Baaghi TV

Author: عائشہ ذوالفقار

  • پیاز کی چٹنی بنانے کا طریقہ

    پیاز کی چٹنی بنانے کا طریقہ

    اجزاء:
    پیاز 2 عدد
    ہرا دھنیا آدھی گٹھی
    نمک حسب ذائقہ
    زیرہ 1 چائے کا چمچ
    ہری مرچیں 4 عدد
    لہسن 1 تُری
    املی کا گودا ایک چوتھائی کپ

    ترکیب:
    پیاز اور ہری مرچوں کو باریک باریک کاٹ کر اس میں بقیہ تمام اجزا کو اچھی طرح مکس کر کے گرائنڈ کر لیں اور شیشے کے جار یا ایئر کنٹینر میں ڈال کر رکھ لیں یہ مزیدار چٹنی کلچے یا کسی بھی ڈش کے ساتھ سرو کریں

  • دال ماش اور قیمہ بنانے کی ترکیب

    دال ماش اور قیمہ بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    ماش کی دال 1 پاؤ
    قیمہ 1 پاؤ
    نمک حسب ذائقہ
    ہلدی آدھاچمچ
    لال مرچ حسب ذائقہ
    ادرک پیسٹ چائے کا آدھا چمچ
    لہسن پیسٹ چائے کا ایک چمچ
    پیاز 1 عدد
    گرم پسا مصالحہ آدھا چائے کا چمچ
    ہری مرچ 3 عدد
    ہرا دھنیا آدھی گٹھی
    گھی دو کھانے کے چمچ

    ترکیب:
    ماش کی دال دھو کے 20 منٹ پہلے بھگو دیں قیمہ اچھی طرح دھو کر چھلنی میں رکھ دیں تا کہ پانی نکل جائے اب ایک پتیلی میں گھی ڈال کر گرم کریں اس میں پیاز ڈال کر براؤن کریں اس میں قیمہ اور لہسن ڈال کر اچھی طرح بھونیں جب قیمہ سرخ ہو جائے تو اس میں نمک مرچ اور ہلدی ڈال کر تھوڑا پانی ڈال دیں پھر 10 منٹ تک بھونیں جب قیمہ گھی چھوڑ دے تو اس میں ڈال پانی نتھار کر ڈال دیں اور 5 منت تک اچھی طرح بھونیں پھر اس میں اتنا پانی ڈالیں کہ دال اور قیمہ گل جائے ڈھکن سے ڈھک دیں اور ہلکی آنچ پر پکنے دیں جب دال گل جائے اور پانی خشک ہو جائے تو اس میں ہرا دھنیا اور ہری مرچیں ڈال کر دم دے دیں 3 منٹ بعد دم سے اتار کر اس پر پسا گرم مصالحہ چھڑک دیں ذائقہ دار قیمہ اور دال ماش تیار ہے

  • ذائقہ دار پیاز اور دہی کا رائتہ بنانے کا طریقہ

    ذائقہ دار پیاز اور دہی کا رائتہ بنانے کا طریقہ

    ذائقہ دار پیاز اور دہی کا رائتہ بنانے کا طریقہ
    اجزاء:
    زیرہ 2 کھانے کا چمچ
    لہسن 4 جوئے
    ہری مرچ 2 عدد
    پیاز 2 عدد بڑے سائز
    سبز دھنیا 2 کھانے کے چمچ
    نمک حسب ضرورت
    چینی 1 کھانے کا چمچ
    دہی آدھا کپ
    لیموں کا عرق 1 چائے کا چمچ

    ترکیب:
    زیرے کو بھون کر پیس لیں لہسن پیاز ہری مرچیں اور ہرا دھنیا باریک باریک کاٹ کر دہی کو پھینٹ کر اس میں ملا دیں ساتھ میں زیرہ بھی ملا دیں آخر میں نمک اور چینی اور لیموں کا عرق ملا کر تمام ازجزاء کو اچھی طرح مکس کر لیں اوپر تھوڑا دھنیا چھڑک لیں عمدہ اور ذائقہ دار دہی اور پیاز کا رائتہ تیار ہے

  • لذیذ اور عمدہ کھٹی میٹھی چٹنی بنانے کی ترکیب

    لذیذ اور عمدہ کھٹی میٹھی چٹنی بنانے کی ترکیب

    عمدہ کھٹی میٹھی چٹنی بنانے کی ترکیب
    اجزاء:
    املی کا گاڑھا رس 2 کپ
    سفید زیرہ 2 چائے کے چمچ
    چاٹ مصالحہ 2 چائے کے چمچ
    نمک حسب ذائقہ
    کا لا نمک 2 چٹکیاں
    سونٹھ پسی ہوئی 1 کھانے کا چمچ

    ترکیب:
    سفید زیرہ بھون کر پیس لیں املی کے رس میں سونٹھ چاٹ مصالحہ اور زیرہ ڈال کر پکائیں 7 منٹ بعد املی کے آمیزے سے آدھا آمیزہ نکال کر علیحدہ عکھ لیں باقی آدھے حصے میں چینی ملا لیں جو آمیزہ علیحدہ کیا تھا ٹھنڈا ہونے کے بعد اس میں کالا نمک اور نمک ملا کر مکس کر لیں مزیدارکھٹی میٹھی چٹنی تیار ہے

  • پشاوری چٹنی بنانے کی ترکیب

    پشاوری چٹنی بنانے کی ترکیب

    اجزاء:
    سبز مرچیں 4 عدد
    پیاز 2 عدد
    لہسن کے جوئے 6 عدد
    لیمن جوس 2 کھانے کے چمچ
    ٹماٹر 2عدد
    املی کا رس 4 کھانے کے چمچ
    سبز دھنیا 8 کھانے کے چمچ
    پانی حسب ضرورت
    نمک حسب ذائقہ
    پودینہ آدھی گٹھی

    ترکیب:
    تمام اجزاء کو لنگری میں موٹا موٹا پیس لیں اگر چوپر میں پیسیں تو بھی موٹا موٹا پیسنا ہے باریک پیسٹ نہیں بنانا ہے سب چیزوں کو موٹا موٹا پیس کر کسی باؤل میں نکال لیں اور فریج میں محفوظ کر لیں یہ مزیدار چٹنی کسی بھی ڈش کے ساتھ سرو کریں

  • گرمیوں میں کیسا میک اپ اور لباس استعمال کرنا چاہئے؟

    گرمیوں میں کیسا میک اپ اور لباس استعمال کرنا چاہئے؟

    گرمی کے موسم میں میک اپ کے سٹائل اور لوازمات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں گرمیوں میں میک اپ کرتے وقت مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے

    موسم گرما میں ایسا کاسمیٹک استعمال کریں جو جلد کے لیے نقصان دہ نہ ہو بلکہ میک اپ خریدنے سے پہلے کسی ماہر بیوٹیشن سے مشورہ کر لیں اور اپنی سکن کے حساب سے میک اپ خریدیں جو آپ کی سکن کو سوٹ کرتا ہو گرمیوں میں چونکہ پسینہ زیادہ آتا ہے اس لیے میک ایسا ہونا چاہئے جو کہ نہ صرف چہرے پر جما رہے بلکہ اس کے منفی اثرات کا بھی سامنا نہ کرنا پڑے

    گرمیوں میں عام روٹین میں ہلکا پھلکا میک اپ ہی صحیح رہتا ہے مثلاً آپ کسی اطھی کمپنی کے سن بلاک کے ساتھ کوئی ہلکا آئی شیڈ بلش آن اور لپ اسٹک لگائیں گرمیوں میں آئی میک اپ میں ہلکے براؤن کلر کا آئی شیڈ اور ہلکے وائٹ سلور کلر کا آئی لائنر آنکھوں کو خوبصورت بناتا ہے

    گرمیوں می ہلکے رنگ کے اور ڈھیلے ڈھالے لباس پہنیں کاٹن کے کپڑے بہترین رہتے ہیں سفید رنگ کو ترجیح دیں کیونکہ سفید رنگ دھوپ سے بچاتا ہے گرمیوں میں روزانہ کپڑے چینج کریں اگر روزانہ نہیں تو دوسرے دن لازمی لباس چینج کریں چھوٹے نوزایئدہ بچوں کو بھی کپڑے میں لپیٹ کر نہ رکھیں انھیں بھی ہلکے پھلکے لباس پہنائیں

    صبح اور دوپہر کے وقت بھی کھڑکیوں پر پردے ڈال دیں تاکہ دھوپ اندر نہ آئے اس مین گرمی کی حدت کم کرنے میں مدد ملے گی

  • گرمی کے سب سے زیادہ اثرات کس پر ہوتے ہیں؟

    گرمی کے سب سے زیادہ اثرات کس پر ہوتے ہیں؟

    ویسے یوں تو کوئی بھی گرمی سے متاثر ہو کر بیماریوں کا شکار ہو سکتا ہے مگر کچھ ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جنہیں اس کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے اور گرمی ان پر بہت جلد اثر انداز ہوتی ہے لہذا گرمیوں میں ایسے لوگوں کا خآص خیال رکھنا چاہئے گرمیوں سے فرار ممکن نہیں اس لیے گرمی کا مقابلہ کرنا ہی عقلمندی ہے

    وہ لوگ جن کی عمر 65 سال سے زائد ہو ان میں گرمی سے لڑنے کی صلاحیت بہت معمولی ہوتی ہے گرم موسم کی سختی کا احساس بھی ان میں کم ہوجاتا ہے مگر گرمی ان پر اپنا منفی اثر ضرور ڈالتی ہے

    نو زایئدہ سے لے کر چار سال کی عمر تک کے بچے انتہائی حساس ہوتے ہیں انھیں گرمی اور دھوپ کی شدت سے بچانا چاہئے بیما افراد خاص طور پر دل کے مریض اور ہائی بلڈ پریشر اور ڈپریشن والوں پر بھی گرمی زیادہ اثر انداز ہوتی ہے

    بھاری بھرکم اور زائدالوزن افراد بھی گرمی کے برے اثرات کی زد میں زیادہ رہتے ہیں کیونکہ ان کا موٹا جسم بیرونی درجہ حرارت کو فوراً جذب کر لیتا ہے اور زیادہ دیر تک اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے

    ہو افراد جو محنت والا کام کرتے ہیں اور ورزش کرتے ہیں ان میں ڈی ہائڈریشن کا خطرہ دوسرے افراد کی نسبت زیادہ ہوتا ہے ایسے افراد گرم موسم کی مختلف بیماریوں کا شکار بھی ہو سکتے ہیں

  • گرمی کی شدت کو کم کرنے اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری اقدامات

    گرمی کی شدت کو کم کرنے اور بیماریوں سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری اقدامات

    گرمی کے موسم میں بے احتیاطی موسم کی شدت کا احساس بڑھانے کے ساتھ ساتھ طرح طرح کی ببیماریوں کا سبب بھی بن جاتی ہے ایسے موسم میں جب گرمی عروج پر ہو حبس سے دم گھٹ رہا ہو سورج آگ برسا رہا ہو مناسب خوراک کا استعمال موسم کی ان تکالیف سے نجات دلا سکتا ہے خواتین کو چند ایسی ٹپس بتاتے ہیں جن پر عمل کر کے وہ ڈٹ کر گرمی سے مقابلہ کرنے کے ساتھ ساتھ خود کو اور اپنے گھر والوں کو مختلف امراض سے محفوظ رکھ سکتیں ہیں

    تلی ہوئی اور مصالحے دار چیزوں سے پرہیز کریں کیونکہ یہ جسم کے درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ کرنے کا سبب بنتی ہیں صبح ناشتے میں حلوہ پوری اور انڈے پراٹھے کی بجائے ہلکا پھلکا ناشتہ کریں خاص طور پر وہ لوگ جنھیں ناشتے کے فورا بعد باہر جانا ہو وہ
    ہر گز بھاری ناشتہ نہ کریں اس سے معدہے کو ناشتہ ہذم کرنے میں مناسب وقت نہیں ملے گا اور کام کی نرفتار سست پڑ جاتی ہے بلکہ ہلکا پھلکا ناشتہ کریں اس سے طبیعت میں بھاری پن پیدا نہیں ہوگا اور معدے کا نظام بھی بہتر طور پر کام کرتا رہے گا

    دوپہر اور رات کے کھانے میں سبز پتوں والی سبزیاں اور کھیر ککڑی وغیرہ لازمی استعمال کریں یہ جسم کے درجہ حرارت میں کمی کا ذریعہ ہیں ان کے علاوہ خربوزہ اور تربوز کا استعمال بھی اپنی خوراک میں شامل رکھیں یہ بھی جسم کی گرمی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں پھلوں اور سبزیوں کو دھو کر استعمال کریں پہلے سے کٹے اور گلے سڑے پھل استعمال نہ کریں

    تیز دھوپ میں نکلنے سے لُو لگنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں اس لئے پانی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئے دن میں 10 سے 12 گلاس پانی لازمی پینا چاہئے یہ گرمی بھگانے کا سستا مفید اور آسان ترین ذریعہ ہے اور اپنے پالتو جانوروں اور پرندوں کےپاس بھی ہر وقت پانی موجود رکھیں شکر اور چکنائی کا استعمال کم کر کے پھل اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں

    بازاری اور کولا مشروبات کی بجائے دہی اور دودھ کی لسی فالسے اور صندل کا شربت اور لیموں پانی استعمال کریں یہ پیاس بجھاتے ہیں اور گرمی میں اس سے راحت بھی ملتی ہے چائے اور کافی کا استعمال ختم کر دیں اس کی جگہ سبز چائے استعمال کریں

    دن کے درمیانے حصے میں خصاصا 11 سے 4 بجے کے درمیان سارج پوری طرح آگ برسا رہا ہوتا ہے اس وقت اس کی الٹرا وائلٹ شعاعیں جلد کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہو تی ہیں اس سے بچنے کے لئے چھتری لی لیں یا پھر سر کو اچھی طرح سے ڈھانپ لیں کہ اس سے چہرے پر بھی سایہ پڑارہے کیونکہ دھوپ سے ہمارے چہرے کی جلد ہی سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے اس کے علاوہ سن گلاسز بھی لگانا نہ بھولیں

  • جو کوشش کرتا ہے وہ پالیتا ہے کامیابی حاصل کرنے کا سنہرا اصول

    جو کوشش کرتا ہے وہ پالیتا ہے کامیابی حاصل کرنے کا سنہرا اصول

    "جو کوشش کرتا ہے وہ پا لیتا ہے” یہ ایک مشہور منقولہ ہے اور آپ نے بارہا سن رکھا ہوگا ہم بہت سی باتیں سن اور سمجھ لیتے ہیں لیکن ہم ان باےتوں کو عملی زندگی میں نظر انداز کر دیتے ہیں دراصل ہمیں اپنے لیے ان باتوں کی ضرورت اور اہمیت کا احساس ہی نہیں ہوتا کیونکہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ بتیں دراصل دوسروں کے لیے ہیں ہمیں تو ان کی ضرورت ہی نہیں ہے مثآل کے طور پر شیخ سعدی کے اقوال زریں لے لیں بچپن میں ان کی حکمت و بصیرت سے بھر پور باتیں ان کے بیان کردو قصے نہ جانے کتنی بار پڑھے ہوں گے آپ بتائیں ان کی سنہری باتوں پر ان کے اقوال اور قصوں پر ہم نے آج تک کتنا عمل کیا کتنا غور کیا جو کوشش کرتا ہے وہ پا لیتا ہے اس منقولہ پر غور کیا جائے تو ماننا پڑتا ہے کہ کامیابی کے لیے محنت جدو جہد اور کوشش کرنا ہی پڑتی ہے مگر یہ کام تو ہمیں سچ میں بہت ہی برا لگتا ہے ہم کامیابی کا خواب دیکھتے ہیں مگر بغیر محنت کیے اس کی تعبیر چاہتے ہیں مگر ایک بات یہ بھی ہے کہ دیوانے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا پنجابی کی ایک کہاوت ہے ” نہ ٹریں تے چا کینائیں نہ کھاویں تے کی کراں؟” جسکا مفہوم ہے کہ اگر تم چل نہ سکو تو میں اٹھا لوں گا لیکن اگر تم نہ کھاؤ تو میں کیا کروں ؟ یعنی جب آپ اپنے حصے کا کام نہیں کرتے تو آپ کی وجہ سے بہت سے لوگ مشکلات اور تکلیفوں کا شکار ہو جاتے ہیں ان میں آپ کے یہل خانہ اور دوست احباب کے علاوہ وہ لوگ بھی شامل ہو سکتے ہیں جن کے ساتھ آپ زندگی کے کسی بھی شعبے میں جڑے ہوئے ہوں اپنے حصے کا کام بہرحال آپ کو ہی سر انجام دینا ہے اگر آپ اپنے حصے کا کام کریں گے تو دوسروں کو آپ کی وجہ سے راحت فرحت اور سکون اور خوشی ہو گی ہر شخص کو اپنے حصے کا کام کرنا ہی پڑتا ہے یہی دنیا کی زندگی کا اصو ل ہے بدقسمتی سے آج ہر دوسرا شخص بڑی بڑی باتیں بنانا اور خواب دیکھنا تو خوب جانتا ہے اور سمجھتا ہے کام ہو گیا دنیا میں انقلاب آ گیا مگر ایسا حقیقت میں نہ کبھی ہوا ہے نہ ہو سکتا ہے خیالی دنیا میں اور باتوں سے بھلا کام کس کا بنا ہے اس کو تو خیالی پلاؤ کہتے ہیں اور پکانے والے کو شیخ چلی بڑے افسوس کی بات ہے بدنصیبی سے آج یہاں ہر دوسرا انسان شیخ چلی ہے انسان کچھ بو کر ہی کچھ کاٹتا ہے اہل جنت کو یہ نعمت ضرور نصیب ہو گی کہ ان کے کہنے سے ہی کام ہو جایا کریں گے لیکن ابھی تو فی الحال ہم اس دنیا میں ہیں یہاں پکی پکائی روٹی سامنے آ جائے تا بھی نوالہ خود ہی توڑ کر منہ میں ڈالنا پڑتا ہے ورنہ بھوک نہیں مٹتی اور کوئی بھی بڑے بڑے کام کے لیے ہاتھ پیر ثانوی حیثیت نہیں رکھتے اصل حیثیت تو دل و دماغ کو حاصل ہے یعنی قوت فیصلہ ہمت اور ذہانت جیسے کہ ایک صاحب ایک معذور شخص کو وہیل چیئر پر سیرو سیاحت کی غرض سے سفر کرتا دیکھ کر بہت حیران ہوئے انہوں نے اس شخص سے اپنی حیرت کا اظہار کیا تو اس نے ہنس کر کہا کیا ہوا میری ٹانگیں نہیں مگر دل اور دماغ تو ہے نہ” لہذا آپ کو کامیابی حاصل کرنے کے لیے کوشش تو بہر حال کرنا ہی ہو گی اور کوشش کا صلہ کامیابی ہے حالات کو بدلنے اور کوئی بڑی تبدیلی لانے کے لیے بد گمانی کم ہمتی وسوسوں رنج و اندیشوں کو جھٹک کر کوئی عملی قدم اٹھائیں اگر رنج کی سو وجہ آپ کو نظر آ رہی ہوں تو امید کی بھی ہزار وجہ موجود ہوتی ہیں قدم اٹھانے سے کوئی نہ کوئی راستہ نکل ہی آتا ہے

  • قیمہ بھرے کریلے بنانے کا آسان طریقہ

    قیمہ بھرے کریلے بنانے کا آسان طریقہ

    اجزاء:
    قیمہ بیف یا مٹن 1 پاؤ
    کریلے 4 عدد
    گڑ آدھا چائے کا چمچ
    کلونجی 2 چٹکیاں
    پیاز 1عدد چھوٹی
    املی آدھا کپ
    سونف آدھا چائے کا چمچ
    ہلدی آدھا چائے کا چمچ
    ہری مرچ 3 عدد
    تیل 1 پیالی
    ادرک لہسن پیسٹ آدھا کھانے کا چمچ
    پسی لال مرچ آدھا کھانے کا چمچ
    نمک حسب ذائقہ

    ترکیب:
    کریلے چھیل کے درمیان سے چیرا لگا کر بیج نکال دیں بغیر دھوئے نمک ہلدی اور گڑ لگا کر رکھ دیں آدھے گھنٹے بعد پانی سے دھو کر چھلنی میں نچڑنے کے لیے رکھ دیں پتیلی میں تھوڑا سا تیل ڈال کر گرم کریں اس میں پیاز ڈال کر فرائی کریں جب ہلکی گلابی ہو جائے تو نکال لیں پھر قیمہ ادرک لہسن کلونجی نمک ہلدی سونف اور مرچ ڈال کر اچھی طرح بھون لیں جب پانی خشک ہو جائے تو فرائی کی ہوئی پیاز اور ہری مرچ ڈال کر ڈھکن سے ڈھک کر 5 منٹ کے لیے دم پر رکھ دیں پھر چولہا بند کر دیں اور ٹھنڈا ہونے دیں جب ٹھنڈا ہو جائے تو کریلوں میں بھر کر کریلوں کو اچھی طرح بند کر کے دھاگا باندھ دیں اب ایک پین یا کڑاہی میں تیل گرم کر کے اس مین اچھی طرح فرائی کر لیں جب گولڈن ہو جائیں تو نکال لیں اور قیمہ والی پتیلی میں رکھ دیں پھع املی کا رس اور تھوڑا سا گڑ ڈال کر 10 منٹ کے لیے دم پر رکھ دیں جب تیل اوپر جائے تو قیمہ بھرے کریلے تیار ہیں