Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ننکانہ : کرسمس، قائداعظم ڈے اور نئے سال کی تقریبات کیلئے انتظامات مکمل

    ننکانہ : کرسمس، قائداعظم ڈے اور نئے سال کی تقریبات کیلئے انتظامات مکمل

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب محمد تسلیم اختر راو کی زیرصدارت کرسمس، قائداعظم ڈے اور نئے سال کی تقریبات کے حوالے سے اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایس پی انویسٹیگیشن حنا نیک بخت، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز، ضلعی افسران اور ضلعی امن کمیٹی کے ممبران نے شرکت کی۔ ضلعی اداروں کے سربراہان نے آئندہ تقریبات کے سلسلے میں جاری تیاریاں اور سیکیورٹی پلان پر بریفنگ دی۔

    اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرسمس اور نئے سال کے دوران لاوڈ اسپیکر کے غلط استعمال، ون ویلنگ اور سلنسر نکالنے والے موٹر سائیکل سواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی، جبکہ لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کو صفائی ستھرائی کے بہترین انتظامات یقینی بنانے کی ہدایت دے دی گئی۔ ڈپٹی کمشنر نے تمام متعلقہ اداروں کو 20 دسمبر تک اپنے پلان جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ کرسمس کے موقع پر چرچز کے علاقوں میں خصوصی ٹریفک پلان جاری کیا جائے اور متبادل راستے فراہم کیے جائیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ تمام چرچز میں ہیلتھ اور ریسکیو کیمپس قائم کیے جائیں گے، جبکہ تینوں تحصیلوں میں سستے بازار بھی لگائے جائیں گے جہاں کرسچن کمیونٹی کو سبسڈائز آٹا اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے ضلع کے تمام وفاقی و صوبائی اداروں کو ہدایت کی کہ 20 دسمبر تک ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی ہر صورت یقینی بنائی جائے۔ کرسمس کے موقع پر ضلعی کنٹرول روم کے ساتھ تحصیل سطح پر بھی کنٹرول رومز قائم کیے جائیں گے اور چرچز کے اطراف سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے سخت نگرانی کی جائے گی۔ متعلقہ علاقوں کو لوڈشیڈنگ فری رکھنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔

    ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ تقاریب کے دوران چرچز کے اطراف صفائی، پیچ ورک اور دیگر شہری سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ قائداعظم ڈے کے موقع پر تمام ضلعی دفاتر، کالجز اور اسکولوں میں تقریبات منعقد کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئیں۔

    بعد ازاں کرسمس کے حوالے سے ضلعی امن کمیٹی کا اجلاس بھی ڈپٹی کمشنر کی زیرصدارت ہوا، جہاں کمیٹی ممبران نے ضلع میں امن و امان برقرار رکھنے کی مکمل یقین دہانی کروائی۔ اجلاس کے اختتام پر ملکی سلامتی، امن اور ترقی کے لیے خصوصی دعا بھی کی گئی۔

  • پسرور میں غیر قانونی آئل ایجنسیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، متعدد  سیل

    پسرور میں غیر قانونی آئل ایجنسیوں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، متعدد سیل

    پسرور ( باغی ٹی وی ،نامہ نگار وقاص اسلم) ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کی ہدایات پر اسسٹنٹ کمشنر پسرور سدرہ ستار نے آج شہر بھر میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے تمام غیر قانونی آئل ایجنسیاں مکمل طور پر سیل کر دیں۔ اس دوران شہر میں قائم منی پٹرول پمپ بھی بند کر دیے گئے، جبکہ وہ دکاندار جنہوں نے اپنی جگہیں کرایہ پر دے کر یہ غیر قانونی کاروبار چلنے دیا، ان کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

    اسسٹنٹ کمشنر کی جانب سے ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ متعلقہ دکانداروں اور مالکان کے خلاف ایف آئی آر کے اندراج کے احکامات بھی جاری کر دیے گئے ہیں، تاکہ شہر میں قانون کی عملداری یقینی بنائی جاسکے۔ حکام نے واضح کر دیا ہے کہ پسرور میں آج کے بعد کسی بھی قسم کی غیر قانونی آئل ایجنسی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلاف ورزی کی صورت میں فوری ایف آئی آر، بھاری جرمانے اور دیگر قانونی کارروائیاں کی جائیں گی۔

    شہریوں کو سختی سے تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر کسی مقام پر غیر قانونی آئل ایجنسی یا منی پٹرول پمپ نظر آئے تو فوری طور پر اے سی آفس پسرور کو اطلاع دیں یا ثبوت کے ساتھ رابطہ کریں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر کی حفاظت، شفاف کارروائی اور امن و امان کی بہتری سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جس کے لیے ہر شہری کا تعاون ضروری ہے۔

  • ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری

    ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری

    ہیلمٹ۔صرف پہننا کافی نہیں، معیاری ہونا بھی ضروری
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    ہیلمٹ کا معیار اور ہماری سوچ
    بحثیت قوم ہم نے آج تک قانون شکنی کو اپنا اوڈنا بچھونا بنا رکھا ہے کیونکہ رشوت کا بازار جہاں گرم ہوگا اداروں کی کارکردگی ان کی اپنی خواہش کے مطابق ہوگی جو ہم 78 سالوں سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک الگ بات ہے ہر آنے والی حکومت یہی سوچ کر آتی ہے کہ ہم کرپشن پر قابو پالیں گے، بس اس سے آگے کا کام مشکل ہے۔ آج ہم اسی تناظر میں ہیلمٹ کے معیار پر بات چیت کرتے ہیں۔

    قارئین! اگر ہم شہروں اور دیہات کی سڑکوں پر نظر دوڑائیں تو ایک چیز عام دکھائی دیتی ہے کہ ہیلمٹ کا استعمال بڑھ تو گیا ہے، مگر معیاری ہیلمٹ کا تصور ابھی بھی ہم سے کوسوں دور ہے۔ ٹریفک پولیس آئے روز سواروں کو ہیلمٹ پہننے کی تلقین کرتی ہے، مگر کیا کبھی اس بات پر توجہ دی گئی کہ عوام جو ہیلمٹ پہن رہے ہیں وہ صحت مند، مضبوط اور عالمی معیار کے مطابق ہیں بھی یا نہیں؟

    ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ ہیلمٹ پہننے کا مقصد صرف جرمانہ سے بچنا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رویہ انسانی جان کی قدر میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ ہیلمٹ کسی بھی حادثے میں زندگی اور موت کے درمیان کھڑی وہ آخری دیوار ہے جس پر سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ مگر افسوس! ہم اس بنیادی حقیقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور صرف ہمارا مقصد چالان سے بچنا ہے جو بالکل غلط سوچ ہے۔

    ہمارے معاشرے میں “ڈنگ ٹپاؤ” پالیسی بہت مضبوطی سے رچ بس گئی ہے۔ موٹر سائیکل سوار صرف یہ دیکھتا ہے کہ کچھ بھی سر پر رکھ لو، پولیس چالان نہیں کرے گی۔ اسی سوچ نے بازاروں میں ناقص، غیر معیاری، غیر رجسٹرڈ اور کمزور ہیلمٹ کو فروغ دیا ہے۔ ان میں نہ کوئی حفاظتی تہہ ہوتی ہے، نہ شیل مضبوط ہوتا ہے، نہ جھٹکا جذب کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ حادثے کی صورت میں یہ ہیلمٹ ٹوٹ کر مزید نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ اکثر لوگ سیفٹی ہیلمٹ کا استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

    پولیس نے ہیلمٹ پہننے کی پابندی تو سخت کر دی ہے، جو کہ مثبت قدم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ پولیس کو ہیلمٹ کے معیار پر بھی سختی لانا ہوگی۔ اگر ایک شہری نے صرف ٹوپی نما ہیلمٹ پہنا ہوا ہے، تو اس سے اصل مقصد یعنی جان کی حفاظت پوری نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک دھوکہ ہے۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں ہیلمٹ کے معیار کے لیے مخصوص اسٹینڈرڈ موجود ہیں جیسے DOT، ECE یا Snell۔ پاکستان میں بھی اگر ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ مشترکہ طور پر معیاری ہیلمٹ سرٹیفکیشن کا نظام بنائے تو غیر معیاری ہیلمٹ کی فروخت خود بخود ختم ہونے لگے گی۔

    ہماری غفلت جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے کیونکہ ہم صرف چالان کو ترجیح دیتے ہیں، جو کہ ایک قومی المیہ ہے۔ ہر سال ہزاروں افراد سڑک حادثات میں شدید زخمی ہوتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت وہ ہوتی ہے جن کے پاس ہیلمٹ تو موجود ہوتا ہے، لیکن وہ ناکام ہیلمٹ ہوتا ہے۔ یہ ایک قومی سانحہ ہے جس پر کوئی توجہ نہیں دے رہا۔ سڑک پر تیز رفتاری، اوورلوڈنگ، اور لائسنس کے بغیر ڈرائیونگ کے ساتھ ساتھ غیر معیاری حفاظتی آلات بھی ہمارے حادثات کی بڑی وجہ ہیں۔

    صرف پولیس ہی نہیں، عوام کو بھی معیاری ہیلمٹ کی بنیادی پہچان سمجھنی چاہیے۔ ہیلمٹ کی اندرونی تہہ جھٹکا جذب کرنے والی ہو، فوم کی موٹائی مناسب ہو، باہر کا خول ٹھوس اور سخت ہو، پٹا مضبوط ہو اور آسانی سے نہ ٹوٹے، ہیلمٹ پر مینوفیکچرر کا نام اور اسٹینڈرڈ نمبر درج ہو، اور انتہائی ہلکا، کھوکھلا یا پلاسٹک نما ہیلمٹ کبھی نہ خریدا جائے۔

    ہماری زندگیاں قیمتی ہیں۔ صرف رسمی کارروائی پوری کرنے کے لیے ناقص ہیلمٹ پہن لینا سمجھداری نہیں۔ زندگی کو ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔ حکومت، پولیس، میڈیا، اور عوام سب کو مل کر یہ شعور پیدا کرنا ہوگا کہ معیاری حفاظتی سامان استعمال کرنا ہی اصل بچاؤ ہے۔

    آخر میں ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ ہیلمٹ صرف سر ڈھانپنے کا نام نہیں، بلکہ زندگی بچانے والی ڈھال ہے اور ڈھال ہمیشہ مضبوط ہونی چاہیے۔ آج ہی سے ہم خود سے وعدہ کریں کہ ہمیں اپنی حفاظت خود کرنا ہے۔

  • سکھر: کمشنر کی نگرانی میں سول ہسپتال کے اطراف تجاوزات کے خلاف تیز آپریشن

    سکھر: کمشنر کی نگرانی میں سول ہسپتال کے اطراف تجاوزات کے خلاف تیز آپریشن

    سکھر (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری) کمشنر سکھر عابد سلیم قریشی کی ہدایت پر سول ہسپتال کے اطراف تجاوزات کے خاتمے کا آپریشن تیزی سے جاری ہے۔ کمشنر نے خود موقع پر پہنچ کر آپریشن کی رفتار، عملے کی کارکردگی اور مریضوں کی سہولت کو یقینی بنانے کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس موقع پر ایم ایس ڈاکٹر احمد مجتبیٰ میمن اور پرنسپل جی ایم ایم سی ڈاکٹر صالح چنہ بھی موجود تھے اور انہوں نے آپریشن کے دوران طبی خدمات کی روانی برقرار رکھنے کے لیے رہنمائی فراہم کی۔

    اسسٹنٹ کمشنر سارہ فراز اور مختیارِ کار سکھر سٹی بابر بلو نے آپریشن ٹیم کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے تجاوزات کے خاتمے کے مراحل، متبادل پارکنگ اور مریضوں کے لیے مخصوص راستوں کو برقرار رکھنے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ آپریشن مرحلہ وار کیا جا رہا ہے تاکہ ہسپتال میں داخلہ اور ایمبولینس سروس متاثر نہ ہو۔

    کمشنر عابد سلیم قریشی نے کہا کہ وہ مریضوں اور ایمبولینس کی رسائی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو انسانیت کے خیرخواہ قرار نہیں دیتے اور شہر بھر میں تجاوزات کے خاتمے کو حکومت کی اولین ترجیح قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مہم سے نہ صرف سول اسپتال کی سہولیات میں بہتری آئے گی بلکہ شہر کی مرکزی سڑکیں اور راستے عوام کے لیے کھلے، منظم اور محفوظ بن جائیں گے۔

    اس آپریشن کے دوران متعلقہ محکموں نے ہدایات کے مطابق نوٹسز جاری کیے اور بعض غیرقانونی ڈھانچوں کو سیل یا ہٹانے کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کی ہے اور کہا گیا ہے کہ عارضی تجاوزات کو ہٹانے کے ساتھ مریضوں، معذور افراد اور ایمرجنسی گاڑیوں کے لیے مخصوص راستے ہر صورت برقرار رکھے جائیں گے۔

    ضلع انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تجاوزات کے خاتمے کے بعد ہسپتال کے اطراف میں داخلے کے راستے، پارکنگ اور پیدل چلنے والوں کے لیے مناسب سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ مریضوں کو آسانی اور محفوظ طبی رسائی میسر ہو سکے۔

  • اوکاڑہ: یونیورسٹی میں ٹریفک قوانین پر آگاہی سیمینار، طلباء میں شعور بیدار کرنے پر زور

    اوکاڑہ: یونیورسٹی میں ٹریفک قوانین پر آگاہی سیمینار، طلباء میں شعور بیدار کرنے پر زور

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی زیر صدارت ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے سلسلے میں ایک آگاہی سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ اس سیمینار کا اہتمام ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز اور سیکیورٹی آفس کے تعاون سے کیا گیا، جبکہ اس میں محکمہ ٹریفک پولیس نے بھی بھرپور حصہ لیا۔

    سیمینار کا مقصد طلباء میں ٹریفک قوانین کی پاسداری اور سڑکوں پر نظم و ضبط کی اہمیت کے بارے میں شعور اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ شہریوں کی قیمتی جانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹریفک قوانین کی پابندی ناگزیر ہے۔ انہوں نے انتظامیہ اور سیمینار کے منتظمین بشمول ڈائریکٹر طلباء کے امور ڈاکٹر شعیب سلیم کی کوششوں کو سراہا۔

    ڈی ایس پی ٹریفک پولیس محمد دانش نے کہا کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد شہریوں کے تحفظ، سڑکوں پر نظم و ضبط اور ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ رفتار کی حد، لین ڈسپلن، سیٹ بیلٹ اور ہیلمٹ کے استعمال سے جان لیوا حادثات سے بچا جا سکتا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ کم عمر ڈرائیونگ، غلط اوور ٹیکنگ اور موبائل فون کے استعمال سے گریز لازمی ہے تاکہ سڑکوں پر حادثات کی روک تھام ممکن ہو اور شہریوں میں ذمہ داری اور شعور پیدا ہو۔

  • اوکاڑہ: غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف سول ڈیفنس کا کریک ڈاؤن، 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    اوکاڑہ: غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف سول ڈیفنس کا کریک ڈاؤن، 20 لاکھ روپے جرمانہ عائد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر سول ڈیفنس آفیسر جاوید اختر کھچی نے غیر قانونی پٹرول پمپس کے خلاف کریک ڈاؤن کیا۔ اس دوران مختلف مقامات پر پٹرول پمپس کی چیکنگ کی گئی اور چار غیر قانونی اور غیر منظور شدہ پمپس کو سیل کر دیا گیا۔

    سول ڈیفنس آفیسر نے مالکان پر مجموعی طور پر 20 لاکھ روپے کے بھاری جرمانے عائد کیے، ہر پمپس کے مالک پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بغیر لائسنس اور حفاظتی اقدامات کے چلنے والے پٹرول پمپس شہریوں کی جان و مال کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    انہوں نے شہریوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ صرف منظور شدہ اور محفوظ پمپس سے ایندھن حاصل کریں۔ سول ڈیفنس آفیسر نے مزید واضح کیا کہ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کے تحت سخت کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔

    انہوں نے پٹرول پمپ مالکان سے تاکید کی کہ تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی کاروبار کریں اور حکومتی احکامات کی مکمل پاسداری کریں تاکہ کسی بھی سخت کارروائی سے بچا جا سکے۔

  • اوکاڑہ: عوام کے مسائل کا فوری حل، ضلعی پولیس کی کھلی کچہری کا انعقاد

    اوکاڑہ: عوام کے مسائل کا فوری حل، ضلعی پولیس کی کھلی کچہری کا انعقاد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) وزیراعلیٰ پنجاب کے ویژن "انصاف کی فراہمی دہلیز تک” کے تحت ضلعی پولیس اوکاڑہ نے عجوہ مارکی، ستگھرہ موڑ، علاقہ تھانہ طیب سعید شہید میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا، جس میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

    کھلی کچہری کے دوران شہریوں نے اپنے مسائل براہِ راست ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) اوکاڑہ کے سامنے پیش کیے، اور موقع پر ہی متعدد درخواستوں پر قانونی احکامات جاری کیے گئے۔ ڈی پی او نے کہا کہ کھلی کچہریوں کا مقصد عوام کو ان کے گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کرنا اور پولیس و عوام کے درمیان رابطے کو مضبوط کرنا ہے۔

    ڈی پی او نے ایس ڈی پی اوز کو ہدایت کی کہ موصول ہونے والی تمام درخواستوں کا فوری اور میرٹ پر حل یقینی بنایا جائے۔ اس موقع پر انچارج کمپلینٹ سیل، انسپکٹر ریحانہ کوکب کو تمام درخواستوں کے مکمل فالو اپ کا حکم بھی جاری کیا گیا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں عوام اور پولیس کے درمیان اعتماد کی فضا کو بہتر بنانے کے لیے اس طرح کی کھلی کچہریاں باقاعدگی سے منعقد کی جاتی رہیں گی۔

  • میرپور ماتھیلو:یارولنڈمیں رشتہ تنازع پر فائرنگ، نوجوان  قتل

    میرپور ماتھیلو:یارولنڈمیں رشتہ تنازع پر فائرنگ، نوجوان قتل

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)یارولنڈ میں رشتہ داری کے تنازع نے سنگین رخ اختیار کر لیا، جس کے نتیجے میں فائرنگ کے دوران نوجوان جنید احمد گولی لگنے سے موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

    عینی شاہدین کے مطابق دونوں خاندانوں کے درمیان کئی روز سے تکرار اور تلخ کلامی جاری تھی، جو اچانک مسلح جھگڑے میں بدل گئی۔ فائرنگ کی آوازوں سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھروں میں محدود ہو گئے۔

    واقعے کے بعد مقتول کے لواحقین شدید غم و غصے میں یارولنڈ تھانے کے سامنے جمع ہوگئے، جہاں انہوں نے نوجوان کی لاش سڑک پر رکھ کر دھرنا دیا۔ ورثاء نے مطالبہ کیا کہ ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، شفاف تحقیقات کی جائیں اور مقتول کو انصاف فراہم کیا جائے۔

    پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس نے بتایا کہ بظاہر واقعہ رشتہ داری کے فیصلے پر پیدا ہونے والے تنازع کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے، تاہم مکمل تحقیقات کے بعد ہی حتمی رپورٹ جاری کی جائے گی۔

  • احمدپور شرقیہ:پسند کی شادی کی خواہش پر لڑکی قتل

    احمدپور شرقیہ:پسند کی شادی کی خواہش پر لڑکی قتل

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)تحصیل احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے موضع سکیل بستی مہر کالو سیال میں غیرت کے نام پر پیش آنے والا دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں پسند کی شادی کی خواہش پر ایک نوجوان لڑکی کو اس کے باپ اور بھائی نے بے رحمی سے قتل کر دیا۔ اس واقعے نے پورے علاقے کو غم اور صدمے میں مبتلا کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق مقتولہ سلمہ بی بی کئی برسوں سے اپنی خالہ کے ساتھ احمد پور شرقیہ میں مقیم تھی اور ایک مقامی میڈیکل ادارے میں ملازمت کرتی تھی۔ خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑکی اپنی پسند کے رشتے میں شادی کرنا چاہتی تھی، جس پر گھر والے سخت ناراض تھے۔

    چند روز قبل والد نے اسے یہ کہہ کر گھر بلوایا کہ اس کی مرضی کے مطابق شادی کر دی جائے گی۔ لڑکی خوشی خوشی گھر لوٹ آئی، مگر اس کے پیچھے ایک خوفناک منصوبہ چھپا تھا۔

    واقعے کی رات تقریباً 10 بجے والد مہر طالب اور بھائی نے اسے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ بعد ازاں نیم مردہ حالت میں موٹر سائیکل پر ڈال کر کھیتوں کی طرف لے جایا گیا اور ویرانے میں پھینک دیا گیا۔

    اہل علاقہ کے مطابق مقتولہ پوری رات لاپتہ رہی۔ صبح ہونے پر تھانہ ڈیرہ نواب پولیس نے مقامی افراد کی مدد سے سرچ آپریشن کیا، جس کے دوران سرسوں کی فصل سے لڑکی کی لاش برآمد کر لی گئی۔ دل خراش منظر دیکھ کر پورا علاقہ سوگوار ہو گیا۔

    پولیس نے موقع سے شواہد اکٹھے کیے اور لاش کو ٹی ایچ کیو ہسپتال احمد پور شرقیہ منتقل کر دیا، جہاں پوسٹ مارٹم جاری ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق لڑکی کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کر لیا ہے اور والد و بھائی کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    علاقہ مکینوں اور سماجی حلقوں نے اس واردات کو غیرت کے نام پر قتل کی ایک اور دل خراش مثال قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے جرائم کی روک تھام کے لیے سخت قانون سازی اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق پسند کی شادی کا حق حاصل کرنے کی خواہش کوئی جرم نہیں، مگر معاشرتی جبر نے ایک اور معصوم جان لے لی۔

    ذرائع کے مطابق سلمہ بی بی کی شادی اور رخصتی ایک روز بعد ہونا طے تھی، مگر خاندانی ضد اور فرسودہ روایات نے اسے زندگی کی دہلیز تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے حوالے کر دیا۔

    پولیس حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور ملزمان کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

  • اسلام آباد:ہیومن رائٹس ڈے سیمینار، کشمیر پر بھارتی ظلم و جبر بے نقاب

    اسلام آباد:ہیومن رائٹس ڈے سیمینار، کشمیر پر بھارتی ظلم و جبر بے نقاب

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)انٹرنیشنل ہیومن رائٹس ڈے کے موقع پر اسلام آباد میں انسانی حقوق کی کارکن مغیزہ امتیاز کی جانب سے ’’فرینڈز آف کشمیر‘‘ اور پارلیمانی کشمیر کمیٹی کے تعاون سے ایک اہم سیمینار منعقد کیا گیا۔ تقریب کا بنیادی مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا، شہداء و اسیرانِ کشمیر کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور نوجوانوں سمیت عالمی برادری کو کردار ادا کرنے کی دعوت دینا تھا۔

    تقریب سے سابق صدر آزاد جموں و کشمیر سردار مسعود خان، سینیٹر رضا ربانی، سینیٹر فرحت اللہ بابر، مسلم کانفرنس کے عثمان عتیق، حریت رہنما عبدالحمید لون، فاروق رحمانی، شیخ عبدالمتین، سماجی رہنما ڈاکٹر خالد آفتاب، رانا قاسم نون اور نوجوان رہنما محمود شہزاد خان نے خطاب کیا۔

    اپنے خطاب میں سینیٹر فرحت اللہ بابر نے حریت رہنماؤں یاسین ملک اور مسرت بٹ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ “کشمیر کا مقدمہ مقدس ہے، 5 اگست 2019 کے بعد پوری وادی ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل ہو چکی ہے۔ عالمی برادری کو بتانا ہوگا کہ کشمیر جیل کا منظر پیش کر رہا ہے۔ کشمیریوں کا حقِ خودارادیت عالمی قانون کے مطابق ہے۔”
    انہوں نے یاسین ملک کی رہائی کے لیے عالمی سطح پر مربوط کوششوں پر زور دیا۔

    عثمان عتیق نے کشمیری نوجوانوں کی مزاحمتی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ “وادی کے بچے آج بھی پاکستان کا قومی ترانہ یاد رکھتے ہیں۔ اپنی شناخت کے اظہار پر بھی انہیں ظلم کا سامنا ہے مگر ان کا عزم کمزور نہیں ہوا۔ کشمیر ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔”

    حریت رہنما عبدالحمید لون نے نوجوانوں کے کردار کو تحریکِ آزادی کا مرکزی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں میں دنیا بدلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے میڈیا کے کردار کو سراہا اور نوجوان کارکنوں کے لیے اسناد کا اعلان کیا۔

    خطاب میں شیخ عبدالمتین نے بتایا کہ “مقبوضہ کشمیر میں بدترین انسانی حقوق کی پامالی جاری ہے۔ اے پی ایچ سی چیئرمین مسرت عالم بٹ سمیت متعدد حریت رہنما بھارتی جیلوں میں بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ ہماری جدوجہد پاکستان سے وابستہ محبت اور قائدِ اعظم کے نظریے کی تکمیل کا سفر ہے۔”

    رانا قاسم نون نے کشمیر اور غزہ کی صورتحال میں مماثلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ “پانچ لاکھ سے زائد کشمیری شہید کیے جا چکے ہیں، ظلم و جبر مسلسل جاری ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ناگزیر ہے۔”

    فاروق رحمانی نے کہا کہ 1948 سے جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے باوجود کشمیری قیدیوں کی آواز دنیا تک نہیں پہنچ پاتی۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے کو سراہا۔

    سیمینار کا اختتام اس مشترکہ قرارداد پر ہوا کہ نوجوانوں کی فعال شرکت، عالمی دباؤ میں اضافہ اور مسلسل سفارتی جدوجہد ہی مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کے لیے انصاف کا راستہ ہموار کر سکتی ہے۔ شرکاء نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کی جائز اور مقدس جدوجہد کے ساتھ کھڑی ہو۔