Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لادی گینگ گروپ میں تصادم ،خطرناک ڈکیت مجید جنڈواپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    لادی گینگ گروپ میں تصادم ،خطرناک ڈکیت مجید جنڈواپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک

    ڈیرہ غازیخان (ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی کی رپورٹ) بدنام زمانہ لادی گینگ گروپ میں تصادم ،خطرناک ڈکیت مجید جنڈواپنے ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک ،جرم اور لاقانونیت کا ایک اور کردار انجام کو پہنچ گیا۔علاقے میں خوشی کی لہر

    باغی ٹی وی ،تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں اغوا، ڈکیتی، قتل اور پولیس مقابلے سمیت درجنوں وارداتوں میں ملوث لادی گینگ کا خطرناک رکن مجید جنڈو اپنے ہی ساتھی کی فائرنگ سے ہلاک، دوسرا ڈاکو سیف اللہ شدید زخمی ۔ یاد رہے کہ ایک سال قبل رمضان نامی شہری کے اعضا کاٹ کر قتل کرکے ظلم وبربریت کی تاریخ رقم کرنے والے لادی گینگ کا اہم رکن مجید جنڈو اپنے ہی ساتھی عثمان کی فائرنگ سے ہلاک جبکہ ایک اور ڈاکو سیف اللہ شدید زخمی ہو گیا ۔مجید جنڈو گذشتہ برس قانون نافذ کرنیوالے اداروں کوبھی سوشل میڈیاپر دھمکیاں اورگالیاں دیتا رہا،

    اسی گینگ نے دو ماہ قبل سیمنٹ فیکٹری کے تین ملازمین کو اغوا کرنے کے بعد کروڑوں روپے نقد تاوان سمیت ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ وصولی کی ڈیل کے بعد مغویوں کو رہا کیا تھا ۔لادی گینگ میں لوٹ مار کے مال پرجھگڑے نتیجے میں آج گروہ کے رکن عثمان نے اپنے ہم خیال ساتھیوں سمیت فائرنگ کرکے مجید جنڈو کو ہلاک جبکہ سیف اللہ کو شدید زخمی کردیا

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے

    ڈیرہ غازیخان(ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی )سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے آبائی علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔

    عثمان بزدارکے زرعی فارم پرباغات کوسیراب کرنے کیلئے واٹر سپلائی کا پانی دستیاب، گذشتہ 5 ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے وہاں کے تالاب خشک ہو چکے ہیں ،لوگ سارا دن پانی کی تلاش میں گذاردیتے ہیں، یہاں کے لوگوں کی زندگی کا دارومدار جوہڑوں کے گندے پانی پرہے،سردارعثمان خان بزدار وزیراعلیٰ بننے سے قبل 10سال تک تحصیل ٹرائبل ایریا کے ناظم رہے ،عثمان بزدار کا چھوٹا بھائی سردارجعفرخان بزدار ہے ،یونین کونسل مبارکی سے4،5 بارچیئرمین منتخب ہوا جو سردارعثمان بزدار کے دورحکومت میں سیاہ سفید کا مالک اورڈیرہ غازیخان کے وزیراعلیٰ سمجھے جاتے تھے نے اپنی یونین کونسل کی عوام کیلئے ایک بھی واٹر سپلائی سکیم منظورنہ کرائی اور وہاں کی عوام کے مقدر میں گندہ جوہڑوں والا بدبودار پانی لکھ دیا ۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈیرہ غازیخان کا قبائلی علاقہ مبارکی جوسابق وزیراعلیٰ سردارعثمان خان بزدارکا آبائی علاقہ ہے یونین کونسل مبارکی عوام گذشتہ پانچ ماہ سے بارشیں نہ ہونے کی وجہ پانی کی بوند بوند کوترس گئے،تالاب خشک ہوچکے ہیں ہرطرف خشک سالی ہے ،اس علاقہ کی عوام اورجانوروں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی ہیں یہاں منتخب ہونیوالے صوبائی حلقہ پی پی 287 کے ایم پی اے کے علاوہ اورقومی حلقہ سے منتخب ہونے والے سردار امجدخان کھوسہ نے ووٹ لینے کے بعدعرصہ چارسال گذرجانے کے بعد بھی اس علاقہ میں ایک باربھی نہ گیا۔

    ستم ظریفی تویہ کہ سردارعثمان خان بزدار وزیراعلیٰ بننے سے قبل 10سال تک تحصیل ٹرائبل ایریا کے ناظم رہے ،عثمان بزدار کا چھوٹا بھائی سردارجعفرخان بزدار ہے جواس یونین کونسل مبارکی سے4،5 بارچیئرمین منتخب ہوا،سردارعثمان بزدار کے دورحکومت میں سیاہ سفید کے مالک اورڈیرہ غازیخان کے وزیراعلیٰ سمجھے جاتے تھے نے اپنی یونین کونسل کی عوام کیلئے ایک بھی واٹرسپلائی سکیم منظورنہ کرائی اور وہاں کی عوام کے مقدر میں گندہ جوہڑوں والا بدبودار پانی لکھ دیا ۔موضع مبارکی بڑی بستیاں جن میں موضع جہاں نانی ڈب،موضع زہراف ڈب،بیل بتر،سُرتھوخ،موضع منجھیل اورہنگلون ودیگربستیوں کوشدیدپانی کی قلت کا سامنا ہے،ستم ظریفی تویہ ہے سردارعثمان خان بزدارنے اپنے باغ کوسیراب کرنے کیلئے بستی سلاری کی واٹرسپلائی بھی اپنے باغ میں لگوالی ،ان علاقوں کے رہنے والے لوگوں کے پینے کیلئے ایک بھی واٹر سپلائی سکیم پایہ تکمیل کو نہ پہنچائی ،پبلک ہیلتھ کے ریکارڈ میں کئی واٹرسپلائی سکیم چل رہی ہیں لیکن زمین پرکہیں بھی واٹر سپلائی کاوجود نہیں ہے۔

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    عثمان بزدار نے سیمنٹ فیکٹری کے 16 لائسنس بیچے،مفتاح اسماعیل کا دعویٰ

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    عثمان بزدار کے گرد بھی گھیرا تنگ،ایک گرفتاری بھی ہو گئی

    اس علاقہ میں ایک ایسی پرانی واٹرسپلائی کی ٹینکی کو نیا ظاہرکے کرپشن کی گئی جس میں ایک دن بھی پانی نہیں ڈالا جس کی چھت کا پرانا ٹوٹا ہوال ینٹر صاف دکھائی دے رہا ہے ،اس کی ٹوٹیوں والے پرانے پائپ پر ٹوٹیاں بھی نہ لگائی گئیں ۔یہاں کے عوام پانی کیلئے سردارعثمان خان بزدار کوچیخ چیخ کرپانی کی فراہمی کیلئے پکارتے رہے لیکن سردارعثمان بزدار ٹَس سے مَس نہ ہوئے،بالآخرتھک ہارکریہاں کے باسیوں نے اپنی مدد آپ کے تحت چندہ اکٹھا کرکے پانی کے کچھ ٹینکوں کا بندوبست کیا،اس کے علاوہ ایک صحافی کی بھرپور کوشش اور ریکوئسٹ پرپولیٹیکل اسسٹنٹ نے بھی دو ٹینک پانی کے بھجوائے۔

  • ناجائز تعلقات کا شک،والد اور بھائی کے ہاتھوں لڑکی کو ذبح کر دیا گیا

    ناجائز تعلقات کا شک،والد اور بھائی کے ہاتھوں لڑکی کو ذبح کر دیا گیا

    ناجائز تعلقات کا شک،والد اور بھائی کے ہاتھوں لڑکی کو ذبح کر دیا گیا

    ڈیرہ غازیخان (ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی) تھانہ دراہمہ کے علاقہ قصبہ گگو میں تین روز قبل والد اور بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی سدرہ بی بی کے بارے میں مزید حقائق سامنے آئے ہیں کہ وہ اغوا نہیں ہوئی تھی بلکہ بھائی اور والد کے خوف کی وجہ سے گھر سے بھاگ گئی تھی کیونکہ مقتولہ کے والد اور بھائی کو شک تھا کہ اس کے کسی نوجوان سے ناجائز تعلقات ہیں،اس بناپر اسے تشدد کانشانہ بنایاجاتا تھا ۔ مگر پولیس پردہ پوشی کرنے میں مصروف ۔

    باغی ٹی وی تفصیلات کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں تین روزقبل تھانہ دراہمہ کے علاقہ قصبہ گگو میں والد اور بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی سدرہ بی بی کے بارے میں مزید حقائق سامنے آئے ہیں کہ وہ اغوا نہیں ہوئی تھی بلکہ بھائی اور والد کے خوف کی وجہ سے گھر سے بھاگ گئی تھی کیونکہ مقتولہ کے والد اور بھائی کوشک تھا کہ اس کے کسی نوجوان سے ناجائز تعلقات ہیں،اس بناپر اسے آئے روزتشدد کانشانہ بنایا جاتا تھا اور پوچھتے بتا وہ کون ہے جس کے ساتھ تیرے مراسم ہیں؟ اس طرح روزانہ کے تشدد سے تنگ آ کرسدرہ بی بی 7/8.03.22 رات کو گھر سے بھاگ گئی تھی،مگر اس کے والد غلام فرید سمین گگوانی نے تھانہ دراہمہ میں نامعلوم افراد کے خلاف اغوا کا مقدمہ 172/22 مورخہ 11.04.22 زیردفعہ365B ت پ درج کرایا ۔

    تقریبا ایک ماہ قبل غلام فرید والد، غلام اصغر ولد غلام سرور قوم سمین گگوانی رشتہ دار نے مقامی وڈیرہ ملک رمضان جڑھ کے ذریعے راجن پورسے سدرہ بی بی کو واپس لے آئے اورملک رمضان جڑھ نے مقتولہ کو دارالامان بھجوانے کی بجائے اس شرط پر اس کے والد کے حوالے کیا کہ سدرہ بی بی پرظلم و تشدد نہیں کیاجائے گا، مقامی ذرائع کابتانا ہے کہ ایک ہفتہ قبل اس کے والد اور رشتہ داروں نے ہم صلاح ومشورہ ہوکر سدرہ بی بی کو کہیں فروخت کرنے کا پروگرام بنایا ،جس کا مقتولہ کوپتہ چل گیا تو اس نے اس پر شدید احتجاج اور شورواویلہ کیا اورکہاکہ میرے ساتھ یہ ظلم نہ کرو ،اس کہانی کے پس منظرمیں اسے قتل کیا گیا۔

    مقامی پولیس بہیمانہ قتل کے واقعہ رونماہونے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد موقع پر پہنچی ،حالانکہ تھانہ سے قصبہ کافاصلہ دس منٹ کا بھی نہیں ہے،مقامی بااثرشخص کے ذریعے پہلے پولیس سے ساز باز کرکے والد کو مد عدعی مقدمہ بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ وقوعہ کے وقت ایس ایچ اوتھانہ دراہمہ افتخار قریشی ملتان ہائیکورٹ کسی مقدمہ کی سماعت کے سلسلہ میں گیا ہوا تھا،ڈی ایس پی صدر ملک اعجاز نے بروقت پہنچ کر حالات کا جائزہ لیا ایڈیشنل ایس ایچ او نعمت اللہ کی سرزش کی اور موقع پر بروقت نہ پہنچنے پر برہمی کا اظہار کیا ،ذرائع کاکہناہے کہ پولیس نے ایف آئی آرمیں درج کیا ہے کہ مسماة سدرہ کواس کے والد کے ایما پربھائی نے قتل کیا ہے ،جس طرح مقتولہ کی گردن پرچھری چلائی گئی اس کے مزاحمت کے نتیجے میں اس کی کلائی پر چھری کے کٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسے کسی ایک شخص نے قتل نہیں کیا بلکہ کئی افرادجس میں اس کا والدبھی شامل ہے نے ملکرقتل کیا،

    پولیس نے حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے ایک سب انسپکٹرکی مدعیت میں کمزور مقدمہ بنایاجس کافائدہ ملزمان کوپہنچے گا۔اس کے علاوہ دراہمہ پولیس کی بروقت کارروائی نہ کرنے پر کئی سوالات جنم لے رہے اور جس پولیس آفیسرکو مدعی بنایا گیا ہے اس کا سابقہ ریکارڈ درست نہیں ہے اور ملزموں سے ساز باز ہوکر مقدمہ جلد ختم ہو جانے کا بھی خدشہ ہے اہل علاقہ نے ڈی پی او ڈیرہ غازیخان سے مطالبہ کیا ہے کہ یہ مقدمہ کسی قابل اورایماندارپولیس آفیسر کے سپرد کیا جائے یا کمیشن بنایا جائے تاکہ تمام حقائق سے پردہ اٹھایا جاسکے اور اس قتل میں ملوث ملزمان کوقرار واقعی سزامل سکے۔

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • بارڈرملٹری پولیس کی کارروائی،لاکھوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ کار پکڑ لی

    بارڈرملٹری پولیس کی کارروائی،لاکھوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ کار پکڑ لی

    ڈیرہ غازیخان (ڈاکٹرغلام مصطفیٰ بڈانی سے) بارڈر ملٹری پولیس کی کارروائی ،لاکھوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ کار پکڑ لی۔سیاحتی مقام فورٹ منرو کھر میں کمانڈنٹ محمد اکرام ملک کی خصوصی ہدایت پر ایس ایچ او حبیب خان نے سمگلنگ کے خلاف کارروائی کی

    بی ایم پی تھانہ کھر کے ایس ایچ او حبیب خان لغاری نے بلوچستان سے پنجاب لاکھوں روپے مالیت قیمتی نان کسٹم پیڈ گاڑی کو پکڑ لیا، نان کسٹم پیڈ گاڑی کو بلوچستان سے پنجاب سمگل کرنے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ پکڑی گئی نان کسٹم پیڈ کار کو تھانہ کھر میں بند کر دیا گیا ہے۔ قانونی پروسیس مکمل کرنے کے بعد نان کسٹم پیڈ کار کو کسٹم حکام کے حوالے کیا جائے گا کردیا جائے گا،

    ایس ایچ او تھانہ کھر حبیب خان لغاری نے بتایا کہ کمانڈنٹ محمد اکرام ملک کی ہدایت پرچیکنگ سخت کرکے سمگلنگ کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری ہیں سمگلروں اورسماج دشمن عناصر کیساتھ آہنی ہاتھوں نمٹاجائے

    گا۔

    کراچی سے بھاگ کر شادی کرنیوالی دعا زہرا کو عدالت نے بھی بڑا حکم دے دیا

    کل کہیں گے افغانستان سے سگنل آرہے ہیں تو ہم کیا کرینگے؟ دعازہرہ کیس میں عدالت کے ریمارکس

    والدین سے نہیں ملنا چاہتی،دعا زہرہ کا عدالت میں والد کے سامنے بیان

  • ڈیرہ غازیخان، 11کروڑ روپے کا منصوبہ کرپشن کی نذر

    ڈیرہ غازیخان، 11کروڑ روپے کا منصوبہ کرپشن کی نذر

    ڈیرہ غازیخان ٹھیکیدار اور ایس ڈی او کی ملی بھگت 11کروڑ روپے کا منصوبہ کرپشن کی نذر،7 کلو میٹر روڈ میں سے ایک کلو میٹر زیرو پوائنٹ سے اور ایک کلو میٹرسڑک کا آخری حصہ بنایا گیا اوردرمیانی حصہ 5 کلومیٹر روڈ بغیر بنائے چھوڑ کرغائب،فنڈز ہڑپ ،ناقص مٹیریل سے تیار پلیوں کے نیچے سے شٹرنگ کیلئے ڈالی گئی مٹی ہٹانے سے دھڑام سے زمین پرآگئیں ، روڈ کیلئے 5فٹ کے بجائے دوفٹ مٹی ڈالی گئی ،مٹی باہر سے منگوانے کی بجائے قریبی کھیتوں سے 5فٹ گہرے گڑھے ڈال کر مقامی زمینوں سے مالکان کی اجازت کے بغیر مٹی اٹھائی گئی،شہری کی درخواست پرنیب کانوٹس ،تحقیقات سیکرٹری کمیونیکیشن کے سپرد،ٹھیکیدار راشد بزداراورایس ڈی اوشفیع کھوسہ کی دوڑیں،مدعی کوخاموش کرانے کیلئے بھاری رقم کی پیشکش کیساتھ بااثرشخصیت کا دبائوبھی ڈلوادیا ۔ذرائع

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازیخان کے دیہی علاقہ دلانہ روڈ تاپتی زئی کیلئے مقامی ایم این اے سردارامجد فاروق خان کھوسہ نے اپنی گرانٹ سے علاقہ کی عوام کی سہولت کیلئے خطیررقم 11کروڑ روپے کی لاگت سے 7کلومیٹرپختہ سڑک کی منظوری دلائی ،جس کاٹھیکہ محکمہ پروونشنل ہائی وے ڈیرہ غازیخان نے راشدحیات بزدارکوجاری کیا۔محکمہ پروونشنل ہائی وے کاایس ڈی او شفیع کھوسہ جو ایم این اے سردارامجدفاروق کھوسہ کاقریبی اوربااثرشخص ہے نے ٹھیکیدارسے ملی بھگت کرلی اور یہ 7کلومیٹرروڈمکمل کروانے کی بجائے ایڈوانس پیمنٹ کروادی،جس شہری نے نیب کودرخواست دی جس میں اس نے مئوقف اختیارکیا کہ روڈبنانے کیلئے منظورشدہ 5 فٹ مٹی ڈالنے کی بجائے 2فٹ مٹی ڈالی جسے رودکوہی کا پانی منٹوں میں بہا کر ملیا میٹ کردے گا،ٹھیکیدار نے مٹی باہر سے منگوانے کی بجائے 5فٹ گہرے گڑھے ڈال کر زبردستی مقامی زمیندار کی زمینوں ںسے مٹی اٹھالی ،اسی طرح اس سڑک پر کئی جگہوں پر برساتی نالے ہیں جن پر پلیاں بنائی گئیں،جن میں انتہائی ناقص مٹیریل استعمال کیا گیا لینٹر کیلئے پلیوں مے نیچے مٹی ڈالی گئی تھی،جب اس مٹی کو نکالا گیا تو کئی پلیاں ناقص مٹیریل کی وجہ سے دھڑام سے زمین بوس ہوگئیں اور کئی میں دراڑیں پڑ گئیں ۔یاد رہے کہ اس سے قبل نیب کو منظور ولد تگیہ نے درخواست گذاری تھی جس پر نیب نے ایکشن لیا تھا اور تحقیقات سیکرٹری کمیونیکیشن کے سپردکردیں،جس پر مقامی سردار کے ذریعے اس کا راستہ بند کرکے جبراََ اس سے کیس ختم کرنے کیلئے بیان حلفی لیا گیا ،مگر حالات جوں کے توں رہے

    ایک اور شخص نذر حسین ولد لال بستی ماڑک دلانہ نے کمشنرڈیرہ غازیخان کو نیب کے جاری کردہ تحقیقاتی لیٹر لف کرکے درخواست گذاری اور تحقیقات کا مطالبہ کیا ،دوسری طرف ذرائع کاکہنا ہے کہ ٹھیکیدار راشد بزدار اور ایس ڈی او شفیع کھوسہ نے پھرتی دکھاتے ہوئے کرپشن کیا ہوا مال ہضم کرنے کیلئے درخواست گذار کو بڑی رقم کا لالچ دے کر راضی کرنے کی کوشش کی اور آناََفاناََناقص میٹریل کا استعمال کرتے ہوئے روڈبنانا شروع کردیا جب اس سلسلے میں ایس ڈی او شفیع کھوسہ سے مؤقف لیا تو انہوں نے کہا کہ تم لوگ بھی خبریں لگا کر اپنا شوق پورا کرلو کیونکہ اس کیس پر میں پہلے ہی پیشیاں بھگت رہا ہوں ۔جو کچھ ان درخواستوں سے ہوا ہے وہی کچھ خبریں لگانے سے ہوگا ۔

    شادی اس بات کا لائسنس نہیں کہ شوہر درندہ بن کر بیوی پر ٹوٹ پڑے،عدالت

    خواجہ سراؤں کا چار رکنی گروہ گھناؤنا کام کرتے ہوئے گرفتار

    چار ملزمان کی 12 سالہ لڑکے کے ساتھ ایک ہفتے تک بدفعلی،ویڈیو بنا کر دی دھمکی

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    سائیں بزدار کا کمال،پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا

    لاہور (انویسٹیگیشن سیل) سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے پہاڑ میں سرکاری خرچ پر 14 ایکڑ رقبے پر زیتون کا باغ لگوا لیا،سرکاری مشینری سے پہاڑی زمین کو ہموار کیا گیا،سابقہ حکومت کی منظور کردہ واٹر سپلائی سکیم اپنے باغ میں لگوا لی،

    بستی محمد بخش روح والا کی منظورکردہ کارپٹ سڑک بستی کی بجائے اپنے زرعی فارم کی طرف موڑ دی، ایگری کلچر ریسرچ انسٹیٹوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹرجنرل نے 14 ایکڑ رقبے پر باغ لگانے کیلئے سرکاری خرچ پر قیمتی پودے اپنی نگرانی میں لگوائے جس کی مانیٹرنگ ونگرانی سیکرٹری زراعت پنجاب خود کرتے تھے، اس باغ کوسیراب کرنے کیلئے سرکاری خرچ پرجدید ترین ڈرپ اری گیشن سسٹم واٹرمنیجمنٹ ڈیرہ غازیخان سے نصب کرایا گیا۔باغ لگانے کیلئے محکمہ زراعت ڈیرہ غازیخان کے بیلداروں سے بغیرمزدوری دئے لیبر کا کام لیا گیا،اس زرعی فارم کیلئے خصوصی طورپربجلی کی نئی ٹرانسمیشن لائن نصب کرائی گئی،بجلی کی اس لائن سے کسی ایک گھرکوبجلی نہیں جارہی کیونکہ اس علاقہ میں کوئی رہائشی آبادی ہے ہی نہیں،باغ اورزمین کی مستقل رکھوالی کیلئے خصوصی طورپربلوچ لیوی فورس کی ایک چوکی قائم کرائی گئی ،جہاں پر بلوچ لیوی کے دوملازم لیاقت اورعرفان مستقل طورتعینات ہیں ،ان میں سے ایک دن کے وقت جبکہ دوسرا رات کی ڈیوٹی کرتاہے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کے وسیم اکرم پلس کے چھپے ہوئے کارنامے منظرعام پر آناشروع ہوگئے ہیں کہ انہوں نے کس طرح بے دردی سے سرکاری وسائل اپنے ذاتی فوائد کیلئے استعمال کئے،سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کرکے اپنے آبائی علاقے بارتھی کے قریب سالاری بستی محمد بخش روح والاموضع چٹ پانی میں پہاڑی اورناہموارزمین کوہموارکرنے کیلئے سرکاری مشینری استعمال کرتے ہوئے 14ایکڑ رقبے پر زیتون، کھجور ،انجیر ،بیری اوردوسرے کئی قسم کے قیمتی پودوں کا باغ لگوایا،اس باغ کے لئے ایگری کلچر ریسرچ انسٹیٹوٹ فیصل آباد کے ڈائریکٹرجنرل نے سرکاری خرچ پر قیمتی پودے خریدکر اپنی نگرانی میں لگوائے جسکی مانیٹرنگ ونگرانی سیکرٹری زراعت پنجاب خود کرتے تھے اورڈائریکٹرزراعت ڈیرہ غازیخان اور دوسرے تمام متعلقہ آفیسران ان کی معاونت کرتے ،باغ لگانے کیلئے محکمہ زراعت ڈیرہ غازیخان کے بیلداروں سے بغیرمزدوری دئے لیبرکا کام لیاگیا۔

    فرح خان جہاں بھی ہوگی رانا ثنااللہ اسے واپس لائیں گے:مریم نواز 

    فرح خان کو دبئی سے پاکستان واپس لا نے کا فیصلہ

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    اس سے قبل بزدارحکومت نے زیتون کے باغات لگانے کیلئے ایک سکیم شروع کی تھی جس میں حکومت پنجاب نے80 فیصد سبسڈی پرپودے زمینداروں اورکاشت کاروں کومہیا کرنے تھے اور20 فیصد خرچ زمینداروں اور کاشت کاروں نے خود برداشت کرناتھا لیکن اس کے برعکس ڈیرہ غازیخان میں کسی زمینداریا کاشتکارکوزیتون کا ایک بھی پودا نہیں دیا گیا،سبسڈی کے نام پر تمام پودے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے زرعی میں لگائے گئے ،سبسڈی والے پودے غیرممالک سے امپورٹ شدہ تھے۔ اس تمام تر سبسڈی کا فائدہ بھی ناجائز طور پر عثمان بزدار نے خود اٹھایا سلاری زرعی فارم کے روڈ کے کناروں اور باغ کے اندربنائے گئے ڈیرہ پرکمروں کے ارد گرد لگائے گئے فاریسٹ پلانٹ محکمہ جنگلات ڈیرہ غازیخان نے اپنی سپر وژن میں سیکٹری جنگلات کے حکم پر لگوائے۔پہاڑی اورناہموارزمین کوہموارکرنے کیلئے سرکاری مشینری استعمال کی گئی،جب اس سلسلے میں محکمہ زراعت انجینئرنگ کے سربراہ چوہدری ندیم سے معلومات اوران کا موقف جاننا چاہا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے کوئی سرکاری بلڈورنہیں بھیجے لیکن مجھے معلوم ہے کہ وہ بلڈورکہاں سے آئے تھے لیکن آپ کون ہیں بتائوں گا البتہ وزیراعلیٰ کے زرعی فارم پر اپنے صوبائی سیکرٹری زراعت کیساتھ معائنہ کیلئے وہاں جاتا تھا۔

    اس زرعی فارم کیلئے خصوصی طورپربجلی کی نئی ٹرانسمیشن لائن لگوائی گئی،بجلی کی اس لائن سے کسی ایک گھر کو بجلی نہیں جارہی کیونکہ اس علاقہ میں کوئی رہائشی آبادی ہے ہی نہیں۔اس زرعی فارم کوبارتھی روڈ سے ملانے کیلئے 5کروڑ روپے کی لاگت سے کارپٹ روڈ بستی محمد بخش روح والاکے نام سے منظورکرائی گئی لیکن اس روڈ کو بستی محمد بخش روح والاسے 3-4کلومیٹرسے پہلے سردار عثمان خان بزدار کے زرعی فارم کی طرف موڑدیاگیا،اس سڑک کے بننے سے بستی محمد بخش کے رہائشوں کوکوئی فائدہ نہیں پہنچا،شارع عام ہونے کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے روڈ پرجنگلے لگا کرپابندی لگا دی گئی۔اس سڑک کو استعمال کرتے ہوئے کوئی بڑی گاڑی بستی محمد بخش روح والا نہیں جا سکتی۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    نیب نے فرح خان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا

    نیب نے سابق خاتون اول کی دوست کے حوالے سے وضاحت کردی

    شہزاد اکبر بھاگ گیا، فرح بھاگ گئی،کچھ کیا نہیں تو ڈر کیسا؟ سعد رفیق

    فرح خان کیخلاف ریکارڈ کے حصول کیلئے نیب متحرک

    وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے اس پر بس نہ کی مسلم لیگ ن کی سابقہ دورحکومت میں بستی سلاری کیلئے ایک واٹرسپلائی سکیم منظورکی گئی تھی،عام انتخابات قریب ہونے پر الیکشن کمیشن نے ترقیاتی کاموں پابندی لگا دی تھی تویہ سکیم بھی اس وقت پایہ تکمیل کونہ پہنچ سکی ،جب پی ٹی آئی کی حکومت میں سردار عثمان احمدخان بزداروزیراعلیٰ بنے توانہوں وہ سکیم بستی سلاری میں بنوانے کی بجائے محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے آفیسران کوحکم دیکر اپنے زرعی فارم پربنوالی اورانسانی آبادی کوپینے کے پانی سے محروم رکھا گیا،اس واٹرسپلائی سے کسی ایک گھرکوپانی کی سہولت میسر نہیں ہے جہاں یہ واٹر سپلائی بنائی گئی وہاں پرکوئی انسانی آبادی نہیں ہے،اس واٹرسپلائی سکیم سے سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدار کے 14 ایکڑ زرعی فارم جس میں زیتون،کھجور،انجیراوربیری ودیگرپھلوں کے پودے لگے ہوئے ہیں سیراب ہوتے ہیں،اس کے علاوہ انہوں نے مزید چالاکی کرتے ہوئے 3عدد چھوٹے 2″انچ سائزکے پانی کے بورکرائے ہوئے ہیں اگرکوئی اس واٹرسپلائی سکیم پرسوال کرے تو اسے بتایا جاسکے کہ ہم سرکاری واٹرسپلائی کے پانی سے باغ کوسیراب نہیں کرتے بلکہ ہم نے پانی کیلئے اپنے بورکرائے ہیں۔

    اُدھرذرائع کا کہنا ہے واٹرمنیجمنٹ ڈیرہ غازیخان سے سرکاری خرچ پرجدید ترین ڈرپ اری گیشن سسٹم نصب کرایا گیا۔محکمہ زراعت کے ایک آفیسرنے نام شائع نہ کرنے کی شرط پربتایا کہ اس وقت کے کمشنر،ڈپٹی کمشنر،بی ایم پی کمانڈنٹ حمزہ سالک اورکیپٹن سمیع فاروق نے ہم پردبائوڈالااورکہا کہ تم اپنے ذرائع سے ڈرپ اری گیشن لگواکردوجس پر متعلقہ آفیسر نے جواب دیاکہ ڈرپ اری گیشن ہمارا شعبہ نہیں ہے یہ واٹرمنیجمنٹ کا کام ہے توپھرڈرپ اری گیشن سسٹم انہوں لگایا نہیں معلوم کہ اس کے اخراجات متعلقہ آفیسروں یاان کے فرنٹ مین ٹھیکداروں نے برداشت کئے ہیں ۔

    اس باغ اورزمین کی مستقل رکھوالی کیلئے خصوصی طورپربلوچ لیوی فورس کی ایک چوکی قائم کرائی گئی ،جہاں پر بلوچ لیوی کے دوملازم لیاقت اورعرفان مستقل طورتعینات ہیں ،ان میں سے ایک دن کے وقت جبکہ دوسرا رات کی ڈیوٹی کرتاہے۔جب اس سلسلے میں بلوچ فورس کے صوبیدارمیجرغلام رسول خان بزدار سے زرعی فارم پربنائی گئی بلوچ لیوی کی چوکی سے متعلق سوال کیاتوانہوںبتایاکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکے حکم پرڈپٹی کمشنرجوکہ ہمارے سینئرکمانڈنٹ ہیں کے حکم پر ہمارے کمانڈنٹ نے وہاں مستقل چوکی قائم ہے جہاں ہمارے دوملازم ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں،جب ان سے پوچھا گیا کہ اب توعثمان خان وزیراعلیٰ نہیں ہیں اب تووہاں پرچوکی ختم ہونے چاہئے تواس پرصوبیدارمیجرنے جواب دیا ہمارے تمام آفیسران بشمول ڈپٹی کمشنرکے علم میں ہے اورہرماہ تمام ملازمین کی ڈیوٹی کی رپورٹ جمع کرائی جاتی ہے ۔اب دیکھنایہ کہ وسیم اکرم پلس جسے عمران خان نے یہ کہہ کروزیراعلیٰ پنجاب مسلط کردیا تھا کہ اس کے گھرمیں بجلی نہیں ہے،اس کی ہوشرباء کارناموں پرکون اور کب نوٹس لیتاہے ۔۔؟

  • ضمانت خارج، پٹواری کو اینٹی کرپشن نے کیا گرفتار

    ضمانت خارج، پٹواری کو اینٹی کرپشن نے کیا گرفتار

    ڈیرہ غازی خان(ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی سے)ریکارڈمیں ردوبدل ہائیکورٹ ملتان بنچ سے ضمانت خارج ہونے پراینٹی کرپشن نے پٹواری کوگرفتارکرلیا۔

    تفصیل کے مطابق ڈیرہ غازیخان میں جعلسازی کے ذریعے پرت پٹوار اور پرت سرکار میں کٹنگ کرکے رقبہ فروخت کرنے پر پٹورای کلیم کامران کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمہ درج ہوا،جس پرپٹواری موصوف نے ہائیکورٹ ملتان بنچ سے ضمانت قبل ازگرفتاری کرانے کرالی تھی جس پرتو آج ملتان ہائی کورٹ بینچ سے ضمانت قبل از گرفتاری خارج ہونے پر سرکل آفیسر ہیڈ کوارٹر انٹی کرپشن ملک مجید نے پٹواری محمد کلیم کامران کوموقع پر گرفتار کر لیا ہے ،

    پٹواری محمد کلیم کامران نے ملزمان محمد قاسم ،عمر، جند وڈہ، محمد حسین کی ملی بھگت سے فراڈ کیاتھا چاہ رویے والا میں مثل میعادی میں تبدیل کرکے بغیر کسی رجسٹری انتقال عدالتی حکم سے ملزمان وغیرہ کو رقبہ کا کا مالک بنا کر فروخت کیا تھا جس پرانٹی کرپشن ڈیرہ غازیخان نے کارروائی عمل لائی۔

    کیا آپ کو علم ہے کہ سپریم کورٹ کے ملازمین بھی نہیں پہنچ سکے،عدالت

    اللہ تعالیٰ اس ملک کے سیاست دانوں کو ہدایت دے،لاہور ہائیکورٹ کے ریمارکس

    لانگ مارچ، راستے بند، بتی چوک میں رکاوٹیں ہٹانے پر پولیس کی شیلنگ،کئی گرفتار

    پی ٹی آئی عہدیدار کے گھر سے برآمد اسلحہ کی تصاویر سامنے آ گئیں

  • بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ، آئی ایم ایف اورسگریٹ پرٹیکس ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بجٹ سے پہلے رواں ہفتے میاں شہبازشریف کی حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام پرمہنگائی کا بم گراتے ہوئے ایکدم پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30روپے فی لیٹربہت بڑااضافہ کرکے عوام کوزندہ درگور کر دیا اور پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ پاکستان کودیوالیہ ہونے سے بچانے کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا ناگزیرہوگیاتھا کیونکہ یہ اضافہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرض کی قسط حاصل کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں آئی ایم ایف نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بغیر قرض جاری کرنے سے انکار کردیا تھا۔

    اس وقت پاکستان میں سیاسی بھونچال جمودکاشکار ہے۔عمران خان کی حکومت گر گئی اورپی ڈی ایم اتحادکی نئی حکومت بن گئی، کردار بدل گئے ،سابقہ حکمرانوں نے اپوزیشن کا درجہ حاصل کرلیا اور اپوزیشن حکمران بن گئی لیکن پاکستان کی اقتصادی بدقسمتی کا المیہ جاری ہے ۔جس کے سبب خدانخواستہ آنے والے دنوں میں پاکستان کے سری لنکا کی طرح کے حالات پیداہونے کاخدشہ ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارت اورچین سمیت تینوں ملکوں نے امداد دینے کاکوئی وعدہ نہیں کیا ،جس سے میاں شہباز شریف کی حکومت کے لئے مشکلات کھڑی ہوگئیں ہیں،جس کاحل انہوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرنکالا۔پٹرولیم مصنوعات کی ہردورمیں ہرحکومت نے من چاہی قیمتیں مقررکیں اور آئی ایم ایف بھی ہربارپٹرول اوربجلی کی قیمت بڑھانے کامطالبہ کرتا ہے لیکن اس کے برعکس تمباکوکی مصنوعات خاص طور پر سگریٹ کی قیمت بڑھانے کی کبھی بات نہیں کی گئی ،کافی عرصہ سے پاکستا ن میں سگریٹ پر ٹیکس نہیں لگایا گیا دنیابھر میں سب سے سستے سگریٹ پاکستان میں فروخت ہورہے ہیں ،کیاآئی ایم ایف کوپاکستان میںسستے سگریٹ دکھائی نہیں دیتے ؟اورسستے سگریٹس کی وجہ سے پیداہونے والی بیماریوں کے علاج پرخرچ ہونے والاخطیرزرمبادلہ دکھائی نہیںدیتا؟
    پاکستان میں سگریٹ پر ٹیکس 43 فیصد ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت کی تجویز ہے کہ سگریٹ کے پیکٹ کی قیمت کا 70 فیصد ٹیکس لاگو ہونا چاہیے۔یہ ٹیکس لاگو نہ ہونے سے پاکستان میں سگریٹ نوشی میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے اس وقت ایک اندازے کے مطابق تقریبا تین کروڑ پاکستانی سگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ اس سے سالانہ اموات ایک لاکھ 60 ہزار ہیں، یعنی روزانہ تقریبا 300 کے قریب لوگ مرجاتے ہیں۔ اتنی اموات تو کرونا سے بھی نہیںہوئیں۔کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں جان بچانے والی تقریبا 100 ادویات کی قیمتوں میں تو 260 فیصد تک اضافہ ہوا ہے لیکن جان لیوا سگریٹ پر ایک روپے کابھی ٹیکس نہیں لگایا گیا؟ پاکستان میں سگریٹ نوشی سے ہونے والے معاشی نقصانات 615 ارب سے تجاوز کر گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں۔پاکستان میں دو قسم کی کمپنیاں سگریٹ بناتی ہیں۔ ایک برٹش ٹوبیکو کمپنی اور فلپ مورس جیسی ملٹی نیشنل کمپنیاں جن کا مارکیٹ شیئر 95 فیصد ہے اور دوسرا لوکل کمپنیاں جن کا مارکیٹ میں حصہ پانچ فیصد ہے۔

    پاکستان میں آئندہ بجٹ پیش کرنے کی تیاریاں جاری ہیں لیکن تمباکو کمپنیاں مضر سگریٹ پر ٹیکس کم کرنے اور مزید قیمت نہ بڑھانے کے لیے اشتہارات سے یہ دعوی کر رہی ہیں کہ یہ سگریٹ ہی ہیں، جس نے پاکستان کی معیشت کو سنبھال رکھا ہے۔جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے یہ ٹوبیکو کمپنیاں سالانہ صرف 100 ارب روپے ٹیکس ادا کرتی ہیں اوران ٹوبیکوکمپنیوں کی وجہ سے پاکستان کو ہر سال تمباکو کے باعث بیماریوں سے 615 ارب روپے کا نقصان پہنچتا ہے، اس رقم کا 71 فیصد صرف سرطان، امراض قلب اور پھیپڑوں کی بیماریوں پر خرچ ہوتا ہے۔ یہ رقم سگریٹ کمپنیوں سے حاصل کردہ ٹیکس سے بھی 5 گنا زیادہ ہے۔ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان میں 60 فیصد سگریٹ نوشی نوعمری میں شروع کی جاتی ہے۔ اسکی بڑی وجہ پاکستان میں دنیا بھر کے مقابلے میں سستے ترین سگریٹس کی دستیابی ہے جس سے نہ صرف نوجوان اس لت کا شکار ہوتے ہیں بلکہ کچھ کیسز میں سگریٹ نوشی شروع کرنے کی عمر 6 سال ہے۔

    تمباکونوشی کے عادی غریب طبقے سے وابستہ افراد سستے سگریٹ کی وجہ سے موت بآسانی خرید لیتے ہیں جبکہ اس کے باعث کینسر جیسے مہلک اور مہنگے مرض سے لڑ نہیں پاتے کیونکہ اس کا علاج اتنا مہنگا ہوتا ہے کہ عام آدمی اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شوکت خانم ہسپتال کی ویب سائٹ پر بتائی گئی تفصیلات کے مطابق اس کے ایک سال کے علاج کا لگ بھگ خرچہ کچھ اس طرح ہوتا ہے؛سرجری پر 300000 روپے، ریڈی ایشن کیلئے125000روپے، کیموتھراپی کیلئے 150000روپے جبکہ کل لاگت تقریبا 1075000 روپے تک آتی ہے۔ اب کہاں 60،70 روپے کے سگریٹ سے ہونے والا کینسر اور کہاں یہ 1075000روپے کی نئی زندگی،جس کی ادویات ودیگراخراجات علیحدہ ہیں۔

    گذشتہ ہفتے پاکستان کے سرکردہ سوشل اور ڈیجیٹل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں نے پاکستان میں تمباکو کے استعمال کے خلاف آگاہی پیدا کرنے کا عہد کیا۔ یہ عزم انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیم کرومیٹک ٹرسٹ کے زیر اہتمام ایک کانفرنس میں کیا۔ کانفرنس کا انعقاد مری کے ایک نجی ہوٹل میں کیا گیا۔کانفرنس کا آغاز ایک جامع پریزنٹیشن سے ہوا جس میں تمباکو کے صارفین کی تازہ ترین تحقیق اور ڈیٹا، صحت کے شعبے پر اثرات اور ٹیکس شامل تھے۔ پراجیکٹ مینیجر کرومیٹک ٹرسٹ، طیب رضا نے کانفرنس کے شرکا کو پریزنٹیشن کے دوران بتایا کہ تمباکو نوشی کس طرح بیماری، معذوری اور موت کا باعث بنتی ہے۔کانفرنس میں سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے رضاکاروں پر زور دیا گیا کہ وہ تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانے کے لیے اپنا کردار ادا کریں کیونکہ پاکستان میں بڑے پیمانے پر سگریٹ نوشی کی وجہ سستے سگریٹ کی دستیابی ہے۔ سی ای او کرومیٹک ٹرسٹ شارق خان نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے سروے کے مطابق پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کر دیتے ہیں جو کہ تشویشناک ہے اور ہمیں اپنے نوجوانوں کو اس لعنت سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکومت تمباکو کی تشہیر اور اسپانسر شپ کے حوالے سے اپنے قانون کو مزید مضبوط کرے۔سی ٹی ایف کے کے کنٹری ہیڈ ملک عمران احمد نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے ایک موت تمباکو کے استعمال سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک میں تمباکو کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے جس کی وجہ آبادی میں مسلسل اضافہ، کم قیمتیں، اس کے خطرات سے آگاہی کی کمی اور تمباکو کی صنعت کی مارکیٹنگ کی جارحانہ کوششیں ہیں ۔ انہوں نے کانفرنس میں شریک سوشل میڈیا کے رضا کاروں سے درخواست کی کہ اگر اس وقت عوام میں تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے حوالے سے مہم چلائی جائے تو یقینا حکومت آئندہ بجٹ میں اس پہ ٹیکس لگانے پہ مجبور ہوگی ۔ڈاکٹر ضیا الدین اسلام، کنٹری لیڈ ٹوبیکو کنٹرول، وائٹل اسٹریٹیجیز اور سابقہ ہیڈ ٹوبیکو کنٹرول سیل منسٹری آف این ایچ ایس آر سی نے تمباکو نوشی کو اس کی اصل روح کے مطابق لاگو کرنے کا مطالبہ کیا، جس میں سگریٹ کے پیکٹ پر تصویری صحت کے انتباہات کا سائز بڑھانا ، کھلے سگریٹ کی فروخت اور اشتہارات پر پابندی کا نفاذ شامل ہیں ۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تمباکو پر ٹیکس میں اضافہ کیا جائے کیونکہ پانچ سال سے کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سگریٹ کو ناقابل فروخت بنانے کے لیے ہیلتھ لیوی یا ہیلتھ ٹیکس کو لاگو کرنے کی ضرورت ہے جسے صحت کے شعبے میں معیشت کو فائدہ پہنچانے اور نوجوانوں کو سگریٹ نوشی سے روکنے کے لیے استعمال کیا جا سکے۔آئی ایم ایف پٹرول کی قیمت بڑھانے پرتوزوردیتا ہے لیکن سگریٹ پر بھاری ٹیکس لگاکرسگریٹ مہنگاکرنے کی بات نہیں کرتا کیونکہ آئی ایم ایف ہمیشہ سے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کاتحفظ کرتاہے،سگریٹ پرٹیکس بڑھانے کا ایسا کوئی بھی مطالبہ سگریٹ بنانے والی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادات کونقصان پہنچ سکتاہے اس لئے آئی ایم ایف کبھی بھی پاکستانی حکومت کوسگریٹ مہنگے کرنے کامطالبہ نہیں کریگا۔

    سگریٹ کی قیمت میں 10 فیصد اضافے سے فوری طور پر5 فیصد تمباکو نوشی میں کمی ہوگی ، اگر مہنگائی کے تناسب سے قیمتوں میںمسلسل اضافہ ہوتارہے تو 10 فیصد تمباکو نوشی کو کم کیا جا سکتا ہے۔تحقیق کے مطابق سگریٹ مہنگی کرنے سے سب سے زیادہ نوجوان تمباکو نوشی ترک کرتے ہیں ۔ نوجوانوں میں یہ رجحان بوڑھے افراد سے 2 گنازیادہ ہے۔ سگریٹ نوشوں میں 10 فیصد کمی کا مطلب پاکستانی معیشت کو 60 ارب روپے سالانہ کی بچت جبکہ 16 ہزار سے زائد پاکستانیوں کی زندگیوں کو بچایا جا سکے گا۔ بہت سے ممالک نے سگریٹ کی قیمت میں 70 سے 80 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔اب درست فیصلے کرنے کاوقت ہے، آنے والے بجٹ میں حکومت سیگریٹ پربھاری ٹیکس لگاکراس کی قیمت بڑھائے اس سے ایک توکثیرریونیوحاصل ہوگا دوسراسیگریٹ مہنگے ہونے سے نو جوانوں کی زندگیاں بھی بچ جائیں گی۔ وزیراعظم شہبازشریف صاحب آپ سگریٹ مافیا کیخلاف بھی کارروائی کا حکمنامہ جاری کر کے آپ لاکھوں جانیں بچا سکتے ہیں۔ ان موت کے سوداگروں اور بین الاقوامی مافیا کو لگام آپ ہی ڈال سکتے ہیں ۔ اس مافیاکوپاکستان کی معیشت اور عوام کی جان سے کھیلنے نہ دیا جائے۔ بچوں کو تمباکو کے استعمال سے بچائیں، سگریٹ پر ایف ای ڈی میں کم از کم 30 فیصد اضافہ کریں۔ ان کی قوت خرید سے باہر ہونے کے لئے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس میں اضافہ بہت ضروری ہے۔سگریٹ پر بھاری ٹیکسوں کے نفاذ سے حکومت کے ریونیو میں اضافے کیساتھ یہ کم عمر افراد کی پہنچ سے دور ہوجائے گی مزید برآں اس کے بآسانی دستیاب نہ ہونے سے حکومت کے صحت کے شعبے پر اخراجات میں کمی ہوگی اور فضا بھی صاف ستھری ہوگی ماحولیاتی آلودگی کاخاتمہ بھی ممکن ہوگاجس سے پاکستانی عوام صاف ستھرے ماحول میں سانس لیکر بیماریوں سے محفوظ پاکستان میں اپنی زندگیاں بسرکرسکے گی۔

  • وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

    وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

    وسیم اکرم پلس کے کارنامے سامنے آنے لگ گئے،200 سے زائد گھر مسمار کروا کر زمینوں پر قبضہ کر لیا

    ڈیرہ غازیخان ، سابق وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے کارنامے سامنے آنا شروع ہو گئے، وزیراعلیٰ بننے کے پانچ روز بعد ہی آبائی علاقے میں غریبوں کی زمینوں پر قبضہ کر لیا،وزیراعلیٰ بننے کے 5 روز بعد ساکرموڑ منگروٹھہ روڈ پرسرکاری مشینری کی مدد سے دھاوابول کر200 سے زائد گھرمسمارکرکے پٹرول پمپ سمیت 80 مربع زمین پرقبضہ کرلیا،پٹرول پمپ کوپنجاب پولیس کی چوکی میں تبدیل کردیا گیا،زمین پر قبضہ برقرار رکھنے کیلئے پنجاب پولیس کی حدودمیں بارڈرملٹری پولیس کا تھانہ بنا دیا گیا،سردارعثمان خان کا دعویٰ ہے کہ یہ ہماری خاندانی زمین تھی جس پرقیصرانی قبیلے کے لوگ زبردستی قابض تھے ،ہم نے عدالت سے مقدمہ جیت کراپنارقبہ واگذارکرایا ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں سابق وزیراعلی سردارعثمان خان بزدارکے دادا سردارپائند خان بزدارنے یہاں کے مقامی پنچائتی جرگہ میں تسلیم کیا اورلکھ کر دیا تھا کہ اس رقبہ پربزدارقوم کاکوئی حق نہیں ہے اورانہوں نے اس پر قیصرانی قبیلے کا حق ملکیت تسلیم کیا۔

    ڈیرہ غازیخان تحصیل تونسہ شریف سے منتخب ہونے والے رکن پنجاب اسمبلی سردارعثمان احمد خان بزدار نے 21 اگست 2018ء کوبطوروزیراعلیٰ پنجاب حلف اٹھایا تھا،جسے سابق وزیراعظم عمران خان نے وسیم اکرم پلس قراردیا تھا نے محض وزیرااعلیٰ بننے کے 5روزبعد ساکرموڑمنگروٹھہ روڈپرسرکاری مشینری کی مددسے دھاوا بول کر قیصرانی قبیلے کے 200 سے زائد گھروں پرمشتمل آبادی کومسمارکرا دیا اورساتھ ہی پٹرول پمپ سمیت 80 مربع زمین پرقبضہ کرلیا۔پٹرول پمپ کو پولیس چوکی میں تبدیل کردیاگیا۔قیصرانی قبیلے کے لوگوں کا کہنا ہے قبضہ کی گئی زمین ان کی ملکیت ہے ،جبکہ بزدارکہتے ہیں کہ یہ زمین ہماری ہے کیونکہ ہم نے اس زمین کا کیس عداکت سے جیتا ہے۔ذرائع کاکہناہے کہ سابق وزیراعلیٰ عثمان بزدارنے اس علاقہ میں جنتا زمین قبضہ میں لی ہے اس کے مقابلے میں اس علاقہ میں ان کی اتنازمین نہیں ہے،قبضہ شدہ سینکڑوں کنال زمین قیصرانی قبیلے کے غریب مزدوروں کی ہے جس پرسردارعثمان بزدارنے وزیراعلیٰ بننے کے فوراََ بعد بزورِطاقت قبضہ کرلیا۔

    ساکرموڑپنجاب پولیس کی حدودمیں واقع ہے یہاں پرسابق وزیراعلی عثمان بزدار نے سرکاری وسائل کا ناجائزفائدہ اٹھایا،اس قبضہ شدہ رقبہ پر اپنا قبضہ مستحکم اورحفاظت کرنے کیلئے پنجاب پولیس کی حدود میں کروڑوں روپے خرچ کرکے بارڈر ملٹری پولیس کی ایک نئی چیک پوسٹ تعمیرکی گئی جسے بعدمیں بی ایم پی تھانہ ساکرمیں تبدیل کردیا گیاجہاں ایس ایچ اوسمیت نفری بھی تعینات کردی گئی۔ تمن قیصرانی میں بنائے گئے غیرقانونی بی ایم پی تھانہ کی حدودبنانے کیلئے چار موضعے شامل کئے ،اس علاقہ مین اثراورقبضہ شدہ زمین کی حفاظت کومدنظررکھتے ہوئے تمن بزدارکے دوموضع جات شامل کئے گئے تاکہ تمن بزدارسے تعلق رکھنے والے بی ایم پی اہلکاراورایس ایچ اوتعینات کئے جاسکیں ،اس کے علاوہ پنجاب پولیس کے علاقہ میں بی ایم پی کاتھانہ بنانا بھی قواعدوضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔بی ایم پی تھانہ بننے کے باوجود سردارعثمان خان بزدارکواس علاقہ میں ایک مستقل رہائش کی ضرورت تھی کیونکہ انہیں معلوم تھاکہ وزارت اعلی کی کرسی کسی بھی وقت چھن جائے گی تواس ضرورت کوپوراکرنے کیلئے سب پہلے بی ایم پی رسالداروں کی دواضافی سیٹیں پیداکی گئیں ان میں سے ایک سیٹ پراپنے چھوٹے بھائی عمرخان بزدار کوترقی دیکر رسالداربنا دیا کیونکہ اس نے بطور رسالدارتمن بزدارمیں اپنی ڈیوٹی سرانجام دینا تھی توتھانہ ساکرکے ساتھ بی ایم پی رسالدار کی رہائش کیلئے سرکاری فنڈزکا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے ایک عالی شان عمارت بنوانے کے احکامات دئے گئے تا کہ اقتدارجانے کے بعد قیصرانی قبیلے کے لوگ سرنہ اٹھا سکیں اوراگروہ اپنی زمین کا قبضہ چھڑانا چاہیں توبذریعہ بی ایم فورس جوکہ رسالدار (جس کاگریڈ ایک ڈی ایس پی کے برابرہوتا ہے)کی زیرکمان ہوتی ہے اسے بروقت اپنے مقاصد کیلئے استعمال کیاجاسکے۔

    ذرائع کابتاناہے کہ جس زمین پرقبضہ کیا گیا وہ قدرتی معدنیات سے مالامال ہے۔ذرائع سے یہ بھی معلوم ہواہے کہ اس رقبہ کی آبپاشی کی ضروریات کوپوراکرنے کیلئے کسی آبادی کے نام پرایک واٹرسپلائی سکیم منظورکرائی گئی جوکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈیرہ غازیخان نے تعمیرکی،کیونکہ رہائشی گھروں کی آبادی توپہلے مسمارکردی گئی تھی ،اس نئی تعمیرشدہ واٹرسپلائی سکیم سے پانی کی سپلائی کیلئے کوئی ایک گھربھی موجودنہیں ہے تویہ واٹرسپلائی صرف زرعی مقاصد کیلئے استعمال ہوگی۔تونسہ سے ساکرموڑتک کا فاصلہ 9 کلومیٹر ہے ،اس قبضہ شدہ رقبہ کی ویلیوبڑھانے اوراپنی آمدورفت میں آسانی کیلئے37 کروڑروپے کی لاگت سے بہترین 9 کلومیٹرلمبی نئی کارپٹ سڑک بنوائی گئی۔

    دوسری طرف ذرائع کا کہنا ہے کہ سردارعثمان خان کے ایک داداسردارپائندخان بزدارنے مقامی پنچائتی جرگہ میں لکھ کردیا تھاکہ یہ زمین بزدارقوم کی نہیں ہے اوراس زمین پرقیصرانی قبیلے کاحق ملکیت تسلیم کیاتھا۔سردارعثمان بزدارکا خاندان مسلسل پرپیگنڈہ کررہاہے کہ ہم لوگ کمزورتھے توہماری زمینوں پر قیصرانیوں نے قبضہ کرلیاتھا،یہاں یہ سوال پیداہوتا ہے کہ کیا چیف سردارکمزورہوتا ہے ؟سردارعثمان خان بزدار کے والد سردارفتح محمد خان بزدارجنرل ضیاء الحق کے دورِ حکومت میں مجلسِ شوراکے رکن تھے ،کئی بارممبرپنجاب اسمبلی رہے اورخودعثمان خان بزدار دوبارتحصیل ناظم رہے ،اس کے علاوہ 2013سے 2018 تک مسلم لیگ ن کے دورِحکومت میں اِس علاقہ کے سیاہ وسفیدکے مالک تھے ،سوچنے کی بات تویہ ہے کہ اتنا کچھ اختیارات حاصل ہونے کے باوجودسابق وزیراعلیٰ سردارعثمان خان بزدارغریب دیہاڑی دارمزدورطبقہ سے اگران کارقبہ ہوتا توکیا ایسے لوگوں سے واگذارنہیں کراسکتے تھے۔

    پرامن احتجاج اور مارچ ہمارا قانونی اور آئینی حق ہے، شاہ محمود قریشی

    ملتان میں پولیس کریک ڈاون ،پی ٹی آئی کے 70 سے زائد کارکنان گرفتار

    پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کے گھروں پرچھاپے،عمران خان کا ردعمل

    ماڈٌل ٹاؤن میں پی ٹی آئی ایکٹیوسٹ کے گھر چھاپہ،دوران فائرنگ پولیس اہلکار شہید

    ’خونی مارچ ہوگا‘ کے اعلانانات کرنے والوں سے حساب لیں گے،وزیر داخلہ

    لال حویلی، پولیس چھاپے کے دوران رکن اسمبلی گرفتاری سے بچنے کیلئے پچھلے گیٹ سے فرار

    لانگ مارچ،متحرک کارکنان کی فہرستیں تھانوں کو مل گئیں

    پولیس پہنچی تو میاں محمود الرشید گرفتاری کے ڈر سے سٹور میں چھپ گئے

  • مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مہنگائی،نوجوان نسل اورسستے سگریٹ۔۔؟تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    گذشتہ ہفتے گھرکاسودا سلف خریدنے کیلئے میں بازارجاناہوا جہا ںمہنگائی کاسونامی آیا ہوا تھا ،اشیائے ضروریہ کی قیمتیں سن کر ہاتھوں کے طوطے اڑگئے ۔اس ہوشرباء مہنگائی کی وجہ سے جسم وجاں کارشتہ برقراررکھنا انتہائی مشکل ہوچکا ہے ،اپنے بجٹ کے مطابق خریدا ری کررہاتھاتواس دوران سگریٹ ڈسٹری بیوٹرکا ایک رکشہ ڈبہ آکررکا جس پر سے دونوجوان سیلزمین اترے ایک دکان کے اندرچلاگیا دوسرے نے کچھ پوسٹراٹھائے اور دکانوں کی دیواروں انہیں لگاناشروع کردیا،کچھ دیر کیلئے میں سودا سلف لینا بھول گیا اور سگریٹ کے پوسٹر لگانے والے کودیکھنے لگا جب اس نے دیوارپر پوسٹرچپکا لیا تو مجھے اس وقت شدید حیرت کااحساس ہوا،اس پوسٹرپر ایک نئے برانڈ کی 20سگریٹ کی ڈبی دکھائی گئی تھی جس کی قیمت صرف 30روپے درج تھی ،جس سے ایک جھٹکاسالگا،اس مہنگائی کے دور میں ایک سگریٹ کی ڈبی صرف 30روپے میں نوجوانوں کودی جارہی تھی جو 20 سگریٹ پرمشتمل تھی۔پاکستان میںآٹا،چینی ،دالیں ،سبزیاں ،ادویات سمیت ضرویات زندگی کی ہرچیزمہنگی ہے مگراس مہنگائی کے دور میں سگریٹ کاسستاہونابہت سے سوالات کوجنم دیتا ہے کہ سگریٹ اتنے سستے کیوں بیچے جارہے ہیں ۔۔؟

    اگرباقی دنیاسے سگریٹ کی قیمتوں کاتقابلی جائزہ لیاجائے تودنیامیں سب سے مہنگے سگریٹ سری لنکامیں ہیں جہاں سگریٹ کی ایک ڈبی کی قیمت نوڈالرکے قریب ہے اورپاکستان میں سگریٹ اتناسستاہے کہ 20سگریٹ ایک ڈبی کی قیمت صرف 30پاکستانی روپے ہے ،سگریٹ کی قیمت کم ہونے کی وجہ ایکسائزٹیکس کاکم ہونایا صحیح لاگونہ ہوناہے اورسگریٹ کی غیرقانونی سمگلنگ کانہ رکنے سلسلہ بھی اس میں شامل ہے ۔ نئی حکومت کو سگریٹ نوشی کے معاملے کوسنجیدہ لینا چاہئے ،سگریٹ پر بھاری ایکسائزٹیکسز لگاکرٹیکس وصولی پرعملدآمدکرائیں ،ٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کے استعمال میں کمی ممکن ہو گی اورتمباکونوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی ہماری نوجوان نسل بھی ہلاکت سے بچ جائے گی۔

    پاکستان اس وقت ایک ایسے دوراہے پر ہے جہاں درست فیصلہ سازی کی اشد ضرورت ہے۔ قومی خزانے کو درپیش خسارہ پالیسی سازوں کی فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ملکی خزانے کو دیرپا مدد نہیں کر سکتا۔ حکومت کو غیر ضروری اور مضر صحت اشیا جیسے تمباکو کی مصنوعات پر ٹیکس بڑھانا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف محصولات بڑھیں گی بلکہ صحت کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی،ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ تمباکو انڈسٹری کی جانب سے کی گئی کثیر خرچ مہمات اور گمراہ کن اشتہارات ومعلومات سے متاثر ہو کر پاکستان کے ارباب اختیار اور پالیسی سازوں نے اس حوالے سے کوئی سنجیدہ کوشش ہی نہیں کیونکہ سگریٹ بنانے والی کمپنیاں انہیں ہمیشہ راضی رکھتی ہیں،اس لئے پاکستان میں تمباکو کی مصنوعات کی قیمتیں خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں انتہائی کم ہیں۔ سگریٹ کی آسان دستیابی اور سستی ہونے کی وجہ سے پاکستان میںتمباکو نوشی کرنے والوں کی تعداد 2.9 کروڑ تک پہنچ گئی ہے۔تمباکو نوشی کرنے والے افرادکئی قسم کی خطرناک بیماریوں کا شکار ہیں۔ پاکستان میں سالانہ 170,000 افراد تمباکو نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    تمباکو نوشی نہ صرف اس شخص کے لیے مضرہے جو اِس کی عادت کا شکار ہے بلکہ ان افراد کے لیے بھی نقصان دہ ہے جو اس کے آس پاس رہتے ہیں، جسے سیکنڈ ہینڈ سموکنگ کہتے ہیں۔ یعنی آپ خود تو سگریٹ نہیں پی رہے ہوتے لیکن دوسروں کی سگریٹ کا دھواں آپ کے پھیپھڑوں کو اور آپ کے نظامِ صحت کو بھی انتہائی نقصان پہنچاتا ہے۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں موت کا سبب بننے والی آٹھ اہم وجوہات میں سے موت کی چھ وجوہات تمباکو نوشی کی وجہ ہیں۔ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی کرنے والے کم از کم 50لاکھ افراد پھیپھڑوں کے سرطان، دل کے امراض اور دوسری وجوہات کی بنا پر انتقال کرجاتے ہیں۔

    ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن یہ بھی کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہاتو2030 میں تمباکو نوشی سے منسلک وجوہات کی بنا پر مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم 80لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ ایک آدمی جو ایک سگریٹ پیتاہے تواس کی زندگی کے پانچ سے11منٹ کم ہوجاتے ہیں۔مجموعی طور پر ایک فرد سگریٹ نوشی کرکے اپنی زندگی کے 12سال کم کردیتا ہے۔ اور یہ بھی جاننا ضروری ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا ہونے والے 25فیصد افراد اور پھیپھڑوں کے کینسرزدہ 75فیصد افراد کی ہلاکت کا براہ راست تعلق سگریٹ نوشی ہوتاہے دوسری طرف تمباکو نوشی کا بینائی پر اثر ہونا ایک معلوم حقیقت ہے تاہم ایسوسی ایشن آف آپٹومیٹرسٹس کے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ تمباکو نوش افراد میں سے صرف ایک فرد اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ تمباکو نوشی اندھے پن کا بھی باعث بن سکتی ہے۔

    سگریٹ نوشی بچوں کی صحت پر براہ راست اثرات مرتب کرتی ہے۔ پاکستان میں روزانہ 1200 بچے سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں تمباکو پر ٹیکس بڑھانے سے یہ تعداد کم ہو جائے گی۔ دوسری طرف اقتصادی ماہرین کاکہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے سالانہ 615 ارب کا معاشی بوجھ پڑتا ہے جو کہ پاکستان کی جی ڈی پی کا 1.6 فیصد ہے۔ اس کی وجہ سے کئی منفی اثرات ہوتے ہیں جیسا کہ صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات اور تمباکو سے منسوب بیماریوں کی وجہ سے صارفین کی پیداواری صلاحیت میں کمی۔ دوسری طرف 2019 میں تمباکو کی صنعت سے حاصل ہونے والی آمدنی 120 ارب تھی جو تمباکو نوشی کی کل لاگت کا تقریبا صرف 20 فیصد ہے،ماہرین کا یہ بھی کہناہے کہ تمباکو کے استعمال سے ہونے والے صحت اور معاشی اخراجات ٹیکس کی وصولیوں سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔ اگرچہ تمباکو کی صنعت سطحی طور پر ایک بڑی ٹیکس دینے والی صنعت ہے لیکن تمباکو کی صنعت کا ادا کردہ ٹیکس تمباکو کے استعمال سے ہونے والے نقصان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں موجود ٹیکس قانون مارکیٹ میں فروخت ہونے والے تمام سگریٹ پر لاگو کردیا جائے تو حکومت کو سالانہ 200 ارب روپے سے زائد کا ٹیکس مل سکتا ہے جبکہ اس وقت حکومت کو سالانہ 114 ارب روپے کا ٹیکس وصول ہورہا ہے۔ موجوہ نظام میں غیر قانونی سگریٹ کی سستے داموں پر فروخت تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ماہرین کایہ بتاناہے کہ تمباکو پر ٹیکس سب سے زیادہ کفایتی تمباکو کنٹرول اقدام ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ سگریٹ پر زیادہ ٹیکس سگریٹ نوشی کے آغاز کو روکتا ہے، سگریٹ کا استعمال کم کرتا ہے، اور یہاں تک کہ تمباکو نوشی چھوڑنے میں بھی مدد دیتا ہے۔ تمباکو پر ٹیکس لگانے میں پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت نے کوئی دلچسپی نہیں لی تھی۔ موجودہ حکومت کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ سگریٹ پر ٹیکس بڑھا کر عوام اور ملکی معیشت کی مدد کی جائے۔ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر عالمی ادارہ صحت کی سفارشات کے مطابق تمباکو کی مصنوعات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 30% اضافہ کیا جائے تواس سے ایک طرف اضافی ریونیو حاصل ہوگا دوسراسگریٹ کی قیمتیں زیادہ ہونے سے ہماری نوجوان نسل تباہی سے بچ جائے گی اورسگریٹ سے حاصل شدہ ریونیو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔