Baaghi TV

Author: حنا

  • ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    ویڈیو لیک کا خطرہ،بچاؤ کیسے؟آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں

    پاکستانی ٹک ٹاکرز کی نازیبا ویڈیو سوشل میڈیا پر لیک ہو رہی ہیں اور یہ سلسلہ مسلسل بڑھ رہا ہے، اب تک مناہل ملک، امشا رحمان، متھیرا،مسکان چانڈیو، گل چاہت کی نجی زندگی کی نازیبا ویڈیو لیک ہو چکی ہیں، ویڈیوز کو دیکھ کر ایسے لگ رہا ہے کہ ٹک ٹاکرز نے ویڈیو خود یا اپنی رضامندی سے بنائی ہیں تاہم وہ بعد میں لیک ہو گئیں اور سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں، ویڈیو کس نے لیک کیں اور اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے یہ ابھی تک سامنے نہیں آ سکا.

    آج کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے ساتھ، ویڈیو لیک ہونے کے مسائل عام ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ مسئلہ نہ صرف کسی کی پرائیویسی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے بلکہ جذباتی، سماجی، اور قانونی مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے۔سوال یہ ہے کہ ویڈیو لیک سے کیسے بچا جائے، اسکے لئے ضروری ہے کہ اول تو کوئی ایسی ویڈیو بنائیں ہی نہ، جس کے لیک ہونے کا خدشہ ہو،اگر کوئی ویڈیو بنا بھی لی تو اپنی ذاتی ویڈیوز اور مواد کو ہمیشہ محفوظ جگہ پر رکھیں، جیسے کہ پاسورڈ پروٹیکٹڈ ڈیوائسز یا اینکرپٹڈ فولڈرز میں۔ کوشش کریں کہ حساس مواد کو کلاؤڈ پر اپ لوڈ نہ کریں کیونکہ کلاؤڈ ہیکنگ کے امکانات موجود رہتے ہیں۔اپنے موبائل فون، کمپیوٹر، اور دیگر ڈیوائسز کے لیے مضبوط پاسورڈز کا استعمال کریں۔ پاسورڈ میں حروف، نمبرز، اور اسپیشل کریکٹرز کا استعمال کریں تاکہ اسے اندازہ لگانا مشکل ہو۔ایسی ایپس انسٹال نہ کریں جو غیر معتبر ہوں یا جن کے بارے میں آپ کو مکمل معلومات نہ ہوں۔ بعض اوقات یہ ایپس آپ کی پرائیویسی تک رسائی حاصل کر کے آپ کے ڈیٹا کو چوری کر سکتی ہیں۔اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر صرف ان لوگوں کو دوست یا فالو کریں جن پر آپ بھروسہ کرتے ہیں۔ ذاتی ویڈیوز یا تصاویر شیئر کرنے سے پہلے یہ سوچیں کہ اگر یہ مواد پبلک ہو جائے تو اس کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔اپنے موبائل اور کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز اور سیکیورٹی سافٹ ویئر کو اپ ڈیٹ رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کے سائبر حملے سے بچا جا سکے۔اگر آپ کو اپنی ویڈیوز کا بیک اپ لینا ضروری ہے تو اسے محفوظ جگہ پر کریں، جیسے کہ ایکسٹرنل ہارڈ ڈرائیوز جو انٹرنیٹ سے منسلک نہ ہوں۔ای میلز، سوشل میڈیا، یا کسی اور پلیٹ فارم پر ذاتی ویڈیوز یا حساس معلومات شیئر کرنے سے گریز کریں۔ یاد رکھیں کہ ایک بار شیئر کیے جانے کے بعد آپ کے مواد پر آپ کا کنٹرول ختم ہو سکتا ہے۔اگر ویڈیو لیک ہو جائے تو فوراً متعلقہ حکام سے رابطہ کریں۔ پاکستان میں ایف آئی اےسائبر کرائم ونگ ایسے معاملات کو حل کرنے کے لیے موجود ہے۔ایف آئی اے کو ویڈیو لیک کے حوالہ سے درخواست دی جا سکتی ہے. تھوڑی سی احتیاط اور سمجھداری بڑے نقصانات سے بچا سکتی ہے۔ یاد رکھیں، انٹرنیٹ پر موجود ہر چیز کسی نہ کسی وقت لیک ہو سکتی ہے، اس لیے اپنی ذاتی معلومات کو ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کریں،آپ کی حفاظت آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے

    چھ ملین فالورز والی ٹک ٹاکر گل چاہت کی نازیبا ویڈیو بھی لیک

    ٹک ٹاکرز خواتین کی نازیبا ویڈیو لیک،کاروائی کیوں نہیں ہو رہی

    ٹک ٹاکر مسکان چانڈیو کی بھی نازیبا،برہنہ ویڈیو لیک

    مناہل اور امشا کےبعد متھیرا کی ویڈیولیک،کون کر رہا؟ حکومت خاموش تماشائی

    نازیبا ویڈیو لیک،وائرل ہونے پر متھیرا کا ردعمل آ گیا

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این کا استعمال،مگر ذرا احتیاط سے

    وی پی این ، ایک ایسا ٹول ہے جو انٹرنیٹ پر پرائیویسی اور سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کنکشن کو انکرپٹ کرتا ہے اور اصل آئی پی ایڈریس کو چھپاتا ہے تاکہ آن لائن سرگرمیوں کا پتہ نہ چل سکے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اب دہشت گردوں نے بھی وی پی این کا استعمال کرنا شروع کر دیا ہے تو وہیں بھارت میں ایئر لائن کو دھمکیاں دینے والے بھی وی پی این کا ہی استعمال کر رہے ہیں تا کہ ان ملزمان تک نہ پہنچا جا سکے،

    پاکستان میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پابندی لگی ،کچھ ماہ سے ایکس بغیر وی پی این کے نہیں چل رہی، اب وی پی این کے حوالہ سے اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اعلامیہ جاری کیا ہے اور کہا ہے کہ وی پی این کا استعمال غیر شرعی ہے، آنے والے دنوں میں غیر قانونی وی پی این بند ہو جائیں گے اور یوں ایکس تک رسائی ممکن نہیں ہو گی،

    پاکستان میں غیر اخلاقی، فحش ویب سائٹس پی ٹی اے نے بلاک کر رکھی ہیں، بہت سے افراد وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے بھی کرتے ہیں۔ جب ایک وی پی این کے ذریعے کنکشن کرتے ہیں تو ویب سائٹس اصل مقام اور شناخت نہیں جان پاتیں، اور بغیر کسی رکاوٹ کے فحش مواد دیکھا جاتا ہے، وزارت مذہبی امور نے بھی اس ضمن میں پی ٹی اے کو خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ فحش مواد تک پاکستانیوں کی رسائی روکی جائے،

    وی پی این ایک انکرپٹڈ کنکشن فراہم کرتا ہے، لیکن اگر وی پی این کا فراہم کنندہ قابل اعتبار نہیں ہے یا اس کی سروس میں کمی ہے، تو ڈیٹا کی حفاظت میں کمی آ سکتی ہے۔ کچھ وی پی این سروسز ڈیٹا کو لاگ کر سکتی ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ آن لائن سرگرمیاں ٹریک کی جا سکتی ہیں، خصوصاً جب فحش مواد جیسے حساس مواد تک رسائی حاصل کر رہے ہیں۔غیر محفوظ وی پی این سروسز کے ذریعے انٹرنیٹ پر گھومنامالویئر اور وائرس کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ بعض اوقات وی پی این فراہم کنندہ ڈیوائس پر مالویئر انسٹال کر سکتا ہے یا غیر محفوظ سرور کے ذریعے ڈیٹا کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔اگرچہ وی پی این پرائیویسی کو بڑھاتا ہے، لیکن فحش مواد تک رسائی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے لیے اس کا استعمال قانونی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ کئی ممالک میں فحش مواد کی پابندیاں سخت ہیں، اور وی پی این کا استعمال ایسی مواد کو دیکھنے کے لیے قانون کے تحت مشکلات میں ڈال سکتا ہے۔

    وی پی این کا استعمال فحش مواد تک رسائی کے لیے ایک اور مسئلہ پیدا کرتا ہے، اخلاقی اور معاشرتی اثرات، فحش مواد کو آن لائن دیکھنا کچھ افراد کے لیے تفریح کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی ہو سکتے ہیں۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ فحش مواد کی زیادہ مقدار افراد کے ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے، اور یہ بھی ایک نشے کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔وی پی این کے ذریعے فحش مواد تک رسائی اس قسم کے مواد کو دیکھنے کی آزادی دیتی ہے، لیکن ذہنی اور جسمانی صحت پر اس کے اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔فحش مواد کا زیادہ استعمال نفسیاتی مسائل، جیسے کہ جنسی تشویشات، تعلقات میں مشکلات، اور خود اعتمادی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ فحش مواد کا بار بار دیکھنا انٹرنیٹ کی لت میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو روزمرہ زندگی اور کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر سکتا ہے۔

    اگر وی پی این کا استعمال کرتے ہیں، تو اس بات کو یقینی بنائیں کہ منتخب کردہ وی پی این سروس کا فراہم کنندہ قابل اعتماد ہو اور اس کی سیکیورٹی پالیسیز مضبوط ہوں۔ یہ ضروری ہے کہ انٹرنیٹ کی سرگرمیوں کو محفوظ رکھیں، وی پی این کے استعمال سے پہلے ان تمام خطرات اور اخلاقی سوالات پر غور کرنا ضروری ہے۔اگر انٹرنیٹ کو محفوظ طریقے سے استعمال کرنا چاہتے ہیں، تو وی پی این کا استعمال ضروری ہو سکتا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے احتیاط بھی کرنی چاہیے۔

  • مہربانی کا عالمی دن: دنیا کو بہتر بنانے کی ایک چھوٹی سی کوشش

    مہربانی کا عالمی دن: دنیا کو بہتر بنانے کی ایک چھوٹی سی کوشش

    دنیا میں جہاں ہر طرف مصروفیت اور مقابلہ بازی کا دور دورہ ہے، وہیں مہربانی اور انسانیت کی اہمیت بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ ہر سال 13 نومبر کو "مہربانی کا عالمی دن” منایا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں دوسروں کے ساتھ نرمی، ہمدردی اور مدد کے جذبے کو فروغ دیا جا سکے۔

    مہربانی کا مطلب صرف کسی کو مالی طور پر مدد دینا یا کسی کی مشکل وقت میں مدد کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ ایک ایسا رویہ ہے جو انسانوں کے درمیان محبت، احترام اور دوستی کو بڑھاوا دیتا ہے۔ مہربانی کسی بھی چھوٹے یا بڑے عمل کی صورت میں ہو سکتی ہے، جیسے کسی کی مدد کرنا، کسی کو مسکراہٹ دینا، کسی کے درد میں شریک ہونا، یا بس کسی کے لیے اچھے الفاظ کہنا۔ مہربانی کے عالمی دن کا مقصد دنیا بھر میں انسانوں کے درمیان حسن سلوک، محبت اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے معاشرتی رویوں کو بہتر بنائیں، ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور دوسروں کی مدد کے لیے تیار رہیں۔ اس دن کو منانے سے نہ صرف فرد کی زندگی میں خوشی آتی ہے، بلکہ پورے معاشرتی نظام میں محبت اور امن کی فضا بھی قائم ہوتی ہے۔

    مہربانی کے فوائد
    مہربانی صرف دوسروں کے لیے ہی فائدہ مند نہیں ہوتی، بلکہ یہ ہمارے اپنے لیے بھی بہت فائدہ مند ہے۔ جب ہم کسی کی مدد کرتے ہیں یا کسی کے ساتھ مہربانی سے پیش آتے ہیں، تو ہمیں ذہنی سکون ملتا ہے اور دل کو خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ مہربانی ہمارے اندر سے خود غرضی اور غصے کو کم کرتی ہے، اور ہمیں خوشی کی طرف مائل کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، یہ ہمارے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بناتی ہے، اور ہم سب مل کر ایک بہتر معاشرہ قائم کر سکتے ہیں۔

    دنیا بھر میں کئی ایسے چھوٹے بڑے اقدامات ہیں جن سے مہربانی کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔ کئی انسانیت دوست ادارے اور تنظیمیں لوگوں کی مدد کے لیے دن رات کام کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، بہت سے لوگ روزانہ کی زندگی میں چھوٹے چھوٹے کام کرتے ہیں جیسے کسی کو بس کی سیٹ دینا، کسی کو خوش دیکھ کر اس سے بات کرنا، یا بس ایک اچھا لفظ کہنا۔پاکستان میں بھی مہربانی کے بہت سے ایسے نمونے دیکھے جا سکتے ہیں جہاں لوگ اپنے وسائل اور وقت کو دوسروں کی مدد کے لیے خرچ کرتے ہیں۔ ہر سال نیکی کے مختلف منصوبوں اور سرگرمیوں کو لوگوں کی زندگیوں میں پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے، تاکہ معاشرتی برائیوں کو کم کیا جا سکے اور مہربانی کے پیغام کو عام کیا جا سکے۔

    ہم کس طرح مہربانی کے عالمی دن کو منا سکتے ہیں؟
    مہربانی کے عالمی دن کو منانے کے لیے ہمیں یہ ضروری نہیں کہ کوئی بڑا اقدام کریں، بلکہ چھوٹے چھوٹے کام بھی ایک بڑے فرق کا سبب بن سکتے ہیں:
    دوسروں کی مدد کریں: کسی بھی فرد کی مدد کرنا، چاہے وہ کسی کی مالی مدد ہو یا اس کی ذہنی حمایت، بہت بڑی مہربانی ہے۔
    مسکراہٹ بانٹیں: کسی کے چہرے پر مسکراہٹ لانا نہ صرف آپ کو خوشی دے گا بلکہ اس شخص کے دن کو بھی روشن کر دے گا۔
    اچھے الفاظ استعمال کریں: کسی کی تعریف کرنا، اس کی محنت کی قدر کرنا اور اس کی حوصلہ افزائی کرنا، سب مہربانی کے چھوٹے لیکن موثر طریقے ہیں۔
    خود کو بہتر بنائیں: اپنے اندر مہربانی کے جذبات پیدا کرنا اور ان پر عمل کرنا سب سے بڑی نیکی ہے۔
    مفاد عامہ کے منصوبوں میں حصہ لیں: اگر آپ کے اردگرد کوئی کمیونٹی پروگرام یا خیرات کے منصوبے چل رہے ہوں، تو ان میں حصہ لیں اور دوسروں کی زندگی میں بہتر تبدیلی لانے کی کوشش کریں۔

    مہربانی ایک ایسی زبان ہے جو سب لوگ سمجھ سکتے ہیں، چاہے وہ کسی بھی زبان یا ثقافت سے تعلق رکھتے ہوں۔ "مہربانی کے عالمی دن” کو مناتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کو بہتر بنانے کے لیے ہمیں چھوٹے چھوٹے اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک اچھا انسان بننے کے لیے ہمیں دوسروں کے ساتھ حسن سلوک اور مہربانی سے پیش آنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ رویہ ہے جو ہمیں اپنے اندر کی انسانیت کو پہچاننے اور دنیا کو ایک خوبصورت جگہ بنانے میں مدد دیتا ہے۔

    آئیے! ہم سب مل کر اس دن کو منائیں اور دنیا میں محبت اور مہربانی کے پیغام کو پھیلائیں۔

    اب کون سی ٹک ٹاک گرل اپنی ویڈیوز لیک کرنے والی ، اور کیوں؟

    مناہل،امشا کے بعد متھیرا کی بھی برہنہ ویڈیو لیک،وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

  • ایس سی اواجلاس،اور بالاخر آگیا وہ شاہکار تھا جس کا سب کو انتظار،تحریر: حنا سرور

    ایس سی اواجلاس،اور بالاخر آگیا وہ شاہکار تھا جس کا سب کو انتظار،تحریر: حنا سرور

    شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کاسربراہی اجلاس 15 اکتوبر پاکستان میں منعقد ہوگا۔یہ اجلاس پاکستان کے لیے ایک اہم موقع ہے کہ وہ خطے میں اقتصادی تعاون، سیکیورٹی اور ماحولیاتی مسائل جیسے اہم امور پر بات چیت کو فروغ دے۔ ایس سی او کے اس اجلاس میں دہشت گردی سے نمٹنے، علاقائی استحکام کو بہتر بنانے اور تجارتی و سرمایہ کاری کے منصوبوں پر زور دیا جائے گا۔پاکستان اس اجلاس کے ذریعے اپنی حیثیت کو مضبوط کر سکتا ہے اور خطے میں اقتصادی تعاون اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے ایک پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔اس کے علاوہ ایس سی او کے رکن ممالک دہشت گردی، انتہاپسندی اور علیحدگی پسند جیسے مسائل پر تعاون کرتے ہیں۔

    پاکستان کو تنظیم کے پلیٹ فارم سے اپنی سیکیورٹی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی سے نمٹنے میں مدد مل سکتی ہے۔اور ایس سی او اقتصادی تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم فراہم کرے گی جو پاکستان تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ تجارتی رابطوں کو بڑھا سکتا ہے اور سرمایہ کاری کے مواقع حاصل کر سکتا ہے، خاص طور پر چین اور روس جیسے بڑے معیشتوں کے ساتھ۔اور اسی ایس سی او کے ذریعے پاکستان علاقائی انفراسٹرکچر پروجیکٹس میں شمولیت اختیار کر سکتا ہے جیسے کہ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI)، جس سے ملک کی معاشی ترقی میں مدد ملے گی اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی رابطے مضبوط ہوں گے۔اس ایس سی او کے اجلاسوں کی میزبانی اور تنظیم میں فعال کردار سے پاکستان کی عالمی سطح پر سفارتی حیثیت مضبوط ہوگی، اور اسے خطے میں ایک پل کا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔ ایس سی اوکے اندر توانائی کی تقسیم اور وسائل کے استعمال کے حوالے سے تعاون کے امکانات ہیں، جس سے پاکستان کو توانائی بحران کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔اس ایس سی او کے زریعے پاکستان نہ صرف اپنے داخلی مسائل حل کرنے میں مدد حاصل کر سکتا ہے بلکہ خطے میں اپنا اثر و رسوخ بھی بڑھا سکتا ہے۔پیارے پاکستانیو ایس سی او کے ڈھیر سارے فوائد جاننے کے بعد آپ یہ بات تو سمجھ چکے ہوں گے کہ جیسے ہی پاکستان دشمنوں نے عالمی شنگھائی اجلاس اس بار پاکستان میں ہونے کی خبر سنی تو تمام دشمن حواس باختہ کیوں ہو گے۔کیوں اچانک ہی عمران خان نے دھرنوں جلسوں کی کال دے دی کیوں اچانک سے بلوچستان میں ماہ رنگ بلوچ ایکٹو ہو گئی کیوں خیبرپختونخواہ میں پہلے پولیس اور فوج کو آمنے سامنے کرنے کی کوشش کی گئی تو پھر اچانک ہی منظور پشتین کو جرگے کے زریعے لاونچ کر دیا گیا۔۔تو میرے پیارے پاکستانیوں یہ تھی وہ پاکستان دشمنوں کی چالیں شنگھائی کانفرنس پاکستان میں منسوخ کروانے کی خاص کر چینی وزیراعظم کا دورہ منسوخ کروانے کی۔لیکن دشمنان پاکستان یہ بھول چکے تھے کہ پاکستان ایک نور ہے اور نور کو زوال نہیں۔تم کتنا ہی رستہ روکو یہ نور اندھیرے میں روشنی کی کرن نکال ہی لیتا ہے.

    ایس سی او سمٹ کانفرنس پاکستان کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگی۔وزیراعلیٰ پنجاب

    چینی وزیراعظم پاکستان پہنچ گئے

    ایس سی او اجلاس،اسلام آباد میں صحت کے مراکز کھلے رکھنے کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس،کن کن ممالک کے وزرااعظم آ رہے پاکستان؟

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    اسلام آباد میں شنگھائی تعاون تنظیم کانفرنس: فوج کی تعیناتی کے لیے نوٹیفکیشن جاری

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس، اسلام آباد کے حسن کو چار چاندلگا دیئے گئے

    شنگھائی کانفرنس،دنیا کی نظریں پاکستان پر ہیں،شرجیل میمن

  • پاکستانی معیشت میں بہتری کی نوید اور قیصر بنگالی کا استعفی: حقیقت یا فتنہ؟

    پاکستانی معیشت میں بہتری کی نوید اور قیصر بنگالی کا استعفی: حقیقت یا فتنہ؟

    آج کی ایک خوش خبری یہ ہے کہ پاکستان کی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے تعاون سے خوراک کی برآمدات میں رواں مالی سال کے ابتدا میں 45 فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ درآمدات میں 18 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ ترقی پاکستانی معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا قدم ہے، جس سے نہ صرف ملکی معیشت مستحکم ہو رہی ہے بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

    تاہم، دوسری طرف ماہر معاشیات قیصر بنگالی کی جانب سے تین حکومتی کمیٹیوں سے استعفیٰ دینا سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بنگالی صاحب کا استعفیٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت خود وزراء اور سرکاری افسران کے اخراجات میں کمی کرنے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ اگر معیشت کی بہتری کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جا رہے ہیں تو قیصر بنگالی کا استعفیٰ ان کوششوں سے کیوں متصادم ہے؟

    یہ اقدام ایسا لگتا ہے کہ عمران خان کی ناکامی کے بعد بھی کچھ عناصر ملک میں انتشار پھیلانے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ بنگالی صاحب کا استعفیٰ ایسے وقت میں دینا، جب معاشی اشاریے بہتری کی جانب گامزن ہیں، سوالیہ نشان ہے۔ کیا ان کا یہ اقدام ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے؟ یا یہ محض ایک سیاسی چال ہے تاکہ عمران خان اور ان کے حامی اس موقع کا فائدہ اٹھا کر معاشی بہتری کو روکنے کے لیے نیا بیانیہ بنا سکیں؟

    یہ وقت ہے کہ حکومت اور عوام مل کر ملک کو ان سازشی عناصر سے ملک کو محفوظ بنائیں جو ملکی مفادات کے بجائے اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔ قیصر بنگالی کا استعفیٰ ایک واضح پیغام ہے کہ حکومت کے صفحوں میں موجود کچھ عناصر ابھی بھی ملک دشمنی کے راستے پر گامزن ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ایسے عناصر کو الگ کر کے حکومت کو صاف اور مؤثر بنایا جائے تاکہ ملکی ترقی کے سفر میں کوئی رکاوٹ نہ رہے۔

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس، احسن شاہ کے گھر سے رقم برآمد،ایک اور مبینہ ملزم گرفتار

    امیر بالاج قتل کیس، شوٹر مظفر مالشیا نہیں بلکہ طیفی بٹ کا گن مین تھا

    امیر بالاج کو قتل کرنے والی ٹیم کے سرغنہ کی شناخت

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور موبائیل فوٹیج،ایک اور ملزم سامنے آ گیا

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،ایک اور حملہ آور گرفتار،تحقیقاتی ٹیم تشکیل

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،اہم پیشرفت،ریکی کرنیوالا دوست گرفتار

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس: نامزد ملزم طیفی بٹ کی گرفتاری کیلئے انٹر پول سے رابطہ

    امیر بالاج ٹیپو قتل کیس،حملہ آور کی لاش ورثا کے حوالے

    ٹیپو ٹرکاں والا کا بیٹا امیر بالاج قتل،طیفی بٹ مقدمے میں نامزد

  • 14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    14اگست1947ء اور ہماری ذمہ داری.تحریر:حنا سرور

    یہ دن ہماری تاریخ میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اسی دن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہندوؤں،سکھوں اور فرنگیوں سے آزادی دی اورجس کے نتیجے میں دُنیا کے نقشے پر پاکستان آزاد ریاست کی حیثیت سے ابھرا ۔ اس پاک وطن کے حصول کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے جو قربانیاں دیں وہ ہمیشہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر رہیں گی۔ قیامِ پاکستان کے وقت جو دل خراش مناظر سامنے آئے آزادی کے متوالوں نے کن کن مشکلات کا سامنا کیا، کتنی ماؤں کو اپنے بیٹوں کی، کتنی بہنوں کو اپنے بھائیوں کی اور کتنی سہاگنوں کو اپنے سہاگ کی قربانی دی پڑیں، آج یہ سوچ کر بھی رونگنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پورے اعداد و شمارتو معلوم نہیں ،لیکن اندازہ لگایا جا تا ہے کہ 2 ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بنے، جبکہ 10 ملین سے زائد ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ایسے دل خراش واقعات پیش آئے کہ دل خون کے آنسو روتا ہے، لیکن یہ مسلمانوں کا ولولہ اور جوش و جذبہ تھا کہ انہوں نے اپنا سب کچھ لٹا کر بھی علامہ محمد اقبال ؒ کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا اور قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی قیادت میں الگ وطن حاصل کرلیا ۔ اب یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آج 76 سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اگر ہم جائزہ لیں تو کیا یہ وہی پاکستان ہے، جس کی بنیاد دو قومی نظریہ تھی، جس کی خاطر کروڑوں مسلمانوں نے لازوال قربانیاں دیں ۔ اگر ہمارا جواب نہیں میں ہے، تو اس ملک کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔کیا ہم نے کبھی سوچا ہے کہ وطن عزیز کی ترقی و خوشحالی کے لئے ہم سب کی قومی ذمہ داریا ں کیا ہیں، ستم تو یہ ہے کہ ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اس ملک کو لوٹ کھایا ہے اور کھارہے ہیں، کسی نے اس ملک کا نہیں سوچا.کسی نے کبھی یہ سوچا کہ ہم نے ان 76سالوں میں کیا کھویا کیا پایا ہے۔ وہ واحد ریاست ہے جو محض سات سال کی مختصر مدت میں معرض وجود میں آئی تھی اس کی وجہ وہ قیادت اپنے جذبے سے اپنے نظریے سے مخلص بے لوث تھی اس وقت کی قیادت میں لوٹے کرچھے چمچے نہیں تھے وہ سیاست دان حقیقی معنوں میں عوامی نمائندے تھے اور آج کے سیاست دان جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات، امتیازات اور ترجیحات کے لیے ملک کا وقار اور اس کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا ہوا ہے، ایک وہ سیاست دان تھے جنہوں نے ملکی سلامتی کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دئیے اور ایک آج کے سیاست دان ہیں جو اپنے اقتدار کی خاطر اپنی دھرتی ماں کا سودا کرنے سے گریز نہیں کرتے، اپنے محسنوں کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہیں، پاک فوج پر دشنام طرازیاں کرتے ہیں، لوگوں کے گھروں میں گھس کر ان پر تشدد کرتے ہیں۔

  • بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    بجلی کے بل بھریں یا…تحریر:حنا سرور

    پاکستان دنیا کا سب سے مہنگی ترین بجلی پیدا کرنے والا ملک بن گیا۔۔دس بیس ہزار سے ستر ایک لاکھ تک کمانے والا طبقہ پریشان ہے بجلی کے بل بھریں کہ بزرگ والدین کا علاج کروائیں یا بچوں کو سکول پڑھائیں۔یا پھر گھر کا راشن پانی لیں۔لوگ نفسیاتی ہورہے ہیں نوجوان بیروزگار ہے خودکشیاں کررہے ہیں بجلی کے بلوں کی وجہ سے ہر گھر میں بے سکونی ہے لڑائی جھگڑے ہیں کہ بل کون دے۔۔جو پیسے لوگ بیٹیوں کی شادیاں کرنے کے اور بچوں کی فیسیں جمع کرنے کے حج و عمرہ کرنے کے اور قربانی کے جانور خریدنے کے لیے جمع کرتے تھے وہ لوگ اب پیسے بجلی کے بل بھرنے کے لیے جمع کرتے ہیں لوگ اپنے موبائل فون بیچ رہے ہیں سونا بیچ رہے ہیں تاکہ بل بھر سکیں۔۔

    اور حکومت کی بے حسی دیکھیے پارلیمنٹ میں موجود ہر مذہبی و سیاسی ارکان کو تمام سہولیات مراعات فری ہے۔۔ان کے بیرون ملک کے ٹکٹ فری ہے ان کی سات نسلیں غریب عوام کے ٹیکس پر پلتی ہے ۔کیا ہی اچھا ہو جو بوجھ یہ عوام پر ڈال رہے ہیں خود پر ڈالیں یہ دو تین مہینے سہولیات مراعات نہ لیں تو اربوں روپیہ انھی سے نکل سکتا۔

    لاہور دا پاوا، اختر لاوا طویل لوڈ شیڈنگ اور مہنگے بجلی بلوں پر پھٹ پڑا

    عمران خان نے آخری کارڈ کھیل دیا،نواز شریف بھی سرگرم

    موجودہ بجٹ معیشت، عوام ،ملک کے لئے تباہ کن ثابت ہوگا،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی کچھ بڑا کریں گے؟ن لیگ کی آخری حکومت

    پی ٹی آئی کی ڈیجیٹل دہشت گردی کا سیاہ جال،بیرون ملک سے مالی معاونت

    جسٹس ملک شہزاد نے چیف جسٹس سے چھٹیاں مانگ لیں

    اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو ایک شخص داد رسی کیلئے کیا کرے؟چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ

    عمران خان کیخلاف درخواست دینے پر جی ٹی وی نے رپورٹر کو معطل کردیا

    سوال کرنا جرم بن گیا، صحافی محسن بلال کو نوکری سے "فارغ” کروا دیا گیا

    صوبائی کابینہ نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف شواہد کے تحت کارروائی کی اجازت دی

    توشہ خانہ،نئی پالیسی کے تحت تحائف کون لے سکتا؟قائمہ کمیٹی میں تفصیلات پیش

    باسکن رابنز پاکستان کو اربوں روپے جرمانے اور منی لانڈرنگ کی تحقیقات کا سامنا

    اگلے دو مہینے بہت اہم،کچھ بڑا ہونیوالا؟عمران خان کی پہنچ بہت دور تک

    اڈیالہ جیل میں قید عمران خان نے بالآخر گھٹنے ٹیک دیئے

    جعلی ڈگری،جسٹس طارق جہانگیری کے خلاف ریفرنس دائر

    "بھولے بابا” کا عام آدمی سے خود ساختہ بابا بننے کا سفر ،اربوں کے اثاثے

    اصلی ولن آئی ایم ایف یا حکومت،بے حس اشرافیہ نے عوام پر بجلی گرا دی

  • نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    نام کتاب:نامکمل زندگی ،مصنفہ:حنا سرور(چھوٹی چڑیا)

    ’’نامکمل زندگی‘‘ نگارشِ قلم ہے ایک "معذور” بچی کی۔ لیکن میں اس ننھی پری کو ’’معذور‘‘ نہیں کہہ سکتا۔ حقیقت میں معذور اور ڈس ایبل تو وہ لوگ ہوتے ہیں، جن کے دماغ مائوف، ذہن بانجھ اور قلب پر قفل پڑے ہوئے ہیں۔ ’’نامکمل زندگی‘‘ کے ابتدائی چند اوراق پڑھ کر ہی مجھے عربی کا یہ مقولہ یاد آگیا کہ ’’عدیم البصارۃ لکن مملو بالبصیرۃ‘‘ یہ عرب لوگ ایسے شخص کے بارے میں کہتے ہیں، جو آنکھوں کی بصارت سے محروم ہونے کے باوجود بصیرت کے نور سے منور ہو۔ قرآن کریم نے بھی یہی فرمایا گیا ہے: ’’آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ دل اندھے ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الحج) حنا سرور بھی ایسی ہی ایک بیٹی ہے، جسے جسمانی معذوری کے باوجود قلب سلیم کی دولت سے نوازا گیا ہے۔

    اس نے نہایت دل نشین انداز میں جسمانی عوارض لے کر دنیا میں آنے والے افراد کا مقدمہ پیش کیا ہے۔ اپنی تحریر میں قرآنی آیات، احادیث اور واقعات صحابہ کرامؓ کے ساتھ اشعار کا برمحل استعمال کیا ہے۔ حق تعالیٰ اس کاوش کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور ہمارے معاشرے کو بھی جسمانی عوارض والے افراد کو حقیقی معنوں میں ’’اسپیشل افراد‘‘ سمجھ کر ان کے ساتھ ایسے ہی برتائو کرنے کی توفیق عطا فرمائے، جس کے یہ لوگ مستحق ہیں۔مصنفہ اس کتاب کی اشاعت پر بجا طور مبارکباد کی مستحق ہے۔

  • آزادی کے 75 برس اور 75 کا نوٹ

    آزادی کے 75 برس اور 75 کا نوٹ

    آزادی کے 75 برس اور 75 کا نوٹ، تحریر: حنا سرور
    پاکستان کی آزادی کے 75 برس بیتے تو پاکستان کے قومی بینک نے بھی 75 روپے کا نوٹ جاری کرنے کا اعلان کیا جو اب جاری کیا جا چکا ہے، اور شہریوں کے لئے دستیاب ہے ،

    سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق 75 روپے کا اعزازی نوٹ ملک بھر میں خریداری کے لیے استعمال کیا جا سکے گا ، 75 روپے کے نوٹ کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک اور مقامی آرٹسٹوں نے مرتب کیا نوٹ کے ایک جانب قائداعظم، علامہ اقبال، سرسید احمد خان اور فاطمہ جناح کی تصاویر ہیں، نوٹ کے دوسری جانب مار خور اور دیودارکے درخت کی تصاویرہیں، سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری نوٹ سبز زمرد رنگ کا ہے جبکہ اس کا سائز 147 ملی میٹر چوڑا اور 65 ملی اونچا ہے .نوٹ کی پشت کو ماحولیاتی تبدیلیوں پرقومی عزم کو مدنظر رکھتے ہوئے مرتب کیا گیا ہے

    پاکستان کا قومی بینک، اہم دنوں، مواقع پر سکے جاری کرتا ہے، بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ سٹیٹ بینک کی جانب سے یادگاری نوٹ جاری کیا جائے، 75 روپے کے نوٹ کے حوالہ سے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ نوٹ میں سبز رنگ ترقی اور نمو کے ساتھ پاکستان کی اسلامی شناخت کی علامت ہے جبکہ سفید رنگ آبادی کے مذہبی تنوع پر زور دیتا ہے کرنسی نوٹ پر بانی پاکستان محمد علی جناح ،شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کے ہمراہ سرسید احمد خان کی تصویر بھی لگائی گئی ہے جو پہلے کسی نوٹ پر نہیں ہے، کرنسی نوٹوں پر بانی پاکستان کی تصاویر ہی چھپتی رہی ہیں، سرسید احمد خان کی تصویر بارے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ سرسید احمد خان نے آزادی کی بنیاد علی گڑھ تحریک کے ذریعے رکھی اور انہیں دو قومی نظریے کا بانی سمجھا جاتا ہے

    بانی پاکستان قائداعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کی تصویر بھی کرنسی نوٹ پر موجود ہے، اس تصویر بارے سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ فاطمہ جناح نے تحریک پاکستان میں اپنے بھائی کی مدد کی ،

    پاکستان کے قومی بینک کی جانب سے نئے نوٹ پر تصویروں کے حوالہ سے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے اعتراض عائد کیا ہے اور تحفظات ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے نوٹ پر ذوالفقار بھٹو اور بینظیر کی تصویریں بھی ہونی چاہیے تھیں۔ جس اخلاس میں اعتراض عائد کیا گیا اس میں گورنر سٹیٹ بینک بھی موجود تھے انہوں نے کمیٹی اجلاس میں کہا کہ کرنسی نوٹوں کا اجراء ایک رسمی طریقہ کار سے ہوتا ہے بحیثیت پاکستانی میں تمام قومی رہنماﺅں کا احترام کرتا ہوں

    پاکستان کی آزادی کے 75 برس مکمل ہونے پر 75 روپے کا نوٹ تو سٹیٹ بینک کی طرف سے آ گیا،یقینا خوش آئندہ اور یادگار موقع ہے. تا ہم پاکستانی قوم کے ذہنوں میں سوال ہے کہ ایسے نوٹ جاری کرنے سے پاکستان کو کیا فائدہ ؟ پاکستانی کرنسی کی اہمیت کیا رہ گئی ہے؟ ڈالر دن بدن بڑھ رہا ہے،پاکستانی کرنسی کی قدر کم ہو رہی ہے،نئے نوٹ جاری کرنے سے بہتر تھا کرنسی کی قدر بہتر کرنے کی کوشش کی جاتی،پاکستانی روپے کی قدر کم ہونے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے اور اس مہنگائی کی شدید لہر نے قوم کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے.

  • آزادی پاکستان  ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    آزادی پاکستان ،14 اگست 1947 قربانیوں کی داستان ،تحریر:حنا سرور

    خون کی وہ لکیر جس سے برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی آنے والی نسلوں کے لئے علیحدہ وطن کا نقشہ کھینچا اور جن کے صدقے میں ہم آزاد فضاوں میں سانس لے رہے ہیں۔

    آزادی ایک نعمت ہے اس کی قدر ان کو ہی ہوتی ہے جنھوں نے کچھ کھویا ہوتا ہے یا جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہوتی۔ 14 اگست کا دن ایک خاص اہمیت کا حامل اور حب وطنی کے جذبے بھرپور ایک خاص دن ہوتا ہے ۔۔ ایک ایسا دن جس کا بچوں اور نوجوانوں کوعید کے دن کی طرح ہی انتظار ہوتا ہے ۔۔ گھروں ، چھتوں ، گاڑیوں ، موٹر سائیکلوں کو لوگ سجانا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ بچوں کے سکولوں کالجوں وغیرہ میں بھی خاص پروگرام ہوتے ہیں ۔۔

    کچھ تجزیہ نگاروں کے تجزیے، کالم نویسوں کے کالم بہت عجیب اور حیران کن انداز میں بات کرتے ہیں 14 اگست کی اہمیت اور اسکی بنیاد کو کھوکھلا کرنے کے لیے سازشیں کرتے رہتے ہیں اور کچھ حضرات بیرون ِ ملک سے خرچہ لے کر پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں انھیں غیرت کھانی چاہیں اور انھیں بتانا چاہیے کہ 14 اگست صرف ایک دن نہیں بلکہ ایک خاص تہوار ہے جس دن پاکستان معرض وجود میں آیا ۔۔

    14 اگست، آزادی، اور جشنِ آزادی کا مفہوم کیا ہے، عام لوگ اور بالخصوص نئی نسل کی اکثریت اس سے بالکل بے بہرہ ہے۔ ان پڑھ تو چلو پروپیگینڈے کا شکار ہیں، لیکن پڑھے لکھے بھی غیر تاریخ کے طوطے بنے ہوئے ہیں۔ آزادی کا تصور ان سب کے لیے ایک مجرد اور رومانوی تصور کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ بس یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے 14 اگست کو آزادی حاصل کی۔ کس سے حاصل کی، کیوں حاصل کی، اور کیسے حاصل کی؛ ان بنیادی سوالات سے انھیں کوئی سروکار نہیں۔ اس روز ایسے بینر بھی آویزاں کیے جاتے ہیں، جن پر آزادی کے شہیدوں کو سلام پیش کیا جاتا ہے۔ اس بے خبری کا نتیجہ یہ برآمد ہو رہا ہے کہ 14 اگست اور آزادی کا تصور محض ایک خالی خولی نعرے میں تبدیل ہو گیا ہے اور ظاہری ٹیپ ٹاپ، دکھاوا، ہلڑ بازی اور لاقانونیت اس دن کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔

    ہم لوگ سارا سال پاکستان کی کمزوریوں پر مباحث میں اُلجھے رہتے ہیں جو خصوصاً اگست کے مہینے میں مزید دھواں دھار صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ لیکن اگر سال میں ایک دن یہ بھی سوچ لیا جائے کہ گزشتہ ایک سال میں ہم نے ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے کیا کیا؟ ہمارا کون سا عمل صرف اور صرف پاکستان کے مفاد کے لئے تھا؟ تو شاید بہت سی بے مقصد باتوں پر بحث میں وقت ضائع نہ ہو۔

    14 اگست کا دن پاکستان میں قومی تہوار کے طور پر بڑے دھوم دھام سے منایا جاتا ہے,پورا سال قوم پرستی فرقہ پرستی اور لیڈر پرستی میں بٹے یہ لوگ آزادی کے دن پاکستان کا پرچم ہاتھ میں پکڑے گلی گلی نعرے لگا کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے فرض ادا کر دیا ہمارا کام گاڑی بائیک پہ بیٹھ کر محلے کے دو چکر لگانا اور باجے بجانا تھا بس.جبکہ 14 اگست کو سڑکوں پہ ڈھول تھاپ پہ جشن منانے والو کو آزادی کے وقت کی تصویریں دیکھاٸیں تو ان کو پتہ چلے کہ یہ دن ناچنے کا نہیں بلکہ شکرانے کے نوافل ادا کا دن ہے ،وہ آزادی جس کو ہم نے فراموش کر دیا غور سے دیکهیں ہم نے آزادی کیسے حاصل کی تهی.