Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • گھوٹکی: میر بابر علی خان لنڈ کا پرتپاک استقبال، ورکرز کی جانب سے اجرک اور گلدستہ پیش

    گھوٹکی: میر بابر علی خان لنڈ کا پرتپاک استقبال، ورکرز کی جانب سے اجرک اور گلدستہ پیش

    گھوٹکی (باغی ٹی وی،نامہ نگار مشتاق علی لغاری) پاکستان پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین اور ضلعی صدر میر بابر علی خان لنڈ کے اعزاز میں پارٹی ورکر حقنواز لنڈ اور شاہنواز لنڈ کی جانب سے علی آباد اسٹاپ کے قریب گوٹھ فقیر عمید علی لنڈ میں خصوصی چائے کی دعوت کا اہتمام کیا گیا۔

    تقریب میں لنڈ برادری کے چیف سردار فیاض علی خان لنڈ کے بھائی میر بابر علی خان لنڈ کی آمد پر فقیر حقنواز لنڈ، فقیر ربنواز لنڈ، شاہنواز لنڈ، احمد نواز لنڈ، محمد نواز لنڈ، گل نواز لنڈ سمیت دیگر پارٹی کارکنان نے پرتپاک انداز میں استقبال کیا، گل پاشی کی اور انہیں روایتی اجرک کے تحفے پیش کیے۔

    اس موقع پر میر بابر علی خان لنڈ نے گوٹھ فقیر عمید علی لنڈ کے رہائشیوں کو ہر ممکن سہولیات فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔ کلچر ڈے کے حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ “سندھ ہماری جان ہے، اور سندھ میں بسنے والے تمام سندھی بھائیوں کو کلچر ڈے کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں

  • اوکاڑہ: بھاری جرمانوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال

    اوکاڑہ: بھاری جرمانوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز کی پہیہ جام ہڑتال

    اوکاڑہ (ملک ظفر) پنجاب کے مختلف شہروں کی طرح اوکاڑہ میں بھی ٹریفک اور پیٹرولنگ پولیس کی جانب سے عائد کیے جانے والے مبینہ بھاری اور “ناجائز” جرمانوں کے خلاف ٹرانسپورٹرز نے مکمل پہیہ جام ہڑتال کر دی۔ شہر کے تمام بڑے اور چھوٹے بس اڈے بند رہے، جس کے باعث ہزاروں مسافر شدید پریشانی میں مبتلا رہے۔

    تفصیلات کے مطابق ٹرانسپورٹرز نے ٹریفک آرڈیننس 2025 میں نئی ترامیم اور جرمانوں میں غیر معمولی اضافے کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ڈرائیوروں اور گاڑی مالکان پر جرمانوں میں 500 گنا اضافہ معاشی طور پر تباہ کن ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی بلند قیمتوں اور کم آمدنی کے باعث پہلے ہی کاروبار مشکل سے چل رہا ہے، بے جا چالان اور ایف آئی آر کا اندراج مسائل میں مزید اضافہ کر رہا ہے۔

    ہڑتال کے باعث اوکاڑہ سے لاہور، فیصل آباد، ملتان، پاکپتن، دیپالپور اور دیگر شہروں کو جانے والی ٹرانسپورٹ بند رہی۔ بس اڈوں پر مسافر سخت پریشان دکھائی دیے، متعدد مریض اسپتال نہ پہنچ سکے جبکہ دفاتر، امتحانات اور دیگر ضروری امور کے لیے سفر کرنے والے شہریوں کو شدید رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔
    ٹرانسپورٹ یونین رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ:
    بھاری جرمانے کسی صورت قابل برداشت نہیں۔
    ڈیزل کی قیمتوں اور کم آمدنی کے باعث ٹرانسپورٹ پہلے ہی خسارے میں ہے۔
    جرمانوں کے ساتھ ساتھ ایف آئی آر کے اندراج نے حالات مزید خراب کر دیے ہیں۔

    انہوں نے حکومتِ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ جرمانوں میں فوری کمی کی جائے، ٹرانسپورٹرز سے مشاورت کے بغیر بنائے گئے قوانین واپس لیے جائیں اور بے جا کارروائیوں کا سلسلہ روکا جائے۔ بصورتِ دیگر ہڑتال مزید طول پکڑ سکتی ہے۔

    شہری حلقوں نے بھی حکومت سے اپیل کی ہے کہ معاملے کو فوری طور پر حل کیا جائے تاکہ عوامی مشکلات میں کمی آئے اور ٹرانسپورٹ نظام معمول کے مطابق بحال ہو سکے۔

  • قصور: بار روم میں پولیس اور ایلیٹ فورس کے داخلے پر وکلاء کا شدید احتجاج

    قصور: بار روم میں پولیس اور ایلیٹ فورس کے داخلے پر وکلاء کا شدید احتجاج

    قصور (ڈسٹرکٹ رپورٹر طارق نوید سندھو)قصور کے تھانہ بی ڈویژن کی بھاری نفری نے ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کے ہمراہ مقامی بار روم میں داخل ہو کر کارروائی کی، جس پر وکلاء نے شدید احتجاج کیا۔

    وکلاء نے صدر بار کے کمرے کو باہر سے تالہ لگا دیا اور تلخ کلامی کے بعد پولیس کے رویے پر شدید نعرے بازی کی۔ پولیس اور ایلیٹ فورس کے اہلکار بار سے باہر نہ جانے پر بھی وکلاء کے نعرے بازی جاری رہی۔

    ذرائع کے مطابق پولیس صدر بار کے کمرے میں ایس ایچ او بی ڈویژن اسلم بھٹی اور ملازمین کے ہمراہ داخل ہوئے تاکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی کی جا سکے۔ تاہم، وکلاء نے اسے ہتک آمیز رویہ قرار دیتے ہوئے شدید مزاحمت کی۔

    اس دوران وکلاء نے صدر بار کے کمرے کو نوٹس لگا کر تھانہ بی ڈویژن بنا دیا اور پولیس کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔ واقعے کے نتیجے میں بار کے اندر موجود ماحول کشیدہ ہو گیا اور صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے مزید حکومتی اقدامات کی ضرورت محسوس کی گئی۔

    وکلاء نے مطالبہ کیا ہے کہ بار میں داخلے کے طریقہ کار میں قانون اور روایات کا احترام کیا جائے اور مستقبل میں کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مناسب رویہ اختیار کیا جائے۔

  • ہیڈ پنجند: موسمِ سرما میں مچھلی پوائنٹ کی بدانتظامی شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب

    ہیڈ پنجند: موسمِ سرما میں مچھلی پوائنٹ کی بدانتظامی شہریوں کے لیے پریشانی کا سبب

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)اوچ شریف میں موسمِ سرما کی ٹھنڈی ہواؤں اور بادلوں سے بھرے آسمان نے شہر کا موسم دلکش ضرور بنا دیا، تاہم ہیڈ پنجند مچھلی پوائنٹ پر موجود بدانتظامی نے شہریوں کی سیر و تفریح کے تمام رنگ پھیکے کر دیے۔

    ہفتہ وار تعطیلات اور خوبصورت موسم کے باعث شہریوں کی بڑی تعداد اہلِ خانہ کے ہمراہ ہیڈ پنجند پہنچی، جہاں انہوں نے روایتی گرم تلی ہوئی مچھلی سے لطف اندوز ہونے کی کوشش کی، مگر مچھلی پوائنٹ کی ابتر صورتحال نے ان کی خوشی کو شدید مایوسی میں بدل دیا۔

    شہریوں کے مطابق مچھلی پوائنٹ پر صفائی ستھرائی کا کوئی معقول انتظام موجود نہیں تھا۔ کئی جگہوں پر کوڑے کے ڈھیر پڑے، مچھلی صاف کرنے کے مقامات پر بدبو اور آلائشیں جمع تھیں، جبکہ نہروں کے کنارے گندگی پھیلی ہوئی تھی۔ کھانے کے لیے لگائے گئے اسٹالز کے اردگرد مکھیوں کی بھرمار اور گندا ماحول فوڈ اتھارٹی کے دعوؤں کے برعکس کھلی غفلت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔

    ٹوٹی ہوئی میزیں، غیر معیاری برتن، کھلے آسمان تلے تیار کی جانے والی مچھلی، اور صفائی کے فقدان نے شہریوں کو سخت برہم کر دیا۔ شہریوں نے فوڈ اتھارٹی اور مقامی انتظامیہ کے خلاف شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ محکمے صرف نمائشی کارروائیوں میں مصروف ہیں، جبکہ عملی طور پر عوام کو صحت مند ماحول فراہم کرنے میں مکمل ناکام نظر آتے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا تھا کہ موسمِ سرما میں ہیڈ پنجند شہریوں اور سیاحوں کا پسندیدہ تفریحی مقام بن جاتا ہے، اس کے باوجود یہاں صفائی کا موثر نظام نہ ہونا انتظامیہ کی نااہلی کا کھلا اعتراف ہے۔

    شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر مچھلی پوائنٹ کے تمام اسٹالز کی سخت چیکنگ کی جائے، صفائی کے ناقص انتظامات کرنے والے دکانداروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور فوڈ اتھارٹی کو پابند بنایا جائے کہ وہ مستقل بنیادوں پر نگرانی کا نظام قائم کرے۔

    شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال پر فوری توجہ نہ دی گئی تو گندگی، آلودہ کھانے اور غیر صحت بخش ماحول کے باعث بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ جائے گا۔

  • احمد پور شرقیہ: 120 کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار

    احمد پور شرقیہ: 120 کنال زمین قبضہ مافیا سے واگزار

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)موضع کوئلہ باقر شاہ، تحصیل احمد پور شرقیہ میں سابق فوڈ انسپکٹر سید عطر حسین شاہ کی 120 کنال قیمتی اراضی برسوں سے غیر قانونی قبضہ مافیا کے قبضے میں تھی، جسے ضلعی انتظامیہ، محکمہ ریونیو اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کے ذریعے مکمل طور پر واگزار کرا لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق یہ اراضی طویل عرصے سے مختلف حربوں سے قبضہ مافیا کے زیر قبضہ تھی اور کئی بار قانونی کارروائی کے باوجود بااثر عناصر زمین چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ نے وارنٹ قبضہ پر سخت عمل درآمد کرتے ہوئے قبضہ ختم کرایا اور زمین اصل مالک کے حوالے کر دی۔

    کارروائی کے دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے بڑی تعداد میں موجود تھے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ قبضہ مافیا نے ابتدائی مرحلے میں کارروائی روکنے کی کئی کوششیں کیں، لیکن انتظامیہ کی سنجیدہ اور بروقت کارروائی نے تمام رکاوٹیں دور کر دیں۔

    سابق فوڈ انسپکٹر سید عطر حسین شاہ نے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف اور ڈپٹی کمشنر بہاولپور کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ بروقت مداخلت نہ کرتی تو قبضہ مافیا مزید مضبوط ہو جاتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ثابت کرتی ہے کہ پنجاب حکومت شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے سنجیدہ ہے اور کسی بھی بااثر گروہ کو قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔

    عوامی حلقوں نے بھی اس کارروائی کو خوش آئند قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ تحصیل احمد پور شرقیہ سمیت پورے ضلع میں قبضہ مافیا کے خلاف مستقل بنیادوں پر سخت آپریشن جاری رکھا جائے تاکہ مزید شہری برسوں پرانے تنازعات سے نجات حاصل کر سکیں۔

    ضلعی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ یہ کامیاب کارروائی شہریوں کے ملکیتی حقوق کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کے لیے ایک مضبوط پیغام ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قبضہ مافیا، چاہے بااثر کیوں نہ ہو، کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور مستقبل میں بھی ایسی کارروائیاں بلا تعطل جاری رکھی جائیں گی۔

    اس کامیاب آپریشن کے بعد مقامی سطح پر عوامی حلقوں میں اطمینان اور حکومت کے اقدامات کی تعریف کی جا رہی ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی مزید علاقوں میں قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ ضلع بھر میں غیر قانونی قبضہ مکمل طور پر ختم کیا جا سکے۔

  • ٹریفک قوانین اور ہمارا معاشرہ

    ٹریفک قوانین اور ہمارا معاشرہ

    ٹریفک قوانین اور ہمارا معاشرہ
    تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ
    قانون خود راستہ بناتا ہے یہ تو آپ نے اکثر سنا بھی ہوگا اور آج کل دیکھا بھی جاسکتا ہے مگر کیا یہ حقیقت ہے کہ ہماری قوم صرف ڈنڈے کو مانتی ہے تو شاید یہ غلط نہ ہوگا۔ اس کا اندازہ صرف ایک دن کی کارکردگی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

    ٹریفک قوانین پر عملدرآمد کے لئے جو سختیاں آج ہم دیکھ رہے ہیں دراصل یہ ہمارے معاشرے کا وہ پہلو ہے جو ہم بحیثیت قوم قانون شکنی کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ یقینا اچھی قومیں اپنے قوانین پر عملدرآمد اس وقت شروع کردیتی ہیں جب سے وہ نافذ العمل عمل ہوتا ہے، مگر ہمارے ہاں آج بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ہی قانون شکنی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ آج ہم ٹریفک قوانین پر تفصیلی بات کرتے ہیں۔

    دنیا کے ہر ترقی یافتہ ملک میں ٹریفک قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے، مگر پاکستان میں آج سے پہلے نہیں۔ سڑکیں اسی وقت محفوظ بنتی ہیں جب عوام خود بھی ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔ پاکستان میں ٹریفک حادثات کی بڑی وجہ قوانین سے لاپرواہی، تیز رفتاری، اور بغیر لائسنس ڈرائیونگ ہے۔ اگر ہم اپنی اور دوسروں کی جان کو اہم سمجھیں تو ٹریفک قوانین پر عمل کرنا ایک ضرورت بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔

    ٹریفک قوانین کا سب سے بڑا مقصد انسانی جان کی حفاظت ہے۔ ایک لمحے کی غلطی نہ صرف اپنی زندگی بلکہ سڑک پر موجود بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کر سکتی ہے، جس کا تذکرہ ہم روزانہ کی بنیاد پر دیکھتے اور سنتے ہیں۔ سگنل توڑ دینا، غلط اوورٹیکنگ یا تیز رفتاری کئی خاندانوں کو ہمیشہ کے لیے غم میں مبتلا کر دیتی ہے۔

    شہروں میں ٹریفک کی روانی برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ قوانین پر عمل کے بغیر سڑکوں پر بے ترتیبی، جام، اور حادثات معمول بن جاتے ہیں۔ جب ہر شخص اپنی مرضی سے گاڑی چلائے تو نہ ٹریفک رواں رہ سکتی ہے اور نہ ہی لوگ محفوظ۔

    موٹر سائیکل پاکستان میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی سواری ہے، لیکن افسوس کہ حادثات بھی سب سے زیادہ اسی سے ہوتے ہیں۔ ہیلمٹ کو عام طور پر اضافی بوجھ سمجھا جاتا ہے، حالانکہ یہ زندگی بچانے والی سب سے اہم چیز ہے۔

    موٹر سائیکل حادثات میں سب سے زیادہ چوٹ سر پر لگتی ہے، اور یہی جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ مگر پاکستان میں بھی جب سے ہیلمٹ پہنے پر سختی کی گئی ہے، سر کی چوٹ کا تناسب کم ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ عالمی تحقیقات کے مطابق ہیلمٹ پہننے سے موت کا خطرہ 40% اور شدید چوٹ کا خطرہ 70% تک کم ہو جاتا ہے۔

    قانونی طور پر ہیلمٹ کا استعمال ضروری ہے۔ بغیر ہیلمٹ ڈرائیونگ نہ صرف قانون شکنی ہے بلکہ آپ کے گھر والوں کے لیے بھی خطرہ ہے۔ آپ کے گھر والے آپ کی حفاظت چاہتے ہیں، لہٰذا ہیلمٹ پہننا اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔

    ہیلمٹ پہن کر آپ دوسروں کے لیے مثال قائم کرتے ہیں۔ یہ ایک بیداری کی علامت ہے کہ آپ اپنی اور دوسروں کی زندگی کو اہمیت دیتے ہیں اور باشعور قوم کی پہچان ہے۔

    پاکستان میں خاص طور پر نوجوانوں میں بغیر لائسنس ڈرائیونگ عام دیکھی جاتی ہے، جو نہایت خطرناک عمل ہے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا ایک جرم ہے جس کی سزا میں بھاری جرمانہ، گاڑی بند ہونا اور بعض صورتوں میں جیل بھی شامل ہے۔

    لائسنس اس بات کی تصدیق ہے کہ ڈرائیور نے گاڑی چلانے کی تربیت لی ہے۔ بغیر تربیت کے گاڑی چلانا ایسا ہے جیسے بغیر تیاری کے خطرناک مشن پر نکل جانا۔ ایسے لوگ نہ صرف اپنی بلکہ دوسروں کی زندگی بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔

    اگر کوئی شخص بغیر لائسنس حادثے کا شکار ہو جائے تو انشورنس کمپنیاں کلیم ادا نہیں کرتیں۔ اس کا مالی نقصان لاکھوں روپے تک پہنچ جاتا ہے۔

    ڈرائیونگ ایک ذمہ داری کا نام ہے۔ بغیر لائسنس گاڑی چلانا غیر ذمہ داری، لاپرواہی اور دوسروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

    ٹریفک قوانین پر عمل درآمد صرف جرمانوں سے بچنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی اور دوسروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ایک باشعور قوم وہ ہوتی ہے جو سڑک پر بھی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرے۔ لہٰذا:
    ہمیشہ ٹریفک قوانین پر عمل کریں
    ہیلمٹ لازمی پہنیں
    بغیر لائسنس گاڑی ہرگز نہ چلائیں
    دوسروں کو بھی اس بارے میں آگاہ کریں

    اگلا مرحلہ صفائی ستھرائی کے حوالے سے ہوگا، اس پر بھی قانون شکنی کرنے والوں پر شکنجہ سخت ہوگا۔

  • حکومت سندھ کی روہڑی سے گڈو بیراج تک ایم5 انٹرچینج صادق آباد150 کلومیٹر سڑک کی منظوری

    حکومت سندھ کی روہڑی سے گڈو بیراج تک ایم5 انٹرچینج صادق آباد150 کلومیٹر سڑک کی منظوری

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)حکومتِ سندھ نے روہڑی سے گڈو بیراج تک ایم–5 انٹرچینج صادق آباد کے راستے خانپور مہر، جروار، میرپور ماتھیلو اور مرید شاخ تک 150 کلومیٹر طویل مرکزی شاہراہ کی بحالی، مرمت اور توسیع کے بڑے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

    منصوبے کی کل منظور شدہ لاگت 7.822 ارب روپے رکھی گئی ہے اور اسے 36 ماہ میں مکمل کرنے کا ہدف ہے۔ وفاقی اور سندھ حکومت اس منصوبے پر 50:50 لاگت کی بنیاد پر کام کریں گی، جبکہ منظور شدہ لاگت سے زائد خرچ سندھ حکومت برداشت کرے گی۔

    منصوبے کے تحت سڑک کی چوڑائی 3.65 میٹر سے بڑھا کر 5.50 میٹر کی جائے گی، پل، کلورٹس، ڈرینج سسٹم اور بَریسٹ والز کی مکمل بہتری شامل ہے۔ پورے روٹ پر مضبوط کَرسٹ، تھرمو پلاسٹک لائنیں، روڈ فرنیچر اور حفاظتی تعمیرات بھی کی جائیں گی۔ سڑک کی ڈیزائن اسپیڈ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ رکھی گئی ہے اور یہ 70 ٹن وزن برداشت کرنے کی صلاحیت رکھے گی۔

    موجودہ ٹریفک روزانہ 633 گاڑیوں پر مشتمل ہے، جو آئندہ دس سالوں میں 1,031 گاڑیوں تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس شاہراہ سے سکھر، گھوٹکی، اوباڑو، گڈو، خانگڑھ، ڈہرکی، میرپور ماتھیلو اور جروار سمیت سات تعلقات کی 14 لاکھ سے زائد آبادی کو براہِ راست فائدہ حاصل ہوگا، اور زرعی ٹرانسپورٹ، تجارت، صحت اور تعلیم تک رسائی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

    ECNEC نے اس منصوبے کو 27 جون 2023 کو باقاعدہ منظوری دی اور 17 جولائی 2023 کو منصوبے کا اختیار رسمی طور پر جاری کر دیا گیا۔

  • گھوٹکی پولیس کی بروقت کارروائی،جعلی شادی کے بہانے اغواء کی کوشش ناکام

    گھوٹکی پولیس کی بروقت کارروائی،جعلی شادی کے بہانے اغواء کی کوشش ناکام

    میرپور ماتھیلو (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اغواء کی ایک بڑی کوشش ناکام بنا دی۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی خصوصی ہدایات پر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے، جس کے تحت پولیس نے سول انٹیلی جنس ایجنسی کی مدد سے شہری کو کبائر گروہ کے ممکنہ اغواء سے بچا لیا۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ میرپور ماتھیلو بدر الدین برڑو اور ان کی ٹیم نے خفیہ اطلاع پر لنک روڈ محمد پور سے تحصیل و ضلع مردان کے رہائشی سید نبی ولد غلام نبی کو بروقت ریسکیو کر لیا۔ پولیس کے مطابق یہ شخص ایک جعلی نسوانی آواز اور فون پر "شادی کے جھانسے” میں آ کر کچے علاقے جا رہا تھا جہاں اسے اغواء کیے جانے کا منصوبہ تھا۔

    متاثرہ شخص سید نبی نے پولیس کو بتایا کہ اسے گزشتہ کئی دنوں سے نامعلوم نمبروں سے ایک لڑکی کے نام پر کالز موصول ہو رہی تھیں جو شادی کی خواہش ظاہر کرتی تھی۔ دوستی بننے کے بعد وہ آج اسی سے ملنے جا رہا تھا، مگر یہ سب اغواء کی منظم سازش نکلا۔

    سید نبی نے اپنی زندگی بچانے پر ایس ایس پی گھوٹکی اور پوری پولیس ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس کامیاب کارروائی پر ایس ایس پی گھوٹکی نے پولیس پارٹی کو شاباشی اور تعریف کا پیغام بھی جاری کیا۔

  • ملکی ترقی کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر، ہر شہری اپنا کردار ادا کرے: آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن

    ملکی ترقی کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر، ہر شہری اپنا کردار ادا کرے: آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)آل پاکستان بھوہڑ ایسوسی ایشن نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ ملک اس وقت جس اہم دور سے گزر رہا ہے، اس میں قومی سطح پر اتحاد، نظم و ضبط اور مشترکہ کوششوں کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ تنظیم کے مطابق پاکستان کی ترقی، امن اور معاشی استحکام اسی صورت ممکن ہے جب ہر شہری اپنی ذمہ داری دیانت داری اور احساسِ فرض کے ساتھ ادا کرے۔

    بیان میں کہا گیا کہ موجودہ معاشی دباؤ، سماجی مسائل، ادارہ جاتی کمزوریاں اور نوجوانوں کے لیے محدود مواقع اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قوم کے ہر طبقے کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ ملک کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کیا جا سکے۔

    ایسوسی ایشن نے نوجوانوں کی بہتری، تعلیمی شعور میں اضافہ، سماجی ہم آہنگی اور قومی ترقی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آج پاکستان کو اتحاد، تعاون اور دیانت داری پر مبنی اجتماعی سوچ کی ضرورت ہے، کیونکہ ملک تب ہی مضبوط ہو گا جب ہم سب مل کر اپنا عملی کردار ادا کریں۔

    پریس ریلیز میں عوام، اداروں، سماجی تنظیموں اور برادریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ملک کے استحکام، روشن مستقبل اور قومی اتحاد کے فروغ کے لیے اپنا حصہ ضرور ڈالیں، کیونکہ پاکستان کی تعمیر و ترقی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

  • گھوٹکی تا کشمور پیپلز بس سروس کاعوامی مطالبہ شدت اختیار کر گیا

    گھوٹکی تا کشمور پیپلز بس سروس کاعوامی مطالبہ شدت اختیار کر گیا

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)ضلع گھوٹکی، اوباڑو، گڈو اور کشمور کے عوام نے وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گھوٹکی تا کشمور پیپلز بس سروس کا فوری آغاز کیا جائے تاکہ شہریوں کی بڑھتی ہوئی سفری مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔

    مقامی نمائندوں، سول سوسائٹی، طلباء اور مختلف دیہات کے مکینوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کشمور سے سکھر کے درمیان چلنے والی پرانی نجی بس سروسز برسوں سے بند ہیں، جس کی وجہ سے شہریوں خصوصاً مزدور طبقے، بزرگوں اور طلباء کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    عوام کے مطابق سرکاری سفری سہولیات نہ ہونے کے باعث لوگ مہنگے نجی ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہیں جو عام آدمی کی سکت سے باہر ہو چکے ہیں۔ طلباء کی بڑی تعداد روزانہ مختلف شہروں کا سفر کرتی ہے، مگر مناسب سہولیات نہ ہونے سے ان کا تعلیمی سلسلہ بھی متاثر ہو رہا ہے۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز بس سروس کو گھوٹکی، اوباڑو، گڈو سے کشمور تک توسیع دی گئی تو یہ نہ صرف کم لاگت، محفوظ اور باعزت سفر فراہم کرے گی بلکہ حکومت پر عوامی اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
    عوام نے وزیر اعلیٰ سندھ، وزیر ٹرانسپورٹ اور دیگر متعلقہ حکام سے فوری نوٹس لیتے ہوئے بس سروس کے جلد آغاز کا مطالبہ کیا ہے۔