Baaghi TV

Author: ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی

  • ٹھٹھہ:گھارو میں لینڈ مافیا بے لگام، سرکاری زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں تیار

    ٹھٹھہ:گھارو میں لینڈ مافیا بے لگام، سرکاری زمینوں پر غیر قانونی ہاؤسنگ اسکیمیں تیار

    ٹھٹھہ (باغی ٹی وی/ڈسٹرکٹ رپورٹر بلاول سموں) ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کی جانب سے سرکاری زمینوں اور تجاوزات کے خلاف جاری مہم کے باوجود گھارو میں لینڈ مافیا کے خلاف مؤثر کارروائی نہ ہو سکی، جس کے باعث سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے غیرقانونی ہاؤسنگ اسکیمیں چلانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

    ذرائع کے مطابق گھارو کے مختلف علاقوں میں سرکاری اراضی پر غیرقانونی تعمیرات اور ہاؤسنگ اسکیموں کا جال بچھایا جا رہا ہے، جبکہ ضلعی انتظامیہ کی کارروائیاں محض کاغذی حد تک محدود نظر آتی ہیں۔ محکمہ ریونیو نے حالیہ کارروائی کے دوران غیرقانونی بلڈرز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے “ماڈرن سٹی” نامی ہاؤسنگ اسکیم کو غیرقانونی قرار دیا ہے اور اسکیم سے متعلق تقریباً 100 ایکڑ زمین کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا گیا ہے۔

    محکمہ ریونیو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ نوٹس کے بعد کارروائی کی تیاری جاری تھی، تاہم مبینہ طور پر بلڈرز نے سیاسی اور انتظامی اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے کارروائی عارضی طور پر رکوا دی۔ اس حوالے سے محکمہ ریونیو کا مؤقف ہے کہ کسی بھی وقت غیرقانونی تعمیرات کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے اور سرکاری زمین کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    دوسری جانب شہری حلقوں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم میں پلاٹ خریدنے سے قبل اس کی قانونی حیثیت، این او سی اور زمین کے ریکارڈ کی مکمل تصدیق ضرور کریں، تاکہ مستقبل میں مالی نقصان سے بچا جا سکے۔ متاثرہ افراد اور سماجی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ اور اسسٹنٹ کمشنر میرپور ساکرو سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری زمینوں پر جاری تمام غیرقانونی تعمیراتی سرگرمیاں فوری بند کرائی جائیں اور لینڈ گریبرز کے خلاف بلاامتیاز سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

  • ننکانہ صاحب: شرحِ سود 11 فیصد سے کم اور صنعت کے لیے بجلی سستی کی جائے، میاں ندیم

    ننکانہ صاحب: شرحِ سود 11 فیصد سے کم اور صنعت کے لیے بجلی سستی کی جائے، میاں ندیم

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگاراحسان اللہ ایاز) چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میاں ندیم جالندھر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ جنوری 2026 کی مانیٹری پالیسی میں شرحِ سود کو فوری طور پر 11 فیصد سے کم کیا جائے تاکہ صنعتی پہیہ گردش کر سکے۔ اپنے دفتر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دسمبر 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) محض 2.7 فیصد رہا ہے، جبکہ خطے کے دیگر ممالک میں شرحِ سود پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے، لہٰذا صنعتوں کی بقا کے لیے سود کی شرح میں بڑی کمی ناگزیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حکومت صنعتوں کو سستی بجلی فراہم کرے اور لائف لائن صارفین کو دی جانے والی سبسڈی کا بوجھ صنعت پر ڈالنے کے بجائے اسے حکومتی بجٹ سے پورا کیا جائے، کیونکہ کراس سبسڈی ایک بالواسطہ ٹیکس ہے جسے صنعت اب مزید برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔

    صدر چیمبر آف کامرس نے برآمدات میں اضافے کے لیے فائنل ٹیکس ریجیم کی بحالی، 1.25 فیصد ٹرن اوور ٹیکس کے خاتمے اور کمپنیوں پر عائد 39 فیصد ٹیکس کو کم کر کے 20 فیصد تک لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ میاں ندیم جالندھر کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کی زیادہ سے زیادہ شرح 15 فیصد مقرر کی جائے اور صنعت کے لیے گیس کی قیمت 2300 روپے فی MMBTU فکس کی جائے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ ملک میں سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کم از کم 10 سالہ طویل المدتی صنعتی پالیسی کا اعلان کیا جائے، جس میں ٹیکسوں اور توانائی کی قیمتوں کا پہلے سے تعین ہو تاکہ صنعت کار اعتماد کے ساتھ اپنی سرمایہ کاری کو وسعت دے سکیں اور ملک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔

  • اوکاڑہ: ‘ستھرا پنجاب’ ویژن کے تحت زیرو ویسٹ آپریشن جاری، شہر بھر میں صفائی کی مہم تیز

    اوکاڑہ: ‘ستھرا پنجاب’ ویژن کے تحت زیرو ویسٹ آپریشن جاری، شہر بھر میں صفائی کی مہم تیز

    اوکاڑہ (نامہ نگارملک ظفر) وزیراعلیٰ پنجاب کے "ستھرا پنجاب” ویژن کے ثمرات تحصیل اوکاڑہ میں نمایاں طور پر نظر آنے لگے ہیں جہاں ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی خصوصی ہدایات پر صفائی ستھرائی کے نظام کو مثالی بنانے کے لیے انتظامیہ ہائی الرٹ ہے۔ شہر کا نقشہ بدلنے کے لیے جاری اس زیرو ویسٹ آپریشن کی قیادت ڈائریکٹر ملک زین اشفاق، مینجنگ ڈائریکٹر محمد حسن اور ڈسٹرکٹ مینیجر راؤ فیصل جبار کر رہے ہیں، جن کی زیرِ نگرانی تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لایا جا رہا ہے۔ فیلڈ میں اسسٹنٹ کمشنر احمد شیر گوندل، پروجیکٹ مینیجر وسیم اشرف اور تحصیل مینیجر نعمان راشد خود صفائی کے کاموں کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ شہر کے چوک چوراہوں اور گلی محلوں کو کوڑا کرکٹ سے پاک کیا جا سکے۔

    اس خصوصی مہم کے دوران سینٹری ورکرز کی بھاری نفری نہ صرف کوڑے کے پرانے ڈھیروں کا خاتمہ کر رہی ہے بلکہ نکاسی آب کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے نالیوں کی بھل صفائی بھی ہنگامی بنیادوں پر یقینی بنائی جا رہی ہے۔ انتظامی حکام نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ فرائض میں غفلت برتنے والے اہلکاروں کے لیے محکمے میں کوئی جگہ نہیں، جبکہ محنتی ورکرز کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ شہریوں نے انتظامیہ کے ان اقدامات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ اس مہم کے تسلسل کو برقرار رکھا جائے گا تاکہ اوکاڑہ پنجاب کا صاف ستھرا ترین شہر بن کر ابھر سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ عوامی تعاون اور ٹیم ورک کے ذریعے ہی شہر کو مستقل بنیادوں پر صاف رکھا جا سکتا ہے۔

  • اوکاڑہ: منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دلوانے کے لیے پولیس افسران کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    اوکاڑہ: منشیات فروشوں کو کڑی سزائیں دلوانے کے لیے پولیس افسران کی تربیتی ورکشاپ کا انعقاد

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ڈی پی او راشد ہدایت کی خصوصی ہدایت پر منشیات ایکٹ 1997 اور ترمیمی ایکٹ 2022 کے تحت درج مقدمات کی تفتیش کا معیار بہتر بنانے کے لیے کمیونٹی لائزون ہال میں ایک روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ اس ورکشاپ میں ضلع بھر کے تمام انچارج انویسٹی گیشن اور محرران نے شرکت کی، جس کا بنیادی مقصد منشیات فروشوں کے خلاف قانونی گھیرا تنگ کرنا اور مضبوط تفتیش کے ذریعے انہیں عدالتوں سے کڑی سزائیں دلوانا ہے۔ تربیتی سیشن کے دوران ڈپٹی ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر زاہد الحسن ناصر، ڈی ایس پی لیگل کلیم اللہ اور سب انسپکٹر محمد اکرم نے شرکاء کو منشیات قوانین، تفتیشی طریقہ کار میں جدت اور مقدمات کی مؤثر مسل رائیٹنگ کے حوالے سے تفصیلی لیکچرز دیے۔

    ڈی ایس پی لیگل کلیم اللہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس ورکشاپ کا مقصد پولیس افسران کی استعداد کار میں بہتری لانا ہے تاکہ منشیات کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کو قانونی تقاضوں کے مطابق منطقی انجام تک پہنچایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تفتیش کے دوران معمولی سی کوتاہی بھی ملزم کو فائدہ پہنچا سکتی ہے، اس لیے تمام تفتیشی افسران جدید خطوط پر تفتیش مکمل کریں تاکہ معاشرے کو ناسور کی طرح چاٹنے والے منشیات فروش کسی بھی رعایت کے مستحق نہ رہ سکیں۔ پولیس حکام کا کہنا تھا کہ ایسی ورکشاپس کے انعقاد سے نہ صرف تفتیش کا معیار بلند ہوگا بلکہ ضلع بھر میں منشیات کے خاتمے کے لیے جاری مہم کو بھی مزید تقویت ملے گی۔

  • اوکاڑہ: اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسسٹنٹ کمشنر نور محمد

    اوکاڑہ: اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل حل کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے، اسسٹنٹ کمشنر نور محمد

    اوکاڑہ (نامہ نگارملک ظفر) اسسٹنٹ کمشنر کوآرڈینیشن نور محمد کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ اوورسیز کمیٹی کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں دیارِ غیر میں مقیم پاکستانیوں کو درپیش مسائل، خصوصاً جائیدادوں کے تنازعات کے حل کے لیے کیسز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں تمام متعلقہ محکموں کے افسران نے شرکت کی، جہاں اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف شکایات پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو احکامات جاری کیے کہ ان کیسز کو جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی واضح ہدایات ہیں کہ اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں، کیونکہ وہ ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں۔

    اسسٹنٹ کمشنر نور محمد نے افسران کو تاکید کی کہ اوورسیز پاکستانیوں کے جان و مال اور جائیدادوں کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام محکمے جائیداد کے تنازعات کے حوالے سے تواتر کے ساتھ پیروی کریں اور اپنی پیش رفت رپورٹس باقاعدگی سے کمیٹی کو پیش کریں تاکہ متاثرہ افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک مقیم شہریوں کی شکایات کے ازالے میں کسی قسم کی سستی برداشت نہیں کی جائے گی اور انتظامیہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر وقت کوشاں ہے۔

  • اوکاڑہ: انسانی جانوں سے کھیلنے والے میڈیکل سٹور مالکان کے خلاف گھیرا تنگ، متعدد کیسز ڈرگ کورٹ منتقل

    اوکاڑہ: انسانی جانوں سے کھیلنے والے میڈیکل سٹور مالکان کے خلاف گھیرا تنگ، متعدد کیسز ڈرگ کورٹ منتقل

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر) ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فنانس اینڈ پلاننگ چوہدری عبدالجبار گجر کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ کوالٹی کنٹرول بورڈ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں انسانی جانوں سے کھلواڑ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں محکمہ صحت کے افسران اور بورڈ ممبران نے شرکت کی، جہاں ضلع بھر کے مختلف میڈیکل سٹورز پر ڈرگ ایکٹ کی خلاف ورزیوں سے متعلق متعدد کیسز پیش کیے گئے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بغیر لائسنس میڈیکل سٹورز چلانے والوں، ممنوعہ اور زائد المیعاد (ایکسپائرڈ) ادویات کی فروخت میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی اور کسی بھی رعایت کے بغیر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

    چوہدری عبدالجبار گجر کے احکامات پر کوالٹی کنٹرول بورڈ نے ڈرگ ایکٹ کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب میڈیکل سٹور مالکان کے کیسز کو مزید قانونی چارہ جوئی کے لیے ڈرگ کورٹ بھیجنے کا فیصلہ کیا، جبکہ معمولی نوعیت کی کوتاہیوں پر بعض مالکان کو آخری وارننگ جاری کی گئی۔ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کا مزید کہنا تھا کہ کوالیفائیڈ پرسن کی عدم موجودگی یا غیر رجسٹرڈ ادویات کی فروخت قانوناً جرم ہے اور انتظامیہ عوام کو معیاری ادویات کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے محکمہ صحت کے حکام کو ہدایات جاری کیں کہ وہ مارکیٹ میں ادویات کی کوالٹی پر مسلسل نظر رکھیں تاکہ شہریوں کی زندگیوں کو لاحق خطرات کا تدارک کیا جا سکے۔

  • قصور:سڑک عبور کرتی 7 سالہ بچی گاڑی تلے کچل کر جاں بحق

    قصور:سڑک عبور کرتی 7 سالہ بچی گاڑی تلے کچل کر جاں بحق

    قصور (باغی ٹی وی،بیوروچیف طارق نوید سندھو) الہ آباد کے نواحی علاقے دیو کھارہ کے قریب تیز رفتاری اور غفلت نے ایک اور گھر کا چراغ گل کر دیا، جہاں سڑک عبور کرتی 7 سالہ معصوم بچی گاڑی کی ٹکر سے جان کی بازی ہار گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق متوفیہ دعا طارق پیدل سڑک عبور کر رہی تھی کہ اچانک ایک بے قابو تیز رفتار گاڑی اسے کچلتی ہوئی گزر گئی، بچی کو لگنے والی چوٹیں اس قدر شدید تھیں کہ وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو قصور کی ٹیم نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کیا، جبکہ معصوم بچی کی اچانک موت کی خبر ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا اور علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔

    پولیس تھانہ الہ آباد نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حادثے میں ملوث گاڑی کو قبضے میں لے لیا ہے اور غفلت برتنے والے ڈرائیور کے خلاف مقدمہ درج کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ گاڑی کی رفتار بہت زیادہ تھی جس کے باعث ڈرائیور بچی کو سامنے دیکھ کر قابو نہ پا سکا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جا سکیں۔ مقامی شہریوں نے حادثے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ آبادی والے علاقوں میں تیز رفتاری کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے دلخراش واقعات سے بچا جا سکے۔

  • یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا تیسرا کانووکیشن، 4924 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں

    یونیورسٹی آف اوکاڑہ کا تیسرا کانووکیشن، 4924 طلبہ کو ڈگریاں دی گئیں

    درینالہ خورد (نامہ نگار) یونیورسٹی آف اوکاڑہ کے زیرِ اہتمام تیسرے سالانہ کانووکیشن کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں مجموعی طور پر 4 ہزار 924 فارغ التحصیل طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں۔ تقریب کی صدارت صوبائی وزیر برائے اعلیٰ تعلیم رانا سکندر حیات نے کی، جبکہ وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین، پرو وائس چانسلر ڈاکٹر محمد واجد، رجسٹرار جمیل عاصم اور کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر فہیم ارشد بھی اسٹیج پر موجود تھے۔ کانووکیشن کے دوران مختلف شعبہ جات میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے 72 پوزیشن ہولڈرز کو گولڈ میڈلز سے نوازا گیا، جبکہ گزشتہ ایک برس کے دوران اپنی تحقیق مکمل کرنے والے 18 پی ایچ ڈی اسکالرز نے بھی اپنی ڈگریاں وصول کیں۔

    تقریب کے مہمانِ خصوصی صوبائی وزیر رانا سکندر حیات نے اپنے خطاب میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین کی متحرک قیادت کو سراہتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی آف اوکاڑہ نے تعلیمی معیار اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی میں مختصر عرصے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کی قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں بہتری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ جلد ہی ملک کی صفِ اول کی جامعات میں شامل ہو جائے گا۔ اس موقع پر انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان محنت اور لگن کو اپنا شعار بنائیں اور ملک کی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ صوبائی وزیر نے یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے مرکزِ امتیاز (Center of Excellence) کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

    وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر سجاد مبین نے تقریب میں شرکت پر صوبائی وزیر کا شکریہ ادا کیا اور یونیورسٹی کے جاری ترقیاتی منصوبوں اور تعلیمی اصلاحات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلبہ کو نصیحت کی کہ عملی زندگی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے خود اعتمادی اور جدت پسندی ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ طلبہ دیانت داری سے محنت کریں اور بڑے خواب دیکھیں تاکہ وہ معاشرے کے لیے ایک کارآمد شہری ثابت ہو سکیں۔ تقریب کے اختتام پر معزز مہمانوں نے کامیاب طلبہ میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں، جبکہ اساتذہ اور والدین نے طلبہ کی اس اہم کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔

  • ننکانہ :ڈی ایچ کیو ہسپتال میں انتظامی بحران،حکام کی غفلت سے ایم ایس کی نشست خالی

    ننکانہ صاحب (باغی ٹی وی،نامہ نگار احسان اللہ ایاز) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ننکانہ صاحب اس وقت شدید انتظامی بحران کی لپیٹ میں ہے جہاں میڈیکل سپرنٹنڈنٹ (ایم ایس) کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کے باعث پورا طبی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ سابق ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کی معطلی کے بعد پیدا ہونے والا خلا تاحال پُر نہیں کیا جا سکا، جس کی وجہ سے ہسپتال جیسے حساس ادارے کا نظم و ضبط داؤ پر لگ گیا ہے اور انتظامی معاملات میں عدم استحکام کے باعث طبی سہولیات کے معیار میں شدید گراوٹ کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔ عوامی و سماجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری طور پر بااختیار اور مستقل قیادت تعینات نہ کی گئی تو یہ بڑا طبی مرکز محض ایک ڈھانچہ بن کر رہ جائے گا اور غریب مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا۔

    ذرائع کے مطابق سابق ایم ایس ڈاکٹر اطہر فرید کو وزیر اعلیٰ پنجاب کی معائنہ ٹیم کے اچانک دورے کے دوران سامنے آنے والی سنگین انتظامی کوتاہیوں کی بنیاد پر عہدے سے ہٹایا گیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد سے ہسپتال کی اعلیٰ ترین انتظامی نشست خالی پڑی ہے، جس کا براہِ راست اثر ہسپتال کے روزمرہ کے کاموں اور ادویات کی فراہمی پر پڑ رہا ہے۔ ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے ادارے کو قائم مقام (Acting) ایم ایس کے رحم و کرم پر چھوڑنا عملی طور پر اسے تباہی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے، کیونکہ عارضی چارج رکھنے والا افسر بڑے اور فیصلہ کن اقدامات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا، جس سے پالیسی سازی اور عملدرآمد کا عمل رک جاتا ہے۔

    ننکانہ صاحب کے شہریوں اور طبی حلقوں نے سیکرٹری ہیلتھ پنجاب نادیہ ثاقب سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ صورتحال کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے کسی ایماندار، تجربہ کار اور سخت گیر ڈاکٹر کو مستقل طور پر ایم ایس تعینات کریں تاکہ ہسپتال میں ڈسپلن بحال ہو سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ محض عارضی انتظامات سے ہسپتال کا نظام نہیں چلایا جا سکتا بلکہ ایک مستقل اور بااختیار سربراہ ہی وزیر اعلیٰ پنجاب کی اصلاحاتی پالیسیوں کو نچلی سطح تک پہنچا سکتا ہے۔ عوامی حلقوں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اب بھی بروقت اور درست فیصلہ نہ کیا گیا تو ہسپتال کا نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو جائے گا، جس کا خمیازہ ضلع بھر کے مریضوں کو بھگتنا پڑے گا۔

  • اوکاڑہ: پولیو مہم کے 100 فیصد اہداف کے لیے ڈپٹی کمشنر کی سخت ہدایات

    اوکاڑہ: پولیو مہم کے 100 فیصد اہداف کے لیے ڈپٹی کمشنر کی سخت ہدایات

    اوکاڑہ (نامہ نگار ملک ظفر)ڈپٹی کمشنر احمد عثمان جاوید کی زیر صدارت انسداد پولیو مہم کے اجلاس میں 2 فروری سے شروع ہونے والی مہم کے لیے 100 فیصد اہداف مکمل کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ اجلاس میں محکمہ صحت، ایجوکیشن، ڈبلیو ایچ او کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ اداروں کے افسران نے شرکت کی، جبکہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر فواد افتخار نے مہم کے مائیکرو پلان، ٹیموں کی تشکیل، لاجسٹک سپورٹ اور سیکیورٹی پر تفصیلی بریفنگ دی۔

    ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ صحت مند معاشرے کے لیے پولیو کا خاتمہ ناگزیر ہے اور ضلع کو پولیو فری بنانے کے لیے تشکیل دی گئی ٹیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کے لیے مکمل تیاریاں کریں۔ انہوں نے ہدایت کی کہ مہم کے دوران کوئی بھی بچہ قطرے پینے سے محروم نہ رہے اور دور دراز علاقوں و خانہ بدوش بستیوں پر خصوصی توجہ دی جائے۔ پولیس حکام کو ہدایت کی گئی کہ پولیو ٹیموں کی حفاظت کے لیے فول پروف سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے اور حساس علاقوں میں اضافی نفری تعینات کی جائے۔

    ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ مہم کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی مانیٹرنگ کی جائے گی اور روزانہ شام کو جائزہ اجلاس منعقد کر کے ٹیموں کی کارکردگی کا موازنہ کیا جائے گا تاکہ ہر علاقے میں مکمل ریلیف اور مؤثر حکمت عملی کو یقینی بنایا جا سکے۔