Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • میرپور ماتھیلو: ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف انڑ برادری اور شہریوں کا ایس ایس پی گھوٹکی آفس کے سامن احتجاج

    میرپور ماتھیلو: ڈکیتی اور فائرنگ کے واقعے کے خلاف انڑ برادری اور شہریوں کا ایس ایس پی گھوٹکی آفس کے سامن احتجاج

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)میرپور ماتھیلو میں تنویر انڑ پر موٹر سائیکل چھیننے کے دوران فائرنگ کے واقعے کے خلاف انڑ برادری اور شہر کے شہریوں نے ایس ایس پی گھوٹکی کے دفتر کے سامنے زوردار احتجاجی دھرنا دیا۔ احتجاج میں بڑی تعداد میں افراد نے شرکت کی، سڑک بلاک کر کے پولیس کی مبینہ غفلت اور ناقص کارکردگی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔

    مظاہرین کا کہنا تھا کہ میرپور ماتھیلو اور اس کے گرد و نواح میں ڈکیتی، چوری اور مسلح جرائم میں تشویشناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ پولیس امن و امان کی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مکمل طور پر ناکام دکھائی دے رہی ہے۔ مظاہرین کے مطابق دن دیہاڑے مسلح ملزمان شہریوں سے موٹر سائیکلیں، موبائل فون اور نقدی چھین کر باآسانی فرار ہو جاتے ہیں، مگر پولیس انہیں گرفتار کرنے میں ناکام رہتی ہے۔

    انڑ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ تنویر انڑ پر فائرنگ کا واقعہ پولیس کی غفلت اور مؤثر گشت کے فقدان کا واضح ثبوت ہے۔ اگر شہر میں مناسب پولیس گشت اور چیکنگ کا نظام مؤثر ہوتا تو ایسے افسوسناک واقعات پیش نہ آتے۔ مظاہرین نے زخمی تنویر انڑ کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے۔

    احتجاج میں شریک شہریوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس واقعات کے بعد صرف کاغذی کارروائی تک محدود رہتی ہے، جبکہ اصل ملزمان آزاد گھومتے رہتے ہیں۔ مظاہرین نے واضح کیا کہ جب تک ملزمان کو گرفتار کر کے انصاف فراہم نہیں کیا جاتا اور شہر میں امن و امان بحال نہیں ہوتا، احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

    مظاہرین نے ایس ایس پی گھوٹکی سے مطالبہ کیا کہ میرپور ماتھیلو میں بڑھتے ہوئے جرائم کا فوری اور سخت نوٹس لیا جائے اور عملی اقدامات کیے جائیں، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کر کے اعلیٰ حکام تک آواز پہنچائی جائے گی۔

    دھرنے کے باعث کچھ دیر کے لیے ٹریفک معطل رہی جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ پولیس حکام مظاہرین سے مذاکرات کر کے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کرتے رہے۔

  • ڈھرکی  میں پولیس مقابلہ، ایک ملزم زخمی حالت میں اسلحہ سمیت گرفتار، تین ساتھی فرار

    ڈھرکی میں پولیس مقابلہ، ایک ملزم زخمی حالت میں اسلحہ سمیت گرفتار، تین ساتھی فرار

    میرپورماتھیلو (باغی ٹی وی/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)تھانہ ڈھرکی کی حدود میں پولیس اور مسلح ملزمان کے درمیان مقابلہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایک ملزم زخمی حالت میں اسلحہ سمیت گرفتار کر لیا گیا، جبکہ اس کے تین ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ ڈھرکی صفیع اللہ انصاری پولیس اسٹاف کے ہمراہ دورانِ گشت مھانہ پل کے قریب گاؤں سائینڈنو ملک کے نزدیک پہنچے، جہاں واردات کی نیت سے کھڑے چار مسلح ڈکیتوں سے سامنا ہوا۔ پولیس کو دیکھتے ہی ملزمان نے فائرنگ شروع کر دی، جس پر پولیس کی جانب سے جوابی فائرنگ کی گئی۔

    دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں ایک ملزم شفیق احمد ولد منظور احمد چاچڑ، مستقل رہائشی گاؤں نورل چاچڑ تعلقہ پنو عاقل، حال رہائش رحموں والی گھوٹکی کو پولیس نے حکمتِ عملی کے تحت ایک پسٹل سمیت زخمی حالت میں گرفتار کر لیا، جبکہ اس کے دیگر تین ساتھی موقع سے فرار ہو گئے۔

    زخمی ملزم کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ابتدائی تفتیش کے مطابق گرفتار ملزم چوری، رہزنی، پولیس مقابلوں اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے۔ ملزم کے قبضے سے بوقتِ گرفتاری ایک پسٹل برآمد کیا گیا ہے۔

    پولیس کے مطابق فرار ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سخت سرچ آپریشن جاری ہے۔

    گرفتار ملزم کا کرمنل ریکارڈ درج ذیل ہے:کرائم نمبر 165/2025، دفعات 450، 380 تعزیراتِ پاکستان، تھانہ ڈھرکی،کرائم نمبر 142/2025، دفعات 397، 392 تعزیراتِ پاکستان، تھانہ ڈھرکی،اس کے علاوہ ملزم ضلع سکھر کے تین مقدمات اور تھانہ اوباوڑو کے ایک مقدمے میں بھی مطلوب تھا۔

    پولیس نے گرفتار اور فرار ملزمان کے خلاف کرائم نمبر 07/2026، دفعات 324، 353 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جبکہ گرفتار ملزم سے اسلحہ برآمد ہونے پر اس کے خلاف کرائم نمبر 08/2026، دفعہ 24 سندھ آرمز ایکٹ کے تحت علیحدہ مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔

  • واربرٹن کے نوجوان محمد وقاص نے دبئی آرم ریسلنگ چیمپئن شپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی

    واربرٹن کے نوجوان محمد وقاص نے دبئی آرم ریسلنگ چیمپئن شپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی

    واربرٹن (نامہ نگار)دبئی میں منعقد ہونے والی ساتویں سالانہ آرم ریسلنگ چیمپئن شپ میں واربرٹن سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑی محمد وقاص نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کر لی۔

    تفصیلات کے مطابق دبئی حکومت کے زیر اہتمام آرم ریسلنگ چیمپئن شپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں انڈیا، مصر، لبنان، متحدہ عرب امارات، نیپال سمیت ایشیا کے دیگر ممالک اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    محمد وقاص نے 80 کلوگرام کی کیٹیگری میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے پہلی پوزیشن اپنے نام کی۔ اس مقابلے میں دوسری پوزیشن جنوبی افریقہ کے کھلاڑی ڈینیل نے حاصل کی جبکہ تیسری پوزیشن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان کھلاڑی کے حصے میں آئی۔

    محمد وقاص کی اس کامیابی پر اہلِ علاقہ، دوست احباب اور کھیلوں سے وابستہ حلقوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے واربرٹن کے لیے اعزاز قرار دیا ہے۔

  • اوچ شریف: پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں چائنہ نمک برآمد

    اوچ شریف: پنجاب فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، بھاری مقدار میں چائنہ نمک برآمد

    اوچ شریف باغی ٹی وی (نامہ نگار: حبیب خان)شہریوں کو ملاوٹ سے پاک، معیاری اور محفوظ خوراک کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پنجاب فوڈ اتھارٹی بہاولپور کی جانب سے ضلع بھر میں بلاامتیاز اور بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ فوڈ سیفٹی ٹیموں نے مختلف علاقوں میں قائم جنرل اسٹورز، کریانہ شاپس اور فوڈ پوائنٹس کی اچانک انسپکشن کرتے ہوئے سنگین خلاف ورزیوں پر سخت قانونی کارروائیاں عمل میں لائیں۔

    ترجمان پنجاب فوڈ اتھارٹی کے مطابق کارروائیوں کے دوران 69 کلوگرام ممنوعہ چائنہ نمک بھاری مقدار میں دیگر غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء کے ہمراہ برآمد کیا گیا، جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔ ممنوعہ چائنہ نمک کی فروخت نہ صرف انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہے بلکہ فوڈ قوانین کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔

    فوڈ ایکٹ کی خلاف ورزیوں پر 5 جنرل اسٹورز کو مجموعی طور پر ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ ان کارروائیوں میں بالخصوص وہ دکانیں نشانے پر رہیں جہاں ممنوعہ اشیاء، ایکسپائرڈ فوڈ آئٹمز، ناقص صفائی، غیر معیاری اسٹوریج اور فوڈ سیفٹی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں پائی گئیں۔

    انسپکشن کے دوران متعدد فوڈ پوائنٹس پر ایکسپائرڈ اشیاء کی موجودگی، صفائی ستھرائی کی ناقص صورتحال، کیڑے مکوڑوں کے آثار اور فوڈ ہینڈلنگ کے غیر ذمہ دارانہ طریقے سامنے آئے، جس پر متعلقہ مالکان کو جرمانوں کے ساتھ سخت وارننگز بھی جاری کی گئیں۔

    ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ خوراک میں ملاوٹ، جعلسازی اور عوامی صحت سے کھیلنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔ کسی کو بھی شہریوں کی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قانون شکن عناصر کو ہر صورت قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

    پنجاب فوڈ اتھارٹی نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر معیاری یا مشتبہ خوراک کی فوری اطلاع فوڈ اتھارٹی ہیلپ لائن پر دیں تاکہ بروقت کارروائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اتھارٹی کے مطابق عوام کے تعاون سے ہی معاشرے کو ملاوٹ مافیا سے پاک کیا جا سکتا ہے۔

  • ہیلمٹ اور غیر مہذب رویہ

    ہیلمٹ اور غیر مہذب رویہ

    ہیلمٹ اور غیر مہذب رویہ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    کسی بھی مہذب معاشرے اور مہذب قوم کے لئے ضروری ہے کہ وہ ریاستی قوانین پر عمل درآمد کریں اور ریاست کا بھی فرض ہے وہ اپنی عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرے۔

    آئیں آج ہم ہیلمٹ اور ٹریفک قوانین پر تفصیلی بحث کرتے ہیں۔ ہم روزانہ سوشل میڈیا پر ہیلمٹ اور جرمانوں کی ذکر سنتے ہیں اور کچھ تو دکھ بھری کہانی ہوتی ہیں۔ آئیں ایک جائزہ پیش کرتے ہیں۔

    پنجاب میں جب سے محترمہ وزیرِ اعلیٰ نے ٹریفک قوانین پر سختی اور ہیلمٹ کے استعمال کو لازمی قرار دیا ہے، تب سے سڑکوں پر ایک عجیب منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ہر چوک، ہر ناکے پر ٹریفک اہلکار، ہر موٹر سائیکل سوار مشکوک، اور ہر شہری خوف میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ روزانہ مقامی اور سوشل میڈیا پر بھاری جرمانوں، موٹر سائیکلوں کی بندش، گرفتاریوں اور مبینہ رشوت کی داستانیں گردش کر رہی ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اچانک پورا صوبہ ہی قانون شکن قرار دے دیا گیا ہو۔

    یہ بات طے ہے کہ ہیلمٹ پہننا نہ صرف قانونی تقاضا ہے بلکہ انسانی جان کے تحفظ کے لیے ناگزیر بھی ہے۔ اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ سوال مگر یہ ہے کہ قانون نافذ کرنے کا طریقہ کیا ہونا چاہیے؟

    کیا قانون کا مقصد اصلاح ہے یا خوف؟
    کیا ریاست شہری کو ساتھ لے کر چلنا چاہتی ہے یا صرف جرمانوں کے ذریعے آمدن بڑھانا؟

    پاکستان موٹر وہیکل آرڈیننس اور پنجاب موٹر وہیکل رولز کے تحت موٹر سائیکل سوار کے لیے ہیلمٹ پہننا لازمی ہے اور خلاف ورزی پر جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن یہی قانون یہ بھی سکھاتا ہے کہ نفاذ مرحلہ وار، شفاف اور عوام دوست ہونا چاہیے۔ دنیا کے مہذب معاشروں میں قانون اچانک لاگو نہیں کیا جاتا بلکہ پہلے آگاہی دی جاتی ہے، تشہیری مہم چلائی جاتی ہے، ڈیڈ لائن دی جاتی ہے اور اس کے بعد سختی کی جاتی ہے۔

    ہم نے حالیہ برسوں میں دیکھا کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کو متعدد بار اعلانات، مہلت اور واضح ڈیڈ لائن دی گئی۔ حکومتی سطح پر میڈیا مہم چلی، پھر جا کر عمل درآمد ہوا۔ اگر پنجاب حکومت واقعی ٹریفک نظام میں انقلاب لانا چاہتی ہے تو یہی طریقہ یہاں کیوں اختیار نہیں کیا گیا؟ کیوں عوام کو پہلے سے یہ نہیں بتایا گیا کہ فلاں تاریخ تک ہیلمٹ، نمبر پلیٹ اور کاغذات مکمل کر لیں، اس کے بعد سخت کارروائی ہو گی؟

    اصل مسئلہ یہ ہے کہ قصور ہمیشہ عوام کا ہی ٹھہرا دیا جاتا ہے، جبکہ ریاستی نظام کی خامیوں پر کوئی بات نہیں کرتا۔ آج بھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹریشن، ٹرانسفر اور نمبر پلیٹ کے معاملات غیر شفاف ہیں۔ جعلی اور فینسی نمبر پلیٹس کھلے عام استعمال ہو رہی ہیں۔ کالے شیشے، فلیشر لائٹس اور پولیس کلچر عام ہے۔ نان کسٹم گاڑیاں سڑکوں پر دوڑ رہی ہیں۔ ٹریفک سگنلز یا تو خراب ہیں یا موجود ہی نہیں۔ اسپیڈ بریکر سائنسی اصولوں کے بغیر بنے ہیں۔ اسکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر کے سامنے سائن بورڈز کا فقدان ہے۔

    سوال یہ ہے کہ ان سب پر عمل درآمد کون کروائے گا؟
    یا قانون صرف غریب موٹر سائیکل سوار کے ہیلمٹ تک محدود ہے؟

    ایک ذاتی تجربہ اس پورے نظام کی قلعی کھولنے کے لیے کافی ہے۔ ایک شہری کو روکا گیا۔ سوال ہوا: ہیلمٹ ہے؟ جواب: جی ہے۔ نمبر پلیٹ؟ جی ہے۔ لائسنس؟ جی ہے۔ پھر کہا گیا کہ موٹر سائیکل پر تین افراد کیوں بیٹھے ہو؟ موٹر سائیکل بند، ایف آئی آر کی دھمکی، رات حوالات میں گزارنے کا خوف۔ جان چھڑانے کے لیے پندرہ ہزار روپے طلب کیے گئے۔ اگلے دن سپرداری، پھر تھانے کے منشی کی “خدمت”۔ آخرکار موٹر سائیکل ملی۔ اب بتائیے، یہ قانون تھا یا کھلی لوٹ مار؟

    آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 4 ہر شہری کو قانون کے مطابق برتاؤ کا حق دیتا ہے اور آرٹیکل 25 مساوی سلوک کی ضمانت دیتا ہے۔ اگر قانون صرف کمزور پر لاگو ہو اور طاقتور آزاد گھومے تو یہ انصاف نہیں، مذاق ہے۔ اگر حکومت بھاری جرمانے عائد کرتی ہے تو اس کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ شہریوں کو بنیادی سفری سہولیات بھی فراہم کرے۔ بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، واضح سائن بورڈز، درست سگنل سسٹم اور شفاف ایکسائز نظام کے بغیر سختی محض ظلم بن جاتی ہے۔

    یہ کیسا انصاف ہے کہ کالے شیشوں والی گاڑیاں، جعلی نمبر پلیٹس اور نان کسٹم گاڑیاں نظر انداز ہو جائیں، مگر ایک عام شہری صرف ہیلمٹ نہ پہننے پر کچلا جائے؟ کیا ہیلمٹ پہن کر منشیات فروش بن جانا قابلِ قبول ہے؟ کیا قانون صرف ایک شق پر ہی ختم ہو جاتا ہے؟

    ہیلمٹ واقعی زندگی بچاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن زندگی صرف سانس لینے کا نام نہیں، عزت کے ساتھ جینے کا حق بھی زندگی کا حصہ ہے۔ آج کے حالات میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہیلمٹ سے زیادہ ضروری چیز جیب میں بھاری رقم ہونا ہے، تاکہ ٹریفک اہلکاروں کو دے کر جان چھڑائی جا سکے۔

    قانون کا مقصد اصلاح ہونا چاہیے، خوف پھیلانا نہیں۔ اگر نیت واقعی صاف ہے تو پہلے نظام درست کیا جائے، پھر مرحلہ وار قانون نافذ کیا جائے، اور آخر میں جرمانے کیے جائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ گواہ ہے کہ زبردستی سے نظام قائم نہیں ہوتا، صرف نفرت جنم لیتی ہے۔
    مگر کب تک؟

  • ٹریفک قوانین اور منشیات پر زیرو ٹالرنس، آر پی او شیخوپورہ

    ٹریفک قوانین اور منشیات پر زیرو ٹالرنس، آر پی او شیخوپورہ

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ویژن کے مطابق ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد اور منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضلع ننکانہ صاحب میں منعقدہ ٹریفک قوانین آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

    تفصیلات کے مطابق آر پی او شیخوپورہ اطہر اسماعیل نے ڈی پی او ننکانہ صاحب فراز احمد کے ہمراہ ضلع کا دورہ کیا اور ٹریفک آگاہی مہم کے سیمینار میں شرکت کی۔ سیمینار میں ڈی ایس پی ٹریفک عاصم اعوان، حرا ایجوکیشن سسٹم کے سربراہان، اساتذہ، طلباء اور پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے شرکت کی۔ شرکاء کو ٹریفک آگاہی کے حوالے سے ایک شارٹ فلم بھی دکھائی گئی۔

    اس موقع پر آر پی او نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا اندازہ سڑکوں پر ٹریفک قوانین کی پابندی سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رویوں میں مثبت تبدیلی اور قانون سے متعلق آگاہی پیدا کرنا ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آر پی او نے واضح کیا کہ تعلیمی اداروں اور معاشرے میں منشیات کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے اور اس معاملے پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

    انہوں نے اساتذہ اور طلباء پر زور دیا کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی اور منشیات فروشی کے خلاف پولیس کا ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے شہداء اور غازی شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، اس لیے ہم سب کو مل کر معاشرتی برائیوں کے خاتمے کا عزم کرنا ہوگا۔

    آر پی او نے مختلف شعبوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کو اعزازی سرٹیفیکیٹس دیے، جبکہ حرا ایجوکیشن سسٹم کی جانب سے آر پی او، ڈی پی او اور ڈسٹرکٹ ٹریفک آفیسر کو اعزازی شیلڈز پیش کی گئیں۔ ہمدرد کتب خانہ کی جانب سے پولیس افسران کو غلافِ کعبہ کا تحفہ بھی دیا گیا۔

    سیمینار کے اختتام پر شرکاء میں ٹریفک آگاہی پمفلٹس تقسیم کیے گئے اور ٹریفک قوانین آگاہی واک بھی کی گئی۔ سیمینار میں حرا ایجوکیشن سسٹم کے ڈائریکٹر چوہدری مجید، ایگزیکٹیو ڈائریکٹر قیصر عرفان چوہدری، پاکستان چیمبر آف ایجوکیشن کے چیئرمین نصیب الٰہی گجر، ہمدرد بک ڈپو لاہور کے جمیل احمد، ماہر تعلیم سعید اختر اور پرائیویٹ سکول ایجوکیشن ننکانہ کے عہدیداران بھی موجود تھے۔

  • ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ، سہولیات کا جائزہ

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا ڈی ایچ کیو ہسپتال کا دورہ، سہولیات کا جائزہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو نے ڈی ایچ کیو سٹی ہسپتال اوکاڑہ کا دورہ کر کے مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور کوالٹی سروسز کا تفصیلی جائزہ لیا۔

    دورے کے دوران انہوں نے ایمرجنسی سروسز، او پی ڈی، ادویات کی دستیابی اور صفائی کے انتظامات کا معائنہ کیا، جبکہ ہسپتال انتظامیہ نے مختلف شعبہ جات کی کارکردگی سے آگاہ کیا۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے مریضوں اور ان کے لواحقین سے ملاقات کر کے سہولیات کے حوالے سے فیڈ بیک بھی حاصل کیا۔

    اس موقع پر انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ علاج معالجے کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے اور مریضوں کو بروقت، معیاری اور باعزت طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف پر زور دیا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں احسن طریقے سے انجام دیں، صفائی کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے اور ادویات کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو نے کوالٹی سروسز کے تسلسل اور عوامی شکایات کے فوری ازالے کے لیے بھی واضح ہدایات جاری کیں۔

  • اوکاڑہ:چونگی نمبر 7 پر تجاوزات کے خلاف کارروائی، جرمانے اور سامان ضبط

    اوکاڑہ:چونگی نمبر 7 پر تجاوزات کے خلاف کارروائی، جرمانے اور سامان ضبط

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر پیرا فورس اور میونسپل کمیٹی کے اہلکاروں نے چونگی نمبر 7 پر تجاوزات کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے خلاف ورزی کے مرتکب دکانداروں کو 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا اور تجاوزات کا سامان تحویل میں لے لیا۔

    انسداد تجاوزات مہم سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید کی زیر نگرانی کی گئی، جس کے دوران مختلف دکانوں کی چیکنگ کی گئی اور سڑکوں و فٹ پاتھوں پر لگائی گئی تجاوزات ہٹا دی گئیں۔

    اس موقع پر سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید نے کہا کہ تجاوزات سے پاک شہر اور بازار خوبصورتی اور عوامی سہولت کی علامت ہیں، جبکہ حکومت پنجاب کے ویژن کے تحت اس سلسلے میں عملی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دکانداروں پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور عوام کے لیے مشکلات پیدا کرنے سے گریز کریں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تجاوزات میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت کارروائیاں جاری رہیں گی اور کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • اوکاڑہ :پولیس کی کارروائی، خطرناک چور گینگ کے 4 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ :پولیس کی کارروائی، خطرناک چور گینگ کے 4 ملزمان گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگارملک ظفر)اوکاڑہ پولیس نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے کارروائی کرتے ہوئے خطرناک چور گینگ کے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا، جو مختلف مقدمات میں اشتہاری بھی نکلے۔ پولیس نے ملزمان کے قبضے سے بھاری مالِ مسروقہ اور اسلحہ بھی برآمد کر لیا۔

    پولیس ترجمان کے مطابق تھانہ صدر دیپالپور پولیس نے ڈی پی او اوکاڑہ کے خصوصی ٹاسک پر کامیاب کارروائی کی۔ گرفتار ملزمان میں سلیم، تنویر، علی ارشد اور عامر شامل ہیں، جو ایک منظم چور گینگ کے ارکان ہیں اور متعدد مقدمات میں مطلوب تھے۔

    ملزمان نے دورانِ تفتیش 10 بکریاں، ایک ٹوکہ مشین اور ایک بجلی کی موٹر چوری کرنے کی وارداتوں کا انکشاف کیا۔ پولیس نے ان کے قبضے سے چار عدد 30 بور پسٹل اور گولیاں بھی برآمد کیں، جبکہ اسلحہ برآمدگی پر ملزمان کے خلاف الگ مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

    پولیس کے مطابق ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے اور مزید مالِ مسروقہ کی برآمدگی کی توقع ہے۔

  • اوکاڑہ:تھانہ اے ڈویژن پولیس کی بروقت کارروائی، 10 سالہ بچہ چند گھنٹوں میں بازیاب

    اوکاڑہ:تھانہ اے ڈویژن پولیس کی بروقت کارروائی، 10 سالہ بچہ چند گھنٹوں میں بازیاب

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ پولیس تھانہ اے ڈویژن نے سخت سرد موسم اور شدید دھند کے باوجود اپنے فرائض کو اولین ترجیح دیتے ہوئے چند ہی گھنٹوں میں 10 سالہ بچے کو بازیاب کرا کے والدین کے حوالے کر دیا۔

    تفصیلات کے مطابق پکار 15 پر گورنمنٹ کالونی، نزد ٹینکی چوک سے ایک بچے کے اغواء کی اطلاع موصول ہوئی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ اے ڈویژن جہانزیب وٹو نے موسم کی سختی کی پرواہ کیے بغیر اپنی ٹیم کے ہمراہ فوری کارروائی کا آغاز کیا۔

    پولیس نے سیف سٹی کیمروں، مختلف مقامات پر نصب سی سی ٹی وی کیمروں، ہیومن انٹیلی جنس اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے مؤثر سرچ آپریشن کیا، جس کے نتیجے میں چند ہی گھنٹوں میں 10 سالہ نوریز نواز کو تلاش کر کے بحفاظت والدین کے حوالے کر دیا گیا۔

    بچے کی بحفاظت بازیابی پر اہلِ خانہ نے تھانہ اے ڈویژن پولیس کی پیشہ ورانہ کارکردگی اور فوری ردِعمل کو سراہتے ہوئے ایس ایچ او جہانزیب وٹو اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعائیں کیں۔