Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے
    دوسری قسط
    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    1970کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمان کی عوامی لیگ قومی اسمبلی میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری، اس نے قومی اسمبلی کی کل 300 نشستوں میں سے 160 نشستیں جیتیں تاہم مغربی پاکستان میں عوامی لیگ کی کارکردگی کچھ بھی نہ رہی۔ اس کے برعکس پاکستان پیپلز پارٹی قومی اسمبلی میں 81 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہی اور اس نے مغربی پاکستان کے صوبوں سندھ اور پنجاب میں بھی بڑے بڑے سیاسی امیدواروں کو شکست سے دوچار کر دیا۔ 1970 کے انتخابات میں مذہبی رجحان رکھنے والی جماعتوں کو ناکامی کاسامناکرناپڑا،اس دوران اقتدارکی رسہ کشی اورسازشیں جاری
    رہیں، انتخابات کے بعد سیاسی حالات ناقابل کنٹرول ہو گئے،ذوالفقارعلی بھٹونے اُدھرتم اِدھرہم کانعرہ لگایااور 16 دسمبر کو سقوطِ ڈھاکا کے بعد بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آ گیا۔20 دسمبر کو یحیی خان کی معزولی کے بعد ذوالفقار علی بھٹو صدر اور سویلین چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ انہوں نے پہلا کام یہ کیا کہ یحیی سمیت کئی سینیئر جنرلز کو برطرف کردیا۔جنرل گل حسن کوچیف آف آرمی سٹاف بنادیا. شیخ مجیب کو خصوصی فوجی عدالت کی جانب سے دی گئی سزائے موت منسوخ کردی اور قوم سے نشریاتی خطاب میں وعدہ کیا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور ہتھیار ڈالنے کے ذمہ داروں کے تعین کے لئے ایک آزادانہ کمیشن تشکیل دیا جائے گا۔مشرقی پاکستان میں شکست پاکستانی فوج کو بیک فٹ پر لے آئی تھی اور ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا بھر پور فائدہ اٹھایا۔کچھ ہی دنوں کے بعد جنرل گل حسن بھی ان کے دل سے اتر گئے اور انھیں ایک ایسے چیف کی ضرورت پڑ گئی جو آنکھیں بند کر ان کے ہر حکم کو بجا لائے۔بھٹو نے گل حسن کو برخاست کرنے کا حکم اپنے سٹینوگرافر کے بجائے اپنے ایک سینیئر ساتھی سے ٹائپ کروایا۔ جنرل گل حسن کی برخاستگی کے حکم کے بعد انھوں نے اپنے قابل اعتماد ساتھی ملک غلام مصطفی کھر سے جنرل گل حسن کے ساتھ لاہور جانے کو کہا تاکہ گل حسن سے اس وقت تک کوئی رابطہ نہ ہو جب تک کہ ان کے جانشین کی تقرری کا حکم جاری نہ ہو جائے۔اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے ممکنہ عہدیداروں کو ایک فرضی اجلاس کے لیے طلب کیا گیا اور انھیں اس وقت تک وہاں رکھا گیا جب تک کہ گل حسن کا استعفی نہیں لے لیا گیا۔ ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر پولیس تعینات کر دی گئی،گل حسن کے بعد بھٹو نے اپنے قابل اعتماد جنرل ٹکہ خان کو پاکستانی فوج کا سربراہ مقرر کیا۔کچھ ہی مہینوں میں بھٹو کا تکبر اتنا بڑھ گیا کہ انھوں نے پارٹی کے سینیئر ساتھیوں کی بھی توہین شروع کر دی۔جب ٹکاخان کی مدت ملازمت ختم ہوئی تو انھوں نے بھٹو کو اپنے جانشین کے لیے ممکنہ سات لوگوں کی فہرست بھجوائی۔اس میں انھوں نے دانستہ طور پر جنرل ضیا الحق کا نام نہیں رکھا کیونکہ انھیں حال ہی میں لیفٹیننٹ جنرل کے طور پر ترقی دی گئی تھی۔ لیکن بھٹو نے انہی کے نام پر مہر ثبت کی۔شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ضیا ء نے بھٹو کی چاپلوسی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔1977 میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا الزام لگایا، جس کے نتیجے میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف احتجاج کا ایک ملک گیر سلسلہ شروع ہو گیا۔ یوں اس ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے درمیان میں کئی مرتبہ مذاکرات ہوئے، جو کسی کامیابی تک نہ پہنچ سکے۔جولائی 1977 میں جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور نوے دن کے اندر عام انتخابات کا وعدہ کیا۔ بعد میں انتخابات کا وعدہ پورا نہ ہو سکا اور جنرل ضیاء کا اقتدار گیارہ برس سے زائد عرصے تک قائم رہا۔ اس دوران چار اپریل 1979 میں قتل کے ایک مقدمے میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی۔ ایک ریفرنڈم کے ذریعے جنرل ضیا ء پاکستان کے صدر منتخب ہو گئے۔1985 میں ضیا الحق نے سیاسی پارٹیوں کے بغیر پارلیمانی الیکشن کا انعقاد کرایا۔ جنرل ضیا الحق کا اقتدار اگست 1988 میں ایک ہوائی جہاز کے حادثے پر ختم ہوا۔ فوجی صدر اس حادثے میںجاں بحق ہو گیا تھا۔ افغان جنگ،افغان مہاجرین، ہیروئن اورکلاشنکوف کلچرجنرل ضیاء الحق کے دئے ہوئے تحفے ہیں جو آج تک پاکستان کی گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں۔ 1988میں ضیاء الحق کی وفات کے بعد سینیٹ کے چیئرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر1988 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں۔ اور بے نظیر بھٹو نے2دسمبر1988 میں 35 سال کی عمر میں پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست 1990 میں 20ماہ کے بعد صدر غلام اسحاق خان نے بے نظیر بھٹوکی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990 کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بے نظیر بھٹو حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس نے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بے نظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993 میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بد عنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر1993 میں عام انتخابات ہوئے۔ جسمیں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اوربے نظیر بھٹو ایک مرتبہ پھروزیراعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر سردارفاروق احمد خان لغاری نے 1996 میں بد امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بے نظیربھٹو کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بے نظیربھٹونے اپنے پہلے دور میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکا کے کہنے پر رول بیک کرنے کے لیے تیار ہوگئیں تھیں لیکن آرمی کے دبا ئو کی وجہ سے ایسانہ کر سکیں ،اس بات کوبے نظیر بھٹو کی پاکستان دشمنی تصور کیا گیا۔ان کے خاوند آصف علی زرداری پر مالی بدعنوانی کے بیشتر الزامات لگے اور دنیا کے مختلف ممالک میں اس سلسلہ میں مقدمات قائم ہوئے۔اکتوبر 2007 میں بینظیر بھٹو امریکی امداد سے پرویزمشرف کی حکومت سے سازباز کے نتیجے میں اپنے خلاف مالی بدعنوانی کے تمام مقدمات ختم کروانے میں کامیاب ہو گئی۔قومی مفاہمت فرمان کے متعلق مقدمہ کی سماعت کے دوران قومی احتساب دفتر نے عدالت کو بتایا گیا کہ آصف علی زرداری نے بینظیر کی حکومت کے زمانے میں ڈیڑھ بلین ڈالر کے ناجائز اثاثے بنائے۔بے نظیر بھٹو نے لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی۔ایک انٹرویو میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ امریکی افواج کو پاکستانی سرزمین پر کارروائی کی اجازت دے دیں گی۔ جس کے بعد وہ پاکستان کے وجود کے لیے ایک خطرہ بن گئیں۔ایک اور موقع پر انہوں نے کہا کہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وہ ملک کے عظیم ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبد القدیرخان کو پوچھ گچھ کے لیے امریکا کے حوالے کر دیں گی۔محترمہ کے ان بیانات نے پاکستانی قوم میں بڑا اضطراب پیدا کر دیا۔ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ کرسی کے حصول کے لیے امریکا اور مغرب کو خوش کرنے کی خاطر محترمہ کس حد تک گر سکتی ہیں۔پانچ نومبر 1996 کو دوسری بے نظیر بھٹوحکومت کی برطرفی کے بعد آصف زرداری کا نام مرتضی بھٹو قتل کیس میں آیااور اس نے ہی ان کو قتل کیا۔ نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں ان پر سٹیل مل کے سابق چیئرمین سجاد حسین اور سندھ ہائی کورٹ کے ایک جج جسٹس نظام احمد کے قتل اور منشیات کی سمگلنگ میں ملوث ہونے، سوئس کمپنی ایس جی ایس کوٹیکنا، دوبئی کی اے آر وائی گولڈ کمپنی سے سونے کی درآمد، ہیلی کاپٹروں کی خریداری، پولش ٹریکٹروں کی خریداری اور فرانسیسی میراج طیاروں کی ڈیل میں کمیشن لینے، برطانیہ میں راک وڈ سٹیٹ خریدنے، سوئس بینکوں کے ذریعے منی لانڈرنگ اور سپین میں آئیل فار فوڈسکینڈل سمیت متعدد کیسز بنائے گئے۔ اس طرح کی فہرستیں بھی جاری ہوئیں کہ آصف علی زرداری نے حیدرآباد، نواب شاہ اور کراچی میں کئی ہزار ایکڑ قیمتی زرعی اور کمرشل اراضی خریدی، چھ شوگر ملوں میں حصص لیے۔ برطانیہ میں نو، امریکا میں نو، بلجئم اور فرانس میں دو دو اور دوبئی میں کئی پروجیکٹس میں مختلف ناموں سے سرمایہ کاری کی۔ جبکہ اپنی پراسرار دولت کو چھپانے کے لیے سمندر پار کوئی چوبیس فرنٹ کمپنیاں تشکیل دیں۔ اس دوران آصف زرداری نے تقریبا دس سال قید میں کاٹے اور 2004 میں سارے مقدمات میں بری ہونے کے بعد ان کو رہا کر دیا گیا-جبکہ یہ سب الزامات برحق تھے۔۔ رشوت خوری کی شہرت کی وجہ سے مسٹرٹین پرسینٹ مشہورہوئے۔ نواز شریف نے ملک کے وزیر اعظم کی حیثیت سے دو بار اقتدار کے دوران $ 418 ملین کا مالی فائدہ اٹھایا۔، امریکی مصنف رے مونڈ ڈبلیو بیکر کی کتاب کیپیٹلزم اچیلیس ہیل میں انکشاف سامنے آگیا،یہ کتاب نواز شریف سمیت تاریخ کے سب سے زیادہ تسلط رکھنے والے سیاسی خاندانوں کی بدعنوانی اور ان کی جائیدادیں ، اور بے تحاشا دولت جمع کرنے کے بارے میں ہے۔اس کتاب کے مطابق 1990 میں وزیر اعظم کی حیثیت سے وزیر اعظم کے پہلے دور میں کم از کم 160 ملین ڈالر کا غبن کیا ، یہ کرپشن اپنے آبائی شہر لاہور سے اسلام آباد تک شاہراہ تعمیر کرنے کے معاہدے کے دوران کی گئی۔کم از کم140 ملین ڈالر کا پاکستان اسٹیٹ بینکس سے غیر محفوظ قرضوں سے فائدہ اٹھایا ۔ نواز شریف اور ان کے کاروباری ساتھیوں کے زیر انتظام ملوں کے ذریعہ برآمد کی جانے والی چینی پر سرکاری چھوٹ سے 60 ملین ڈالر سے زیادہ کا مال کمایا۔کم از کم 58 ملین ڈالر امریکا اور کینیڈا سے درآمدی گندم کی ادائیگی کی قیمتوں سے سکیم ہوئی۔ ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ گندم کے معاہدے میں ، شریف حکومت نے واشنگٹن میں اپنے ایک قریبی ساتھی کی نجی کمپنی کو قیمت سے کہیں زیادہ
    ادائیگی کردی۔ گندم کی غلط انوائسز نے لاکھوں ڈالر نقد رقم بٹوری۔ نواز شریف کے دور میں ، بغیر معاوضہ بینک قرض اور بڑے پیمانے پرٹیکس چوری دولت مند ہونے کے لئے پسندیدہ راستہ بنی رہی۔نواز شریف کی کئی آف شور کمپنیوںسامنے آئیںجن میں برٹش ورجن آئی لینڈز میں نیسکول ، نیلسن ، اور شمروک کینام شامل ہیں، لندن میں پارک لین پر چار عظیم الشان فلیٹ بھی سامنے آئے،1999 میں پرویز مشرف نے تحقیقات کی ، نواز شریف پر مقدمہ چلا ، عمر قید کی سزا سنائی گئی ، لیکن پھر 2000 میں انہیں جلاوطن کرکے سعودی عرب بھیج دیا گیا۔ 2013 کے عام انتخابات میں میاں محمد نواز شریف واضح اکثریت کے ساتھ تیسری بار پاکستان کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔03 اپریل 2016کو پانامہ لیکس کے اسکینڈل نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے،صحافیوں کی عالمی تنظیم ICIJ نے دنیا بھر کے لاکھوں امیر ترین خاندانوں اور افراد کے پوشیدہ اثاثوں کا انکشاف کیا ۔ان خاندانوں میں پاکستان کا حکمران شریف خاندان بھی شامل ہے جس نے تسلیم کیا کہ لندن کے فلیٹس ان کی ملکیت ہیں،پانامہ لیکس کے معاملہ پر ملک میں 6ماہ سے زیادہ عرصہ بحرانی کیفیت طاری رہی ، اپوزیشن وزیراعظم سے استعفے کامطالبہ کرتی رہی،پانامہ سیکنڈل سپریم کورٹ میں پہنچ گیا جس پربالآخر سپریم کورٹ نے 01نومبر سے روزانہ کی بنیاد پر پانامہ کیس کی سماعت شروع کی اور آخر کار 23فروری 2017کوسپریم کورٹ نے تمام دلائل سننے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کر لیا۔اور پھر 20 اپریل 2017کو اپناتفصیلی فیصلہ سنا یا،اس طرح سپریم کورٹ نے کرپشن ثابت ہونے اوراثاثے چھپانے پروزیراعظم نواز شریف کوتاحیات نااہل قرار دے دیا۔
    کارگل وارنے ہی نواز شریف اور جنرل مشرف کے درمیان ایک گہری خلیج پیدا کی۔ اکتوبر 1999 میں نواز شریف کو یہ اطلاعات دی جا رہی تھیں کہ جنرل مشرف ان کا تختہ الٹنے جا رہے ہیں۔ 12اکتوبر 1999کو نواز شریف نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے جنرل پرویز مشرف کو ان عہدے سے برطرف کیا تو فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا اور نواز شریف کو پابندِ سلاسل کر دیا۔ یہیں سے جنرل مشرف کے نو سالہ دورِ اقتدار کا آغاز ہوتا ہے۔
    2001 میں 9/11کے واقعے کے بعد جنرل پرویز مشرف سے امریکہ نے افغانستان پر فوج کشی کے لئے پاکستانی ہوائی اڈوں کا مطالبہ کیا۔ جنرل پرویز مشرف نے نہ صرف امریکی جنگ میں پاکستانی قوم کو جھونک دیا بلکہ پاکستانی ہوائی اڈے بھی امریکی فوج کے حوالے کر دیے۔ کئی سال پاکستان اس جنگ کی آگ میں جلتا رہااوراب تک مشرف کی چھیڑی ہوئی پرائی جنگ سے نبرد آزما ہے اوراس دوران مشرف نے ایک نعرہ لگایا تھاسب سے پہلے پاکستان ۔
    جنرل پرویز مشرف اپنی کتابIn The Line of Fire میں وہ یہ تسلیم کر چکے ہیں کہ 2001میں شروع ہونے والی دہشتگردی کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو دہشتگردی کے شبے میں امریکہ کے حوالے کیا۔ یہ انکشافات کتاب کے اردو ترجمے میں موجود نہیں اور جنرل مشرف بھی کہتے ہیں کہ ان لوگوں میں کوئی پاکستانی شہری نہیں تھا لیکن عافیہ صدیقی کا کیس ثابت کرتا ہے کہ ان میں پاکستانی شہریت رکھنے والے افراد بھی شامل تھے(جاری ہے)

  • پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    پاکستان کے کھوٹے سکے

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    پہلی قسط
    حضرت قائداعظم محمدعلی جناح ہماری تاریخ کا وہ سنہرا نام ہے جن کی اعلیٰ جراتمند اور دوراندیش جہاندیدہ قیادت کی بدولت 14اگست 1947ء میں دنیا کے نقشے پر برصغیر کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ وطن پاکستان نمودارہوا، 1947 میں آزادی ایکٹ کے تحت قائداعظم محمدعلی جناح پاکستان کے پہلے گورنرجنرل بنے اورانہوںنے 1947 ء میں لیاقت علی خان کو پاکستان کا پہلا وزیر اعظم منتخب کیا ۔تحریک پاکستان میں شامل بہت سی عظیم ہستیوں کے آتے ہیں ان میں سے ایک نام بیرسٹر میاں عبدالعزیزکابھی جوقائداعظم کے معتمد ساتھیوں شمارہوتے ہیں،تحریک پاکستان میںبیرسٹر میاں عبدالعزیز کے مقام کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1936ء میں مسلم لیگ کے اکابرین کا ایک اہم اجلاس لاہور میں میاں صاحب کے گھر پر منعقد ہوا جس میں قائداعظم، علامہ اقبال، لیاقت علی خان کے علاوہ بعض دیگر اہم رہنمائوں نے شرکت کی۔ میاں عبدالعزیز نے 1971 ء میں لاہور میں وفات پائی۔2006میں مسلم لیگ کی صدسالہ تقریبات کے موقع پر ادارہ نشریات نے ایک کتاب اردوبازارلاہورشائع کی جس کا عنوان ہے میاں عبدالعزیز مالواڈہ،یہ کتاب بیرسٹر میاں عبدالعزیز کے حالات زندگی کے بارے میں ہے، مذکورہ بالا کتاب کے باب نمبر 37کے مطابق 25اپریل1967
    کو میاں عبدالعزیز سے ان کی قیام گاہ پر اس دور کی چند معروف شخصیات نے ملاقات کی،ملاقات کرنے والوں میں پروفیسر حمید احمد خاں وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی لاہوربھی شامل تھے انہوں نے استفسار کیاکہ پاکستان بننے کے بعد جب پہلی دفعہ قائداعظم تشریف لائے تو اس وقت کیا ہوا؟ اس پر میاں عبدالعزیز نے جواب دیاکہ پارٹی کے آخر میں سب کو ملنے کیلئے ہر ایک کے پاس تشریف لے گئے جب اس جگہ آئے جہاں میں تھا تو وہاں سر مراتب علی، ملک برکت علی اور ایک اور صاحب بھی تھے، ہم بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ ہیلو عبدالعزیز How are you قائداعظم نے کہا۔ چونکہ مجھے ان کا بڑا ادب اور لحاظ تھا وہاں تو مجھے ان کا اور بھی زیادہ ادب کرنا تھا کیونکہ انہوں نے ہی پاکستان لیکر دیا تھا۔ میں نے کہا اب اچھا ہوں لیکن عرض کرنا چاہتاہوں۔ میں نے کہا آپ کی زندگی کا بڑا خیال ہے مگر آپ مجھے بہت کمزور نظر آتے ہیں۔ مہربانی کر کے اپنی صحت کا فکر کیا کریں اور جو آدمی اپنی گورنمنٹ میں لیں وہ بڑے بااعتبار، ایماندار اور لائق آدمی ہوں۔انہوں نے فرمایا
    "I have to do all work, what am I to do with these spurious coins in my pocket”
    مجھے سارا کام کرنا ہے، میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں میں ان سے کیا کروں؟
    آئیے ذرادیکھتے ہیں کہ 1947 ء سے لیکر 2022ء تک ان 75سالوں میں ان کھوٹے سکوں نے قائد اوران کے پاکستان اور محب وطن پاکستانیوں کے ساتھ کتنے کھلواڑکئے۔بی بی سی اردو کے مطابق یہ 14 جولائی 1948 کا دن تھا جب اس وقت کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو ان کی علالت کے پیش نظر کوئٹہ سے زیارت منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے بعد وہ فقط 60 دن زندہ رہے اور 11ستمبر 1948کو اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے،یہ پراسرار گتھی آج تک حل نہیں ہوسکی کہ قائد اعظم محمد علی جناح کو شدید بیماری کے عالم میں کوئٹہ سے زیارت منتقل ہونے کا مشورہ کس نے دیا تھا۔30 جولائی1948کو جناح کے تمام معالجین زیارت پہنچ گئے، اسی دن ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس پر اب تک خاموشی کے پراسرار پردے پڑے ہوئے ہیں اور جو لوگ اس سے واقف بھی ہیں ان کا یہی اصرار ہے کہ اس واقعے کو اب بھی راز ہی رہنے دیا جائے۔یہ واقعہ سب سے پہلے محترمہ فاطمہ جناح نے اپنی کتاب مائی برادر میں قلم بند کیا تھا، محترمہ نے اپنی اس کتاب میں لکھاکہ جولائی کے اواخر میں ایک روز وزیراعظم لیاقت علی خان اور چوہدری محمد علی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اچانک زیارت پہنچ گئے۔ وزیراعظم نے ڈاکٹر الہی بخش سے پوچھا کہ جناح کے مرض کے بارے میں ان کی تشخیص کیا ہے؟ ڈاکٹر نے کہا کہ انھیں فاطمہ جناح نے بلایا ہے اور وہ اپنے مریض کے بارے میں صرف ان ہی کو کچھ بتا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے اصرار کیا کہ وہ بطور وزیراعظم، گورنر جنرل کی صحت کے بارے میں فکر مندہیں لیکن تب بھی ڈاکٹر الہی بخش کا مئوقف یہی رہا کہ وہ اپنے مریض کی اجازت کے بغیر کسی کو کچھ نہیں بتاسکتے۔فاطمہ جناح آگے لکھتی ہیںکہ میں اس وقت بھائی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی جب مجھے بتایا گیا کہ وزیراعظم اور کابینہ کے سیکریٹری جنرل ان سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ میں نے اس کی اطلاع بھائی کو دی تو وہ مسکرائے اور بولے، فاطی! تم جانتی ہو وہ یہاں کیوں آیا ہے وہ دیکھنا چاہتا ہے کہ میری بیماری کتنی شدید ہے اور یہ کہ میں اب کتنے دن زندہ رہوں گا۔ 17اکتوبر 1979 کو پاکستان ٹائمز لاہور میں شریف الدین پیرزادہ کا ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا دی لاسٹ ڈیز آف دی قائد اعظم۔ اس مضمون میں انھوں نے ممتاز ماہر قانون ایم اے رحمن کے ایک خط کا حوالہ دیا،اس خط میں ایم اے رحمن نے لکھا تھا کہ ڈاکٹر کرنل الہی بخش کے بیٹے ہمایوں خان نے بھی انھیں اس واقعے کے بارے میں بتایا تھا،جب لیاقت علی خان کمرے سے باہر نکلے تو میرے والد فورا َکمرے میں داخل ہوئے اور قائداعظم کو دوا کھلانا چاہی۔ انھوں نے دیکھا کہ قائد اعظم پر سخت اضطرابی افسردگی طاری ہے اور انھوں نے دوا کھانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اب میں مزید زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ اس کے بعد والد صاحب کی بھرپور کوشش اور اصرار کے باوجود قائد اعظم نے اپنے ڈاکٹر کے ساتھ تعاون کرنے سے انکار کر دیا۔قائداعظم کے انتقال کے فوراََ بعد لیاقت علی خان نے میرے والد کو بلوا بھیجا،لیاقت علی خان کافی دیر تک میرے والد کو زیر کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ان کی ملاقات ختم ہوئی اور میرے والد کمرے سے نکلنے لگے تو لیاقت علی خان نے انھیں واپس بلوایا اور انھیں تنبیہ کی اگر انھوں نے کسی اور ذریعے سے اس ملاقات کے بارے میں کچھ سنا تو انھیں، یعنی میرے والد صاحب کوسنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
    16 اکتوبر 1951 کا دن تھا۔ وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کو کمپنی باغ راولپنڈی میں پاکستان مسلم لیگ کے جلسہ عام سے خطاب کرنا تھا۔مسلم لیگ کے ضلعی رہنما شیخ مسعود صادق کے خطبہ استقبالیہ کے بعد وزیراعظم مائیک پر آئے۔وزیر اعظم نے ابھی برادران ملت کے الفاظ ہی ادا کیے تھے کہ پستول کے دو فائر سنائی دیے۔ اگلی صف میں بیٹھے افغان باشندے سید اکبر نے پستول نکال کر وزیر اعظم پر یکے بعد دیگرے دو گولیاں چلائیں۔ پہلی گولی وزیر اعظم کے سینے اور دوسری پیٹ میں لگی۔وزیرِ اعظم گر پڑے۔ پھر تحکمانہ لہجے میں پشتو جملہ سنائی دیا ، یہ آواز ایس پی نجف خان کی تھی جس نے پشتو میں حکم دیا تھا کہ گولی کس نے چلائی؟ مارو اسے!نو سیکنڈ بعد نائن ایم ایم پستول کا ایک فائر سنائی دیا پھر اس کے بعد ریوالور کے تین فائر سنائی دیے ۔ اگلے پندرہ سیکنڈ تک ریوالور اور رائفل کے ملے جلے فائر سنائی دیتے رہے۔ اس وقت تک قاتل کے ارد گرد موجود لوگوں نے اسے قابو کر لیا تھا۔ اسکا پستول چھین لیا گیا تھا مگر ایس پی نجف خان کے حکم پر انسپکٹر محمد شاہ نے قاتل پر سرکاری پستول سے پانچ گولیاں چلا کر اسے ختم کر دیا۔وزیر اعظم شدید زخمی حالت میں جلسہ گاہ سے باہر لائے گئے۔ وزیر برائے امور کشمیر نواب مشتاق گورمانی کی گاڑی جلسہ گاہ میں داخل ہو رہی تھی۔ وزیر اعظم کو اسی گاڑی میں ملٹری ہسپتال پہنچایا گیا۔ جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاکر انتقال کر گئے۔لیاقت علی خان کا قتل پاکستان کی تاریخ کے پراسرار ترین واقعات میں سے ایک ہے۔ لیاقت علی خان کا قتل وہ نکتہ ہے جہاں پاکستان کی قیادت سیاسی رہنمائوں کے ہاتھ سے نکل کر سرکاری اہل کاروں اور ان کے کاسہ لیس سیاست دانوں کے ہاتھ میں پہنچی۔ قتل کے محرکات، سازشیوں کے نام اور واقعات کا تانا بانا شکوک و شبہات کی گہری دھند میں لپٹے ہوئے ہیں۔لیاقت علی خان کے قتل کے بعد 6شخصیات 1951 سے 1958 تک وزیر اعظم کے عہدے پر فائز رہیں ،ان میں11 دسمبر 1957 کو ملک فیروز خان نون بھی شامل ہیں جوپاکستان کے 7ویں وزیراعظم مقرر ہوئے۔گیارہ برسوں میں وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہونے والے ملک فیروز خان نون ری پبلیکن پارٹی کے لیڈر تھے۔ ان کے پاس دفاع و اقتصادی امور ، دولت مشترکہ ، ریاستیں ، سرحدی علاقے ، امور خارجہ کشمیر اور قانون کے محکمے بھی رہے تھے۔ ان کے دس ماہ کے دور حکومت میں 8 ستمبر 1958 کو گوادر کی پاکستان کو منتقلی ہوئی اور 30 لاکھ ڈالروں کے عوض پاکستان کو 2.400 مربع میل کا علاقہ مل گیا تھا۔ انعام میں صدر پاکستان میجر جنرل سکندر مرزانے 7 اکتوبر 1958 کو انھیں برطرف کرکے آئین کو معطل کیا ، اسمبلیاں توڑ دیں اور ملک بھر میں مارشل لا لگا دیا تھا۔
    1958 میں ایوب خان نے اقتدارپرقبضہ کرلیا،مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو جن سے سب سے زیادہ خطرہ تھاان میں سے سکندرمرزا کو بندوق کی نوک پر لندن اورحسین شہید سہروردی کو بیروت جانے پر مجبور کردیا گیا،جنرل ایوب خان کی پالیسیوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیا جائے تو ان کا بنیادی مقصد اپنیحکومت کو بحال رکھنا اور طول دینا ہی تھا،ایوب خان کے دور سے ہی ہمیں بیرونی قرضوں پر انحصار کرنے کی عادت پڑ گئی ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ساتھ سینٹو اور سیٹو معاہدوں کے بعد ہمیں مفت میں اسلحہ ملا کرتا تھا۔ اس وجہ سے ہمارے ڈیفنس بجٹ پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا۔ اسی طرح ہمیں امریکہ سے تقریبا مفت گندم آتی تھی جسے ہم مارکیٹ میں بیچ کر سویلین بجٹ کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ایوب خان کو اپنی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے جاگیرداروں اور کاروباری لوگوں کی حمایت چاہیے تھے توانہوں نے نواب آف کالا باغ ملک امیر محمد خان کو یکم جون 1960 کو مغربی پاکستان کا گورنر مقرر کیا،جو ستمبر 1966 میں مستعفی ہوئے۔ نواب آف کالا باغ پنجاب میں صدر ایوب کی اصل طاقت تھے۔ بڑے جاگیردار اور ڈکٹیٹرانہ مزاج رکھتے تھے جو 26 نومبر 1967 کو ان کا اپنے چھوٹے تیسرے بیٹے اسد اللہ خان سے جائداد پر جھگڑا ہوا۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے اپنے بیٹے پر فائر کیا، جس کے جواب میں بیٹے نے 5 گولیاں مار کر انہیں قتل کر دیا۔ ایوب خان کے دورحکومت میں بہت زیادہ کرپشن شروع ہو گئی تھی۔ ان کے صاحبزادے گوہر ایوب گندھارا انڈسٹری کے مالک بن گئے۔ پھر انتخابات میں فاطمہ جناح کو جس طریقے سے ہرایا گیا وہ سب کو معلوم ہے۔ جو موجودہ دور کی خرابیاں ہیں یہ سب ایوب خان کے دورسے شروع ہو گئی تھیں۔ وہ اقتصادی ترقی نہیں تھی بلکہ چند افراد کے ہاتھوں میں بڑھتی ہوئی دولت اور طاقت کی بہتات تھی جس نے محرومیوں کو جنم دیا اور یوں اشتعال انگیزی کو فروغ ملا،پی آئی ڈی سی صنعتیں قائم کرکے اپنے دوستوں میں اونے پونے داموں میں فروخت کر دیتی تھی، منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین ڈاکٹر محبوب الحق کی ایک تنقیدی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ صرف 20 گھرانے دو تہائی صنعت اور تین چوتھائی بینک کاری پر قابض تھیں،جس سے عدم مساوات بڑھی،اس دوران مشرقی اور مغربی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ۔ ہم ان کا پٹسن بیچ کر مغربی پاکستان پر خرچ کرتے تھے جس کی وجہ مشرقی پاکستان میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔پاکستان سے علیحدگی کے جراثیم ایوب خان کے دور میں ہی پیدا ہوئے تھے کیونکہ جنرل ایوب خان کی جانب سے برسوں تک مغربی پاکستان پر ترجیحی بنیادوں پر کام کئے تھے، جس وجہ سے مشرقی پاکستانیوں میں غم و غصہ پیدا ہوا۔ وہ اِس مسلسل بے دھیانی کو نظر انداز نہیں کرسکتے تھے خاص طور پر جب جنرل ایوب خان نے تین بڑے منصوبوں، جن میں نئے دارالحکومت اسلام آباد کی تعمیراور دو بڑے آبی منصوبے(منگلا اور تربیلا) صرف مغربی پاکستان تک ہی محدود رکھے۔علاوہ ازیں جنرل ایوب خان نے کبھی بھی مشرقی پاکستان سے ایک بھی بھروسہ مند ساتھی نہیں رکھا کیونکہ ان کے تمام خاص آدمیوں کا تعلق مغربی پاکستان سے تھا۔یوں ان کی حکومت نے ہی بنگلہ دیش کی علیحدگی کا بیج بویا اور اس پودے کو بے تحاشہ پانی فراہم کیا گیا، پھر اگلے چند برسوں میں سقوطِ ڈھاکا کا واقع پیش آگیا۔25 مارچ 1969 کو ایوب خان اقتدار سے الگ ہوگئے، جس کے بعدجنرل یحیی خان نے باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا اور اگلے سال عام انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا۔ یحیی خان کے یہ دونوں عہدے سقوط ڈھاکہ کے بعد 20 دسمبر، 1971 میں ختم ہوئے جس کے بعد انھیں طویل عرصے تک نظر بند بھی کیا گیا۔یحیی خان ایک بہت بڑا شرابی تھا ،اس کی ترجیح وہسکی تھی، یحیی خان کے ایک عورت اکلیم اخترسے تعلقات تھے جو بعد ازاں جنرل رانی کے نام سے مشہور ہوئیں، جوپاکستان کے صدر جنرل یحیی خان کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتی تھیں۔ ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو آغا جانی کے نام سے پکارتی تھیں۔ ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جنرل یحیی کے دور میں جنرل کے بعد اکلیم اختر پاکستان کی سب سے بااختیار شخصیت ہوا کرتی تھیں۔ ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا، مگر پھر بھی انھیں سرکاری پروٹوکول دیا جاتا تھا۔(جاری ہے)

  • ڈیرہ غازیخان – رودکوہیوں کے پانی کے نقصانات سے بچاؤکیلئے ڈیم بناکرفوائدحاصل کریں گے .محسن لغاری

    ڈیرہ غازیخان – رودکوہیوں کے پانی کے نقصانات سے بچاؤکیلئے ڈیم بناکرفوائدحاصل کریں گے .محسن لغاری

    رودکوہیوں کے پانی کے نقصانات سے بچاؤکیلئے ڈیم بناکرفوائدحاصل کریں گے .محسن لغاری
    باغی ٹی وی رپورٹ.ڈیرہ غازیخان میں مخصوص میڈیاکے گروپ سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ خزانہ کی وزارت بہت بڑی ذمہ داری ہے،ان کی کوشش ہوگی کہ فنڈز صوبہ کی مساوی ترقی کےلئے استعمال ہوسکیں ،وسائل سے محروم علاقوں کو ترجیح دی جائے گی ڈیرہ غازی خان میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جن منصوبوں پر کام ہوچکا ہو،ان کو روکنا سب سے بڑا ظلم اور نالائقی ہے۔

    صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری ڈی جی خان میں ڈپٹی ڈائریکٹرتعلقات عامہ کی کاوشوں سے مخصوص میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے ہیں


    ن لیگ کی حکومت نے چوہدری پرویز الہی کے دور میں وزیر آباد میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ اور پنجاب اسمبلی کی نئی عمارت پر دس سال تک کام روکے رکھا اور اس کےلئے خریدی گئی مشینری باہر پڑی زنگ آلود ہوکر خراب ہوگئی،یہ منفی سوچ نہیں رکھنی چاہیئے ۔ڈیرہ غازی خان میں کارڈیالوجی انسٹیٹیوٹ سمیت صوبہ بھر میں شروع کئے گئے منصوبے سردار عثمان بزدار کے ذاتی کام نہیں بلکہ یہ علاقہ کی بہتری اور ضرورت کے کام ہیں،انشاء اللہ عاشورہ کی چھٹیوں کے بعد چارج سنبھالتے ہی ان کی پہلی ترجیح ہوگی کہ ان منصوبوں کی تکمیل کو دیکھا جائے۔صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ کوہ سلیمان،پوٹھوہار کے علاقے جہاں بارشیں زیادہ ہوتی ہیں وہاں ڈیم بنانے سے قبل اعدادوشمار اکٹھے کئے جاتے ہیں اور باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کام کرکے رود کوہیوں کا پانی جو یہاں نقصان کرتا ہے اس کو اپنے فائدے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ رود کوہیوں کے پانی کو دریا تک محفوظ راستہ دینا ہوگا۔پانی کی گذرگاہوں میں تجاوزات اور رکاوٹیں کھڑی کرنے سے مسائل بڑھے۔قدرت کو ہم روک نہیں سکتے۔پہاڑوں اور راستوں میں سٹرکچر تعمیر کرکے سیلابی پانی کے تیز بہاؤ کو کنٹرول اور محفوظ راستہ دینے کےلئے کام کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری کو سیلاب سے متعلق معاملات کی نگرانی کےلئے ضلع ڈیرہ غازی خان کی ذمہ داریاں بھی دی گئی ہیں اسی سلسلے کے تحت انہوں نے ڈپٹی کمشنر آفس میں قائم کنٹرول روم کا معائنہ کیا ۔رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی ،ڈہٹی کمشنر محمد انور بریار اور دیگر موجود تھے۔

  • ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب

    ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ ،پولیس کا فلیگ مارچ، پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب
    مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی ،سوشل میڈیاکی بھی مانیٹرنگ شروع،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔ڈیرہ غازیخان۔ محرم الحرام یوم عاشورہ جلوس روٹ پر ڈی پی او محمد علی وسیم کی ہدایت پر فلیگ مارچ۔ فیلگ مارچ میں ڈسٹرکٹ پولیس کے ہمراہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ،ڈولفن فورس، ٹریفک پولیس اور ایلیٹ فورس کے دستے بھی شامل تھے۔فلیگ مارچ ایس پی انوسٹی گیشن غیور احمد خان کی قیادت میں پولیس لائن سے شروع ہو کر بمبے چوک اور روٹ جلوس کے راستہ سے ہوتا ہوا واپس پولیس لائن اختتام پذیر ہوا۔


    فلیگ مارچ کا مقصد عوام الناس کو یہ باور کرانا ہے کہ ڈسٹرکٹ پولیس ڈیرہ غازیخان ہر طرح کی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہے۔دوسری طر ف وزیر اعلی پنجاب چوہدری پرویز الہی نے صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری کو محرم الحرام اور سیلاب کے انتظامات کی نگرانی کیلئے ضلع ڈیرہ غازی خان ذمہ داریاں سونپ دی گئیں ہیں انہوں نے ڈیرہ غازی خان کا دورہ کیا سرکٹ ہائوس اور ضلعی کنٹرول روم میں بریفنگ دی گئی۔رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی ،ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار ،ڈی پی او محمد علی وسیم اور دیگر موجود تھے ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے میڈیا کے ساتھ بھی گفتگو کی ،صوبائی وزیر خزانہ پنجاب سردار محمد محسن خان لغاری نے کہا کہ محرم الحرام کے دوران امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے سوشل میڈیا کو بھی مانیٹر کیا جائیگا ۔ مجالس اور جلوس کی ڈرون اور خفیہ کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جائے گی۔امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئی ہیں۔سوشل میڈیا پر نفرت اور اشتعال انگیز پوسٹ لگانے والے کا سراغ لگا کر سخت کارروائی کریں گے۔ایف آئی اے سائبر کرائم اور دیگر ادارے متحرک کردئیے گئے ہیں رکن صوبائی اسمبلی محمد حنیف پتافی نے کہا کہ ضلع میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا کیلئے انتظامیہ اور امن کمیٹی کا اہم کردار ہے۔ڈپٹی کمشنر محمد انور بریار نے کہا کہ امن و امان میں معاونت کیلئے پاک فوج اور رینجرز کی خدمات طلب کرلی گئیں۔ ضلع میں حساس مقامات پر 54 سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں۔ ڈی پی او محمد علی وسیم نے کہا کہ پنجاب پولیس،ایلیٹ اور دیگر فورسز سیکورٹی کے فرائض انجام دیں گے،عاشورہ تک ضلع میں 463 جلوس اور 940 مجالس منعقد ہوں گی127 مجالس اور 35 جلوسوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی فضا برقرار رکھنے کیلئے 25 علما اور ذاکرین کی ضلع بندی اور 13 کی ضلع بندی کی گئی ہے

  • ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی

    ڈیرہ غازی خان ۔ کشمیر بنے گا پاکستان،کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی نکالی گئی
    باغی ٹی وی رپورٹ۔کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی اور بھارتی مظالم کے خلاف پوری پاکستانی قوم ایک پیچ پر ہے،حکومت پنجاب کی ہدایت پر یوم استحصال کشمیر ڈے کے موقع پر ڈیرہ غازی خان میں بھی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ریلی ڈی سی آفس سے بمبے چوک تک نکالی گئی۔

    ریلی میں ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی،اسسٹنٹ ڈائریکٹر ارجمند شہباز،انفارمیشن آفیسر خالد رسول،شہزادالاسلام،ذوالفقار احمد،اساتذہ،طلبا،تاجروں،سول سوسائٹی اور شہریوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔شرکا نے کشمیریوں کے حق میں اور بھارتی مظالم کیخلاف پر شگاف نعرے بھی لگائے جب کہ ریلی میں فضا کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونجتی رہی۔ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ریاض ملغانی نے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ ہے،وہ دن دور نہیں جب کشمیری اپنی آزادی چھین کر پاکستان سے الحاق کریں گے،

    بھارتی مظالم کشمیریوں کو انکے حق خود ارادیت سے نہیں روک سکتے،ڈسٹرکٹ ناظر نذر حسین کورائی نے کہا کہ کشمیری پر مظالم سے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوگیا ہے،کشمیری خود کو اکیلا نہ سمجھیں،پاکستانی قوم انکے ساتھ ہے،ریلی میں شرکا کی طرف سے کشمیریوں کی لازوال قربانیوں کو سلام بھی پیش کیا گیا۔ریلی کے اختتام پر کشمیر کی آزادی،پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی کیلئے دعائیں بھی کی گئیں۔

  • ڈیرہ غازی خان ۔ وزیراعظم کا دورہ، سیلاب سے جاں بحق افراد کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ  روپے امداد دینے کا اعلان

    ڈیرہ غازی خان ۔ وزیراعظم کا دورہ، سیلاب سے جاں بحق افراد کے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان

    ڈیرہ غازیخان ۔ وزیراعظم کا دورہ، سیلاب سے جاں بحق افرادکے ورثاء کو 10، 10 لاکھ روپے امداددینے کااعلان
    سیلابی صورتحال وفاق اور صوبائی حکومت کا مشترکا چیلنج ہے
    باغی ٹی وی رپورٹ۔وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے ڈیرہ غازی خان کے دورے کے موقع پر جاں بحق ہونے والے افراد کے ورثا کو 10 لاکھ روپے امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف جمعہ 5 اگست کو ڈیرہ غازی خان پہنچے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آفت کی گھڑی میں مل کر کام کریں گے، یہ سیاست کا نہیں خدمت کا وقت ہے، آخری گھر آباد ہونے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے، سیاست بعد میں ہو گی پہلے سیلاب متاثرہ علاقوں کی خدمت ہوگی۔انہوں نے کہا کہ وفاق جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10، 10 لاکھ جبکہ زخمیوں کو اڑھائی لاکھ روپے دے گا۔ حق دار کو ان کی دہلیز پر حق پہنچایا جائے گا،

    ان کے بس میں ہو تو بڑھ چڑھ کر متاثرین کی امداد کریں۔ مزید کہا کہ مکان تباہ ہونے پر 5 لاکھ، جزوی نقصان پر اڑھائی لاکھ دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ فصلوں اور دیگر اشیا کے نقصانات پر چیف سیکریٹری ینے سروے کرلیا ہے لیکن وفاق نے طے کیا ہے کہ صوبوں کے ساتھ مل کر یہ سروے مکمل کیا جائے گا تاکہ حق دار کو اس کا حق ملے۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا یہاں ہمارے نوجوان وائس چیئرمین احمد خان کی جانب سے پانی کا چینل بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان شا اللہ یہ آپ کو بنا کر دیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں اس وقت آپ سے اتنا ہی وعدہ کر سکتا ہوں کیونکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت وسائل کی تقسیم کے معاہدے کے مطابق 58فیصد صوبوں کو چلا جاتا ہے، لہذا صوبائی حکومتوں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے صوبے کے عوام کی بھلائی، خوشحالی اور ترقی کے لیے وسائل استعمال کریں اور وہ یقینا ایسا ضرور کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال وفاق اور صوبائی حکومت کا مشترکہ چیلنج ہے، ان شا اللہ مل کر ہم اس سے نمٹیں گے، میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جب تک آخری گھر آباد نہیں ہوجاتا میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔حکام کی جانب سے جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سیلاب متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران ریسکیو اور ریلیف کے کاموں سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے متاثرین کیلئے مختص فنڈز بحالی پروگرام کی جلد تکمیل کیلئے فوری خرچ کرنے کا حکم دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں صوبائی حکومتوں سے مل کر کام کر رہے ہیں، انہوں نے ہدایت کی کہ امدادی رقم سیلاب متاثرین پر خرچ ہونی چاہیے۔اس موقع پر وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب، معاونِ خصوصی عطا اللہ تاررڑ، رکنِ قومی اسمبلی سردار ریاض محمود خان مزاری، اسلم بھوتانی اور نیشنل ڈیزازٹر مینجمنٹ کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل اختر نواز بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ رہے۔ڈیرہ غازیخان آمد پرانہیں سرداراویس احمدخان لغاری،سید عبدالعلیم شاہ،میربادشاہ قیصرانی ،سردارعبدالقادرخان کھوسہ ودیگرنے انہیں خوش آمدیدکہااور انتظامیہ کی جانب سے وزیرِ اعظم کو وہاں سیلاب متاثرین کی جاری مدد پر تفصیلی طور پر بریفنگ دی گئی۔ این ڈی ایم اے حکام نے وزیراعظم کو سیلاب کی تباہ کاریوں اور اقدامات سے متعلق بھی آگاہ کیا۔بریفنگ کے دوران وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرین کیلئے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، متاثرین کے نقصانات کا جائزہ لینے کیلئے جوائنٹ سروے کی ضرورت ہے۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ صوبوں کو ملنے والی امدادی رقم سیلاب متاثرین پر خرچ ہونی چاہیے۔

  • روجھان ، کچے میں ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن،یوم شہداء کے روز ایک اور کانسٹیبل شہید

    روجھان ، کچے میں ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن،یوم شہداء کے روز ایک اور کانسٹیبل شہید

    روجھان ، کچے میں ڈاکوؤں کیخلاف آپریشن،یوم شہداء کے روز ایک اور کانسٹیبل شہید

    یوم شہداء پولیس،باپ بھی شہید، آج بیٹا بھی شہید ہو گیا
    راجن پورکی تحصیل روجھان کچہ کے علاقہ خیر پور بمبلی میں پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان شدید فائرنگ جاری ہے جس کے نتیجے میں ایلیٹ فورس کے جوان راؤ راحت سلیم سر میں گولی لگنے سے شہید ہوگئے ہیں اور5 ڈاکوجہنم واصل ہوئے ہیں

    راؤ راحت سلیم کے والد بھی پولیس میں تھے اور وہ بھی دوران ڈیوٹی شہید ہوئے تھے،راؤ راحت سلیم شہید کے والد کا نام راؤ محمد سلیم ہے، شہید کے والد کی تاریخ شہادت 2000 ہے، شہید ہونے والے کانسٹبل کے والد راؤ محمد سلیم پارکو ڈیپارٹمنٹ میں ڈرائیور تھے۔ فیلڈ میں جاتے ہوئے نا معلوم ڈاکوؤں کی جانب سے فائرنگ کر کے شہید کیا گیا تھا

    راؤ راحت سلیم شہید نے لواحقین میں تین بچے چھوڑے ہیں ،شہید کے بچوں کا نام1.ماہم فاطمہ 2. حورین فاطمہ 3.محمد حسن ہیں، راجن پور کچہ کے علاقہ میں دولانی گینگ اور لنڈ گینگ کے خلاف جاری آپریشن میں بڑی بہادری اور جانفشانی سے لڑتے ہوئے 3 بدنام زمانہ ڈاکوؤں کو ہلاک کیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے میں مورخہ 4 اگست 2022 کو سر پر گولی لگنے سے جام شہادت نوش کیا۔

    روجھان کچہ میں ڈاکووں سے مقابلے میں ایلیٹ فورس کے جوان شہید کانسٹیبل راؤ راحت سلیم کی نماز جنازہ پولیس لائن راجن پور میں ادا کر دی گئی,نماز جنازہ میں افسران و جوانوں نے شرکت کی

    روجھان کچہ میں آپریشن کی سربراہی ڈی پی او راجن احمد محی الدین اور ڈی ایس پی بنگلہ اچھا کر رہے ہی اس آپریشن میں پولیس کوبڑی کامیابی ملی ہے کچہ کے 2 ڈاکو فیاض دولانی اور گورا عمرانی پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیںجبکہ لنڈ گینگ کا سرغنہ شاہد لنڈ شدید زخمی ہے

    ملتان میں ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ڈاکٹر احسان صادق نے راجن پور میں پولیس اور ڈاکووں کے مابین فائرنگ مقابلے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کی نفری مزید بڑھا دی ہے ،رینجرز کے دستے پولیس کی مدد کیلئے کچہ روانہ ہو چکے ہیں۔ ڈاکوئوں کے خلاف فضائی آپریشن کا فیصلہ کرنے کافیصلہ کیاگیا ہے، ڈاکٹر احسان صادق کی خصوصی کاوشوں سے پولیس کی مدد کیلئے ہیلی کاپٹر بھی کچہ میں بھیجاجارہاہے۔ ڈاکٹر احسان صادق نے کہاہے کہ کچہ کے علاقے میں تعینات افسران و جوان حوصلہ بلند رکھیں،آپریشن ہر صورت کامیاب بنایا جائے گااورشر پسند عناصر کے خاتمے اور آپریشن کی کامیابی کیلئے مزید اقدامات کیے جا رہے ۔

  • روجھان ۔ کچے میں ڈاکوئوں کیخلاف پولیس کا اپریشن کئی ڈاکوہلاک،کچہ میں فضائی اپریشن کیلئے ہیلی کاپٹربھیجنے کافیصلہ

    روجھان ۔ کچے میں ڈاکوئوں کیخلاف پولیس کا اپریشن کئی ڈاکوہلاک،کچہ میں فضائی اپریشن کیلئے ہیلی کاپٹربھیجنے کافیصلہ

    روجھان ۔ کچے میں ڈاکوئوں کیخلاف پولیس کا اپریشن کئی ڈاکوہلاک،کچہ میں فضائی اپریشن کیلئے ہیلی کاپٹربھیجنے کافیصلہ،آپریشن کی سربراہی ڈی پی او راجن احمد محی الدین اور ڈی ایس پی بنگلہ اچھا کر رہے ہیں
    باغی ٹی وی رپورٹ۔راجن پورکی تحصیل روجھان کچہ کے علاقہ خیر پور بمبلی میں پولیس اور ڈاکوئوں کے درمیان شدید فائرنگ ہوئی جس کے نتیجے میں کئی ڈاکوہلاک ہوگئے ہیں،آپریشن کی سربراہی ڈی پی او راجن احمد محی الدین اور ڈی ایس پی بنگلہ اچھا کر رہے ہیں،

    پولیس کی بھاری نفری کی جانب سے ڈاکوئوں کے گرد گھیرہ تنگ کر دیا گیا،پولیس کی پیش قدمی جاری ہے ،اطلاعات کے مطابق ڈاکوئوں کے ساتھ بھاری فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں 3 ڈاکو ہلاک ہوگئے ہیں، پولیس اور اہل علاقہ کی جانب سے ڈاکوئوں کی جانب سے 3 نعشیں لے جاتے ہوئے دیکھا گیاہے،سیلابی پانی اور دشوار گزار راستوں کے باوجودبھی پولیس کی پیش قدمی جاری ہے،آپریشن میں ضلع پولیس اور ایلیٹ پولیس فورس کی بھاری نفری حصہ لے رہی ہے،ترجمان پولیس راجن پور کاکہناہے کہ آپریشن میں پولیس کی جانب سے بکتر بند گاڑیوں اور جدید اسلحہ استعمال کیاجارہاہے۔ جاری پولیس آپریشن میں پولیس کی تمام جوان محفوظ ہیں اور جواں مردی سے لڑ رہے ہیں پولیس کا کوئی جانی و مالی نقصان نہ ہوا ہے،اس اپریشن میں پولیس کوبڑی کامیابی ملی ہے کچہ کے 2 ڈاکو فیاض دولانی اور گورا عمرانی پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے ہیںجبکہ لنڈ گینگ کا سرغنہ شاہد لنڈ شدید زخمی ہے۔

    ملتان میں ایڈیشنل آئی جی جنوبی پنجاب ڈاکٹر احسان صادق نے راجن پور میں پولیس اور ڈاکووں کے مابین فائرنگ مقابلے کا نوٹس لیتے ہوئے پولیس کی نفری مزید بڑھا دی ہے ،رینجرز کے دستے پولیس کی مدد کیلئے کچہ روانہ ہو چکے ہیں۔ ڈاکوئوں کے خلاف فضائی آپریشن کا فیصلہ کرنے کافیصلہ کیاگیا ہے، ڈاکٹر احسان صادق کی خصوصی کاوشوں سے پولیس کی مدد کیلئے ہیلی کاپٹر بھی کچہ میں بھیجاجارہاہے۔ ڈاکٹر احسان صادق نے کہاہے کہ کچہ کے علاقے میں تعینات افسران و جوان حوصلہ بلند رکھیں،آپریشن ہر صورت کامیاب بنایا جائے گااورشر پسند عناصر کے خاتمے اور آپریشن کی کامیابی کیلئے مزید اقدامات کیے جا رہے ۔

  • ڈیرہ غازی خان – سیلاب متاثرین کو ایکسپائری ادویات دینے کا نوٹس

    ڈیرہ غازی خان – سیلاب متاثرین کو ایکسپائری ادویات دینے کا نوٹس

    ڈیرہ غازی خان ، سیلاب متاثرین کو ایکسپائری ادویات دینے کانوٹس،میڈیا پر ایک خبر نشر ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ بستی جیون خان چٹ سرکاری میں سیلاب متاثرین میں ایکسپائری ادویات دی گئیں.
    باغی ٹی وی رپورٹ-ڈیرہ غازی خان میں سیکریٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب نے سیلاب متاثرین کو ایکسپائری ادویات دینے کانوٹس لے لیا ہے میڈیا پر ایک خبر نشر ہوئی جس میں بتایا گیا تھا کہ سیلاب سے متاثرہ بستی جیون خان چٹ سرکاری میں سیلاب متاثرین میں ایکسپائری ادویات دی گئیں.جس پر سیکریٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب محمد اقبال کا ڈیرہ غازی خان میں سیلاب متاثرین میں زائد المیعاد ادویات تقسیم کرنے کی خبر کا نوٹس لے لیا ہے اور چیف ایگزیکٹیو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈیرہ غازیخان سے فوری رپورٹ طلب کرلی ہے،تفصیلی رپورٹ ایک روز میں جمع کرانے کا حکم دیا ہے، سیکریٹری ہیلتھ جنوبی پنجاب محمد اقبال نے ہدایت کی ہے کہ واقعہ میں ملوث افسران و ملازمین کے خلاف فوری سخت ترین کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہوں خبردار کیا کہ فرائض کی ادائیگی میں کسی قسم کی غفلت اور نااہلی قابل قبول نہیں ہے-

    کمشنر ڈیرہ غازی خان ڈویژن محمد عثمان انور نے سیلاب زدگان میں زائد المیعاد ادویات کی فراہمی کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے اعلی سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی اور ڈپٹی کمشنر ڈیرہ غازی محمد انور بریار کو بھی تحقیقات کےلئے موقع پر بھیج دیا۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر انور بریار موقع پر تحقیات کرکے رپورٹ دیں گے۔معاملہ کی تحقیقات کےلئے سینئر ڈاکٹرز کی بھی کمیٹی قائم کردی ہےانکوائری کمیٹی 24 گھنٹے آکے اندر رپورٹ پیش کرے گی۔تین رکنی انکوائری کمیٹی کے کنوینر ڈی ایچ او ڈاکٹر احسن مقرر کی گئے ہیں دیگر اراکین میں ڈی ایچ او ڈاکٹر اطہر اور پروگرام ڈائریکٹر ڈی ایچ ڈی سی ڈاکٹر کامران کو شامل کیا گیا ہے۔کمشنر ڈی جی خان نے کہا کہ الزام ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی ہوگی۔کمشنر عثمان انور نے کہا کہ 92 نیوز نے معاملہ ہائی لائٹ کیا تھا۔

  • وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ، سیلاب  سے متاثرہ  تمام علاقے آفت زدہ قرار

    وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ، سیلاب سے متاثرہ تمام علاقے آفت زدہ قرار

    وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ ، سیلاب سے متاثرہ تمام علاقے آفت زدہ قرار
    باغی ٹی وی رپورٹ – ڈیرہ غازیخان وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے آج جنوبی پنجاب کے سیلاب متاثرہ علاقوں راجن پور او رڈی جی خان کا دورہ کیا-وزیر اعلیٰ چودھری پرویزالٰہی نے سیلاب او ربارشوں جاں بحق ہونے والے افراد کے لواحقین میں 8،8لاکھ روپے کی مالی امداد کے چیک تقسیم کئے۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیااور متعلقہ حکام کو سیلاب متاثرین کی ہرممکن مدد کی ہدایت کی-وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے سیلاب اور بارشوں سے جاں بحق ہونے والے افراد کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی بھی کی-وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کو آفت زدہ قرار دینے کا اعلان کیا-

    وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے رود کوہیوں کے راستوں کو چینلائزڈ کرنے کا اعلان بھی کیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی راجن پور کے سیلاب سے ملنے کے بعد ڈیرہ غازیخان کی تحصیل تونسہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقے بستی چھٹانی کا دورہ کیا اور سیلاب متاثرین سے ملاقات کی- وزیراعلی چودھری پرویز الٰہی نے سیلاب متاثرین سے ہمدردی کا اظہار کیااور ان کی دلجوئی کی۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی سیلاب زدہ کی حق تلفی نہیں ہونے دینگے۔ فصل اور گھروں کے نقصانات کا جلد ازالہ کریں گے۔ میں نے آج راجن پور او رڈیرہ غازی خان کے سیلاب سے متاثرہ تمام علاقوں کا جائزہ لیا ہے۔انہوں نے کہاکہ شارٹ ٹرم اور لانگ ٹرم کی منصوبہ بندی کیلئے پی ڈی ایم اے اور دیگر محکمے فوری کام شروع کریں گے-

    2004 میں جب سیلاب آیاتو اس وقت خواجہ صاحب مجھے یہاں لے کے آئے،میں نے اس وقت رودکوہیوں کے راستوں کو چینلائزڈ کرنے کا منصوبہ بنایا اور اس مقصد کے لئے اڑھائی ارب رکھے گئے-اس وقت ڈالر60روپے کا تھا لیکن شہباز شریف نے آکر کوئی کام نہیں کیااور15سال ضائع کئے،جس سے پراجیکٹ کی لاگت میں بے پناہ اضافہ ہوا،شہبازشریف صرف باتیں کرتے رہے، غریبوں کیلئے کچھ نہیں کیا۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے کہاکہ ہم بغیر کسی سیاسی وابستگی سیلاب متاثرین کی خدمت کریں گے اورلوگوں کے دل جیتیں گے اور سروے کے عمل کو شفاف بنایا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ یہاں پر جتنے بھی ایم این ایز اور ایم پی ایز ہیں،یہ میرے ساتھی ہیں اورسیلاب متاثرہ علاقوں میں یہ مصیبت میں گھرے بہن بھائیوں کی مدد میں پیش پیش ہیں۔وزیراعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے مختص 20 ارب روپے سے متاثرہ علاقوں میں فوری کام شروع کرنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہاکہ شادن لنڈ فوڈ سنٹر اور گندم زیر آب والے واقعہ کی تحقیقات کرائی جائے گی۔اراکین اسمبلی سردار محمد خان لغاری،خواجہ شیراز محمود، محمد حنیف پتافی،خواجہ داؤد سلیمانی، سردار سیف الدین خان کھوسہ،جاوید اختر لنڈ، سردار محی الدین خان کھوسہ، سردار محمد سیف الدین خان کھوسہ،کمشنر ڈیرہ غازی خان اور متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔