Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: نجی کالج میں سول ڈیفنس ریزیلینس کور رجسٹریشن اور فائر فائٹنگ آگاہی دی گئی

    اوکاڑہ: نجی کالج میں سول ڈیفنس ریزیلینس کور رجسٹریشن اور فائر فائٹنگ آگاہی دی گئی

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی کی زیر نگرانی ایک نجی کالج میں سول ڈیفنس ریزیلینس کور میں رجسٹریشن اور فائر فائٹنگ سے متعلق حفاظتی اقدامات پر آگاہی سیشن کا انعقاد کیا گیا۔

    سیشن کے دوران طلبہ کو ریزیلینس کور میں شمولیت، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے طریقہ کار، فائر سیفٹی آلات کے درست استعمال اور حفاظتی انتظامات سے آگاہ کیا گیا۔ سیمینار میں طلبہ و طالبات، اساتذہ اور رضاکاروں نے بھرپور شرکت کی۔

    سول ڈیفنس افسران نے شرکاء کو ریزیلینس کور میں شمولیت کے طریقہ کار، رجسٹریشن کے مراحل اور رضاکارانہ خدمات کی اہمیت سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی نے کہا کہ سول ڈیفنس ریزیلینس کور کا مقصد ہنگامی حالات، قدرتی آفات اور مختلف حادثات کے دوران بروقت اور مؤثر امداد کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔

    انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ بروقت احتیاطی تدابیر اور درست معلومات قیمتی جانیں بچانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ عوامی آگاہی اور رضاکاروں کی شمولیت سے ایک محفوظ اور مضبوط معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے، اور اس مقصد کے لیے آگاہی پروگرامز کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔

  • ٹھٹھہ میں صوبائی وزیرِ تعلیم کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات جاری

    ٹھٹھہ میں صوبائی وزیرِ تعلیم کی کھلی کچہری، عوامی مسائل کے فوری حل کی ہدایات جاری

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی ،ڈسٹرکٹ رپورٹربلاول سموں) صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ کی صدارت میں جمخانہ کلب مکلی میں عوامی مسائل کے حل کے لیے کھلی کچہری منعقد ہوئی، جس میں ضلع ٹھٹھہ کے عوام نے تعلیم، صحت، سڑکوں، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات سے متعلق مسائل پیش کیے۔

    کھلی کچہری میں نو بھرتی شدہ اساتذہ کی تنخواہوں اور حقوق کے ریکارڈ، اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں، ونڈ ملز کے سی ایس آر فنڈز، حیدرآباد–ٹھٹھہ اور ٹھٹھہ–سجاول ڈبل روڈ کی تعمیر، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی مبینہ بے ضابطگیوں، پانی کی وارا بندی اور ناجائز قبضوں سمیت مختلف مسائل پر شکایات کی گئیں۔

    تقریب میں صوبائی وزیر سید ریاض حسین شاہ شیرازی، ایم این اے صادق علی میمن، ایم پی اے رخسانہ شاہ، چیئرمین ضلع کونسل عبدالحمید پنہور، وائس چیئرمین ممتاز علی جلبانی، ڈپٹی کمشنر منور عباس سومرو، ایس ایس پی فاروق احمد بجارانی سمیت متعلقہ محکموں کے افسران، پیپلز پارٹی کے رہنما، کارکنان اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرِ تعلیم سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد عوام کے مسائل براہِ راست سن کر ان کے فوری حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹھٹھہ سندھ کی تاریخ کا ایک اہم شہر ہے اور یہاں آ کر کھلی کچہری منعقد کرنا باعثِ مسرت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بند اسکولوں کو فعال کرنا اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

    انہوں نے کہا کہ عوام کے مسائل سن کر متعلقہ افسران کو موقع پر ہی ہدایات جاری کی گئی ہیں اور یہ مسائل صرف عوام کے نہیں بلکہ حکومت کی ذمہ داری بھی ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تمام شکایات نوٹ کر لی گئی ہیں اور ان کے حل کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔

    اس موقع پر ایم این اے صادق علی میمن نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا سلسلہ پیپلز پارٹی کی روایت ہے اور عوامی مسائل ان کی دہلیز پر حل کرنے کے لیے یہ عمل آئندہ بھی جاری رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر سندھ بھر میں کھلی کچہریوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے تاکہ عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

  • ڈسکہ میں گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے آگاہی سیمینار کا انعقاد

    ڈسکہ میں گندم کی پیداوار بڑھانے کے لیے آگاہی سیمینار کا انعقاد

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی/ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو) محکمہ زراعت (توسیع) سیالکوٹ کے زیر اہتمام کاشتکاروں کے لیے گندم کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا گیا، جس میں کسانوں کو جدید زرعی مشاورت اور حکومتی سہولیات سے آگاہ کیا گیا۔

    تحصیل ڈسکہ کے علاقے کنڈن سیان میں مقامی مارکیٹ میں منعقدہ سیمینار سے ڈائریکٹر زراعت (توسیع) گوجرانوالہ ڈاکٹر شکیل احمد، ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت (توسیع) سیالکوٹ سجاد حیدر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر زراعت (توسیع) ڈسکہ کامران بھٹی نے خطاب کیا۔ اس موقع پر محکمہ زراعت (توسیع) پنجاب کے مختلف منصوبوں، جن میں پیداواری مقابلہ، گرین ٹریکٹر اسکیم، کسان کارڈ اور دیگر سہولیات شامل ہیں، کے بارے میں تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔

    چوہدری سعید اللہ سیان، سابق چیئرمین یونین کونسل کنڈن سیان نے کاشتکاروں کی نمائندگی کرتے ہوئے کسانوں کے مسائل اور تجاویز پیش کیں۔

    مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں کسان دوست پالیسیوں کے باعث ضلع سیالکوٹ میں ریکارڈ رقبے پر گندم کی کاشت ہوئی ہے، جو کسانوں کے حکومتی اقدامات پر اعتماد کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پورے پاکستان کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے اور صوبائی حکومت کی زرعی پالیسیوں سے کسانوں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں وہ دلجمعی سے کاشتکاری پر توجہ دے رہے ہیں۔

  • سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی  بازیاب

    سکھرپولیس کی سندھ پنجاب بارڈر پر کارروائی، ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں چار مغوی بازیاب

    سکھر (باغی ٹی وی ،نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ڈی آئی جی سکھر رینج کیپٹن (ر) فیصل عبداللہ چاچڑ کی سربراہی میں سندھ پنجاب بارڈر پر ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے دوران ایک اور بڑی کامیابی حاصل کر لی گئی، جس میں چار اغوا شدہ افراد کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔

    یاد رہے کہ چند روز قبل پنجاب کے علاقے سے تعلق رکھنے والے چار افراد کو دھوکے سے بلا کر اغوا کر لیا گیا تھا، جن کی ویڈیو بھی ڈاکوؤں کی جانب سے سوشل میڈیا پر وائرل کی گئی تھی اور ان سے تاوان طلب کیا جا رہا تھا۔ اغوا ہونے والے افراد کا ذریعہ معاش کھوجی کتوں کے ذریعے مجرموں کی نشاندہی کرنا بتایا جاتا ہے، جبکہ ان کے اغوا کا مقدمہ صادق آباد میں درج تھا۔

    ڈی آئی جی سکھر رینج کی نگرانی میں ہونے والی اس ٹارگٹڈ کارروائی میں ایس ایس پی گھوٹکی انور کھیتراں کی قیادت میں پنجاب پولیس، ڈی پی او راجن پور، ایس ایس پی کشمور اور سندھ رینجرز کے باہمی تعاون سے پولیس مقابلے کے دوران مغویوں کو بحفاظت بازیاب کروا لیا گیا۔

    پولیس حکام کے مطابق جرائم پیشہ ڈاکوؤں کے گروہوں کے خلاف جاری آپریشن منطقی انجام تک جاری رکھا جائے گا اور علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

  • اوکاڑہ: بلند شرحِ پیدائش اور پائیدار ترقی کے چیلنج پر اہم انٹریکٹیو سیشن

    اوکاڑہ: بلند شرحِ پیدائش اور پائیدار ترقی کے چیلنج پر اہم انٹریکٹیو سیشن

    اوکاڑہ (نامہ نگار، ملک ظفر): ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ کے زیرِ اہتمام صحافیوں، کالم نگاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ ایک اہم انٹریکٹیو سیشن کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان “پاکستان میں بلند ترین شرحِ پیدائش اور پائیدار ترقی کا چیلنج” تھا۔

    اس نشست میں علمائے کرام، سوشل انفلوئنسرز، صحافیوں، مختلف لائن ڈیپارٹمنٹس، این جی اوز کے نمائندگان، اساتذہ اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سیشن کے میزبان ڈسٹرکٹ پاپولیشن ویلفیئر آفیسر چوہدری عاصم ہدایت نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایک خصوصی تجزیاتی رپورٹ پیش کی۔

    انہوں نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں بلند شرحِ پیدائش براہِ راست عالمی پائیدار ترقی کے اہداف (SDGs) کے حصول میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک آبادی اور دستیاب وسائل میں توازن قائم نہیں کیا جاتا، کوئی بھی معاشی پالیسی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے میڈیا، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو “قومی بقا” کے تناظر میں اجاگر کریں۔

    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ خطیب محکمہ اوقاف قاری سعید احمد عثمانی نے کہا کہ اسلام تعداد کے بجائے معیار کا درس دیتا ہے۔ ڈاکٹر عشناء رحمان، ویمن میڈیکل آفیسر ویل ویمن کلینک ڈی ایچ کیو ہسپتال نے کہا کہ فیملی پلاننگ کے بغیر ماں اور بچے کی صحت کو برقرار رکھنا ممکن نہیں، صحت مند خاندان ہی خوشحال پاکستان کی بنیاد ہیں۔

    مہمانِ خصوصی ڈپٹی ڈائریکٹر اطلاعات سید سلمان حسین نے کہا کہ آبادی میں غیر معمولی اضافے نے ملکی وسائل پر شدید دباؤ ڈال دیا ہے، جس کے منفی اثرات صحت اور تعلیم کے شعبوں پر واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

    تقریب کے اختتام پر موجود علمائے کرام، کالم نگاروں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز نے محکمہ پاپولیشن ویلفیئر کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے حکومتِ پنجاب کا پیغام عوام تک پہنچانے کے عزم کا اظہار کیا۔

  • واربرٹن کے ننھے طالب علم موحد اویس کا اعزاز، ہیڈ بوائے منتخب، گولڈ میڈلز کی جھڑی

    واربرٹن کے ننھے طالب علم موحد اویس کا اعزاز، ہیڈ بوائے منتخب، گولڈ میڈلز کی جھڑی

    واربرٹن (باغی ٹی وی، عبدالغفار چوہدری) واربرٹن کے معروف سیاسی و سماجی رہنما حاجی محمد اکرم آرائیں کے نواسے موحد اویس نے کم عمری میں شاندار کامیابیاں سمیٹ لیں۔ موحد اویس بیکن ہاؤس اسکول لاہور کے پرائمری سیکشن میں دوسری مرتبہ باقاعدہ انتخابی عمل کے ذریعے ہیڈ بوائے منتخب ہو گئے ہیں۔

    موحد اویس نے نہ صرف قائدانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ تعلیمی میدان میں بھی سالانہ بنیادوں پر مثالی کارکردگی کا ثبوت دیا۔ شاندار تعلیمی نتائج پر انہیں چھ گولڈ میڈلز اور متعدد ٹرافیوں سے نوازا گیا۔

    تعلیم کے ساتھ ساتھ موحد اویس نے ہم نصابی سرگرمیوں میں بھی نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔ کھیلوں اور موسیقی کے شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے کئی میڈلز اپنے نام کیے۔

    اہلِ علاقہ، اساتذہ اور معززین نے موحد اویس کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے ان کے روشن مستقبل کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔

  • ننکانہ :وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ضلع کی بیوٹیفکیشن سکیموں کی منظوری دے دی

    ننکانہ :وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ضلع کی بیوٹیفکیشن سکیموں کی منظوری دے دی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، احسان اللہ ایاز): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے ضلع ننکانہ صاحب میں بیوٹیفکیشن کی متعدد ترقیاتی سکیموں کی منظوری دے دی ہے۔ اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راو اور دیگر افسران نے بذریعہ ویڈیو لنک وزیراعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں شرکت کی۔

    اجلاس میں ننکانہ صاحب کے ماڈل بازاروں کی بیوٹیفکیشن کی منظوری دی گئی، جس پر 130 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کے مطابق شاہکوٹ سٹی کے ماڈل بازاروں کی بیوٹیفکیشن پلان کی بھی منظوری دی گئی ہے، جس پر 90 ملین روپے لاگت آئے گی۔

    اسی طرح تحصیل سانگلہ ہل کے ماڈل بازاروں کی بیوٹیفکیشن کی منظوری دی گئی ہے، جہاں 80 ملین روپے کی لاگت سے کام کیا جائے گا، جبکہ واربرٹن کے ماڈل بازاروں کی بیوٹیفکیشن کیلئے 50 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    اجلاس کے دوران ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب کی بریفنگ پر وزیراعلیٰ پنجاب نے گوردوارہ جنم استھان تک ماڈل روڈ کی تعمیر کی بھی منظوری دے دی۔ ضلع کی پہلی ماڈل روڈ کھیاڑے کلاں انٹرچینج سے گوردوارہ جنم استھان تک تعمیر کی جائے گی۔

    ترجمان ضلعی انتظامیہ نے بتایا کہ منظور شدہ بیوٹیفکیشن سمیت تمام ترقیاتی سکیموں پر کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے، جن کا مقصد شہری خوبصورتی میں اضافہ اور عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔

  • پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کے وائس چانسلر مقرر

    پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کے وائس چانسلر مقرر

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران کو بابا گورو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب کا مستقل وائس چانسلر تعینات کر دیا گیا ہے۔ اس تقرری کو یونیورسٹی کے علمی وژن کو آگے بڑھانے، تحقیقی سرگرمیوں کو مضبوط کرنے اور ادارہ جاتی ترقی کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

    پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران اعلیٰ تعلیم کے انتظامی شعبے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور علمی معیار، جدید تحقیق اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یونیورسٹی کی مضبوط علمی اور ادارہ جاتی بنیادوں کا قیام اور نئے تعلیمی اداروں کو درپیش چیلنجز کا مؤثر حل تلاش کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا کہ بابا گورو نانک یونیورسٹی کو ایک ترقی پسند، مؤثر اور جدید تعلیمی ادارے کے طور پر استوار کرنا ان کے وژن کا محور ہے، جس میں معیاری تدریس، تحقیقی فروغ اور دیرپا ترقی کو بنیادی اہداف کے طور پر اپنایا جائے گا۔

    یونیورسٹی حکام، فیکلٹی اراکین اور عملے نے پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران کو اس شایانِ شان تقرری پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ ان کی قیادت میں یونیورسٹی اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی معیار کے حامل ادارے کے طور پر نمایاں مقام حاصل کرے گی۔

  • لنڈی کوتل: چار بھائیوں کی پریس کانفرنس، چھوٹے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا

    لنڈی کوتل: چار بھائیوں کی پریس کانفرنس، چھوٹے بھائی سے لاتعلقی کا اعلان کردیا

    لنڈی کوتل(باغی ٹی وی رپورٹ)لنڈیکوتل کے علاقے شلمان سے تعلق رکھنے والے چار بھائیوں حاجی یار محمد، حاجی خان محمد، لعل محمد اور رسول خان نے لنڈیکوتل پریس کلب رجسٹرڈ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے چھوٹے بھائی نور محمد ولد غلام محمد سکنہ لوئے شلمان شنیلو سے باضابطہ طور پر لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔

    پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ نور محمد کے غلط چال چلن اور لین دین کے باعث انہیں شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مزید نقصان برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے، اسی لیے آج کے بعد اگر کوئی بھی شخص نور محمد ولد غلام محمد سکنہ لوئے شلمان شنیلو کے ساتھ کسی قسم کا لین دین کرتا ہے تو اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کے وہ خود ذمہ دار ہوں گے اور اس کی کوئی ذمہ داری ان چاروں بھائیوں پر عائد نہیں ہوگی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے متعلق متعلقہ اداروں کو بھی تحریری طور پر آگاہ کیا جائے گا تاکہ آئندہ نور محمد کے غلط چال چلن یا کسی بھی قسم کے مالی معاملات کی ذمہ داری ان پر نہ ڈالی جائے۔

  • اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف: سیلاب متاثرین سردی میں “مہنگائی کے شکنجے” میں، امداد کے وعدے دھوکہ بن گئے

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار: حبیب خان)اوچ شریف کے نواحی علاقے حالیہ سیلابی ریلے سے بری طرح متاثر ہوئے، جہاں متعدد مکانات منہدم ہو گئے اور گھریلو سامان پانی کی نذر ہو گیا۔ سیلاب سے متاثرہ خاندان اس وقت شدید سردی کے ساتھ ساتھ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا بھی سامنا کر رہے ہیں، جس نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

    متاثرین کے مطابق سرد موسم میں بچوں اور بزرگوں کو گرم رکھنے کے لیے کمبل اور رضائی کی اشد ضرورت ہے، تاہم مارکیٹ میں ان اشیاء کی قیمتیں اس قدر بڑھ چکی ہیں کہ غریب اور سیلاب زدہ خاندان انہیں خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ایک متاثرہ شہری کا کہنا تھا کہ وہ کم از کم اپنے بچوں کو سردی سے بچانا چاہتے ہیں، لیکن نہ مہنگی رضائیاں ان کی پہنچ میں ہیں اور نہ ہی سستے لنڈا بازار سے کچھ حاصل ہو پا رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں معیاری کورین کمبل تو بہت مہنگے داموں فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ عام کمبل بھی چھانٹی کے بعد زیادہ قیمت پر دستیاب ہیں۔ اس صورتحال نے سیلاب متاثرین کو مزید بے بس کر دیا ہے۔

    ایک متاثرہ خاتون نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ سردی کی شدت نے زندگی مشکل بنا دی ہے اور کمبلوں کی مہنگائی ایک نئے عذاب کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تاجر صرف منافع کمانے میں مصروف ہیں جبکہ متاثرہ خاندان اپنے بچوں کو گرم رکھنے کے لیے در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔

    دوسری جانب متاثرین نے حکومت پنجاب اور وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے اعلان کردہ امدادی رقوم پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ متاثرہ افراد کے مطابق سیلاب زدگان کے لیے کچے مکانات کے منہدم ہونے پر 5 لاکھ روپے اور پکے مکانات پر 10 لاکھ روپے امداد کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم عملی طور پر کچے اور پکے دونوں طرح کے مکانات کے متاثرہ خاندانوں کو صرف 75 ہزار روپے دیے گئے، جو نہ مکانات کی بحالی کے لیے کافی ہیں اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کے سامان کی خریداری کے لیے۔

    ایک متاثرہ شخص نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے وعدوں پر بھروسہ کیا، مگر دی جانے والی امداد نے ان کی مشکلات کم کرنے کے بجائے مزید بڑھا دی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ سر چھپانے کو گھر ہے، نہ مناسب لباس اور نہ ہی سردی سے بچاؤ کا کوئی انتظام۔

    سیلاب متاثرین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر کمبل، رضائیاں، گرم کپڑے اور مناسب مالی امداد فراہم کی جائے، بصورت دیگر سردی اور مہنگائی کے اس سنگین بحران میں کئی خاندان مزید خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔