Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • لنڈی کوتل: پولیس کی منشیات کے خلاف کارروائی، 986 ایکسٹسی گولیاں برآمد، اسمگلر گرفتار

    لنڈی کوتل: پولیس کی منشیات کے خلاف کارروائی، 986 ایکسٹسی گولیاں برآمد، اسمگلر گرفتار

    لنڈی کوتل (باغی ٹی وی رپورٹ) ڈی پی او خیبر کی خصوصی ہدایات پر لنڈی کوتل پولیس نے منشیات کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے ایک مشکوک شخص کو گرفتار کر کے 986 نشہ آور ایکسٹسی گولیاں برآمد کر لی ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او لنڈی کوتل زاہد اللہ کی نگرانی میں اے ایس ایچ او حضرت حسین نے دلخاد روڈ پر ناکہ بندی کی۔ اس دوران ایک مشکوک شخص اویس ولد اعتبار جان، سکنہ لنڈی کوتل کو روکا گیا اور تلاشی لی گئی۔ پولیس کے مطابق تلاشی کے دوران اس کے قبضے سے 986 عدد ایکسٹسی گولیاں برآمد ہوئیں، جو منشیات فروشوں کی مارکیٹ میں فروخت کے لیے تیار تھیں۔

    ملزم کو موقع پر گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے تاکہ منشیات کے نیٹ ورک کو بھی بے نقاب کیا جا سکے۔

    مقامی مشران اور فلاحی تنظیموں نے پولیس کی کارروائی کو سراہا اور مطالبہ کیا کہ منشیات فروشوں کے خلاف کاروائیاں مزید تیز اور مؤثر بنائی جائیں تاکہ علاقے میں منشیات کی فروخت اور نوجوان نسل کی تباہی کو روکا جا سکے۔

    یہ کارروائی خیبر پولیس کی ضلع میں منشیات کے خاتمے کے سلسلے میں جاری کوششوں کا حصہ ہے، جس کا مقصد نہ صرف اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو ناکام بنانا بلکہ عام شہریوں کی حفاظت اور امن و امان کو برقرار رکھنا بھی ہے۔

  • میں صحافی نہیں ہوں

    میں صحافی نہیں ہوں

    میں صحافی نہیں ہوں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفیٰ بڈانی
    میں صحافی نہیں ہوں۔یہ جملہ میں نے کسی جذباتی لمحے میں نہیں کہا، بلکہ 2026 میں اُس دن خود سے دہرایا جب ڈیرہ غازیخان کی ضلعی انتظامیہ نے ہفتہ کے روز پریس کلب کی ووٹر لسٹ جاری کی اور وہ فہرست میرے سامنے آئی۔ میں نے نام تلاش کیا، کئی بار دیکھا، مگر میرا نام اس فہرست میں موجود نہیں تھا۔ یوں محسوس ہوا جیسے برسوں پر محیط میرا صحافتی سفر، میری شناخت اور میرا وجود ایک سرکاری کاغذ کے ایک فیصلے سے بے معنی بنا دیا گیا ہو۔ یہ محض ایک فہرست نہیں تھی، بلکہ میرے لیے یہ اعلان تھا کہ میں اب سرکار کی نظر میں صحافی نہیں رہا۔

    یہ کوئی تکنیکی غلطی نہیں تھی، نہ ہی کسی لاپرواہی کا نتیجہ۔ یہ ایک دانستہ اقدام تھا، جس کے پیچھے وہی سرکاری چمچے، نام نہاد لیڈر اور وہ عناصر کارفرما تھے جنہوں نے پریس کلب کی سیاست کو اصولوں کے بجائے مفادات کا کھیل بنا رکھا ہے۔ حیرت اس بات پر نہیں کہ میرا نام نکالا گیا، حیرت اس بات پر ہے کہ 23 برس سے جاری صحافتی سفر، ذمہ داریاں، عہدے اور خدمات سب کو یکسر نظرانداز کر دیا گیا۔

    میرا صحافتی سفر 2003 میں روزنامہ سنگ میل ملتان سے شروع ہوا۔ وقت کے ساتھ میں نے نمائندہ خصوصی، کرائم رپورٹر، ڈسٹرکٹ رپورٹر، بیورو چیف اور انتظامی ذمہ داریاں نبھائیں، حتیٰ کہ گروپ ایڈیٹر کے عہدے تک پہنچا۔ آج بھی میں مبشر لقمان جیسے سینئر صحافی کے ادارے باغی ٹی وی میں بطور انچارج نمائندگان خدمات انجام دے رہا ہوں، جبکہ لاہور سے شائع ہونے والے ایک اخبار میں ڈیرہ غازی خان کا بیورو چیف ہوں۔ قومی اور بین الاقوامی حالاتِ حاضرہ پر مسلسل کالم لکھ رہا ہوں۔ پریس کلب کی سیاست میں بھی میرا کردار محض تماشائی کا نہیں رہا؛ مختلف ادوار میں باڈی کا حصہ رہا اور الیکشن شیڈول جاری ہونے تک بطور سینئر نائب صدر (الیکٹرانک میڈیا) ذمہ داریاں نبھاتا رہا۔ اس سب کے باوجود، سرکاری فہرست میں میرا نام نہیں۔

    سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟
    اس کا جواب بہت سادہ مگر بہت تلخ ہے۔
    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں برائی کے اڈے نہیں چلاتا، نہ ان کی سرپرستی کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں سے تعلق رکھتا ہوں جو خبر کے نام پر راتوں کو شراب اور گناہ کی محفلیں سجاتے ہیں۔ میں نے کبھی یہ نہیں مانا کہ صحافت کے لیے کردار کی قربانی دینا لازم ہے، اسی لیے میں سرکار کی فہرست میں قابلِ قبول نہیں۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نے کبھی جوئے کے اڈے نہیں چلائے، نہ شراب و شباب کی محفلوں کا حصہ بنا اور نہ کسی قبیح فعل کو “ذاتی معاملہ” کہہ کر نظرانداز کیا۔ میں نے برائی کو برائی کہا، چاہے وہ کسی دوست کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔ شاید یہی سب سے بڑا جرم ہے۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں تاجر نہیں ہوں جو تجارت کی آڑ میں دو نمبر سامان بیچتا پھرے۔ میرے پاس نہ چمکتی دمکتی گاڑی ہے، نہ کسی چیمبر آف کامرس کی چھتری، اور نہ ہی اشتہار کے بدلے خبر بیچنے کا ہنر۔ میں نے ہمیشہ قلم کو روزی نہیں، ذمہ داری سمجھا۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں نہ سمگلر ہوں اور نہ سمگلروں کا سہولت کار۔ نہ کسی افسر کا کارِ خاص ہوں جو پردے کے پیچھے سودے طے کراتا پھرے۔ میں نے خبر کو کبھی “مفاد” کے ترازو میں تول کر ہلکا یا بھاری نہیں بنایا۔

    میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میرے پاس وہ گاڑی نہیں جس میں محکمہ تعلقاتِ عامہ کے افسران کو گھمایا جائے، ان کے لیے محفلیں سجائی جائیں یا انہیں مہمانِ خصوصی بنا کر خوش رکھا جائے۔ میں نے صحافت کو ٹیکسی سروس یا تعلقات کا ذریعہ نہیں بنایا۔

    میں اس لیے صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں ڈپٹی کمشنر یا کمشنر کے دفاتر میں حاضری دینے کا عادی نہیں۔ میں نے کبھی ان کے دروازوں پر کھڑے ہو کر سلامی نہیں بھری، نہ کسی کا سفارشی بنا اور نہ ہی کسی سفارش کا سہارا لیا۔ میرے نزدیک خبر طاقت کے ایوانوں میں نہیں، عوام کے دلوں اور گلیوں سے جنم لیتی ہے۔

    اور میں اس لیے بھی صحافی نہیں ہوں کیونکہ میں کسی سرکاری دفتر سے منتھلی کا خواہشمند نہیں رہا ہوں۔ نہ چوکیدار ہوں، نہ چپڑاسی، نہ وہ دیوس جو افسران کی راتیں رنگین کرنے کا کام کرے۔ میں اپنی حق حلال کی کمائی پر جیتا ہوں اور اسی پر فخر کرتا ہوں۔

    یہ تمام باتیں دراصل میری نااہلی کی فہرست ہیں۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر مجھے بتایا گیا کہ میں اب صحافی نہیں رہا۔ مگر میں پورے شعور کے ساتھ یہ بات کہتا ہوں کہ اگر صحافی ہونے کی شرط یہی سب کچھ ہے تو پھر مجھے یہ اعزاز قبول نہیں۔

    میں صحافی نہیں ہوں، مگر میں سچ لکھنے والا انسان ہوں۔میں وہ شخص ہوں جس کی جیب خالی ہو سکتی ہے، مگر ضمیر نہیں۔میں وہ شخص ہوں جسے پریس کلب کی سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، مگر صحافت سے عشق ہے۔

    دنیا کے کسی بھی کونے میں چلے جائیں،ایشیا ہو یا یورپ، امریکہ ہو یا افریقہ..کہیں بھی حکومتیں صحافیوں کی "ووٹر لسٹیں” مرتب نہیں کرتیں۔ کہیں کسی ڈپٹی کمشنر، ضلعی انتظامیہ یا کسی نوکر شاہی کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ میز پر بیٹھ کر یہ طے کرے کہ "کون صحافی ہے اور کون نہیں”۔ صحافی کی پہچان اس کا قلم، اس کا کام اور اس کی عوامی ساکھ ہوتی ہے، نہ کہ کسی سرکاری دفتر سے جاری ہونے والی کوئی فہرست۔ مگر حیرت ہے کہ مملکتِ خداداد میں "ڈیرہ غازی خان” وہ واحد بدقسمت ضلع بن چکا ہے جہاں ضلعی حکومت صحافیوں کے شجرے اور فہرستیں مرتب کرنے میں مصروف ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا اب پورے پاکستان میں صحافیوں کی سندِ صداقت بانٹنے کا اختیار ڈپٹی کمشنرز کو سونپ دیا گیا ہے؟ یا پھر ڈیرہ غازی خان میں صحافت پر پہرے بٹھانے کا کوئی ایسا انوکھا اور خطرناک تجربہ کیا جا رہا ہے جسے ‘گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ’ میں درج کروانا مقصود ہے؟ اربابِ اختیار جواب دیں کہ کیا اب ضلعی افسر یہ طے کریں گے کہ سچ بولنے کا مجاز کون ہے؟ اگر آج صحافی کی پہچان سرکار کی مرضی سے ہوگی، تو کل خبر کا متن بھی سرکار لکھ کر دے گی، اور پرسوں سچ لکھنا ریاست کے خلاف بغاوت قرار پائے گا۔

    میں برملا کہتا ہوں کہ میں "سرکاری صحافی” نہیں ہوں،اگر صحافت کی قیمت اپنی آزادی، ضمیر اور قلم کو کسی سرکاری فہرست کی زنجیر پہنانا ہے، تو مجھے ایسی صحافت سے توبہ ہے۔ یاد رکھیے! ووٹر لسٹ سے میرا نام تو کاٹا جا سکتا ہے، مگر تاریخ کے اوراق سے میری آواز مٹانا کسی سرکاری قلم کے بس میں نہیں۔ میں صحافی نہیں ہوں… اور شاید اسی لیے آج بھی آزاد ہوں۔

    آخر میں صرف چھوٹا سا سوال "کیا ضلعی انتظامیہ نے ڈیرہ غازی خان کی تمام عوامی محرومیاں ختم کر دی ہیں کہ اب ان کے پاس صرف صحافیوں کی لسٹیں بنانےکا کام باقی رہ گیا ہے؟”

  • اوچ شریف: یومِ یکجہتی کشمیر پر شرمناک خاموشی، انتظامیہ کی بے حسی پر سوالات

    اوچ شریف: یومِ یکجہتی کشمیر پر شرمناک خاموشی، انتظامیہ کی بے حسی پر سوالات

    اوچ شریف (نامہ نگار حبیب خان)مدینہ الاولیاء اوچ شریف میں 5 فروری یومِ یکجہتی کشمیر جیسے اہم قومی دن پر افسوسناک اور شرمناک خاموشی دیکھنے میں آئی، جہاں پورا شہر مکمل طور پر لاتعلق اور بے حس نظر آیا۔ نہ کوئی ریلی نکالی گئی، نہ دعائیہ تقریب منعقد ہوئی، نہ ہی کوئی تعلیمی، سماجی یا آگاہی پروگرام منعقد کیا گیا، گویا یومِ کشمیر سرے سے موجود ہی نہ تھا۔

    ذرائع کے مطابق مقامی انتظامیہ، میونسپل کمیٹی، پولیس، ہسپتال انتظامیہ، سول سوسائٹی اور تاجر برادری نے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریوں سے چشم پوشی اختیار کی۔ ملک کے دیگر شہروں میں جہاں کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں، سیمینارز، دعائیہ اجتماعات اور آگاہی مہمات جاری رہیں، وہیں اوچ شریف میں سرکاری مشینری کی نااہلی اور بے حسی نے اس قومی دن کو ایک عام دن بنا کر رکھ دیا۔

    انتظامیہ کی جانب سے نہ کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، نہ تعلیمی اداروں کو متحرک کیا گیا، نہ مساجد میں خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا اور نہ ہی شہر بھر میں کسی مقام پر بینر یا پلے کارڈ نظر آیا۔ اس صورتحال نے ضلعی اور تحصیل انتظامیہ کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

    شہری اور سماجی حلقوں نے اس رویے کو ’’قومی غیرت کا جنازہ‘‘ قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اگر ایسے اہم قومی دن بھی سرکاری بے حسی کی نذر ہوتے رہے تو نئی نسل میں حب الوطنی، قومی شعور اور کشمیری کاز سے وابستگی کیسے پیدا ہو سکے گی۔

    عوامی حلقوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار افسران کا فوری تعین کر کے ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور آئندہ ایسے قومی مواقع پر باضابطہ تقریبات، ریلیوں اور آگاہی مہمات کو یقینی بنایا جائے، تاکہ اوچ شریف کو قومی سطح پر مزید شرمندگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

  • ننکانہ صاحب: مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے پولیو عظمیٰ کاردار کا دورہ، پولیو مہم کا جائزہ

    ننکانہ صاحب: مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے پولیو عظمیٰ کاردار کا دورہ، پولیو مہم کا جائزہ

    ننکانہ صاحب (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے پولیو عظمیٰ کاردار نے ننکانہ صاحب کا دورہ کیا، جہاں ان کی زیرِ صدارت ڈپٹی کمشنر آفس کے کمیٹی روم میں جاری پولیو مہم کے حوالے سے جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔

    اجلاس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، سی ای او ہیلتھ، محکمہ صحت کے افسران اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ نے مشیر وزیراعلیٰ کو ضلع میں جاری پولیو مہم سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع ننکانہ صاحب میں پانچ سال تک کی عمر کے 2 لاکھ 88 ہزار سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس کے حصول کے لیے مجموعی طور پر 1198 پولیو ٹیمیں فیلڈ میں قومی فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔ بتایا گیا کہ ضلع میں پولیو مہم کا آج آخری روز ہے اور ہدف کو ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔

    اس موقع پر مشیر وزیراعلیٰ پنجاب عظمیٰ کاردار نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف خود بچوں کو معذوری سے بچانے کے لیے انسدادِ پولیو مہم پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں، اور پنجاب بھر میں تمام اداروں کے لیے پولیو مہم کے سو فیصد اہداف کا حصول اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ پانچ سال تک کی عمر کا کوئی بھی بچہ پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے سے محروم نہ رہے۔

    عظمیٰ کاردار نے انسدادِ پولیو ٹیموں پر زور دیا کہ وہ فیلڈ میں مزید متحرک ہو کر قومی جذبے کے تحت فرائض انجام دیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جھگیوں، بس اسٹینڈز، شہر کے داخلی و خارجی راستوں اور گھروں تک جا کر بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں تاکہ سو فیصد اہداف کا حصول یقینی بنایا جا سکے۔

    بعد ازاں مشیر وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کے ہمراہ گوردوارہ جنم استھان میں قائم پولیو کیمپ کا بھی دورہ کیا، جہاں انہوں نے بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے اور کیمپ میں فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا۔

  • ننکانہ صاحب: ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی

    ننکانہ صاحب: ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی

    ننکانہ صاحب (نامہ نگار احسان اللہ ایاز)یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ضلعی انتظامیہ ننکانہ صاحب کے زیرِ اہتمام ایک پُرامن اور باوقار ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے عہد کی تجدید کرنا تھا۔

    ریلی ڈی سی آفس سے شروع ہو کر گوردوارہ جنم استھان پر اختتام پذیر ہوئی۔ ریلی کی قیادت ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راؤ اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فراز احمد نے کی۔ ریلی میں ضلعی افسران، علماء اکرام، سکھ کمیونٹی، تاجر، وکلاء، میڈیا تنظیموں کے نمائندگان اور سول سوسائٹی کے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے کشمیری اور پاکستانی پرچموں کے ساتھ بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ فضا ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ’’افواجِ پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

    اس موقع پر مقررین نے کہا کہ یومِ یکجہتی کشمیر کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کے عہد کی تجدید کا دن ہے۔ کشمیری عوام کی قربانیاں، جدوجہد اور استقامت پوری امتِ مسلمہ کے لیے باعثِ فخر ہیں، اور ہر پاکستانی دل کی گہرائیوں سے اپنے کشمیری بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

    مقررین نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں عالمی اداروں کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہیں۔ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں، جبکہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد ہی خطے کے امن اور سلامتی کا واحد حل ہے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ حکومتِ پاکستان کشمیری عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گی۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کشمیری عوام کی آزادی تک ان کی حمایت جاری رہے گی۔ مقررین نے اس امید کا اظہار کیا کہ انشاءاللہ بہت جلد مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا خاتمہ ہو گا اور کشمیری عوام اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کریں گے۔

  • گھوٹکی:جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی، کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کا مطالبہ

    گھوٹکی:جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام یومِ یکجہتی کشمیر ریلی، کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دلانے کا مطالبہ

    میرپورماتھیلو (نامہ نگار مشتاق علی لغاری)جماعتِ اسلامی ضلع گھوٹکی کے زیرِ اہتمام اوباڑو شہر میں یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر مظلوم کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک پُرامن اور منظم ریلی نکالی گئی۔ ریلی کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ اخلاقی و انسانی ہمدردی کا اظہار اور مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کی جانب عوامی توجہ مبذول کرانا تھا۔

    ریلی میں جماعتِ اسلامی کے ضلعی و مقامی رہنماؤں، کارکنان، سماجی شخصیات، تاجر برادری، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر کشمیری عوام کے حق میں نعرے اور مطالبات درج تھے، جبکہ فضا ’’نعرۂ تکبیر‘‘، ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ’’یکجہتیٔ کشمیر‘‘ کے نعروں سے گونجتی رہی۔

    ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مہمانِ خصوصی مولانا حزب اللہ جکھرو، ڈپٹی جنرل سیکریٹری جماعتِ اسلامی صوبہ سندھ، نے کہا کہ وادیٔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، جس کی مکمل آزادی اور خودمختاری کے بغیر کوئی حل قابلِ قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے بھارتی جبر، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن افسوس کہ اقوامِ متحدہ اور عالمی طاقتیں مسلسل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔

    اس موقع پر امیر جماعتِ اسلامی ضلع گھوٹکی تشکیل احمد صدیقی، نائب امیر مولانا مفتی محمد یوسف مزاری اور صدر جماعتِ اسلامی یوتھ ضلع گھوٹکی علی حسن منصوری نے بھی خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ بھارتی افواج کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کھلم کھلا نسل کشی کی جا رہی ہے، جبکہ 57 اسلامی ممالک اور عالمی برادری کی مجرمانہ خاموشی لمحۂ فکریہ ہے۔

    مقررین نے پاکستانی حکمرانوں پر زور دیا کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں اور کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی غیور عوام اب اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں پر ڈھائے جانے والے مظالم مزید برداشت نہیں کریں گی۔

    ریلی میں جماعتِ اسلامی کے علاوہ پرلس پبلک سیکنڈری اسکول اوباڑو اور مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں کی جانب سے بھی مظاہرے کیے گئے۔ ریلی کے اختتام پر ملک و قوم اور کشمیری عوام کی آزادی، سلامتی اور کامیابی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں، جبکہ شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرنے کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: پتنگ بازی کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، درجنوں مقدمات، سینکڑوں پتنگیں برآمد

    اوکاڑہ: پتنگ بازی کے خلاف بھرپور کریک ڈاؤن، درجنوں مقدمات، سینکڑوں پتنگیں برآمد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)اوکاڑہ میں پتنگ بازی، پتنگ سازی اور پتنگ فروشی کے خلاف پولیس کی جانب سے بھرپور کریک ڈاؤن جاری ہے۔ ضلع بھر میں زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت مؤثر اور بلا امتیاز کارروائیاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

    ترجمان اوکاڑہ پولیس کے مطابق ماہِ جنوری کے دوران پتنگ بازی اور پتنگ فروشی میں ملوث 25 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مختلف کارروائیوں کے دوران 622 پتنگیں اور 62 کیمیکل ڈور برآمد کی گئی۔

    پتنگ بازی کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لیے ضلع بھر میں خصوصی پولیس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو مسلسل گشت اور مؤثر نگرانی کر رہی ہیں۔ اس سلسلے میں حساس علاقوں کی کڑی مانیٹرنگ کے لیے ڈرون کیمروں اور سیف سٹی کیمروں کی مدد بھی حاصل کی جا رہی ہے۔

    ڈی پی او اوکاڑہ نے کہا ہے کہ پتنگ بازی، پتنگ سازی اور پتنگ فروشی پر مکمل پابندی عائد ہے، اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلا تفریق سخت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر محفوظ پتنگ بازی انسانی جانوں کے لیے سنگین خطرہ ہے، اس لیے کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔

    اوکاڑہ پولیس نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھیں اور انہیں پتنگ بازی جیسے خطرناک اور جان لیوا مشغلے سے دور رکھیں۔ شہریوں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ پتنگ بازی کی روک تھام میں پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔

    ترجمان اوکاڑہ پولیس کا مزید کہنا تھا کہ عوامی تعاون کے بغیر اس ناسور کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں، اور پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔

  • اوکاڑہ: یومِ یکجہتی کشمیر پر ضلعی انتظامیہ اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج کی پُرامن ریلی

    اوکاڑہ: یومِ یکجہتی کشمیر پر ضلعی انتظامیہ اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج کی پُرامن ریلی

    اوکاڑہ (باغی ٹی وی/نامہ نگار ملک ظفر)یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر اوکاڑہ میں ضلعی انتظامیہ کے زیرِ اہتمام ایک پُرامن اور باوقار یکجہتی ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس میں کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔

    تفصیلات کے مطابق ریلی کی قیادت ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو محمد شعجین وسطرو نے کی۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی، دیگر سرکاری افسران، سول سوسائٹی کے نمائندے، اساتذہ، طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    ریلی کے شرکاء نے کشمیر کی آزادی اور مقبوضہ وادی میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جبکہ فضا ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ اور ’’ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں‘‘ جیسے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر نے کہا کہ کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کا مقصد دنیا کو یہ باور کروانا ہے کہ پاکستانی قوم مظلوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے تک پاکستان ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتا رہے گا، کیونکہ پاکستان کی آزادی کشمیر کی آزادی کے بغیر نامکمل ہے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل احمد سلیم چشتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیری عوام اپنی جدوجہدِ آزادی میں تنہا نہیں ہیں، پاکستان کی پوری قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور عالمِ اسلام پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو ان کا حقِ خودارادیت دلوانے کے لیے مؤثر کردار ادا کریں۔

    ریلی کے اختتام پر مقبوضہ کشمیر کے شہداء کے درجات کی بلندی اور وادیٔ کشمیر کی جلد آزادی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

    دوسری طرف گورنمنٹ گریجویٹ کالج اوکاڑہ میں یومِ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے ایک پروقار سیمینار اور ریلی کا انعقاد کیا گیا جس میں کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی اور ان پر ہونے والے مظالم کو بھرپور طریقے سے اجاگر کیا گیا۔ سیمینار کی نظامت ڈاکٹر حسن رضا اقبالی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دی جبکہ پروفیسر عثمان غنی اور پروفیسر حسیب افتخار نے اپنے خطاب میں کشمیریوں کی لازوال قربانیوں پر روشنی ڈالی۔ پرنسپل کالج پروفیسر علی حیدر ڈوگر نے اپنے صدارتی خطاب میں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ان کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا

  • ڈیرہ غازی خان: ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی یومِ کشمیر پر یکجہتی ریلی

    ڈیرہ غازی خان: ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی یومِ کشمیر پر یکجہتی ریلی

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی/سٹی رپورٹر)ڈیرہ غازی خان میں ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے یومِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک بھرپور ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت ریجنل منیجر شاہزیب خان اور کوآرڈینیٹر عبداللہ عباسی نے کی، جبکہ ڈسٹرکٹ منیجر توفیق عادل اور تحصیل منیجر عمر مجتبیٰ لغاری نے خصوصی شرکت کی۔

    ریلی کا مقصد مظلوم کشمیری عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار اور بھارتی مظالم کے خلاف آواز بلند کرنا تھا۔ ریلی ڈی سی آفس سے شروع ہو کر کچہری چوک پر اختتام پذیر ہوئی، جہاں شرکاء نے کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور بھارت کے مظالم کی شدید مذمت کی۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ریجنل منیجر ڈائیوو ویسٹ مینجمنٹ شاہزیب خان نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور کوئی بھی دشمن اگر اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا تو پوری قوم اسے ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی میں پوری پاکستانی قوم ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

    کوآرڈینیٹر عبداللہ عباسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم قربانیاں تو دے سکتے ہیں مگر کشمیر پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔ انہوں نے بھارت کو خبردار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے ناپاک عزائم ترک کرے اور کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حقِ خودارادیت فراہم کرے۔

    ریلی کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیر کی مکمل آزادی تک جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ و مکلی میں بند آر او فلٹر پلانٹس پر صوبائی محتسب سندھ کا سخت نوٹس، رپورٹ طلب

    ٹھٹھہ و مکلی میں بند آر او فلٹر پلانٹس پر صوبائی محتسب سندھ کا سخت نوٹس، رپورٹ طلب

    ٹھٹھہ (بلاول سموں):ٹھٹھہ اور مکلی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے آر او فلٹر پلانٹس کے طویل عرصے سے بند پڑے ہونے، مبینہ نااہلی اور بدانتظامی کے خلاف صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ نے سخت نوٹس لے لیا ہے اور متعلقہ محکمے سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔

    یہ نوٹس عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے نائب صدر ممتاز علی سمیجو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر ٹھٹھہ ہارون احمد خان کی ہدایت پر پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ ٹھٹھہ کو جاری کیا گیا ہے۔

    نوٹس کے متن کے مطابق شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مکلی سمیت ضلع ٹھٹھہ میں قائم تقریباً 62 آر او فلٹر پلانٹس میں سے اکثریت مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، جس کے باعث شہری صاف پینے کے پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم ہیں اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    شکایت میں خاص طور پر بھٹی مسجد کے قریب ناریجا گاؤں مکلی، درگاہ حضرت شاہ ابراہیم شاہ جیلانی ٹھٹھہ، درگاہ مخدوم آدم نقشبندی ٹھٹوی مکلی اور گاؤں رسول بخش بروہی مکلی میں قائم آر او فلٹر پلانٹس کی بندش کا ذکر کیا گیا ہے، جو گزشتہ کئی مہینوں بلکہ برسوں سے غیر فعال پڑے ہیں۔

    صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے جاری نوٹس میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 23 فروری 2026 تک اپنی تفصیلی اور جامع رپورٹ پیش کرے، بصورتِ دیگر محتسب ایکٹ 1991 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    نوٹس میں واضح کیا گیا ہے کہ احکامات کی عدم تعمیل یا رپورٹ پیش نہ کرنے کی صورت میں صوبائی محتسب سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر کو ہائی کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہیں، جن کے تحت طلبی، تحقیقات اور توہینِ عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔

    شہریوں اور سماجی حلقوں نے صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ بند پڑے آر او فلٹر پلانٹس جلد از جلد فعال کیے جائیں گے اور ذمہ دار افسران کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، تاکہ عوام کو صاف پینے کے پانی کی سہولت میسر آ سکے۔