Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام تاریخ کے آئینے میں

    تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    بھارتی شہر جودھ پور میں ہندو مسلم فسادات، متعدد علاقوں میں کرفیو نافذ،بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق چاند رات کو مسلمانوں کی جانب سے عید کی مناسبت سے اپنا جھنڈا لگانا تھا جب کہ اسی جگہ ہندو تہوار پرشورام جینتی کے سلسلے میں ہندئووں نے بھی اپنا جھنڈا لگانے کی ضدکی، جس پر دونوں گروپوں میں جھگڑا شروع ہوگیااورعید کی نماز کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو مسلم فسادات شروع ہوگئے۔گذشتہ ہفتے بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں ہنومان جینتی تہوار کے موقع پر انتہا پسند ہندوئوں نے مسلمانوں پر حملے کردیئے جس کے بعد پرتشدد فسادات پھوٹ پڑے۔بھارتی میڈیا کے مطابق نئی دہلی کے علاقے جہانگیر پوری میں ہنومان جینتی تہوار کا جلوس نکالا جا رہا تھا۔ جلوس کے شرکا نے معمولی تلخ کلامی کے بعد مسلمانوں کی املاک پر حملہ کردیا۔

    مقامی مسلمان رہنمائوں کا کہنا ہےکہ پولیس نے داد رسی کے بجائے الٹا مسلمانوں کو ہی گرفتار کرنا شروع کردیا اورپولیس انتہا پسندہندوئوں کو تحفظ فراہم کررہی ہے۔دہلی میونسپل کارپوریشن نے نوٹس کے بغیر جہانگیر پوری کی جامع مسجد کے دروازوں سمیت بہت سی املاک کو مسمار کر دیا۔ سپریم کورٹ نے اس کارروائی کو روکنے کے احکامات جاری کیے تھے، تاہم اس کے باوجود توڑ پھوڑ کی کارروائی جاری رہی۔کچھ روز قبل اسی علاقے میں مسلم مخالف فسادات ہوئے تھے، جس میں جھڑپوں کے دوران متعدد افراد زخمی ہوئے تھے اس واقعے کے بعد ہی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنما نے اس علاقے میں کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ایم سی ڈی سے کہا تھا کہ وہ فسادات میں ملوث افراد کی املاک کو تباہ کر دے۔جہانگیر پوری میں ہندوئوں کی بھی آبادی ہے، تاہم توڑ پھوڑ جامع مسجد کے علاقے میں کی گئی اور اس کی زد میں بیشتر مسلمانوں کی املاک آئیں۔

    اسی طرح ریاست کرناٹک میں سوشل میڈیا پر توہین اسلام پر مبنی پوسٹ کرنے پر مسلمان شہریوں نے شدید احتجاج کیا جس کے دبائو میں پولیس نے پوسٹ کرنے والے شخص کو گرفتار کرلیا تاہم اسے وی آئی پی پروٹوکول دیا گیا۔جس پر علاقہ مکین مشتعل ہوگئے اور تھانے کے سامنے احتجاج کیا، پولیس کی لاٹھی چارج پر احتجاج پرتشدد ہوگیا اور مظاہرین نے پولیس پر دھاوا بول دیا۔بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی ریاستوں مدھیہ پردیش، گجرات،جھاڑکھنڈ اورمغربی بنگال میں ہندوانتہاپسندوں نے مذہبی ریلی کے دوران مسلمانوں کے گھروں اوردکانوں پرحملے کئے اورلوٹ مارکے بعد آگ لگا دی۔ اطلاعات کے مطابق بھارت کی 4ریاستوں میں مسلم کش فسادات میںکئی ہلاکتیں اوردرجنوں زخمی ہوگئے۔

    ہندوانتہاپسندوں نے پولیس اہلکاروں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے گھروں میں گھس کرخواتین سے بدتمیزی بھی کی اورمردوں کوتشدد کا نشانہ بنایا۔مدھیہ پردیش کے مختلف شہروں میں کرفیو نافذ کردیا گیا۔گجرات میں مسلمانوں کی املاک اورگھروں پرحملے جاری ہیں۔ہندوانتہاپسندوں کی حمایتی پولیس نے ہندوئوں کے حملے روکنے کے بجائے متعدد مسلمانوں کوگرفتارکرلیا۔ ادھر دہلی کی جواہرلعل نہرو یونیورسٹی میں مسلمان طلبا کے گوشت سے بنی ڈشز کھانے پرپابندی عائد کردی گئی۔ پابندی کے خلاف احتجاج کرنے والے 16مسلمان طلبا پولیس کے تشدد سے زخمی ہوگئے۔ متعدد مسلمان طلباء کوگرفتاربھی کرلیا گیا۔

    بھارت میں مسلمانوں پر تشدد یا برا سلوک کوئی نئی بات نہیں۔ ہر دور میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں لیکن نریندرمودی کی حکومت میں مسلمانوں کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے اورزندگی گذارنامشکل ہوگئی ،ان کی نقل و حرکت بھی محدود ہو چکی ہے۔ کیونکہ بھارت میں ایک ہندوتواکی متعصب حکومت ہے ایک ایسی حکومت جو سرکاری سطح پر ہندوئوں کے علاوہ کسی دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو اہمیت نہیں دیتی۔ آئے دن ہندوئوں کے علاوہ تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کے ساتھ نامناسب سلوک کے واقعات پیش آتے رہتے ہیںاورمسلمان خاص نشانہ ہیں۔ جنونی ہندوئوں کی مسلمانوں کے ساتھ برے سلوک اور تشدد کی کئی ویڈیوزسوشل میڈیاکی وجہ سے دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔

    بھارت میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ فسادات کی تاریخ بہت پرانی ہے ،17ویں صدی سے لے کر آج تک لاکھوں فسادات ہوچکے ہیں 18مئی 2001کو شائع شدہ مضمون کے مطابق اگر کرائم ریکارڈ کے اعدادو شما ر کو سچ مانا جائے تو 1947سے لیکر اب تک بھارت میں 20لاکھ سے زائد فسادات تھانوں میں درج ہوئے ،ان میں اتر پردیش میں 4لاکھ 25ہزار،بہار میں 3لاکھ75ہزار، ہریانہ میں 1لاکھ 50ہزار ،پنجاب میں 2لاکھ،مہاراشٹر میں 3لاکھ50ہزار ،راجستھان میں 1لاکھ25 ہزار مقدمات درج ہیں ۔ 1947میں بٹوارے کے فوراََ بعد نوا کھالی سے شروع ہونے والے فسادات ،خانپور،علی گڑھ،مرادآباد،حیدرآباد،بہارشریف،بھاگلپور، جمشیدپور وغیرہ سے ہوتے ہوئے گجرات پہنچ کر اپنی انتہا کو پہنچ گئے ،جس میں مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی اور مسلمانوں کے خلاف ظلم کی تمام حدیں پارکر دی گئیں۔

    عزیزبرنی کی لکھی کتاب بھارت میں مسلمانوں کا قتل عام کے مطابق بھارت میں فسادات کی شروعات 1713 میں شروع ہو چکی تھی،1713میں گائے ذبح کرنے پر ہندو دہشت گردوں نے پہلا فساد برپا کیا ،20-1719میں کشمیر میں ایک مسلمان اور ہندو کی آپسی لڑائی فسادات کا باعث بنی،اسی طرح کئی چھوٹے بڑے نسلی فسادات ہوئے ۔1782میں سلہٹ ،آسام میں محرم کے موقع پرہندوؤں کو مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں میں مذہبی جلسے کرنے سے روکنے پر فسادات بھڑکائے گئے جس میں مسلمانوں کا قتل ِعام کیا گیا-

    1809 میں بنارس میں اورنگزیب کے ہاتھوں بنائی گئی مسجد پر ہندوؤں کے قبضہ کرنے کی کوشش پر فسادات بھڑک اٹھے، 1840 میں مرادآباد میں فسادات ہوئے ،1851میں ممبئی میں پیغمبر اسلام حضرت محمدۖ کے خلاف ایک گجراتی اخبار میں شائع مضمون فسادات کی وجہ بنا، 1857میں بجنو ر اور مرادآبادمیں فسادات ہوئے ۔1871میں بریلی میں محرم اور رام نومی کے ایک دن ہونے سے فسادات ہوئے-

    1874میںممبئی میںآر۔ایچ جلمئے کی ایک کتاب”گریٹ پروفیٹ آف دی ورلڈ”کے خلاف فساد بھڑکا یہ کتاب انگریزی میں تھی اس میں حضرت محمد ۖ کی شان میں گستاخی کی گئی تھی ۔1890میں علی گڑھ میں ایک مسجد میں سور کا گوشت اور ہندو ؤں کے ایک کنویں میں گائے کا گوشت ڈالنے پر فساد بھڑکایا گیا ۔1892میں بھاش پٹم ،اگست 1893میںممبئی۔ستمبر 1893میں قلابہ اور 1893میں گئو رکشا کے نام پر اتر پردیش کے بلیا میں فسادات ہوئے ۔1894میں مدراس،ناسک کے یلالہ، 1895میں پوربندراورچھلیا میں بھی فسادات ہوئے ،1907میں مورگھٹ میں بنگال کی تقسیم پر، 1912میں ایودھیہ میں بقر عید پر گائے کی قربانی کرنے سے روکنے پر، 1913میں نیلور میں ایک مسجد شہیدکرنے پر، 1916میں پٹنہ میں بقر عید پرہندوؤں کا قربانی روکنے پر، 1921میں گیا اور شاہ آباد میںبھی مسلمانوں کو انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے قربانی سےروکنے پرفسادات بھڑکے،1921میں مالےگاؤں میںانڈین کونسل ایکٹ1919کےسوال پرفسادات ہوئےاسی طرح بنگلور میں تحریک عدم تعاون کے دوران فسادات ہوئے ،24-1923 میں امرتسر،لاہور،سہارنپور، الٰہ آباد،کلکتہ اور دوسرے شہروں میں راجہ رام موہن رائے کی شدھی تحریک فسادات کاسبب بنی ۔

    1923میں ممبئی، 1932میںالور،1933 میں کلکتہ ،1935میں ہزاری باغ میں محرم کا جلوس اور رام نوی ایک ساتھ ہونے کے باعث فسادات پھوٹ پڑے اور ساتھ میں چمپارن اور سکندرآباد میں بھی مسلمانوں کو بے دردی سے تہ و تیغ کیا گیا ،1937میں گئو کشی کے مسئلے پر فسادات بھڑکائے گئے ،1939میں اترپردیش اور کلکتہ میں ہولی کے موقع پر مسجد کے سامنے میوزک بجانے سے روکنے پر مسلمانوں کو تختہ مشق بنا یا گیا ،اسی طرح اسی سال خانپور میں ایک جلوس پر حملے کے سبب جھگڑا ہوا جس سے فسادات بھڑکا دیے گئے ۔1941میں کلکتہ میں محرم کے موقع پر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ۔1950میں کالی کٹ ،دہلی ،پیلی بھیت،علی گڑھ اور ممبئی میں آر ۔ایس۔ایس کے دہشت گردوں کے ذریعے مسلمانوں کو بھارت چھوڑنے پر مجبور کرنے پر فسادات ہوئے ۔1953میں ہندومہاسبھا کے ایک جلوس پر پتھر پھینکنے کا بہا نہ بنا کر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے کیلئے فسادات برپا کئے گئے،اسی سال احمدآباد،ناسک اور پونے میں گن پتی اور محرم ایک ساتھ ہونے پر فساد بھڑکا یا گیا-

    1956 میں اتر پردیش کے کئی شہروں میں بھارتیہ بدیہ بھون کے ذریعے حضرت محمدۖ کے متعلق توہین آمیز مواد شائع کرنے پر فسادات ہوئے ، اسی طرح کوئی سال ایسا نہیں گیا جس میں مسلمانوں کے خلاف چھوٹے چھوٹے بہانوں سے فسادات نہ بھڑکائے گئے ہوں۔1962میں مالدہ میںحضرت محمد ۖ کی شبیہ مبارک شائع کرنے پر فساد برپا ہوا ،1963میں ندیا،کلکتہ میں حضرت بل سے موئے مبارک چوری ہونے پر فسادات ہوئے ،1966میں رانچی میں اردو کے خلاف نکالا گیا جلوس فسادات کا سبب بنا ۔1974میں شیوسینا کے ذریعے ہندوؤں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کی مہم جوگیشوری میں فسادات ہوئے 1975میں جوگیشوری میں شیوسینا کے دہشتگردوں کے مسلمانوں پر حملے فسادات کا باعث بنے ۔

    1987میں میرٹھ،ہاشم پور ملیانہ،پھرشیلاپوجن اور رام جنم بھومی تنازع نے زور پکڑنے کے بعد بھارت میں نہ ختم ہونے والے فسادات کا سلسلہ شروع ہوا جو آج تک تھم نہ سکا۔1990میں لال کرشن اڈوانی کی رتھ یاترا نے پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت اور ظلم و تشددکو نقطہ عروج پر پہنچا دیا جو 6دسمبر 1992کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کی املاک تباہ کی گئیں ان کی دکانیں اور جائیدادیں زبردستی چھین لی گئیں اور مسلمانوں کا سنگینوں اور تلواروں کے ذریعے قتل عام کیا گیا ، جس میں شیو سینا، آر ایس ایس اور بجرنگ دل و دیگر ہندو دہشتگرد تنظیموں کو سرکاری آشیرباد اور پولیس کا تحفظ حاصل تھا۔

    مودی کی دہشت گردغنڈہ تنظیم آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو منظم اور انتہائی خطرناک انداز میں مسلمانوں کیخلاف نفرت اورتشدد کوابھار رہی ہے ۔بھارت میں مسلمانوں کیخلاف ایک سازش کے تحت ہندوانتہاپسندوں کے مفروضوں پرمبنی محبت جہاد(love jehad)،، کرونا جہاد اور سول سروسز جہاد ، ریڑھی جہاد، لینڈ جہادتوکبھی گئورکشاکے نام پرمسلمانوں پرمظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں،تاریخ گواہ ہے کہ بھارت میں پولیس نے کبھی بھی مسلمانوں کوتحفظ نہیں دیا،ہمیشہ ہی آر ایس ایس اور دیگر ہندوانتہاپسند دہشت گردتنظیموں کی آلہ کاربن کر مسلمانوں پر ظلم وجبر کے علاوہ سیدھی گولیاں مار کر انہیں قتل کرتی رہی ہے ،جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں محض شک کی بنیاد پرمسلمانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے ،بھارت میں ہندو انتہاپسندوں اور آر ایس ایس کے غنڈوں نے اسلام اورمسلمانوں کے خلاف زہر افشانی توکب سے شروع کی ہوئی ہے لیکن اب یہ نفرت اپنی آخری حدوں کو چھو رہی ہے،حکومت کی جانب سے اس نفرت کو عام کیا جارہا ہے،انفرادی کے بجائے اجتماعی طور پر مسلمانوں کی مخالفت میں قوانین بنوائے جارہے ہیں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت اب ا دارہ جاتی حیثیت اختیار کرچکی ہے اور نازی مودی نے مسلمانوں کیخلاف ایسی فضا پیدا کردی ہے کہ جہاں ان کی زندگیاں دائوپرلگ چکی ہیں ۔

  • سگریٹ پرٹیکس لگائیں ،نسلوں کو بچائیں ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    سگریٹ پرٹیکس لگائیں ،نسلوں کو بچائیں ،تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    اس وقت لکھنے کیلئے بہت زیادہ موضوع موجود ہیں اگرعالمی منظرنامہ پر نگاہ ڈالیں تو سب سے پہلے روس یوکرین جنگ سامنے آجاتی ہے ،اس پس منظرمیں نیٹوممالک ،یورپ اور امریکہ کی طرف سے روس پر عائدکی گئی پابندیاں تودوسری طرف پاکستان کے موجودہ حالات پرنظردوڑائیں توپل پل بدلتی سیاسی صورتحال نہایت پریشان کن ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ معاملات ہاتھ سے نکلتے جا رہے ہیں، اپوزیشن نے وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتمادپیش کردی ہے اورپاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں حکمران جماعت میں وزیراعلیٰ عثمان بزدارکیخلاف بغاوت سامنے آچکی ہے،حکومت اور اپوزیشن کے درمیان معاملات سلجھنے کے بجائے الجھتے جا رہے ہیں۔ روز بروز تلخیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ حکومتی وزرا اور مشیران جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کر رہے ہیںاور ساتھ میں وزیر اعظم عمران خان خود ان حالات میں جس طرح کی زبان استعمال کررہے ہیںاس طرح کے رویہ سے معاملات سدھرنے کی بجائے مزیدالجھتے جارہے ہیں ۔ان حالات وواقعات کوپس پشت ڈالتے ہوئے اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں پاکستا ن میں ہر چیزپر اتنابے رحمانہ ٹیکس لگاہواہے کہ اس ٹیکس کی وجہ سے ہونے والی مہنگائی نے عوام سے جینے کاحق بھی چھین لیاہے جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں امیروں پر بلند شرح سے ٹیکس نافذ کیے جاتے ہیں تاکہ محروم طبقات کو سماجی خدمات مہیا کی جاسکیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں انتہائی جابرانہ ٹیکس نظام نافذ ہے۔ جس میں غربا پر دھڑا دھڑ بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ لاد دیا جاتا ہے اور اشرافیہ کے طاقتور طبقوں کو ٹیکس چھوٹوں، رعائتوں اور ری بیٹس (Rebates) سے نوازا جاتا ہے۔دنیابھرایک ایسی چیزبھی ہے جس پربہت زیادہ ٹیکس لگایاجاتاہے لیکن پاکستان کی حکومتیں ایسی فراخدل واقع ہوئی ہیں کہ اس چیزپرٹیکس بڑھانے کے بارے میںکبھی سوچابھی نہیں ہے وہ چیزہے "سگریٹ”جس پر حکومت ٹیکس لگانے سے ڈرتی ہے۔ پاکستان میں سگریٹ کی مارکیٹ پرصرف دوکمپنیوں کی اجارہ داری قائم ہے جو 98 فیصدسگریٹ کی مارکیٹ کو کنٹرول کرتی ہیںان میں سے ایک برطانیہ کی لیکسن ٹوبیکو ذیلی کمپنی پاکستان ٹوبیکو کمپنی اورامریکن ٹوبیکو اینڈ فلپ مورس پاکستان لمیٹڈہیںان کے علاوہ بہت کم پاکستانی سگریٹ کی تیاری سے وابستہ ہیں۔حکومتی اشرافیہ ان کمپنیوں سے مفادات حاصل کرنے کیلئے سگریٹ پربھاری ٹیکس عائدکرنے میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

    ایک تحقیق (Research) کے مطابق سگریٹ پینے والے دنیا کی کل آبادی کا 33فیصد سے زائد ہیں۔ سگریٹ نوشی (Smoking) نہ صرف مختلف بیماریوں کاسبب بنتی ہے بلکہ اس کی وجہ سے ہر سال لاکھوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان مرنے والوں میں بعض وہ ہوتے ہیں جو خود تو سگریٹ نہیں پیتے لیکن پینے والوں کے پاس بیٹھتے اور ان کے ماحول میں رہتے ہیں اس وجہ سے ان پر بھی دھوئیں کا اثر پڑتاہے۔ سگریٹ نوشی کی عادت کیوں پڑتی ہے؟ ایک تحقیق کے مطابق سگریٹ کے دھوئیں میں ایک ایسا جز ہوتا ہے جس کی وجہ سے دماغ میں پیدا ہونے والا انزائم مونوامائین آکسیڈیز بی ( Monoamine Oxidase B ) تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ انزائم ڈوپامین (Dopamine) نامی کیمیائی مادے کے اثرات کو زائل کرنے کا کام دیتا ہے جبکہ ڈوپامین لذت کی خواہش بڑھانے والا مادہ ہے۔ گویا مونوامائین آکسیڈیز بی خواہشات کے دروازے پر چوکیدار کا فریضہ انجام دیتا ہے۔ سگریٹ نوشوں(Smokers) میں اس کی مقدار ڈوپامین کی مقدار کے تناسب سے بہت کم ہو جاتی ہے اس لئے ڈوپامین کی زیادتی بار بار انہیں حصولِ لذت کی خواہش میں مزید سگریٹ نوشی پر اکساتی رہتی ہے۔

    اقوام متحدہ کے ادارہ ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق سگریٹ نوشی تیزی سے دنیا میں انسانی اموات کی وجہ بنتی جا رہی ہے اور اس کی وجہ سے ہر سال دنیا میں تقریبا چون لاکھ افراد ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ اس کا تدارک ممکن ہے۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے ماہرین کا ماننا ہے کہ سگریٹ نوشی اس وقت دنیا کی واحد وجہ ہلاکت ہے جس کا باآسانی تدارک کیا جا سکتا ہے۔ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن کے مطاق ترقی یافتہ ممالک میں سگریٹ نوشی کی شرح میں پچھلی چند دہائیوں سے کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ اس کے برعکس ترقی پزیر ممالک خاص طورپرپاکستان میں سگریٹ نوشی کی شرح میں بے پناہ اضافہ بھی ہوا ہے۔ سگریٹ نوشی کے مضر اثرات سے لوگوں کو آگاہی کی ضرورت ہے، عوام میں سگریٹ نوشی کے مضر اثرات کے بارے میں شعور اجاگرکیاجاناچاہئے ۔حیرت انگیز بات تویہ ہے کہ سگریٹ نوشی کے خلاف تمام ترحکومتی اقدامات اور مہمات کے باوجود پاکستان میں سگریٹ نوشوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ پاکستان میں ہر سال تقریبا ایک لاکھ سے زائد افراد سگریٹ نوشی سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہو کرمرجاتے جاتے ہیں۔ جن میں منہ، حلق، سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کا کینسر شامل ہیں۔ماہرین صحت نے تنبیہ کی ہے کہ ایسے لاکھوں افراد جو سگریٹ نوشی کی عادت میں مبتلا ہیں وہ اپنی بینائی کو بھی دائوپرلگائے ہوئے ہیں۔ایک تحقیق کے مطابق ملک بھر کی تقریبا 32 فیصد بالغ مردسگریٹ نوشی کرتے ہیں جبکہ سگریٹ نوش بالغ خواتین آبادی کا کل آٹھ فیصد ہیں۔ اس بات کوسب جانتے ہیں کہ تمباکو نوشی مضر صحت ہے اور کورونا جیسی صورت حال میں اس کا استعمال زیادہ جان لیوا ثابت ہوا ہے۔ گذشتہ دو برس میں عالمی وبا کورونا وائرس کا شکار ہونے کے خوف سے دنیامیں لاکھوں افراد نے سگریٹ نوشی چھوڑ دی ، جبکہ پاکستان میں کرونا وائرس کی لہر کے دوران سگریٹ کی پیداوارفروخت اور اسٹاک میں 9.4 فیصد اور صوبہ پنجاب میں 19.2 فیصد اضافہ ہوا ہے۔پاکستان میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعدادسگریٹ نوشی کے عادی ہے،تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے کیلئے حکومت نے سگریٹ کے اشتہاروں پر پابندی، سگریٹ کے پیکٹ پر انتباہ اور ٹیکسوں میں اضافہ وغیرہ ۔

    2003میں سگریٹ پر ٹیکسوں اور اشتہارات کے حوالے سے اہم قانون سازی ہوئی اور سگریٹ کے 2 درجے بناتے ہوئے اس پر 70 فیصد تک ٹیکس عائد کردیا گیا۔واضح رہے کہ مالی سال 21-2020 کے بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ تمباکو کی خریداری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی 10فیصد پر برقرار رکھی جائے گی جبکہ مالی سال 19-2018 میں یہ ڈیوٹی 500 روپے فی کلو گرام کردی گئی تھی۔ یہ ڈیوٹی سگریٹ کمپنیاں تمباکو کی خریداری کے وقت ادا کرتی تھیں اور سگریٹ کی فروخت کے وقت عائد ٹیکس میں سے منہا کردیتی تھیں، یوں سگریٹ کے خام مال تمباکو کو خریداری کی سطح پر مہنگا کرنے کی پالیسی جو گذشتہ حکومت نے اپنائی تھی موجودہ حکومت نے اس کو تقریبا ختم کردیا ہے جس سے غیر قانونی سگریٹ کی حوصلہ افزائی ہورہی ہے۔ موجوہ نظام میں غیر قانونی سگریٹ کی سستے داموں پر فروخت تمباکو نوشی کی حوصلہ شکنی کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔

    اگرباقی دنیاسے سگریٹ کی قیمتوں کاتقابلی جائزہ لیاجائے تودنیامیں سب سے مہنگے سگریٹ سری لنکامیں ہیں جہاں سگریٹ کی ایک ڈبی کی قیمت نوڈالرکے قریب ہے اورپاکستان میں سگریٹ اتناسستاہے کہ ایک ڈبی کی قیمت ایک ڈالرسے بھی کم ہے ،قیمت کم ہونے کی وجہ ایکسائزٹیکس کاکم ہونایا صحیح لاگونہ ہوناہے اورسگریٹ کی غیرقانونی سمگلنگ کانہ رکنے سلسلہ بھی اس میں شامل ہے ۔اب وزیراعظم پاکستان عمران کوچاہئے کہ تمباکونوشی کے معاملے کوسنجیدہ لیکرسگریٹ پر بھاری ایکسائزٹیکسز لگاکرٹیکس وصولی پرعملدآمدکرائیں،ٹیکس بڑھنے سے سگریٹ کی قیمت بڑھ جائے گی تو اس کے استعمال میں کمی ممکن ہو گی اورسگریٹ نوشی کی وجہ سے موت کے منہ میں جانے والی ہماری نوجوان نسل بھی ہلاکت سے بچ جائے گی،اس لئے ہم وزیراعظم پاکستان جناب عمران خان سے گذارش کرتے ہیں کہ تمباکواوراس کی تمام پروڈکٹس خاص طورسگریٹ پرٹیکس بڑھائیں اورنوجوان نسل کوموت کے منہ میں جانے سے بچاکرپاکستان کاآنے والاکل محفوظ بنائیں۔

    حکومت کے اس اقدام سے سالانہ اضافی ریونیوکے علاوہ بیماریوں پرخرچ ہونے والے اربوں روپے کی بچت بھی ہو سکے گی ۔وزارت صحت کو بھی سگریٹ کی ڈبی پر خبردار!تمباکو نوشی مضر صحت ہے، اس کا انجام منہ کا کینسر ہے۔ سے آگے بڑھ کر سوچنا ہو گا اور ذمہ داری نبھانا ہو گی اورقوم کے مستقبل کے معماروں کوبچاناہوگا۔

  • آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    آلودہ پانی دہشت گردی سے بھی خطرناک .تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    اللہ رب العزت نے انسانوں بلکہ کائنات کی تمام مخلوق کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے جس کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے "اور اگر اللہ کی نعمتیں گنو تو انہیں شمار نہ کر سکو گے”۔نعمتوں کا احسا س و لذت اس کی ضرورت کے مطابق ہوتا ہے۔ پانی کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتاہے ” اور ہم نے ہر جاندار چیز پانی سے بنائی تو کیا وہ ایمان نہ لائیں گے” قرآن میں ایک اور جگہ فرمایا”اور اللہ نے زمین پر ہرچلنے والا پانی سے بنایا تو ان میں کوئی اپنے پیٹ پر چلتاہے اور ان میں کوئی دو پائوں پر چلتا ہے اور ان ہی میں کوئی چار پائوں پر چلتاہے۔ اللہ بناتا ہے جو چاہے،بے شک اللہ سب کچھ کر سکتاہے”۔زمین پر جتنے بھی جاندار ہیں خواہ انسان ہوں یا دوسری مخلوق ان سب کی زندگی کاانحصارپانی پرہے۔

    پاکستان پانی کی کھپت کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے جبکہ اس کی آبادی عالمی سطح پر پانچویں نمبر پر ہے پانی کی شدید قلت کا شکار ممالک کی فہرست میں آئی ایم ایف نے پاکستان کو تیسرے نمبر پر رکھاہے جبکہ دیگر عالمی ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ سن 2025 تک یہ ملک مکمل طور پر خشک سالی کاشکار ہوجائے گا۔اس وقت پاکستان کی بیشتر آبادی کو پینے کاصاف پانی میسر نہیں ہے تاہم کسی بھی حکومت نے اس چیلنج یا تلخ حقیقت کا نوٹس نہیں لیا اورعوام کی اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں ناکامی نے زندگیوں اور صحت کو بہت بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق دوتہائی پاکستانی عوام پینے کے صاف پانی سے محروم ہے ، جس کی وجہ سے عوام میں موذی بیماریاں پھیلنے کے خطرات اور بڑھ گئے ہیں ۔ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ افراد جن میں سے آدھے بچے ہوتے ہیںپانی سے پیدا ہونے والی خطرناک بیماریوں کی وجہ سے ہلاک ہوجاتے ہیںیہ نہ تو دہشت گردی ہے اور نہ ہی قدرتی آفات ہیں بلکہ پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں اموات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال سے ہر سال ملک بھر میں 40 فیصد اموات ہوتی ہیں۔ صنعتی فضلہ ، تباہ شدہ سیوریج سسٹم اورسیوریج کے آلودہ پانی سے فصلات اورسزیوں کی کاشت اور منصوبہ بندی کے بغیرشہروں کے پھیلائونے پچھلے کئی سالوں سے خاص طور پر بڑے شہروں میں پانی کے معیار اور مقدار کو گھٹا دیا ہے، ملک کے بیشتردور دراز علاقوں خاص طورپرسندھ اوربلوچستان میں لوگوں کو پینے کا پانی لانے کے لئے کئی میل سفر کرنا پڑتا ہے۔پہاڑی اور صحرا ئی علاقوں میں رہائش پذیرعوام پانی کے لئے بارش پر انحصار کرتے ہیں ، انسان اور جانور ایک ہی تالاب سے پانی پیتے ہیں یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ وزارت صحت اور یونیسف کے اعدادوشمار کے مطابق ہرسال پاکستان میں100000 سے زائدافرادآلودہ پانی پینے کی وجہ سے مختلف بیماریوں کاشکارہوکرہلاک ہوجاتے ہیں،

    ہر سال 10 سال سے کم عمر کے 50000 سے زائد بچے ہیضہ ، اسہال ، پیچش ، ہیپاٹائٹس اور ٹائیفائڈ جیسی پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے مر جاتے ہیں۔ماہرین کاکہنا ہے کہ پانی میںبڑی مقدارمیں آرسینک کی موجودگی کی وجہ سے شوگر ، جلد ، گردے ، دل کی بیماریوں ، ہائی بلڈ پریشر ، پیدائشی نقائص اور متعددقسم کے کینسر کا باعث بھی ہے۔ صفائی کے ناقص نظام ،بروقت پانی کی ٹریٹمنٹ اور نگرانی نہ ہونے کی وجہ سے پینے کے پانی کا معیار خراب ہوتا جارہاہے۔ پینے کے پانی میں زہریلے کیمیکلز اور بیکٹیریا کی موجودگی انسانی صحت پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ آلودہ پانی پینے کی وجہ سے لوگ پیٹ کی بہت سی خطرناک بیماریوں میں مبتلاہیں دوسری طرف حکومت نے پہلے سے موجود پینے کے صاف پانی سے متعلق پلانٹس کی بحالی پرکوئی توجہ نہیں دی،اور مناسب کام کرنے اور سنبھالنے کے لئے عملی طورپر کوئی کارروائی نہیں کی گئی ،پاکستان کے شہری علاقوں میں پینے کے صاف پانی اور پینے کے لئے موزوں ہونے کو یقینی بنانے کیلئے ٹریٹمنٹ پلانٹوں سے نمونے لینے کاکوئی مناسب نظام نہیںہے۔ پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے پھیلا ئوکو روکنے اورمعیار کوبرقراررکھنے کیلئے سال میںدوبار پانی کے نمونے لیکرانہیں ٹیسٹ کرنے کی روایت پاکستان میں موجود نہیں ہے کیونکہ افسرشاہی اپنی لالچ اورخودغرضی کی وجہ سے واٹرمافیاء سے ملاہواہے جن کی وجہ سے بروقت ٹیسٹنگ کانظام ناکام ہوچکاہے،پیتھوجینز کو مارنے اورپانی کی کلورینیشن کاعمل نہ ہونے کے برابر ہے۔پاکستان میں پینے کے پانی کے معیار کے تجزیہ کے لئے جدید ترین اور قابل اعتماد آلات اور تربیت یافتہ سٹاف کی بہت کمی ہے جس پر کسی بھی حکومت نے آج تک توجہ نہیں دی۔پاکستان میں ایسی صنعتیں بہت کم ہیں جنہوں نے گندے پانی کو صاف کرکے قابل استعمال بنانے کیلئے WaterTreatmentپلانٹ لگائے ہوں ۔ حکومت کو چاہئے کہ 1997 کے ایکٹ کے تحت NEQS کے مطابق ان کے صنعتی آلودگی سے نمٹنے کے لئے سخت کارروائی کرے۔ اگر کوئی صنعت قواعد کی خلاف ورزی کرتی ہوئی پائی جاتی ہے تو اسے بھاری جرمانے اور قید کی سزا بھی دی جانی چاہئے۔ دہشت گردوں کے ہاتھوں معصوم شہریوں کی ہلاکت کی خبریں تومین سٹریم میڈیا اورسوشل میڈیا پر زورشورسے چلائی جاتی ہیں ریٹنگ بڑھانے کے چکر میں عوام کوانتہائی خوفزدہ کیاجاتاہے(ہم یہ نہیں کہتے کہ دہشت گردوں سے متعلق خبریں عوام کے سامنے نہ لائیں)حالانکہ ان دہشت گردوں کے حملوں کے نتیجے میں بہت سی قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوجاتی ہیںاورمالی نقصان بھی کہیں زیادہ ہوتاہے،دہشت گردی کے برعکس پاکستان میں آلودہ پانی پینے سے پیداہونے والی بیماریوں سے ایک لاکھ سے زائدلوگوں کی ہلاکت دہشت گردی سے زیادہ خطرناک نہیں ہے؟ جبکہ عالمی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ 2025 ء تک پاکستان مکمل طور پرخشک سالی کاشکارہوکرخانہ جنگی کی طرف جاسکتا ہے، اگرحکومت ملک کوتباہی اورانتشار سے بچاناچاہتی ہے تو صورتحال کاازسرنوع جائزہ لیناچاہئے ،پانی کے نظام میں بہتری ، صفائی ستھرائی اوربنیادی ڈھانچے کی ترقی کیلئے ابھی سے کام شروع کردے ورنہ آلودہ پانی کااژدہا دہشت گردی کی لعنت سے بھی زیادہ خطرناک پھن پھیلائے کھڑاہے۔

  • مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    مغربی تہذیب کا سیاہ چہرہ. تحریر:ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افراد اور قوموں کی اپنی کوئی نہ کوئی تہذیب ہوتی ہے جس سے ان کی بہت گہری وابستگی ہوتی ہے۔ تہذیبوں کا مذہب یا اجتماعی نظام سے بھی بڑا گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس لیے کہیں کہیں تہذیب سے مذہب سے بھی بڑھ کر جذباتی تعلق ہوتا ہے،ہمارے روشن خیال لوگ مغربی معاشرے کی انسان دوستی ،انصاف وقانون کی بالادستی کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے اورمغرب کومہذب معاشرہ ثابت کرنے کیلئے زمین و آسمان کے قلابے ملائے ہوئے ہیں لیکن ان روشن خیالوں نے کبھی بھی تاریخ کے اوراق پلٹ کرنہیں دیکھے کہ وہ جس تہذیب کے گرویدہ انہوں نے ماضی میں کتنے مظالم ڈھائے اورکتنے بیگناہوں کوپلک جھپکتے ہی موت کی ابدی نیندسلادیااورکتنے لوگوں اپاہج بنایا ،یہ 13 اپریل 1919 ء کی بات ہے جب جلیانوالہ باغ میں انگریزوں نے قتلِ عام کیا، جسے امرتسر قتلِ عام بھی کہا جاتا ہے،جب پرامن احتجاجی مظاہرے پر برطانوی ہندوستانی فوج نے جنرل ڈائر کے احکامات پر گولیاں برسا دیں۔ اس مظاہرے میں بیساکھی کے شرکا ء بھی شامل تھے جو پنجاب کے ضلع امرتسر میں جلیانوالہ باغ میں جمع ہوئے تھے۔ یہ افراد بیساکھی کے میلے میں شریک ہوئے تھے جوسکھوں کا ثقافتی اور مذہبی اہمیت کا تہوار ہے۔ بیساکھی کے شرکا ء بیرون شہر سے آئے تھے اور انہیں علم بھی نہیں تھا کہ شہر میں مارشل لاء نافذ ہے۔اتوارکے دن جنرل ڈائر کو بغاوت کا پتہ چلا تو اس نے ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی لگا دی مگر لوگوں نے اس پر زیادہ کان نہ دھرے۔ چونکہ بیساکھی کا دن سکھ مذہب کے لیے مذہبی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے آس پاس کے دیہاتوں کے لوگ باغ میں جمع ہو گئے تھے۔ جب جنرل ڈائر کو باغ میں ہونے والے اجتماع کا پتہ چلا تو اس نے فورا پچاس گورکھے فوجی اپنے ساتھ لیے اور باغ کے کنارے ایک اونچی جگہ انہیں تعینات کر کے مجمعے پر گولی چلانے کا حکم دیا۔ دس منٹ تک گولیاں چلتی رہیں حتی کہ گولیاں تقریبا ختم ہو گئیں۔ جنرل ڈائر نے بیان دیا کہ کل 1650 گولیاں چلائی گئیں۔ شاید یہ عدد فوجیوں کی طرف سے جمع کیے گئے گولیوں کے خولوں کی گنتی سے آیا ہوگا۔ برطانوی ہندوستانی اہلکاروں کے مطابق 379 کو مردہ اور تقریبا 1100 کو زخمی قرار دیا گیا۔ انڈین نیشنل کانگریس کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد اندازہ 1000 اور زخمیوں کی تعداد 1500 کے لگ بھگ تھی۔

    گذشتہ ایک سال میں دنیا بھر میں نسلی ناانصافی کے خلاف مظاہروں میں مظاہرین کی طرف سے سلطنت ، استعمار اور غلامی کی علامتوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ مظاہرے مئی 2020 میں افریقی نژاد امریکی شخص جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد دنیا بھر میں پھٹ پڑے۔اس طرح دنیاکے مختلف ممالک میں ظلم،جبراورناانصافیوں پراحتجاجوں کالامتناہی سلسلہ جاری ہے ، کینیڈا میں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر احتجاج کرنے والے پرتشدد مظاہرین نے ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے گرادیے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق کینیڈا میں برآمد ہونے والی سیکڑوں بچوں کی باقیات برآمد ہونے کے معاملے پر سڑکوں پر نکلنے والے نارنجی شرٹ پہنے مظاہرین نے احتجاجی ریلی نکالی۔وینیپیگ میں نکلنے والی ریلی میں سیکڑوں افراد شریک تھے جنہوں نے ایک چوک پر پہنچنے کے بعد وہاں نصب ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کی طرف پیش قدمی کی۔ریلی میں شامل چند مشتعل مظاہرین چبوترے پر چڑھے اور انہوں نے پہلے ملکہ وکٹوریہ پھر ملکہ الزبتھ دوم کے مجسمے کو زمین پر گرادیا۔ملکہ وکٹوریہ اور ملکہ الزبتھ دوم کے مجسموں کو گرانے کے بعد شہریوں کا غصہ مزید بڑھ گیا، مشتعل افراد نے مجسمے گرانے کے بعد نسل کشی پر فخر نہیں کا نعرہ بھی لگایا۔کینیڈین میڈیا کے مطابق یہ معاملہ ایک روز قبل اس وقت پیش آیا جب روایتی طور پر ملک بھر میں سرکاری سطح پر جشن منایا جانا تھا تاہم بچوں کی باقیات ملنے کے بعد اسے منسوخ کردیا گیا۔ بچوں کی باقیات ملنے پر دارالحکومت سمیت دیگر شہروں میں بھی مظاہرین سڑکوں پر آئے اور انہوں نے حکومت سے واقعات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔واضح رہے کہ کینیڈا میں گذشتہ دنوں اجتماعی قبروں سے ایک ہزارسے زائد قبائلی بچوں کی باقیات دریافت ہوئیں تھیں جبکہ اس سے قبل مقامی رہائشی اسکول میں 215 بچوں کی باقیات پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی تھی۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اس اسکول کو 1978 میں بند کردیا گیا ہے، جن کی باقیات ملیں وہ برٹش کولمبیا کے کیملوپس انڈین رہایشی اسکول کے طالب علم تھے۔غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کے قدیم مقامی باشندوں کے قبائل میں سے ایک رہنما نے بتایا کہ برٹش کولمبیا میں قدیمی باشندوں کے بچوں کے لیے قائم ایک سابقہ مشنری اسکول کے قریب سے مزید 182 قبریں دریافت ہوئی ہیں۔لوئر کوٹینے ہینڈ نے بتایا کہ کرین بروک کے قریب سابقہ سینٹ یوجینز مشن اسکول کے پاس سے لاشیں برآمد ہوئیں۔کمیونٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ یہ اسکول 1913 سے 1970 تک چلتا رہا اور 2020 میں یہاں تلاش شروع کی گئی تھی۔کینیڈا کے صوبے سسکاچیوان میں پرانے اسکول کی سائٹ سے 751 نامعلوم قبریں دریافت کی گئی ہیں۔اسی طرح ایک اورغیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کینیڈا کی ریاست سسکاچیوان کے شہرریجینا سے تقریبا 140 کلومیٹر دورایک سابق بورڈنگ اسکول میں قبریں دریافت ہوئی ہیں جن میں سینکڑوں قبائلی بچوں کی لاشیں دفن ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ جگہ رومن کیتھولک چرچ کے زیر انتظام تھی، تمام قبریں بچوں کی ہیں یا بالغ افراد کی ہیں اس بارے میں تاحال تفصیلات سامنے نہیں آسکیں۔واضح رہے کہ 1863 سے 1998 تک کینیڈا میں حکومت اورمذہبی حکام کے ذریعے چلائے جانے والے بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ بچوں کووالدین سے زبردستی علیحدہ رکھ کر نئی زبان اور جدید ثقافت اپنانے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ان بچوں کو اکثر اپنی زبان بولنے یا اپنی ثقافت پر عمل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی اور ان میں سے بہت سوں کے ساتھ بدسلوکی اور زیادتی کی جاتی تھی۔ 2008 میں اس نظام کے اثرات کو جاننے کے لیے قائم کردہ کمیشن کو معلوم ہوا کہ مقامی بچوں کی بڑی تعداد کبھی بھی اپنے گھروں اور اپنی برادریوں میں واپس نہیں آئی۔ 2015 میں جاری کی گئی تاریخی ‘ٹرتھ اینڈ ریکنسلیشن رپورٹ’ میں کہا گیا کہ یہ پالیسی ‘ثقافتی نسل کشی’ کے مترادف تھی۔

    کینیڈا کے مختلف شہروں میں، چرچوں کی نگرانی میں چلنے والے بورڈنگ اسکولوں میں مقامی بچوں کی کئی اجتماعی قبروں کے انکشاف کے بعد، متعدد کلیسائوں کو نذر آتش کر دیا گیا ہے۔غیرملکی نیوزایجنسی کے مطابق ذرائع کاکہناہے کہ ان قدیم چرچوں بورڈنگ اسکول میں قدیم مقامی نسل سے تعلق رکھنے والے بچوں سے متعلق ریکارڈموجود ہے اس لئے منظم طریقے سے ریکارڈ کوتحقیات کرنے والوں اداروں کے ہاتھ لگنے سے بچانے کیلئے کلیساؤں کو آگ لگائی جارہی ہے اور اس کا الزام احتجاج کرنے والوں پرلگایاجارہاہے ۔سوچنے کی بات ہے اگرخدانخواستہ یہ قبریں کسی مسلم ملک کے تعلیمی ادارے سے ملتی توتحقیقات سے قبل ہی اسے اسلامی دہشت گردی قراردیاگیاہوتا،اب یہ قبریں مغرب کے مہذب معاشرے سے تعلق رکھنے والے ملک کینیڈاجوکہ برطانوی کالونی ہے کیتھولک عیسائی چرچوں کے زیرانتظام چلائے جانے والے سکولوں سے ملی ہیں ،اگراسے مغرب کے پیمانے سے ماپاجائے تو اسے لازی طورپر کیتھولک عیسائی دہشت گردی کہناچاہئے اوراس سے بڑھ کر تعجب کی بات تو یہ ہے کہ مسلمان جب اپنے حق کی حصول کے لیے کھڑا ہو تو انھیں دہشت گرد کہنے میں اور ثابت کرنے میں جھوٹ اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں کہ مذہب اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دیتے ہیں، جبکہ اسلام مخالف طاقتیں ہر روز کہیں نہ کہیں بے چارے مسلمانوں پر ظلم و تشدد کرکے ناحق انکا خون بہاتے ہیں، اور بلا وجہ ان کو شہید کردیتے ہیں، محض اس وجہ سے کہ وہ مسلمان ہیں، انھیں کوئی عیسائی دہشت گرد، یہودی دہشت گرد،اورہندو دہشت گردنہیں کہتا، انھیں کبھی تو دماغی معذور بنا کر،اور کبھی تو یہ کہہ کر پیش کیا جاتا ہے کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتااور ا ن کو بچانے کی کوشش کی جاتی ہے حتیٰ کہ مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیاپر پابندی لگا دی جاتی ہے مظالم پر آوازاٹھانے والوں کے سوشل میڈیا اکائونٹ بلاک کردئے جاتے ہیں تا کہ ا ن مظالم کی ویڈیوزوائرل نہ ہوسکیں ،یہ ہے مغرب کی سیاہ تہذیب جو انسانیت کی سب سے بڑی دشمن ہے لیکن خوبصورت سلوگن کی وجہ دنیاسے اوجھل ہے ۔

  • افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    افغانستان، امریکی فوج کا انخلاء اورپاکستان پرمنڈلاتے خطرات.تحریر: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

    ہیرو شیما پر ایٹم بم گرانے کے بعد سے آج تک دیکھیں تو امریکہ نے کہیں کوئی جنگ نہیں جیتی، ویت نام ہو یا صومالیہ ، سوڈان ہو یا عراق ،ہرجگہ امریکہ کوناکامی کاسامناکرناپڑا،امریکہ سے پوری دنیاکے لوگ نفرت کرتے ہیں امریکہ نے جس ملک پر جنگ مسلط کی اس ملک کے وسائل لوٹے ہیں ، امریکہ نے کبھی تنہا جنگ نہیں لڑی ہمیشہ دیگر ممالک کے لائولشکر سے حملہ آور ہوامگرامریکہ کوکہیں بھی کامیابی نصیب نہ ہوئی اس کے برعکس امریکہ نے کبھی اپنی شکست بھی تسلیم نہیںکی۔
    9/11 کوبہانہ بنا کر افغانستان پر امریکا اور اس کے اتحادیوںنے 2002 ء میں جنگ مسلط کر دی۔ افغانستان کے خلاف اس جنگ میں تقریباََتمام مغربی ممالک امریکا کے حواری بن کر شامل ہو گئے، ان ممالک میں برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور نیٹو تنظیم کے بیشتر ممالک شامل تھے۔ اس کارروائی میں نیٹو فوجوں ہوائی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے اور فرضی دہشت گردوں کو نشانہ بناتے ،ان گنت بم افغانیوں کی بستیوں پر گراتے جس سے جیتے جاگتے انسانوں کی بستیاں پلک جھپکتے ہی مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہوجاتی تھی۔

    گیارہ ستمبر 2001 میں جب امریکا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ ہوا اور اس حملے کی ذمے داری اسامہ بن لادن پر ڈالی گئی تو امریکا اسامہ بن لادن کو ڈھونڈتے ہوئے افغانستان میں داخل ہوگیا۔ اسامہ کی تلاش پر بے گناہ افغانوں کا خون بہایا گیا۔ افغان سرزمین پر تاریخ کی بدترین بمباری کی گئی اور اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑا۔اس سے قبل طالبان دورحکومت میں افغانستان پرامن افغانستان کی طرف گامزن تھا لیکن گیارہ ستمبر کے واقعے نے ایک بار پھر حالات بدل دیے اور افغانستان کی سرزمین سے اٹھنے والی بدامنی کی لہرنے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ افغانستان کی جنگ میں امریکا کا اتحادی بننے پر پاکستان کو بم دھماکوں کی صورت میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ جانی و مالی قربانیوں کے بعد پاکستان نے دہشت گردی کے ناسور کو ختم کیا۔ ملک میںامن کیلئے پاک فوج،رینجرز، ایف سی، پولیس، پاکستانی شہریوں اور سیاستدانوں نے جانوں کے نذرانے پیش کئے۔ آج بھی پاکستانی عوام بم دھماکوں کی گونج سے سہمے ہوئے ہیں۔

    گزشتہ 21 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے کے بعد اب امریکا نے اپنی ناکامی کا مبینہ اعتراف کرتے ہوئے اس ناکامی کا ملبہ پاکستان پرڈالنے کی کوشش کی اور بالآخر واپسی کا فیصلہ کر ہی لیا، یہ جنگ امریکا کے گلے میں پھنسی ایسی ہڈی بن گئی تھی جسے وہ نہ نگل سکتا تھا اور نہ ہی اگل سکتا تھا۔امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ رواں سال 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجی دستے افغانستان سے واپس بلالیے جائیں گے۔افغانستان میں سب سے بڑا فوجی اڈہ بند کرنے کے ساتھ ہی گویا امریکا نے جنگِ افغانستان کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کردیا ہے جس کا فیصلہ گزشتہ سال طالبان کے ساتھ کیے گئے معاہدے میں کیا گیا تھا۔افغانستان کا بگرام ایئر بیس امریکی فوج نے خالی کر دیاہے، امریکی فوجی رات کی تاریکی میں خاموشی سے واپس چلے گئے، افغان انتظامیہ بھی بے خبر رہی،امریکیوں کے انخلاء کا افغان طالبان نے خیرمقدم کیا ہے۔ کابل میں صرف 650 امریکی فوجی سفارت خانے کی حفاظت کے لیے رہ گئے ہیں، مکمل انخلا اگست میں ہو گا۔ فضائی آپریشن اب متحدہ عرب امارات، قطر یا بحری بیڑے سے کیے جائیں گے، مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اتحادیوں نے مل کر بہت سی جنگیں جیتیں لیکن افغان جنگ ہار گئے۔ امریکی فوج کے انخلا کے بعد اب ایک بار پھر افغانستان میں اقتدار کی جنگ شروع ہوگئی ہے۔ افغان طالبان نے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ افغان طالبان دارالحکومت کابل کے قریبی علاقوں تک پہنچ چکے ہیں اور افغان دارالحکومت کابل سے ایک گھنٹے کی دوری پر ہیں جوکہ کسی بھی لمحے کابل پر قبضہ کرسکتے ہیں،ان حالات کودیکھتے ہوئے افغان کٹھ پتلی صدر اشرف غنی اپنے فیملی کے افرادکوپہلے ہی افغانستان سے نکال چکا ہے،

    خوداشرف غنی نے طالبان کے خطرے کے پیش نظرفرارہونے کیلئے جہازتیارکھڑاکیاہواہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ایک بار پھر افغانستان کی اندرونی معاملات کے اثرات پاکستان پر پڑنے کا خطرہ موجود ہے۔ افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال حکومت پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث ہے ۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک طویل نشست ہوئی اور ممکنہ خطرات سے بچنے کیلئے صف بندی کی جارہی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو واضح الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ وہ پرائی جنگ کا کیوں حصہ بنیں۔ انہوں نے امریکا کو ہوائی اڈے دینے سے بھی انکار کردیا ہے۔ لیکن حکومت کو مغربی سرحدوںسے اٹھنے والے خطرات کے بادلوں کو روکنے کیلئے اقدامات کرنے ہوں گے۔ ملکی معاشی صورتحال بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ افغان مہاجرین کا مزیدبوجھ برداشت کیا جاسکے۔ اس حوالے سے حکومت کو تمام سیاسی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لینا ہوگا اور ملکی مفاد میں سیاسی جماعتوں کو بھی حکومت کا ساتھ دینا چاہئے۔

    اس وقت تیزی سے بدلتے عالمی پس منظر میں جب ممالک عالمی طاقتوں کے اثر سے نکل کراپنے ملکی مفادات کے پیش نظر فیصلے کر رہے ہیں، سی پیک کا منصوبہ اس خطے کے مختلف چھوٹے بڑے ممالک کے لیے اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔نیپال سے گوادر تک بننے والا معاشی کوریڈوراور خطے کے تمام چھوٹے بڑے ممالک کے ساتھ چین کی بھاری مشترکہ سرمایہ کاری نے امریکا اور اس کے حلیفوں کے لیے نئی پریشانی اور مشکلات کھڑی کرد ی ہیں۔چین کا بنایا ہوا سی پیک دنیا کی تجارتی منڈی کو یکسر تبدیل کرنے جا رہا ہے۔ 62 ارب ڈالرز کی چینی سرمایاکاری سے غیر محدود رسائی اور معاشی ترقی پاکستان کے استحکام کا راستہ کھولنے جا رہی ہے جو ہمارے بعض دوست ممالک کو قابل قبول نہیںہے۔ ایسے وقت میں امریکی فوج کے انخلاء سے خطے میں انتشارپیداہونے کے خطرات مزیدبڑھ چکے ہیں ،جس سے تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں خلل پڑسکتا ہے اورامریکہ سمیت پاکستان کے دشمن ممالک نہیں چاہتے کہ سی پیک منصوبہ کامیاب ہو،ایساپاکستان کو کسی صورت قبول نہیں ہے، حکومت پاکستان اورہمارے اداروں کوچاہئے کہ دشمنوں کی سازشوں ،انتشار اوردہشت گردی کے مذموم مقاصدکوناکام بنانے اورخطرات سے نمٹنے کی پیش بندی ضرورکرلیں۔