تلہ گنگ (فیضان شیخ باغی ٹی وی): چوہدری پرویز الہی کے صاحبزادے چوہدری راسخ الہی نے تلہ گنگ کی موجودہ صورتحال پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک فعال ضلع کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت غیر فعال کیا گیا، جبکہ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے آج سوالیہ نشان بن چکے ہیں۔
باغی ٹی وی کے نیوز ایڈیٹر فیضان شیخ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تلہ گنگ کو ضلع بنانے کے لیے چار ارب 75 کروڑ روپے کے فنڈز ریلیز کروائے گئے، 200 کنال اراضی ضلعی کمپلیکس کے لیے مختص کی گئی، مگر آج ان منصوبوں کا کہیں وجود نظر نہیں آتا۔
انہوں نے سخت سوال اٹھایا کہ تلہ گنگ کے 36 دیہات کو سوئی گیس کی فراہمی کی منظوری دی گئی، عمار یاسر نے اس منصوبے کو یقینی بنایا، مگر آج تک کسی ایک محلے کو بھی گیس نہیں مل سکی—آخر یہ منصوبہ کہاں دفن ہو گیا؟
ان کا کہنا تھا کہ ضلع بننے کے بعد 23 سرکاری محکمے فوری طور پر فعال کیے گئے تھے اور افسران نے باقاعدہ چارج لے کر کام شروع کر دیا تھا، مگر آج وہی محکمے یا تو ختم کر دیے گئے یا چکوال کے افسران کے اضافی چارج پر چل رہے ہیں، جو کھلی انتقامی کارروائی کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او جیسے کلیدی عہدوں پر افسران تعینات کیے گئے، لیکن انہیں اچانک یہاں سے ٹرانسفر کر دیا گیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ عناصر کو ضلع تلہ گنگ کا قیام ہضم نہیں ہو رہا۔
چوہدری راسخ الہی نے کہا کہ تلہ گنگ کو ہمیشہ اپنا گھر سمجھا اور اس کی ترقی کے لیے ہر ممکن وسائل جھونک دیے، مگر بدقسمتی سے سیاسی انتقام اور ذاتی انا کی سیاست نے اس پورے علاقے کو پیچھے دھکیل دیا۔
انہوں نے کہا کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بنایا گیا ٹراما سینٹر آج بھی ویران کھڑا ہے، جبکہ سڑکوں، ہسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے متعدد منصوبے ادھورے چھوڑ دیے گئے—عوام کو صرف اعلانات اور وعدوں کے سہارے پر رکھا گیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ موجودہ نمائندے نااہلی کی بدترین مثال بن چکے ہیں، جو اپنے ذاتی مفادات سے باہر نکلنے کو تیار نہیں، اور یہی وجہ ہے کہ تلہ گنگ کا ضلع عملی طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے لیے سیاست نہیں بلکہ خدمت اولین ترجیح ہے
Author: Faizan Sheikh

تلہ گنگ ضلع کا خواب دفن؟ اربوں کے فنڈز کہاں گئے — چوہدری راسخ الہی تلہ گنگ کا حال دیکھ کر پھٹ پڑے

پنجاب میں ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی رپورٹ جاری، مظفرگڑھ پہلے نمبر پر،چکوال کا 28 واں نمبر
پنجاب حکومت کی جانب سے فروری کے مہینے کے لیے ڈپٹی کمشنرز کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں صوبے بھر کے اضلاع کی انتظامی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ نے شاندار کارکردگی دکھاتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے، جبکہ ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کارکردگی کے لحاظ سے سب سے آخری، یعنی 41ویں نمبر پر رہے۔
رپورٹ میں صفائی ستھرائی، ریونیو ریکوری، عوامی شکایات کے ازالے، پرائس کنٹرول اور ترقیاتی منصوبوں پر عملدرآمد جیسے اہم شعبوں کو بنیاد بنایا گیا۔ مظفرگڑھ کی ضلعی انتظامیہ نے ان تمام شعبوں میں نمایاں کارکردگی دکھا کر پہلی پوزیشن حاصل کی۔
دوسری جانب راولپنڈی کی کارکردگی رپورٹ میں کئی شعبوں میں کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی، جس کے باعث اسے فہرست میں آخری نمبر پر رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق کمزور مانیٹرنگ، عوامی مسائل کے حل میں تاخیر اور پرائس کنٹرول میں ناکامی اہم وجوہات قرار دی جا رہی ہیں۔
حکومت نے تمام اضلاع کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کریں، جبکہ بہتر کارکردگی دکھانے والے افسران کی حوصلہ افزائی بھی کی جائے گی

