بچوں کی ہمہ پہلو تربیت سے مراد عموماً جسمانی ذہنی اور معاشرتی تربیت لی جاتی ہے اخلاقی اور جذباتی تربیت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ یہی دو پہلو بچے کی شخصیت کی بنیاد بنتے ہیں ہمارے معاشرے میں اکثر والدین کے لئے یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی اور وہ صرف بچوں کو کھیل کود پڑھائی اور دوستوں سے ملنے کے مواقع دے کر سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کر دیا ہے یا پھر بچے پر سکتی کرتے ہوئے یہ اطمینان کر لیتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بچے کو اچھے برے کی تمیز سکھا دی ہے اس سب میں اپنے بچے کی عزت کرنے کے عمل کی بالکل توجہ نہیں دیتے یہ ایک حقیقت ہے کہ جس طرح بڑے احترام کے متقاضہ ہوتے ہیں اس طرح بچوں کا بھی حق ہے کہ ان کی عزت کی جائے عزت نفس کا احساس انسان عمر کے ابتدائی دور میں ہی سیکھ لیتاہے بچوں کے ساتھ والدین کو اس طرح برتاؤ کرنا چاہئے کہ انہیں اپنی اہمیت کا احساس رہے لیکن ہم بچوں کی تربیت کرتے وقت یہ بات بھول جاتے ہیں اور بچوں کی غلطی کرنے یا کہنا نہ ماننے پر ہم انہیں سب کے سامنے بری طرح جھڑک دیتے ہیں یا مارنا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں اس طرز عمل سے بچے کی عزت و نفس کو بہت ٹھیس پہنچتی ہے بچے کو غلطی ہر جب سب کے سامنے سزا دی جاتی ہے تو والدین کی نظر میں بچہ اپنی غلطی بھگت رہا ہے لیکن بچہ سب کے سامنے کھڑا ہو کر شرمندگی محسوس کر رہا ہوتا ہے ہر شخص کے چہرے پر اسے اپنے لئے تمسخر نظر آ رہا ہوتا ہے جب بچے کو کسی برے لقب سے پکار کر اس کی غلطیاں بیان کی جاتی ہیں تو وہ خود کو ایک کمتر انسان سمجھتا ہے بچہ اپنی شرمندگی کی وجہ سے خاموش طبع اور تنہائی پسند ہو جاتا ہے تاکہ کسی کو اس کی بے عزتی کا موقع ہی نہ ملے یا پھر وہ نافرما ن اور ڈھیٹ ہو جاتا ہے کچھ بھی کہا جائے وہ کچھ اثر نہیں لیتا اگر بچہ گھر میں شرارتیں نہیں کرتا باہر جا کر شرارتیں کرتا ہے اس کا مطلب ہے بچے پر گھر میں بے وجہ پابندیاں لگائی جاتی ہیں جس سے بچہ گھٹن کا شکا ر ہو جاتا ہے اس کے برعکس جن بچوں کو گھر میں عزت دی جاتی ہے ان میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے دوسروں کی عزت کرتے ہیں اور ہر کام ذمہ داری پر کرنا سیکھتے ہیں والدین کو چاہئے بچوں پر بلاوجہ زور زبردستی نہ کریں دوسروں کے سامنے ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی بجائے آرام سے سمجھائیں اس سے بچے پر خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں اور اس کے دل میں بڑوں کے لئے عزت اور احترام بڑھ جاتا ہے
Author: عائشہ ذوالفقار

قالین مختلف جلدی اور سانس کی بیماریاں پھیلانے کا ذریعہ
گھروں میں قالین بچھانے کا رواج کبھی بھی ختم نہیں ہوا حالانکہ آج کل لوگ ماربل کے فرش کے ساتھ قالین کا استعمال کم ہی کرتے ہیں لیکن پھر بھی فرش کے سنٹر میں قالین بچھانے کا رواج کسی بھی دور میں ختم نہیں ہوا ڈاکٹرز اکثر قالین بچھانے کو بیماری کا گھر بھی قرار دیتے ہیں مگر خواتین کا یہ شوق کسی بھی قسم کی بیماری کی پرواہ کئے بغیر جاری رہتا ہے دنیا بھر میں گھروں کو قالینوں سے سجانے کا عام رواج ہے اور لوگ اس شوق پر لاکھوں روپے خرچ کر دیتے ہیں لیکن یہ قالین بہت سی بیماریوں کا باعث بن جاتے ہیں برطانیہ میں ہونے والی تحقیق کے مطابق قالین گھر کی آلودگی میں اضافہ کرتے ہیں ان سے سانس اور جلد کی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں باہر سے آنے والی مٹی کو قالین جذب کرلیتا ہے ماہرین کے مطابق ویکیوم کلینر سے قالین پر پڑی گرد تو صاف ہو جاتی ہے لیکن جراثیموں کا خاتمہ ممکن نہیں ہوتا تین مہینے تک قالین پر مردہ انسانی جلد کے ذرات بال مٹی جراثیم اور اس کے علاوہ دیگر حشرات کے جسم کے اجزاء بھی رہ جاتے ہیں اور اسی وجہ سے انسانی صحت کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں ہر تین ماہ سے پہلے قالین دھونا ضروری ہے ورنہ یہ سانس اور جلد کی بیماریاں پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں مہرین کے مطابق اگر گھر کے کمرے میں قالین بچھا ہو اور چھ ماہ تک دھویا نہ جائے تو سانس اور جلد کی بیماریوں کے خطرات میں ساٹھ فیصد تک اضافہ ہو جاتا ہے گھر میں قالین بچھانے کی شوقین خواتین کو چاہئے کہ تھوڑی سی توجہ صفائی پر دیں تاکہ گھر والے مختلف بیماریوں سے بچ سکیں

بالوں کی دیکھ بھال اور آگہی ضروری ہے
بالوں کی قدرتی طور پر تین اقسام ہوتی ہیں آئلی ڈرائی اور پلین اور اسی اعتبار سے بالوں پر کاسمیٹکس بھی مختلف استعمال ہوتی ہیں لہذا بہتر یہی ہے کہ ہیئر سپیشلسٹ کے مشورے کے مطابق پراڈکٹ کا استعمال کریں
مارکیٹ میں ایسی پراڈکٹ آسانی اے دستیاب ہیں جو خشکی جیسے مسائل منٹوں میں حل کر دیتی ہے لیکن اس کے استعمال سے پہلے سکن سپیشلسٹ سے مشورہ ضرور کر لیں جب آپ کے سر میں خشکی ہو تو اس کا مطلب ہے کہ آپ کے جسم کی پوری جلد مجموعی طور پر کسی مسئلے کا شکار ہے
ہئر بام یا ہیئر جیلکا استعمال خاص طور پر ان بالوں کے لئے انتہائی ضروری ہے جو کیمیائی رنگوں سے رنگے ہوں دراصل یہ رنگ بالوں کی جڑوں کو کمزور کر دیتے ہیں دھوپ ان بالوں پر براوراست اثر انداز ہوتی ہے اور منفی اثرات مرتب کرتی ہے جب بھی دھوپ میں جائیں تو ہیئر بام کا استعمال بالکل نہ بھولیں
سٹائلنگ ہیئرز کی خواہش مند خواتین سٹائل جیل کا استعمال کر سکتی ہیں اس سے بال اپنی جگہ جمے رہتے ہیں اور ان میں شائن آ جاتی ہے سٹائل جیل جڑوں کی بجائے صرف سروں تک ہی محدود رکھیں کیونکہ ان میں نقصان دہ اثرات مرتب کرنے والے کیمیائی اجزاء موجود ہوتے ہیں

بالوں کی حفاظت کے لئے چند اہم ٹپس
نہانے سے پیلے سر میں تیل لگائیں اس سے بالوں کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں بازارکی خوشبو والا تیل بالکل استعمال نہ کریں بلکہ ناریل یا سرسوں کا تیل استعمال کریں سر دھونے کے لئے ٹھنڈا پانی استعما ل کریں سردی میں ہلکے گرم پانی سے سر دھو لیں تیز گرم پانی سے سر دھونے سے خشکی پیدا ہوتی ہے جس سے بالوں کی جڑیں کمزور ہو جاتی ہیں اور بال گرنا شروع ہو جاتے ہیں کبھی کبھی نیم گرم پانی میں لیموں کا عرق اور سرکہ ملا کر سر دھو لیں خوش رہنے اور بالوں کی تندرستی میں گہرا تعلق ہے چڑ چڑے پن خوف اور فکر سے سر کی شریانوں تک خون کی روانی میں باقاعدگی نہ ہونے کی صورت میں بالوں پر برا اثر پڑتا ہے کیونکہ ان کیفیات میں شریانیں سکڑ جاتی ہیں اور بالوں کی جروں تک خون کی رسائی نہیں ہوتی اس سے بال کمزور ہو کر گرنا شروع ہو جاتے ہیں ٹوٹے ہوئے دندوں والی اور دوسروں کی استعمال شدہ کنگھی ہر گز استعمال نہ کریں

تربوز کا استعمال بلڈ پریشر میں کمی کا باعث
تازہ ترین تحقیق کے مطابق تربوز کھانے سے بلڈ پریشر میں کمی واقع ہو جاتی ہے یہ بڑھے ہوئے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرتا ہے تربوز مین امینو ترشہ ہوتا ہے ایسے معمر افراد جو شریانی کھچاؤ میں مبتلا ہوں تو انہیں تربوز میں پائے جانے والے مادے ایل سٹرولن سے فائدہ پہنچتا ہے یہ گرمی کی شدت کو کم کرتا اور بلڈ پریشر کی سطح کو معمول پر رکھتا ہے اور پیاس بھجاتا ہے اس میں دوسرے پھلوں کی نسبت پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے تربوز مین حیاتین زیادہ ہوتی ہیں حیاتین الف بینائی کے لئے مفید ہے حیاتین ج زخم مندمل کرتا ہے یہ حیاتین دانت اور مسوڑھوں کو صحت مند رکھتی ہے اور خلیوں کو نقصان پہنچنے سے بچاتی ہے تربوز اعصاب اور عضلات کے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں یہ بڑی آنت کے سرطا ن دمے دل کی بیماریوں اور جوڑوں کے درد کے علاج میں بھی مفید ہے تربوز گردوں کی بیماری دور کرنے کے لئے بھی مفید ہے گردوں کی پتھری کو گھلا کر نکال دیتا ہے اس کے علاوہ بڑی آنت کی صفائی بھی کرتا ہے اگر تربوز کو مسلسل چھ ہفتوں تک کھایا جائے تو اس سے بلڈ پریشر معمول پر آ جاتا ہے

خوبصورت آنکھیں خوبصورت چہرے کی عکاس
آنکھوں کے گرد حلقوں کی ایک بڑی وجہ اینیمیا بھی ہے اپنا ہیموگلوبن چیک کروائیں اور آنکھوں کے کسی مسئلے کی صورت میں آئی سپیشلسٹ سے ضرور رابطہ کریں آنکھوں کو صحتمند رکھنے کے لئے چند ضروری ہدایات کا ذکر کیا جا رہا ہے
آنکھوں کی ورزش کریں تاکہ آنکھوں کے پٹھوں کو سکون ملے پھل اور ہرے پتوں والی سبزیوں کا استعمال بڑھائیں کیونکہ یہ آئرن اور منرل سے بھر پور ہوتی ہیں اور زیادہ سے زیادہ پانی اور جوس پئیں بھر پور نیند لین کم خوابی کے اثرات سب سے پہلے آنکھوں کے گرد نظر آتے ہیں آنکھوں کی کریم یا جیل کو فریج میں رکھیں جب آپ انہیں استعمال کریں گی تو یہ آنکھوں کو تازہ دم رکھیں گی خصوصاً جب ان میں ایلو ویرا جیل یا دوسرے اجزاء اس میں موجود ہوں ایسی کریموں کا استعمال کریں جس میں ایلوویرا جیل یا دوسری جڑی بوٹیاں ہوں عام طر پر جیل کریم کی نسبت زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے ڈرمالوجسٹ کے مشورے سے وٹامن سی کا تیل رات بھر کے لئے آنکھوں کے اردگرد لگائیں صبح اٹھ کے اچھے سے منہ دھو لیں آنکھوں کے گرد حصے میں تیل والے غدود کی کمی ہوتی ہے جلد کا کوئی حصہ اتنا حساس نہیں ہوتا جتنا آنکھوں کے اردگرد کا ہے اگر اچھی طرح آنکھوں کی حفاظت کی جائے اور بھر پور ننید لی جائے اور زیادی پانی پیا جائے تو آپ کی آنکھیں اور جلد فریش اور نکھری نظر آئیں گی

چہل قدمی خواتین کے لیے انتہائی ضروری چہل قدمی ڈپریشن ختم کرتی ہے اور ہڈیوں کو مضبوط بناتی ہے
خواتین کو چاہئے کہ وہ چہل قدمی کو اپنی عادت بنائیں چہل قدمی کرنے سے فریش ہونے کے ساتھ ہڈیوں میں مضبوطی بھی آتی ہے شروع میں 20 سے 30 قدم بھی چہل قدمی کر سکتی ہیں پھر آہستہ آہستہ چہل قدمی کے دورانیے بڑھاتے جائیں اس سے دیگر جسمانی بیماریوں سے بھی نجات حاصل ہو جاتی ہے روزانہ کم از کم دو میل چہل قدمی کے دورانیہ سے خواتین میں پایا جانے والا ذہنی دباؤ بھی کم ہو جائے گا خواتین کو چاہئے کہ چہل قدمی کے وقت کپڑے اور جوتے آرام دہ پہنیں اور چہل قدمی کے وقت قدم چھوٹے چھوٹے اور تیز تیز اٹھائیں اس کئ لئے صبح کا وقت نہایت موزوں ہوتا ہے کیونکہ صبح کے وقت شور آلودگی اور گرمی نہیں ہوتی اور 35 سال کے بعد خواتین ہڈیوں کے مختلف مسائل سے دو چار ہوتی ہیں چہل قدمی کی عادت اپنانے سے ان مسائل سے بچا جا سکتا ہے چہل قدمی تروتازہ رکھنے کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون دیتی ہے اور جسم کو صحتمند رکھتی ہے جدید تحقیق کے مطابق چہل قدمی ڈپریشن کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے سخت ورزش یا واک سے ڈپریشن ختم کرنے میں مدد ملتی ہے طبی ماہرین کے مطابق ڈپریشن کے مریض کے لئے ورزش اور واک کو زیادہ ترجیح دینی چاہئے کیانکہ یہ ڈپریشن کے علاج کے لئے ایک موثر طریقہ ہے

کھانے سے پہلے چہل قدمی کے فوائد
یوں تو اچھی صحت کا خواہاں ہر شخص ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ کوئی بھی ورزش باقائدگی سے کریں لیک ن تقریبات کے دنوً میں ورزش کا اہتمام نہایت ضروری ہے دعوت سے پہلے ضروری ہے کہ ایک گھنٹہ چہل قدمی کر لیں تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ روغنی کھانوں سے رگوں کی کاگردگی فوری طور پر متاثر ہوتی ہے یعنی خون کی رگوں میں ورم اور سوجن پیدا ہو کر ان میں سختی پیدا ہو جاتی ہے اور یہی سختی رکاوٹ بن کر دل کی بیماریوں کا باعث بنتی ہے تحقیق کے مطابق باقاعدگی سے کی جانے والی ایک وقت کی ورزش سے دل کو نقصان پہنچانے والی چکنائیاں 20 سے 25 فیصد کم ہو جاتی ہیں گلاسکو یونیورسٹی کے تحقیق کاروں کی ورزش کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ انسان کی خون کی رگیں لمبی چہل قدمی کے بعد 25 فیصد زیادہ سرگرم ہو جاتی ہیں اس تحقیق سے یہ بھی انکشاف ہوا کہ ورزش نہ کرنے والوں کے مقابلے میں ورزش کرنے والوں کی رگوں میں پھیلاؤ کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور ان میں خون کی روانی زیادہ بہتر ہوتی ہے خون کی صحت مند رگوں کی نشانی ہے کہ ان میں پھیلنے کی صلاحیت زیادہ ہوتی ہے اور یہ لچکدار ہوتی ہیں تحقیق کے مطابق ایک وقت کی بھی ورزش بے کار نہیں ہوتی

انگلیوں کی حرکات کے دماغ پر براہ راست اثرات
اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ ایشئین بچے زیادہ سمجھدار ہوتے ہیں ممکن ہے اس کی وجہ یہ ہو کہ وہ اپنی انگلیوں کو ریگولر حرکت میں رکھتے ہیں وہ چاپ اسٹکس دے کھاتے ہیں اور سکول میں abacus کے ذریعے کمپیوٹ کرتے ہیں اور یہ بات سامنے بھی آئی ہے کہ وہ روزانہ ایبکس کا استعمال کرتے ہیں اور اپنی انگلیوں کو ہر وقت مصروف رکھتے ہیں جس سے دماغ بھی براہ راست اثر لیتا ہے دماغ کے نقشے سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ دماغ کے زیادہ قریب انگلہاں ہی ہیں سوائے زبان اور ہونٹوں کے اس لئے انگلیوں کی ایکسر سائز دماغ کے لیے زیادہ بہتر ہے تحقیق سے یہ بات پتہ چلی ہے کہ فنگر ایکسر سائز سے دماغ کی صلاحیتیں بھی بڑھتی ہیں یہ دماغ کے لئے تمام ضروری چیزیں مہیا کرتی ہے اور ان تمام چیزوں کا خاتمہ کرتی ہے جو دماغی صلاحیتوں کو منجمند کرتی ہے یہاں ایک دماغ کی صلاحیت بہتر بنانے کے لیے ایسی اکسر سائز کا بتایا جارہا ہے جا آپ کبھی بھی کہیں بھی کسی وقت بھی کر سکتے ہیں انگلیوں کو ایک دوسرے کے اوپر رکھیں اپنی درمیانی انگلی اور انڈیکس کے مابین پین یا نپینسل پکڑ کر بیلنس ہونے تک اسے مڈل اور رنگ فنگر کے درمیان رول کر لیں اس کے بعد مڈل اور چھوٹی فنگر کے درمیان رول کر لیں یہ ورزش دماغ کی صحت کے لئے ہر عمر کے لوگوں کے لئے بہتر ثابت ہوتی ہے

غذائی ضروریات حاصل کیسے کی جائیں جانئے غذا کے متعلق چند مفید باتیں
ہم جو بھی چیز کھاتے ہیں وہ ہمارے جسم میں جا کر کیفیتیں پیدا کرتی ہے اس لئے غذا کی نوعیت پر نظر رکھیں غذا ملی جلی ہونی چاہئے صرف ایک ہی چیز کھا کر ہمارے جسم کی تمام غذائی ضروریات پوری نہیں ہو سکتیں جسے کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے مگر یہ خیال صحیح نہیں کیونکہ دودھ میں فولاد نہیں ہوتا گوشت میں کیلشئم نہیں ہوتا مکھن میں کاربوہائڈریٹس اور پروٹیم نہیں ہوتے جبکہ بریڈ میں کاربو ہائڈریٹس اور پروڑین ہوتے ہیں مگر چکنائی اور نمک نہیں ہوتے اسی لئے ہمیں اپنی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے ایک سے زیادہ چیزوں کو ملا کر کھانا چاہئے کھانا کھانے کے اوقات مقرر ہونے چاہئے اور پہلے کھانے اور دوسرے کھانے کے درمیان وقفہ ہونا لازمی ہے عام طور پر معدہ 4 گھنٹے میں کھانا ہضم کرتا ہے اور ایک گھنٹہ نظام انہضام کو آرام بھی ملنا چاہئے اس لئے بہتر ہے کہ ہم دن میں تین مرتبہ پانچ پانچ گھنٹے بعد کھانا کھائیں کھان آہستہ آہستہ خاموشی اور اطمینان سے کھانا چاہئے اور ایک سے زادہ چیزیں ملا کر کھانا چاہئے تاکہ ہم اپنی غذائی ضروریات یعنی پروٹین کیلوریز معدنی نمک اور وٹامنز حاصل کر سکیں









