلائی جا رہی ہیں۔ عالمی خبروں کی کوریج کے علاوہ ان میں سے بہت سی ویب سائٹس کشمیر کے تنازعے میں پاکستان کی کردار کشی کی غرض سے مظاہروں اور دیگر خبروں کی ویڈیوز تیار کر کے چلاتی ہیں۔جبکہ پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران نے دعویٰ کیا کہ ان کے سوشل میڈیا کے جنونی نوجوانوں نے یورپ کی سب سے بڑی ڈس انفو لیب کو ایکسپوز کیا.