Baaghi TV

Author: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،پہلی قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، ثقافت اور جمالیات کا امتزاج
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں سرائیکی خطے کی رنگین چنی کی جمالیاتی خصوصیات اور اس کے ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چنی کو دلہن کے لباس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے، جو شادی کے موقع پر اس کی خوبصورتی اور اہمیت کو بڑھاتا ہے۔ چنی کی مختلف رنگوں اور ان کے معنوں کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں سرخ، سبز، نیلا، گلابی، اور دیگر رنگ شامل ہیں، جو زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    پہلی قسط
    کائنات کی خوبصورتی رنگ اور عورت کے حسن سے مزین ہے۔ لال، سرخ، لالی، سرخی اور دلہن کا آپس میں گہرا، دلنشین، دلربا، رنگین، سجاوٹ بھرا، شاندار، پیارا رشتہ دو خاندانوں میں نئی زندگی، حیا، وفا، اعتماد، چاہت، خلوص،احترام، محبت و یقین کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوتا ہے۔ اللہ پاک حسین و جمیل خوبصورت ہے اور حسن و خوبصورتی کو بے حد پسند فرماتا ہے۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم: "دنیا کی بہترین خوبصورت متاع نیک بیوی ہے”۔ رنگ ہی سے رنگوں کی خوبصورت کہکشائیں، گلاب کی رنگینی سے خوبصورت دلفریب خوشبوئیں،گلاب کی پنکھڑی جیسی نرم و نازک حسین دلربا دوشیزائیں دلہنوں کی ادائیں حقیقت میں بہاروں کے موسم، موسیقی و نغمہ اور امن و محبت کا پیغام ہیں۔ چنی کے جمالیاتی خوبصورت رنگوں میں سرخ، سبز، میرون، نیلا، گلابی، پیلا،سفید، سکائی بلیو، سکن کلر، نارنگی، کیمل کلر زندگی کی سچائیوں اور امیدوں کے نام ہیں۔یہ سارے رنگ چنی کے رنگ ہیں

    سرائیکی وسیب کی دلکش چنی، جسے چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی کے مواقع پر خواتین کے لباس کا لازمی حصہ اور خطے کی ثقافتی شناخت کا اہم جزو ہے۔ چنی نرم، رنگین اور خوبصورت کپڑے کا وہ ٹکڑا ہے جو دلہن کے لباس کو مکمل کرتا ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے بلکہ سرائیکی وسیب کی پہچان، تہذیب و تمدن، سوچ، ریت، رسم و رواج کا ایک اہم حصہ ہے۔

    شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ یہ رسم و رواج کا حصہ ہے، جس سے سماج میں آپس میں یکجہتی، احساس اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔

    سرائیکی تہذیب و تمدن اور ثقافت کے رنگوں سے مالامال چنی سرائیکی وسیب میں شادی کے خاص موقع کا روایتی پہناوا بن چکی ہے۔ چنی جو شادی کے موقع پر دلہن کے لباس کا ایک لازمی جزو سمجھا جاتا ہے۔ جسے دلہن کے سر یا چہرے پر ڈالا جاتا ہے۔ اس کا مقصد دلہن کی خوبصورتی کو بڑھانا اور اس کے لباس کو مکمل کرنا ہوتا ہے۔سرائیکی وسیب میں چنی، جس کو چنری بھی کہا جاتا ہے، شادی و خوشی کے موقع پر اس کی اہمیت ثقافتی، سماجی اور جذباتی لحاظ سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

    اس کی اہمیت کو مختلف پہلوئوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔سرائیکی ثقافتی ورثے میں کھسہ کی طرح رنگوں بھری چنی بھی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم جزو ہے، جو نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔ اس میں مقامی ہنر مندوں کی مہارت اور محنت جھلکتی ہے، جیسے کڑھائی، رنگائی اور ڈیزائن کی منفرد مہارتیں جو اس لباس کو مخصوص اور بے مثال بناتی ہیں۔چنی دلہن کی شناخت ہے۔

    سرائیکی علاقے میں چنی خواتین کی محبت، عزت اور وقار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ شادی کے موقع پر دلہن کا چنی پہننا ایک خاص ثقافتی رسم و رواج اور روایت ہے، جو خاندانوں کی خوشی اور عورت کی اہمیت کا اظہار کرتا ہے۔ یہ دلکش لباس عموما سرائیکی دلہن کی خوبصورتی اور عزت کو نمایاں کرتا ہے۔
    جاری ہے….

  • سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا،دوسری قسط

    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    اس قسط میں چنی کی ثقافتی اہمیت اور اس کے سرائیکی وسیب کی پہچان پر زور دیا گیا ہے۔ چنی سرائیکی ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے، جس میں مقامی ہنر مندوں کی محنت اور مہارت شامل ہے۔ یہ لباس نہ صرف دلہن کی خوبصورتی کو بڑھاتا ہے، بلکہ اس کی عزت اور وقار کا بھی اظہار کرتا ہے۔ چنی شادی کے مختلف مواقع پر پہنا جاتا ہے اور اس کے ذریعے سماج میں یکجہتی اور محبت کو فروغ ملتا ہے۔
    دوسری قسط
    چنی کا ثقافتی پہلو اور سرائیکی وسیب کی شناخت
    رنگوں کی اپنی ایک مخصوص زبان اور اظہار ہوتا ہے۔رنگ کو زندگی کی خوبصورت علامت سمجھا جاتا ہے۔خوشی غمی دونوں میں رنگ کا ایک اپنا کردار رہا ہے۔شادی کی تقریبات میں خواتین رسم مہندی و جاگا پر چنی نہ صرف زیبائش کے لیے پہنتی ہیں۔ بلکہ یہ مختلف ثقافتی و سماجی تہواروں و رسومات میں بھی شامل ہے،جیسے بچے کی پیدائش،منگنی شادی کی تقریب،برات کی تقریب، گانا چھوڑانے کی رسم،عیدیا دیگر خوشی کے مواقع پر اس کا استعمال ہوتا ہے۔
    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی خطے کی رنگین چنی، دلہنوں کا دلکش پہناوا
    یہ رسم و رواج کا حصہ بن چکی ہے، جس سے خاندانوں اور سماج میں آپس میں محبت، یکجہتی،احساس ہمدردی اور رواداری کو فروغ ملتا ہے۔سرائیکی لوگ اپنے گھروں میں چنی کی خوبصورت رسم کو ساری رات جھمر رقص کی شکل میں گانوں کی دھنوں پر ادا کرتے ہیں۔

    سرائیکی چنی بنانے کے لیے مقامی کاریگروں کو سخت محنت کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام مقامی صنعت کے ساتھ معیشت کا ایک اہم حصہ بن چکا ہے۔ چنی کی تیاری اور فروخت مقامی سطح پر روزگار کے مواقع بھی فراہم کررہی ہے۔خواتین گھروں میں کام کرتی ہیں۔بازاروں میں بھی کام کیا جاتا ہے۔ بہاولپور کے شاہی بازار،رنگیلا بازار میں خصوصا خواتین کی بناو سنگھار کی اشیاء فروخت ہوتیں ہیں،جن میں چنی کو خاص مقام حاصل ہے۔

    پورے سرائیکی وسیب سمیت اسلام آباد، لاہور، ملتان، پشاور، کراچی، سکھر، پاکستان بھر کی خواتین سرائیکی خطے کی خاص چنی کو پہننا اپنے لیے عزت، شان،وقار، اعزاز و محبت کی علامت سمجھتی ہیں۔چنی میں ایک الگ جمالیاتی،جذباتی اور نفسیاتی اثر انگیزی پائی جاتی ہے۔چنی خواتین کی خود اعتمادی اور خوبصورتی میں بے پناہ اضافہ کرتی ہے۔یہ ان کے حسن،ثقافتی شناخت کا زیور اور اعلی کلاسک پہناوا بن چکی ہے۔اس کے ذریعے خواتین اپنی روایات،تہذیب وتمدن، تاریخ،کلچر،رتبہ،عزت اور خاندان کی محبت کا اظہار کرتیں ہیں،جو ان کے تخیلاتی معیارات،جذباتی
    اور نفسیاتی سکون کے لیے اہم ہے۔

    سرائیکی وسیب میں چنی کی اہمیت صرف ایک روایتی لباس کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ اس علاقے کی پہچان،امن ومحبت،ثقافت،ادب، تہذیب و تمدن اور معاشرے کی رنگین گہرائیوں سے جڑی ہوئی ہے۔ماضی میں سرائیکی وسیب اور دیگر علاقوں میں دلہن کے لباس کو مکمل سمجھنے کے لیے چنی کا ہونا ضروری جانا جاتا تھا۔

    کیونکہ یہ ایک مخصوص سرائیکی علاقے روہی چولستان بہاولپوری ثقافتی اور روایتی رنگوں کی خوشبو کا عکاس ہے۔آج جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اس کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔اس کی ڈیمانڈ دبئی،سعودی عرب،انگلینڈ،امریکہ،انڈیا راجستھان تک ہے۔جہاں جہاں سرائیکی افراد موجود ہیں وہ اپنی روایتی رنگولی چنی کو خوشی و شادمانی کی علامت سمجھ کر اعزاز و شان سے پہن کر فخر محسوس کرتے ہیں۔

    امیر ترین سابق سرائیکی عباسیہ ریاست بہاولپور کے دیہاتی علاقے عباس نگر، چنی دا گوٹھ (چنیاں بناون والیاں دی چھوٹی وستی) جس کی چنیاں دنیا بھر میں مشہور ہیں۔اس کے علاوہ تحصیل احمد پور شرقیہ اور قدیم تاریخی شہر اوچ شریف میں بھی گھروں میں محنت کش خواتین چنیوں کے کپڑے پر خوبصورت گوٹہ کناری کا باریک کام کرکے دوسرے شہروں میں فروخت کے لیے بھیجتی ہیں۔احمد پور شرقیہ کے محلہ شکاری کی خود دار بیوہ خالہ سلمی اپنے گھر اپنی یتیم بچیوں کے ساتھ سارا سارا دن چنی پر گوٹہ کناری سے سخت محنت طلب کام کرکے اپنے غریب خاندان کا پیٹ پال رہی ہیں۔

    اسی طرح سوشل میڈیا رپورٹ کے مطابق بہاولپور،ڈیرہ بکھا، تحصیل خیر پور ٹامیوالی،چشتیاں ،حاصل پور، بہاول نگر روڈ پر واقع عباس نگر دیہات کی گیارہ سال کی عمر سے ہی چنیاں بنانے والی امیر مائی کا کہنا ہے کہ پہلے صرف چولستان کی خواتین ہی اس کو پہنتی تھیں،لیکن اب بہاولپور کی چنیوں کی طلب پوری دنیا میں ہو رہی ہے۔روہی چولستان میں نان مسلم ہندو کمیونٹی، جن کو سرائیکی وسیب میں مڑیچہ کہا جاتا ہے،قدیم وادی ہاکڑہ تہذیب و تمدن کے ڈیراوری قبائل میں بھیل،کول،سنتھال صدیوں سے اپنی رنگین چنی کے پہناوے سے منسلک آ رہے ہیں۔عباس نگر گاؤں کی بنی ہوئی رنگ برنگی، مخصوص پکے ٹھپے کے ڈائزین سے بنی چنیاں نہ صرف بہاولپور بلکہ پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتی ہیں ۔۔
    جاری ہے

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،تیسری قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    تیسری و آخری قسط
    جدید دور میں سرائیکی لوک گیتوں کے اثرات اور تحفظ کی تجاویز
    سرائیکی لوک گیت نہ صرف سرائیکی ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں بلکہ جدید فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔ان گیتوں نے ریڈیو پاکستان ملتان،بہاولپور،ڈیرہ اسماعیل خان اور سرگودھا کے ذریعے بین الاقوامی شہرت حاصل کی۔سرائیکی لوک گیتوں کو دستاویزی شکل میں محفوظ کرنے کے لیے تحقیقی مراکز کا قیام ضروری ہے۔ان گیتوں کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جائے تاکہ نئی نسل ان کے ورثے کو سمجھ سکے۔
    لوک فنکاروں کی سرپرستی اور ان کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔سرائیکی لوک گیت دھرتی کے پھولوں کی مانند ہیں جو اپنی خوشبو اور خوبصورتی سے نسل در نسل لوگوں کے دلوں کو معطر کرتے رہیں گے۔ان گیتوں کے ذریعے سرائیکی ثقافت کا پیغام محبت، امن اور یکجہتی پوری دنیا میں پھیلتا رہے گا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی لوک گیتوں کی تاریخ بھی اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود سرائیکی شاعری کی تاریخ ہے۔سرائیکی وسیب میں اہم لوک گیتوں کےنمونے سرائیکی قومی شعور،مزاج اور دھرتی کے رسوم و رواج روایات کی عکاسی پیش کرتےہیں۔ریڈیو پاکستان بہاولپور، ریڈیو پاکستان ملتان، ریڈیو پاکستان ڈیرہ اسماعیل خان، ریڈیو پاکستان سرگودھا نے سرائیکی خوبصورت لوک گیتوں کو بلندیوں تک پہنچایا۔سرائیکی عام لوک فنکاروں کو صدراتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بنایا۔ریڈیو پاکستان پر چلنے والے سرائیکی لوک گیت بچوں،نوجوان،عورتوں اور بوڑھوں میں یکسر مقبول تھے۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    آج بھی نئی نسل کو بوڑھے بزرگ سرائیکی لوک گیت سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کرکے خوشی محسوس کرتے ہیں۔اب نوجوان نسل اپنے قومی ورثے کی حفاظت خود کرے گی۔سرائیکی وسیب نگری مظہر جلال ہے۔یہاں کے لوک گیت خواجہ غلام فرید کی مادری زبان سرائیکی کے271 کافیوں نے ہر طرف خوشبو بکھیر دی ہے۔آج بھی روہیلا اپنے اونٹ،بھیڑ بکریوں،گائے کے ریوڑ کے ساتھ تصوفانہ کرشماتی مادری زبان سرائیکی میں لوک گیت گا کر اپنا سفر طے کرتاہے۔جس طرح بچہ صرف ماں کی گود میں ماں کی لوری سن کر اپنے آپ کو محفوظ اور روحانی اطمینان وسکون قلب محسوس کرتاہے۔اسی طرح مادری زبان میں لوک گیت ہی انسانوں کی جنت کے میٹھے سریلے ملی نغمے ہیں۔تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ انسانوں کی اخلاقی اقدار کی تربیت اور رشدوہدایت کے لیے مادری زبان ہی کو ذریعہ اظہار اپنایا ہے۔
    اساں لوک سرائیکی
    ساڈی جھوک سرائیکی
    اساں امن محبت دے داعی
    اساں نگر پریم دے واسی

    میری بیٹی رابیل الطاف ڈاھر، عبداللہ سچل ڈاھر سے چھوٹی مگر زینب رابیل الطاف سے بڑی ہے۔مائی کلاچی کے جدید روشنی کے شہر سابق دارالحکومت پاکستان،سندھ صوبےکا مرکزی تجارتی بین الاقوامی شہرت یافتہ شہر کراچی،غریب کی ماں،محبت وامن کا خوبصورت سمندری خطہ سیکٹر سرجانی ٹاون میں رہائشی نانا نانی،ماما مامی،اب چھوٹے ماموں کی شادی پر خود بخود سہرے خوشی کے گیت اپنے شہر احمدپورشرقیہ گھر میں گا رہی ہے۔”پیارا گھوٹ ماموں جیوے،سہرا پاوے خوش تھی وے”اپنی والدہ کو گنگاہٹ میں سنا کر داد تحسین پاتی ہے۔میرے لئے ایک حسین دلربا منظر ہوتاہے۔عجیب خوشی کا سماں ہوتا ہے۔جذبوں کی نہ تھمنے والی دلکش روح پیدا ہوتی ہے۔یہ سحر انگیزی سرائیکی لوک گیت میں ہے۔چند سرائیکی مشہور لوک گیتوں کے نمونے ملاحظہ فرمائیں۔
    بچوں کے گیت
    جھل پکھا تے آوے ٹھڈی وا
    میڈے ویرکوں مہندی دا رنگ چالا

    خوشی پرنے(شادی) کے گیت
    "پُھلاں والی ارائین سہرا پھلاں دا پوا
    جیوی پیو تے بھرا،ساڈا دل نہ رنجا”

    شادی کے موقع پر گاناں بدھائی کا گیت
    "تیڈے گانے کوں لاواں گھیو خاناں
    تیڈی جنج سوہیسی پیو خاناں
    تیڈی خیر اللہ ہوسی ہن گانا بدھ خاناں”

    مہندی کے گیت
    "مہندی کوں لاواں مینڑ
    تیڈیاں ویلاں گھلیسم بھینڑ”

    شادی سہرے کے گیت
    "حوراں پریاں سہرے گانون
    وارو واری ویلاں پانون

    وے میں سہرا تیڈا گانواں وے
    شہزادہ بنا وے، سوھنا بنا وے”

    "میں تاں تھال مہندی دا چائی کھڑی آں
    میں تاں پھلاں واری سیج سجائی کھڑی آں”

    دوران رقص سرائیکی جھمر کے گیت
    "کوٹھے تے پڑ کوٹھڑا وے
    تے کوٹھےسکدا اے گھا بھلا
    لکھ لکھ چٹھیاں وے
    میں تھک ہٹیاں
    تو کہیں بہانے آ بھلا”۔

    "دل تانگھ تانگھے،
    اللہ جوڑ سانگھے
    سجناں دا ملنا
    مشکل مہانگے”

    سرائیکی ریاست بہاولپور کا سرائیکی لوک گیت سرائیکی ساڑھے سات کروڑ سرائیکی صوبے سے محروم سرائیکی قوم کا قومی لوک گیت اب سرائیکی ترانے کا روپ دھار چکا ہے۔میلوں اور یونیورسٹی کلچرل فیسٹیول میں نوجوان نسل کا روحانی منزل مقصود بن چکا ہے۔آج کل سوشل میڈیا پر ہر طرف اس کی گونج ہے۔دیرہ جات میں سرائیکی لوک گیت نوجوان نسل کا خوبصورت ثقافتی روحانی نغمہ بن چکا ہے۔سرائیکی علاقوں میں جھنگ اور میانوالی کو سرائیکی وسیب کی شعر ونغمہ کی سرزمین کہا جاتا ہے
    کھڑی ڈیندی آں سنہڑا اناں لوکاں کوں
    اللہ آن وساوے ساڈیاں جھوکاں کوں

    چھلے کے گیت
    "چھلا پاتی کھڑی آں ہک
    میڈی نئیں پئی لاہندی سک
    میکوں تیڈی پئی اے چھک
    منہ ڈکھاویں چا”۔

    تیڈے کھوہ تےآئیاں پانڑی پلا ڈے
    سخناں دا کوڑا ساڈے چھلڑےولا ڈے

    ڈھولے کے گیت
    "بزار وکاندی تر وے
    میڈا سوڑی گلی وچ گھر وے
    تے پیپل نشانی وے ڈھولا
    بزار وکاندی پنڈ وے
    تیڈے بت وچ میڈی جند وے
    ہکو کر سمجھیں وے ڈھولا”۔

    نہ مار جھمراں نظر لگ ویسی میڈا "نکا جیا ڈھولا دل کھس ویسی”

    "میں اتھاں تے ڈھول ملتان اے
    ساڈی ڈھولے دے وچ جان اے”

    ماہیے کےگیت
    "ککراں دے پھل ماہیا
    اساں پردیسی ہیں
    ساڈے پچھوں نہ رُل ماہیا”

    "او ماہیا ماہیا پھل گلاب دا”۔

    "بالو بتیاں وے ماہی ساکوں مارو سنگلاں نال
    پتل بنڑایوس سوھنا بنڑساں عملاں نال”

    سوھنڑیا او ماہیا قد سجناں دا چھوٹا اے،اوڈو چن دا او ٹوٹا اے

    رسنڑ/روٹھنے کے گیت
    میڈا چن مساتا،میڈا چن مساتا
    اینویں نی کریندا،لوکاں دے آکھے رُس نئیں ونجیندا”۔

    "وے بھورل آ وے بھورل آ
    ہک واری کھل تے آلائی ونجن”

    "کڈاں ول سو سوھنا سانول آ
    وطن ساڈے غریباں دے”

    "ساوی موراکین تے بوٹا کڈھ ڈے چولے تے
    رُٹھی نی منیساں بہوں ناراض ہاں ڈھولے تے۔”

    سرائیکی لوک گیت دراصل سرائیکی وسیب کا منظر نامہ ہیں۔خوف،خوشی و غمی کے موقع پر انسان نے گنگاہٹ سے دونوں ہاتھوں کی برابر ردھم،سر سنگیت کے فن کمال سے محبت کے گیت گا کر دنیا میں امن کےپیغام کو عام کیا تھا۔آج پھر سے سرائیکی سہرے کا محبت نامہ نئی نسل تک پہچانا ہوگا۔سرد موسم ،محبت و امن کا گہوارہ اور بہاروں کا نام ہے۔عاشقوں کے لیے چاہت کی درگاہ ہے۔دنیا میں نفرت،دشت گردی،حرص و ہوس،لالچ کو سادہ نفیس مٹھاس بھرے رسیلے خوبصورت سرائیکی لوک گیتوں میں سادگی،محبت،احترام آدمیت،خلوص جیسے موضوعات کی بدولت ہر برائی سے نمٹا جاسکتا ہے۔سریم کے پھل،سرسوں کا ساگ، مکھن مکئی اصل میں خوشحالی و ترقی اور امید نو کا نیا ماہ جنوری 2025مبارک سال کا خوبصورت لوک گیت ہے۔
    بازار وکیندیاں گندلاں
    ڈینہہ ڈس گیوں پورے پندراہاں
    مدتاں لایاں نی ہو ڈھولا!
    ختم شد.

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی لوک گیتوں کی اقسام اور ان کی مثالیں
    سرائیکی لوک گیتوں کو مختلف اقسام میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جن میں ہر قسم انفرادیت اور جذبے کی حامل ہے:
    لولی (لوری): ماں کی ممتا کے رس سے بھرے گیت،جو نومولود بچوں کے لیے گائے جاتے ہیں، مثلاً:
    "لولی دیندی تھیندی ماء واری،اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری”
    "الا اللہ ،اللہ ہو مٹھا توں ،الا اللہ،اللہ ہو مٹھا توں”
    شادی کے گیت: شادی کی تقریبات میں خواتین کے گائے جانے والے گیت، جن میں خوشی اور محبت کا اظہار ہوتا ہے، جیسے
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں،ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں”
    دھرتی کے گیت: یہ گیت فصلوں کی کٹائی، درگاہوں کی زیارتوں، اور روزمرہ زندگی کی عکاسی کرتے ہیں، جیسے:
    "آچنوں رل یار پیلھوں پیکیاں نی وے”
    روحانی گیت: یہ گیت مذہبی اور روحانی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں، مثلاً:
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال،جھولے جھولے لال دم مست قلندر”
    دوسری قسط
    عام طور پر سرائیکی لوک گیت ” سہرے ” کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔جس میں سرائیکی لوک گیت ٹہر کو روحانی عقیدت کی عظمت وفیض سمجھا جاتا ہے۔دکھ تکلیف کو ٹالنے کے لیے سرائیکی لوک میلوں کے موقع پر صوفیاء کرام کی امن پسند درگاہیں پر لوگ اپنی امیدیں، خواہشات اور آسوں کی تکمیل کے لیے منقبت پیر مرشد لوک گیت کی شکل میں گاتے اور روحانی فیض پاتے ہیں۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    برصغیر پاک وہند میں اولیاء اللہ کرام سے بے پناہ محبت میں لوک گیت سہرے گاکر اپنی خوشیاں منت منوتیاں پوری کرتے ہیں۔سرائیکی دھرتی تصوف سے مالامال ہے۔اوچ شریف، ملتان شریف، کوٹ مٹھن شریف، سخی سرور شریف،تونسہ شریف،خانگاہ شریف، پاک پتن شریف،چشتیاں شریف، درگاہ شور کوٹ باہو سلطان، چنن پیر،شاہ جیونہ شریف روحانی آستانے سرائیکی لوگوں کے امن و امان کے روشن مراکز ہیں۔میرے روحانی مرشد کامل حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری علیہ الرحمہ اوچ شریف برصغیر پاک وہند سرائیکی وسیب تحصیل احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور کی مشہور منقبت سرائیکی لوک سہرا گیت۔
    "جیوے جیوے سید جلال قطب کمال، جھولے جھولے لال دم مست قلندر،سہون دی سرکار دم مست قلندر،پیر سید سرخ پوش بخاری جلال دم مست قلندر”۔۔۔۔۔

    سرائیکی لوک گیت درحقیقت سرائیکی صحراء و جنگل میں پیدا ہونے والے پھول ہوتےہیں جو اپنے رنگوں،خوبصورتی اور خوشبو سے ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں۔یہ دھرتی سے جنم لیتے ہیں اور دھرتی واسیوں کے ہاتھوں پھلتے پھولتے ہیں۔اور پھر ایسا سایہ بن جاتے ہیں کہ ان کے سائے میں بیٹھنے والے یعنی اس گیت کو سننےوالوں کی ساری تھکن اتار دیتے ہیں۔یہ دیہاتی لوگوں کے سیدھے سادے دلوں سے نکلے جذبوں کا خوبصورت ترین اظہار اور آنکھوں کے موتی ہیں جو گیت کے خوبصورت بول بن ہار کا روپ دھارجاتے ہیں۔

    ان گیتوں میں معصوم لوگوں کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کے رنگ اور ان کی بھولی بھالی امنگوں اور خواہشوں کے سائے لمبے ہوتے نظر آتے ہیں۔جو پوری نہیں ہو سکتیں اور اداس نم دلوں کیلئے سرخ خون رنگ بن جاتی ہیں۔اکثر لوک گیتوں میں کئی مقامات پر زندگی کی سچائیاں ایسی سادگی اور محاورے دار موتیوں جیسی بولی میں جڑی ہوتی ہیں کہ وہ دلوں کو موہ لیتی ہیں۔

    یہ گیت نسل در نسل،پیڑھی در پیڑھی یادوں کے رومانس میں چلے آرہے ہیں۔یہ خوشیوں و محبت بھرے لوک گیت خوبصورتی سے گزرے وقت کی یاد تازہ کرکے آنے والی نسلوں کو پیار بھرا پیغام پہنچا نےکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ہر لمحہ یاد گار بنانےاورہمیشہ دل و دماغ کو تروتازہ رس بھرا رکھتے ہیں۔سرائیکی وسیب میں پیدائش پر اولاد کی خوشی کے سہرےگیت،شادی خانہ آبادی مبارک کے خوبصورت گیت،بیٹی دلہن کی ڈولی کے موقع کےسہرے،جھوک جنج کی واپسی کے گیت،پکھیوں کےگیت،مہندی،جاگے،جھمر،چرخے،چھلے،ڈھولے،ڈوہڑیہ گیت فصلوں کے گیت، درگاہ پیر فقیر کی زیارتوں کے گیت،ساون کی خوش کےسہرے،سگن،فصلوں،کھیلوں،لوری یا لولی،ماہیے،میل میلاپ،ہجر وصال،دھرتی وغیرہ کے گیت رائج ہیں۔ہماری تہذیب و تمدن،رہن سہن،ثقافت کی بھرپور انداز میں عکاسی کرتے ہیں۔

    شہری زندگی میں تو یہ آہستہ آہستہ یہ رسمیں،رواج ریتیں معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔لیکن دیہاتی سادہ مٹھاس بھری زندگی اور ماحول نے ابھی بھی کسی حد تک ان صدیوں پرانی رسوم و رواج اور ریت روایت نے لوک گیتوں کو زندہ رکھا ہوا ہے۔۔ جاری ہے

  • سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت،پہلی قسط

    سرائیکی دھرتی کے خوبصورت لوک گیت
    تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    altafkhandahir@gmail.com
    سرائیکی لوک گیتوں کا تعارف اور تاریخی پس منظر
    سرائیکی دھرتی کی لوک روایت میں گہرائی اور خوبصورتی سے بھرپور لوک گیت، جنہیں سرائیکی زبان میں "سہرے” کہا جاتا ہے، دھرتی کی ثقافت، امن، محبت اور فطری جذبات کا اظہار ہیں۔یہ گیت انسان کے جذباتی،سماجی اور روحانی احساسات کے عکاس ہیں۔ سرائیکی لوک گیت درحقیقت ادب، تہذیب، تمدن اور ثقافت کے مضبوط ستون ہیں، جو دھرتی کی رگوں میں گہرے طور پر پیوست ہیں۔یہ گیت خوشی،غم، محبت، رنج اور امیدوں کا خوبصورت قصہ سناتے ہیں۔ان کی جڑیں وادی ہاکڑہ،سرسوتی اور سندھ کی قدیم تہذیبوں میں ہیں،جہاں موہنجوداڑو، ہڑپہ اور گنویری والا جیسے تاریخی شہروں کی کھدائی سے موسیقی اور آرٹ کے شواہد ملےہیں۔سرائیکی وسیب کے گیتوں کی آوازیں روہی، چولستان، بیابان اور دریاؤں کی سرزمین سے اُبھرتی ہیں، جنہیں سادہ دل لوگ خوشیوں اور غموں کے مواقع پر گا کر اپنی جذباتی وابستگی کا ظاہر کرتے ہیں۔
    پہلی قسط :
    اشرف المخلوقات انسانی سماج میں ہر قوم،قبیلے،دھرتی اور علاقے کے اپنے خوبصورت لوک گیت جن کو سرائیکی زبان میں سہرے کہا جاتا ہے،ایک الگ پہچان اور امن و محبت کا دلفریب بے ساختہ جذبوں کا اظہار ہیں۔یہ درحقیقت ادب،تہذیب وتمدن اورثقافت کے مضبوط ترین تنا آور سرسبز پیلھوں اور پیپل کے درخت کی طرح دھرتی کی رگوں میں گہرے جڑے ہوئے ہیں۔غلام بادشاہ،امیرغریب،کالےگورے کے گھر بچے کی پیدائش،شادی اور موت پر احساسات و جذبات کی نیں کا وجود میں آنا انسانی فطری جبلت ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح جنگل،بیلا،روہی چولستان،بیابان،پہاڑ،دریا اور سمندر کے کنارے خود رو جڑی بوٹیاں کا پیدا ہونا ہے قدرتی عمل ہے۔خوشی و غمی کے موقع پر اظہار محسوسات سے آنکھوں کی مدد آنسوؤں کا باہر نکلنا بشری تقاضاہے۔ تمام انسانوں کے تخیلاتی معیارات،زبانیں،اشکال،بناوٹ،ہیئت سوچنے سمجھنے کے پیمانہ مختلف ہیں۔اسی طرح انسان سماجیات بھی الگ الگ ہیں۔ہر قوم و قبیلے کے رسم ورواج،ثقافت،رہن سہن،زبان،لوک ادب کے انداز بھی ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔

    سرائیکی وسیب چھ ہزار سال قدیم تہذیب وتمدن وادی ھاکڑہ سرسوتی وسندھ کا خوبصورت راوا،دمان،روہی،تھل پر مشتمل موسیقی و نغمہ سے بےپناہ محبت کرنے والا علاقہ ہے۔آثارقدیمہ ریسرچ ورک کے دوران پرانے گمشدہ شہروں کی کھدائی سے موہنجوداڑو،ہڑپہ اور گنویری والا سے دریافت ڈاینسنگ کوئین،خوبصورت عورتوں کے زیورات کا ملنا فنون لطیفہ سے عشق کا قصہ ہے۔آواز کی مٹھاس ہر ذی روح کی روحانی غذا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اللہ پاک پیارے نبی حضرت داؤد علیہ السلام پر زبور کو خوبصورتی سے گاکر حمد وثنا پیش کرنے کا حکم ربی تھا۔ان کا سر سنگیت سے گیت کی شکل میں گانے سے کائنات کی ہر چیز جھومتی تھی۔آج بھی بچے کی تخلیق پر خوشی کے اظہار کے لیے سرائیکی خطے میں دادیاں،نانیاں، ماسیاں، چاچیاں،بویاں،،سوتریں،مساستیں،مولیریں،پھپھڑیں،حق ہمسائے،تمام عزیز اقارب چھٹی کے موقع پر سہرے گیت گاکر اپنی خوشیاں ایک دوسرے کے ساتھ سانجھی کرتے ہیں۔لوک ادب جس کو عام طور پر عام لوگوں کا کہا جاتاہے۔

    اس کی ایک خوبصورت شاخ لوک گیت سہرے ہیں۔سرائیکی لوک گیت سہروں کے خزانوں سے مالامال ہے۔لوک گیت دراصل انسانی جذبات کا بےساختہ اظہار کا نام ہے۔لوک گیت انسانی امنگوں، جذبوں ،امیدوں،نا مکمل خواہشات کا اظہار،شعور و تخیل کا خوبصورت گلدستہ ہیں ۔لوک گیت چرند،پرند بلبل اور کوئل کی حسین آوازوں کا پیار بھرا نغمہ ہیں۔مرد عورت کے آپس میں ملاپ و رشتے کی خوشبو ہے۔آزاد اظہار کا مضبوط حوالہ ہے۔آج کی فلم و ڈرامہ انڈسٹری کو پھر سے عروج یافتہ بنانے کے لیے سرائیکی لوک گیتوں کا سہارا لینا پڑے گا۔

    شاعری کا ایک مصرعہ صدیوں تک گایا جاتا ہے۔لوک سہرا یا گیت ہمیشہ ایک علاقے کی تاریخ،جغرافیہ، ثقافت،تہذیب وتمدن،سوچ وچار،پیغام امن و محبت تصوف کے اس خطے لوگوں کی داخلی و خارجی احساسات کا ترجمان ہوتاہے۔خالص علاقائی صنف نازک ہوتی ہے۔سرائیکی ماہر سماجیات، لسانیات و فریدیات پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیت کو اس طرح بیان کرتےہیں” یہ سرائیکی دھرتی کے لوگوں کے عقیدے،دکھ سکھ، محبتیں، محرومیوں اور نا مکمل خواہشات و امیدوں کا نام ہے”۔ لوک گیت کا نمونہ "اللہ جانڑے تے یار نہ جانڑے میڈا ڈھول جوانیاں مانڑے۔میں تاں پانڑی بھریندی ہاں جھک دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا، میڈا ڈھول مسافر نت دا”۔سرائیکی لوک گیت میں بچھڑ جانے،موت کی گھاٹی میں جانے والے محبوب کا غم اس طرح گا کر منایا جاتاہے۔
    "گیا رول راول وچ روہی راوے ، نہ یار ملدا نہ موت آوے”

    لوک گیت عموما وہ ہوتے ہیں،جس کے تخلیق کار اجتماعی ہوں۔مگر سرائیکی شعراء کرام نے بھی انفرادی طور سرائیکی لوک گیت سہرے بھی تخلیق کیے ہیں۔جن کو مشہور سرائیکی لوک گلوکار عطاء اللہ خان عیسوی خیلوی،حسینہ ممتاز،ثریا ملتانیکر،مستانہ پروانہ،پٹھانے خان، منصور ملنگی، اللہ ڈتہ لونے والا جیسے نامور سرائیکی فنکار اپنے سر سنگیت فن موسیقی میں لوہا منوا چکے ہیں۔لوک گیت خود سے دل کی حویلی سے دھڑکن بن کر نکلتے ہیں اور پورے سرائیکی وسیب میں خوشبو کی طرح پھیل جاتے ہیں۔سرائیکی مہان کلاسک شاعر رفعت عباس کی مشہور غزل جس کو خوبصورت آواز میں ریڈیو پاکستان ملتان اسٹیشن سے ترنم سوز گائیکی میں نامور سرائیکی لوک گلوکار سئیں منصور ملنگی نے گا کر سرائیکی وسیب کی اجتماعیت کا عالمی دستاویزی ریکارڈ بنایا۔
    "کیویں ساکوں یاد نہ راہسی اوندے گھر دا رستہ ،ڈو تاں سارے جنگل آسن ترائے تاں سارے دریا”
    ” واہ جو پیار کیتوئی، رول ڈتوئی وچ روہی واہ وہ سجن تیڈے وعدے”۔
    سرائیکی مشہور لوک گیت کے خوبصورت بول سنگر حسینہ ممتاز کی آواز میں ہر عام وخاص کو یاد ہیں۔"رانڑی پٹھانڑی، ڈیراور دی نشانی، ویڑن پرنیا آندا اے رانڑی پٹھانڑی”۔سرائیکی وسیب کے لیے سرائیکی لوک گیت سہرے عظیم ثقافت کے امین ہیں۔

    سرائیکی دانشور ریاض انور کے مطابق ” سرائیکی لوک گیتوں نے سرائیکی خطے کے معصوم لوگوں کے دلوں میں جنم لیا۔گہرے جذبوں نےان کے اندر دکھ درد کی چنگاری کو خوب تاپ دی۔آنسو کے دئیے جل رہے ہیں۔ہلکی مسکراہٹ کی سات رنگوں کی روحانی دھڑکن جھول رہی ہے۔یہ سہرے دوشیزائیں نیم،ٹالہی،شرینہ کے خوشبو دار درختوں کے سائے میں بیٹھ کر چرخہ کاٹتے گاتیں ہیں اور نوجوان پیلوں اور کھجور اکٹھی کرتے وقت گاتے ہیں۔
    پیلو پکیاں وے پیکیاں نی وے
    آچنوں رل یار
    پیلو پیکیاں نی وے
    کئی بگڑیاں ،کئی سایاں پیلیاں
    کئی بھوریاں ،کئی پھکڑیاں نیلیاں

    عالمی مفکر ڈونلڈ کینی کا کہنا ہے” لوک گیت کا بیج انسانی دل سے پھوٹتا ہے،لفظوں کے بے انت پتوں کی صورت پھیل جاتا ہے۔انسان آپنی زندگی میں جو کچھ دیکھتا ہے،سنتا ہے، احساس کو اپنے تخیل کے ذریعے ظاہر کرتا ہے” ڈبلیو پی کر آپنی کتاب "فارم اینڈ سٹائل ان پوئٹری” میں لوک گیت کی "دو قسموں میں پہلی وہ قسم جس میں سوسائٹی وس وسیب کی اجتماعی یادداشت،محرومیوں کا خوبصورت احساس،شناخت کا مطالبہ،رسمیں،ریتیں اور رواج کا خوبصورت اظہار ہو،جبکہ دوسری قسم میں مخصوص فرد یا تخلیق کار کی نویکلی تخلیق کارفرما ہو۔”۔

    بشر کی طرح ہرجاندار مخلوق اپنی خوشی،غم،محبت اور نفرت کےجذبات و احساسات کا اظہار مختلف انداز یعنی آوازوں اور حرکتوں سے کرتی ہے۔انسانی ہسٹری کے حوالے سے دیکھا جائے تو جب انسان بولنا نہیں جانتا تھا تو اپنے جذبوں کا اظہار لفظوں کی بجائے حرکت و سکنات سے کرتا تھا۔یہی سےلوک رقص جھمر کی تخلیق ہوئی۔وقت گزرنے کے ساتھ انسان نے اپنے محسوسات اور جذبوں کو لفظوں کا روپ دیا۔آخرکار یہ لفظ گیت بن گئے۔ان گیتوں کی وجہ کسی شاعر کی شعوری کوشش نہ تھی اور نہ ہی ان پر کسی شاعر کی چھاپ لگی ہوئی ہے۔

    سرائیکی شاعر ڈاکٹر خالد اقبال سرائیکی لوک گیت سہرے بارے اپنے بیان میں کہا "جب تک سرائیکی قوم کی مائیں بچوں کو جنم دیتیں رہیں گیں۔سرائیکی لوک سہرے دنیا میں تخلیق ہوتے رہیں گے”۔ان گیتوں میں شاعری کی فنی باریکیوں کی بجائے جذبوں کا اظہار نمایاں ہوتا ہے۔ہمیں کبھی کبھار تو لوک گیتوں کے بارے میں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ کون کون سے بول ان میں کب شامل ہوئے۔ہم صرف ان گیتوں کے ذریعے اپنے من میں اٹھتے ہوئے جذبات،امنگوں اور خواہشات کا اظہار کرتے اور لطف اٹھاتے ہیں۔

    سابق چیئرمین شعبہ سرائیکی و ڈین فکلٹی آف آرٹس اینڈ لینگؤیجز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور (پاکستان) پروفیسر ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو سرائیکی لوک گیتوں کی چار اقسام لکھیں ہیں۔ پہلی صنف لولی ہے۔جس میں نئے جنم لینے والے بچہ کو ماں اپنی ممتا کے رس بھرے گیت سہرے سے استقبال کرتی ہے۔مثال کے طور پر ”
    "لولی ڈیندی تھیندی ماء واری
    اکھیں تے رکھدی تیڈی جند پیاری
    لولی ڈیندی ونجاں میں گھولی
    لولی ڈیندی۔۔۔۔۔۔۔۔

    دوسری قسم میں پورے سرائیکی وسیب کےخوبصورت اجتماعی لوک گیت، اجتماعی یادداشت،رسمیں،رواج، روایات شامل ہیں۔شادی کے موقع پر "سوئی وری” کی رسم۔جب سرائیکی عورتیں جہیز کا سامان دیکھاتیں ہیں اور گیت گاتیں ہیں۔
    "پوپا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈیکھیساں یار سجن کوں
    چوڑا میں پیساں تے پا ٹھمکیساں
    ونج کے ڈکھیساں یار سجن کوں۔”

    تیسری قسم میں جب کوئی گمنام شخص کسی تجربے سے متاثر ہوکر اپنے جذبوں کا اظہار نمایاں کرے۔پھر یہ احساسات انفرادیت سے اجتماعی کا روپ دھار لیں۔سرائیکی لوک اصناف میں گانمن،سمی، ڈھولا،بگڑو،سندھی وچ ہوجمالو ہیں۔عورت کے نام سے وابستہ صنف ہے۔عشق کا اظہار ہے۔ہیئت میں اس کو ماہیا بھی کہا جاتا ہے۔
    "کوٹھے تے راہ کائنی
    ملاں قاضی مسئلہ کیتا
    یاری لاون گناہ کائنی”

    "کالے بدل پہاڑاں دے
    ڈانگاں دے پھٹ مل ویندے
    بول نہ وسرن یاراں دے”

    چوتھی قسم سرائیکی لوک گیت سہرے کی جس میں مذہبی و روحانی جذبات و عقائد کی ترجمانی ہو۔ٹہر یعنی منقبت۔ مدح،مناجات، معجزہ،مولود، نعت شریف وغیرہ سرائیکی وسوں کے لوگوں کے لیے روحانی آسودگی کا حصول ہیں۔
    جاری ہے۔۔

  • کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟

    کیا مادری زبان انسانی معاشرے میں یکجہتی،ادب اور ثقافتی شعورکا نام ہے؟
    تحریر :ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    ہر سال اقوام متحدہ کی طرف سے 21 فروری کو مادری زبانوں کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے دنیا میں دن منایا جاتا ہے۔مادری زبان کیا ہے؟ اس کی سماج میں کیا حیثیت ہے؟ اس کا انسانیت کی بقاء و خوشحالی میں کوئی کلیدی کردار ہے؟چند سوالات کی تحقیقات کے بعد ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر کائنات کی تخلیق میں مرکزی اہمیت موضوع انسان ہے تو پھر لسان کی بدولت انسان عظیم سے عظیم تر، فن سے فنون لطیفہ تک ہر شے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ہر چیز کی سجاوٹ زبان کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔نامعلوم سے معلوم تک ، زمین سے آسمان تک کا ناقابل تسخیر سفر زبان کا مرہون منت ہے۔جس کو لینگویج بھی کہا جاتا ہے۔

    علم وادب کے سارے خزانوں کی چابی مادری زبان ہے،جس کو عرف عام میں ماں بولی سے بھی جانا جاتا ہے۔زبان سے ادب اور ادب سے معاشرہ تشکیل پاتا ہے۔دنیا کے پہلے انسان نے ماں بولی میں اپنے اندرونی و بیرونی احساسات و جذبات کو پرکھا ہوگا۔دنیا کے تمام مذاہب کی روحانی اخلاقی اقدار کی کتابوں میں مادری زبانوں کے نمونے نمایاں ہیں۔قرآن مجید مختلف زبانوں اور قبائل کے گروہ سے انسانوں کی شناخت کرتاہے۔آدمی اپنی مشکل کو حل کرنے کے لیے ہمیشہ مادری زبان کا سہارا لیتا ہے۔جو لوگ مادری زبانوں سے محبت نہیں کرتے دراصل وہ لوگ اپنے انسان نہ ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں۔احترام آدمیت ہی اصل میں محبت واتحاد انسانیت ہے۔درخت اگر جسم ہے تو پھل یعنی رس اس کی روشن روح ہے۔

    ہر عہد میں ہر نبی نے لوگوں کو ان کی ماں بولی میں فلسفہ حقانیت و واحدنیت کی تلقین کرتے رہے۔دنیاکی خوبصورتی و خوشحالی عورت سے مزین ہے۔عورت جس کا حسین ترین چہرہ ماں کی شکل میں ہے۔آج بھی بچہ اپنی ممتا کی گود میں سکون واطمینان اور مکمل اعتماد و آزادی محسوس کرتا ہے۔خود اللہ کریم نے انسان سے محبت کے پیمانے کو ماں سے ستر گناہ زیادہ محبت سے تشبیہ دی ہے۔اگر ماں سے بچے کی تہذیب وتمدن اور معاشرہ میں اخلاقیات کی ضرورت پوری ہوتی ہے تو دراصل ماں سے محبت اور روحانی فیض مادری زبان کے بحر بیکراں سے ممکن ہے۔ماں باپ کا احترام اصل میں ماں بولی کے احترام کا عملی آغاز ہے۔ماں کا دودھ اور اس کی شہد جیسی مٹھاس بھری تربیت ہر ایک کو دنیا کا کامیاب تجربہ کار انسان بناتی ہے۔انسان کے بہترین فہم وشعور کی پہلی درسگاہ ماں کی لوری اور ماں بولی ہی ہے۔یہ وہ شیشہ ہے جس میں انسان کی علمی،ادبی،روحانی،سماجی،تاریخی اور ثقافتی ورثے کی ہر ممکن چیز نظر آتی ہے۔بچہ دل و دماغ میں سب سے پہلے ماں کی خوبصورت فکری خوشبو بھری آواز سے اپنے آپ کو معطر کرتاہے۔

    دنیا کی کسی بھی لسان یا زبان سے نفرت کا مطلب انسان کے وجود اور احترام انسانیت کے فلسفے کو جلانے کے مترادف ہے۔انسان کے اپنے ضمیر کی ہر بات کو یقینی آسان ترین طریقے سے صرف مادری زبان میں ہی ابلاغ کرسکتا ہے۔مادری زبان آپس میں اتحاد،یکجہتی اور احساس محبت کو فروغ دیتی ہے۔حسد اور نفرت کوختم کرتی ہے۔ایک دوسرے کے ساتھ خوشحالی اور تعمیر نو کا سبب بنتی ہے۔پاکستان ایک کثیر خوبصورت زبانوں اور ثقافتوں کا محبتوں بھرا اعجاز و گلدستہ ہے۔پاکستان کی تمام مقامی زبانیں قومیت و اتحاد کا مضبوط ترین چہرہ ہیں۔ہر زبان کا فروغ علم و دانش کے اثاثے میں اضافے کا باعث ہے۔ہر ماں مقدم و محترم ہے۔اسی طرح ہر ماں بولی بھی مکمل عزت و توقیر کی علامت ہے۔
    انسانیت کے ورثے کی کنجی مادری زبان ہے۔

    پاکستان میں اردو، سندھی،پنجابی،سرائیکی،پشتو،بلوچی ،براہوی،ماڑواری،ہندکو،پوٹھوہاری، بلتی ،پہاڑی وغیرہ میری مادری زبانیں میری آنکھوں کی ٹھنڈک اور روحانی فیضان کا حصول ہیں۔مادری زبان ہی آسان ترین عملی مثالی علم و تربیت کے ساتھ اصلی آگاہی کا زینہ ہے۔ہر زبان کا شاعر ، ادیب اور فنکار اپنی مادری زبان کا اعلی ترین مہذب نمونہ ہے۔جس طرح باغ میں ہر پھول کی اپنی ہیئت اور خوشبو مسلمہ ہے۔ اس طرح ہر ماں بولی کا اپنا مکمل وجود فوک وزڈم ہے۔

    ماہرین لسانیات و سماجیات کے ساتھ میڈیکل سائنس بھی اب مادری زبان کی شناخت،حقیقت اور عرفان وبرکات کو مان چکی ہے۔جس ملک و قوم نے اپنی مادری زبانوں کی عزت و عظمت کو سمجھا اور جانا اس نے دنیا میں راج کیا بھی ہے اور کر رہیں ہیں۔اگر تمام سائنسی علوم کو مادری زبانوں میں منتقل کر دیا جائے تو اعلی ترین ہنرمند افراد پیدا ہوں گے۔جو ناصرف اپنے ملک و قوم کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ترقی و خوشحالی کا قیمتی سرمایہ ثابت ہو ں گے۔

    تمام صوفیاء کرام نے ہمیشہ لوگوں کی بھلائی ، فلاح، روحانی و معاشرتی اقدار میں ماں بولی کا ہی کامیاب راستہ اپنایا۔سرائیکی زبان کے مہان صوفی بزرگ شعراء کرام میں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکر ملتانی ،حضرت خواجہ غلام فرید ،جدید رفعت عباس،سندھی زبان کے مہان صوفی بزرگ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی،حضرت سچل سرمست ،بلوچی زبان حضرت مست توکلی، پشتو رحمان بابا ،خوشحال خان خٹک، پنجابی شاعر حضرت وارث شاہ رحمتہ اللہ علیہ سب نے مادری زبانوں میں اظہار رائے اور امن و محبت کا پیغام دیا ہے، انسانی خوشی اور غم کا بہترین مدعا ماں بولی ہوتی ہے۔ سرائیکی علاقے میں سرائیکی یونیورسٹی اور سرائیکی بنک کے قیام سے وسیب کے لوگوں میں خود اعتمادی اور کلچرل ادبی سرگرمیوں میں خوبصورت اضافہ ہوگا-ضلع چترال پاکستان سمیت دنیا بھر میں کثیر اللسانی خطہ ہونے کا خوبصورت اعزاز بھی رکھتاہے۔

    دنیا کے نوبیل یافتہ ماہر سماجیات ولسانیات نوم چومسکی زبانوں کی اہمیت کو سائنسی تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ دل اور دماغ کے درمیان مضبوط ترین پل راستہ زبان ہے۔انسانی جسم میں لسان کو مرکزی کردار سمجھا جاتا ہے۔مادری زبان کی افادیت یہ ہے کہ فطرت اس کی خود حفاظت کرتی ہے۔لیکن اگر اس میں بار بار رکاوٹ ڈالی جائے تو متروک ہونے کا شدید ترین خطرہ نمودار ہونا شروع ہو جاتا ہے۔کسی بھی انسان کی مادری زبان سے نفرت دراصل اس انسان کو غلام اور حقیر تر بنانے کی گھٹیا ترین کوشش ہوتی ہے۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق پاکستان میں براہوی 1 فیصد ،ہندکو 2 فیصد، بلوچی 3، پشتو 8 فیصد،اردو انگلش 8 فیصد، سرائیکی 10 فیصد ،سندھی 12 فیصد جب کہ پنجابی 48 فیصد بولی جاتی ہے۔ لیکن 2010ء میں ہایئر ایجوکیشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کے مطابق سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان سرائیکی کو مانا گیا ہے۔سرائیکی کو آم و شہد کی طرح دنیا کی میٹھی ترین بھی کہا جاتا ہے۔سرائیکی اب دنیا کی عالمی زبانوں کےگروہ میں شمولیت اختیار کر چکی ہے۔زبانوں اور ثقافتوں کا تنوع آپس میں امن، اتحاد ویکجہتی کی فضا قائم کر تا ہے۔

    مادری زبان کا تحفظ انسان کی حکمت و دانش کو محفوظ کرنے کا سبب ہے۔زبان بھی عروج و زوال کے مراحل سے گزرتی ہے۔کسی بھی زبان کو اگر سرکاری سرپرستی حاصل نہ ہو تو وہ زبان ختم ہو سکتی ہے کائنات کی تخلیق بھی زبان مخصوص آواز کن فیکون سے ہوئی۔پاکستان میں زبانوں و لہجوں میں باگری،آیر، بدیشی، کھوار، کبوترا،فارسی،گرگلا،لواری، کچھی، کلامی،ماڑواری،سانسی، دری، لواری کھیترانی ،گجراتی، بروشسکی، شینا، توروالی، پھالولہ، اوڈ، ارمری، اوشوجو، واگھری، واخی، یدغہ کاٹی، کشمیری بھایا ،جنداوڑا، کوہستانی، چلیسو بلتی وغیرہ کو شدید ترین خطرات کا سامنا ہے۔اگر ایک انسان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے تو پھر کیا ایک لسان مادری زبان کا تحفظ پوری انسانیت کے تحفظ کے برابر نہیں ہے۔

    ہمیں بھی سوئٹزرلینڈ کی طرح ہر زبان کو قومی زبان کا درجہ دینا چاہیے۔انسانیت کے عظیم ترین علمی، ادبی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ میں سب کو بڑھ چڑھ کر اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔21فروری کا دن دراصل مادری زبان کی برکات و خلوص بھرا محبت انسانیت کا دن ہے۔ہر خوبصورت پرندے کی آواز کی انفرادیت اصل ہر لسان کے الگ وجود کے تسلیم و رضا کا فطری آسان ترین نمونہ ہے۔انسانیت ادب کی تخلیقات مادری زبان سے ممکن ہے۔اس کے فروغ کے لیے ہم سب کو عملی طور کام کرنے کی ضرورت ہے۔میرا حکومت پاکستان سے پر زور مطالبہ ہے کہ مادری زبانوں کے فروغ کے لیے ہر تحصیل سطح پر انسٹیٹیوٹ بنائیں جائیں۔پرائمری سے میٹرک تک کی تعلیم کا ذریعہ مادری زبان ہونا چاہیے۔سرائیکی وسیب میں سرائیکی زبان کو فوری طور پرائمری سے میٹرک تک لازمی سبجیکٹ کے طور سکولوں میں پڑھائی جائے۔

    پاکستان میں سب سے زیادہ شعراء کرام سرائیکی زبان وادب کے ہیں۔سرائیکی مضمون کو سی ایس ایس اور پی ایم ایس امتحانات میں فوری شامل کیا جائے۔ سرائیکی سبجیکٹ کے عملی فروغ کے لیے سکولز ٹیچرز آسامیاں پیدا کی جائیں۔سرائیکی میٹرک و انٹرمیڈیٹ کلاسز کی کتابوں کی PTCB سے فوری چھپائی کرائی جائے۔اب الحمدللہ سرائیکی ایف اے فرسٹ ائیر کتاب حکومت پنجاب نے چھاپ کر بہترین تاریخی کام کیا ہے ۔تمام صوبوں میں باقی مضامین کی سرائیکی مضمون کو بھی فوری شامل نصاب کیا جائے ۔ سرائیکی لٹریری کلچرل، سرائیکی بنک و سرائیکی یونیورسٹی جیسے قومی اداروں کے فوری قیام سے سرائیکی خطے میں شعور ،شرح خواندگی ،روحانی، معاشی،سماجی اخلاقیات کے ساتھ ثقافتی ورثے میں بے پناہ اضافہ کے ساتھ علمی، ادبی سرگرمیوں کو فروغ ملےگا۔

    مادری زبان انسان کو دلیر، آزاد، مضبوط ترین اور کامیاب تجربہ کار بناتی ہے۔مادری زبان کی بدولت آدمی میں خوداعتمادی اور ہنرمندی کا جذبہ پروان چڑھتا ہے۔قومی اسمبلی و سینٹ میں اردو، انگلش کے ساتھ سرائیکی،پنجابی،سندھی،بلوچی،پشتو وغیرہ کوبھی سوئٹزرلینڈ کی طرح فوری طور پر تمام مادری زبانوں کوقومی زبانوں کا درجہ دیا جائے۔اس سے آپس میں امن،ثقافت،محبت واتحاد،یکجہتی اور استحکام پاکستان کے فلسفے کو فروغ ملے گا۔پاکستان تاریخی،روحانی، ادبی،تعلیمی،جغرافیائی ، معاشی،معاشرتی،سیاسی،علاقائی اور اخلاقی اقدار میں مضبوط ہوگا۔

    کیا حال سناواں دل دا،کوئی محرم راز نہ مل دا ( خواجہ فرید)

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟چوتھی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھر جلالوی
    قسط کا خلاصہ
    سرائیکی قصے، جو ماضی میں نسلوں کے شعور کو جلا بخشتے رہے، آج بھی اتنے ہی اہم ہیں۔ سرائیکی زبان و ادب کے نامور محققین کے مطابق، یہ قصے سرائیکی وسیب میں ترقی و خوشحالی کے ضامن ہیں۔ قصوں نے انسانیت کو شرافت، صداقت، اور دیانت کے اصولوں پر قائم رہنے کا درس دیا ہے۔ سرائیکی لوک قصے ہمیں یہ یقین دلاتے ہیں کہ وہ ہمیشہ انسانی زندگی کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گے۔
    چوتھی و آخری قسط
    اب ہم قصےکتابوں،انٹر نیٹ،،فلموں،ڈراموں،تھیٹر،سینما گھروں،ویڈیو گیمز اور ریڈیو کے ذریعے نہ صرف سنتے ہیں بلکہ دیکھتےاور محسوس بھی کرتے ہیں،گویا قصے کے ہم خود زندہ جاوید کردار ہیں۔خود قصے کی دنیا میں جی رہے ہوں۔ یہ سب کچھ "فکشن” افسانوی ادب کے نام سے جانا جاتا ہے۔اس طرح قصہ گوئی کا فن آج بھی زندہ ہے۔اور نئی نئی شکل اختیار کر رہا ہے۔قصوں کی کی داستان نے انسانیت کی مشترکہ آواز کے طور پر حضرت انسان کے ارتقاء میں ایک بنیادی کلیدی کردار ادا کیا ہے۔یہ صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ قصے نےانسان کی زبان،ادب،شعور، فنون لطیفہ، اخلاقی اقدار،سلیقہ،ریتروایت،علمی،روحانی،شناخت،ثقافت اور سوسائٹی،قوم و ملک کی تشکیل نو میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور کرتا رہےگا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    قصولیوں کی پہلی ادبی بیٹھک ہی انسانوں کی پہلی یونیورسٹی کہلائی۔جہاں سے علوم کی فنی مہارتوں کے سیکھنے اور تعلیمی تربیت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ماں کی گود میں بچہ سکون واطمینان قلب کا خوبصورت پہلاں مٹھاس بھری آواز میں قصے کے الفاظ ہی سنتا ہے۔قصے نے انسان کی سوچ کو پروان چڑھایا،تخلیقی صلاحیتوں کو تقویت بخشی اور تاریخ کو محفوظ کیا۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    مختلف زبانوں اور ثقافتوں کے تنوع سے بھریل لوک قصے ہی اپنی منفرد روایت اور پہچان رکھے ہوئےہیں۔انسانوں کےمشترکہ تجربات ومشاہدات ہم تک مختلف انداز میں قصے کی بدولت پہنچےہیں۔مثلاً، یونانی دیوتاؤں کی قصے،جہاں دیوی دیوتاؤں کو انسانوں کی طرح ہی جذبات اور کمزوریاں حاصل تھیں،ہندو متھالوجی و فلسفہ کے قصےجو روحانیت اور کائنات کے رازوں پر زیادہ زور دیتے ہیں،افریقی لوک قصے جن میں جانور اکثر انسانی کردار ادا کرتے ہیں اور اخلاقی سبق دیتے ہیں۔جاپانی تہذیب وتمدن سے جڑے لوک قصےجو فطرت اور انسان کے رشتے کو ایک مختلف تناظر میں پیش کرتے ہیں۔عبرانی و عربی زبان کے مہان کلاسیکل لوک قصے جیسا کہ "الف لیلہ ولیلہ(ایک ہزار ،ایک راتیں)” یہبادشاہوں،ملکہ،شہزادیوں،ملوک زادیوں،وزیروں،غلاموں اور سحر و جادو کے دلچسپ قصے جو ایک نئی دنیا سے روشناس کراتے ہیں۔

    تیسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    چائنیز وذڈم سے مالا مال قصے، جس میں ڈریگن اور اژدہاؤں کا ذکر ہے یہ طاقت،ترقی،خوشحالی اور قدرتی قوتوں کی علامت ہیں۔اہل فارس کی روحانی کرامتوں کے قصے،نیز خواجہ غلام فرید کی سرائیکی شاعری، کنفیوشس،شیخ سعدی،رفعت عباس کی تعلیمات پر مبنی حکایتیں جو ہمیں اخلاقیات اور حکمت سکھاتی ہیں۔یہ مختلف سلیقے،انداز اور نقطہ نظرہمیں کامیاب حیاتی گزارنے اور کائنات کے پر اسرار رازسمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ قصے صرف تفریح نہیں بلکہ کسی قوم کی حقیقی معنوں میں میری سوچ کے مطابق تہذیب وتمدن، تاریخ، ثقافت کا آئینہ بھی ہوتےہیں۔جو ان کی سوچ،تربیت، عقائد،رسوم و رواج روایات اور ادب و فکری علوم کو بڑی خوبی سے بیان کرتے ہیں۔یہ مختلف انداز اور نقطہ نظر سے ہماری رہنمائی بھی کرتے ہیں۔

    مقامی سرائیکی قصوں کی روایت نے انسان کو ایک دوسرے سے جوڑنے اور دنیا کو سمجھنے کا ایک زبردست ذریعہ عطاء کیا ہے ۔قصے کیا ہمیشہ زندہ رہیں گے؟۔جی ہاں، جب تک دنیا ہے، امید ہے، محبت ہے اور اس کی رنگولی ہے قصے بھی زندہ رہیں گے ۔قصے عظیم مخلوق حیوان ناطق انسانوں ایک دوسرے سے رشتہ جوڑنے اور معاشرہ کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے رہیں ہیں اور کرتے رہیں گے۔مگر دوسرے رخ سے انہی قصوں کی وجہ سے آپس میں جنگیں،لڑائیاں،نفرتیں اور سوسائٹی میں توڑ پھوڑ اور خون خرابا کی نوبتیں سامنے آئیں ہیں۔مگر ہمیشہ قصے کے حقیقی نتائج و تعلیمات فلسفہ امن و تربیت،کامیابی،بھلائی،فلاح انسانیت اور رشدوہدایت ہی رہے ہیں۔

    قصوں میں شر کی شکست ہی احترام آدمیت کی بقاء ہے۔قصہ مثبت اثبات و اثرات کا خوبصورت تذکرہ ہے۔نیکی و نصیحت کا باکمال ہنر قصہ گری ہے۔سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کی اجتماعی یادداشت ہے۔اس نے ہر حملہ آور کا آدر کیا ہے۔دینی اور قومی قصے خاص طور پر اس حوالے سے مضبوط مثالیں ہیں۔سرائیکی زبان و ادب کے حکمت و دانش سے لبریز لوک قصے حقیقت،تخیلات، وہم، سچ اور جھوٹ، اچھا اور برا، محبت اور نفرت یعنی ماضی، حال اور مستقبل کے بارے سب کچھ علم و تربیت کے مخفی ظاہری راز اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہیں۔ قصوں میں انسانوں کے سماجی و اخلاقی اقدار کی عملی مثالی تصاویر موجود ہیں۔قدرت قصہ،کہانیوں،داستانوں اور افسانوں کو ایک طرف تو ہمارے لیے ایک قیمتی اثاثہ بناتی ہے اور دوسری طرف ایک پیچیدہ مسئلہ بھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے بارے میں سوالات جنم لیتے ہیں کہ انسان کے مستقبل میں ان قصوں کا کیا رول ہونا چاہئے یا ہوگا۔

    سوال یہ ہے؟کیا اب آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ڈیجیٹل سوشل میڈیا دور میں قصوں کی اہمیت و افادیت کم ہو جائے گی؟اورکیا موجودہ انسانی صدی قصوں کی آخری صدی کہلائےگی؟اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا ۔مگر آج بھی قصوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔آج بھی ہم قصے سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں اور سینما گھروں میں فلموں کی نمائش دراصل انسانی قصے کی شعوری پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہالی وڈ،لولی وڈ ،بالی وڈ موجود فلم انڈسٹریز قصوں کی عملی دنیا ہے۔قصے نے نیوز یعنی نارتھ،ایسٹ،ویسٹ، ساوتھ مشرق،مغرب،شمال جنوب کی فنی مہارتوں کو سیکھنے،دیکھنے،پڑھنے اور لکھنے کے عمل کو فروغ دیا۔ہمارے بہت سے تصورات و نظریات انہی قصوں اور افسانوں کی بنیاد پر بنے ہیں اور اسی لیے قصے کو دنیا میں سب سے طاقتور اور آسان فہم میڈیم سمجھا جاتا ہے۔

    سرائیکی لوک قصہ جس نے چھ ہزار سال قدیم ماں وادی ہاکڑہ تہذیب وتمدن اور بیٹی وادی سندھ تہذیب وتمدن کے ساتھ ہم عصر و ہم پلہ میسوپوٹومپیا سمیرین اور مصری اہرامی تہذیب وتمدن کے اعلی شعور کے ساتھ دنیا کو زندگی گزارنے کا سلیقہ اور نصیحت و وصیت کا عملی کامیاب نصاب مہیا کیا ہے۔سرائیکی لوک قصوں کی وذڈم کی حفاظت کرنے والے روہی چولستان، دمان پہاڑ، تھل،راوا ،میدان،دریائی و سمندری،ہڑپہ،جلیل پور،ہڑنڈ،سوئی وہاڑ،پتن منارہ، مہرگڑھ ،موہنجوداڑو،رحمان ڈھیری،بلوٹ قلعہ، ملتان شریف، اوچ شریف سمیت سرائیکی قدیم گنویری والا شہر کےقصولیوں کی طرح دنیا کے ہر قصولی کےتحفظ و مراعات کے لیے اقوام متحدہ آثارقدیمہ ریسرچ اداروں اور حکومت پاکستان کی طرح ہرملک کی حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اپنے لوک ورثے کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ورلڈ آرکیالوجی ڈیپارٹمنٹس کو گنویری والا شہر پر ہاکڑہ یونیورسٹی بنانا ہوگی۔

    امن و تصوف کے روحانی قصے کی افادیت و تحفظ کی عملی ضمانت کیلئےحضرت سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری ع صوفی ازم اینڈ آرکیالوجی سائنس یونیورسٹی ورلڈ ہیرٹیج سٹی اوچ شریف میں فوری قائم کرنا ہوگی۔غزہ،دمشق،یوکرائن اور کشمیر سمیت دنیا کے ہر کونے سے جنگ ونفرت کے قصے کو ختم کرکے امن،رواداری،خوشحالی اور تصوف کے قصے کو عالم میں پھر سے عام کرنا ہوگا۔ورنہ نئی نسل اپنے قومی ورثے سے محروم رہ جائے گی۔شاید اپنی بقاء کا تحفظ بھی نہ کرسکے۔
    ختم شد

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟تیسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    آج کے دور میں بھی قصے انسانی تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشنے کا ذریعہ ہیں۔ قصے ہمیں سکھاتے ہیں کہ ہم مشترکہ انسانیت کے اصولوں کو اپنائیں۔ عالمی سطح پر ثقافتی میل جول میں بھی قصوں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جیسے کہ اسلام آباد کے لوک ورثہ میلے میں سرائیکی جھمر کی پیشکش نے مختلف قوموں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ قصے محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ علمی اور اخلاقی ورثے کی حفاظت کرتے ہیں۔

    تیسری قسط
    دادی اماں،نانی اماں،دادا جان،نانا جان تمام معزز بزرگوار ہستیاں حقیقی معنوں میں قصوں کی ابتدائی انسانی شعور گاہ ہیں۔جہاں سکون واطمینان قلب میسر آتا ہے۔ماضی میں بزرگوں کے قصوں کے ذریعے بچوں کو نہ صرف اعلی اخلاقی قدریں اور اچھے برے کی تمیز سکھائیں جاتیں تھیں بلکہ انہیں زندگی کے عملی پہلوؤں میں کامیاب حیاتی گزارنے کے طور طریقے،شکار،زراعت اور قدرتی خطرات سے بچنے کے علوم بھی سکھائے جاتے تھے۔یہ قصے بچوں کے لیے مثالی کردار پیش کرتے تھے۔جنہیں وہ اپنا آئیڈیل بناتے تھے اور ان کی شخصیت کی تشکیل نو میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔اس طرح قصوں نے بچوں کی سماجی، اخلاقی اور عملی زندگیوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔انہیں خاندان یا سوسائٹی کا ایک اچھا فرد بننے کے لیے تیار کیا۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    جس نسل نے اپنے آباواجداد کے قصوں کی حکمت کے خزانوں کو اپنایا تو انہوں نے نئی دنیا اور نئےجہاں تخلیق کیے۔آج بھی قصے اور افسانے انسانوں کے لیے ایک ایسا دروازہ ہیں جو انہیں حقیقت کی دنیا سے ہٹ کر ایک خواب کی نئی دنیا میں لے جاتے ہیں۔اس سے ان کی تخیلاتی قوتتیں پھلتی پھولتیں اور آگے بڑھتیں ہیں اور وہ زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے لگتے ہیں۔قصے انسانوں کی تخیلاتی قوت اور تخلیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں مددگار ثابت ہوئے ہیں اور انسان کو نئی نئی چیزیں دریافت کرنے اور سیکھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔

    دوسری قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    ان قصوں کے ذریعے انسان خوابوں کی دنیا میں سیر کرتے ہیں اور اپنی خواہشات اور امیدوں کو پورا کرنے کے لیے عملی حقیقی زندگی میں نئی راہیں تلاش کرتے اور نئے پراجیکٹس کو عملی جامہ پہنانتے ہیں۔یہ قصے ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔مثلاً،ریڈار، چاند گاڑی،سیٹلائیٹ،ٹیلی ویژن،ریڈیو،موبائل فون،ڈائزینر مشین،میزائل،ہوائی جہاز،انٹرنیٹ،سوشل میڈیا ڈیوائسز،روبوٹ اور خلائی سفر سب سے پہلے قصوں میں ہوائی جادوئی قالین،طلسماتی شیشہ،طلسماتی تیر و تلوار،اڈن کٹولہ وغیرہ ہی تصور کیے گئے تھے۔آج یہ سب حقیقت بن چکے ہیں۔یوں قصے اور افسانے نئی دنیاؤں کی تخلیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

    مستقبل میں قصے میں موجود قصولیوں کے خواب آنے والے وقت میں سائنسی ترقی و تحقیقی سفر کا نیا جہاں بنے گے۔جو انسانوں کو نئی سوچوں اور امکانات کی طرف لےکرجاہیں گے۔قصوں کی زبان ہمیں غاروں میں موجود ابتدائی انسانی ہاتھوں سے بنی اشکال سے لکھی ملیں ہیں۔خوبصورت پتھروں سے مورتیوں پر نقش نگاری قدیم انسانی قصے کے نمونےہیں۔جیسے بچہ پیدائش کے وقت بول نہیں سکتا مگر اشاروں سے اپنی التجا ماں کو پیش کرتا رہتا ہے۔اس کی ماں اس کی ضرورتیں پوری کرتی رہتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ وہ بچہ بڑا ہوکر اپنے مسائل و ضروریات لکھ کر بھی اور زبان سے بول کر بتاتا ہے۔زبان بھی اسی طرح پروان چڑھتی ہے۔میری کم سن تین سالہ بیٹی زینب الطاف ڈاھر بی بی اپنی ٹوٹی پھوٹی باتوں اور اشاروں اور آوازوں کے ذریعے کبھی کبھی پنسل سے دیواروں پر نرم ہاتھوں سے لکیروں کی مدد سے شکلیں بنا کر ہم میاں بیوی تک اپنا پیغام پہنچاتی ہے۔

    آج بھی دنیا کا پہلا انسانی رسم الخط تصویری اشکالی رسم الخط کو مانا جاتا ہے۔قدیم انسان نے اپنے قصوں کے ذریعے سے اپنا کتھارسس مدعے کو شجر،پتھر اور غار کی دیواروں پر اشکال بناکر اپنےپیغام کو آج کے انسان تک سانجھا کیا۔یہ نقش و نگار نہ صرف ان کی روزمرہ کی زندگی بلکہ ان کے عقائد اور تصورات کی بھی عکاسی کرتے ہیں ۔جس کو ہم آج ٹوٹم و ٹیبوز کا علم کہتے ہیں۔قصے میں قصولی جانوروں،چرند پرند،دریا،سمندر درختوں اور بادلوں کو بھی انسانوں کی طرح بات کرتے ہوئےدکھاتےتھے۔ان کے قصوں میں جادو،دیوی و دیوتا،مافوق الفطرت عناصر اور روحانی قوتوں سے لبریز کرداروں کی ایک بھیڑ ہوتی تھی۔جو ان کے لیے قدرت کا مظہر سمجھنے کی فلم انڈسٹری تھی۔

    آج جب ہم پیچیدہ زبانوں اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جی رہے ہیں تو قصہ کے طور طریقے بھی بدل چکے ہیں۔روہیلے چولستانی قصولیوں میں میدا رام ، سمارا رام، مجید مچلا، فیض مائی بھٹی، میرے ابا جی سئیں غلام مصطفٰی خان ڈاھر، مہر غلام رسول، ملک عبداللہ عرفان، طاہر غنی، ملک آصف سیال، جام غلام یاسین لاڑ جیسے عظیم الشان قصہ گو بھی وسائل کی شدید کمی کے باوجود ماڈرن طریقےسے سوشل میڈیا ذرائع سے اپنے قصوں کو عام کرنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔

    ان قصولیوں نے قصے کا آغاز اس باکمال مہارت سے کیا ہے کہ پوری کائنات کا مالک خالق حقیقی صرف اللہ پاک ہے۔باقی سب فنا ہے۔اس کا بنیادی مقصد صرف طاغوتی طاقتوں کے تکبر و غرور کی نفی کرنا ہے۔امن و اقتصادی آسودگی، عجز و احترام کو فروغ دینا ہے۔اللہ رب العزت جلال کی شہنشاہیت کو برقرار رکھنا ہے۔"واہ واہ ہے اللہ بادشاہ ہے کاغذاں دی بیڑی ہے مکوڑا ملاح ہے،خلقت پئی چڑھدی ہے ساڈی صلاح ہے۔ہک ہا بادشاہ، بادشاہواں دا بادشاہ وی خود اللہ پاک آپ بادشاہ ہے، اوہ ہک زمینی ٹوٹے دا بادشاہ ہا۔اوندی نگری ہی”۔اصل حکمران وہ ہے جو بشریات، جمادات،حیوانات اور نباتات کی نشوونما،خیر و برکت کےلیے ہمیشہ مثبت اقدامات اٹھائے۔

    ہمارے قصولی ہمارے سرائیکی وسیب کی عالمگیر فوک وزڈم آرکیالوجی ویب سائٹس بن چکے ہیں۔سوجھل وسیبی قصولیوں کی معاشی خوشحالی کے اقدامات حکومت پاکستان سمیت اقوام متحدہ آثار قدیمہ کی اہم ذمہ داری ہے۔قومی سرائیکی لوک دانش کے اثاثے کو محفوظ کرنے کے لیے مقامی روہی چولستانی قلعہ ڈیراور، چولستان جیپ ریلی کے سنڑ مقام پر میوزیم قائم ہونا چاہیے ۔جہاں دنیا بھر کے سیاح سرائیکی خطے کی 6000چھ ہزار سالہ قدیم تہذیب وتمدن وادی ہاکڑہ سرسوتی کے ساتھ سرائیکی عباسیہ شاہی ریاست بہاولپور کی خوشحالی سے بدحالی کے قصےکی حقیقت جان سکیں۔مقامی روہیلے چولستانی قصولیوں کو مراعات دیں جائیں۔ہمیں ان کی لوک دانش کو جدید ٹیکنالوجی سسٹم سے دنیا تک آن ائیر کرانے کی ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔۔۔۔جاری ہے.

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟دوسری قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    قسط کا خلاصہ
    قصے انسانوں کے لیے ہمیشہ رہنمائی کا ذریعہ رہے ہیں۔ انبیاء کرامؑ کے قصے اور رسول اکرمﷺ کی زندگی کے واقعات انسانوں کی اخلاقی تربیت کا اہم ذریعہ ہیں۔ سرائیکی قصے صرف کہانیاں نہیں بلکہ انسانی زندگی کو ایک نیا زاویہ فراہم کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے شعور، ثقافت اور روایتوں کی منتقلی ممکن ہوئی۔ ابتدائی ادوار میں قصہ گوئی انسانوں کے لیے اولین درسگاہ تھی، جہاں شکار، زراعت اور قدرتی خطرات سے نمٹنے کے طریقے سکھائے جاتے تھے۔ قصوں کی روح نے معاشرتی ہم آہنگی اور تعلقات میں استحکام پیدا کیا۔
    دوسری قسط
    حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت اماں حوا علیہ السلام کا جنت سے نکالے جانے کا قصہ،شیطان مردود کا انسان سے ازلی دشمنی کا قصہ آج بھی کتابوں کی زینت ہے۔قصہ دراصل انسانی شعور و عرفان کی خود رو تحفظ فراہم کردہ تخلیقی و تجزیاتی فکری صلاحیتوں کا مظہر ہے۔قصے کے گہرے رشتے نے انسان کی تاریخ کو رنگین بنا دیا ہے۔علم و دانش اور لسان و ثقافت کی افادیت و اہمیت کی شروعات قصوں کے ذریعے ممکن ہوئی۔ابتدائی مراحل سے انسان ایک دوسرے کو زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں سکھاتا رہا۔مثلاً بھوک سےلڑنے کے لیے شکار کے طریقے،پودوں کی پہچان،معدنیات وحشرات کے فوائد،موسموں کی تبدیلی،خطرناک جانوروں سے بچاؤ کے سلیقے قصوں کی بدولت بنیادیں بنیں۔یہ سب کچھ قصوں کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔

    قصوں کا سننا اور سنانا یہ صرف معلومات کا تبادلہ خیال نہیں تھا بلکہ قصوں کی ثقافتی روح نے آپس میں تعلقات و اتحاد کو فروغ دیا۔قصولیوں کی ابتدائی قصہ گوئی کی محفل نے انسانوں کی چھپی صلاحیتوں و خوبیوں کو نیا ترقی پذیر رخ عطاء کیا۔جب انسان روزی روٹی اور ذرائع معاش کے لیے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا رہا تب روحانی خیال کی مشعل سے تاریک راہوں میں روشنی پھیلانے کا قصہ ہی سبب بنا۔ایک بشر سے دوسرے بشر تک روایات، عقائد، رسوم و رواج،تاریخ کو منتقل کرنےکا ذریعہ بھی بنتا رہا۔کائنات کی تخلیق کو سمجھنے کا پہلا چارٹ انسانی سوچ تھی جو قصہ کی شکل میں ابتدائی انسانوں کے پاس منتقل ہوئی۔

    پہلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں
    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    آج کی دنیا کی طرح فطرت کے پیچیدہ عمل کو سمجھنے کے لیے سائنسی طریقے و علوم کے ادارے نہیں تھے۔انہوں نے اپنی زندگی کے واقعات اور فطرت کی قوتوں کو سمجھنے کے لیے قصولی کے قصوں اور افسانوں کا سہارا لیا۔قصہ کی بیٹھک ہی پہلی انسانی سائنس کی لیبارٹری بنی۔ قصوں میں پرندوں پر سواری کرنا ،جادوئی قالین پر سوار ہوکر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی دراصل آج کے انسان کے لیے ہوائی جہاز، ائیر بس،ہوائی کاریں،پیرا شوٹ کی تکمیل ہے۔ بادلوں کی گرج، سورج اور چاند کی روشنی اور دیگر قدرتی مظاہر میں دیوی و دیوتاؤں کی نشانیاں بتانے والا قصولی دراصل آج کا سائنس دان ہے۔قصہ میرے نزدیک روحانیت تصوف اور سائینسیت طبعیات کی دو مضبوط ترین آنکھیں،صاف شفاف صحت مند دو کان،دو نالی والی مضبوط ناک، تجربات،ممکنات،تحقیقات،محسوسات و مشاہدات کو پرکھنے والا دل و دماغ ہے۔

    زلزلے کےجھٹکے کو قصولی نےزمین کو ہلانے والے دیہہ کا غصہ سمجھ لیا تھا، قصولی کے مطابق زمین کو ایک بڑے بیل نے اپنے سینگوں پر اٹھا رکھا ہے اور جب وہ حرکت کرتا ہے تو زلزلہ آجاتا ہے۔یہ قصے دراصل انسانی بقاء کے تحفظ کے محافظ تھے۔جن کی بدولت قدرتی آفات سے نمٹنے کی حکمت عملی و پالیسی نے جنم لیا۔قصے نے نہ صرف ان کی زندگی کو بامعنی بنا دیا تھا بلکہ انہیں اپنے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے میں بھی مدد بھی فراہم کرتا رہا۔قصہ انسانیت کی بھلائی کے لئے کمپاس ،روبوٹ،ریڈار ثابت ہوا۔انسانی رشتوں کی خوبصورتی کو قصوں کی رفعت نے آپس میں اتحاد ویکجہتی،امن،محبت و احترام کا نیا جہاں دیا۔ ٹوٹے دلوں میں نیا خلوص بھر دیا۔ قصے صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتے بلکہ حکمت کے وہ عملی پل یا بریج ہیں جو انسانوں کو آپس میں ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں۔آگ کے گرد بیٹھے لوگوں کی آوازیں،ہنسی خوشی و غمی کے آنسو جب قصوں میں ڈوب جاتے تھے تو ایک ہی دھڑکن بن جاتے ہیں ۔

    قصوں کی بدولت آج سات براعظموں میں ایشیا،افریقہ،شمالی امریکہ،جنوبی امریکہ،انٹارکٹکا،آسٹریلیا ،یورپ پر مشتمل تقریبا ساڑھے سات ارب کی انسانی آبادی،ساڑھے چھ ہزار مختلف زبانیں بولنے والوں،متنوع ثقافتوں اور خطے کے لوگوں کا ایک دوسرے کے درد اور معاشی ترقی کو سمجھنے اور قبول کرنے میں کامیاب مدد ملی ہے۔قصے کی طلسماتی فکری نتیجہ خیز طاقت نےسب کو ایک گلوبل ویلج میں خوشی خوشی جوڑ دیا ہے۔آج بھی اسلام آباد لوک ورثہ قومی ادارے میں غیر ملکی انسانوں کا امن بھرا سرائیکی جھمر،مقامی حسن، رقص و موسیقی ،سرسنگیت سے مزین سرائیکیت نےسندھی ،چین،افریقی،بلوچی،پنجابی،پشتو، اردو،بلتی،کشمیری،انگلش،جاپانی،امریکن اورجرمنی کو ایک ہی قصے کے کردار بنا دیئے ہیں۔

    ایک قصہ جس میں مختلف انسانی جذبات و احساسات کو سنتے تھے تو ان کے اندر ایک ہی طرح کے جذبات پیدا ہوتے تھے۔وہ ایک دوسرے کی بات سمجھتے تھے۔وہ ایک دوسرے کے غم اور خوشی میں شامل ہوتے تھے۔ قصوں نے انسانوں کو مشترکہ تجربات فراہم کیے ہیں اور انہیں محسوس کرایا ہے کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔انہوں نے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا۔سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔ثقافتی گلدستے کو مضبوط کیا۔قصوں نےمعاشرتی تبدیلی لانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔قصوں نےاحترام آدمیت کے فلسفے کو بلندیوں پر پہنچایا۔لوگوں کوحق سچ ،عدل و انصاف،برابری،معاشی خوشحالی و معاشرتی اقدار کی اعلی قیادت اور آزادی کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنے کی ترغیب دی ہے۔

    سرائیکی لوک قصے اب ایک مکمل بااعتماد عملی دستاویزات کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔جن کی مدد سے سرائیکی وسیب میں ہر طرف معاشی و اخلاقی ،خوشحالی و تعمیر نو نظر آئے گی۔قصے نےصرف تفریح نہیں بلکہ ہمیں مشترکہ ثقافتی ورثہ بھی عطاء کیا ہے۔ہمیں ایک مشترکہ انسانیت کا احساس دلایا ہے۔قصے نے ہمیں سکھایا کہ ہم سب انسان جن کا خون سرخ رنگ کا ہے۔آدم کی اولاد ہونے کی وجہ سے آدمی ہیں۔سب ایک دوسرے کا احترام کریں۔کوئی کسی کے ساتھ ظلم و بربریت نہ کرے۔ہر انسان کو علمی قابلیت،صلاحیت و خوبی کی بنا پر ترقی ملے۔قصہ کا پیغام آفاقیت صرف یہ ہے کہ انسان انسان کو ہمیشہ نفع پہنچائے۔شرافت،صداقت،ایمانت اور دیانت کو عام کرے۔اتحاد،محبت و یقین محکم ویکجہتی،تنظیم کی پاسداری کرے۔

    ہم سب ایک ہی قصے کے تنوع ترقی یافتہ کردار ہیں۔آج بھی اور پھر کل جب ہم ایک مشکل وقت سے گزر رہےہوں گے تو پھر ہمارے قصے ہمیں خیر،وصیت صبروتحمل،بھلائی،امید،بہادری،نیکی،جرات،سخت محنت اور تصوف کے آفاقی فلسفہ جلال سے ہماری رہنمائی کرکے ہمیں پھر سےکامیاب بنائیں گے۔سرائیکی قصہ سرائیکی وسوں کا ہمیشہ مضبوط حوصلہ اور امن کا ہتھیار رہا ہے۔انسانی زندگی کی پہلی بنیادی درسگاہ مادرعلمی اسکول خود ماں کی گود ہوتی ہے جہاں ہمیں پہلا سبق قصے کی شکل میں سکھایا جاتا ہے۔

    سرائیکی عالمی قصہ منظوم و منثور دونوں صنفوں میں سرائیکی شعراء کرام و نثر نگار قصولیوں کے پیغام آفاقیت کا خوبصورت فلسفہ ہے۔جودنیا کے لٹریچر کو متاثر کررہا ہے۔مادری زبان میں قصے کا ابلاغ صدیوں کی روحانی و عرفانی فضیلت کی تاثیر عطا کرتا ہے۔قصہ پہلا اسکول ہے جہاں سے علم وادب، حکمت و دانش کو سیکھنے،سمجھنےاورتعلیمی تربیت کا آغاز ہوتا ہے۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے۔

  • کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟پہلی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟پہلی قسط

    کیا سرائیکی لوک قصے دنیا میں زندہ رہیں گے؟
    تحریر:ڈاکٹر محمد الطاف ڈاھرجلالوی
    پہلی قسط: سرائیکی لوک قصے اور ان کی اہمیت
    سرائیکی دھرتی فنون لطیفہ اور علم و دانش کا مرکز ہے۔ سرائیکی لوک قصے درحقیقت سرائیکی قصولیوں کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کا حصہ ہیں، جو چولستان اور کوہ سلیمان کے خطوں میں محفوظ ہیں۔ قصہ گوئی انسانی تہذیب کا قدیم فن ہے، جو مختلف واقعات، تجربات، اور حقائق کو دلچسپ انداز میں پیش کرنے کا ذریعہ رہا ہے۔ قرآن پاک کی سورہ القصص اور دیگر مذہبی کتابوں میں موجود قصے انسانیت کی فلاح کا سبق دیتے ہیں۔ سرائیکی ماہرین کے مطابق، قصہ انسانی شعور اور ادبی ترقی کی بنیاد ہے، جس نے انسان کو نہ صرف جینے کا ہنر سکھایا بلکہ اس کی تخلیقی صلاحیتوں کو بھی پروان چڑھایا۔

    سرائیکی دھرتی فنون لطیفہ سے لبریز علم و دانش کا خوبصورت ترین خطہ ہے۔سرائیکی لوک قصہ درحقیقت سرائیکی باشعور سرائیکی قصولیوں کی چھ ہزار سال پرانی ہاکڑہ و سندھ تہذیب وتمدن کا روحانی چولستان روہی تھل کے ریت کے ذروں اور دمان کوہ سلیمان کے پہاڑوں میں چھپے قیمتی خزانوں کی طرح ارتقائی اعتبار سے نا ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔گنتر گراس عالمی مفکر کا کہنا ہے "اگر دنیا میں کتابیں ختم ہوجائیں گیں تو قصولی زندہ رہیں گے”۔ قصہ عربی زبان کا لفظ ہے۔جس کے معنی کوئی نئی بات، واقعہ،حادثہ،داستان،ناول،کتھا،کہانی، افسانہ،سچ و جھوٹ کا ملاپ وغیرہ کے لیے جاتے ہیں۔عہد جدید میں عملی پریکٹیکل پرفارمنس ڈرامہ،تھیٹر، فلم میں کردار،پلاٹ، کینوس کا وجود، منظر نگاری،مکالمہ نگاری،دراصل قصہ،داستان،
    افسانہ،ناول،کہانی،کتھا کےنئے انداز میں روپ ہیں۔کائنات کی تخلیق مادری زبانوں کے فن کمال قصہ گوئی میں محفوظ ہے۔

    حیوان ناطق انسان نے اشرف المخلوقات کا شرف قوت گوئی کے پہلے فن قصہ گوئی سے حاصل کیا۔ قصہ ایک عظیم لغت ہے اور ایسی نایاب ڈکشنری جس میں لفظوں کا کمال حیرت انگیز جہاں ہوتا ہے۔قصے کی بدولت انسان نے زمین اور آسمان کے ستاروں کے علم کی معرفت حاصل کی ہے۔قصہ علم لدنی و روحانیت کی معراج ہے۔تمام علوم کی دولت قصے سے شروع قصے پر ختم ہوتی ہے۔قصہ روشنی کا وہ عصاء ہے جس نے گمشدہ خزانوں کو ڈھونڈ نکلا۔قصہ ہر مشکل کا حل ہے۔قصہ انسان کا عملی کامیاب استاد ہے۔ میں قصے کا مطلب حق سچ یعنی صبح صادق ہی لوں گا۔کیونکہ رب العزت جلال کی الہامی لاریب کتاب قرآن مجید کی ایک آیت کریمہ نہیں بلکہ پوری سورت کا خوبصورت نام سورہ القصص ہے۔جس میں قدیم سابقہ اقوام کے عروج و زوال کےقصے درج ہیں۔آسمانی مقدس کتابوں میں زبور، تورات،انجیل، صحیفے مبارکہ کے ساتھ دیگر معزز مذاہب کی روحانی کتب مقدسہ ویدک لٹریچر میں بھی قصے درج ہیں۔موضوع ومقصد سب کا ایک انسان اور فلاح انسانیت ہے۔

    قصہ دراصل ایک من پسند اور آسان ترین عملی مثالی قابل فہم وشعور کا اعلی ترین نمونہ ہے۔نبی آخری زماں حضرت محمد مصطفٰی ﷺکی سیرت طیبہ میں بے شمار قیمتی سبق آموز حق سچ قصے موجود ہیں۔آپ ﷺ کے معجزات مبارکہ انسانوں کی بہترین اصلاح،تربیت اور رشدوہدایت کے لیے ہمیشہ موجود رہیں گے۔واقعہ معراج نے قصے کو بام عروج بخشا۔قصے کے فن اور اس کو ہمیش عزت و توقیر ملتی رہے گی۔کیونکہ قرآن مجید کی حفاظت خود اللہ پاک نے فرمائی ہے۔جس کی ایک سورہ القصص پارہ نمبر20 ،تلاوت قرآن مجید موجودہ ترتیب کے لحاظ سے مکی سورہ نمبر 28،کل آیات 88 ،رکوع9،جب کہ نزولی ترتیب وار سورہ 49 ہے۔

    اب ہمیں یہ فکر ہرگز نہیں کرنی چاہیے کہ قصے کا وجود باقی رہے گا کہ نہیں۔ہر گزرتا لمحہ قصہ کہلاتا ہے۔قصہ گوئی کا خوبصورت آغاز "کن فیکون” کے حکم سے لامتناہی روحانی سفر فیض جاری و ساری ہے۔جو اللہ پاک کے حکم سے ہمیش چلتا رہےگا۔اللہ پاک نے ہر دور میں اپنے بندوں کی خیر سلامتی اور کامیاب کونسلنگ کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کو بھیجا۔اب سلسلہ نبوت حضرت محمد مصطفٰیﷺ تک ختم ہوگیا۔مگر آپ ﷺکی تعلیمات کا سلسلہ آپﷺ کےاہل بیت المقدس،صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین،اولیاء اللہ کرام کے توسط سے تا قیامت خیر کا پیغام پہنچتا رہےگا۔حق سچ والا قصہ نسل انسانی میں پیڑھی در پیڑھی منتقل ہوتا آرہا ہے۔قصہ ہر نسل کی تربیت و کامیابی کی کنجی ہے۔

    سرائیکی عالمی ادبی شخصیت ماہر سرائیکی سماجیات ڈاکٹر جاوید حسان چانڈیو کہتے ہیں "قصہ انسانی شعور کا بنیادی بیج ہے۔سرائیکی قصولیوں نے قصے کے ذریعے اپنی قوم کے حقیقی ادب کو سینوں میں محفوظ رکھا”۔قصوں کو مختلف دانشوروں نے اپنی عقل و دانش سے کسی نے انسانی عمری تقسیم سے،بچوں،لڑکپن،نوجوانوں،بوڑھوں کے قصوں میں بانٹا۔کچھ ادیبوں نے اپنی شعوری پختگی سے قصوں کو متھ،فیبل،لیجینڈ ،ہیروز،مشاہیر
    ،مذہبی،رومانس عشقیہ قصوں پر مشتمل اقسام گنوائیں ہیں۔

    سرائیکی زبان و ادب کے نامور محقق و نقاد محمد حفیظ خان کے مطابق "قصہ انسانی قوت گوئی کی عظیم ترین گواہی ہے۔سرائیکی قصے سے قدیم و جدید ادیبوں نے رہنمائی حاصل کی ہے”۔سرائیکی دھرتی تصوف کے مہان کلاسیکل شاعر سئیں پروفیسر رفعت عباس کہتے ہیں”سرائیکی لوک قصے نے سرائیکی معصوم قوم کو ہر عہد میں جینے کا فن سکھایا ہے۔شاعری کے پر اسرار رازسمجھنے کے لیے میں نے سرائیکی قصوں کی بھاشا کو اپنی طاقت بنایا”۔سرائیکی فوک وزڈم کے ماہر پروفیسر ڈاکٹر ریاض خان سنڈھر کےمطابق”سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کے مستقبل کی روشن دلیل ہے”۔ سرائیکی فوک دانشور،شاعر،سابق ریڈیو اسٹیشن ڈائریکٹر ملتان و بہاولپور ڈاکٹر خالد اقبال کا کہنا ہے” سرائیکی لوک قصے سرائیکی الفاط کا انسائیکلوپیڈیا ہیں۔ان کی عظمت سے کسی کو انکار نہیں”۔سرائیکی قصہ سرائیکی قوم کا نالج ہاوس ہے۔

    قصوں کی بدولت لاکھوں سالوں میں انسانوں نے اپنی سوچ،شکل،صلاحیتوں اور سماجی ساخت کو بدلا ہے۔مجھے قصے سے محبت نہیں بلکہ عشق ہے۔میں نے ہر مشکل کا حل سرائیکی قصے میں موجود روحانی شخصیت کی حکمت سے سیکھا ہے۔میرے روحانی مرشد کامل حقیقی شہنشاہ تجلیات و فیضان حضور حضرت سید شیر شاہ جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاری نے رب العزت جلال کے حکم سے میری روحانی راہنمائی فرمائی ہے۔قصے کے عمل نے مجھے سیدھے چلنا سیکھایا،اوزاروں کا استعمال کرنا سکھایا کیا،آگ کو اپنا ساتھی بنایا۔غاروں میں رہنے والے انسان کو باشعور قصے کی شعوری پختگی کے کلیدی تربیتی ورکشاپ نے جینے کا محفوظ ماحول فراہم کیا۔ترقی وخوشحالی کی نئی علم و حکمت کی راہیں عطاء کیں۔خوبصورت پیچیدہ زبانوں کا گلدستہ ایجاد کیا۔شکاری دور سے زراعت کے دور کا سفر کیا۔انسان ایگری کلچر سے کلچر یونیورسٹی میں داخل ہوا۔ پھر دریاوں کے کنارے نئے شہر اور تہذیبوں کی بنیادیں قائم کیں۔ انسان کی ترقی و خوشحالی اور تعمیر نو کا سفر قصوں کا سننا اور سنانا کی بدولت ممکن ہوا۔

    مجھے قصے کی صنف سے جنون کی حد تک لگاؤ اس وجہ سے ہے کہ میرا ایم فل تھیسز بعنوان ” قلعہ ڈیراور وچ وسدے لوکاں دے قصے” پی ایچ ڈی مقالہ بعنوان”سرائیکی لوک قصیں اتے چولستانی قصیں دے اثرات” ہے۔ ایم اے میں مقالہ ” احمدپورشرقیہ دی سرائیکی ادبی گوجھی” ریسرچ ورک شعبہ سرائیکی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور پاکستان، دراصل میری ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کا قصہ ہے۔مشہور کہاوت ہے” ضرورت ایجاد کی ماں ہے”۔قصہ کی حقیقی محافظ مادری زبان ہی رہی اور رہے گی۔عہد پتھر یعنی ابتدائی دور میں انسانوں نے خود کو دوسرے حیوانات سے تحفظ کیلئے اور سخت غذاء کو نرم کرنے اور جزو جسم کی ضرورت پوری کرنے کیلئے اور خوف کو دور کرنے کے لیے آگ کا استعمال کیا تھا۔

    سماج کا بنیادی یونٹ میاں بیوی ہیں۔انسانی جبلت ہے وہ اپنی خوشی وغم دوسرے انسان سے لازمی سانجھا کرتا ہے۔اپنے مسکن کی جگہ آگ کے گرد بیٹھ کر قصوں کا آغاز ہوا تھا۔قصوں کی بدولت انسانی ادب وتمدن نےجنم لیا۔جب انسان ابھی سیکھ رہا تھا،قصے سننا اور سنانا انسان کے ارتقائی سفر کا ایک لازمی حصہ تب بھی رہاتھا اور آج بھی ہماری زندگیوں کو معنی اور سمت فراہم کررہاہے۔انسان کے آغاز سے ہی قصوں نے اس کا ساتھ نبھایا ہے….۔ (جاری ہے)۔۔