طبی سائنس کی جدید تحقیق کے مطابق سرسوں کے پتوں کے ساگ میں حیاتین ب کیلشیم اور لوہے کے علاوہ گندھک بھی پائی جاتی ہے اس کی غذائیت گوشت کے برابر ہو تی ہے سرسوں کا ساگ خون کے زہریلے مادوں کو ختم کر کے خون صاف کرتا ہے طبی ماہرین نے سرسوں کے ساگ مکئی کی روٹی اور مکھن کو ایک عمدہ غذا قرار دیا ہے دارچینی بڑی الائچی کالا زیرہ پیس کر ساگ کے اوپر چھڑک کر کھانے سے گیس یا پیٹ میں مروڑ کی تکلیف نہیں ہوتی سرسوں کا ساگ اپنی تاثیر کے لحاظ سے گرم خشک قبض کشاء اور پیشاب آور ہے اس کے استعمال سے پیٹ کے کیڑے مر جاتے ہیں اور بھوک بڑھ جاتی ہے
Author: عائشہ ذوالفقار

کڑی پتے کے طبی فوائد
کڑی پتے موسم خزاں کی جھاڑی سے حاصل کئے جاتے ہیں کڑی پتے خوبصورت اور خوشبودار ہوتے ہیں اس کا وطن سری لنکا اور ہندوستان ہے اور یہ تمام زرخیز علاقوں میں پایا جاتا ہے اس میں معدنی اور حیاتینی اجزاء مثلاً کیلشئیم ، فاسفورس، آئرن نکوٹینک ایسڈ اور وٹامن سی پائے جاتے ہیں بھاپ کے ذریعے کشید کئے جانے پر تازہ پتوں سے ایک اڑ جانے والا تیل حاصل ہوتا ہے تیل کے علاوہ پتوں میں ایک گلوکوسائیڈ کوٹینی جن بھی پایا جاتا ہے کڑی پتوں میں نباتاتی ٹانک کی خوبیاں ہوتی ہیں یہ معدے کے افعال کو تقویت دے کر موثر بناتے ہیں کڑی پتوں کو دیگر ہلکے ذائقے والی نباتات کے ساتھ ملا کر کھانا چاہیئے معدے کے لئے 15 گرام پتوں سے نکالے گئے جوس کو لسی کے ساتھ پیا جاتا ہے کڑی پتے نہ صرف خون میں شکر کی سطح کم کرتے ہیں بلکہ کئی روز تک اسے مناسب حد تک رکھنے میں بھی مدد دیتے ہیں متعدد ریسرچ سے معلوم ہوا ہے کہ کڑی پتوں میں خون میں شامل کولیسٹرول کی مقدار گھٹانے کی خوبی بھی پائی جاتی ہے ان پتوں میں اینٹی آکسیڈینٹس کافی مقدار میں پائے جاتے ہیں اسی لئے کولیسٹرول کی آکسیڈیشن کو روکتے ہیں کڑی پتے بالوں کو سفید ہو نے سے روکتے ہیں اس کے علاوہ بالوں کو گھنا اور چمکدار بھی بناتے ہیں اس کے لئے کڑی پتے کھائے بھی جا سکتے ہیں اور ان کا پیسٹ بنا کر بالوں پر لیپ بھی کیا جا سکتا ہے

ساگ قدرت کا انمول تحفہ
انسان سبز پتوں والی سبزیاں اور ساگ دونوں کا ساتھ بہت پرانا ہے غذائی اہمیت کے لحاظ سے ان کی حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی بنیاد ان ہی سا گوں اور سبزیوں پر قائم ہے قدرت ان ہی کے زریے زندگی کی تعمیر کے لئےایسے ضروری اجزاء تیار کرتی ہے جو اچھی صحت کے لئے نہایت ضروری ہوتے ہیں دودھ جسے ہم اعلی درجے کی غذا سمجھتے ہیں ان ہی ساگوں کا دوسرا روپ ہے ساگ اور دودھ دونوں بڑی حد تک ایک دوسرے کا بدل ہو سکتے ہیں اور جسم میں کافی حد تک دودھ کی کمی پورا کرتے ہیں ساگ میں جسم کو نشونما دینے والے اجزا بکثرت پائے جاتے ہیں مثلاً وٹامن اے ، بی، ای اور پروٹین وغیرہ اس کے علاوہ ساگ میں کیلشئیم کلورین سوڈیم فاسفورس فولاد بھی کافی مقدار میں پہائے جاتے ہیں بچوں کی نشونما اور پرورش میں بھی ساگ بہت مفید ہے اگر بچپن سے ہی بچوں کو ساگ اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالی جائے تو یہ عادت انہیں زندگی بھر بہت سی مشکلات اور بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے

سوجی کی مزیدار اور لذیذ قتلیاں بنانے کا طریقہ
اجزاء:
سوجی ایک پاؤ
پسا ہوا کھوپڑا آدھی پیالی
بڑی الائچی 2 عدد
چینی ایک پاؤ
پانی آدھی پیالی
گھی پاؤترکیب:
الائچی سے دانے نکال کر پیس لیں ایک کڑاہی میں آدھی مقدار میں گھی لے کر گرم کریں اس میں سوجی ڈال کر ہلکی آنچ پر خوشبو آنے تک بھونیں کسی دوسرے برتن میں چینی ار پانی ملا کر 7 سے 8 منٹ پکا کر شیرہ بنا لیں چینی بھونتے ہوئے تھوڑی سے آنچ تیز کر کے اس میں شیرہ کھوپڑا الائچی پسی اور باقی گھی شامل کر کے تیزی سے بھونتے ہوئے کڑاہی چولہے سے اتار لیں ٹرے میں چکنائی لگا کر اس میں ڈال کر پھیلا دیں اور ٹھنڈا ہونے پر اپنی پسند کے ٹکڑے کاٹ لیں
کچنار قیمہ بنانے کی ترکیب
اجزاء:
قیمہ آدھا کلو
کچنار ایک پاؤ
ہری مرچیں 4 سے 5 عدد چوپڈ کرلیں
ہرا دھنیا ایک کھانے کاچمچ
ٹماٹر پیسٹ 4 سے 5 عدد
پیاز 3 عدد بڑے باریک کاٹ لیں
گھی ایک کپ
لہسن ادرک پیسٹ دو چائے کے چمچ
نمک حسب ذائقہ
دھنیا پاؤڈر ایک چائے کا چمچ
ہلدی آدھا چائے کا چمچ
سرخ مرچ ایک کھانے کا چمچترکیب:
کچنار کی کلیاں چن کر صاف کر لیں اور 5 سے 6 منٹ تک ابال لیں قیمی اچھی طرح دھو لیں ایک کڑاہی میں گھی ڈال کر گرم کریں اور پیاز ڈال کر ہلکا براؤن ہونے تک فرائی کریں پھر اس میں لہسن ادرک ڈال کر 1 منٹ فرائی کریں اور قیمہ ڈال کر پانچ سے سات منٹ بھونیں پھر اس میں نمک ہلدی دھنیا پاؤڈر اور سرخ مرچ ڈال کر 3 سے 4 منٹ بھون لیں پھر ٹماٹروں کا پیسٹ ڈال کر 3 منٹ بھونیں اور ابلی کچنار ڈال کر اچھی طرح مکس کر لیں اور 5 منٹ تک بھون کر ہری مرچیں اور ہرا دھینا ڈال دیں اور مکس کر کے ایک کپ پانی ڈال کر ڈھک دیں اور دس منٹ ہلکی آنچ پر پکنے دیں تاکہ قیمہ اور کچنار اچھے طریقے سے گل جائیں اب چولہا بند کر کے کچنار قیمہ کسی ڈش میں نکال لیں اور ہرا دھنیا ست گارنش کر لیں مزیدار کچنار قیمہ تیار ہے
مزیدار کچنار گوشت بنانے کا طریقہ
اجزاء:
کچنار آدھا کلو
گوشت ایک کلو
ادرک دو ٹکڑے ایک انچ کے
لہسن 10 سے 12 جوئے
گھی ایک پاؤ
پیاز آدھا کلو
دہی ایک پاؤ
نمک حسب ذائقہ
سرخ مرچ حسب ذائقہترکیب:
گوشت کو اچھی طرح دھو کر صاف کر لیں کچنار صاف کر کے کلیاں چن لیں لہسن ادرک اور پیاز چھیل کو کاٹ کر دھو لیں ایک پتیلی میں گھی ڈال کر چولہے پر رکھیں گھی گرم ہو جائے تو اس میں پئاز ڈال کر فرائی کریں پھر اس میں نمک لہسن ادرک مرچیں ڈال بھون لیں پھر اس میں دہی اور گوشت ڈال کر بھونیں اور دو کپ پانی ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں تاکہ گوشت گل جائے ایک اور پتیلی میں کچنار ڈال کر چولہے پر ابلنے کے لئے رکھ دیں ابل جائے تو پتیلی میں گھی ڈال کر گرم کریں اس میں کچنار ڈال کر فرائی کر لیں جب گوشت گل جائے تو بھونی ہوئی کچنار اس میں ڈال کر تھوڑا سا پانی لگا دیں اور ڈھک کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں جب اس میں پانی خشک ہونے لگے تو دم لگا دیں مزیدار کچنار گوشت تیار ہے
کچنار کے حیران کن طبی فوائد
پاک و ہند کے باغات میں اس کے درخت لگائے جاتے ہیں پنجابی اور سندھی میں اسے کچنار مرۃٹی میں کانچنار اور انگلش میں است بیوےری اگیٹ کہتے ہیں کچنار کا درخت توت کے برابر ہو تا ہے اور بسنٹ کے موسم میں پھلتا پھولتا ہے اس کی پھلی تقریباً ایک بالشت لمبی اور چپٹی ہوتی ہے اس کے پتوں کی بعض علاقوں میں بیڑیاں بنتی ہیں اس کی چھال گہرے خاکی رنگ کی ہوتی ہے چمڑا رنگنے کے کا م آتی ہے اس کے پیڑ میں ایک قسم کا گوند بھوری رنگ کا لگتا ہے جو بازار میں سیم کی گوند کے نام سے بکتا ہے اس کے پھول سرح بینگنی سفید اور پیلا چھال کھردری گہرے خاکی رنگ کی ہوتی ہے جبکہ اس کا پھول خوش ذائقہ اور پھلیاں تلخ ہوتی ہیں اس کا مزاج درجہ دوم میں سرد خشک ہے اس کے پھول بغیر کھلے بطور سبزی پکا کر کھائے جاتے ہیں اور اس کی پھلیوں کا اچار ڈالا جاتا ہے کچنار قابض اور مصفی خون ہے اسہال اور خونی بواسیر میں نافع ہے اندرونی زخموں کو بھرتا ہے اس کی کلیوں کی سفوف کی پھکی دینے سے آؤں کے دست بند ہو جاتے ہیں کچنار کا کاڑھا سونٹھ ملا کر دینے سے پھوڑے پھنسی اور سفید داغ دور ہوتے ہیں فساد خون کو دفع کرتا ہے اور پیٹ کے کیڑے مارتا ہے

چنے قدرت کا عظیم تحفہ
چنے بڑی مفید غذا ہے بحیرو روم میں ساڑھے سات ہزار سال قبل کاشت کیا گیا یہ دنیا کے قدیم ترین اناجوں میں شامل ہے یہ دالوں کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اس کی دو اقسام ہیں کالا چنا اور سفید چنا دونوں وٹامن اور معدنیات سے بھر پور ہیں چنا کئی طبی فوائد رکھتا ہے اس میں فولاد وٹامن بی 6 میگنیشئیم پوٹاشئیم اور کیلشئیم کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں اس کے علاوہ فاسفورس تانبے اور میگنیز کی بھی خاصی مقدار پائی جاتی ہیں چنا بھارت پاکستان ترکی آسٹریلیا اور ایران میں چنا کثیر تعداد میں پیدا ہوتا ہے چنا وزن کم کرنے کے سلسلے میں بہترین غذاہے کیونکہ چنے میں فائبر اور پروٹین کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں ایک پیالی چنے عموماً پیٹ بھر دیتے ہیں اور اس کا ریشہ دیر تک آنتوں میں رہتا ہے اسی لئے جلدی بھوک نہیں لگتین چنوں کا استعمال کولیسٹرول کی سطح میں کمی کرتا ہے چنے میں فولیٹ اور میگنیشئم کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے یہ خون کی نالیوں کو طاقتور بناتے اور انھیں نقصان پہنچانے والے تیزاب ختم کرتے ہیں اس کے علاوہ ہارٹ اٹیک کا امکان بھی کم ہو جاتا ہے چنے میں کافی مقدار میں پروٹین پایا جاتا ہے اگر اسے کسی اناج گندم کی روٹی کے ساتھ کھایا جائے تو انسان کو گوشت یا ڈیری جتنی پروٹین حاصل ہو تی ہے چنے اور دیگر دالیں کھانے سے انسان ذیابیطس قسم 2 کا شکا ر نہیں ہوتے چنے میں ساپونینز نامی فائٹو کیمیکل پائے جاتے ہیں یہ کیمیکل مادے ضد تکسید کا کام دیتے ہوئے خواتین کو سینے کے سرطان سے بچاتے ہیں چنے میں شامل فولاد میگنینز اور دیگر معدن و حیاتین انسانی قوت بڑھاتے ہیں اسی لئے چنے حامل خواتین اور بڑھتے ہوئے بچوں کے لئے بڑی مفید غذا ہے چنوں کو کئی ماہ تک محفوظ رکھا جا سکتا ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ چنوں کو بھگونے کے بعد استعمال کیا جائے تو مفید ہے ایسے یہ جلد ہضم ہو جاتے ہیں

میتھی کے کرشماتی طبی فوائد
میتھی پاک و ہند کے تقریباً سبھی علاقوں میں کاشت کی جاتی ہے لیکن قصور کی میتھی زیادہ مشہور ہے میتھی کا سالن پاک و ہند میں تقریباً تمام علاقوں مین بڑے شوق سے کھایا جاتا ہے مشہور کثیرالاستعمال سبزی ہے جس کے پتے اور بیج بطور دوا استعمال ہو تے ہیں ہندی اردو بنگالہ گجراتی اور راجھستانی زبانوں میں اسے میتھی لاطینی زبان میں فینو گریک کہا جاتا ہے میتھی مختلف کھانوں کو خوشبودار اور ذائقہ دار بنانے کے لئے استعمال ہو تی ہے جبکہ اچار کے مصالحے میں میتھی کے بیج ڈالے جاتے ہیں اس کے علاوہ یونای اور آئوویدک دوائیوں میں اس کا استعمال کیا جاتا ہے میتھی کمر درد تلی کی سوزش اور گھنٹیا کے امراض وغیرہ میں انتہائی مفید ہے میتھی کے بیج بادی امراض میں نہایت مفید ہیں اس کے علاوہ یہ بیج چہرے سے داغ دھبے دور کرنے کے لئے ابٹن میں بھی استعمال کئے جاتے ہیں متھی کے بیج پانی میں پئس کر ہفتے میں دو بار تقریباً ایک گھنٹہ بالوں کو لگانے سے بال لمبے ہو جاتے ہیں تخم میتھی امراض نسواں میں استعمال کی جاتی ہے یوٹرس کے ورم درد اور گائنی کے امراض میں موثر ہے بلغمی مزاج والوں کے لئے بہت مفید ہے سردی سے محفوظ رکھتی ہے دیہاتوں میں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو میتھی کے لڈو کھلائے جاتے ہیں آنتوں کی کمزوری کی وجہ سے اگر دائمی قبض ہو تو میتھی کا سفوف گڑ کے ساتھ ملا کر صبح شام پانی کے ساتھ کھانے سے قبض دور ہوتی ہے اور جگر کو بھی طاقت ملتی ہے میتھی کا استعمال شوگر میں بھی بہت مفید ہے

جلد اور رنگت نکھارنے کے لئے آسان ترکیب
اگر گرمی کی شدت سے چہرے کا رنگ سانولا ہو جائے تو اس کے نکھار کے لئے خشک گلاب کی پتیوں کو پیس کر سفوف بنا لیں پھر اس سفوف کو ہم وزن بیسن میں ملا کر رکھ لیں اور استعمال کے وقت تھوڑا سا آمیزہ لے کر دودھ ملا کر پیسٹ بنا لیں اور چہرے کو اچھی طرح دھوکر گلاب کے اس ابٹن کو چہرے اور گردن پر لگا لیں اور خشک ہونے پر پانی سے دھو کر صاف کر لیں اس سے چہرے پر سُرخی آتی اور رنگت نکھرتی ہے کیل مہاسے دور کرنے کے لئے عرق گلاب اور گلیسرین ہم وزن لے کر ملا لیں اور روٹی کے باسی ٹکڑے کی مدد سے چہرے پر ماسک کی طرح لگا لیں اور سوکھنے پر پانی سے دھو لیں چند بار کے استعمال سے ہی چہرہ صاف ہو جائے گا گلاب کی تازہ پتیوں کو پانی میں جوش دے کر ٹھنڈا کر کے نہانے کے پانی میں ملا کر نہایا جائے تو تازگی کا احساس ہو تا ہے









