وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس
انسپکٹر جنرل پولیس سے رپورٹ طلب کرلی ہے اورحکم دیا کہ متاثرہ خاتون کو ہر صورت انصاف فراہم کیا جائے،گرفتار ملزم کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کی جائے، و زیراعلی پنجاب حمزہ شہبازنے کہا کہ ایسے واقعات ناقابل برداشت ہیں ،انہوں مزیدکہا کہ ملزم قانون کے مطابق قرار واقعی سزا کا حقدار ہے، یاد رہے کہ جام پور میں بس کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ،متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں۔
باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میںاکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ گئی کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے۔
Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

وزیر اعلی حمزہ شہباز شریف کا بس میں خاتون سے زیادتی کے واقعہ کا نوٹس

جام پور۔ بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی
جام پور۔بس میں کنڈکٹرکی مسافرخاتون سے زیادتی ، متاثرہ عورت بھکر سے کراچی جارہی تھیں
باغی ٹی وی،تفصیل کے مطابق عادل شاہ کمپنی کی بس JC 9245 بھکر سے کراچی جارہی تھی ،اس بس میں اکیلی سفر کرنے والی خاتون کو کنڈیکٹر نے سدا بہار ہوٹل جام پور کے نزدیک زیادتی کانشانہ بناڈالا،15 پر اطلاع کرنے پر پولیس تھانہ سٹی جام پور نے موقع پر پہنچ کرکنڈیکٹر ملزم سلیم کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔پولیس کے مطابق بھکر سے کراچی جانے والی مسافر بس جام پور ہوٹل اسٹاپ پر رکی تھی،یہ زیادتی کاواقعہ کچھ اس طرح پیش آیا جب مسافر ہوٹل پر کھانا کھانے کیلئے اترے تو کنڈکٹر نے اکیلی خاتون کو بس کی پچھلی سیٹ پر زبردستی لے جاکر زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔30 سال کی خاتون اکیلے بکھر سے کراچی آرہی تھیں۔خاتون کی شکایت پر کنڈکٹر کو گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے جبکہ میڈیکل ٹیسٹ میں خاتون سے زیادتی ثابت ہوگئی ہے۔ گرفتار ملزم نے بھی اعتراف جرم کرلیا ہے
کیا سیلاب پھرسب کچھ بہالے جائے گا؟
تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
محکمہ موسمیات کاکہنا ہے کہ پاکستان کے بالائی اور وسطی علاقوں میںآنے والی بارشوں سے مون سون کا سلسلہ شروع ہو چکاہے جبکہ اس سال ملک کے مختلف علاقوں میں 10سے 30فیصد تک زیادہ بارشیں ہونے کی توقع ہے۔رواں سال صوبہ پنجاب اور سندھ میں زیادہ بارشیں ہوں گی جبکہ باقی تمام علاقوں میں بھی معمول سے کچھ زیادہ بارشیں ہوں گی۔پاکستان کے پہاڑی علاقوں میں شدید بارشوں کی وارننگ جبکہ صوبہ سندھ، پنجاب، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے علاوہ بڑے شہروں کراچی، لاہور، فیصل آباد سمیت دوسرے شہروں میں اربن فلڈنگ کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ رواں سال ملک میں معمول سے زیادہ مون سون بارشوں کے نتیجے میں پاکستان کو 2010 جیسی سیلابی صورت حال کا سامنا ہو سکتا ہے۔
انسان کو خدانے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جن میں سب سے قیمتی اور ضروری نعمت پانی ہے ۔ انسان پانی کے بغیرچنددن سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا،ہمارے جسم کا دو تہائی حصہ پانی پرمشتمل ہے۔ پانی ایک اہم غذائی جزوہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ پانی زندگی ہے تویہ غلط نہ ہوگا،انسان کی تخلیق سے لے کر کائنات کی تخلیق تک سبھی چیزیں پانی کی مرہون منت ہیں۔ قرآن کریم میں ہے۔ وجعلنا من الماِ کل شی حی افلا یو منون۔(ترجمہ)اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے (سورہ انبیا ، آیت30 ) دوسری جگہ قرآن مجیدمیں اعلا ن فرمایا(ترجمہ)اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے۔(سورہ نور)اسی کرہِ ارض یعنی زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کی بقا پانی پر ہی منحصر (Depend) ہے ۔زمین جب مردہ ہوجاتی ہے تو آسمان سے آبِ حیات بن کر بارش ہوتی ہے اور اس طرح تمام مخلوق کے لئے زندگی کا سامان مہیا کرتی ہے۔
پانی جہاں زندگی کی علامت ہے وہیں بارشوں اور سیلاب کی صورت میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کا بھی موجب ہے،بارشیں زیادہ ہونے سے دریائوں اور جھیلوں میں جب پانی گنجائش سے بڑھ جاتا ہے توان کے کناروں سے باہر آجاتا ہے جوسیلاب کاباعث بنتاہے،جس سے ہزاروں پاکستانی متاثرہوتے ہیں ،اس سیلاب سے قیمتی انسانی جانیں موت کے منہ میں چلی جاتی ہیں، فصلیں اور مال مویشی سب کچھ اس سیلاب کی نظرہوجاتے ہیں،حالانکہ محکمہ موسمیات سیلاب کی پیشگی وارننگ جاری کرتا ہے ،مگراس سیلاب سے بچائوکیلئے کوئی عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ،جن علاقوں میں سیلاب کاخطرہ زیادہ ہوتا ہے وہاں پر ڈی سی اورکمشنرصاحبان وزٹ کرکے صرف فوٹوسیشن کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ،یہ نہیں دیکھاجاتاکہ محکمہ انہارکے آفیسران کیاگل کھلارہے ہیں،اس سیلاب سے بچائوکیلئے سپربندوں کے پشتے مضبوط بنانے کیلئے فرضی بلنگ اورفرضی ٹھیکے دیکربڑی کرپشن کی جاتی ہے۔ان کرپشن میں لتھڑے ناسوروں کے خلاف آج تک کوئی ایسی کارروائی دیکھنے کونہیں ملی جس میں ان لوگوں کوکوئی عبرت ناک سزادی گئی ہوتاکہ آئندہ ان سیلابوں سے ہونے والے نقصانات سے مملکت پاکستان کے باسیوں کوبچایاجاسکے۔
ہرسال سیلاب سے ہماراکسان سب سے زیادہ متاثرہوتا ہے،یہ سیلابی پانی اپنے ساتھ فصلات ،مویشی اورپختہ سڑکیں، تعمیر اور ترقی کو بہا کرلے جاتاہے جبکہ ہر سال ہی یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ سیلاب کا باعث بننے والے پانی کو ذخیرہ کیوں نہیں کیا جاتا؟ ہر سال جولائی سے ستمبر تک مون سون بارشیں اپنے ساتھ سیلاب لاتی ہیں لیکن حالیہ برسوں میں پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ غیر معمولی صورتحال کاسامنا کرناپڑرہاہے۔اس وقت پاکستان کی زرخیز زرعی زمینیں پانی کی کمی کی وجہ سے صحرا میں تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان میں ایک روایت سی بن گئی ہے کہ ہر سال مون سون سیزن سے پہلے وفاقی اور صوبائی سطحوں پر ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا جاتا ہے ،ان ہنگامی صورت حال کے اعلان سے کرپشن کا ایک ناختم ہونے والاسلسلہ شروع ہوجاتاہے ،میٹنگ درمیٹنگ اورسائٹ وزٹنگ کی دوڑشروع ہوجاتی ہے ،دفتری فائلوں کے پیٹ بھرجاتے ہیں، اِس سے زیادہ اورکچھ نہیں کیا جاتا۔جب مون سون سیزن کے دوران تباہی و بربادی ہوچکی ہوتی ہے تو حسب روایت حکومتی مشینری حرکت میں آ جاتی ہے اور قومی خزانے سے کروڑوں روپے محض آنیوں اور جانیوں پر خرچ کر دیے جاتے۔ اگر یہی وسائل بارشوں اور سیلابی بربادی سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت لگائے جائیں اور ماہر انجینئرز اور سائنسدانوں اور ماہر تعمیرات کے تجربات سے استفادہ کیا جائے تو یقینا حکومت کا سب سے احسن اقدام ہو گا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ممکنہ حالات سے بچائو کے لیے حکومتِ پاکستان نے اب تک کیا حکمت عملی اختیار کی ہے۔ پاکستان میں عوام کے تحفظ کے لیے مناسب اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں، اعلی حکومتی شخصیات اور اداروں کی غفلت و لا پرواہی کے نتائج گذشتہ سالوں میں آنے والے سیلاب کے دوران قوم بھگت چکی ہے۔حکومت کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے اور سیلابی پانی کو نئے آبی ذخائر میں محفوظ کرنے کے لیے کسی قسم کی کوئی پالیسی یا منصوبہ بندی سامنے آئی نہ ہی کبھی مستقل بنیادوں پر کسی قسم کے کوئی ٹھوس اقدام ہی اٹھائے گئے، ہمیشہ جب سیلاب سر پر آ جاتا ہے اور اپنی غارت گری دکھاتا ہے تو نمائشی اقدامات کرکے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
پاکستان میں دستیاب اعدا وشمار کے مطابق 2010میں سیلاب سے تقریبا دو کروڑ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے جبکہ پانچ لاکھ مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ ضلع مظفرگڑھ میں سب سے زیادہ مکانات یعنی ساٹھ ہزار کو سیلابی پانی نے نقصان پہنچایا۔ رحیم یار خان اور گجرات دوسرے نمبر پر ہیں جہاں تیرہ ہزار مکانات تباہ ہوئے۔ اس کے علاوہ بھکر، ڈیرہ غازی خان، حافظ آباد، خوشاب، لیہ، میانوالی اور راجن پور بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔صوبہ خیبر پختونخواہ میںایک ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں،ڈیرہ اسماعیل خان کی آبادی سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوئی ،تقریبا چار سو دیہات کی چھ لاکھ آبادی کو سیلاب سے نقصان پہنچا، نوشہرہ کے سو سے زائد دیہات کی پونے پانچ لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا،چارسدہ کے80 دیہات کی ڈھائی لاکھ آبادی متاثر ہوئی،خیبر پختونخواہ کے شمالی اضلاع جن میں کوہستان، سوات، شانگلہ اور دیر شامل ہیں بعض علاقوں تک ایک ماہ گزر جانے کے باوجود زمینی رابطے بحال نہیں ہوسکے تھے۔سندھ میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے 36 لاکھ سے زائدآبادی متاثرہوئی،جیکب آباد کی سات لاکھ آبادی کو نقصان پہنچا۔کشمور میں 6 لاکھ سے زائد افرادمتاثرہوئے۔ شکارپور، سکھر، ٹھٹہ اور دادو میں بھی متاثرین کی تعداد لاکھوں میںتھی۔صوبہ سندھ میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد70سے زیادہ تھی۔ سندھ میں چار لاکھ باسٹھ ہزار مکانات کو جزوی یا مکمل نقصان پہنچا تھا۔بلوچستان جوکہ آبادی کے لحاظ سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے میں تقریبا سات لاکھ لوگ متاثر ہوئے اور76 ہزار مکانات کو نقصان پہنچاتھا،کشمیر اور گلگت بلتستان میں مجموعی طور پر تقریبا تین لاکھ آبادی متاثر ہوئی ہے اور نو ہزار مکانات کو نقصان پہنچا تھا۔
موجودہ حالات میں ہماری قوم مہنگائی اور بیروزگاری کے ہاتھوں تباہ حالی کا شکار ہے اوراس قابل نہیں ہے کہ ممکنہ طورپرآنے والے سیلاب کامقابلہ کرسکے ،ہمارے حکمرانوں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرناچاہئے، ملک کو بحرانوں اورعوام کو ممکنہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ٹھوس بنیادوں پر عملی اقدامات مکمل کرنے کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید کبھی نہیں تھی ، حکومتِ وقت کو کمیٹیاں بنانے اور نوٹس لینے کی بھونڈی باتوں سے نکلناہوگا کہیں ایسانہ کہ حکومت اقدامات کرتی رہے اور پانی ایک بار پھر سر سے گزر جائے اورعوام کو دوبارہ 2010ء کی طرح سیلاب کی تباہ کاریوں کاسامناکرناپڑے،سب کچھ اپنے ساتھ بہاکرلے جائے۔

ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے
ہنزہ ۔قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل مقامی لوگوں نے احتجاجاََ بندکردی، سیاح پھنس گئے ،دوروزسے ٹریفک بند،گاڑیوں کی لمبی لائنیں ۔
باغی ٹی وی ۔ہنزہ قراقرم ہائی وے ناصرآباد پل کو مقامی لوگوں نے اپنے مطالبات اور مسائل کے حل کیلئے گذشتہ دو روزسے احتجاجی کیمپ لگاکربند کیا ہواہے،جس سے وہاں گئے ہوئے سیاح پھنس گئے ہیں اورانہیں کافی مشکلات کاسامناکرناپڑرہاہے ،دو روز سے ٹریفک بند ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگی ہوئی ہیں۔
روزگذرنے کے باوجود گلگت بلتستان اورہنزہ انتظامیہ نے کوئی نوٹس نہیں لیا،پھنسے ہوئے سیاحوں نے حکام بالا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان احتجاج کرنے والوں سے مذاکرات کرکے فوری طورپرٹریفک بحال کرائی جائے۔


عثمان بزدار کی ہمدرد بیوروکریسی ، کرپشن کیس ٹھنڈے کردیئے گئے
عثمان بزدار کی ہمدرد بیوروکریسی ، کرپشن کیس ٹھنڈے کردئے گئے
سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور انکے بھائیوں کیخلاف سرکاری اراضی جعلسازی سے نام کرانے پر اینٹی کرپشن نے درخواست دہندہ کی بجائے اسسٹنٹ کمشنر تونسہ کومدعی بنادیا۔اسد چانڈیہ بزدار دور میں ڈیرہ غازی خان میں تعینات رہے اور ان سے عثمان بزدار اور انکے بھائیوں نے درجنوں غیر قانونی کام کرائے ہیں۔ سرکل آفیسرا ینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر ملک عبدالمجید نے ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کور پورٹ کی بجائے درج مقدمہ سابق سرکل آفیسراینٹی کرپشن ارشد رند سے دستخط کرا کے ایک ہی رات میں خارج کر دیا۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمپلینٹ اطہر محمود کا نجو جوتونسہ شریف کا رہائشی ہے نے سابق وزیراعلی پنجاب اور انکے دست راست مختار جتوئی کو غیر قانونی پروموشن اور 15 کروڑ روپے کی کرپشن میں کلین چٹ دینے کی ناکام کوشش کی۔تفصیلات کے مقامی اخبار روزنامہ بیٹھک کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کی ہمدرد بیوروکریسی اور اینٹی کرپشن میں تعینات کر پٹ افسر کرپشن سکینڈلز کیخلاف کارروائی کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ۔ حکومت پنجاب کو تبدیل ہوئے دو ماہ ہونے کے باوجود عثمان بزدار نیٹ ورک کے افسراب بھی اپنی پرکشش سیٹوں پر براجمان ہیں اخبار کیمطابق سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور انکے بھائیوں کیخلاف سرکاری اراضی 900کنال کو جعلسازی سے نام کرانے پر اینٹی کرپشن ڈیرہ غازی خان نے درخواست دہندہ بشیر چوہان کی بجائے اسسٹنٹ کمشنر تونسہ شریف اسد چانڈیہ کی مدعیت میں دو الگ الگ مقدمات درج کرتے ہوئے سرکل آفیسر اینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمپلینٹ کو انکوائری آفیسر مقررکیا۔
اخبار کے مطابق اب ان دونوں مقدمات میں اسسٹنٹ کمشنرتونسہ شریف اسد چانڈیہ کو مدعی بنایا گیا ہے جو عثمان بزدار دور میں 3 سال 9ماہ سے ضلع ڈیرہ غازی خان کی حدود میں تعینات ہے اور ان سے عثمان بزدار اور انکے بھائیوں نے درجنوں غیر قانونی کام کرائے ہیں ۔ اسد چانڈیہ سے کرائے گئے غیر قانونی کاموں میں سے ایک جی ٹی ایس بس اڈے کی اراضی پرقبضے اور جعلی نقشہ سکینڈل کے ملزمان خلیفہ محمدعلی ، خلیفہ اللہ بخش ،خلیفہ سلیمان یار،خلیفہ حسن ، خلیفہ رمضان ، خلیفہ عبدالرحمان ودیگر کو کلین چٹ دینے کی کوشش ہے۔ خلیفہ فیملی کے کہنے پر اسسٹنٹ کمشنر نے ماڈل بازار کی دیوار کی تعمیر کا کام بھی تاحال رکوایا ہوا ہے تا کہ دیوار کو آگے کر کے ناجائز قابضین کو ایک بار پھر ناجائز فائدہ پہنچایا جا سکے۔
اخبارنے لکھا ہے کہ ذرائع کیمطابق اسسٹنٹ کمشنراسد چانڈیہ اب بھی خود کو عثمان بزدار کا بھائی کہتے نہیں تھکتے اور بعید نہیں کہ گواہی تو دور کی بات ہے و ہ تفتیشی افسر کے پاس بیان ریکارڈ کرانے بھی نہیں جائینگے ۔ دوسری جانب تفتیشی افسر سرکل آفیسرا ینٹی کرپشن ہیڈ کوارٹر ملک عبدالمجید ذرائع کیمطابق سرکاری سکنی کمرشل پراپرٹی فراڈ کیس کو ٹیکنیکل طور پر خارج کرنے کے ماہر ہیں، انہوں نے دکان ملکیتی میونسپل کمیٹی تونسہ شریف ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کور پورٹ کی بجائے سٹیزن پورٹل پر کی گئی شکایت پر مقدمہ نمبر11/21درج کیا اور پھر بڑی مہارت سے اسے خارج کردیا ۔ مقدمے کی اخراج رپورٹ پر اپنے دستخطوں کی بجائے سابق سرکل آفیسراینٹی کرپشن ارشد رند سے دستخط کرا کے ایک ہی رات میں مقدمہ خارج کر دیا۔ ذرائع کیمطابق اسسٹنٹ ڈائریکٹر کمپلینٹ اطہر محمود کا نجو جوتونسہ شریف کا رہائشی ہے اس نے پہلے ریگولر انکوائری 19/551,19/357اور 19/303میں سابق سی ایم پنجاب عثمان بزدار کیخلاف ڈی جی نیب ملتان اور ڈی جی اینٹی کرپشن کے حکم ناموں کو ردی کی ٹوکری کے نذرکرتے ہوئے سابق وزیراعلی پنجاب اور انکے دست راست مختارجتوئی کو غیر قانونی پروموشن اور 15 کروڑ روپے کی کرپشن میں کلین چٹ دینے کی ناکام کوشش کی حالانکہ یہ کیس عدالت عالیہ ڈبل بنچ میں زیر سماعت ہے عدالتی فیصلے کا انتظار کئے بغیر سابق وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار اور ان کے دست راست کوتوہین عدالت کی پرواہ کئے بغیرکلین چٹ دیدی۔ اخبارکے مطابق اس سلسلے میں جب اطہر کا نجو، ملک عبدالمجید اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سید محمد عباس سے موقف لینے کیلئے رابطہ کیا گیا تو ان کا فون اٹینڈ نہ ہوا۔
بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار
ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا
فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں
بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل
بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی
عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں
الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

صومالیہ بنتاپاکستان
تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔


عثمان بزدارکی پیشی،بزدارکے حامی زبردستی گیٹ کھول کرعدالت میں داخل
عثمان بزدارکی پیشی،16 جولائی تک ضمانت میں توسیع ،،بزدارکے حامی زبردستی گیٹ کھول کرعدالت میں داخل
بزدارقبیلے کے لوگ عدالت کے اندر نعرے بازی کرتے رہے ،بہرام بزدارایڈووکیٹ بزدار قبائل کوعدالت کے اندر نعرے بازی سے روکتے رہے ۔ عثمان بزدار کی عبوری ضمانت میں 16 جولائی تک توسیع۔باغی ٹی وی رپورٹ۔تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان ،عثمان بزدارکی پیشی کے موقع پر عثمان بزدار کے قبیلے کے لوگ درجنوں کی تعداد میں زبردستی گیٹ کھول کرعدالت میں داخل ہوگئے ،بزدارقبیلے کے لوگ عدالت کے اندر نعرے بازی کرتے رہے ،بہرام بزدار ایڈووکیٹ بزدار قبائل کوعدالت کے اندر نعرے بازی سے روکتے رہے لیکن اس کے باوجود نعرے بازی جاری رہی
اس دوران سابق وزیر اعلی عثمان بزدار اینٹی کرپشن عدالت میں پیش ہوئے جنہیں 16جولائی تک عبوری ضمانت میں توسیع مل گئی،جب عثمان بزدار عدالت میں پیش ہوئے تو پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والا کوئی وکیل پیش نہ ہوا تاہم پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے وکلا کی ٹیم جن میں صداقت ٹھیگانی،آصف سعید کھوسہ،ملک مظہر حسین ناصر اور بہرام بزدار پیش ہوئے،آج عثمان بزدار اپنی برادری کے درجنوں افراد کیساتھ اینٹی کرپشن عدالت میں پیش ہونے کیلئے آئے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز عثمان بزدار کا جنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا ہ قبل ازیں سابق وزیراعلی پنجاب عثمان احمدخان بزدار کے مبینہ فرنٹ مین کو اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتار کرلیا ہے اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے سابق وزیراعلی پنجاب عثمان احمدخان بزدار کے جنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس کو اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتار کیا تھا ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس ڈیرہ غازیخان میں تعیناتی کے دوران بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث رہا ہے جہاں پراس نے اس حد تک کرپشن کی کہ کاغذات میں کروڑوں روپیکی سکیمں مکمل ہیں لیکن فزیکلی طورپران سکیموں کازمین پر کہیں بھی وجود نہیں ہے اور اِدھر مظفرگڑھ میں 134 ترقیاتی اسکیموں کی جانچ پڑتال کے دوران بے ضابطگیاں ثابت ہونے پرمقدمات درج کیے گئے ،جسے گزشتہ روز اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتارکیا تھا۔



ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز بونی میں ہائیر سیکنڈری سکول کا سنگ بنیاد
چترال- ضلع اپر چترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز بونی میں ہائیر سیکنڈری سکول کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اس سکول کے افتتاح پر علاقے کے طلباء کے ساتھ ساتھ طالبات بھی نہایت خوش ہیں کیونکہ اس سکول میں ان کو بھی بارہویں جماعت تک معیاری تعلیم دی جائے گی۔ تفصیل کیلئے دیکھتے ہیں باغی ٹی وی کے نمائندے گل حماد فاروقی کی یہ رپورٹ۔

عثمان بزدار کاجنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا
عثمان بزدار کاجنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین اینٹی کرپشن کے ہتھے چڑھ گیا
مظفرگڑھ۔ سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان احمدخان بزدار کے مبینہ فرنٹ مین کو اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتار کرلیاہے۔
باغی ٹی وی۔تفصیلات کے مطابق اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان احمدخان بزدار کے جنوبی پنجاب سے مبینہ فرنٹ مین ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس کو اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتار کرلیاہے۔ایس ای لوکل گورنمنٹ خرم عباس ڈیرہ غازیخان میں تعیناتی کے دوران بڑے پیمانے پر کرپشن میں ملوث رہا ہے جہاں پراس نے اس حد تک کرپشن کی کہ کاغذات میں کروڑوں روپے کی سکیمں مکمل ہیں لیکن فزیکلی طورپران سکیموں کا زمین پر کہیں بھی وجود نہیں ہے اور اِدھر مظفرگڑھ میں 134 ترقیاتی اسکیموں کی جانچ پڑتال کے دوران بے ضابطگیاں ثابت ہونے پر مقدمات درج کیے گئے ،جسے آج اینٹی کرپشن مظفرگڑھ نے گرفتارکیا ہے۔

ڈیرہ،ٹرائیبل ایریا میں ٹریکٹرٹرالی الٹنے سے 2ہلاک،8مزدور زخمی
ڈیرہ غازیخان کے ٹرائیبل ایریا میں ٹریکٹرٹرالی الٹنے سے 2ہلاک،8مزدور زخمی
باغی ٹی وی رپورٹ. ڈیرہ غازیخان کے ٹرائیبل ایریا بی ایم پی تھانہ رونگھن کے علاقہ یکبائی میں روڈ پر کام کرنے والے مزدور صبح آٹھ بجے ٹریکٹر ٹرالی پر کام پر جارہے تھے ،تیزرفتاری کے باعث موڑکاٹتے ہوئے ٹریکٹر کے بریک فیل ہونے پر ٹریکٹرٹرالی بے قابو ہوالٹ گئی ،جس سے دوافراد جن میں ایک ٹریکٹرڈرائیورفداحسین جوکہ چوٹی زیریں کارہائشی تھا موقع پردم توڑگیاجبکہ دوسرا ہلاک ہونے والامزدور عابدحسین ولدخادم حسین ہیڈ محمد کا رہائشی تھا موقع پردم توڑگیا،اس حادثہ میں 8 مزدور زخمی ہوگئے جن میں اللہ وسایا ہیڈ محمد، ریاض حسین چوٹی زیریں، خلیل احمد جامپور، جاویدمنشی جامپور، شاہ بخش جامپور، یاسین راجن پور، شاہداور مجاہددونوں بھائی پسران محمداسلم، بلال حسین ولدکالوخان ہیڈ محمد اور بابرجوکہ کروڑلعل عیسن کارہائشی ہے زخمیوں ہوگئے ۔اس علاقہ میں کسی ایمرجنسی کی صورت میں ریسکیو1122کی سہولت نہیں ہے ،جس کی وجہ سے زخمیوں کوبروقت طبی امداد نہ مل سکی تاہم اطلاع ملتے ہی بارڈرملٹری پولیس کے جوان بروقت جائے حادثہ پر روانہ ہوگئے جنہوں نے وہاں پہنچ کر مقامی افرادکی مدد سے زخمیوں کو ٹرالی سے نکالا،اپنے محدود وسائل اورمقامی آبادی کے تعاون سے زخمیوں کوہسپتال منتقل کیا





















