Baaghi TV

Author: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی

  • گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(دوسری قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .اس سلسلے کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی قدیم چولستان کے تاریخی تمدنی مرکزی شہر گنویری والا کی دریافت اور کھدائی

    دوسری قسط کا خلاصہ
    زمین میں دفن شہر گنویری والا چولستان کی ایک سات ہزار سال پرانی سرائیکی تہذیب وتمدن کا مرکز ہے۔1970ء تا 1975ء میں ڈاکٹر رفیق مغل کی قیادت میں اس کی کھدائی کے لیے ابتدائی کاوشیں سامنے آئیں۔جس سے ثابت ہوا کہ یہ شہر مقامی سرائیکی تہذیب و ثقافت اور زبان کا آئینہ کا ہے۔یہاں کی قدیم دستکاری،زیورات اور مٹی کے برتن دنیا بھر میں گئے۔ تحقیق سے چولستان کی تہذیب کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا گیا، قبل از ہڑپائی، ہاکڑہ دور، ابتدائی ہڑپائی دور، عروج یافتہ ہڑپائی دور اور متاخر ہڑپائی دور۔ گنویری والا شہر وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔اس وجہ سے وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کو وادی سندھ کی تہذیب وتمدن کی ماں مانا گیا۔اور اس کی اہمیت عالمی سطح پر تسلیم کی گئی ہے۔

    دوسری قسط
    احمدپور شرقیہ کی ہردلعزیز بردبار روحانی شخصیت بڑے بھائی دوست ماہر فلکیات و کلینکل سائیکالوجیسٹ جام اسد عباس لاڑ جن کی علم فلکیات پر شاندار کتاب”علم نجوم بحیثیت رہبر وجوہ نفسیاتی عوارض”سال 2024ء منظر عام پر آئی ہے۔ایک دن دوران گفتگو اُن سے سوال کیا کہ گنویری والا چولستان کی تاریخی،تمدنی،تہذیبی اور ثقافتی حیثیت آپ کے علم کے مطابق کیا ہوسکتی ہے؟ اس سوال کے جواب میں دھیمے لہجے میں جناب اسد لاڑ نے کہا کہ قدرت اب صحرائی علاقوں کو دوبارہ عروج یافتہ بنائے گی۔میرا ماننا ہے کہ دنیا کے تمام ریگستان ہزاروں سال پہلے دریاؤں کی گزر گاہ رہ چکے ہیں۔مجھے میرا علم بتا رہا ہے کہ سرائیکی روہی چولستان میں قدیم آٹھ ہزار سال تہذیب وتمدن کے آثار لازمی ہوں گے۔واللہ اعلم بالصواب۔باقی میرا اللہ پاک بہتر جانتا ہے۔اب اس حوالے سے تحقیقاتی آرکیالوجی تھیوری سے عملی حقائق تلاش کرنے کی سعی کرتے ہیں۔

    گنویری والا چولستان کی باقاعدہ کھدائی کے لیے عملی اقدامات سابق ماہر آثار قدیمہ ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی دن رات محنت سے 1970ء سے 1975ء کے دوران سامنے آئے۔ اس کا نتیجہ مارچ 2024ء میں سرکاری فنڈز کی مد میں 20 ملین یعنی 2 کروڑ روپے کی لاگت سے کھدائی کا تاریخی مرحلہ دیکھنے کو ملا ،جب ڈاکٹر رفیق مغل اپنی آرکیالوجی ٹیم سابق کمشنر بہاولپور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور کے ساتھ مل کر سرائیکی وسیب کی عالمگیر قدامت کا گہوارہ شہر گنویری والا کی کھدائی کا آغاز کیا۔

    راقم الحروف نے اپنے آرکیالوجسٹ دوست اعجاز الرحمن بلوچ اور جام غلام یاسین لاڑ کے ساتھ 2022ء میں اس مقام کا دورہ کیا۔جہاں برجی گنویری والا کی مخصوص شکل کو دیکھا گیا۔ڈاکٹر رفیق مغل نے اپنے تھیسس کے ذریعے ثابت کیا کہ گنویری والا شہر روہی چولستان کی اپنی مقامی تہذیب کا حصہ ہے اور یہ تمدن باہر سے نہیں آئی بلکہ مقامی طور پر پروان چڑھی۔

    روہی چولستان کے قدیم تاریخی تمدنی سات ہزار سالہ شہر گنویری والا کی عظمت کی بنیاد پر ہی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کو وادی سندھ تہذیب و تمدن کی ماں مانا گیا ہے۔دنیا کی اہم تہذیبوں میں وادی نیل کی مصری اہرامی تہذیب وتمدن اور وادی دجلہ و فرات کی میسوپوٹیمیا سمیرین تہذیب وتمدن کو وادی سندھ تہذیب وتمدن کا ہم عصر مانا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    گنویری والا: ہڑپہ وموہنجودڑو سے بھی قدیم سات ہزار سالہ سرائیکی تہذیب کا مرکز(پہلی قسط)
    تاہم بیل گاڑی،مہریں،مٹی کے برتن،ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں
    ،زیورات،زراعت کے اوزار اور دستکاریوں کے قدیم تاریخی شواہد نے سرائیکی علاقے روہی چولستان کے بہاولپوری ثقافتی شہر گنویری والا کو سات ہزار سال پرانا شہر تسلیم کیا ہے۔

    مختلف میڈیا رپورٹس اور ادارہ آرکیالوجی پاکستان کی پریس ریلیز کے مطابق گنویری والا سات ہزار سال پرانا شہر ہے۔پاکستان کے مایہ ناز پہلے آرکیالوجسٹ ڈاکٹر رفیق مغل کی ریسرچ کے مطابق وادی سندھ تہذیب و تمدن کی بنیاد ابتدائی ہڑپائی تمدن (2500 سے 3200 قبل مسیح) کے ساتھ دریائے ہاکڑہ سرسوتی تہذیب و تمدن کے شہر گنویری والا پر پروان چڑھی۔

    آرکیالوجی تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ قدیم افغانستان سے ملنے والے انسانی زیورات اور گنویری والا سے دریافت ہونے والے نمونے ایک جیسے ہیں۔اس عظیم تہذیب کے لوگوں کی دستکاریوں کے قدیم شاہکار تجارت کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک رسائی حاصل کی۔

    چولستان روہی اور سرائیکی وسیب کی اس منفرد تہذیب کے وارث شہر کو قدیم تہذیبی ارتقاء کے اعتبار سے ابنِ حنیف کی کتاب "سات دریاؤں کی سرزمین” (فکشن ہاؤس لاہور، اول 1997ء، دوم 2017ء) میں نمایاں مقام دیا گیا ہے۔اس کتاب کے صفحہ نمبر 27 پر ڈاکٹر رفیق مغل کی 1974ء سے 1977ء کے دوران موسم سرما میں چولستان وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب کے چار دوروں کا ذکر موجود ہے۔

    رگ وید سنسکرت زبان میں دریائے سرسوتی ندی کی عظمت کا خوبصورت تذکرہ موجود ہے،جو اس تہذیب کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔رگ وید میں مقدس سرسوتی سرائیکی ندی کی شان میں بھجن، جسے سرائیکی شاعر و محقق ڈاکٹر نصراللہ خان ناصر نے اپنی کتاب "سرائیکی شاعری دا ارتقاء” کے صفحہ نمبر 28 پر درج کیا۔اس طرح ہے:

    سرسوتی امدی ہے شور و غل کریندی ہوئی
    غذا گھن تے اساڈے کیتے حصن حصین ہے۔

    آریہ قوم نے سنسکرت زبان میں مقدس ویدک لٹریچر جیسے رگ وید میں مقدس ندی دریائے سرسوتی کے علاوہ دریائے سندھ، ستلج، چناب، بیاس، راوی، جہلم، گنگا، جمنا دیوتاؤں اور دریاؤں کی شان میں قصیدے لکھے۔

    ڈاکٹر رفیق مغل نے چولستان میں 424 قدیم بستیاں دریافت کیں۔بیٹی وادی سندھ تہذیب و تمدن جو دراصل ماں وادی ہاکڑہ سرسوتی گھارا، گھاگھرا تہذیب و تمدن کی کوکھ سے پیدا ہوئی، اس کی آغوش میں پلی بڑھی۔ ہاکڑہ چولستان تمدن کو 3000/4000 قبل مسیح کا عہد کہا گیا ہے اور اسے پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے.
    1۔ قبل از ہڑپائی دور (3000/2500 ق م)
    2۔ ہاکڑہ دور (3000/3500 ق م)
    3۔ ابتدائی ہڑپائی دور (2500/3200 ق م)
    4۔ عروج یافتہ ہڑپائی دور (2000/2500 ق م)
    5۔ متاخر ہڑپائی دور (1800 ق م)

    روہی چولستان کے قدیم تہذیبی و تمدنی باقیات اولین انسانی شعور کی بنیادیں ہیں۔ڈاکٹر رفیق مغل کے تحقیقی کام کو غیر ملکی ماہرین آثارِ قدیمہ میں پنسلوانیا یونیورسٹی آف امریکہ کے لوئی فیم،ڈیلز،شیفر، مارشیا،میڈو، لیمبرگ اور کارلووسکی نےقدر کی نگاہ سے دیکھا ہے۔مصنف صدیق طاہر کی روہی چولستان کی قدامت پر "وادی ہاکڑہ اور اس کے آثارِ قدیمہ” کے نام سے ایک بہترین کتاب الگ پہچان رکھتی ہے۔

    سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن میں کھلے گھر،نکاسی آب کا انتظام، لباس و زیورات کا شوق، واش رومز اور دیگر دستکاریوں کا ہنر ان کی روزمرہ زندگی گزارنے کا مضبوط ثقافتی اور تاریخی شاندار قصہ ہے۔مجسمہ سازی، کوزہ گری،کانسی کے بت چولستانی تمدنی ثقافتی اقدار کے عروج کی گواہی دیتے ہیں۔

    سابق خوشحال ریاست بہاولپور کے نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم رحمۃ اللہ علیہ کی اولاد میں پرنس میاں عثمان داؤد خان عباسی (سابق ڈپٹی اسپیکر صوبائی اسمبلی پنجاب) کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود 1974ء میں چھ ہزار سال قدیم روہی چولستان، گنویری والا سمیت چولستانی تہذیب و تمدن کے آثار کی کھدائی کے لیے پراجیکٹ منظور کرایا۔ لیکن بعد میں وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے عہد میں چولستانی قدیم تاریخی تہذیب و تمدن کی کھدائی کے منصوبے بند کر دیے گئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ چولستان سے کچھ قیمتی قدیم نوادرات،جن میں مٹی کے برتن،ہار سنگھار کے نقش،مہریں،سکے وغیرہ شامل ہیں،میرے ایک دوست فرنچ ماہرِ آثارِ قدیمہ نے چولستانی پرانے تہذیبی مقامات سےحاصل کیے۔پھر چند ماہ بعد رپورٹ بھجوائی، جس کے مطابق ان اشیاء کی قدامت 6000 چھ ہزار سال قدیم بتائی گئی۔

    میں نے خود (راقم الحروف)ان سے اپنے تھیسز بعنوان مقالہ پی ایچ ڈی شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان)”سرائیکی لوک قصے اتے چولستانی قصے دے اثرات ” عید الفطر کے موقع پر سال 2021ء میں ملاقات کے دوران معلومات حاصل کیں۔مقامی روہیلے چولستانی کہتے ہیں کہ شدید بارش کے موسم میں قلعوں اور قدیم کھنڈرات میں سے لوگوں کو قیمتی اشیاء ملتی ہیں۔ریسرچ رپورٹ کے مطابق ایک سینگ والے جانور کی مورتیاں بھی ملی ہیں۔

    گنویری والا شہر 80 ہیکٹر پر پھیلا ہوا ہے۔روہیلے اس اجڑے ٹھیڑھ کو کالا پہاڑ بھی کہتے ہیں۔جو ایک وقت میں دریائے سرسوتی ندی کے کنارے آباد تھا۔ یہ شہر ہڑپہ سے بڑا ہے۔مگر موہنجو داڑو سے چھوٹا ہے۔ دونوں قدیم شہر کے درمیان کا شہر گنویری والا چولستان لگ بھگ ہڑپہ سے 260 کلومیٹر جب کہ موہنجو داڑو سے 340 کلومیٹر دور ہے۔

    جو قومیں اپنے قدیم تاریخی تہذیبی ورثے کی حفاظت کرتی ہیں۔وہی دنیا میں ترقی یافتہ قومیں تصور کی جاتیں ہیں۔ چولستان روہی سرائیکی ڈویژن بہاولپور میں تقریباً 500 قدیم تاریخی آرکیالوجی سائٹس ہیں۔ سرائیکی ریاست بہاولپور جس کو محلوں کا خوبصورت شاندار جدید تاریخی شہر بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے ریگستان چولستان میں 19 تاریخی بوسیدہ قلعے اپنے وارثوں کو اپنی تزئین و آرائش اور بقاء کے لیے مٹی کے بوسیدہ در و دیواروں سے فریاد کر رہے ہیں۔
    جاری ہے

  • گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز (پہلی قسط)

    گنویری والا: ہڑپہ و موہنجودڑو سے بھی قدیم سرائیکی تہذیب کا مرکز
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    خلاصہ :یہ آرٹیکل سرائیکی خطے کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے قدیم ہے، وادی ہاکڑہ کے کنارے واقع ایک عظیم تاریخی مرکز رہا ہے۔ آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت بیان کی گئی ہے، جو قدیم تہذیبوں اور تمدن کے مطالعے کا ذریعہ ہے اور یہ آرٹیکل تین اقساط پر مشتمل ہے .

    پہلی قسط کا خلاصہ
    سرائیکی وسیب کی قدیم تہذیب و تمدن، خاص طور پر گنویری والا شہر، تاریخی، ثقافتی، اور آثارِ قدیمہ کے حوالے سے غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ گنویری والا، جو ہڑپہ اور موہنجودڑو سے بھی قدیم ہے، سرائیکی خطے کے تاریخی ورثے کی شناخت کا مرکز ہے۔
    آرٹیکل میں علم آثار قدیمہ کی اہمیت، سرائیکی وسیب کے تاریخی پس منظر، گمشدہ شہروں کی دریافت، اور ان کی ثقافتی و تمدنی اقدار کو اجاگر کیا گیا ہے۔ وادی ہاکڑہ اور گنویری والا کی کھدائی سے حاصل ہونے والی معلومات نہ صرف ماضی کی تہذیب کی عکاسی کرتی ہیں بلکہ اس خطے کی موجودہ شناخت اور ترقی کے لیے تحقیق اور تحفظ کی ضرورت پر بھی زور دیتی ہیں۔
    یہ قسط علم، تحقیق، اور ورثے کی حفاظت کی اہمیت پر روشنی ڈالتی ہے، جبکہ سرائیکی وسیب کے امن، محبت، اور ثقافتی اقدار کو اجاگر کرتی ہے۔

    پہلی قسط

    علم آثارقدیمہ کی ریسرچ تھیوری سے سرائیکی قدیم تہذیب وتمدن کا تاریخی پس منظر اور اہمیت
    تحقیق کا مطلب عشق و محبت کی وہ قیمت ہے جو قدیم بوسیدہ کتابوں کے اوراق پر چھپی مٹی کی خوشبو، نیند کی قربانیوں اور صحرائے چولستان کی نہ ختم ہونے والی تپتی ریت پر پوشیدہ قیمتی خزانوں کی تلاش میں ادا کی جاتی ہے۔ غور و فکر اور فلاح انسانیت کا فلسفہ تمام مذاہب کا مشترکہ پیغام ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے بے شمار راز آسمان و زمین میں پوشیدہ رکھے ہیں اور علم ان رازوں کو سمجھنے کا اعلی ترین ذریعہ ہے۔علم کے تین حروف میں "ع” عشق، "ل” لطافت اور "م” محبت کی علامت ہیں۔

    قرآن مجید رب العالمین کا زندہ معجزہ ہے جو علم وعرفان اور حکمت کا سرچشمہ ہے۔اللہ تعالیٰ کے پاک فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ علم کی طلب رکھنے والے اور اس سے منہ موڑنے والے برابر نہیں ہو سکتے۔علم کے متلاشی زندہ دل ہیں جبکہ علم سے غافل افراد گویا مردہ ہیں۔نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: "علم مومن کی گمشدہ میراث ہے، جہاں سے ملے اسے حاصل کرو۔” یہ فرمان اپنی بےمثال جامعیت اور حکمت کے سبب رحمت العالمین کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

    "آثار قدیمہ” یا "آرکیالوجی” وہ علم ہے جو بطنِ زمین میں دفن قدیم تہذیبوں، گمشدہ شہروں اور ان کے آثار کو منظر عام پر لاتا ہے۔ آثار قدیمہ کے مطالعے سے ہمیں ماضی کی تہذیب، تمدن،تاریخ،ادب،فنون، رہن سہن،وصیت نصحیت، پالیسی، عملی حکمت و دانش،زبان، روایات اور رسم و رواج کا علم ہوتا ہے۔ ان دریافتوں میں سکّے، کھنڈرات، مٹی کے برتن، پتھروں کی تختیاں، مخطوطات، ہڈیاں، مجسمے، زیورات، اوزار، اور دیگر قیمتی نوادرات شامل ہیں۔ اسی لیے آرکیالوجی کو تمام علوم کی ماں کہا جاتا ہے۔

    سرائیکی وسیب میں روہی چولستان کی وادی ہاکڑہ جو ہزاروں سال پرانی تہذیب اور تمدن کا مرکز رہا ہے، ایک اہم آثار قدیمہ کی جگہ ہے۔ گمشدہ شہر "گنویری والا” اسی وادی کا ابتدائی حصہ ہے، جو قدیم دریائے سرسوتی کے میٹھے پانی سے سیراب ہوتا تھا۔ معروف محقق اور دانشور سید نور الحسن ضامن بخاری احمدپوری نے اپنی کتاب معارف سرائیکی میں اس جگہ کو قرآن مجید کی سورۃ الفرقان میں مذکور "اصحاب الرس” کے مقام سے منسلک کیا ہے۔

    قرآن مجید میں ذکر کی گئی مختلف اقوام کے عروج و زوال کے قصے آج بھی ہمیں حقیقت کی طرف لے جاتے ہیں۔ گنویری والا، جو اب خاموشی سے زمین کے نیچے دفن ہے، قلعہ ڈیراور سے تقریباً 55 کلومیٹر جنوب مغرب کی جانب واقع ہے۔یہ مقام اپنی تاریخی تہذیبی،تمدنی اور ثقافتی اقدار کے خزانے کے ساتھ آج بھی تحقیق کا منتظر ہے اور موجودہ چولستانی جیپ ریلی کا مرکز ہونے کی وجہ سے دنیا کی توجہ کا محور بنتا جا رہا ہے۔

    گنویری والا شہر کے حوالے سے یہ معلومات قابل ذکر ہیں کہ اس کا پہلی بار ذکر آرکیالوجسٹ سر آئرل سٹین نے 1941ء میں کیا۔انہوں نے موہنجوداڑو، ہڑپہ،رحمان ڈھیری، پتن منارہ، قلعہ ڈیراور، بی بی جند وڈی کا مقبرہ، قلعہ بل اوٹ، سوئی وہاڑ، جلیل پور، مہرگڑھ، اوچ، ملتان اور پاکستان بھر کے آثار قدیمہ کی ابتدائی کھدائی کے پراجیکٹس میں حوالہ دیا۔

    سرائیکی خطے کے قدیم چولستانی حکمران راجپوت قبائل کے بارے میں ایک کہاوت عام ہے جس میں آٹھ قوموں کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ قومیں آج بھی دریائے سندھ کے دونوں کناروں اور روہی میں آباد ہیں۔تاریخی کتب میں درج ہے کہ سکندر مقدونی کو ملتان میں "خونی برج” کے مقام پر سرائیکی ملہی قوم کے ایک بہادر سپہ سالار نے زہریلے خنجر یا تیر سے شدید زخمی کیا، جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوا۔

    سرائیکی وسیب آج بھی صوفی ازم، امن، اور زراعت کے لحاظ سے مالا مال ہے۔اس کی معاشی خوشحالی حملہ آوروں کے لیے قبضہ گیری اور قتل گاہ ثابت ہوئی۔ ملتان شہر کی تاریخی تہذیب کے حوالے سے سرائیکی کہاوت مشہور ہے: "جئیں نہ ڈٹھا ملتان نہ او ہندو نہ او مسلمان۔” اردو کی ایک مشہور ضرب المثل بھی ملتان کی اہمیت بیان کرتی ہے: "آگرہ اگر، دلی مگر، ملتان سب کا پدر۔”

    روہی چولستان، دمان، تھل اور راوا جیسے علاقے سرائیکی وسیب کی چھ سے سات ہزار سال پرانی تہذیب کی گواہی دیتے ہیں۔امن، محبت،اتحاد،عدم تشدد،تصوف،خلوص،فطرت سے پیار،احترام آدمیت،مٹھاس،برداشت،صبروتحمل،فنونِ لطیفہ سے عشق،دستکاری اور ہنر مندی اس خطے کے اہم موضوعات اور نمایاں خصوصیات ہیں۔

    سرائیکی قدیم چولستانی حکمرانوں کے حوالے سے ایک مشہور کہاوت کا نمونہ ملاحظہ کریں"جہاں اتحاد، بہادری اور خلوص ہو، وہاں عظیم قومیں جنم لیتی ہیں۔”

    سنگلی جنہاں دی ڈاڈی سوڈھی جنہاں دی ماء
    ملہی جنڑے پنج پتر ڈاھر،بھٹہ،لنگاہ،نائچ، شجراء

    آج کا روہی چولستان سرائیکی وسیب ایک مرتبہ پھر دنیا کو امن و رواداری،معاشی خوشحالی،تعمیر نو اور ترقی کی ضمانت دینے کا خوبصورت گیت گا کر سنا رہا ہے۔روہی چولستان گنویری والا شہر کی بنیادی تہذیب وتمدن سرائیکی وسیب کی اپنی ہے۔یہ تہذیب باہر سے آکر آباد نہیں ہوئی ہے۔
    جاری ہے۔

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،چوتھی قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ چار اقساط پر مشتمل اس سلسلے میں سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں،رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالی گئی ۔
    اس سلسلہ کی چوتھی اور آخری قسط

    چولستان کے چیلنجز،ماحولیاتی مسائل اور ثقافتی بقا
    سرسبز گرین پاکستان کا حسین خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے روہی چولستان کی انسانی،حیوانی اور نباتاتی خوشحالی اور تعمیر نو سے سرائیکی مقامی آبادی معاشی ترقی حاصل کرے گی۔چولستانی دستکاریوں میں اونٹ کی کھال سے تیار کردہ اشیاء،کھجور کے پتوں کی بُنائی سے خوبصورت قابل استعمال گھریلو چیزیں اور ریت سے بنے گلدان شامل ہیں۔مقامی فنون میں چراغوں پر مصوری اور شطرنج کے بورڈز خاص اہمیت رکھتے ہیں۔پانی کی تقسیم اور اونٹنیوں کی گود بھرائی جیسے منفرد تہوار اس علاقے کے عوامی اتحاد اور ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔

    سرائیکی سابق خوشحال ریاست بہاولپور کا خوبصورت روہی چولستان کا رقبہ تین اضلاع بہاول نگر،بہاولپور اور رحیم یار خان موجود بہاولپور ڈویژن پر مشتمل ہے۔روہی چولستان کا کل رقبہ تقریبا ننانوے لاکھ 9900000 میں قابل استعمال رقبہ 25 فیصد ہے۔باقی 75 فیصد رقبہ ناقابل کاشت ہے۔صحرائے چولستان کو دو بڑے حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔چھوٹی روہی اور بڑی روہی کے نام سے جانا جاتاہے۔

    سرسبز گرین پاکستان اور خوشحال چولستان کے لیے مقامی سرائیکی روہیلوں کی مستقل دیرپا رہائش اور قدرتی وسائل و اثاثہ جات کی حفاظت کے لیے مستقل بنیادوں پر حکمت عملی بنانا ہوگی۔چند گزارشات سے روہی چولستان دھرتی کو سرسبز قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

    1۔بڑی روہی سے چھوٹی روہی کے درمیان سڑکوں کا جال بچھانا ہوگا۔مقامی سطح پر ثقافتی ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے ۔
    2۔مقامی سرائیکی روہیلوں کو مالکانہ حقوق دینا ہوگے۔
    3۔فوڈز انڈسٹری قائم کرنا ہوگی۔
    ویٹرنری شفاخانہ ویکسین کی بروقت فراہمی یقینی بنانا ہوگی۔
    4۔چکنی مٹی والے ڈاہروں پر نئے پختہ ٹوبھے تعمیر کرنا ہوں گے۔
    5۔چولستان کا زیر زمین کڑوا سمندری پانی میں ماہی پروری کو فروغ دینا ہوگا۔

    6۔قیمتی جڑی بوٹیوں اور معدنیات کے وسائل سے فوائد حاصل کرنے کے لیے چولستان ترقیاتی ادارہ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور چولستان ریسرچ ادارہ، بارانی ریسرچ سنٹر،ایگری ریسرچ سنٹر سب کی ایک مشترکہ ریسرچ ورک کونسل قائم کرنا ہوگی۔
    7۔سبز چارہ کے لیے اور حیوانات کی بقاء کے لیے جدید ٹیکنالوجی ادارے قائم کرنا ہوں گے۔
    8۔موسم حریف میں جوار، باجرہ،گوار،تل،سوہانجناہ،ماش دال،پیاز،مرچ،بیر،پیلھوں،پنڈ کھجور اسپغول کو جبکہ موسم ربیع میں سرسوں،رایا،توڑی کی فصلوں کو فروغ دیا جائے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہو۔

    9۔سیلاب کے دوران پانی کی رسائی کو چولستان تک پہنچاکر پانی کے میٹھے ذرائع میں بے پناہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
    10۔خشک سالی کے دوران ٹینکرز کے ذریعے پانی کی بروقت فراہمی سے روہیلوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کو بچایا جا سکتا ہے۔
    11۔سخت دھوپ سے سولر انرجی چولستان کے وسیع میدانوں سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
    12۔چولستانی روہی کی ریت سے بہترین سلیکا حاصل کیا جاسکتا ہے۔

    13۔چھ سے سات ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے آثار قدیمہ سے قیمتی خزانوں سے مالامال نوادرات کو حاصل کرکے اقوام متحدہ اداروں کی توجہ اور معاشی امداد حاصل کی جاسکتی ہے۔
    14۔قلعہ ڈیراور،گنویری والا،پتن منارہ،دیگر پرانے گمشدہ محلوں اور قلعوں کی تزئین و آرائش سے سیاحت کو فروغ دے کر زرمبادلہ میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

    خواجہ فرید سئیں کی خوبصورت روہی کی خوشحالی کے لئے ٹوبھوں کی تعمیر نو کی شدید خواہش دراصل سرائیکی وسیب میں معاشی ترقی کا خواب حقیقت کا ادراک نئے صوبے کا قیام ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تیسری قسط قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    سرائیکی علاقے کی معاشی خوشحالی پاکستان کی بقائے معیشت ہے۔دیوان فرید سرائیکی دراصل سرائیکی خطے راوا،تھل دمان پہاڑ اور روحانی روہی چولستان سے بھریل لسانی و سماجی ورثے کا خوبصورت خزانہ ہے۔سرائیکی قوم کے صحیفے کی حیثیت رکھتا ہے۔روہی سرائیکی قوم کے لیے پریم نگر ہے۔کلام فرید میں حسین رہتل ثقافتی رنگوں کے منفرد نمونے ملاحظہ فرمائیں۔

    ٹوبھا کھٹا ڈے سوہنی جا تاڑ تے
    اوجھا نہ ہووے ساری ماڑ تے

    سوہنے یار باجھوں میڈی نئیں سردی
    تانگھ آوے ودھدی، سک آوے چڑھدی

    پورب للہاوے تے پتالوں پانی آوے

    کیسر بھنڑی چولی چنری
    ول ول مینہہ پساوے
    پورب ماڑ ڈکھن دے بادل
    کوئی آوے کوئی جاوے

    روہی رنگ رنگیلی
    چک کھپ ہار حمیلاں پاوے
    بوٹے بوٹے گھنڈ سہاگوں
    گیت پرم دے گاوے

    پردیسی یارا وا پورب دی گھلے
    ساون مینہ برسات دی واری
    پھوگ پھلی کھپ پھلے
    گاجاں گجکن بجلیاں لسکن
    ذوقوں دلڑی چلے
    چتر سہاگ دا جھلے
    جئے تیئں پانی پلہر نہ کھٹسی
    کون بھلا سندھ جلے

    درد فرید ہمیشہ ہووے
    سارے پاپ دوئی دے دھووے

    تھل چترانگ اندر میں سسی
    بیلیں بیٹیں ہیر

    ساون مینگھ ملہاراں
    سہجوں تھلڑیں مال نہ ماوے
    پیسوں پانی دھاروں دھاری
    ڈیسوں جھوک تراوے

    بدلے دردوں روون
    بجلی اکھ مارے مسکاوے

    کن من کنیاں رم رجھم بادل
    بارش برکے برکے وو!
    کر یار اساں ول آون دی
    اج سہج کنوں اکھ پھرکے وو!

    پریم نگر ہے دیس تمہارا
    پھرتے کہاں اداسی رے

    چولستان روہی کی شاندار رنگ رنگیلی تہذیبی منفرد رسمیں اور اشیاء نہ صرف ان علاقوں کی ثقافتی پہچان ہیں۔بلکہ قدیم سرائیکی ڈیراوری باسیوں کی تخلیقی اختراعات،صلاحیتوں،خوبیوں،صبر و استقامت،امن ومحبت،الگ شناخت کی اعلی مثالیں بھی ہیں۔ان قدیم رسوم و رواج،ریت و روایات اور دستکاریوں کو محفوظ بنانے اور فروغ دینے سے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو مضبوطی ملے گی اور فنون لطیفہ کے ہیرٹیج سٹی میں بھی بلند مقام حاصل ہوگا.

    اقوام متحدہ کے آرٹ اینڈ کلچر،آرکیالوجی اداروں کو سرائیکی وسیب کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کے اہم ثقافتی ورثے کے پاسبان شہر گنویری والا جو وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ہڑپہ و موہنجوداڑو کے درمیان کا شہر ہے۔یہاں میوزیم قائم کرنے سے روہی کے قلعہ ڈیراور سمیت قلعوں سے جڑی ثقافتی ورثے کی حفاظت ممکن ہوگی۔نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم ہونے سے بچ جائے گی۔

    آئے مست ڈیہاڑے ساون دے
    وہ ساون دے من بھاون دے
    بدلے پورب ماڑ ڈکھن دے
    کجلے بھورے سو سو ونڑ دے
    چارے طرفوں زور پونڑ دے
    سارے جوڑ وساونڑ دے
    (خواجہ فرید)

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب  کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،تیسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی تیسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی رسوم و رواج،کلام فرید میں روہی کی منفرد رنگینی،تہوار اور روایات
    قسط کا خلاصہ:
    چولستان کی شادمانی،خوشی و غمی تقریبات ثقافتی رنگوں سے مزین رسم و رواج سے بھرپور ہیں۔جن میں جھمر رقص،اجرک اور چنئی کے رنگ،رات کی چاندنی کے لطیف جذبوں کی محفل موسیقی،سرائیکی مہان کلاسک اول و آخر قادر الکلام شاعر خواجہ فرید کی کافیوں میں راگوں کی پر ترنم سوز گائیکی کے میلے،کھیلوں سے جنون کی حد تک لگاو،ثقافتی قدیمی تہذیبی تہوار مقامی ثقافت کی دلکش مضبوطی کو ظاہر کرتی ہیں۔دلہن کی رخصتی،دولہا کی سہرا بندی اور صدقہ و خیرات کی روایات آج بھی برقرار ہیں۔گویاچولستانی روہیلا فطرت سے جڑی خوشی میں ایسے رقص جھمر کرتا ہے۔جیسے بارش رم جھم مینہ برساتی ہے۔ریت ناچتی ہے اور کترن کی خوشبو بن کر کالے ہرن کی طرح آزاد دوڑتی روہی کو محبت و پیار کا گیت سناتی ہے۔

    تیسری قسط
    انسان نے خوشیوں کے ایک ایک کے لمحے کو رسم و رواج کا نام دے کر زندگی میں دکھوں سے لڑنے کی حکمت عملی بنائی ہے۔بارات کے لیے اونٹوں کے کچاوے کی رسم بھی چولستان روہی تھل کا اظہار مسرت و شادمانی ہے۔شادی بیاہ کے موقع پر بارات کو خاص انداز میں اونٹوں کے ذریعے لے جایا جاتا ہے۔جدید فیشن و رواج کی سہولت ٹریکٹر ٹرالی پر جنج کا منظر اپنا رنگین ثقافتی جہاں رکھتا ہے۔اونٹوں کو روایتی زیورات،چمکدار کپڑوں اور کچاوے سے سجایا جاتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    یہ منظر نہایت دلکش اور ثقافتی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ پورے علاقے میں خوشی اور مسرت کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ سرائیکی دیوان خواجہ غلام فرید روہی چولستان سرائیکی سماجیات کا خوبصورت خزانہ ہے۔جس میں فطرت سے عشق کا فلسفہ ہے۔روہی عاشق کے لیے وصال یار بہشت ہے۔روہی حسین جمیل خوبصورت نازک نازو جٹی جنت کی حور عین بشارت ہے۔رات کی روح صبح صادق سے شام تک صحرائے چولستان کی تپتی ریت پر محبت کے گیتوں سے روہی کے سبزہ سیراب مال مویشی کے سفید دودھ سے مکھن اور لسی اپنے نرم نازک ہاتھوں سے اپنے محبوب کی پیاس کی شدت کو مساوی کرتی ہے۔ان کے کلام آفاقیت میں حسن وجمال روہی واضح ہے۔

    اے روہی یار ملاوڑی وے
    شالا ہووے ہر دم ساوڑی وے
    ونج پیسوں لسڑی گاوڑی وے
    گھن اپنے سوہنے سئیں کنوں

    وچ روہی دے راہندیاں
    نازک نازو جٹیاں
    راتیں کرن شکار دلیں کوں
    ڈینہیاں ولورڑن مٹیاں

    ریت مٹی کی عبادت کی رسم چولستان کے صحرائی لوگوں کی زندگی میں سختیوں کے باوجود اس کی خوبصورتی اور قدرتی وسائل کا احترام کرنے کے مترادف ہے۔ریت کی عبادت ایک علامتی رسم ہے۔جس میں دعا اور شکرانے کے کلمات شامل ہوتے ہیں۔دھرتی ماں سے محبت و عقیدہ کا استعارہ ہے۔رات کا شکار یہ ایک پرانی روایت ہے جس میں مقامی لوگ مکمل تاریکی میں شکار کرتے ہیں۔اس فن میں مہارت حاصل کرنے کے لیے صبر،چالاکی اور ٹیم ورک کی ضرورت ہوتی ہے۔

    منفرد چولستانی وسائل سے اشیاء بنانا روایتی فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔اونٹ کی کھال پر نقش و نگار فن کا کمال حیرت انگیز مظہر ہے۔اونٹ کی کھال پر ہاتھ سے بنائے گئے نقش و نگار چولستان کی خاص دستکاری ہے۔ان کھالوں سے جوتے، تھیلےاور دیگر اشیاء تیار کی جاتی ہیں۔ریتیلا گلدان بھی جھوک فرید روہی کے خوبصورت حسن کی عکاسی ہے۔صحرا کی ریت کو مٹی کے ساتھ ملا کر منفرد گلدان بنائے جاتے ہیں۔یہ گلدان اپنے مخصوص ڈیزائن اور استحکام کے باعث بہت پسند کیے جاتے ہیں۔

    کھجور کے پتوں سے مخصوص طریقے سے بُن کر مضبوط رسی تیار کی جاتی ہے۔ جو زراعت اور روزمرہ زندگی میں استعمال ہوتی ہے۔ریت کے مصوری والے چراغ بھی کمال ہنر کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔یہ چراغ مٹی اور ریت کے مرکب سے بنائے جاتے ہیں۔ ان پر مختلف پھولدار مناظر اور نقش و نگار ہاتھ سے بنائے جاتے ہیں۔یہ چراغ نہ صرف روشنی بلکہ ثقافتی خوبصورتی کا ذریعہ بھی ہیں۔چولستانی خوشبو جس میں قدرتی جڑی بوٹی کترن کو دنیا بھر میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

    روہیلے چولستانی اپنی ثقافتی زندگی میں ریت، ریت کی مٹی سے جڑی ہر خوشی اس کے وادی جنت نظیر کشمیر ہے۔روہی کی روح پانی مینہ بارش ہے۔خواجہ فرید سئیں نے روہی کی دلکش سرزمین کو اپنے لازوال کلام آفاقیت سے خوبصورت تخلیق کیا ہے۔سردی ہو یا گرمی صحرائے ریگستان کے سادہ،خلوص و نفیس مٹھاس بھرے لوگوں کے لیے موسم برسات،ساون کا مہینہ دراصل موسم بہار سہاگ ہے۔عید کا سماں ہے۔خواجہ فرید کا سرائیکی روہی رنگ ملاحظہ فرمائیں۔

    ساون ڈینہہ سہاگ دے
    ہر دم مینگھ ملہار
    رل کر ساتھ گزاروں
    جوبھن دے دن چار

    ساون وقت سہاگ دے
    رم رجھم برسن بادل
    بٹھ پئے ہجر دے ڈینہڑے
    عمر گزاروں رل رل

    ساون مینگھ ملہاراں
    ترس پووی پنل آ موڑ مہاراں

    اغن پپہیے کرن بلارے
    رس کوئل کوک سنائی
    ملک ملہیر وسایم مولا
    سبھ گل پھل خنکی چائی
    رل مل سیاں ڈیون مبارک
    مد بھاگ سہاگ دی آئی
    مدتاں پچھے رانجھن ملیا
    رب اجڑی جھوک وسائی

    چولستان وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن چھ ہزار سال قدیم تاریخی ثقافتی ورثے کی محفوظ ہے۔چند میڈیا رپورٹس پر سات ہزار سال پرانی سرسوتی تہذیب وتمدن بھی کہا جارہا ہے۔اس پہلی مرتبہ 1975ء میں ڈائریکٹر آثارقدیمہ ریسرچر ڈاکٹر رفیق مغل نے کھدائی کے دوران انکشاف کیا۔چولستان کا قدیم ترین قومی ورثہ،آج کا فنون لطیفہ،روہیلوں کی ہنرمندی چولستان کی مال مویشی پال منڈی پاکستان کی معاشی خوشحالی میں اہم کردار ادا کررہی ہے۔

    روہی میں طرح طرح کی جڑی بوٹیوں اور اونٹ کے دودھ کے ذریعے تیار کی جانے والی خوشبو مقامی لوگوں کی روایت کا حصہ ہے۔یہ خوشبو نہ صرف منفرد ہے بلکہ اسے شفا بخش بھی سمجھا جاتا ہے۔چولستان کے روایتی کمبلوں پر صحرا کے مناظر، اونٹ اور مقامی زندگی کے عکس بُنائی کے ذریعے پیش کیے جاتے ہیں۔خواجہ فرید سئیں روہی میں اپنی رہائش گاہ کے لئے گوپہ جھوپڑی کے لیے کھکھ کانے، لائی،لانڑے،کھپ کا استعمال کررہے ہیں۔مقامی روایتی ثقافتی دستکاری کی افادیت بتا رہے ہیں۔

    جھوپڑ جوڑ بنیسوں کھپ دے
    تھل دے صاف پساڑ تے

    یہ دستکاری روایتی فنون کی عکاسی کرتی ہے۔ریت سے بنے گیم بورڈ روہی کھیلوں میں خاص اہمیت کے حامل ہیں۔صحرا کی ریت اور مٹی سے تیار کردہ شطرنج اور لڈو کے بورڈ منفرد فن کا شاہکار ہیں۔یہ نہ صرف کھیل کے لیے استعمال ہوتے ہیں بلکہ خوبصورت آرائشی اشیاء کے طور پر بھی پسند کیے جاتے ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی تہوار ایک منفرد اور دلکش ثقافتی رسم و روایت ہے جس میں اونٹنیوں کو شادی بیاہ کی طرز پر سجایا جاتا ہے۔اس میلے میں خاص طور پر اونٹنیوں کی زینت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ جنہیں رنگ برنگے کپڑوں،جھالر دار گھنٹیوں اور خوبصورت زیورات سے آراستہ کیا جاتا ہے۔میلہ مقامی لوگوں کے لیے نہ صرف تفریح کا باعث ہوتا ہے بلکہ یہ اونٹوں کے مالکان کے لیے اپنی مہارت اور اونٹوں کی خوبصورتی کا مظاہرہ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

    یہ میلہ مختلف ثقافتی سرگرمیوں،موسیقی، روایتی کھانوں اور اونٹوں کی دلچسپ مقابلوں کے ساتھ منایا جاتا ہے۔جہاں دیہاتی اور شہری افراد بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔اس قسم کے میلے دیہی ثقافت کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ سیاحت کو فروغ دینے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔اونٹ کے دودھ کا پاؤڈر روایتی طریقے سے اونٹ کے دودھ کو خشک کرکے پاؤڈر بنایا جاتا ہے جو مقامی لوگ غذائی اور طبی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ پاؤڈر معدے کی بیماریوں کے لیے مفید سمجھا جاتا ہے۔پانی سے سبزہ لہلہاتی چہل پہل زندگی خوبصورت وادی ہے۔اگر پانی نہیں ٹوبھے خشک اور قحط سالی کا بیاباں منظر ہوتاہے۔خواجہ فرید سئیں کے لیے روہی چولستان کی زندگی ایک طرف خوشی کا اسباب ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال غموں کا خوبصورت جہاں ہے۔تخیلاتی قوت کا رنگ نہایت عمدہ ہے۔

    میڈا خوشیاں دا اسباب وی توں
    میڈا سولاں دا سامان وی توں

    جاری ہے

  • قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ،دوسری قسط

    قدیم چولستان : سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    تحقیق و تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قارئین کرام !اس مضمون میں قدیم چولستان کی وادی ہاکڑہ اور سرائیکی تہذیب کی منفرد جھلکیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ چار اقساط پر مشتمل سلسلہ سرائیکی ثقافت کی گہرائیوں، رسوم و رواج اور تاریخی ورثے پر روشنی ڈالے گا۔اس کی دوسری قسط ملاحظہ فرمائیں

    سرائیکی ثقافت کی بنیادیں،زبان،موسیقی اور شاعری

    روہی چولستان کے روایتی رسوم میں شادی خوشی کی ریتیں،روہی چولستان امن فرید میلے،جیپ ریلی اور اونٹوں کی ریس جیسی تقریبات میں جھمر رقص،لوک موسیقی اور چولستانی دستکاریوں کی نمائش ثقافت کی روح ہیں۔خواتین کی مہندی کی رسم اور روحانی عقیدت کے مراکز جیسے چنن پیر درگاہ نے مقامی رسوم و رواج کو صدیوں تک زندہ رکھا۔ روہی کے روایتی فنون لطیفہ میں لوک گائیکی، دستی خوبصورت رنگین پنکھوں اور مٹی کے برتنوں،ہینڈی کرافٹ اشیاء کی تیاری نمایاں ہیں۔

    لفظ چولستان کی ایٹمالوجی
    (اشتقاقیات) لسانیات پر غور کریں تو لفظ خالص سرائیکی زبان کی شناخت،ادب ودانش،شعور،فنون لطیفہ،اخلاقی اقدار،تہذیب وتمدن
    ،روایات،رہن سہن رسوم و رواج اور تاریخ کی مکمل ڈکشنری ہے۔سرائیکی میں "چول” کا مطلب ہل چل،چلنا پھرنا،ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا،ستان سے مراد "جگہ” ہے۔گویا چولستان ریت کے ٹیلوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی ہے۔ریت کے پہاڑ کو سرائیکی وسیب میں روہی کہا جاتاہے۔روہی چولستان وسیع عریض الفاظ کی مضبوط ترین لغت ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    قدیم چولستان، سرائیکی تہذیب کے منفرد رنگ
    جو سرائیکی سماجیات کا خوبصورت اظہار،امن و رواداری کا قیمتی خزانہ ہے۔پندھ پندھیرو افراد کے لیے روہی چولستان کا سفر سحر انگیز سرمایہ اور جادونگری ہے۔سرائیکی مہان روہیلا کلاسک شاعر حضرت سفیرؔلشاری سئیں روہی چولستان سرائیکی لوگوں اور اپنے صحرائی ماحول کو شاندار ثقافتی و تمدنی رنگوں میں حسین لفظوں سے زندگی کا خوبصورت روپ دیا ہے۔ان کے مجموعے کلام میں سرائیکی مزاحمتی مزاج، محبت اور دھرتی سے بے پناہ عقیدت کافیوں،نظموں،لوک گیتوں اور ڈوہڑوں کی شکل میں نظر آتی ہے۔ان کے شاندار کلام آفاقیت میں خوبصورت چولستان روہی کے منظر کا نمونہ ملاحظہ فرمائیں۔

    روہی وُٹھڑی مینگھ ملہاراں،سانول موڑ مہاراں
    چھمبھڑ،بندھ تے ݙہریں پاݨی،ٹوبھے تار متاراں

    بکھڑا،ݙودھک،مونیاں،چھپری،ڳنڈھیل،الیٹی
    لمب،اوئیݨ تے دھامݨ،سٹھ پئی نال وساہ ولھیٹی
    ہلڑا،بھرٹ،مرٹ،سٹ لاٹھی،کترݨ،لائین بہاراں

    لاݨے،پھوڳ تے لاݨیاں،کھپوں،کنڈیاں مکاں لایاں
    شاں شاں کرتے شوکن مورے،پینگھے جھوٹن لایاں
    گندلاں وانگوں سیٹوں نکتن،کُھمبیاں غیر شماراں

    وڳ ݙاچیاں دے ،دھݨ ڳائیں دے،بھیݙاں،ٻکریاں چھانگاں
    لیلے ، گابے کھیوے سمدن،ہرن مریندن چھانگاں
    بے فکرے تھی مستیاں دے وچ،ٹُُردن جوڑ قطاراں

    ٹٻیاں تے چڑھ ٻہندن چھیڑو،ونجھلی دے سُر لیندن
    سورٹ،جوگ،پہاڑی ڳاندن،جھوک ݙو مال ولیندن
    اگلاں مار ملاکاں جوجھن،بونگن گھنڈ تنواراں

    ݙیکھݨ لائق نظارا ہوندےمال اچ پوندی ݙوبھی
    کیڑاں نال سݙیندن چھیڑو،اڑی آ ۔۔ ندی ،ٹوبھی
    ناں دی کو تے نند شوکیندن ،کھیر دیاں وہندن دھاراں

    پاݨی وانگوں ݙدھ ورتاون،بچدے جاڳا لاون
    سہجوں سنگ سہیلیاں رل مل ول چا راند مچاون
    کئی پیاں کھیݙن پیر گساواں،کئی رل ڳاون واراں

    دھمی ویلے وقت سہیلے جاڳن سگھڑ سیاݨیاں
    سُتھرے بھانڈے ݙہی پلہارن بہندن گھت مندھاݨیاں
    حق ہو،حق ہو گھومے ݙیون پڑھ پڑھ استغفاراں

    سائیاں ٻاجھوں مال ݙوہیلا ،کئی نی ہتھ پھریندا
    کیندی ٻکری،کون سنبھالے ،ہر کوئی ہے درکیندا
    اپݨی آپ سنبھال سفیرا ،لہہ رل ڳئی دیاں ساراں

    رنگ برنگی رسمیں اور اشیاء چولستان روہی کی شاندار تہذیبی،ثقافتی قدیمی آرٹ اینڈ آرکیالوجی کے نقش و نگار کو اجاگر کرتی ہیں۔پاکستان کے دلکش کلاسک کلچرل ورثے کا اہم سرمایہ اور سرائیکی شناختی حوالہ ہیں۔الگ پہچان کی مشہور ریاست بہاولپور روہی چولستان کی سادہ مٹھاس بھری رسومات،رواج ریتیں اصل میں روایتی ثقافتی ورثےکی شناخت کا زیور ہیں۔اونٹنیوں کی گود بھرائی کا میلہ دراصل روہی کے باسیوں کی آپس میں اتحاد ویکجہتی اور محبت و یقین کا اظہار اور میل میلاپ ہوتا ہے۔یہ رسم چولستان کے مقامی لوگوں کی اونٹنیوں سے گہری وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔گائے،بھیڑ بکریوں اور اونٹ کے مال مویشی کو روہیلے اپنی روزی روٹی کے ذرائع آمدن اور مالی خوشحالی کی ضمانت سمجھتے ہیں۔شادی بیاہ کی طرز پر اونٹنیوں کو مختلف زیورات اور رنگ برنگے کپڑوں سے سجایا جاتا ہے۔اس موقع پر لوک گیت گائے جاتے ہیں اور خواتین خصوصی رقص جھمر پیش کرتی ہیں۔پانی سبزہ اور زندگی کی رونق و شادابی کی علامت جانا جاتا ہے۔پانی کی تقسیم کی رسم میں چولستان صحرائے ریگستان کی اہم ریت رواج اس وجہ سے ہے کہ پانی کی منصفانہ تقسیم سے ہی تمام روہی گلزار بن جاتی ہے۔دلوں میں محبت و پیار کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔صحرائی علاقوں میں پانی کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہاں پانی کی تقسیم ایک مخصوص طریقۂ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ جس میں ہر خاندان کے لیے مساوی حصہ مختص کیا جاتا ہے۔ اس رسم میں برادری کی یکجہتی اور باہمی احترام کو اجاگر کیا جاتا ہے۔

    چاندنی رات کا دلفریب منظر لوک سر سنگیت کی محفل روہیلوں کےلئے نئی امنگ اور خوشی کا سماں پیدا کرتی ہے۔مکمل چاند چودھویں کی رات کو مقامی لوگ کھلے صحرا میں جمع ہوتے ہیں۔اس موقع پر روایتی سازوں جیسے رباب،ہارمونیم اور ڈھول کے ساتھ لوک گیت گاتے ہیں۔ یہ راتیں مقامی ادب،موسیقی اور ثقافت کو زندہ رکھنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ریت کی مٹی کی خوشبو ماں کی ممتا کو سلام تحیسن پیش کرتی ہے۔کچی زمین پر نئے بچے کی مالش کی رسم رسم دراصل ریت سے بےپناہ محبت کا اظہار ہے۔یہ رسم نوزائیدہ بچوں کی صحت اور جسمانی مضبوطی کے لیے کی جاتی ہے۔مقامی خواتین گرم ریت یا زمین پر بچے کی مالش کرتی ہیں جو ان کے روایتی علاج کا حصہ بھی جانا جاتا ہے۔اونٹ سجانے کے مقابلے روہی علاقے کی سب سے خوبصورت اور منفرد قدیم تاریخی رسم ہے۔خوبصورت اونٹنی کا انتخاب الگ ریت رواج کی پہچان ہے۔چولستان صحرائے ریگستان کا ہوائی جہاز بھی اونٹ کو کہا جاتا ہے۔اونٹوں کو زیورات رنگین کپڑوں اور مہندی سے سجایا جاتا ہے۔جیتنے والے اونٹ کے مالک کو انعامات دیے جاتے ہیں۔

    شادی خانہ آبادی مبارک بیاہ کی ثقافتی رسموں،ریت و رواج کو صدیوں سے منایا جارہا ہے۔آج بھی شادی کی خوشیوں کے رنگ میں منفرد رسمیں نمایاں ہیں۔گنڈھییں پہلی رسم ہے جس میں دونوں خاندانوں میں دلہن کنوار ،دولہا گھوٹ کے والدین بزرگوار شادی کی تاریخ طے کرتے ہیں۔دولہے کی والدہ کی طرف سے دلہن کو لال چنئی ڈوپٹہ پہنایا جاتا ہے۔اس کے بعد دعاخیر پتاسے کی رسم ادا کی جاتی ہے اور خوشی کےگیت گائے جاتےہیں۔کانڈھا شادی کی اہم رسم ہوتی ہے جو دور حق ہمسائے رشتے داروں کو نائی کے ذریعے سنہیا پیغامات دیےجاتےہیں۔اج کل واٹس ایپ پر خوبصورت کارڈ بھیجے جاتے ہیں جس پر مہندی،جاگا، دولہے کی سہرا بندی کی رسم، بارات روانگی اور ولیمہ کی تواریخ درج ہوتیں ہیں۔اس کے بعد دول نغارے،جاگے،بین بانسری شرنا کی رسمیں شروع ہو جاتیں ہیں۔تقریبا ایک ہفتہ پورا بوا،چاچی،ماسی،مامی کی طرف سے رات کو جاگے سجائے جاتے ہیں۔دن کو شادی کے گھر کو روشنائی رنگین بتیوں سے سجایا جاتا ہے۔

    سارا دن میوزک موسیقی سہرے گیت گائے جاتےہیں۔رات کو محفل موسیقی کی رسم میں موہن بھگت جیسے گلوکاروں کی طرف سے فن گائیکی سے لوگوں کے دلوں کو خوب لطف اندوز کیا جاتاہے۔نٹوں کا تماشہ بھی ایک ثقافتی لحاظ اہم رسم سمجھی جاتی ہے۔ڈرامہ تھیٹر کا انعقاد امیر لوک اپنے دیروں پر کرتےہیں،مختلف روایتی پکوانوں و کھانوں کی دعوتیں شادی کی رسومات میں سب سے اہم سمجھی جاتی ہے۔ونوا،کھارے پر چڑھنے کی رسم قدیم زمانے سے رائج ہے۔اس کا مقصد دلہن والوں اور وس وسیب کو یقین دلانا ہوتا ہے کہ دولہا جسمانی طور پر کارآمد ہے۔ روزی روٹی کما کر اپنی دلہن کو خوشیاں دے سکتا ہے۔روحانی مرشد سید سے خصوصی دعائیں کی رسم بارات روانگی سے پہلے بھی اور واپسی خیر سلامتی سے کےلیے ہوتی ہے۔رسم نکاح اہم سنت رسول ہے۔

    مسلم روہیلے کمیونٹی نکاح پہلے یا پھر دلہن کی طرف جاکر مسجد میں ادا کی جاتی ہے۔مٹھائی یا چھووراے پتاسے تقسیم کیے جاتے ہیں۔کپڑے پھاڑنے کی رسم دولہا کے دوست ادا کرتے ہیں۔نہانے سے پہلے پرانے کپڑوں کو پھاڑ دیا جاتا ہے۔نئی صاف ستھرائی پوشاک دولہا لباس پہنایا جاتا ہے۔سہرا پہنانے کی رسم ادا کی جاتی ہے۔والدین سمیت قریبی رشتہ دار دوست پھلوں اور پیسوں والے ہار اور مالا پہناتے ہیں۔اسی طرح دلہن والے گھر بھی خوشیوں کی رسمیں روایتی ثقافتی انداز میں ادا کیں جاتیں ہیں۔مینڈھی کی رسم میں دلہن کو مہندی لگائی جاتی ہے، رخصتی سے تقریبا سات دن پہلے دولہن الگ تھلگ کمرے میں رہتی ہے۔اس دوران کنوار دلہن کو چیکو ابٹن کی رسم سے گزارا جاتا ہے۔گھڑی گھڑولا کی رسم دولہے کی بہنیں ادا کرتیں ہیں۔خوشیوں کے گیت سہرے گاتیں ہیں۔بارات روانگی سے پہلے دو نفل شکرانہ مسجد میں ادا کئے جاتے ہیں۔صدقہ خیرات رتول کی رسم ادا کی جاتی ہے۔ہندو روہیلے مندر کی زیارت کرت ہیں۔

    سرائیکی ثقافتی جھمر رقص کی رسم شادی بیاہ کی روح ہوتی ہے۔یہ عمل پوری شادی کی ہر رسم ورواج خاصہ ہوتا ہے۔گانا پہنانے کی رسم کے موقع پر دولہے گھوٹ کو دائیں ہاتھ کی کلائی پر خوبصورت رنگین ثقافتی گانا باندھا جاتا ہے۔گھوٹ والوں کی طرف سے وڑھی ڈاج جہیز کی رسم ادا کی جاتی ہے۔جس میں دلہن کو دی جانے والی سوئی سے لے کر بیڈ روم تک ہر چیز وسیبی عورتوں کو دکھائی جاتی ہے۔گھوٹ دولہا کے معمولات کو سنبھالنے اس کی ہر ممکن حکم کی تعمیل کے لیے سبالا سنبھالے کا انتخاب عموما ہوشیار مسات،ملیر،سوتر میں سے ہوتا ہے۔ ویہانہ جوتی چوری کی رسم بھی رخصتی کے موقع پر سالیاں ادا کرتیں ہیں۔دولہا منہ مانگی رقم دے کر روانہ ہوتا ہے۔پھل چنائی کی رسم میں پھولوں سے گھوٹ کنوار کا خوبصورت شاندار استقبال کیا جاتا ہے۔

    دودھ کھیر پلائی کی رسم میں دولہے کا باقی دودھ دولہن کو پلایا جاتا ہے۔تاکہ اللہ پاک کی رحمت سےجوڑی سلامت رہے اور محبت آخر تک قائم و دائم رہے۔ہاتھ کی مٹھی کھلائی کی رسم میں اکثر دولہن اپنے دولہے کی عزت رکھتی ہے۔دولہن کی گھنڈ کھلائی چہرہ شیشہ دکھائی کی رسم نئے گھر میں ساس (سس)،(سوہرا) سسر قیمتی تحائف سے ادا کرتے ہیں۔لاواں کی رسم میں دولہا دولہن دونوں کے سروں کو پیارے سے آپس میں ملائے جاتے ہیں۔دروازہ پکڑنے کی رسم میں دولہن خود سے نئے گھر آنے سے پہلے ادا کرتی ہے۔اس موقع پر سسسر اپنی نئی دولہن کو کوئی جانور یا کوئی قیمتی چیز پیش کرتا ہے۔

    ولیمہ کی رسم میں تمام برادری کو شاندار پکوان پیش کیے جاتےہیں۔گانا کھولنے کی رسم تیسرے دن ادا کی جاتی ہے۔ستوواڑہ کی رسم میں دولہن سات دن بعد کچھ دن پرانی یادوں کو تازہ کرنےکےلیے اپنے میکے چلی جاتی ہے۔پھر ہفتہ گزارنے کے بعد گھر واپس آکر اپنی ساسوں ماں سے گھریلو زندگی ہاتھ بٹانا شروع کر دیتی ہے۔اس شادی بیاہ کی روایتی رنگوں سے بھری رسمیں ختم ہوجاتیں ہیں۔پھر اللہ پاک کے حکم سے عورت کو بچے کی تخلیق کی خوشخبری ملتی ہے۔پھر گود بھرائی کی رسم ادا کی جاتی ہے۔اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔
    جاری ہے

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،تیسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری قسط کا خلاصہ:
    تیسری قسط میں چولستان کے ماحولیاتی چیلنجز جیسے موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور زمین کی زرخیزی میں کمی کو بیان کیا گیا ہے۔اس قسط میں چولستانی خواتین کے مسائل اور ان کے حقوق کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔خاص طور پر صحت،تعلیم اور روزگار کے حوالے سے روہی چولستان کے نوجوانوں کی مشکلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔شہروں کی طرف روزگار کے حصول کے لیے ہجرت کرنے،ذریعہ معاش کے مواقع کی کمی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔گوپے میں چھپی چولستانی ثقافت اور اس کے ورثے کی اہمیت کو بھی بیان کیا گیا ہے۔ اور اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کی بروقت پلاننگ اور پروجیکٹس سے چولستان کے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ مقامی لوگوں کی زندگی کو بہتر اور خوشحال بنایا جا سکے۔

    تیسری و آخری قسط
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات
    چولستان کی ثقافت اور ترقی کے امکانات پر نظر ڈالیں تو یہ خطہ اپنے اندر بے شمار تہذیبی، لسانی اور ادبی خزانے سموئے ہوئے ہے۔ یہاں کی مادری زبانوں کا لٹریچر، صوفی ازم، امن و رواداری کا پیغام اور آثار قدیمہ کے نایاب نمونے، سبھی چولستان کے منفرد تشخص کو اجاگر کرتے ہیں۔

    چولستان کی ریتلی زمین میں تخلیقی کہانیاں اور نظمیں پروان چڑھتی ہیں، جن کی بنیادیں علم، ادب، دانش اور خوشحالی کے گہرے اصولوں پر استوار ہیں۔ سرائیکی خطہ جو سات دریاؤں کی سرزمین ملتان کا حصہ ہے، ہمیشہ سے شاعری، صوفیانہ خیالات اور ثقافتی رنگوں کا گہوارہ رہا ہے۔

    اسلم جاوید چودھری جیسے سرائیکی وسیب کے شاعر، جو اپنی نظم "میکوں آکھ نہ پنج دریائی” کے ذریعے سرائیکی ثقافت اور عوامی جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں، اس خطے کے ادبی سرمایہ میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا کلام عام فہم ہونے کے باوجود گہری معنویت لیے ہوتا ہے، جو ہر طبقے کو متاثر کرتا ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    چولستان کی ثقافتی اہمیت کو سمجھتے ہوئے، اس خطے میں ترقی کے بے پناہ امکانات موجود ہیں۔ سیاحت، آثار قدیمہ، اور مقامی آرٹ و دستکاری کو فروغ دے کر نہ صرف یہاں کے لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس علاقے کی شناخت کو اجاگر کیا جا سکتا ہے۔

    میں تسا،میڈی دھرتی تسی
    تسی روہی جائی
    میکوں آکھ نہ پنج دریائی


    ان کے فلسفۂ شاعری کی رفعت اور نقطۂ عروج کا خلاصہ دراصل سرائیکی وسیب کی علیحدہ شناخت، نئے صوبے کی منزلِ مقصود کا سچا خواب، خود مختاری، خود اعتمادی، تعمیرِ نو اور ثقافتی ورثے کا حسین امتزاج ہے۔ روہی، چولستان، راوا، تھل، دمان اور کوہِ سلیمان کی جاذب بےبسی اور امید کا خوبصورت اظہار ایسے ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کیا گیا ہو۔

    روہی کے باسی اپنی گائیں، بھیڑ بکریوں اور اونٹوں سے عشق کرتے ہیں۔ ان کے خالص دودھ اور مکھن سے دیسی گھی تیار کیا جاتا ہے۔ تاہم، چولستان میں پانی کی عدم دستیابی اور خوراک کی قلت ایک بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ مال مویشی پال کر روزی کماتے ہیں، لیکن چارے کی کمی اور بیماریوں کے خطرات ان کی آمدنی کو محدود کر دیتے ہیں۔ جانوروں کی افزائش اور صحت کے مسائل کے حل کے لیے جدید ویٹرنری خدمات اور چارے کی دستیابی میں اضافہ ضروری ہے۔

    تعلیم کے فقدان نے بھی چولستان کے لوگوں کو ترقی سے محروم رکھا ہوا ہے۔ علاقے میں تعلیمی اداروں کی کمی، موجودہ اسکولوں کی خستہ حالی اور عوام میں تعلیم کے حوالے سے شعور کی کمی نے بچوں کو تعلیمی مواقع سے محروم کر دیا ہے۔ خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے مسائل اور معاشرتی رکاوٹیں زیادہ سنگین ہیں۔ ان مسائل کے حل کے لیے حکومت اور غیر سرکاری تنظیموں کو مل کر تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانا ہوگا۔

    صحت کی سہولیات کی کمی بھی چولستان کے باسیوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہسپتالوں اور طبی مراکز کی غیر موجودگی، صحت کی بنیادی خدمات کا فقدان اور طبی عملے کی کمی نے لوگوں کو معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی طویل فاصلے طے کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ نتیجتاً، کئی لوگ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

    روہی کے لوگ اپنی روحانی تجلیات کے منبع کو حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ (اوچ شریف) سے منسوب کرتے ہیں اور چنن پیر رحمتہ اللہ علیہ کی درگاہ پر اپنی اولاد کی سلامتی کے لیے اللہ پاک سے دعائیں مانگتے ہیں۔

    روہی کی مشکلات کو حسین پیرائے میں کمال خوبصورت اشعار کی شکل میں شاعر نے نفیس لفظوں کا کمال حیرت انگیز رنگ اس طرح دیا ہے۔شاعری لطیف جذبوں کا خوبصورت اظہار اور قصہ ہے۔کیا کمال کاری گری سے قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی کی کہانی اور پیار کا گیت ہے۔
    شاہد عالم شاہد کی شاعری کا حسن ملاحظہ فرمائیں۔

    ریشم ریشم ہوٹھیں اتے رہ گئے اصلوں جندرے
    اکھیں نال کریندا رہ گئے یار کمال دے قصے
    کیا شہزادیاں کیا پریاں کیا دیہہ کیا محل منارے
    بکھے بالیں کوں تاں بھاندن روٹی دال دے قصے

    کونجاں روہی لنگھ ویندیاں ہن راتیں کوں
    بٹا کھو وی فجریں تونڑیں واہندا ہا

    روزگار کے محدود مواقع چولستان کے نوجوانوں کو بڑے شہروں کی طرف ہجرت پر مجبور کر رہے ہیں۔مقامی سطح پر روزگار کے مواقع نہ ہونے کے سبب بہت سے لوگ محنت مزدوری کے لیے شہروں میں جا کر اپنی زندگی بسر کرتے ہیں، جس سے ان کے خاندان مزید مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہنر سکھانے والے مراکز اور زرعی منصوبے چولستان میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں۔

    صحرائی ماحول میں خواتین کو بھی بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے۔گوپوں میں رہنے والی خواتین پانی لانے،کھانے کی تیاری اور گھر کے دیگر کاموں میں اپنی زندگی کا بڑا حصہ صرف کرتی ہیں۔ان خواتین کو صحت،تعلیم اور روزگار کے بروقت مواقع فراہم کرنا حکومت وقت فوری ذمہ داری ہے۔تاکہ وہ اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں۔ماحولیاتی مسائل بھی چولستان کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

    موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے بارشوں کی بے قاعدگی اور صحرائی علاقوں میں پھیلتی ہوئی خشکی نے یہاں کی زمین کو مزید بنجر اور غیر زرخیز بنا دیا ہے۔جنگلات کی کٹائی اور مویشیوں کی تعداد میں اضافے نے ان مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماحولیاتی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے درخت لگانے اور پانی ذخیرہ کرنے کے جدید طریقوں کو اپنانا ہوگا۔

    ثقافتی لحاظ سے چولستان کے باسی منفرد روایات اور طرز زندگی رکھتے ہیں۔ لیکن ان کی ثقافت بھی ان مشکلات سے متاثر ہو رہی ہے۔ مٹی کے گوپے،جو ان کی رہائش کا مرکز ہیں۔سخت گرمی اور سردی کے موسم میں رہنے کے لیے ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ان کے رہائشی مسائل کو حل کرنے کے لیے جدید لیکن ثقافت کے مطابق مکانات فراہم کیے جا سکتے ہیں۔

    چولستان کے مسائل کو حل کرنے کے لیے حکومتی اقدامات، غیر سرکاری تنظیموں کی شمولیت، اور مقامی لوگوں کی شراکت داری ضروری ہے۔پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنانے، تعلیم اور صحت کے مراکز قائم کرنے،اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔صرف ان اقدامات سے ہی چولستان کے باسیوں کی زندگی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے اور ان کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دیا جا سکتا ہے۔

    حسین و جمیل روہی کے سرائیکی گوپے کے ثقافتی اور تہذیبی ورثے کے حقیقی قصے نئی اور پر امید نسل تک پہنچانے میں چولستان کے قصہ گو، فنکار، اور شعراء اہم کردار ادا کر رہے ہیں، تاکہ نوجوان طبقہ اپنے محفوظ ورثے کی منفرد شناخت پر فخر کر سکے۔ ہمیں تو پرامن چولستان کا ہر موسم بہار جیسا محسوس ہوتا ہے، جہاں باغوں میں ہر قسم کے چرند پرند اپنی دھن میں گاتے ہیں۔ کونج کا دلکش نغمہ سرائیکی خطے کے ریت کے ٹیلوں کی دلنشینی میں مزید اضافہ کرتا ہے۔

    کونجاں وانگوں ول ول اساں ریت اتوں پئے بھوندے
    شاہد کل سرمایہ ساڈا ہن صحرا دے موسم

    تاہم، روہی اور چولستان کے باسیوں کے خوابوں کی تکمیل اور انہیں ضروریاتِ زندگی کی فراہمی کے ساتھ ترقی کے دھارے میں شامل کرنے کے لیے حکومت کو فوری اقدامات کرنا ہوں گے، تاکہ یہ خوبصورت گوپے ہمیشہ آباد رہیں۔ ان میں خوشیوں کے گیت گائے جائیں اورچولستان ، روہی کی سرزمین ہمیشہ خوشحال اور پررونق رہے۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،دوسری قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ:
    دوسری قسط میں چولستانی گوپوں کی ثقافت،فنون لطیفہ اور روہیلوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کی شاعری اور چولستانی معیشت، جیسے مویشیوں کی پرورش اور روزگار کی کمی کے مسائل کو بیان کیا گیا ہے۔ چولستان کے لوگوں کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی اور قحط سالی کے اثرات ہیں۔ بارشوں کی کمی اور "ٹوبھوں” میں پانی کا ذخیرہ کرنے کی مشکلات نے ان کی روزمرہ کی زندگی کو متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، تعلیم کی کمی اور صحت کے مسائل بھی اہم موضوعات ہیں جن پر حکومتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

    دوسری قسط، چولستان کی زندگی کے چیلنجز
    چولستان کے باسیوں کے لیے پانی کی قلت سب سے بڑا چیلنج ہے۔ ٹوبھوں میں جمع کیا جانے والا پانی ان کے لیے زندگی کا سہارا ہے، لیکن بارش کی کمی ان ذخائر کو ناکافی بنا دیتی ہے۔ گرمیوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے باعث لوگ اور ان کے مویشی ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔تعلیم اور صحت کی سہولیات کی کمی نے چولستان کے لوگوں کو مزید مشکلات میں ڈال دیا ہے۔ لڑکیوں کی تعلیم اور مقامی اسکولوں کی خستہ حالی جیسے مسائل فوری توجہ کے متقاضی ہیں۔ صحت کی بنیادی سہولیات کے بغیر لوگ معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے دور دراز علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہیں، جو کئی بار جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔

    چولستان کی دلکش سرزمین اپنے دھرتی جائے کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔سرائیکی وسیب کے لوگ سیدھے سادے، ریت کی طرح نرم و نازک ہیں۔نرم مزاجی،صوفیانہ امن پسند رنگ اور کلچرل روایات سے جڑے ہوئے ہیں۔اپنی دھرتی کی ہر چیز سے بےپناہ محبت کرتے ہیں۔عالمی مشہور شاعر شاہد عالم شاہد لشاری جن کی گزرگزران روہی رہتل ہے۔سرائیکی وسیب کی بین الاقوامی شہرت یافتہ روہی ان کی روح ہے۔ریت اور روایت، تہذیب وتمدن،ثقافت،فنون لطیفہ میں خطاطی، موسیقی،مصوری، شاعری سب انسان کی چھپی امیدوں اور خواہشات کا خوبصورت اظہار ہے۔شاعر اپنی شاعری سے اپنے علاقے کی تاریخ،ادب اور شعور کے خزانوں کو دنیا میں اجاگر کرتاہے۔

    کسی خطے کی رنگین شاعری میں جتنا بڑا کینوس ہوگا، وہ دھرتی اتنی جاندار،شاندار اور عرفان وحکمت کی بلندیوں کو چھوہے گی۔یہ کمال اللہ پاک نے سرائیکی وسیب کے شعراء کرام کو بہت زیادہ دان کیا ہے۔پاکستان کے خوبصورت حسین مادری زبانوں کے گلدستے میں سب سے زیادہ کتابیں شاعری سرائیکی زبان و ادب کی ہیں۔ سرائیکی عہد جدید کا خوبصورت کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد کا عالم شاعری میں کمال خوبصورتی جھلک رہی ہے۔

    پاتے گھگھرا چولی چنی بولا بینسر
    روہی دی ہک حور ٹری ہےریت نچی ہے

    گوپے دیوچ پوہ دی رات کوں قصہ ٹر پئے
    ڈھلدیں ڈھلدیں رات ڈھلی ہے ریت نچی ہے
    کنگن والے بھاء دے مچ تے بہہ تے شاہد
    "موہن” کافی جو آکھی ہے ریت نچی ہے

    اجڑے گوپے کوں مٹی دے گھبکار مہکار وانگوں لگے
    بھرے ٹوبھے دے چودھار ڈیکھوں جڈے مال چردا ودے

    اج تاں کترن دی خوشبو نے جھمر مچائی ہے پرے تھل تلک
    نین سادے مرادے کھڑن ڈیکھدے مال چردا ودے

    سرائیکی ادبی فورم "فکر فرید” بانی صاحبزادہ شیر میاں خان عباسی کے دیرے روہی چولستان کنگن آلے بنگلے پر ٹھنڈی ٹھار راتوں میں بھاہ کے مچ کے اردگرد سرائیکی مشاعرہ و موسیقی کی وجد بھری آواز کی دھن سے دوشیزہ محبوبہ حسین دلربا منظر میں چنگاری بن کر ریت پر خوب رقص جھمر کرکے عاشقوں کے دلوں کو خوب بھاتی ہے۔اس کا رنگ و چہرہ غزل کا روپ ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    ککڑ،بیر،شرینہہ،جال پیلھوں کا درخت بھی ان کا ایک قسم کا اوپن گوپہ ہوتاہے۔جہاں ٹوبھے کے پانی کی چاہت،وہاں بیٹھ کر ککھ کانوں سے گھریلو آسائشی سامان میں موڑے بنانا، پتلی باریک لکڑی سے گوپہ تیار کرنا وغیرہ روہی کے باسیوں کے لیے ذریعہ معاش اور گزر گزران کے اوزار نعمت خداوندی سےکم نہیں ہیں۔ کانوں سے گوپے بھی تیار ہورہے ہیں۔پرانے نئے قصے بھی آشکار ہورہے ہیں۔راتوں کو جاگ کر مستی بھری یادیں تازہ کی جاتیں ہیں۔شاعر نے ایک ایک لمحہ محفوظ کرکے اپنے طلسماتی فکری صلاحیتوں سے شاعری کا نیا جہاں گوپہ تشکیل دے دیا ہے۔شاعر نے اچھوتے انداز میں اپنی بات کو اس طرح بیان کی ہے۔

    کنگن آلے دے گھاٹے شرینہاں تلے رات ٹردی پئی اے
    نال قصے دے قصہ پیا جاگدے مال چردا ودے

    ساڈی نبھ ویسی زندگی ریت اچ
    دفن تھی ویسی ہر خوشی ریت اچ
    ساڈے جیونڑ دے آسرے سارے
    ساڈے سکھ وی عذاب وی ریت اچ
    او جو وچھڑے تاں ول تے نی آیا
    مونجھ رل گئی ہے بلکدی ریت اچ
    میڈی روہی تے مار ڈیوو میکوں
    رت میڈی رل ونجے میڈی ریت وچ

    سرائیکی جگ مشہور شاعر اسلم جاوید کا اپنے خوبصورت مزاحمتی شعری مجموعے طبل کلہاڑی میں دل بھاتے انداز میں روہی اور تھل کے صحرائی ماحول کو شاندار رنگوں میں اپنا مدعا بیان کیا۔سرائیکی وسیب میں تھل اور چولستان روہی گوپوں میں چھپا ثقافتی ورثہ حقیقت میں سادہ سماجی روایات،چاہت،خلوص، امن و رواداری کا درس ہے۔سرائیکی دھرتی روحانیت سے مالامال ہے۔یہاں کا ہر زبان بولنے والا فرد ہماری تہذیبی زمینی میٹھے پھل آم،کھجور اور شہد کی مٹھاس کا خوبصورت اظہار ہے۔ہر وسیبی کا کردار گھاٹے درخت کی چھاں ہے۔ہمارا سفر عشق مجازی سے عشق حقیقی کی طرف ہے۔اسلم جاوید چودھری کا قصہ اپنی روہی چولستان کی چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن سے عشق کی لازوال داستان ہے۔سرائیکی شعراء کرام نے لفظ روہی کو بطور استعارہ محرومی،دہشت،وحشت، کرب وبلا، جنت،بہشت،خوشی،سنگلاخ مشکلات،ترقی،خوشحالی،،بے بسی، امن،محبت،الگ شناخت،وچھوڑا،وصل،وادی عشق، مونجھ، ڈکھ، ہمدردی،خلوص،برداشت، صبر وشکر، بے نیازی،خود اعتمادی،خواہشات کا لامتناہی روحانی سفر،تحمل،امید،آس،ملال استعمال کیا ہے۔جس نے روہی کا جو پہلو یا رنگ دیکھا اس نے وہی بیان کردیا۔
    تھل، روہی چولستان الفاظ سرائیکی جہانوں کا نیا عجیب عالم حیرت ہے۔

    تھل ہے قصہ مونجھ دا ۔۔۔۔۔۔۔ روہی عشق دا ناں
    اکھ بھالی دا میلہ ڈیکھاں ڈھولی نال کراں

    چولستان دے رنگ ہزاراں جال کرینہہ دی چھاں
    کیڑھا نندروں ٹردا ویندے آرھ ارینہہ دی چھاں
    جتھاں میکوں کندن ملدی اتھ شرینہہ دی چھاں

    پیلوں پکیاں چݨ تے اکھیاں ڈولی ڈھاک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں لب اچ مکھیاں مونہہ مسواک ہے ساوی
    پیلوں پکیاں میں نہ چکھیاں ساڈی ٻاک ہے ساوی

    چولستان میں حسن وجمال بھری حیات بشریت،حیوانات اور نباتات کی بقاء کا سب سے اہم ذریعہ پانی ہے۔صحرائی علاقے میں بارش نہ ہونے کی صورت میں پانی جمع کرنے کے لیے "ٹوبھے” بنائے جاتے ہیں۔جو گوپوں کے نزدیک چھوٹے تالابوں کی صورت میں موجود ہوتے ہیں۔ٹوبھوں کا پانی مقامی لوگوں اور ان کے جانوروں کی زندگی کا سہارا ہے۔جب بارش کی پھلواڑی کی پہلی پھنوار چولستان کی ریت پر پڑتی ہے تو خوشبو ہر سوں پھیل جاتی ہے۔نئی دلہن ریت بن کر خوب گنگناتی ہے۔رقص جھمر کھیلتی ہے۔تمام روہیلوں کے چہرے مسلسل خوشی اور شادی مانی کے نہ تھمنے والے احساسات کی رم جھم برسات شروع ہوجاتی ہے۔ہر طرف کھلا کھلا چہرہ نظر آتاہے۔عاشق اپنی محبوبہ کے ملن کے متلاشی نظر آتے ہیں۔برسا موسم سے پہلے ریت خوب دھمال کرتی ہے۔ابھا،لما،پوادھ پچادھ ہر طرف سریلی آوازیں آنا شروع ہوجاتیں ہیں۔شاعر خود اگر روہیلا ہو تو اس کا تخیل کمال حسین نظر آتا ہے۔نمونہ کلام مادری زبان میں ہو تو ابلاغ بہت ہی عمدہ ہوتا ہے۔

    ابھے توں بدلی اسری ہے ریت نچی ہے
    مینہ دی پہلی پھینگ ڈھٹی ہے ریت نچی ہے

    جال اتوں پیلھوں چنڑدے نازک ہھتیں توں
    مہندی دی خشبو نکتی ہے ریت نچی ہے

    ٹوبھے اتے لتھین کونجاں اصلوں مونجھاں
    ول سانول دی گالھ چلی ہے ریت نچی ہے

    تاہم مینہ بارش کی کمی کے باعث ٹوبھے اکثر خشک ہو جاتے ہیں اور قحط سالی کا بیاباں منظر عام بات ہے۔گرمیوں میں جب درجہ حرارت 50 ڈگری سے تجاوز کر جاتا ہے تو گوپوں میں رہنے والے روہیلے ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔پانی کی قلت نہ صرف ان کی روزمرہ کی معاشی و سماجی زندگی کو مشکل بناتی ہے بلکہ جانوروں،چرند پرند اور سرسبز پودوں کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتی ہے۔چولستان روہی کے سادہ نفیس،یقین کامل کی طاقت سے مالامال باشندے صحرائی علاقے میں زندگی بسر کرتے ہوئے صدیوں سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ان کی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش پانی کی کمی ہے۔مگر قدرتی بارش عظیم نعمت خداوندی اور خوشحالی کی ضمانت ہے۔

    بارشوں کا نہ ہونا صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈالتی ہے۔ کیونکہ چولستان کا بیشتر انحصار بارشوں پر ہوتا ہےجو سال بھر میں چند بار ہوتی ہیں۔اور یہی پانی "ٹوبھہ ” نامی ذخائر میں جمع کیا جاتا ہے۔تاہم، بارش کی کمی اور ذخیرہ شدہ پانی کی محدود مقدار کی وجہ سے یہ وسائل ناکافی ثابت ہوتے ہیں۔ٹوبھے کے میٹھے پانی خوبصورت وادی پر انسان،حیوان،شجر، چرند پرند سبھی خوشی خوشی زندگی گزارتے اور رب العزت جلال کا شکر ورد کرتے ہیں۔مگر بارش کی کمی اور ٹوبھوں کی خشکی جیسے سخت حالات میں لوگ اپنے جانوروں اور خود اپنی بقا کے لیے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت پر مجبور ہو جاتے ہیں۔اپنی چولستان دھرتی پر بارش ہونے کی شدید تمنا نے کلاسک شاعر شاہد عالم شاھد لشاری کیا خوب تخیل تخلیق کیا ہے۔صبح سے شام تک صحرائے چولستان کے چٹیل ڈاہروں وسیع میدانوں میں سارا دن مال مویشی چرانے والے بکر وال کی گھر کی طرف واپسی سفر کو اپنے شاندار لفظوں کی رنگین چادر پہنائی ہے۔خوبصورت نظارہ کہ سارا دن چرواہا نے دعائیں مانگیں کہ ہماری طرف بارش ہوگی۔مگر پتہ چلا ابر رحمت ہماری طرف نہ آیا بلکہ پہاڑوں پر خوب برسا۔شاعر کا حسین کلام توجہ طلب ہے۔

    سجھ کوں گھر تیئں پجا تےولداپئے
    کوئی بکریاں چراتے ولدا پئے

    ریت رل گئی ہے سر تے پھینگ نی پئی
    جھڑ پہاڑیاں پسا تے ولدا پئے

    جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔

  • چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت،پہلی قسط

    چولستانی گوپے میں چھپی روہی کی دلکش ثقافت
    تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    چولستانی ثقافت اور روہی کی خوبصورتی کو بیان کرنے والے اس آرٹیکل کی پہلی قسط میں، چولستان کے لوگوں کی زندگی، خواجہ غلام فرید اور دیگر سرائیکی شاعروں کے کلام کے ذریعے بیان کی گئی ہے۔ خواجہ فرید کی شاعری میں چولستان کی روحانی اور ثقافتی اہمیت کا ذکر کیا گیا ہے، جو عشق، تصوف، اور انسانیت کے اہم موضوعات کو بیان کرتی ہے۔ چولستان میں "گوپے” کی اہمیت پر بھی بات کی گئی ہے، جو کہ نہ صرف رہائش کے لئے بلکہ ثقافت اور قدیم روایات کی عکاسی کرتے ہیں۔ گوپے کی تعمیر میں مٹی اور درختوں کی چھال کا استعمال، اور اس کے اندر رہنے والے افراد کی محنت اور محبت کی مثال دی گئی ہے۔

    پہلی قسط کا موضوع ،روہی کی دلکش ثقافت اور سرائیکی ادب
    چولستان کے لوگ پانی کو زندگی کی علامت اور سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں۔ روہی کے صحرا کا ہر منظر عشق حقیقی اور مجازی کی کہانی سناتا ہے، جو کلاسیکی سرائیکی ادب میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ خواجہ غلام فریدؒ نے چولستان کے ریت کے ٹیلوں اور ٹوبھوں کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا، جہاں تصوف اور سادگی کا حسین امتزاج موجود ہے۔ان کے کلام میں عشق، تصوف، اور انسانی جذبات کی گہرائی کو ریت کے ٹیلوں کی صورت میں پیش کیا گیا۔ مثال کے طور پر:
    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    شاہد عالم شاھد لشاری کی شاعری بھی روہی کی ثقافت کو ایک منفرد انداز میں پیش کرتی ہے۔ گوپے، مٹی کی جھونپڑیوں کا ذکر، سرائیکی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ گوپے نہ صرف رہائش کی ضرورت پوری کرتے ہیں بلکہ چولستان کے لوگوں کی محنت اور ثقافتی خوبصورتی کی عکاسی کرتے ہیں-

    پہلی قسط
    پانی اور زندگی کی رونق چولستان کے لوگوں کے لیے خواب حسن کی حقیقت ہے۔روہی اگر عاشق کے لیے ایک طرف وصال بہشت ہے تو دوسری طرف وچھوڑے مونجھ ملال کی وحشت کربلا بھی ہے۔عشق مجازی سے عشق حقیقی کے سفر کا آغاز بھی چولستان روہی تھل کے ریت کے ٹیلوں سے ہوتاہے۔نگری مظہر جلال کی روحانی روہی کے کلاسک سرائیکی شاعر خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا زیادہ تر عرصہ چولستانی ٹوبھوں اور ریت کے ٹیلوں کے ذروں کے ساتھ گزرا ہے۔سادگی،تصوف اور خالص پیلھوں جیسی خوبصورت مٹھاس ان کے کلام آفاقیت کا خاص موضوع ہے۔گوپے میں روہی کی ثقافت کا قصہ 271 کافیوں پر مشتمل سرائیکی دیوان فرید دراصل سرائیکی سماجیات کا آئینہ ہے۔

    روہیلے کے لیے روہی کشمیر جنت نظیر ہے۔دھوپ کی تپش اس کے لیے برف کی طرح سفید لباس ہے۔خواجہ فرید کا خوبصورت عکس روہی دراصل سرائیکی علم وادب،عرفان وحکمت،تصوف،تہذیب وتمدن اور ثقافت کا سچا قصہ ہے۔سرائیکی مہان شاعر خواجہ فرید کو سرائیکی روحانی شاعر کا مقام حاصل ہے۔ان کے آفاقی فلسفہ میں روہی کا رنگ سب سے نمایاں ہے۔عشق حقیقی،تصوف،محبت،احساس، ہمدردی،کائنات کاحسن،احترام آدمیت،امن جیسے عظیم موضوعات ان کا حاصل کلام ہے۔

    اتھ درد منداں دے دیرے
    جتھ کرڑ کنڈا بوئی ڈھیر اے

    لانڑے، پھوگ اساڈے مانڑے
    ٹبڑے،بھٹڑے، ڈاہر، ٹکانڑے

    سرائیکی زبان و ادب کے جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری نے خوبصورت انداز میں روہی روپ کے قصے کو گوپے میں بیٹھ کر شاندار لفظوں کے تخیل سے تصویر کشی کی ہے۔الفاظ کی کاری گری ملاحظہ فرمائیں۔

    گوپے دیوچ اجرک ویڑھ تے ٹکڑانویں گندی تے
    بڈھا پاندھی ٹوری بیٹھے رلئے مال دے قصے

    مینہ دا زم زم وٹھے بلدی روہی اتے مال چردا ودے
    ساولیں جم پیاں ایجھا امرت ڈھٹے مال فردا ودے


    سرائیکی کلاسیکل مہان شاعر ڈاکٹر اشولال نے روہی چولستان کی چھ ہزار سال کی وادی ہاکڑہ سرسوتی تہذیب وتمدن کے مرکزی شہر گنویری والا اور قلعہ ڈیراور کی عظمت کو اپنے لازوال انداز کلام میں یوں بیان کیا ہے۔

    ساڈے اندروں وگدی اے سرسوتی
    ساڈے اندروں ہاکڑا وگدا اے
    اے گلیاں یار ڈیراور دیاں
    ساکوں ڈیکھ کے اینویں لگدا اے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ویندا پئے
    جیویں ہنڑیں ہنڑیں کوئی ول آسی


    خواجہ فرید سئیں نے روہی تھل کے منظر کو باغ بہشت قرار دیا ہے۔

    روہی راوے تھیاں گلزاراں
    تھل چترانگ وی باغ بہاراں
    گھنڈ تنواراں بارش باراں
    چرچے دھاونڑ گاونڑ دے
    چاندنی رات ملہاری ڈینہ ہے
    تھڈڑیاں ہیلاں رم جھم مینہ ہے
    سوہنی موسم لگڑا نینہہ ہے
    گئے ویلھے غم کھاونڑ دے


    چولستان روہی کے صحرا کی اپنی خاموش خوبصورتی،ٹوبھےگوپے،قلعوں کا ثقافتی تاریخی تہذیبی ورثہ اور سخت زندگی کے سچے قصے بہت مشہور ہیں۔ محلاں کی سابق سرائیکی دھرتی ریاست بہاولپور میں واقع قلعہ ڈیراور چولستان کی پہچان ہے۔اس سے جڑی بستیوں میں آج بھی روہیلے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنے روایتی رنگین "گوپوں” میں رہتے ہیں۔یہ گوپے صرف رہائش کے لیے گھر نہیں بلکہ روہی کی دلکش ثقافت اور یہاں کے لوگوں کی صدیوں پرانی عملی جدوجہد کی عکاس ہیں۔

    گوپے مٹی اور درختوں کی چھال سے بنائے جاتے ہیں اور انہیں خاص مہارت سے تعمیر کیا جاتا ہے۔سرائیکی جدید کلاسک شاعر شاہد عالم شاہد لشاری کے شاعری مجموعہ کا نام بھی "گوپے دے وچ قصہ” ایک منفرد اعزاز ہے۔گوپے کی دیواروں پر مٹی کا لیپ اور باریکی سے کی گئی صفائی ستھرائی اور رنگینی چولستانی دیہی فن کا مظہر ہے ۔شدید گرمی یا سردی کے موسم میں ان گوپوں کو شاپر یا شیٹ سے ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ تاکہ اندر رہنے والوں کو موسم کی شدت سے بچایا جا سکے۔

    گوپے نہ صرف روہیلوں کی رہائش کی ضرورت کو پورا کرتے ہیں۔ بلکہ مہمانوں کے لئے آرائش و آرام اور محبت کا اعلی نمونہ بھی ہیں۔ان کی تعمیر اور سجاوٹ چولستانی فنکارانہ ذوق کی گواہی دیتی ہے۔کانے سے بنے گوپے،پتلیں،چکیں اور موڑھوں کے علاوہ سر اور کانہاں ( سرکنڈے ) سے بنی چولستانی چنگیریں و دیگر ہاتھ سے بنی اشیاء کو چولستانی و روہی واسیوں کے ہاتھوں کی ہنرمندی اور شاہکار کاریگری کی جادو گری بھی کہا جاسکتا ہے..جاری ہے

  • چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار

    چولستانی گندی: ثقافت اور کفایت شعاری کا شاہکار
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    چولستان اور سندھ کی ثقافت کا ایک نمایاں پہلو "چولستانی گندی” ہے، جو نہ صرف کفایت شعاری بلکہ خوبصورت روایتی ہنر کا بہترین نمونہ ہے۔ یہ گندی، جو کپڑے کے اضافی ٹکڑوں سے بنائی جاتی ہے، نہ صرف گھریلو ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ مقامی ثقافت اور روایات کی دلکش علامت بھی ہے۔ چولستانی گندی کو بنانے کا عمل ان خواتین کی ہنر مندی اور محنت کا عکاس ہے جو اپنے محدود وسائل میں بے مثال تخلیقی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ گھروں میں بچ جانے والے کپڑوں کے ٹکڑوں کو بڑی مہارت سے جوڑ کر یہ گندی تیار کی جاتی ہے، جو نہ صرف خوبصورت ہوتی ہے بلکہ پائیداری کی ایک عمدہ مثال بھی پیش کرتی ہے۔

    روہی چولستان کی خواتین اپنی محنت، لگن اور کفایت شعاری کی علامت ہیں۔ وہ گھروں میں استعمال شدہ اضافی کپڑوں کو ضائع کرنے کے بجائے انہیں خوبصورت شاہکار میں تبدیل کرتی ہیں۔ یہ گندیاں نہ صرف چارپائیوں پر بچھانے کے کام آتی ہیں بلکہ مہمانوں کے لیے زمین پر قالین کی جگہ استعمال کی جاتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری کا عمل نہ صرف گھریلو معیشت کو مستحکم کرتا ہے بلکہ خواتین کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی نکھارتا ہے۔ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے مواقع پر یہ گندیاں تحفے کے طور پر دی جاتی ہیں، جو محبت، خلوص اور ثقافتی ورثے کی علامت ہوتی ہیں۔

    چولستانی ثقافت کا یہ پہلو ماضی کی جھلک بھی پیش کرتا ہے، جب خاندانوں میں اتحاد اور محبت کا اظہار ان گندیوں کے ذریعے کیا جاتا تھا۔ نورپور نورنگا کی پرانی یادیں اس بات کی گواہ ہیں کہ دادی اماں اور بوا اماں نئی دلہنوں اور نومولود بچوں کے لیے خوبصورت گندیاں تیار کرتیں۔ یہ عمل نہ صرف محبت اور خلوص کو فروغ دیتا تھا بلکہ خواتین کی ہنرمندی اور اتحاد کی علامت بھی تھا۔ خواتین رل مل کر دلہنوں کے جہیز میں گندیاں شامل کرتیں، جو ان کے خلوص اور کفایت شعاری کا بہترین ثبوت ہوتا تھا۔

    چولستانی گندی کی اہمیت نہ صرف گھریلو زندگی تک محدود ہے بلکہ یہ مقامی معیشت کے لیے بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر حکومت وقت اس ہنر کی سرپرستی کرے اور ڈیراور قلعے جیسے مقامات پر خواتین کے لیے تربیتی ادارے قائم کرے، تو یہ نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرے گا۔ اس اقدام سے مقامی خواتین کو اپنے ہنر کو بہتر بنانے اور اپنی آمدنی میں اضافے کے مواقع ملیں گے۔

    سرائیکی قدرتی حسین و جمیل خوبصورت روہی چولستانی خطے کی گندی نہ صرف رنگوں سے محبت کی علامت ہے بلکہ یہ کفایت شعاری اور گھریلو معیشت کو بہتر بنانے کا ایک موثر ذریعہ بھی ہے۔ اس کے ذریعے خواتین نہ صرف اضافی کپڑوں کا بہترین استعمال کرتی ہیں بلکہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھی مظاہرہ کرتی ہیں۔ ان گندیوں کی تیاری سے خواتین کے اندر کفایت شعاری اور خود انحصاری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، جو کہ ایک خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔

    مذہب اسلام سمیت تمام مذاہب سادہ اور آسان زندگی کو خوشحالی کا راز سمجھتے ہیں۔ چولستانی گندی اسی اصول کی عملی مثال پیش کرتی ہے۔ یہ خواتین اپنی محدود آمدنی کو بڑی حکمت اور مہارت سے استعمال کرتی ہیں اور اپنی زندگیوں کو خوشحال بناتی ہیں۔ اگر حکومت ان ہنر مند خواتین کو مراعات دے اور ان کی بنائی ہوئی مصنوعات کو عالمی منڈی تک رسائی فراہم کرے، تو نہ صرف ان کی زندگیوں میں بہتری آئے گی بلکہ پاکستان کی معیشت کو بھی فائدہ ہوگا۔

    چولستانی گندی نہ صرف کفایت شعاری بلکہ ثقافتی استحکام کی بھی ایک مثال ہے۔ ہمیں اس خوبصورت ہنر پر فخر کرنا چاہیے اور اس کی ترقی کے لیے بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ کیونکہ کفایت شعاری اور سادگی ہی کامیاب زندگی کی اصل کنجی ہیں۔ چولستان کی رنگین ثقافت اور اس کے باسیوں کی محنت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ یہ ورثہ ہمیشہ زندہ رہے اور نئی نسلوں کے لیے مشعل راہ بنے۔

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،تیسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی

    خلاصہ
    اس قسط میں ہینڈی کرافٹ مقامی چنی کی معدومیت کے عوامل اور اس کے زوال پر بات کی گئی ہے۔جدید فیشن،معاشی مشکلات اور مقامی مارکیٹ کی کمی کی وجہ سے چنی کا استعمال کم ہو رہا ہے۔اس کا معقول معاوضہ نہ ملنا اور نوجوان نسل کی عدم دلچسپی بھی اس کی کمیابی کا سبب بن رہی ہے۔تاہم،سرائیکی ثقافت کے اس اہم جزو کو بچانے اور اس کی اہمیت کو دوبارہ اجاگر کرنے کی ضرورت ہے،تاکہ یہ قیمتی دستکاری زندہ رہ سکے۔

    تیسری آخری قسط
    چنی کا زوال اور اس کا مستقبل
    چولستان روہی میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔شادی بیاہ میں جہیز اس کے بغیر نامکمل تصور کیا جاتا ہے۔امیر مائی بچپن سے ہی خوبصورت چنیاں بناتی آئی ہیں۔ جو اب ہر علاقے کی خواتین خاص مواقع پر خریدتی اور اوڑھتی ہیں۔امیر مائی اور خالہ سلمی جیسی بے شمار غریب خوددار ہنر مند خواتین نے چھوٹی عمر میں اپنی نانی اور والدہ سے اس فن کو سیکھا اور پھر اپنی اولادوں کو سکھا رہیں ہیں۔دیرہ بکھا امیر مائی کا ہنر مند خاندان صدیوں سے اس کلچرل آرٹ سے منسلک ہے اور اس فیملی کا ذریعہ معاش بھی ہے۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا

    اس قبیلے نے نہ صرف اپنے بچوں بلکہ پورے عباس نگر کو یہ فن سکھایا ہے۔اور اب تقریبا پورا گاؤں اس کام سے منسلک ہوچکا ہے ۔یہ کام مشکل اور محنت طلب ہے۔سب سے پہلے کپڑا لیا جات ہے،اگر پورا سوٹ بنانا ہو تو چھ سے آٹھ میٹر تک کپڑا لگتا ہے۔اس پر سب سے پہلے پکے ٹھپے سے ڈیزائن بنایا جاتا ہے۔ پھر سوٹ یا الگ چنی پر کون سا ڈیزائن یا رنگ جچےگا،اس کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ رنگوں میں نفاست،پائیداری اور پکے رنگ ہوں۔

    سرائیکی رنگ بھری بہاولپوری چنی اپنی خوبصورتی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس قیمتی ہنر کی صحیح معنوں میں قدر و قیمت نہیں ہورہی۔اتنی محنت مشقت کے باوجود اس کا معاوضہ اس طرح نہیں ملتا،جتنا ہونا چاہیے۔اس مقامی دستکاری کا سب سے زیادہ فائدہ اس مقامی صنعت سے وابستہ کاروباری منافع خور لوگ اٹھاتے ہیں۔

    ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ سرائیکی وسیب اور دلہن کے لئے بنائی جانے والی چنی کی معدومیت کے پیچھے کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔سرائیکی دھرتی کا چنی کا کام ایک خوبصورت فنون لطیفہ کا شاہکار ہے۔جو ہینڈی کرافٹ کے زمرے میں آتا ہے،اس میں ثقافتی حسین رنگ
    ،علاقائی پہچان،اقتصادی اور سماجی عوامل شامل ہیں۔جدید مغربی فیشن اور ٹیکنالوجی نے سادہ نفیس خوبصورت لباسوں اور ثقافتوں پر اثر ڈالا ہے،جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کے درمیان مغربی طرز زندگی اور فیشن کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے روایتی کلچرل سرائیکی لباس کے حسن،چنی کے پہناوے میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

    عہدِ جدید کی اقتصادی مشکلات بھی غریب مقامی صنعت کے زوال کا سبب بن رہی ہیں۔چنی بنانے کا عمل محنت طلب اور مہنگا ہے،جس میں کئی قسم کی کڑھائی،رنگائی اور دیگر فنون شامل ہیں۔ مہنگائی اور معاشی مشکلات نے اب روایتی فنون کو زندہ رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔سرائیکی علاقوں میں چنی تیار کرنے والے ہنر مند افراد میں کمی واقع ہو رہی ہے،کیونکہ نئی نسل اس ہنر کو سیکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتی،جس کی وجہ سے یہ فن اور صنعت بتدریج معدومیت کا سامنا کررہی ہے۔

    مقامی کاروباری حضرات کی مارکیٹ میں غفلت اور سستی بھی اس شاندار تاریخی ہینڈی کرافٹ کو شدید خطرات میں ڈال دیا ہے۔سرائیکی چنئی والے عروسی لباس کی مقامی مارکیٹ میں کمی نے بھی اس کے استعمال کو متاثر کیا ہے،سب سے اہم مسئلہ حکومتی سطح پر سرپرستی کا نہ ہونا،ایکسپورٹ امپورٹ سہولیات کی عدم سہولیات،معاشی مالی بحران اور بےروزگاری ہے۔جس کی وجہ سے زیادہ تر لوگ مہنگی چنئی کی بجائے دیگر سستے اور آسانی سے دستیاب کپڑے خریدنے کو ترجیح دیتے ہیں۔عہد جدید میں نئی ثقافتی سرگرمیوں،ثقافتی تبدیلیوں کی دوڑ، گلوبلائزیشن اور مختلف ثقافتوں کے اثرات نے بھی مقامی ریت روایات اور رسم و رواج کو متاثر کیا ہے،جس کی وجہ سے سرائیکی چنی جیسے روایتی لباس کا استعمال کم ہوا ہے۔

    ان وجوہات کی بنا پر سرائیکی وسیب میں چنی کی ہینڈی کرافٹ معدومیت کے سفر پر گامزن ہے۔اور یہ ایک پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے۔جس کا فوری حل ضروری ہے۔اس کے لئے حکومتی اداروں، ثقافتی تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کو مشترکہ طور پر کام کرنا ہوگا تاکہ رنگوں کی امن پسند دنیا ہمیشہ آباد و شاد رہے۔ میرے نزدیک رنگ ہی خوبصورت زندگی کی گواہی ہیں۔سرائیکی حسین رنگوں کی روحانی دھرتی خوبصورت امن پسند رنگوں کا قصہ گاتی رہے اور ہم آپس میں امن ومحبت،اتحاد اور انسانیت کے رنگ ایک دوسرے کے ساتھ سانجھ کرتے رہیں۔

    باغوں میں رنگ برنگے پھول،خوبصورت چرند پرند کی رنگین پیاری آوازیں،انسانوں کے مختلف رنگ،پیارے دلکش چہرے،الگ روایتی لباس،متنوع ثقافتوں میں روحانی مادری زبانوں کے میٹھےسریلے انداز اور حسین رنگ برنگی وادیوں کی تخلیق،ندیوں،دریاوں،سمندر،اور آسمان سے بارش کے رنگ برنگے خوبصورت شبنم کے پھول کی مانند چکمتے قطرے کائنات کے حسن بھرے رنگین رازوں کی گواہی ہیں۔دنیا کو رنگ دو۔سرائیکی وسیب کے سنگ دو۔