Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • اوکاڑہ: ایک ہی رات میں 3 مبینہ پولیس مقابلے، ایک ڈاکو ہلاک، دو زخمی گرفتار

    اوکاڑہ: ایک ہی رات میں 3 مبینہ پولیس مقابلے، ایک ڈاکو ہلاک، دو زخمی گرفتار

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) اوکاڑہ میں ایک ہی رات کے دوران تین مبینہ پولیس مقابلے ہوئے جن میں ایک ڈاکو ہلاک جبکہ دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کر لیے گئے۔

    پولیس ترجمان کے مطابق پہلی کارروائی تھانہ شاہبور کی حدود 33 فور ایل میں ہوئی جہاں پولیس نے منشیات فروشوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مارا۔ ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، جس پر پولیس کی جوابی کارروائی میں ممتاز عرف تاجی زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ ملزم کے قبضے سے دو پیکٹ چرس برآمد کی گئیں۔

    دوسری کارروائی تھانہ سٹی دیپالپور کے علاقے نیو سبزی منڈی میں عمل میں آئی۔ پولیس کے مطابق منشیات فروشوں کی موجودگی کی اطلاع پر چھاپہ مارا گیا تو ملزم ذوالفقار نے پولیس پر فائرنگ کر دی۔ جوابی فائرنگ میں وہ زخمی ہو کر گرفتار ہوا۔ اس کے قبضہ سے ایک کلو چرس اور ناجائز اسلحہ برآمد ہوا۔

    تیسری کارروائی تھانہ حویلی لکھا پولیس نے ناکہ پر کی، جہاں دو مشکوک موٹر سائیکل سواروں کو رکنے کا اشارہ کیا گیا تو انہوں نے فائرنگ کر دی۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا جس کی شناخت پرویز عرف غلام مصطفی عرف "بگی” کے نام سے ہوئی۔ پولیس کے مطابق ہلاک ڈاکو ڈکیتی، چوری اور منشیات سمیت 24 مقدمات میں ریکارڈ یافتہ تھا۔

    پولیس نے ہلاک ڈاکو کے مفرور ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔

  • چڑیا چُک سے چالان چُک تک، پنجاب کی سڑکیں شاہراہِ خوف بن گئیں

    چڑیا چُک سے چالان چُک تک، پنجاب کی سڑکیں شاہراہِ خوف بن گئیں

    چڑیا چُک سے چالان چُک تک، پنجاب کی سڑکیں شاہراہِ خوف بن گئیں
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    یہ شاید نوے کی دہائی کی بات ہے یا اس سے پہلے کی ہو۔ پنجاب کے ایک پرانے ریسٹ ہاؤس کو تھانہ بنا دیا گیا تھا۔ چھت کے روشن دان میں ایک چڑیا نے گھونسلا بنایا ہوا تھا۔ بچے تھے، جو بار بار گرتے تھے۔ SHO رحمدل تھا، خود اٹھاتا اور واپس رکھ دیتا۔ پھر سنتری لگ گیا، پھر روزنامچے میں اندراج ہوا کہ ’’چڑیا چُک‘‘ کی ڈیوٹی لگائی جائے۔ کئی SHO بدل گئے، کئی محرر آئے گئے، چڑیا کے بچے اُڑ گئے، گھونسلا خالی ہو گیا مگر ’’چڑیا چُک‘‘ کی ڈیوٹی روزانہ لگتی رہی۔ آخر ایک اعلیٰ افسر نے وزٹ کیا، پوچھا: ’’یہ چڑیا چُک کیا ہے؟‘‘ ساری کہانی سنی تو ہنستے ہنستے وہ ڈیوٹی ختم کر دی۔

    آج 2025 ہے۔ چڑیا چُک تو ختم ہو گئی مگر اب ’’چالان چُک‘‘ کا نیا کھیل شروع ہو گیا ہے، اور یہ کھیل اتنا بے رحم ہے کہ چڑیا کے بچے بھی رونے لگیں۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں چھیاسٹھ ہزار سے زائد چالان، آٹھ کروڑ سے زیادہ جرمانے، چوبیس ہزار کے قریب گاڑیاں تھانوں میں بند، اٹھائیس ہزار ہیلمٹ چالان، اور صرف ہیلمٹ نہ پہننے پر ساڑھے چار ہزار مقدمات۔ یہ اعداد و شمار نہیں، ایک جنگ کے اعداد و شمار ہیں—وہ جنگ جو عوام کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔

    میں نے خود اپنے شہر میں دیکھا کہ پولیس والا موٹر سائیکل روکتا ہے۔ ’’ہیلمٹ کہاں ہے؟‘‘ جواب: ’’گھر بھول گیا سر۔‘‘ ’’چالان کروں؟ دو ہزار کا۔‘‘ ’’سر کچھ کر لیں۔‘‘ ’’ہزار دے دو، جان چھوڑو۔‘‘ ایک منٹ میں معاملہ طے۔ نہ چالان ہوا نہ مقدمہ۔ یعنی جو ہزار دے سکتا ہے وہ بچ گیا اور جو نہیں دے سکتاتواس کا دو ہزار کا چالان، گاڑی ضبط، تھانے کے چکر، عدالت کے چکر۔ یہ قانون کی عملداری نہیں، غریب دشمنی ہے۔ مگر سڑک کنارے کھڑا وہی وردی والا پانچ سو سے ہزار لے کر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ قانون نافذ کر رہے ہیں یا نیا ٹیکس سسٹم چلا رہے ہیں؟

    مریم نواز نے بالکل درست کہا تھا کہ حادثات بہت بڑھ گئے ہیں، ہیلمٹ لازمی ہونا چاہیے، ٹریفک قوانین پر عمل ہونا چاہیے۔ مگر جس بے رحمی اور جلد بازی سے یہ مہم چلائی گئی، اس نے اچھی نیت کو بھی مشکوک بنا دیا ہے۔ یہی پولیس ہے جس نے دس سال تک چڑیا چُک کی ڈیوٹی لگائی، یہی پولیس ہے جس نے آر پی او کے بچوں کے لیے رات نو بجے گھوڑے بھیج دیے کیونکہ ’’صبح پانچ بجے‘‘ کا پیغام رات گیارہ بجے سے پہلے پہنچ گیا تھا۔ اب یہی پولیس چوبیس گھنٹے میں چھیاسٹھ ہزار چالان کر رہی ہے؟ یہ کارکردگی نہیں، انتقام ہے۔

    واٹس ایپ پر ویڈیوز گردش کر رہی ہیں: بوڑھا رو رہا ہے، بیٹی کی شادی کے پیسے جمع کیے تھے، موٹر سائیکل ضبط ہو گئی۔ خاتون بچوں سمیت سڑک پر کھڑی ہے، کار ضبط—شوہر دفتر سے آئیں گے تب گھر جائیں گی۔ طالب علم تھانے بیٹھا رو رہا ہے، یونیورسٹی جانے نکلا تھا۔ پورا پنجاب ایک بڑے جیل خانے میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جو وزیراعلیٰ چند ماہ پہلے عوام کے دلوں پر راج کر رہی تھی، آج ایک فیصلے نے اسے زیرو پر لا کھڑا کیا ہے۔ عوام کھلے عام کہہ رہے ہیں کہ ہم نے ووٹ اس لیے نہیں دیا تھا کہ سڑک پر نکلنا گناہ بن جائے۔

    اچھی نیت کافی نہیں ہوتی۔ ہیلمٹ لازمی ہو مگر پہلے پانچ سو سات سو والا اچھا ہیلمٹ مارکیٹ میں دستیاب ہو۔ پہلے مہینے صرف وارننگ ہو، پھر چالان ہو۔ جو غریب دو ہزار نہیں دے سکتا اسے قسطیں دی جائیں۔ رشوت لینے والے کو فوری معطل کیا جائے۔ چالان کی رقم کا بڑا حصہ ہیلمٹ سبسڈی پر لگے۔ ورنہ یہ مہم چند دنوں میں ختم ہو جائے گی، جیسے چڑیا چُک ختم ہوئی تھی، مگر تب تک عوام کا اعتماد ہمیشہ کے لیے ختم ہو چکا ہو گا۔

    مریم نواز صاحبہ، عوام کو سڑک پر خوفزدہ کر کے حادثات کم نہیں ہوتے۔ ہیلمٹ پہننا سکھانا پڑتا ہے، زبردستی نہیں کروایا جاتا۔ ورنہ تاریخ لکھے گی کہ ایک وزیراعلیٰ نے حادثات روکنے کے لیے مہم شروع کی، اور چند دنوں میں عوام نے انہیں دل سے نکال دیا۔ چڑیا چُک تو ختم ہو گئی تھی، اب چالان چُک کا کیا کریں گے؟

  • سیالکوٹ: علامہ اقبال سکول سسٹم اور فارما ایسوسی ایشن کے اشتراک سے فری میڈیکل کیمپ

    سیالکوٹ: علامہ اقبال سکول سسٹم اور فارما ایسوسی ایشن کے اشتراک سے فری میڈیکل کیمپ

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)علامہ اقبال سکول سسٹم اور سیالکوٹ فارما ایسوسی ایشن کے اشتراک سے ایک فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جس میں طلباء و طالبات کا جسمانی اور ذہنی معائنہ کیا گیا اور انہیں بی ایم آئی کے مطابق مفت ادویات فراہم کی گئیں۔

    کیمپ میں ڈاکٹر ایمن عرفان (ہولی فیملی ہسپتال، راولپنڈی) اور ڈاکٹر عرفان نے طلباء کا معائنہ کیا جبکہ سیالکوٹ فارما ایسوسی ایشن کی ٹیم صدر حاجی محمد زبیر کی سربراہی میں موجود رہی۔

    چئیرمین علامہ اقبال سکول سسٹم، ایم عابد ایڈووکٹ نے کہا کہ بچوں کی جسمانی اور روحانی صحت کے لیے ضروری ہے کہ وقتاً فوقتاً ان کا طبی معائنہ کیا جائے تاکہ ذہنی اور جسمانی نشوونما بہتر ہو۔

    صدر سیالکوٹ فارما ایسوسی ایشن، حاجی محمد زبیر نے کہا کہ دکھی انسانیت کی خدمت ہمارا نصب العین ہے اور ایسوسی ایشن ہر وقت اور ہر جگہ اس کے لیے کوشاں ہے۔

    اس موقع پر بنیادی حقوق کمیشن پاکستان کے کنوئینر پنجاب ملک حسن رزاق، پرنسپل کری ایٹو سکول حامد بسرا، اور چوہدری عثمان سندھو (ٹی ایم اے سیالکوٹ) نے بھی میڈیکل کیمپ کا وزٹ کیا۔

  • گھوٹکی:اُباڑو الائنس شوگر مل سیل، احتجاج اور سپلائی معطل

    گھوٹکی:اُباڑو الائنس شوگر مل سیل، احتجاج اور سپلائی معطل

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی ضلع میں اباڑو الائنس شوگر مل لمیٹڈ کا مرکزی گیٹ سندھ حکومت کی ہدایات پر پولیس کی بھاری نفری کے ذریعے راتوں رات سیل کر دیا گیا، جس سے علاقے میں شدید ہلچل مچ گئی ہے۔ اچانک بندش نے نہ صرف کاشتکاروں کو پریشان کر دیا ہے بلکہ مل کے سینکڑوں مزدور بھی روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔

    گیٹ بند ہونے کے باعث گنے کی سپلائی مکمل طور پر رک گئی ہے۔ لاکھوں روپے کی تیار کھڑی فصل ضائع ہونے کے قریب ہے جبکہ مزدور، جو روزانہ کی مزدوری پر انحصار کرتے ہیں، شدید مشکلات اور بے یقینی کا شکار ہیں۔

    مل کے باہر آبادگاروں اور مزدوروں نے بھرپور احتجاج کیا اور حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

    مزدوروں کا کہنا تھا:”ہماری مزدوری بند کر دی گئی ہے، گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں۔ سندھ حکومت کو ہم مزدوروں اور آبادگاروں سے کیا دشمنی ہے؟”

    کاشتکاروں نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا:”ہماری فصل تباہ ہو رہی ہے، معیشت بیٹھ رہی ہے، حکومت اپنی ہی عوام کے راستے کیوں بند کر رہی ہے؟”

    احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ الائنس شوگر مل کا گیٹ فوری طور پر کھولا جائے تاکہ گنے کی ترسیل بحال ہو سکے اور مزدوروں کا روزگار دوبارہ شروع ہو سکے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ اگر گیٹ نہ کھولا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کر دیا جائے گا۔

  • اوچ شریف:ہیلمٹ لازمی قرار، مارکیٹ میں مصنوعی قلت ،شہری پریشان

    اوچ شریف:ہیلمٹ لازمی قرار، مارکیٹ میں مصنوعی قلت ،شہری پریشان

    اوچ شریف (باغی ٹی وی، نامہ نگار حبیب خان)پنجاب حکومت کی جانب سے موٹر سائیکل ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ کے لازمی استعمال کا قانون عملی طور پر نافذ ہوتے ہی اوچ شریف میں ہیلمٹ کی خریداری میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ شہری قانون کے مطابق ہیلمٹ خریدنے بازاروں کا رُخ کر رہے ہیں، مگر دکان داروں نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قیمتوں میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق عام معیار کے ہیلمٹ، جو چند روز قبل 800 سے 1000 روپے میں دستیاب تھے، اب 3500 سے 4000 روپے میں بلیک پر فروخت ہو رہے ہیں۔ متعدد دکانداروں نے نہ صرف قیمتیں بڑھا دی ہیں بلکہ اسٹاک بھی چھپا دیا ہے، جس سے مصنوعی قلت پیدا ہو کر شہری شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔

    شہریوں کا کہنا ہے کہ”قانون نافذ ہونا اچھی بات ہے لیکن عوام کی جیبیں خالی کر کے نہیں۔”
    انہوں نے ضلعی انتظامیہ، اسسٹنٹ کمشنر اور پرائس کنٹرول کمیٹی سے مطالبہ کیا کہ ناجائز منافع خوروں کے خلاف فوری کارروائی کی جائے، جرمانے کیے جائیں اور دکانیں سیل کی جائیں تاکہ عام آدمی بھی مقررہ قیمت پر ہیلمٹ خرید سکے۔

    عوامی حلقوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ قانون پر سختی سے عمل کرانے کے ساتھ ساتھ ریلیف اقدامات بھی کیے جائیں، ورنہ بلیک مارکیٹ اور بے تحاشہ مہنگائی شہریوں کے لیے مزید مسائل پیدا کر دے گی۔

  • اوکاڑہ: تجاوزات، سمگلنگ اور ٹریفک خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا فیصلہ

    اوکاڑہ: تجاوزات، سمگلنگ اور ٹریفک خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا فیصلہ

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈی پی او محمد راشد ہدایت، آرمی افسران سمیت وفاقی و صوبائی محکموں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران متعلقہ محکموں کے افسران نے مختلف امور پر تفصیلی بریفنگ دی جن میں شامل تھے:

    ×ٹریفکنگ اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات
    ×انسدادِ سمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی
    ×غیر قانونی پٹرول پمپس اور ایل پی جی شاپس کے خلاف کارروائیاں
    ×بجلی چوری کے خلاف آپریشن
    ×بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن
    ×ٹریفک قوانین پر عمل درآمد
    ×مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق پیش رفت

    ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید نے ہدایت کی کہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے مطابق قانون کے نفاذ، عوامی سہولیات، اور گڈ گورننس کو یقینی بنانے کے لیے تمام محکمے عملی اقدامات کریں۔

    انہوں نے کہا کہ ٹریفک قوانین سے متعلق عوام میں مؤثر آگاہی پیدا کی جائے، جبکہ شہر کی خوبصورتی کے لیے تجاوزات کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس مقصد کے لیے شہر میں موجود تمام رکاوٹیں ہٹائی جائیں اور پیرا فورس کے جوان اپنے فرائض ایمانداری سے سر انجام دیں۔

    ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ قانون کی پاسداری ہر شہری کی ذمہ داری ہے، اس لیے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھ کر عوامی خدمت اور گڈ گورننس کو یقینی بنایا جائے۔

  • گوجرانوالہ ریجن میں ٹریفک قوانین کی سخت کارروائیاں، 26 ہزار چالان

    گوجرانوالہ ریجن میں ٹریفک قوانین کی سخت کارروائیاں، 26 ہزار چالان

    گوجرانوالہ (باغی ٹی وی، نامہ نگار محمد رمضان نوشاہی)گوجرانوالہ ریجن میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے خلاف پولیس کا بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری ہے۔ آرپی او گوجرانوالہ کے مطابق ٹریفک قوانین کی سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔

    آرپی او کے مطابق ریجن بھر میں کریک ڈاؤن کے دوران:26 ہزار 137 ٹریفک چالان کیے گئے۔3 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد جرمانے وصول کیے گئے۔

    ٹریفک رولز کی خلاف ورزی پر 1151 مقدمات درج ہوئے جبکہ 1148 ملزمان گرفتار کیے گئے۔9194 گاڑیوں کو مختلف تھانوں میں بند کیا گیا۔گاڑیوں میں کالے شیشوں کے استعمال پر 253 چالان کیے گئے۔

    آرپی او کا کہنا ہے کہ عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد ناگزیر ہے، اس لیے قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

  • ننکانہ : دانش سکول سینٹر آف ایکسیلینس میں سالانہ سپورٹس ایونٹ 2025 کا شاندار انعقاد

    ننکانہ : دانش سکول سینٹر آف ایکسیلینس میں سالانہ سپورٹس ایونٹ 2025 کا شاندار انعقاد

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)دانش سکول سینٹر آف ایکسیلینس ننکانہ صاحب میں سالانہ سپورٹس ایونٹ 2025 نہایت شاندار انداز میں منعقد کیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی اے ڈی سی جی شاہد کھوکر جبکہ اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ڈی پی او فراز احمد تھے۔

    مہمانانِ خصوصی نے تقریب سے خطاب اور صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کی لگن، نظم و ضبط اور اعلیٰ کارکردگی قابلِ تحسین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپورٹس نہ صرف جسمانی مضبوطی کا ذریعہ ہے بلکہ اخلاقیات، قیادت، خود اعتمادی اور ٹیم ورک کو بھی فروغ دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے دانش اسکولوں کے قیام کو قومی سطح پر ترجیح دی۔

    ایونٹ میں بیڈمنٹن، فٹبال، کرکٹ، ہاکی، ایتھلیٹکس اور 400 میٹر ریس سمیت مختلف مقابلے شامل تھے۔ اختتامی تقریب میں ڈی پی او فراز احمد نے نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں ٹرافیاں اور انعامات تقسیم کیے۔

    ڈی پی او فراز احمد نے کہا کہ ایسے ادارے ملک و قوم کا نام روشن کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دانش سکول کا ڈسپلن اور بچوں کی کردار سازی صحت مند معاشرے کے قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے طلبہ کو ڈرائیونگ کے حوالے سے احتیاطی تدابیر بھی بتائیں اور اعلان کیا کہ بچوں کے لیے موبائل لائسنس وین اسکول میں فراہم کی جائے گی تاکہ انہیں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں سہولت مل سکے۔

    تقریب کے آخر میں دانش سکول کے پرنسپل کرنل (ر) محی الدین نے مہمانانِ خصوصی، بالخصوص صدر پریس کلب ڈسٹرکٹ ننکانہ شیخ آصف اور ان کی ٹیم کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ پریس کلب کی جانب سے پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو کیش انعامات بھی دیے گئے۔

    پرنسپل نے کہا کہ دانش سکول کا ویژن ہے کہ صحت مند سرگرمیوں اور بہترین تعلیم کے ذریعے بچوں کو معاشرے کا فعال اور باکردار فرد بنایا جائے۔

  • گھوٹکی: پولیس کی بروقت کارروائی، شادی کے بہانے اغواء کا منصوبہ ناکام، شہری محفوظ

    گھوٹکی: پولیس کی بروقت کارروائی، شادی کے بہانے اغواء کا منصوبہ ناکام، شہری محفوظ

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)گھوٹکی پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے بنیر خیبرپختونخوا کے رہائشی شہری گل سید ولد جان سید کو اغواء ہونے سے بچا لیا۔ ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی خصوصی ہدایت پر پولیس پکٹنگ اور گشت میں اضافہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں یہ اہم کارروائی عمل میں آئی۔

    تفصیلات کے مطابق ایس ایچ او تھانہ کھمبڑا ظہیر حسین بھٹو بمعہ پولیس ٹیم دورانِ چیکنگ موجود تھے۔ پولیس نے مشکوک صورتحال پر شہری سے پوچھ گچھ کی، جس کے دوران انکشاف ہوا کہ گل سید کو چند روز سے نامعلوم نمبروں سے ایک عورت “ثمینہ” کے نام پر کالز آرہی تھیں، جو اسے شادی کا جھانسہ دے رہی تھی۔

    گل سید نے پولیس کو بتایا کہ لڑکی نے اسے دوستی اور شادی کے وعدوں میں الجھا کر کچے کے علاقے میں بلایا تھا، جہاں اسے اغواء کیے جانے کا منصوبہ تیار تھا۔ پولیس نے بروقت مداخلت کرتے ہوئے ممکنہ اغواء کو ناکام بنادیا۔

    گل سید نے اپنی جان بچانے پر ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران اور پورے پولیس عملے کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

    گھوٹکی پولیس نے کارروائی میں حصہ لینے والی ٹیم کے لیے شاباشی کا اعلان بھی کیا ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کردیا گیا ہے۔

  • گھوٹکی: سندھ کے جزائر اور وسائل کی فروخت بند کی جائے .جے یو آئی رہنما

    گھوٹکی: سندھ کے جزائر اور وسائل کی فروخت بند کی جائے .جے یو آئی رہنما

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، مشتاق علی لغاری)جمعیت علمائے اسلام پاکستان گھوٹکی کے زیرِ اہتمام منعقدہ بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے مرکزی سیکریٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری، صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی، اور صوبائی سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو نے حکومت کی مختلف پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔

    مولانا عبدالغفور حیدری نے اپنے خطاب میں سندھ کے جزائر، وسائل، معدنیات اور دریائی پٹی کی فروخت کو صوبے کے حقوق پر ڈاکا قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبائی خود مختاری کا احترام کیا جائے اور یہ عمل فی الفور روکا جائے۔

    صوبائی امیر مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کہا کہ اٹھارہ سال سے کم عمر کے نکاح پر پابندی کا قانون قرآن و سنت سے متصادم ہے، اس لیے حکومت کو اس قانون پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

    علامہ راشد محمود سومرو نے اپنے خطاب میں کاشتکاروں کی مشکلات اور زرعی بحران کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معاشی بدحالی نے کسان کو تباہ کر دیا ہے، لہٰذا گنے کی قیمت فی من 600 روپے مقرر کی جائے تاکہ کسان کو ریلیف مل سکے۔

    رہنماؤں نے حکمرانوں کی جانب سے لی گئی آئینی استثنیٰ، حالیہ منظور شدہ ستائیسویں ترمیم اور مذہبی اداروں کے حوالے سے حکومتی پالیسیوں کو بھی یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں ملک و قوم کے مفاد کے خلاف قرار دیا۔

    جلسے کی صدارت جے یو آئی سندھ کے صوبائی امیر حجتہ الاسلام مولانا عبدالقیوم ہالیجوی نے کی، جبکہ مرکزی سیکریٹری جنرل و رکن قومی اسمبلی مولانا عبدالغفور حیدری، علامہ راشد محمود سومرو، صوبائی ناظم مولانا اسحاق لغاری، امیر ضلع لاڑکانہ مولانا ناصر محمود سومرو اور دیگر رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔