Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • بانس:تیزی سے بڑھنے والا، ماحول، معیشت اور تعمیرات کا نیا ستون

    بانس:تیزی سے بڑھنے والا، ماحول، معیشت اور تعمیرات کا نیا ستون

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی، نامہ نگار احسان اللہ ایاز)رانا ریزورٹ ہیڈ بلوکی میں بانس کی پیداوار بڑھانے کے لیے آگاہی سیمینار منعقد ہوا، جس کی صدارت چیئرپرسن بیگم نصرت شوکت اور ڈاکٹر عائشہ نے کی، جبکہ چیف گیسٹ پروفیسر سردار محمد الفرید ظفر نے خصوصی شرکت کی۔

    مقررین نے کہا کہ بانس دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھنے والا پودا ہے، جس کی بعض اقسام ایک دن میں ایک میٹر تک بڑھ جاتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق بانس کی نئی فصل محض 3 سے 5 سال میں تیار ہو جاتی ہے، جو لکڑی کے درختوں کے مقابلے میں کئی گنا کم عرصہ ہے، اسی لیے اسے جنگلات کی کٹائی کا بہترین متبادل سمجھا جاتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق بانس ماحول دوست پودا ہے جو فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی اعلیٰ صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ دوسرے درختوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ آکسیجن پیدا کرتا ہے۔ اس کی مضبوط جڑیں مٹی کو تھامتی ہیں، جس سے کٹاؤ، سیلابی ریلوں اور زمین کے بگاڑ میں نمایاں کمی آتی ہے۔ نمی برقرار رکھنے کی فطری خصوصیت اسے ماحولیات کے ماہرین کا پسندیدہ پودا بناتی ہے۔

    ہاؤسنگ اور آرکیٹیکچر کے شعبوں میں بانس کا استعمال عالمی سطح پر مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس کی مضبوطی اسٹیل کے برابر جبکہ وزن لکڑی کے مقابلے میں کم ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں بانس سے گھروں، پلوں، فرنیچر اور انٹیرئیر ڈیزائن کی مختلف مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں۔

    بانس سے بائیو ڈگریڈیبل پلاسٹک سمیت درجنوں ماحول دوست مصنوعات تیار کی جا رہی ہیں، جن کی عالمی منڈی میں تیزی سے مانگ بڑھ رہی ہے۔ اس طلب میں اضافے کے باعث ترقی پذیر ممالک معاشی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔

    پاکستان میں بانس کی کاشت چھوٹے کسانوں کے لیے آمدنی کا نیا ذریعہ بن سکتی ہے۔ ماہرین زراعت کے مطابق ملک کا گرم و مرطوب موسم بانس کی کئی اقسام کی کاشت کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ حکومتی سطح پر تحقیق، تربیت اور بڑے پیمانے پر پلانٹیشن پروگرامز شروع کیے جائیں تو نہ صرف ماحول کو فائدہ ہوگا بلکہ دیہی معیشت بھی مستحکم ہو سکتی ہے۔

    ماہرین نے کہا کہ بانس صرف ایک پودا نہیں، بلکہ مستقبل کی پائیدار معیشت کا ایک مضبوط ستون ہے۔ اگر اسے قومی سطح پر ترجیحی منصوبہ بندی کا حصہ بنایا جائے تو یہ ماحولیاتی تحفظ، اقتصادی ترقی اور روزگار کے بے شمار مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

    اگر آپ چاہیں تو میں اس خبر کا مختصر ایڈیشن، باکس آئٹم، فیچر اسٹائل ورژن یا سوشل میڈیا پوسٹ بھی تیار کر سکتا ہوں۔

  • اے این ایف پنجاب کا آل پاکستان میڈیا ہاؤس رجسٹرڈ کو ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا

    اے این ایف پنجاب کا آل پاکستان میڈیا ہاؤس رجسٹرڈ کو ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا

    سیالکوٹ (باغی ٹی وی، ڈسٹرکٹ رپورٹر مدثر رتو)آل پاکستان میڈیا ہاؤس رجسٹرڈ کو منشیات جیسی لعنت کے خاتمے کے لیے مستقل بنیادوں پر انٹرنیشنل کبڈی ایونٹس کے انعقاد پر اینٹی نارکوٹکس فورس پنجاب کی جانب سے ایوارڈ 2025 سے نوازا گیا ہے۔ برگئیڈئیر سکندر حیات چوہدری، کمانڈنٹ آفیسر اے این ایف لاہور ریجن، نے لاہور ریجنل آفس میں تنظیم کے مرکزی بانی و صدر ڈاکٹر محمد زمان ہنجرا (گولڈ میڈلسٹ) کو یہ اعزاز پیش کیا۔

    تقریب میں آل پاکستان میڈیا ہاؤس رجسٹرڈ کے مرکزی چیئرمین مشاورت کمیٹی شاہد محمود وڑائچ، چیئرمین انفارمیشن میاں تنویر احمد، چیئرمین شمالی پنجاب محمد آصف شیراز، جنرل سیکرٹری پنجاب حسن بلال اور آئی ٹی انچارج محمد ذوہیب امجد نے خصوصی شرکت کی۔

    اینٹی نارکوٹکس فورس نے منشیات سے پاک معاشرے کے قیام کے لیے آل پاکستان میڈیا ہاؤس رجسٹرڈ کی خدمات کو سراہتے ہوئے اسے معاشرتی بہتری کا ایک مثالی کردار قرار دیا۔

    تنظیم کا بنیادی منشور ہے:”نشہ سے انکار، زندگی سے پیار”
    جبکہ تنظیم کا عزم ہے:”ہمارا عزم— منشیات سے پاک معاشرہ”

    تقریب کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اینٹی نارکوٹکس فورس (ANF) اور کاؤنٹر نارکوٹکس فورس کے ساتھ مل کر ملک بھر میں منشیات کے خلاف آگاہی مہم اور مثبت سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

  • یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں سیرت النبیؐ سیمینار، صبر و استقامت کی اہمیت اجاگر

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ میں سیرت النبیؐ سیمینار، صبر و استقامت کی اہمیت اجاگر

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)وائس چانسلر یونیورسٹی آف اوکاڑہ پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی زیر نگرانی سیرت النبی ﷺ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔ شعبہ علوم اسلامیہ کے پروفیسرز نے بامقصد اور روح پرور سیمینار میں حضور اکرم ﷺ کی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں صبر و استقامت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

    سیمینار میں اساتذہ کرام، طلبہ و طالبات، علما اور مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ کی زندگی صبر، برداشت اور ثابت قدمی کا کامل نمونہ ہے۔ مکی دور کی مشکلات ہوں یا مدنی دور کے چیلنجز، آپ ﷺ نے ہر مرحلے پر صبر و استقامت کے ذریعے اسلامی تعلیمات کو فروغ دیا اور امت کے لیے بہترین عملی مثال قائم کی۔

    دیگر مقررین نے کہا کہ نوجوان اگر سیرتِ رسول ﷺ کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں تو معاشرے میں برداشت، رواداری اور باہمی احترام کو فروغ دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صبر نہ صرف فرد کی شخصیت کو مضبوط بناتا ہے، بلکہ یہ معاشرتی استحکام اور قومی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔

    سیمینار کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن منعقد ہوا، جس میں یونیورسٹی کے طلبہ و طالبات نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

  • اوباڑو پولیس کی کارروائی، چوری کی موٹر سائیکل برآمد، تین ملزمان گرفتار

    اوباڑو پولیس کی کارروائی، چوری کی موٹر سائیکل برآمد، تین ملزمان گرفتار

    گھوٹکی (باغی ٹی وی، نامہ نگار مشتاق علی لغاری)تھانہ اوباڑو پولیس نے بہترین کارروائی کرتے ہوئے چوری کے مقدمے میں مطلوب تین ملزمان کو مسروقہ موٹر سائیکل سمیت گرفتار کر لیا۔ ڈی ایس ایس پی گھوٹکی محمد انور کھیتران کی ہدایات پر روپوش اشتہاری اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کر دی گئی ہیں۔

    پولیس کے مطابق دورانِ گشت خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی میں کرائم نمبر 219/2025 دفعہ 381A ت۔پ کے مقدمے میں مطلوب ملزمان — ساجد علی عرف ماجد علی ملک، محمد اسلم ملک اور محمد علی ملک کو گرفتار کیا گیا۔

    یاد رہے کہ ملزمان نے مورخہ 12 نومبر 2025 کو میر حسن ولد وزیر احمد چوہان، مسلم کالونی اوباڑو کی موٹر سائیکل فیضان پنجتن پاک مدرسہ، ریتی روڈ نزد بائی پاس اوباڑو سے چوری کی تھی۔

    پولیس نے مسروقہ موٹر سائیکل قانونی کارروائی کے بعد اصل مالک کے حوالے کر دی۔

  • لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ

    لالمونیرہٹ ایئربیس، چکن نیک اور راجناتھ سنگھ
    تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
    بھارتی وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے اتوار کے روز ایک متنازع بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اگرچہ آج سندھ بھارت کا حصہ نہیں ہے، مگر یہ خطہ تہذیبی اور ثقافتی طور پر بھارت سے گہرا تعلق رکھتا ہے اور ’’ایک دن دوبارہ بھارت میں واپس آ سکتا ہے‘‘۔ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے راجناتھ سنگھ کا کہنا تھا کہ دریائے سندھ کے کنارے آباد صوبہ سندھ 1947 کی تقسیم کے وقت پاکستان کا حصہ بنا، جس کے بعد بڑی تعداد میں سندھی ہندو بھارت ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان کے مطابق سندھ کا خطہ جغرافیائی طور پر گجرات اور راجستھان کے نزدیک ہونے کے ساتھ ساتھ ثقافتی طور پر بھی بھارت سے وابستہ ہے۔ راجناتھ سنگھ نے اپنے خطاب میں سابق بھارتی نائب وزیرِاعظم ایل کے ایڈوانی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کی نسل کے سندھی ہندو آج تک سندھ کی علیحدگی کو دل سے قبول نہیں کر سکے، کیونکہ اُن کے نزدیک دریائے سندھ اُن کی تہذیبی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ اس بیان نے بھارت کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

    یہ دعویٰ بظاہر ایک جذباتی نعرہ ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ سندھ پاکستان کا ایک مضبوط اور ناقابلِ تقسیم صوبہ ہے، جس کی سیاست، معیشت اور شناخت بھارت کے کسی بھی خواب کو رد کرتی ہے۔ بھارت کے لیے اصل خطرہ سندھ یا مغربی سرحد نہیں بلکہ مشرقی محاذ ہے، جہاں تزویراتی تبدیلیاں تیزی سے بھارت کے لیے ایک نئے امتحان کی شکل اختیار کر رہی ہیں۔ بنگلہ دیش کے انتہائی شمال مغرب میں، بھارت کی سرحد سے صرف 12 سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع لالمونیرہٹ کا پرانا ہوائی اڈہ اس وقت جنوبی ایشیا کی سب سے خطرناک تزویراتی تبدیلی کا مرکز بن چکا ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے وقت برطانوی رائل ایئر فورس کا یہ اڈّہ برسوں سے ویران پڑا تھا، مگر 2025 میں اس کی بحالی اور توسیع نے ایک نیا محاذ کھول دیا ہے جو براہِ راست بھارت کے Siliguri Corridor یعنی Chicken Neck کو نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ وہی 22 کلومیٹر چوڑا تنگ کوریڈور ہے جو بھارت کی سات شمال مشرقی ریاستوں (آسام، اروناچل پردیش، ناگالینڈ، منی پور، میزورم، تریپورا اور میگھالیہ) کو باقی ہندوستان سے ملاتا ہے۔ اگر یہ کوریڈور کاٹا گیا تو شمال مشرق حقیقتاً الگ تھلگ ہو جائے گا۔

    مارچ 2025 میں بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے لالمونیرہٹ کو مکمل فوجی ایئربیس میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا۔ اکتوبر 2025 میں آرمی چیف جنرل وقار الزمان نے خود سائٹ کا دورہ کیا اور توسیعی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا۔ نومبر 2025 تک یہاں جدید ایئر ڈیفنس ریڈار، ہینگرز اور رن وے کی توسیع کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ منصوبہ محض بنگلہ دیش ایئر فورس کی جدیدبنانے کا حصہ نہیں ہے بلکہ چین اور پاکستان کے ساتھ مل کر بھارت کو مشرقی سمت سے گھیرنے کی ایک وسیع حکمت عملی کا اہم جز بھی دکھائی دیتا ہے۔ شیخ حسینہ کی معزولی کے بعد صرف دس ماہ کے اندر بنگلہ دیش کی خارجہ و دفاعی پالیسی نے 180 ڈگری کا مکمل رخ بدل لیا۔ جہاں ایک طرف محمد یونس کی عبوری حکومت نے بیجنگ کے ساتھ 2.1 بلین ڈالر کے نئے معاہدے کیے، وہاں دوسری طرف پاکستان سے دفاعی تعلقات بحال ہوئے جو 1971 کے بعد پہلی بار اس سطح پر پہنچے ہیں۔

    نومبر 2025 میں بنگلہ دیش آرمی کا وفد راولپنڈی پہنچا اور دونوں ممالک کے درمیان پہلی Army-to-Army Staff Talks منعقد ہوئیں۔ اسی مہینے Dubai Air Show میں پاکستان نے ایک "دوست ملک” کے ساتھ JF-17 تھنڈر بلاک 3 کے 16 سے 24 طیاروں کی فروخت کا ایم او یو کیا، جس کے بارے میں معتبر ذرائع کی تصدیق ہے کہ خریدار بنگلہ دیش ہی ہے۔ یہ طیارے AESA ریڈار اور PL-15 لانگ رینج میزائلوں سے لیس ہوں گے اور بنگلہ دیش کے پائلٹس تربیت کے لیے پاکستان آئیں گے۔ یہ 1971 کے بعد پہلا موقع ہوگا کہ بنگلہ دیشی فوجی اہلکار پاکستانی سرزمین پر تربیت حاصل کریں گے۔

    چین اس پورے کھیل کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔ وہ بنگلہ دیش کو پہلے ہی 72 فیصد دفاعی ساز و سامان فراہم کرتا ہے۔ لالمونیرہٹ کی بحالی میں چینی کمپنی Power China کی 1 بلین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری شامل ہے۔ بیجنگ کی حکمت عملی واضح ہے کہ خلیج بنگال سے لے کر ہمالیہ تک ایک مسلسل دباؤ کی فضاء قائم کرنا تاکہ بھارت کو تین محاذوں پر بیک وقت الجھایا جائے ، مغرب میں پاکستان، شمال میں چین اور مشرق میں بنگلہ دیش۔ Siliguri Corridor کی کمزوری کوئی نئی بات نہیں ہےمگر اب پہلی بار اسے تینوں سمتوں سے بیک وقت خطرہ لاحق ہوا ہے۔ لالمونیرہٹ سے Chicken Neck کا فاصلہ فضائی راستے سے چند منٹوں کا ہے۔ اگر کبھی کشیدگی بڑھی تو یہ ایئربیس بھارت کے شمال مشرق پر براہِ راست حملوں، نگرانی یا لاجسٹک سپورٹ کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ بھارت نے جواب میں سلی گوری اور آس پاس کے علاقوں میں اضافی فوج، رافیل طیاروں کی تعیناتی اور نئی سڑکوں و ریل لائنوں کی تعمیر تیز کر دی ہے، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ 22 کلومیٹر چوڑے اس کوریڈور کو مکمل طور پر محفوظ بنانا نہایت مشکل ہے۔

    شمال مشرقی ریاستوں میں علیحدگی پسند تحریکیں کبھی ختم نہیں ہوئیں۔ منی پور میں جاری نسلی تنازع، ناگالینڈ اور آسام میں زیر زمین گروہوں کی سرگرمیاں اور معاشی پسماندگی نے ایک ایسی فضا پیدا کر رکھی ہے جہاں بیرونی قوتیں آسانی سے مداخلت کر سکتی ہیں۔ اگر Chicken Neck پر دباؤ بڑھا اور سپلائی لائن متاثر ہوئی تو ان ریاستوں میں بے چینی تیزی سے پھیل سکتی ہے۔ براہ راست علیحدگی شاید ممکن نہ ہو، مگر ایک طویل الگ تھلگ حالت اندرونی استحکام کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔ صورتحال تیزی سے ایک نئے تین ملکی (چین،پاکستان اور بنگلہ دیش)اسٹریٹجک اتحاد کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ لالمونیرہٹ کا پرانا رن وے آج محض کنکریٹ اور اسٹیل کا ڈھانچہ نہیں رہا بلکہ آنے والے برسوں کی جنوبی ایشیائی سیاست کا نیا رخ متعین کر رہا ہے۔ Chicken Neck اب محض نقشے پر ایک تنگ کویڈور نہیں رہا بلکہ بھارت کی سات مشرقی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ کن امتحان بن چکا ہے۔

    یہی وہ پس منظر ہے جس میں راجناتھ سنگھ کا سندھ کے بارے میں بیان سامنے آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کی بے چینی اور گیدڑ بھبکیاں سندھ کے بارے میں نہیں بلکہ مشرقی محاذ پر بڑھتے ہوئے خطرات کے بارے میں ہیں۔ جب لالمونیرہٹ ایئربیس تیزی سے ایک فعال فوجی مرکز بن رہا ہے، جب بنگلہ دیش اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون نئی سطح پر پہنچ رہا ہے اور جب JF-17 تھنڈر بلاک 3 کی ڈیل بھارت کے مشرقی دروازے پر ایک نئی حقیقت رقم کر رہی ہے، تو ایسے میں سندھ کے بارے میں بیانات محض عوام کو بہلانے اور اصل خطرات سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہیں۔ راجناتھ سنگھ کی بے چینی اور ان کی گیدڑ بھبکیاں دراصل اسی حقیقت کا اعتراف ہیں کہ بھارت کے لیے اصل امتحان سندھ نہیں بلکہ اس کا مشرقی محاذ ہے، جہاں چین، پاکستان اور بنگلہ دیش کی مشترکہ حکمت عملی نے اس کے لیے ایک ایسا جال بچھا دیا ہے جس سے نکلنا آسان نہیں۔لہٰذا راجناتھ کے بیانات کو اگر کسی تناظر میں دیکھا جائے تو وہ دراصل اسی خوف اور بے چینی کا اظہار ہیں جو لالمونیرہٹ ایئربیس، پاک-بنگلہ دفاعی تعاون اور JF-17 ڈیل نے نئی دہلی کے ایوانِ اقتدار میں پیدا کر رکھی ہے۔

  • قصور: دورانِ تفتیش ملزم کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے والے اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج

    قصور: دورانِ تفتیش ملزم کی ویڈیو بنا کر وائرل کرنے والے اے ایس آئی کے خلاف مقدمہ درج

    قصور (باغی ٹی وی ،ڈسٹرکٹ رپورٹرطارق نوید سندھو) تھانہ بی ڈویژن قصور میں دورانِ تفتیش گرفتار ملزم کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے والے اے ایس آئی عمر فاروق کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ واقعہ سامنے آتے ہی درجنوں شہری بھی اے ایس آئی کی دیگر مبینہ زیادتیوں کو بے نقاب کرنے کے لیے تھانے پہنچ گئے۔

    ترجمان پولیس کے مطابق چند روز قبل ایک تفتیش کے دوران اے ایس آئی نے ملزم کی ویڈیو موبائل فون سے ریکارڈ کی تھی، جسے بعد ازاں سوشل میڈیا پر شیئر کر دیا گیا۔ ابتدائی انکوائری میں اے ایس آئی کا یہ عمل غیر قانونی، غیر پیشہ ورانہ اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف قرار پایا۔

    پولیس حکام کا کہنا ہے کہ زیرِ حراست کسی بھی شخص کی ویڈیو بنانا یا اسے عام کرنا نہ صرف خلافِ ضابطہ ہے بلکہ انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی بھی ہے۔ ترجمان کے مطابق واقعے کی بنیاد پر اے ایس آئی عمر فاروق کو معطل کر دیا گیا ہے اور محکمانہ کارروائی بھی شروع کر دی گئی ہے۔

    مزید برآں ویڈیو وائرل ہونے کے تمام پہلوؤں کی تحقیقات کے لیے ایک اسپیشل انکوائری ٹیم بھی تشکیل دے دی گئی ہے، جو معاملے کی مکمل چھان بین کرے گی۔

    اعلیٰ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ شہریوں کی عزتِ نفس کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اور ایسے غیر اخلاقی و غیر قانونی اقدامات ہرگز برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔

  • اوکاڑہ: گھوڑے شاہ قبرستان کے اطراف تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائی، غیر قانونی تعمیرات ہٹا دی گئیں

    اوکاڑہ: گھوڑے شاہ قبرستان کے اطراف تجاوزات کے خلاف بھرپور کارروائی، غیر قانونی تعمیرات ہٹا دی گئیں

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی ہدایت پر گھوڑے شاہ قبرستان کے اطراف قائم تجاوزات کے خلاف بھرپور آپریشن کیا گیا۔ کارروائی سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید کی زیر نگرانی عمل میں لائی گئی۔

    آپریشن کے دوران قبرستان کی چار دیواری سے متصل تمام غیر قانونی تجاوزات ہٹا دی گئیں۔ سب ڈویژنل انفورسمنٹ آفیسر وسیم جاوید نے واضح کیا کہ قبرستانوں کے اطراف کسی بھی قسم کی غیر قانونی تعمیر، قبضہ یا تجارتی سرگرمی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔

    انہوں نے شہریوں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ آینده قانون کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ آپریشن ایک روزہ کارروائی نہیں بلکہ تجاوزات کے مکمل خاتمے تک جاری رہے گا۔

    وسیم جاوید نے عوام سے اپیل کی کہ وہ قبرستانوں کے تقدس کا خیال رکھیں اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے اجتناب کریں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ شہر میں نظم و ضبط اور مقدس مقامات کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

  • اوکاڑہ: گورنمنٹ ایسوسی ایٹ خواتین کالج حجرہ شاہ مقیم میں "صبر و استقامت” پر آگاہی لیکچر

    اوکاڑہ: گورنمنٹ ایسوسی ایٹ خواتین کالج حجرہ شاہ مقیم میں "صبر و استقامت” پر آگاہی لیکچر

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)دیپالپور کے گورنمنٹ ایسوسی ایٹ خواتین کالج حجرہ شاہ مقیم میں صبر و استقامت کے موضوع پر آگاہی لیکچر کا انعقاد کیا گیا۔ لیکچر کا اہتمام پرنسپل شبانہ حسین کی زیر نگرانی کیا گیا، جس کا مقصد طالبات کی اخلاقی، فکری اور شخصی تربیت کو فروغ دینا تھا۔

    لیکچر کے دوران پروفیسرز نے طالبات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صبر و استقامت ایک مضبوط شخصیت کی بنیاد ہے، جو انسان کو زندگی کے ہر امتحان میں کامیابی کی طرف لے جاتی ہے۔ مقررین نے زور دیا کہ طالبات ناکامیوں کو سیکھنے کا ذریعہ بنائیں اور مشکل حالات میں حوصلہ برقرار رکھیں۔

    انہوں نے کہا کہ صبر کا مطلب صرف برداشت کرنا نہیں، بلکہ تدبر، حکمت اور مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھنے کا نام ہے۔ پروفیسرز نے معاشرتی اور تعلیمی مثالوں کے ذریعے طالبات کو صبر کی عملی اور روزمرہ زندگی میں اہمیت سے آگاہ کیا۔

    آخر میں سوال و جواب کا سیشن ہوا جس میں طالبات نے بھرپور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ کالج انتظامیہ نے اعلان کیا کہ اس طرح کے تربیتی پروگرامز کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا تاکہ طالبات کی ہمہ جہت تربیت اور مثبت شخصیت سازی ممکن ہو سکے۔

  • ڈیرہ غازی خان: میڈیکل کالج میں پہلی تین روزہ سپروائزری ورکشاپ اختتام پذیر، 30 سے زائد ڈاکٹرز کی شرکت

    ڈیرہ غازی خان: میڈیکل کالج میں پہلی تین روزہ سپروائزری ورکشاپ اختتام پذیر، 30 سے زائد ڈاکٹرز کی شرکت

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،نیوز رپورٹرشاہدخان)میڈیکل کالج ڈیرہ غازی خان میں ڈیپارٹمنٹ آف میڈیکل ایجوکیشن کی زیر نگرانی فیکلٹی ممبرز اور کنسلٹنٹس کے لیے پہلی تین روزہ سپروائزری ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی۔ ورکشاپ کا انعقاد پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر بلال سعید کی درخواست پر کالج آف سرجنز پاکستان (CPSP) کے تعاون سے کیا گیا۔

    ورکشاپ میں 30 سے زائد ڈاکٹرز نے شرکت کی۔ ورکشاپ کے انعقاد سے مقامی فیکلٹی کو اب سپروائزری ٹریننگ کے لیے ملتان نہیں جانا پڑے گا، جو خطے میں طبی تعلیمی خدمات کے لیے ایک بڑی سہولت اور اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔

    اس موقع پر آرگنائزر پروفیسر ڈاکٹر بلال سعید نے صدر سی پی ایس پی پروفیسر ڈاکٹر خالد مسعود گوندل کا خصوصی شکریہ ادا کیا، جن کی بدولت یہ ورکشاپ پہلی مرتبہ ڈیرہ غازی خان میں ممکن ہوسکی۔شرکاء نے ورکشاپ کو ایک مؤثر، سودمند اور فیکلٹی کی صلاحیتوں میں اضافے کا اہم ذریعہ قرار دیا۔

    ورکشاپ کے انعقاد میں ڈاکٹر زینب، ڈاکٹر شمسہ کنول اور ڈاکٹر محمد ہارون بلال نے اہم کردار ادا کیا۔
    ورکشاپ کے پہلے دن پرنسپل نشتر میری یونیورسٹی ڈاکٹر راشد اور ڈائریکٹر سی پی ایس پی ملتان پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی نے بھی خصوصی شرکت کی۔

  • ڈیرہ غازی خان: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سید عثمان منیر بخاری کے مختلف تعلیمی اداروں کے دورے، سپورٹس ڈے کی سرگرمیوں کا جائزہ

    ڈیرہ غازی خان: ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سید عثمان منیر بخاری کے مختلف تعلیمی اداروں کے دورے، سپورٹس ڈے کی سرگرمیوں کا جائزہ

    ڈیرہ غازی خان (باغی ٹی وی،سٹی رپورٹرجواداکبر)ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سید عثمان منیر بخاری نے ڈیرہ غازی خان کے مختلف تعلیمی اداروں کا دورہ کیا اور طلبہ کی نصابی و ہم نصابی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔

    انہوں نے سب سے پہلے سنٹر آف ایکسیلنس بوائز میں سپورٹس ڈے کی سرگرمیوں کا معائنہ کیا، جہاں انہوں نے طلبہ کے ساتھ مختلف کھیلوں میں بھی حصہ لیا۔ اس موقع پر وائس پرنسپل عباس مہدی نے سپورٹس ڈے سے متعلق بریفنگ دی۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ کھیل نہ صرف جسمانی فٹنس بلکہ ذہنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ کی جسمانی و ذہنی نشوونما کے لیے سپورٹس سرگرمیاں ناگزیر ہیں اور انہیں تعلیمی اداروں میں باقاعدگی سے جاری رہنا چاہیے۔

    بعد ازاں انہوں نے بوائز ہائی سکول نمبر 1 کا دورہ کیا، کلاسز کا معائنہ کیا اور طلبہ سے نصابی سوالات بھی پوچھے۔ انہوں نے اساتذہ کو ہدایت کی کہ بچوں کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، کیونکہ نوجوان نسل ہی پاکستان کا روشن مستقبل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ میں حب الوطنی اور کردار سازی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کے دورے کو اساتذہ اور طلبہ نے سراہا اور سپورٹس سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔